Issue 12th

اپنی بات←

ڈاکٹر عزیر اسرائیل، مدیر

ادبی رسالے کی اشاعت ایک صبر آزما کام  ہے۔ تین مہینے کب اور کیسے نکل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا۔ ایک شمارے کی اشاعت کے فورا بعد اگلے شمارے کی تیاری میں لگ جانا پڑتا ہے۔

ن۔ م۔ راشد کی شاعری-ایران میں اجنبی کے حوالے سے←

 ڈاکٹر شاہ عالم اسسٹنٹ پروفیسر، ذاکر حسین دہلی کالج، دہلی

ڈاکٹر شاہ عالم اسسٹنٹ پروفیسر ذاکر حسین دہلی کالج، دہلی                   ن۔م۔راشد کا دوسرا شعری مجموعہ ’ ایران میں اجنبی‘ (1955) میں شایع ہوا ۔راشد نے اپنے پہلے شعری

ڈاکٹروزیرآغاکی طویل نظمیں←

ڈاکٹرعابد خورشیدؔ،یونیورسٹی آف سرگودھا

Dr. Wazir Agha is essentially a prolific poet. His marvelous Long Poems, specially “Aadhi Sadi ke Ba`ad” and “Ek katha anokhi” are the reflection of his great thoughts and his profound command on poetry. These poems are

پروینؔ شاکرکی نظموں میں تانیثی رنگ←

ڈاکٹر فاروق احمد وانی باغوان پورہ،سنگھ پورہ پٹن بارہ مو لہ کشمیر۔

 ’’ اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ ’’خالص نظم‘‘ کی ابتدا نظیر اکبرآبادی نے کی اور ’’جدید نظم‘‘ کاآغاز حالیؔ اور آزادؔ نے کیا۔ساتویں دہائی کے بعد آٹھویں دہائی کی نظم میں مابعد

ناوکؔ حمزہ پوری کی رباعیات کا تنقیدی مطالعہ←

ڈاکٹر مقبول احمد مقبولؔ ایسو سی ایٹ پروفیسر شعبۂ اردو مہاراشٹرا اودے گری کالج اودگیر۔413517 ضلع لاتور (مہاراشٹرا) 0928598414/07788443243

حمزہ پور،بہار کے ضلع گیا کا ایک چھوٹا قصبہ ہے۔یہی قصبہ سیدغلام السیدین ناوکؔ حمزہ پوری کا مولد ومسکن ہے۔ان کی تاریخِ ولادت ۲۱ اپریل ۱۹۳۳ ء ہے۔ناوک حمزہ پوری عصرِ حاضر کے بزرگ شاعر وادیب ہیں

نعت، نعت گوئی کی روایت اور نعت گو شعرا←

سعود عالم، مین مارکیٹ اوکھلا، جامعہ نگر نئی دہلی

     نعتِ رسول دراصل اصناف سخن کی وہ نازک صنف ہے جس میں طبع آزمائی کرتے وقت اقلیم سخن کے تاجدار حضرت مولانا جامیؔ نے فرمایا ہے: لا یُمکن الثناء کما کان حقّہٗ بعد از خدا بزرگ

     فیض احمد فیضؔ؛انسانی اقدار کا محافظ←

فردوس احمد میر 

Abstract:-  Human values are the principles,standards,convictions and beliefs that people adopt as their guidelines in daily activities.They are a set of consistent measures and behaviours that individuals choose to participate in the persuit of doing.Faiz Ahmad Faiz,the

غالب اور ہندوستانی تہذیب←

غلام فرید حسینی(سکالر پی ایچ ڈی، اردو) وفاقی جامعہ اردو برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی،  اسلام آباد، پاکستان

      ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے جب واقعات ایک دوسرے سے منسلک نظر آنے لگیں یعنی سبب اور نتیجہ کے اصول کے تابع ہو جائیں نیز وہ کسی خاص خطۂ زمین یا شخصیت کی نسبت سے

   اسمعیل میرٹھی بحیثیت موضوعاتی شاعر←

وسیم حسن راجا

     انجمن پنجاب کے موضوعاتی مشاعروں سے پہلے اسمعیل میرٹھی اردونظم کی موضوعاتی توسیع میں انفرادی طور پر کامیاب تجربہ کرچکے تھے۔’’ریزہ جواہر‘‘ کے عنوان سے میڑٹھی کاکلام 1880 ئ؁ میں شائع ہوا۔اسمعیل میرٹھی نے اپنی نظموں

نند لال کول کے شعری محاسن  ’’مرقع افکار‘‘ کے حوالے←

محمد یاسین گنائی، ریسرچ اسکالر، اندور

دنیا کی سب سے میٹھی اور سُریلی زبان اردو نے نہ جانے کتنے شعراء و ادباء پیدا کئے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری و نثری خدمات سے عالمِ انسانیت،سیاسی وسماجی اور معاشی مسائل،سیاحت و اقتصادیات،مناظر قدرت،تصوف،اسلامی تعلیمات،نسوانی

موجودہ طرز معاشرت اور ترجمہ←

ڈاکٹر ابو شہیم خان شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی ساگر 470003 مدھیہ پردیش

ڈاکٹر ابو شہیم خان شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی ساگر 470003 مدھیہ پردیش shaheemjnu@gmail.com Mob;07354966719                    شخصی اور عمومی اظہار اور ان

پروفیسر حامدیؔ کاشمیری کی افسانہ نگاری←

ڈاکٹر مشتاق قادریؔ ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ٔ اردو دہلی یونیورسٹی، دہلی

حامدیؔ کاشمیری کی ادبی شخصیت کی بلندی مسلم ہے وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور تنقید نگار کی حیثیت سے ابھر کر ہمارے سامنے آئے ہیں

محى الدین نواب ایک بے مثال ادیب، ایک عظیم ناول نگار←

ڈاکٹر وسیم المحمدی، استاد جامعہ محمدیہ مالیگاؤں

دنیا کے عظیم و بے مثال ناول نگار اور اردو زبان کے بے تاج بادشاہ محی الدین نواب کا انتقال 6/فروری 2016م بروز سنیچر کو کراچی میں ہوا۔ وہ 1930م میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبے بنگال

                             پریم چند کے ناولوں کا تجزیاتی مطالعہ←

  ڈاکٹررضا محمود، شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی

    پریم چند کے ناولوں کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پریم چند کا ذہنی سفر انیسویں صدی عیسوی کی آخری دہائی سے شروع ہوکر بیسویں صدی کی چوتھی دہائی کے

راجندر سنگھ بیدی کی فنکارانہ جہت۔۔افسانہ ’’لاجونتی ‘‘ کے خصوصی حوالے سے←

توصیف احمد ڈار، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، کشمیر یونی ورسٹی

 راجندر سنگھ بیدی کانام اردو فکشن کے صف اول کے فن کاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اگر چہ اپنے ہم عصروں سے نسبتاً کم لکھا لیکن اس پایہ کا لکھا کہ اردو فکشن کی تاریخ مرتب

راجند ر سنگھ بیدی کا افسانوی فن←

ڈاکٹر عطیہ رئیس 3878 ۔کلاں محل، دریا گنج، نئی دہلی۔۲

ترقی پسند تحریک کے پہلے کانفرس میں صدارت کرتے ہوئے جب پریم چند نے کہا تھا کہ ’ اب ہمیں اپنے حسن کا معیار بدلنا ہوگا‘تو اُس حسن کے معیار کو بدل کر حقیقت پسندی اور اصلاحی

جمیلہ ہا شمی: حیا ت و ادبی خد ما ت←

 محمد فر ید ٭ لیکچر ار شعبئہ اُردو ، اوپی ایف بو ائز کا لج ایچ ایٹ فو ر ، اسلام آ باد،پا کستان

٭  محمد فر ید ٭ لیکچر ار شعبئہ اُردو ، اوپی ایف بو ائز کا لج ایچ ایٹ فو ر ، اسلام آ باد،پا کستان۔E-Mail:mfaridislamabad@gmail.com Abstract Jamila Hashmi: Life And Literary Contributions Jamila Hashmi made herself recognized

ناول ’’ چاند ہم سے باتیں کرتا ہے‘‘ ایک ادھورا مطالعہ←

سید امجدالدین قادری ریسرچ اسکالر، شعبہ اُردو

      موجودہ دور میں جن فعال قلم کاروں کاشمار ہوتاہے اُن میں نورالحسنین کا نام بھی شامل ہے۔ ایک طرف وہ اپنے متنوع افسانوں کے باعث قاری کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں

وحشی سعید کی کہانی ’آب ‘کا تجزیہ←

غلام نبی کمار، ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی، 7053562468

وحشی سعید نے اپنے نام کی وضاحت میں جومعنی خیز ی دکھائی، وہی معنی خیزی ان کی افسانوی سعادت مندی قرارپاتی ہے اور ــ لفظِـ’’وحشت‘‘ فقط ــ’’وحشت‘‘ نہ رہ کر ’’سیمابیت ‘‘ کی سرحد میں داخل ہوجاتی

آب حیات کے بیانات قدیم تذکروں اور ناقدین کے حوالوں سے←

ثنا کوثر،ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

ثنا کوثر،ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ                         email:sanakouser2011@gmail.com mob.no.9411631723       اردو،عربی،فارسی اورعلمِ لسانیات کے ماہر شمس العلماء مولوی محمد حسین آزادؔ ۱۸۳۰ء میں  دہلی میں  پیدا ہوئے۔ والد محمد باقر اور دادا محمد

  لداخ کا سماجی و ثقافتی مطالعہ راشید راہگیر لداخی اور عبدلاغنی شیخ کے افسانوی مجموعہ    ’ اندھیرا سویرا ‘او’ر ایک ملک دو کہانی ‘کے حوالے سے←

عیسیٰ محمد کارگل لداخ ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، حیدر آباد یونیورسٹی

 لداخ ریاست جموں و کشمیر کا تیسرا خطہ ہے۔یہاں کے ننگے پہاڑوں اور بنجر میدانوں میں اپنی دلکشی اور جاذبیت ہے،یہاں ہر طرف اونچے پہاڑ اور لمبے چوڑے میداں نظر آتے ہیں ۔ لداخ میں میلوں تک

عبدالعلیم کی صحافت نگاری کا اجمالی جائزہ←

ظفر عالم، ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی

ظفر عالم ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی ہندوستان کی صحافتی تاریخ میں  کئی شخصیتیں بہت اہم ہیں جنھوں نے ہندوستان کی ترقی کے لیے بہترین کارنامے انجام دیئے ۔ راجارام موہن رائے ، مولانا ابو الکلام

محسن اردو محسن قوم حیات اللہ انصاری←

 اخلاق احمد،        ریسرچ اسکالر        شعبۂ اردو،دہلی یو نیور سٹی،دہلی akhkaqueahd@gmail.com  Mob.9210472322-9350993422       

ہندوستا ن شروع سے ہی کثیر المذاہب اور مختلف لسانیات کا مرکز رہا ہے،ہر دور میں ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور الگ الگ زبانیں بو لنے والے لوگ رہے ہیں ،دنیا بھر میں

 محبِ اُردو و محبِ وطن : جگن ناتھ آزادؔ←

بلال احمد ڈار، ریسرچ اسکالر مانو حیدر آباد

  اُ ردو ادب میں جگن ناتھ آزاد ؔکا نام محتاجِ تعارف نہیں ۔ وہ ماہر اقبالیات کے ساتھ ساتھ، محقق، سوانح نگار،خاکہ نگار، سفرنامہ نگار کی حیثیتوں سے متعارف ہیں ۔ شاعری میں انہوں نے غزلیں

قدرت اللہ شہاب اور ان کی کتاب شہاب نامہ←

بلال احمد تانتری، ریسرچ اسکالر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ

’’شہاب نامہ‘‘قدرت اللہ شہاب کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔قدرت اللہ شہاب کا شمار ان عظیم افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کار ہائے نمایاں انجام دیے۔انھوں نے ادب اور بیوروکریسی کی شاہراہوں

 رپورتاژ ’’دو ملک ایک کہانی‘‘ (ابراہیم جلیس) : ایک جائزہ←

نور بانو، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی

  ابراہیم جلیس کا شمار اردو کے بہترین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔کم عمری سے ہی انھوں نے افسانے لکھنے شروع کئے۔انھوں نے افسانے کے ساتھ انشائیہ اوررپورتاژ نگاری میں بھی طبع أزمائی کی۔انسانی نفسیات کا گہرا

ولیم ورڈس ورتھ کا شعری تصور نقد←

منظر کمال(ریسرچ اسکالر) ہندوستانی زبانوں کا مرکز،جے این یو نئی دہلی۔۶۷

ولیم ورڈس ورتھ(William Wordsworth)برطانیہ میں رومانی تحریک کا نمائندہ شاعراور نقاد تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کی ولادت کبر لینڈ کے ایک قصبہ میں ۱۷۷۰ میں ہوئی،یہیں اس نے بچپن کے ایام بسر کیے۔وہ یہاں کے خوبصورت قدرتی

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے ‘ایک تنقیدی محاسبہ←

امتیاز احمد علیمی (ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)

امتیاز احمد علیمی (ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی) موجودہ ادبی منظر نامے اور سر بر آوردہ ادبی شخصیات میں کوثر مظہری کی اپنی انفرادی شناخت ہے اور وہ شناخت ان کی تخلیقی اور تنقیدی

اردو ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب وسماج اور قوم پرستی←

ڈاکٹر قمر الحسن شعبئہ اردو ،ستیہ وتی کالج (دہلی یونی ورسٹی

                ہندوستان زمانۂ قدیم سے ہی اپنی رنگارنگ اورمتنوع تہذیب وثقافت کے لیے پوری دنیا کی توجہ کا مرکزرہا ہے۔ یہاں کی زمینی پیداوار اور جغرافیائی حالات، علم وادب اور تہذیب وثقافت، آب وہوا، مناظر فطرت وغیرہ

سنیما کی تانیثی تھیوری اور ڈسکورس کا مطالعہ←

عبدالقادر صدیقی  ریسرچ اسکالر - ماس کمیونیکشن اینڈ جرنلزم، مانو حیدرآباد

نظر یاتی یا تھیوریٹیکل ڈسکورس میں فیمنسٹ تھیوری فیمنزم یا تانیثی تحریک کی تو سیع ہے جس کا مقصد صنفی عدم مساوات کو سمجھنا ہے۔یہ خواتین کے سماجی رول کے ساتھ تانیثیت کے مختلف جہات مثلا عمرانیات،

ندا فاضلیؔ کی شاعری فلمی دنیا کے حوالے سے←

جگرؔتجمل بلہ پوری پی۔ایچ۔ڈی۔اسکالر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر ای۔میل۔maliktajamul1@gmail.com فون۔979703769

ندا فاضلیؔ کا اصلی نام مقتدا حسین ہے۔آپ ۱۲،اکتوبر۱۹۳۸ء کو دہلی میں ایک کشمیری خاندان میں تولّد ہوئے۔آپ کے والد بھی شاعرتھے۔تقسیم ہند کے بعد ندا فاضلیؔ کے سارے گھر والوں نے پاکستان کا رخ کیا اور

سنیما کی تاریخ پر ایک نظر←

اکرم شمس، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، ممبئی یونی ورسٹی

انیسویں صدی کو سائنسی ایجادات کی صدی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس صدی میں دنیا نے بہت سی اہم ایجادات کا مشاہدہ کیا۔ سینما ٹوگراف (ـ(Cinemetograph جسے اختصار کے پیش نظر عرف عام میں سینما(Cinema)

                             ڈراما نظام سقہ اور ممتاز مفتی…ایک مطالعہ←

                                                                                                                 مختار احمد، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی

     دنیاکی تمام زبانوں میں ڈرامے کا ذخیرہ پایا جاتا ہے۔ہر زمانے میں اس کا تعلق کسی نہ کسی علاقے سے ضرور رہا ہے بلکہ زمانہ قدیم سے ہی اس کا سروکار انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ

                                      تخمِ خوں: دلت مکالمہ پر ایک شاہ کار ناول ←

ارشد احمد کوچھے  ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو اور فارسی، ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی ساگر موبائل نمبر   9826357617 

صغیر رحمانی اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ،اگر چہ ۲۰۱۶ ء تک ان کاشما ر اکیسویںصدی کے نمائندہ اردو افسانہ نگاروں میں کیا جاتا تھا ۔مگر ’’تخم ِخوں ‘‘کی اشاعت کے بعد ان کا

Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.