اردو میں اشاریہ سازی کی اہمیت     

غلام نبی کمار*

اشاریہ سازی ایک مستقل فن ہے ۔کتابیات کی طرح اشاریہ کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اشاریہ سازی کے فن کو عمو ماً رسائل و جرائد کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے ۔ لیکن اشاریہ سازی صرف رسائل و جرائد کے ساتھ خاص نہیں ہے ۔ اس سے علمی و تحقیقی میدان میں نبرد آ زمائی کرنے والوں اور مصنفین کو بڑا فائدہ اورآسانی ہوتی ہے۔ زبان و ادب کے ماہرین جنھوں نے اپنی لیاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر اردو ادب کے ذخیرے کو وسعت عطا کی ہے ان سے متعلق مقالات و مضامین یا خود ان کی بیشتر تصانیف و مضامین ادھر ادھر بکھرے پڑے ہوتے ہیں اور وہاںتک ایک عام قاری کی رسائی نہیںہوپاتی کہ فلاں مصنف کی کتاب یا ان کا مضمون کس جگہ اور کہاں مل سکتاہے۔ اس پریشان کن صورتِ حال سے بچنے میںصرف اور صرف اشاریہ ہی ہماری رہنمائی کر سکتاہے۔

تحقیق میں مواد کی فراہمی کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ کتابیں اور رسائل ہیں۔ جو کتابیں شائع ہوتی ہیںوہ تو مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہے یا کہیں سے منگوائی بھی جا سکتی ہے لیکن رسائل کے ساتھ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جہاں تک کتابوں کا تعلق ہے تو وہ کسی مخصوص موضوع، صنف ادب اور مخصوص نقطہ نظر سے متعلق ہوتی ہیںجبکہ رسائل میں مختلف اور متنوع موضوعات پر مضامین اور مختلف اصناف سخن شامل ہوتے ہیں۔ رسائل وجرائد کے اشاریے محقق کے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان میں مختلف اور متنوع موضوعات پائے جاتے ہیں۔ بسا اوقات ایک مضمون سے جتنی معلومات حاصل ہوتی ہے وہ کبھی کبھی پوری کتاب سے بھی فراہم نہیں ہوتی۔اُس وقت ریسرچ کے طالب علم کے لیے ایک مضمون کی اہمیت ایک کتا ب کے مقابلے میں زیادہ ہو جا تی ہے۔ رسائل میں موضوعات کا بھی تنوع ہوتا ہے اور تقریباً تمام اہم موضوعات پر مضامین مل جاتے ہیں جو کسی ایک کتاب میں نہیں ملتے۔ پھر یہ کہ رسائل میں قاری اور وقت کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے مضامین لکھوائے جاتے ہیں۔ اس موضوع پر کبھی کوئی کتاب زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرعام پر آجاتی ہے اور کبھی نہیں۔ آج بھی اَن گنت موضوعات ایسے ہیں جن پر مواد صرف رسائل میں موجود ہے اور کتابیں اس سمت میں کوئی رہنمائی کرتیں۔بات یہی پر ختم نہیں ہوتی۔بلکہ بہت سارے مصنفین ایسے ہیںجنھوں نے رسالوںمیں اپنے قلم سے موتی اور جواہر بکھیرے ہیںاور اپنے مضامین کے بل بوتے پر ان کو جابجا خوبیوں سے مزین کیا ہے۔ مگر ان باوقار مصنفین کی شخصیت رسائل کے اوراق تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔آج کے کئی معروف ادیبوں کی ابتدائی تحریروںاور علمی و فکری تحریکوں کے بھی یہ جرائد امین ہیں۔ اشاریہ کے نہ ہونے سے ان کی شخصیت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں اگررسائل کے اشاریے تیار ہو جائیںتو محقق کو بڑی سہولت حاصل ہو جائے گی اور تحقیقی دشواریوں پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس طرح تحقیقی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو دور کیا جا سکتا ہے۔

پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی دہلوی نے اپنے ایک مضمون ”اردو کا اولین رسالہ: محب ہند” دہلی کو اردو کا اولین ادبی جریدہ قرار دیا ہے۔اس کا اجرا جون ١٨٤٧ ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اردو رسائل و جرائد کی عمر ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ ڈیڑھ صدی کے اس عرصے کے دوران سینکڑوں رسائل کی اشاعت مختلف مقامات سے مختلف اوقات میںعمل میں آئی۔اس لئے ان رسائل تک ہماری رسائی بھی آسانی سے نہیں ہو پاتی ،کیونکہ ہم اس بات سے نا آشنا ہوتے ہیں کہ کون سا رسالہ کہاں سے نکلتا ہے، کہاں پر دستیاب ہے اور اب تک اس رسالے کے سبھی شائع شدہ شمارے کہاں سے فراہم ہو سکتے ہیں۔ جب ہمیں اس بات سے واقفیت حاصل ہوتی ہے کہ فلاں لائبریری اورفلاں ادارے میں تلاش شدہ رسالے کی فائلیں موجود ہیں تو تلاش اور چھان بین کرنے پر چند گنی چنی فائلیں ہی ملتی ہیں اور جس رسالے یا شمارے میں ہمارے مطلب کی چیز ملتی، اس کو ہم غائب پاتے ہیں۔

اشاریہ کی مدد سے کسی بھی ادیب یا شاعر کے بارے میں میں نہایت قلیل وقت میں بہت زیادہ اور بہترین معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اشاریہ کے توسط سے ادباء و شعرا ء کی تخلیقات اور سوانح کے علاوہ نادر و نایاب تصاویر عکس ہائے تحریر، ادبی کارنامے، کتابوں کے نام، معلومات کی فہرست ، غرض ہر طرح کی ضروری معلومات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جیسا کی مذکور ہوا ہے کہ مختلف رسائل اور کتب تک ہر کس و ناکس اور خصوصاً تحقیقی کام کرنے والوں کی رسائی نہیں ہو پاتی اور مطلوبہ مواد کا رسائل میں جابجا بکھرا ہونا اور پھر رسائل کا مہیا نہ ہو نا عام طور سے ان کے کام میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔ لیکن جب تحقیق کرنے والے کے سامنے کتب و رسائل کے اشاریے موجو د ہوتے ہیں تب وہ اپنے تحقیقی کام کومؤثر طریقے سے انجام تک پہنچا نے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ابوسلمان شاہ جہان پوری اپنے اشاریہ کے پیشِ لفظ میں لکھتے ہیں :

 ”کسی موضوع پر تحقیق کے لیے اس موضوع کی کتابیات چراغ ہدایت کی حیثیت رکھتی ہے”۔

اشاریہ اور اشاریہ سازی کی اہمیت و افادیت واضح کرتے ہوئے پروفیسر عبد ا لقوی دسنوی اپنے ترتیب دیے گئے اشاریہ ”انیس نما” کی تمہید میں یوںرقمطراز ہیں:

”اردو میں اشاریہ سازی کا کام ابھی بہت کم ہوا ہے ۔البتہ غالب اور اقبال سے متعلق اشاریے کتابی صورت میں مرتب کیے گئے ہیں لیکن دوسرے شعراء اور ادبا کی طرف سوائے حالی ، شبلی ،عبد ا لحق اور ابو الکلام آزاد کے اس قسم کے کام کے لیے توجہ نہیں کی گئی ہیں ۔ کچھ لوگوں نے بعض رسائل کے اشاریے تیار کیے ہیں جو ان رسائل کے معیار اور مزاج کے سمجھنے میں مدد کر دیتے ہیں ۔ اس قسم کا کام اگر چہ بظاہر زیادہ اہم نہیں معلوم ہوتالیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اشاریہ سازی کا کام نہ تو آسان ہے اور نہ اہمیت ہی میں کم۔اس سے نہ صرف تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوتی ہیںبلکہ ان میں ترتیب و تہذیب کا سلیقہ بھی پیدا ہوتا ہے۔اس کام سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی موضوع سے متعلق کس حد تک کام ہو چکا ہے اور کن پہلوؤں پر مزید کام کرنے کی گنجا ئش ہے۔  اس لیے اشاریہ سازی کے کام کی طرف توجہ کی ضرورت ہے”۔

 اشاریہ سازی کی اہمیت و افادیت کے سلسلے میں پروفیسر عبد ا لقوی دسنوی مقدمہ ”نیرنگ خیال کا موضوعاتی اشاریہ ” مرتبہ ڈاکٹر دیوان حنان میں یوں تحریر کرتے ہیں :

”اکثر حضرات مواد کی فراہمی کی مشکلات کی وجہ سے ادھورے کام چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنے کام سے نہ تو خود مطمئن نظر آتے ہیںنہ دوسروں کو مطمئن کر سکتے ہیں، البتہ دوسروں کی تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں”۔

اشاریہ اور اشاریہ سازی کے ضمن میں ڈاکٹر سید محمد عبد ا للہ (اشاریہ ماہنا مہ ”صحیفہ” لاہور، ص ٣٣) میںاپنے خیالات کا اظہار یوں کرتے ہیں:

”اشاریہ سازی کا کام آٹے میں نمک کے برابر ہے اور جو کچھ کام اس سلسلے میں ہوا ہے وہ صرف کتابوں کا ہوا ہے رسائل کی اشاریہ سازی ہنوز تشنہ ہے”۔

محقق کو ہم مزید آسانیاں اس وقت فراہم کر سکتے ہیں جب ہم تمام اردو رسائل کے مندرجات کو اکٹھا کر کے اس کا موضوعاتی اشاریہ تیار کریں ۔ اس لیے کہ ریسرچ زیادہ تر موضوعات پر ہی ہوتی ہے اور تلاش کرنے والا اپنا مواد موضوع کی مناسبت سے ہی ڈھونڈتاہے۔انگر یزی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں یہ کام بہت پہلے شروع ہوا اورہندوستان میں بھی موضوعاتی اشاریے انگریزی میں ہر سال شائع ہو رہے ہیں ۔

 اشاریہ کسی بھی ماخذ میں موجود اہم موضوعات، اشخاص اور دیگر اہم چیزوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس کی بنا پرمحقق یا قاری کو متن یا ماخذ کی مکمل ورق گردانی نہیں کرنا پڑتی بلکہ وہ کم سے کم وقت میںا شاریہ کی مدد سے اپنے مطلوبہ موضوع تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اشاریہ ایک گلوب کی حیثیت رکھتا ہے جس پر ایک نظر ڈالنے سے پوری ادبی کائنات نظر کے سامنے آجاتی ہے اور اس کی مدد سے ایک شخص بنیادی تصور قائم کرکے اس کی روشنی میں اصل کا مطالعہ کرتا ہے۔علم کی حفاظت کسی بھی طریقہ سے اور کسی بھی ہئیت میں کی جائے اشاریہ کی اہمیت و ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے اور یہ کہ اشاریہ کسی مصنف، مضمون، موضوع یا کتاب کا آئینہ ہوتا ہے۔ اشاریہ سازی یا اشاریہ مرتب کرنا ایک ایسا فن ہے جس میںر سائل و جرائد، کتابی مواد کے اندراجات کی تفصیل، اس کے درج کرنے کے طریقے اور اندراجات کی ترتیب کے لیے مختلف طریقہ ہائے کا ر واضح کیے جائیں ۔اشاریہ سازی کے بغیر کسی بھی قسم کی تحقیق کو مؤثرطورپر انجام تک پہنچانے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تحقیقی امور میں اشاریوں کی اہمیت اظہر من ا لشمس ہے۔

  فن ِاشاریہ سازی کی زبر دست اہمیت کے باوجود ہندوستان میں اس ادبی و تحقیقی میدان میں بہت کم کام ہوا ہے اور جن رسائل کے اشاریے تیار کیے جا چکے ہیںان میں سے اب تک صرف چند ہی زیورِ طبع سے آراستہ ہو سکے ہیں ۔لیکن اب یہ صورت حال ہر گز مایوس کن نہیں۔ کیونکہ ملک کی کئی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں نے اس طرف خصوصی توجہ دی ہے اور کئی ادبی رسائل کے اشاریے مرتب کرائے ہیں۔جن میں دہلی یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور گورکھپور یونیورسٹی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔البتہ یہ اشد ضروری ہے کہ اشاریہ سازی کے کام میں مزید تیزی لائی جائے اور اب تک جن رسائل کے اشاریے نہیں بنائے جا سکے ہیں ان کے اشاریے مرتب کرائے جائیںاور جو اشاریے زمانہ حال میں تیار ہو چکے ہیں ان کی اشاعت کو یقینی بنایا جائے۔ابھی تک جن رسائل کے اشاریے منظر عام پر آچکے ہیں اور کتب خانوں کی زینت بنے ہوئے ہیںجن سے محققین اور اردو ادب کے قارئین مستفید ہو رہے ہیں ان میں اشاریہ آجکل جلد اول و دوم(ڈاکٹر جمیل اختر)، اشاریہ ایوان اردو(فاروق انصاری)، اشاریہ ماہنامہ تحریک(مطیع اللہ خاں)، اشاریہ دلگداز(محمد قمر سلیم)،اشاریہ نیا دور(محمداطہر مسعود خاں)،اشاریہ معارف(جمشید احمد ندوی)،اشاریہ جامعہ(شہاب ا لدین انصاری)، اشاریہ شاہراہ(نوشاد منظر)، اشاریہ نگار (ڈاکٹر عظا خورشید)، اشاریہ تہذیب ا لاخلاق(ڈاکٹر ضیا احمد انصاری) ، اشاریہ معاصر (محمد نو ر ا سلام)، اشاریہ ہفتہ وار صدق(عبد ا لعلیم قدوائی)،اشاریہ ہفتہ وار سچ (عبد ا لعلیم قدوائی)،اشاریہ رسالہ جامعہ (بدر الدین اورشاہجہاں قاسمی)، وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ بیشتر رسائل کے اشاریے ایسے ہیں جو خود اپنے ہی رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں۔کلاسیکی و نامور شعراء کے اشاریے بھی مرتب کیے جا چکے ہیں جن میں غالب،انیس، دبیر،پریم چند، آزاد، اقبال اور فیض وغیرہ شخصیات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔غالب اور اقبال پر بہت سارے اشاریے مرتب کیے جا چکے ہیں ۔ ان شعراء و ادبا پر آج بھی بے شمار تنقیدی مضامین اور تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیںاس لیے ان حضرات کے اشاریے رہ نماکا کام انجام دے سکتے ہیںاور اہل علم حضرات کو مواد کی تلاش کے سلسلے میں راہ بھٹکنے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔اردو تحقیق و تنقید سے جڑے بہت سارے حضرات ابھی نہ فن ِ اشاریہ سازی سے ہی آگا ہ ہیں اور نہ ہی اس کی اہمیت و افادیت سے۔

 پاکستان میں بہ نسبت ہندوستان کے اشاریہ سازی کی طرف بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے اور کثیر تعداد میں رسائل کے اشاریے مرتب کیے جا چکے ہیں جو کہ زیور طبع سے آراستہ ہو کرکتب و بازار کی رونق بنے ہوئے ہیں۔جس میں اشاریہ سہ ماہی اردو(سید سرفراز علی رضوی)،اورینٹل کالیج میگزین(محمد ابراہیم و محمد سید عبد اللہ)، روزنامہ زمیندار(احمد سعید)،فکرو نظر (احمد خان)،اشاریہ سہ ماہی اقبال(اختر ا نسائ)، اشاریہ سہ ماہی نیا دور(مصباح ا لعثمان)،اشاریہ نقوش(سید جمیل احمد رضوی)،اشاریہ نوائے وقت(سرفراز حسین) وغیرہ۔ مزید اس کے اقبال اکاڈمی پاکستان ، اکاڈمی ادبیات پاکستان ، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباداورادارہ تحقیقات اسلامی (اسلام آباد) نے اشاریہ سازی کے ضمن میں جو خدمات انجام دی ہیںاسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں پرمذکورہ اداروںاور ترتیب دیے گئے ان اشاریوں کے تذکرے کا میرا مقصد یہ تھاکہ قارئین ان کی اہمیت کو جان کر ان سے واقفیت حاصل کر کے استفادہ کر سکیں اور تحصیلِ علم کے سلسلے میں مؤثر خدمات انجام دے سکیں۔

انگریزی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں یہ کام بہت پہلے شروع ہو چکاہے۔ اردو کو دنیا کی دوسری ترقی یا فتہ زبانوں کی صف میں لانا ہے تو اس کام کو کیا جا نا چاہئے اور اردو کے تمام رسائل کے مندرجات کو سامنے رکھ کر ایک جامع موضوعاتی اشاریہ تیار کیا جانا چاہئے جیسا کہ دوسری زبانوں میں ہے تب ہی اردو تحقیق کا معیار بلند ہو سکے گا ۔ دنیا کا کوئی ترقی یافتہ ادب اس وقت تک صحت مند اور مستند تحقیقی و تنقیدی کارنامہ پیش نہیں کر سکتا جب تک اس میں حوالے اور اشاریے کی کتابیں موجود نہ ہوں۔

حواشی و حوالہ جات

١۔اشاریۂ غالب شمیم جہاںانجمن ترقی اردو( ہند)،نئی دہلی ١٩٩٨ئ،ص٩

٢۔اشاریہ سر سید عائذہ جنوری ٢٠٠٣ئ،ص٥۔٦

٣ ۔اشاریہ دلگداز محمد قمر سلیم ناشر خود مصنف محمد قمر سلیم ستمبر ٢٠٠٣ئ،ص٢٢۔٢٤

٤۔ تنقید کے نئے افق ڈاکٹر جمیل اخترکتابی دنیا، نئی دہلی ٢٠٠٧ئ، ص١٩٦۔١٩٩

٥۔تحقیق کا فن ڈاکٹر گیان چند جین ـ ٢٠٠٨ئ، ص٣٥٢۔٣٥٣

 ٦۔اشاریہ ماہنامہ نیا دورڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں ٢٠٠٩ئ،ص٨۔٩

ایضاً:ص٣٩

ایضاً:ص٤١

٧۔ اشاریہ ماہنامہ تحریک مطیع اللہ خاںموڈرن پبلشنگ ہاؤس،دہلی ٢٠١١ء ، ص١١

٨۔اشاریہ رسالہ جامعہ شہاب الدین انصاری ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز  جنوری ٢٠١٢ء ،ص١٣

٩۔رسالہ شاہراہ کا تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہنوشاد منظر  ٢٠١٤ء ، ص١٢

رسائل و جرائد

 اردو میںرسائل کی اشاریہ سازی شائستہ خان  اخبار قومی آواز ،ضمیمہ ٢٤ جون ١٩٩٠ء ، ص١۔٢

تحقیق میں اشاریہ سازی کی ضرورت و اہمیت طارق محمود اخبار اردواگست ٢٠٠٥ئ، ص١٢۔١٣

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.