Author Archive

اپنی بات←

ڈاکٹر عزیر اسرائیل، مدیر

ادبی رسالے کی اشاعت ایک صبر آزما کام  ہے۔ تین مہینے کب اور کیسے نکل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا۔ ایک شمارے کی اشاعت کے فورا بعد اگلے شمارے کی تیاری میں لگ جانا پڑتا ہے۔

ڈاکٹروزیرآغاکی طویل نظمیں←

ڈاکٹرعابد خورشیدؔ،یونیورسٹی آف سرگودھا

Dr. Wazir Agha is essentially a prolific poet. His marvelous Long Poems, specially “Aadhi Sadi ke Ba`ad” and “Ek katha anokhi” are the reflection of his great thoughts and his profound command on poetry. These poems are

پروینؔ شاکرکی نظموں میں تانیثی رنگ←

ڈاکٹر فاروق احمد وانی باغوان پورہ،سنگھ پورہ پٹن بارہ مو لہ کشمیر۔

 ’’ اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ ’’خالص نظم‘‘ کی ابتدا نظیر اکبرآبادی نے کی اور ’’جدید نظم‘‘ کاآغاز حالیؔ اور آزادؔ نے کیا۔ساتویں دہائی کے بعد آٹھویں دہائی کی نظم میں مابعد

     فیض احمد فیضؔ؛انسانی اقدار کا محافظ←

فردوس احمد میر 

Abstract:-  Human values are the principles,standards,convictions and beliefs that people adopt as their guidelines in daily activities.They are a set of consistent measures and behaviours that individuals choose to participate in the persuit of doing.Faiz Ahmad Faiz,the

پروفیسر حامدیؔ کاشمیری کی افسانہ نگاری←

ڈاکٹر مشتاق قادریؔ ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ٔ اردو دہلی یونیورسٹی، دہلی

حامدیؔ کاشمیری کی ادبی شخصیت کی بلندی مسلم ہے وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور تنقید نگار کی حیثیت سے ابھر کر ہمارے سامنے آئے ہیں

محى الدین نواب ایک بے مثال ادیب، ایک عظیم ناول نگار←

ڈاکٹر وسیم المحمدی، استاد جامعہ محمدیہ مالیگاؤں

دنیا کے عظیم و بے مثال ناول نگار اور اردو زبان کے بے تاج بادشاہ محی الدین نواب کا انتقال 6/فروری 2016م بروز سنیچر کو کراچی میں ہوا۔ وہ 1930م میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبے بنگال

راجند ر سنگھ بیدی کا افسانوی فن←

ڈاکٹر عطیہ رئیس 3878 ۔کلاں محل، دریا گنج، نئی دہلی۔۲

ترقی پسند تحریک کے پہلے کانفرس میں صدارت کرتے ہوئے جب پریم چند نے کہا تھا کہ ’ اب ہمیں اپنے حسن کا معیار بدلنا ہوگا‘تو اُس حسن کے معیار کو بدل کر حقیقت پسندی اور اصلاحی

سنیما کی تانیثی تھیوری اور ڈسکورس کا مطالعہ←

عبدالقادر صدیقی  ریسرچ اسکالر - ماس کمیونیکشن اینڈ جرنلزم، مانو حیدرآباد

نظر یاتی یا تھیوریٹیکل ڈسکورس میں فیمنسٹ تھیوری فیمنزم یا تانیثی تحریک کی تو سیع ہے جس کا مقصد صنفی عدم مساوات کو سمجھنا ہے۔یہ خواتین کے سماجی رول کے ساتھ تانیثیت کے مختلف جہات مثلا عمرانیات،

ندا فاضلیؔ کی شاعری فلمی دنیا کے حوالے سے←

جگرؔتجمل بلہ پوری پی۔ایچ۔ڈی۔اسکالر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر ای۔میل۔maliktajamul1@gmail.com فون۔979703769

ندا فاضلیؔ کا اصلی نام مقتدا حسین ہے۔آپ ۱۲،اکتوبر۱۹۳۸ء کو دہلی میں ایک کشمیری خاندان میں تولّد ہوئے۔آپ کے والد بھی شاعرتھے۔تقسیم ہند کے بعد ندا فاضلیؔ کے سارے گھر والوں نے پاکستان کا رخ کیا اور

                             ڈراما نظام سقہ اور ممتاز مفتی…ایک مطالعہ←

                                                                                                                 مختار احمد، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی

     دنیاکی تمام زبانوں میں ڈرامے کا ذخیرہ پایا جاتا ہے۔ہر زمانے میں اس کا تعلق کسی نہ کسی علاقے سے ضرور رہا ہے بلکہ زمانہ قدیم سے ہی اس کا سروکار انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ

                                      تخمِ خوں: دلت مکالمہ پر ایک شاہ کار ناول ←

ارشد احمد کوچھے  ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو اور فارسی، ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی ساگر موبائل نمبر   9826357617 

صغیر رحمانی اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ،اگر چہ ۲۰۱۶ ء تک ان کاشما ر اکیسویںصدی کے نمائندہ اردو افسانہ نگاروں میں کیا جاتا تھا ۔مگر ’’تخم ِخوں ‘‘کی اشاعت کے بعد ان کا

شوکت صدیقی کے ناولوں میں مظلوم طبقے←

شگفتہ پروین

ABSTRACT:- Shaukat Siddique is a famous progressive fiction writer. He got world wide recognition through his two master piece novels “Khuda ki Basti” and “Jangloos”. He received many literary awards that are Adam Jee award (1960), pride

اردو فکشن میں سماجی مسائل کی عکاسی (جموں کشمیر کے حوالے سے)←

محمد سلیمان حجام، ریسرچ اسکالر پنجابی یونی ورسٹی پٹیالہ

   قدیم زمانے میں ادب کوصرف دل بہلانے اور وقت گزارنے کی چیز سمجھا جاتا تھالیکن آج کے زمانے میں ادب زندگی کا ترجمان ہے یعنی انسانی زندگی کے مسائل اس کا لازمی جُز بن گئے ہیں۔

علوم مشرقیہِ کے فروغ میں منشی نول کشور کی خدمات←

محمد سلیم قادری      لیکچرر اردو     داتا رام میموریل انٹر کالج اسراسی بدایوں   موبائل نمبر: ۷۸۹۵۰۶۸۷۹۸

      منشی نول کشو ر:  حیات اور شخصیت تاریخِ پیدائش: دسمبر ۱۸۳۶؁ ء        تاریخِ وفات: ۱۹ فروری ۱۸۹۵؁ء منشی نول کشور ضلع متھرا کے ریٹرھا نامی گائوں میں دسمبر۱۸۳۶؁ء میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد بابو جمنا

تصوف، اردوادب اور ہمارا معاشرہ  ←

ربّانی بشیر ریسرچ اسکالر، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو    ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں      (اقبالؒ)  تصوف کسی مذہب، مسلک یا کسی انتساب کا نام نہیں بلکہ تصوف ایک فکر

اقبال کے کلام میں قرآنی پیغمبرانہ تلمیحات←

نوید حسن ملک، لیکچرار گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج جنڈانوالہ (بھکر)، پنجاب، پاکستان

 صنعتِ تلمیح کا استعمال اردو اور فارسی میں گم و بیش تمام شعرائے کرام نے کیا ہے اور بہت خوبصورتی سے اس کو نبھایا بھی ہے تاہم اقبال نے اس صنعت کا استعمال جس قدر عمدہ طریقے

اقبال کے مذہبی تصورات مکاتیب اقبال کے آئینے میں←

 محمد شبیر احمد ریسرچ اسکالر: کشمیر یونیورسٹی

مکتوب کا شمار اردو کی غیر افسانوی اصناف میں ہوتا ہے۔ مکتوب میں روز مرہ کی چھوٹی باتوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جن کا تعلق مکتوب نگار یا مکتوب الیہ کی ذات سے ہوتا ہے۔ خطوط

ڈاکٹر انوار احمد کے افسانوں میں سماجی اور سیاسی تناظرات←

ڈاکٹرمسرت بانو اسسٹنٹ پروفیسر ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین ،شاہ پور ضلع سرگودھا(پاکستان)

Abstract: Dr.Anwaar Ahmad is a renowned and eminent Urdu fiction writer. His writings have portrayed multi-dimensional aspects of society specifically the political & social perspectives are quite evident in his short stories.He has a vision of democratic

جوگندر پال کی افسانہ نگاری مصنف: ابو ظہیر ربانی←

مبصر: ڈاکٹر عزیر احمد

ڈاکٹر ابو ظہیر ربانی معاصر ادبی منظر نامے میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی تنقیدی تحریریں ملک کے معروف ادبی جرائد میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہی ہیں۔  فکشن تنقید ان کا خاص

اپنی بات←

عزیر اسرائیل، ایڈیٹر اردو ریسرچ جرنل

انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی نے طرز زندگی کے علاوہ درس وتدریس کے روایتی طور طریقوں  کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ایک ہی شخص کسی بھی ملک میں بیٹھ کر دنیا کے کسی بھی دوردراز ملک میں

بانو قدسیہ :کس سمت لے گئیں مجھے اس دِل کی دھڑکنیں←

پروفیسر غلام شبیر رانا، مصفطی آباد، جھنگ، پاکستان

پاکستان میں  اردو ادب میں  تانیثیت کی چاندنی ماند پڑ گئی اور اردو ادب کا ہنستا بولتا چمن جان لیوا سکوت اور مہیب سناٹوں  کی زد میں  آ گیا ۔اردو فکشن کی وہ شمع فروزاں  ہمیشہ کے

محقق قاضی عبدالودود←

ڈاکٹرعرشی خاتون

اردو میں  باضابطہ طور پر تحقیق کا آغاز محمود شیرانی سے ہوتا ہے۔ انھیں  تحقیق کا معلّم اوّل کہا جاتا ہے۔ شیرانی صاحب نے پہلی بار تحقیق میں  غیر جذباتی اندازِ نظر کی ضرورت کا احساس دلایا۔

ساحر لدھیانوی کی شاعری’’تلخیاں ‘‘ کی روشنی میں←

پشپیندر کمار نم ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی، دہلی

  ساحر لدھیانوی کا اصلی نام عبد الحئی ہے۔وہ ۸؍ مارچ ۱۹۲۱ء کو لدھیانہ میں  پیدا ہوئے۔ اسی لیے لدھیانوی کہلائے۔ جب کہ ساحرؔ ان کا تخلص ہے۔ سا حر لدھیا نوی ایک بڑے متمول گھرا نے

قرآن حکیم کے غیرمحدود ادبی محاسن (ایک جائزہ←

بشیر احمد کشمیری ریسرچ اسکالر، ایفل یونیورسٹی ، حیدرآباد

تاریخی شواہد سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد برے بڑے ادباء وشعراء کی زبانوں  پرمہر لگ گئی جس کی ایک عمدہ مثال جاہلی دور کے شاعر معلقات لبید بن ربیعہ

کاشف الحقائق اور شیخ امام بخش ناسخ←

محمد مقیم ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

’کاشف الحقائق‘ امداد امام اثر کی مشہور زمانہ کتاب ہے۔ اس کی قاموسی حیثیت آج بھی مسلم ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں  اثر کا نام اسی کتاب کی بدولت ہے۔ اس مضمون

کیول دھیر اور ان کا افسانہ’’دہشت‘‘تجزیے کی نظر سے←

پروفیسر فاروق بخشی شعبہ اردو ، موہن لعل سکھدیو یونیورسٹی، جے پور

کیول دھیر کا شمار بر صغیر کے ان ممتاز قلم کاروں  میں  ہوتا ہے جو اپنے فن کا استعمال دلوں  کو جوڑنے ‘انسانی احساسات و جذبات کو سمجھنے میں  کرتے ہیں ۔میرے نزدیک ان کی شخصیت ہمیشہ

ہندی نہیں رہے ہم اردو زباں ہماری←

شاہنواز ہاشمی، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

(ادارتی نوٹ: شاہ نواز ہاشمی کے اس مضمون میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے، خصوصا آزادی کے بعد اردو کو لے کر خود اردو آبادی اور سیاست دانوں کے رویہ کے بارے میں اس کی

اشاریہ ماہنامہ سائنس←

عزیر اسرائیل

اشاریہ ماہنامہ سائنس مؤلف:               ڈاکٹر محمد کاظم صفحات:           554 قیمت:              500 ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی مبصر : ڈاکٹر عزیر اسرائیل   یہ اتفاق ہی کی

 ‘ادب اور احتساب’←

تبصرہ نگار: محمود فیصل

میرے سامنے ڈاکٹر شاذیہ عمیر کی نئی کتاب  ‘ادب اوراحتساب’ کی سنہری تحریریں آنکھوں کے دوش پر سوار ہو کر دل ودماغ تک رسائی حاصل کررہی  ہیں۔ اس کتاب کا نام ہی اس کے اندر موجود تحریروں

جہاں آرزو←

مبصر : محمد اشرف یاسین

جہاں  آرزو شاعر : سحر محمود                      اشاعت : 2016 صفحات : 160                      قیمت : /180روپے ناشر : مکتبہ الفاروق ،ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر ،نئی دہلی ۔25 مبصر : محمد اشرف یاسین،بی اے ،آنرس(اردو ) سال آخر ،جامعہ

اردو صحافت اور علماء←

مبصر: ناظر انور ۔۲۲۵نرمدا ہاسٹل، جواہر لال نہرو یونیورسٹی یو نئی دہلی

 اردو صحافت اور علماء نام کتاب: اردو صحافت اور علماء  نام مصنف: سہیل انجم صفحات:۲۹۵ قیمت:۳۸۰ ناشر:ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی۶ سن طباعت:۲۰۱۶ مبصر: ناظر انور ۔۲۲۵نرمدا ہاسٹل، جواہر لال نہرو یونیورسٹی یو نئی دہلی  اردو صحافت کے

اردونظم آغاز و ارتقاء←

ڈاکٹر شاہ عالم،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ذاکر حسین دہلی کالج دہلی یونی ورسٹی

 وسیع تر مفہوم میں نظم سے مراد پوری شاعری ہے۔ لیکن شاعری کے باب میں  غزل کے ماسوا تمام اصناف شعر  کو نظم کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے مثنوی، قصیدہ، مرثیہ بھی نظم کے

غالب کی ایک غزل’’ عشق پر زور نہیں‘‘ پر وہاب اشرفی کی تنقید←

گلزار احمد* ماہنامہ آجکل نئی دہلی کے فروری ۲۰۱۶ شمارہ میں گوشۂ غالب کے تحت پروفیسر وہاب قیصر کامضمون بعنوان’’غالبؔ کی ایک غزل اور لاتیقن‘‘ پڑھنے کو ملا ۔ مضمون میں غالبؔ کی غزل ؂ نکتہ چین

کلیم عاجز کی ایک غزل
ثاقب عمران جامعہ ملیہ اسلامیہ←

غزل کس کی ہے یہ انداز بے باکانہ کس کا ہے اسے محفل میں لایا کون یہ دیوانہ کس کا ہے؟ یہ کس کو مل گئی بوتل شراب میر و آتش کی خرد کے دور میں یہ

شو کت حیات: مابعد جدیدیت کے آئینہ میں
سعید اختر انصاری، دہلی یونی ورسٹی←

اس پیچیدہ اور پر آشوب دور میں جن افسانہ نگاروں نے اپنے فن اور فکر کے ذریعہ اردو افسانے میں مزید وسعت ومعنویت اورامکانات کے دروازے کھولے ہیں ان میں ایک نہایت ہی معتبر نام شوکت حیات

خورشید احمد جامی کی شاعری
ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ، حیدر آباد←

عہد قدیم ہی سے سرزمین دکن علم و ہنر کا گہوارہ رہی ہے ۔تاریخ شاہد ہے یہاں ہزاروںبرسوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کئی خاندان بیرون ملک سے ہجرت کرکے یہاں آتے ہیں اور یہیں

کلام اقبال میں  تصور دانش نورانی اور دانش برہانی
ڈاکٹر علی محمد اسسٹنٹ پروفیسر،یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر←

عقل آگاہی کا وہ نور ہے جو فہم وادراک کے تمام ارکان ، حو اس، تصورات،فکر، حافظہ پر احاطہ کرکے ان سب کو روشنی سے منور کر دیتی ہے عقل کی موجودگی کو ذہن نشین کر نے

اقبال کاآفاقی فکروفلسفہ
محمدحسین بٹ،اسکالر اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یو نیورسٹی سرینگر←

علامہ اِقبال کے فکروفلسفہ کی یہ ممتازخصوصیت ہے کہ جس زمان ومکان کے حوالے سے انہوں  نے اپنی فکرکا پرچار کیا، آج اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی موجودہ دور سے متفرق نظر نہیں  آتا۔علامہ کی

علامہ اقبال  اورافغانستانِ
امتیازعبدالقادر، ریسرچ اسکالر۔کشمیریونیورسٹی سرینگر←

علامہ اقبال کے کلام میں عالم اسلام میں سب سے زیادہ تذکرہ افغانستان کا ہے۔شاہی مہمان کی حیثیت سے وہ افغان گئے ۔ان کی وہاں بڑی قدرو منزلت کی گئی۔ اس عزت افزائی کے لئے اقبال کے

 ‘دیوان غالب نسخۂ عرشی’ کی تدوین میں  مولانا امتیاز علی خاں  عرشی کا طریقِ کار
عبدالرازق، ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو، مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ←

   مولانا امتیاز علی خاں  عرشی (١٩٠٤ئ۔١٩٨١ئ)جدیدتحقیق وتدوین کے بنیاد گزاروں میں  شمار کیے جاتے ہیں ۔ مولانا١٩٣٣ء میں  رام پور کی رضالائبریری کے ناظم مقرر ہوئے۔ انھوں نے وہاں  موجود نادر علمی خزانے سے بھرپوراستفادہ کیااورمختلف

عود وعنبر←

نام کتاب: عود وعنبر مصنف: زاہد علی خاں اثر مبصر: عزیر اسرائیل صفحات: 160 قیمت: 150 ملنے کا پتہ: 402، نور اپارٹمنٹ، دوسری گلی، جوہری فارم، جامعہ نگر، نئی دہلی زاہد علی خاں اثر اردو دنیا کے

بزم شبلی، سالانہ
تبصرہ نگار :عائشہ پروین←

نام مجلہ  :           بزم شبلی(سالانہ) ایڈیٹر     :           ڈاکٹر شباب الدین ناشر       :           شبلی نیشنل پوسٹ گریجویٹ کالج، اعظم گڑھ اشاعت    :           2014-15 صفحات  :           361 تبصرہ نگار          :           عائشہ پروین، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ،

محمود الٰہی: حیات وخدمات
مبصر: سنتوش کمار←

کتاب کا نام:  محمود الٰہی: حیات وخدمات مصنف وناشر: محمد شمس الدین صفحات: 255،قیمت 124روپے، سن اشاعت:2013 تقسیم کار: کتابی دنیا، نئی دہلی مبصر: سنتوش کمار، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی             تحقیق ایک مشکل

اپنی بات←

مدیر

               یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن (یوجی سی) کی طرف سے نان نیٹ فیلوشپ بند کرنے کے فیصلہ نے ریسرچ اسکالرس کے درمیان بے چینی کی فضا پیدا کردی ہے۔ اس کا

اردو مرثیہ میں رزم نگاری←

پروفیسرابن کنول صدر ،شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی،دہلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو کی ابتدائی اور ارتقائی صدیوں میں جن اصناف کو نمایاں اہمیت حاصل رہی ہے اُن میں مرثیہ بھی شامل ہے۔ دکنی شاعری میں جس طرح مثنوی مقبول رہی

مکتوب نگاری اور رسالہ نقوش کا کردار  ←

  ڈاکٹر بسمینہ سراج صدر شعبہ اُردو شہید بینظیر بھٹو خواتین یونیورسٹی پشاور فون نمبر03025407163 03339092162  Email – drbismina@gmail.com  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ In the 20th century, many literary journals shone on the horizone of Literature and faded away.The role

“عصمت کاباغیانہ تیور اور “دل کی دنیا←

ساجد ذکی فہمی  ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی …………………………… عصمت چغتائی اردوادب بالخصوص فکشن کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں۔ انھوں نے اس میدان میں اپنی جولانی طبع کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ گرچہ ان

علامہ شبلی کے علمی کمالات تعلیم وتعلم کے تناظر میں←

 ڈاکٹر عمیر منظر  اسسٹنٹ پروفیسر ،شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی لکھنؤ کیمپس،   فون نمبر:08004050865 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علم و ادب کے استعارے کے طور پر جن شخصیات کا نام لیا جاتا ہے ان میں ایک

جگن ناتھ آزادؔ کی غزلیہ شاعری←

 جمیل احمد ریسرچ اسکالر،شعبہ  فارسی اردو، ویر کنور سنگھ یونی ورسٹی آرہ، بہار  jameelmic@gmail.com موبائل: 7055514422  ……………………………………………………………. پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ کا شمار ماہر اقبالیات میں ہوتا ہے ۔وہ ایک بہترین غزل گو ہیں ۔ جگن ناتھ

ابن صفی: سوانحی اشارے اور مزاح نگاری←

محمد عثمان احمد ۹۰۱۵۷۳۲۲۴۹ ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسرار احمدناروی معروف بہ ابن صفی کی پیدائش اپریل ۱۹۲۸میں قصبہ نارہ ضلع الہ آباد میں ہوئی۔ ابن صفی کے متعلق مضمون لکھنے

Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.