تحریکات ورجحانات

رومانوی تحریک  اوراردو ناول←

ڈاکٹر سعید احمد، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، عالیہ یونی ورسٹی، کلکتہ

ڈاکٹر سعید احمد اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، عالیہ یونی ورسٹی، کلکتہ انگریزی زبان میں رومانٹک یا رومانوی لفظ کا استعمال پہلے  پہل سترھویں صدی عیسوی میں ایچ مور نے  کیا اور یہ لفظ رومانوی قصوں (Romances) کے 

لسانیات۔۔۔تعارف اوراہمیت←

ڈاکٹر رابعہ سرفراز، ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی فیصل آباد

ڈاکٹر رابعہ سرفراز ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی فیصل آباد لسانیات اس علم کو کہتے  ہیں جس کے  ذریعے  زبان کی ماہیت ‘تشکیل‘ارتقا‘زندگی اور موت کے  متعلق آگاہی حاصل ہوتی ہے۔زبان کے  بارے  میں

جدیدیت کا رجحان اور تصوّف کی واپسی←

صابر شبیربڈگامی، ریسرچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونی ورسٹی

صابر شبیربڈگامی ریسرچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونی ورسٹی Email:darshabir36037@gmail.com فون نمبر:9596101499       ۱۹۶۰ کے  آس پاس ایک نیا ادبی رجحان سامنے  آیا جسے  جدیدیت سے  موسوم کیا گیا۔اس نئے  رجحان کا خمیر وجودیت سے  تیار ہوا تھا۔گویا

(اکیسویں صدی میں جموں وکشمیرکے  چند نمائندہ شاعرات (نسائی حسیت کے  تناظر میں←

سمیرا بانو ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونی ورسٹی  حیدر آباد۔ سیٹالیٹ کیمپس ( سری نگر)

سمیرا بانو ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونی ورسٹی  حیدر آباد۔ سیٹالیٹ کیمپس ( سری نگر) ای۔میل  gulsameera.rs@manuu.edu.in     ہندوستاں کے  باقی خطوں کے  ساتھ ساتھ ریاست جموں  کشمیر میں بھی خواتین نے  ادب میں مردوں

سر سیداحمد خاں اردو، ادب میں جدیدیت کا نقشِ اوّل←

ارم صبا،   وفاقی اردو یونی ورسٹی برائے  فنون سائنس اور ٹیکنالوجی، اسلام آباد،  پاکستان

ارم صبا   وفاقی اردو یونی ورسٹی برائے  فنون سائنس اور ٹیکنالوجی اسلام آباد،  پاکستان سر سید احمد خاں مصلح قوم اور اردو ادب کے  عظیم محسن ہیں۔ سر سید کی سیاسی، سماجی اورمذہبی، تہذیبی اور تعلیمی کوششوں

کلاسیکیت: تعریف، دائرۂ کار اور عصرِ نو کے تقاضے←

نازیہ امام، ریسرچ اسکالر، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

زندگی اور کائنات کے تقریباََ تمام ہی شعبوں میں کلاسیکیت ، جدّت اور اس قبیل کی دوسری اصطلاحیں رائج ہیں۔ انھیں بالعموم مخالف رویّے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ کلاسیکیت اقدارِ قدیم میں یقین کرنے

مختلف اقوام ومذاہب میں عورت کی حیثیت←

سفینہ عرفات فاطمہ، ریسرچ اسکالر، مولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی، حیدرآباد

ہردورمیں مظلومی اورمحکومی عورت کا مقدررہی ہے ۔اس کے حصہ میں روشنی کبھی نہیںآئی ‘وہ اذیت اور ذلت کابوجھ اٹھائے تاریکیوںکے جنگلوں میں بھٹکتی رہی ہے۔(نور ِ اسلام سے قبل) کہیںصنفی امتیاز کے سبب اسے زندہ دفن

ہندوستان میں تانیثیت کی تحریک←

شاہین ترنم، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، یونی ورسٹی دہلی، دہلی

تانیثیت کے مفہوم کوباقاعدہ تعریف کی شکل میں پیش نہیں کیا جاسکتا ’’تانیثیت‘‘ایک اصطلاح ہے اور یہ اصطلاح ایک ایسی طرزِ فکر یا طرزِ احساس یا نقطۂ نظر کے لیے استعمال کی گئی جس میں ’’عورت‘‘ کوبہ

تانیثیت اور مئیوٹ گروپ تھیوری←

عبدالقادر صدیقی

دنیا جسے عورت کے نام سے جانتی ہے، صدیوں سے ٹھگی گئی ہے ۔ آج گر اسے کچھ آزادی حاصل بھی ہے تو اتنی ہی جتنی کہ سرمایہ داروں اور پدرسری نظام کے فائدے کے لیے ضروری

فیض اور ترقی پسند ادب←

پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی، خواجہ معین الدین چشتی اردو عر بی فارسی یونی ورسٹی، لکھنؤ

               فیضؔ کے تنقیدی مضامین کا صرف ایک مجموعہ ’’میزان‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور اسی میں  انھوں  نے اپنے نظریات کی وضاحت کی اور چند شعرا سے متعلق تنقیدی

تانیثیت:چند بنیادی مباحث

جاں نثار مومن، ریسرچ اسکالر، مانو

عربی لفظ ’تانیث‘’تانیثیت‘سے مشتق انگریزی متبادل’Feminism‘لاطینی اصطلاح ‘Femina’ کا مترادف ہے۔ معنیٰ ومفہوم تَحرِيکِ نِسواں ، نَظَرِيَہ ،حَقُوقِ نِسواں اور نِسوانِيَت کے ہیں۔ ابتدا1871ًء میں فرنچ میڈیکل ٹکسٹ میں لفظFeminist نسوانیت والے مردوں کے لیے استعمال کیا

شو کت حیات: مابعد جدیدیت کے آئینہ میں

سعید اختر انصاری، دہلی یونی ورسٹی

اس پیچیدہ اور پر آشوب دور میں جن افسانہ نگاروں نے اپنے فن اور فکر کے ذریعہ اردو افسانے میں مزید وسعت ومعنویت اورامکانات کے دروازے کھولے ہیں ان میں ایک نہایت ہی معتبر نام شوکت حیات

علی گڑھ تحریک : ایک مطالعہ

ڈاکٹر سعید احمد

علی گڑھ تحریک کے پس منظر کو جاننے کے لیے انیسویں  صدی کے نصف اوّل کے سیاسی منظرنامے کو ذہن میں  رکھنا ضروری ہے۔ 1857 سے قبل کے سیاسی، سماجی، اقتصادی اور مذہبی حالات کو بھی بہت

 مابعد جدید تنقید اور اُردو شاعری کے پیچ و خم←

جاوید احمد ڈار

 جاوید احمد ڈار (ریسرچ اسکالر شعبۂ اُردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی)                                                                         رابطہ:       +91-9906513840 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاعری کسی بھی رجحان یا تحریک کے تحت کیوں نہ کی جائے ، ایک سفلی عمل ہے کہ اگر عامل‘ پختہ

ترقی پسند ادبی تحریک کا آزادی کی جدوجہد میں حصّہ←

ڈاکٹر وسیم انور

ڈاکٹر وسیم انور …………………………………….   دنیا میں جہاں بھی انقلاب رونما ہوا، وہاں کے شعرو ادب نے اس میں نمایاں رول اداکیا ہے۔ خواہ امریکہ کی جنگ آزادی ہو یا انقلاب فرانس یا یونان کا معرکہ حریت

ترقی پسند تحریک کا ادبی و فکری اساس←

ڈاکٹر سعید احمد

ڈاکٹر سعید احمد، دہلی ……………. ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ایک اہم تحریک تھی۔ کوئی بھی تحریک اچانک وارد نہیں ہوجاتی ہے بلکہ اس کے وجود میں آنے میں سماجی، معاشی اور اقتصادی حالات کا دخل

Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.