اردو افسانہ اور دیہات

 بقول احمد ندیم قاسمی:

 ’’ تیری نظروں میں تو دیہات ہیں فردوس مگر

 میں نے دیہات میں اُجڑے ہوئے گھر دیکھے ہیں

 میں سمجھتا ہوں مہاجن کی تجوری کا راز

 میں نے دہقان کی محنت کے ثمر دیکھے ہیں‘‘ ۱؂

 ادب اور سماج کے درمیان بڑا مضبوط رشتہ ہوتا ہے ۔مذہب ،سیاست،معا شر ت اور معیشت سے سماج متاثر ہوتا ہے اور سماج سے ادب ۔جس طرح معاشرے میں تبدیلوں کا عمل برابر جاری رہتا ہے اسی طرح ادب کے موضوعات ،اُسلوب اور مقاصد بھی بدلتے رہتے ہیں ۔سماجی انقلاب،اصناف ادب میں بھی اہم تبدیلوں کا موجب بنتا رہا ہے ۔انسان کی داخلی زندگی کی مختلف کیفیات،سماجی زندگی کے مختلف روپ،معاشرتی وثقافتی زندگی کے مختلف رنگ،معاشی ،طبقاتی اور سیاسی تحریکیں اور اُن تحریکوں سے متاثر ہونے والی انسان کی مجموعی زندگی مختلف اصناف ادب کا ہمیشہ موضوع رہے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں:

 ’’سماج سے ادب کارشتہ ہی اصل چیز ہے۔ جس ادیب کو ان رشتوں کا ادراک نہیں میرے خیال میں اس کا ادب اور فن بے معنی ہے‘‘ ۲؂

 بنی نوع انسان کے ترقیاتی سفر میں دیہات یا گاؤں وہ پہلی کڑی ہے جس میں انسان نے گروہ میں رہنے کے ساتھ ساتھ روٹی ،کپڑا اور مکان کے بندوبست کا ہنر سیکھا اور یہیں سے صیح معنوں میں معاشرتی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ دنیا کے زیادہ تر لوگ آج بھی گاؤں میں آباد ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ گاؤں کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ خصوصاً ہندوستانی سماج میں گاؤں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کے افہام و تفہیم میں گاؤں کا مطالعہ ناگزیر ہیـ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو شعروادب میں دیہی زندگی کی عکاسی خوب سے خوب تر انداز میں کی گئی ہے اور اردو افسانہ نگاری میں اس طرف خاص توجہ دی گئی ہے۔بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوتے ہی اردو افسانے برق رفتاری سے اپنی منزلیں طے کرتے گئے ایک جانب سجاد حیدر یلدرم اور اس کے پیرو کار عشق و محبت، قربانی و ایثار اور اخلاقی اقدار کی باتیں کرتے رہے، یعنی ان کا رجحان رومانیت کی طرف تھا تو دوسری جانب منشی پریم چند نے اس راہ سے انحراف کرکے حقیقت نگاری کی بنیاد ڈالی۔ان دونوں افسانوں نگاروں کی حیثیت دبستان کی سی ہے ۔ منشی پریم چند اردو کے وہ پہلے افسانہ نگار ہیں جنھوں نے دیہات اور وہاں کی زندگی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا اور دیہی زندگی کی حقیقی تصویر پیش کی جو دراصل اردو ادب میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ وہ گاؤں کے حالات ومسائل سے اچھی طرح واقف تھے، خصوصاً کسانوں پر ہونے والے مظالم کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ پروفیسر قمر رئیس ان کے بارے میں رقمطراز ہیں:

 ’’ پریم چند پہلے ادیب ہیں جنھوں نے ہندوستانی گاؤں کے کسانوں ،کھیت ،مزدوروں اور ہریجنوں کی عظمت اور انسانی وقار کو سمجھا ۔ان کے لئے ادب کے کشادہ دروازے کھولے ،انھیں ہیرو بناکر ،ان کے د ُکھ سکھ کی گا تھا سنا کر اردو کے افسانوی ادب کو نئی وسعتوں اور ایک نئے احساس جمال سے آشنا کیا۔‘‘ ۳؂

 سید وقار عظیم ان کے دیہی افسانوں کے متعلق یوں لکھتے ہیں:

 ’’پریم چند نے سب سے پہلے دیہاتی زندگی کے انگنت مسئلوں کو اپنے افسانوں کے ذریعہ پڑھے لکھے لوگوں کی زندگی سے قریب کیا۔پہلے پہل لوگوں نے دیہاتی زندگی کو اپنے ملک کی زندگی کا حصہ سمجھنا شروع کیا اور اسی احساس نے رفتہ رفتہ دیہاتی زندگی اور اس زندگی کے چھوٹے بڑے مسئلوں کو سیاسی ادراک کی بنیاد بنا دیا۔یہاں تک کہ اب ہماری ساری قومی اور سیاسی تحریکوں کا تار دیہاتی اور اس کی زندگی سے بندھا ہوا نظر آنے لگا۔‘‘ ۴؂

 پریم چند نے اپنے افسانوں میں دیہی زندگی کو جس انداز سے پیش کیاہے اس سے ان کی دیہی زندگی کے متعلق گہرے مشاہدے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ وہ کسان ،مزدور،مہاجن اورزمیندار وغیرہ سے وابستہ مختلف طبقوں کے لوگوں کی خوبیوں اور خامیوں سے صرف آشنا ہی نہیں تھے بلکہ ان کی ذہنی اُلجھنوں اور خواہشیات وغیرہ کو بھی خوب سمجھتے تھے۔’بے غرض محسن‘ میں پریم چند نے پہلی مرتبہ ہندوستان کی دیہی زندگی کے المناک ماحول کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔یہ وہ دور تھا جب زمینداری کا غلبہ اپنے شباب پر تھا اورکسانوں پر ان کے مظالم بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ اس افسانے میں کسان تخت سنگھ اور اس کی بیوی کی غربت اور استحصال بھری زندگی کی جوتصویرکشی کی گئی ہے وہ بڑی دل خراش ہے ۔جس ہنر مندی سے منشی پریم چند نے دیہی زندگی کو اپنے افسانوں میں پیش ہے کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔’بانکا زمیندار‘’خون سفید‘’پوس کی رات‘’

 ’باباجی کا بھوگ ‘ ’خانہ داماد‘’ قربانی‘’ آشیاں‘’ برباد‘’ اندھیر‘’ سجان بھگت’ کفن ‘وغیرہ اس سلسلے کے اہم افسانے ہیں ۔ جن میں دیہات کی زندگی کے مسائل کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔پریم چندہی کی طرح کئی اہم افسانہ نگار ہیں جنھوں نے دیہی زندگی کے ایسے گوشوں کو ُاجاگر کیا ہے جہاں تک پریم چند کی نظر نہیں جاسکی ۔ قمر رئیس لکھتے ہیں:

 ’’عظیم کریوی ،سہیل عظیم آبادی اور علی عباس حسینی کی کہانیوں میں گاؤں اور شہر کی ز ندگی کے بعض ایسے رشتے اور گوشے بھی ملتے ہیں جو پریم چند کی کہانیوں میں نظر نہیں آتے‘‘۔ ۵؂

 سدرشن نے دیہی زندگی سے متعلق نچلے طبقے سے وابستہ لوگوں کی تصویر کشی بڑی فنکاری سے کی ہے ۔

انہوں نے پریم چند کی تقلید بھی کی ہے ۔اور اس میں نئے تجربات بھی پیش کئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے پریم چند سے منفرد ہیں۔’مزدور‘’مصور‘’اورصدائے جگرخراش اس کی بہترین مثال ہیں۔ افسانہ ’مزدور ‘میں ایک ایسے غریب کاٹن مل مزدور کلو کی کہانی پیش کی گئی ہے جو گیارہ روپے چار آنے ماہوار پر کام کرتا ہے لیکن خاندان چار افراد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ضروریات ِزندگی کی کفالت نہیں کر پاتا۔افسانہ ’’مصور‘‘ میں تو گجری کوکر واچوتھ کے برت کو کھولنے کے لئے اناج کا ایک دانا بھی نصیب نہیں ہوتا ۔غریبی کی یہ المناکی نہ صرف المناکی ہے بلکہ حیات انسانی کے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔اپنے افسانوں کے موضوعات کے بارے میں وہ یوں لکھتے ہیں:

 ’’جب دل پر چوٹ لگی یادل کسی نظارے سے متاثر ہوا تو میں افسانے لکھنے بیٹھ جاتا ہوں۔یہ صورت شہر سے زیادہ جب میں کبھی دیہات میں رہتا ہوں تب پیش آتی ہے ۔سرسبز لہلہاتے کھیت ،دریا کا کنارہ اور دیہاتیوں کی معصوم زندگی میرے دل پرخاص اثر کرتی ہے ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ میرے افسانے زیادہ تر دیہاتی معاشرے کے آئینہ دار ہوتے ہیں‘‘ ۶؂

 دیہات کے تعلق سے اعظم کریوی کے یہاں خصوصاً یوپی کے پوربی علاقوں کی زندگی اپنے مکمل خدوخال کے ساتھ جلوہ گرہے۔’انقلاب‘’انصاف ‘’ پریم کی چوڑیاں اور کنول وغیرہ ان کے دیہی زندگی سے متعلق وہ افسانے ہیں جن میں دیہات زندگی کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے ۔افسانہ’ انقلاب ‘ ان کے دیہی افسانوں میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس افسانے میں دیہات میں آنے والی تبدیلوں سے پیدا ہونے والے نئے نئے مسائل کو پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس افسانے میں تبدیلی کے اس عالم میں اول گاؤں کے تمام کھیت کھلیان تباہ ہوتے ہیں پھر وہاں بلند عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں اس کے بعدکسان کن حالات سے دوچار ہوتا ہے اس کا اندازہ ان سطروں سے لگایا جاتا ہے:

 ’’سرمایہ داروں نے شروع میں ان کو قرض دیا ،اور پھر سود در سود کے جال میں پھنسا کر مکانات اور جائیداد نیلام کرادی،اور خود ہی خرید کر مالک بن بیٹھے۔‘‘ ۷؂

 افسانہ ’انصاف‘ میں قحط میں مبتلا متئی (کردار) اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے مہاجن سے قرض لینے جاتا ہے لیکن اس کے پاس گروی رکھنے کے لئے کچھ نہیں تھاوہ التجا کرتا ہے لیکن مہاجن پر اس کا اثر نہیں ہوتا ۔چنانچہ وہ مایوس ہو کر خالی ہاتھ ہی گھر لوٹتا ہے ۔اس سیاق میں افسانہ نگار رقم طراز ہے:

 ’’ جو کچھ مجھے کہنا تھا میں کہہ چکا ،آگے تمہاری مرضی ۔زمانہ نازک ہے۔ ایسے میں گروی رکھے بغیر کوئی روپیہ نہ دے گا ۔متئی نے بہت خوشامدیں کیں لیکن ایک دفعہ گیا دین کی زبان سے جو نہیں نکل گیا تو پھر انھوں نے ہاں نہ کی۔مایوس ہوکر متئی اپنے گھر واپس ہوا۔ اس کے بچے بھوک کے مارے تڑپ رہے تھے۔ متئی کو دیکھ کر سب اس کی طرف دوڑ پڑے لیکن متئی کے پاس کیا تھا جو ان کی شکم پروری کرتا۔‘‘ ۸؂

 عظیم کریوی نے گاؤں میں مو جود فرسودہ رسم ورواج کی طرف نہ صرف توجہ دلائی ہے بلکہ ان کے خلاف آواز بھی بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔ علی عباس حسینی نے بھی اس روایت کو آگے بڑھانے میں نمایا ں کردار ادا کیاہے ۔پریم چند کو جہاں دیہات سے دلی محبت تھی وہیں علی عباس حسینی کو بھی دیہات ہی کی فضاؤں میں سکون ملتا تھا۔ ان کے یہاں دیہاتی زندگی اپنے مکمل خدوخال کے ساتھ جلوہ گرہے۔ افسانہ کفن ،مقابلہ،بیگار،گونگاہری،انتقام ،میلہ گھومتی،نورونار،آئی سی ایس ،پاگل،کنجی اورہارجیت وغیرہ دیہی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ افسانہ ’مقابلہ ‘ میں علی عباس حسینی نے کسانوں پر ہونے والے استحصال کو موضوع بنایا ہے۔ اس دور میں کسانوں پر کیسے کیسے مظالم ہوتے تھے زمیندار کس طرح زبردستی لگان وصول کرتے تھے اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں:

 ’’ سوکھا پڑے ،ٹڈیاں زراعت کھا جائیں ،گائے بیل بک جائیں ،تھالی کٹورا گروی رکھنا پڑے لیکن لگان وقت پر پہنچنا ضروری ۔سب کا م رک سکتے تھے لیکن یہ قرض اُدھار لے کر کسی نہ کسی طرح سب سے پہلے ہو جانا لابدُی تھا۔‘ ۹؂

افسانہ ’’آئی سی ایس‘‘ میں علی عباس حسینی نے دیہات کے بدلتے ہوئے منطر نامے کو پیش کیاہے۔ یہ افسانہ دیہات سے ان کی گہری واقفیت کا ضامن ہے ۔اس افسانے کا مرکزی کردار ’وحید‘ ہے جو گاؤں میں پیدا ہو ا اور اپنی قابلیت کی وجہ سے آئی سی ایس میں جا تا ہے ۔اس کے متعلق وہ یوں لکھتے ہیں:

’’وحید کا آئی سی ایس میں جانا با لکل داتا کی دین تھی ۔ایک غریب دیہاتی زمیندار کا لڑکا جو گیارہ برس کے سن تک ایک چھوٹے مختصر ،تنگ کچے مکان میں پلا ہو جو گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ گلی ڈنڈا ،کبڈی ،گیڑی اور آنکھ مچولی کھیلنے میں لگا رہا ہو جس نے اہیروں ،چماروں اور کولیےوں کے لڑکوں کے ساتھ ہر بڑے سے بڑے درخت پر چڑھ جانے اورچھپے بیٹھنے میں مہارت حاصل ہو جس نے سات برس کی عمر سے گائیں بھنیسیں خوددوئی ہوں اور ان کا گوبر اپنے ہاتھ سے اٹھایاہو ۔‘‘ ۱۰؂

 سہیل عظیم آبادی کا نا م اس لحا ظ سے منفرد ہے کہ انہوں نے پہلی بار صوبہ بہارکی زندگی کو افسانوں کا موضوع بنایا ۔ان کے افسانوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو جنہیں دوسرے فنکار نظرانداز کرتے ہیں ان ہی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کے ذہن میں اس کا مکمل نقش ابھرنے لگتا ہے۔ ’الاؤ’جینے کے لئے ’ اندھیرے میں ایک کرن‘اس سلسلے کے اہم افسانے ہیں۔افسانہ ’’ جینے کے لئے ‘‘ کا مرکزی کردار گوبردھن ہے جو ابتداء میں زمینداروں کے ظلم وستم کا شکار بن جاتا ہے لیکن آخر میں وہ باغی ہو جاتا ہے ’’ جینے کے لئے مرنا بھی ہو گا‘ ‘مکمل افسانہ دیہاتی منظر کو دکھاتا ہے اور کسان کی زند گی سے متعلق مختلف مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔’الاؤ‘ میں سہیل عظیم آبادی نے زمیندار اور پٹواری کے ظلم کے ساتھ ساتھ کسانوں کے دلوں میں ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کا جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔’ اندھیرے میں ایک کرن‘ میں گاؤں میں ہونے والے فسادات کو موضوع بنایا گیاہے۔ان کے افسانوں کے متعلق پروفیسر وہاب اشرفی لکھتے ہیں:

 ’’ان کے افسانوں میں دیہات کا ماحول اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ جلوہ فگن ہے۔ امیر خصوصاً زمیندار کے ٹھاٹ باٹ، ان کی تمکنت ،ان کی انا اور ان کے کھوکھلے پن کو انتہائی فنکا رانہ طوار پر افسانوں میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ‘‘ ۱۱؂

 اس کے بعد ترقی پسند تحریک ایک بین الاقوامی تحریک کی شکل میں نمودار ہوئی جس کے اثرات مختلف زبانوں کے ادب پر پڑے ۔زیراس تحریک کے ِاثر جو اثرات مرتب ہوئے وہ واقعی ایک نئی دنیا کا خواب دکھاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ کن کن افسانہ نگاروں نے دیہی زندگی اور وہاں کے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔اس ضمن میں کرشن چند،حیات اﷲ انصاری ،اوپندر ناتھ اشک ،راجندر سنگھ بیدی،اختراورینوی ،احمد ندیم قاسمی اور دیوندر ستیار قابل ذکر ہیں۔کرشن چند کا شمار اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے انہوں نے دیہی زندگی خصوصاً کشمیر کی دیہی زندگی اور وہاں کے ماحول کو اپنے افسانوں میں موضوع بنایا ہے’ اندھا چھترپتی‘’ آنگی‘’ گھاٹی‘’ ایک دن‘’ شہتوت کا درخت‘’ ماہر ٖفن ‘’ان داتا ‘ بھگت رام‘’ شمع کے سامنے اور’ زندگی کے موڑ‘ پر وغیرہ وہ افسانے ہیں جن میں دیہی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ کرشن چند نے کسانوں کی غربت اورمفلوک الحالی کی اچھی تصویر ’’شہتوت کے درخت‘‘ میں پیش کی ہے کرشن چند لکھتے ہیں:

 ’’ہر کسان کا گھر ایسا ہی ہوتا ہے ۔ اسی میں اس کے بال بچے رہتے تھے ،اسی میں وہ بھی رہتا تھا ۔اسی میں اس کے بیل رہتے تھے ،بھیڑ بکریاں ۔ہزاروں سالوں سے وہ اسی طرح رہتاچلا آرہا تھا۔ ۱۲؂

 حیات اﷲ انصاری نے اپنے افسانوں میں بیشتر اپنے عہد کے حالات و ماحول کو پیش کیا ہے۔ ان میں دیہی زندگی کے مسائل بھی شامل ہیں۔ حیات اﷲ انصاری نے غربت و افلاس میں زندگی بسر کرنے والے دیہاتوں کی مشکلات اور ان کے استحصال کے واقعات کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ’آخری کوشش‘ اس سلسلے کی بہترین مثال ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ’کمزور پودا ‘’ ڈھائی سیر آٹا‘‘ بھرے بازار میں ‘’ شکستہ کنگورے ‘‘ وغیرہ اہم افسانے ہیں جن میں دیہات کے مختلف پہلوؤں اور مسائل کو اجا گر کیا ہے۔ ’ آخری کوشش ‘‘ حیات اﷲ انصاری کا ایک کامیاب اور شاہکار افسانہ ہے۔ اس افسانے میں گاؤں اور شہر ویہات دونوں کے مناظر پیش کئے گئے ہیں اس میں کہیں غربت کی المناک تصویر ملتی ہے تو کہیں خانگی بٹوارے پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔خلیل الرحمٰن اعظمی کا خیال ہے

 ’’جس افسانے نے حیات اﷲ انصاری کو قداول افسانہ نگار بنایا ،وہ آخری کوشش ہے‘‘ ۱۳؂

 اوپندر ناتھ اشک نے بھی اردو افسانہ نگاری کے مختلف ادوار کو دیکھا ہے۔ چنانچہ ان کے افسانوں کا کینوس وسیع ہے، جس میں دیہات اور شہری زندگی کے موضوعات اور مسائل شامل ہیں۔ وہ کسی تحریک یا نظریہ کے پابند نہیں ۔’کالے صاحب ‘‘کونپل ‘‘ڈاچی‘ وغیرہ ان کے دیہات پر مبنی افسانے ہے

 راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کا پس منظر شہری اور دیہی دونوں زندگی ہیں ۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’دانہ ودام ‘‘ کے بیشتر افسانے مثلا’’بھولا‘’ من کی من میں ‘’ چھوکری کی لوٹ ،’تلادان ‘’ لچھمن‘’ اور’ موت کا راز ‘وغیرہ میں دیہی زندگی اور وہاں کے مناظر کو اجاگر کرتے ہیں۔افسانہ’ من کی من میں‘ گاؤں کے ایک شخص مادھو کی انسانیت سے لبریز زندگی کواجاگرکیا ہے۔ اس افسانے میں دیہاتیوں کی سادہ زندگی اور ان کی تنگ نظری اور وہاں کے فرسودہ سماجی ڈھانچے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مادھو جب ایک بیوہ کی مدد کرتا ہے تو سماج اور برادری والے اسے بری نظر سے دیکھتے ہیں ۔اس کیفیت پر وہ اس طرح روشنی ڈالتے ہیں؛

 ’’گلاب گڑھ میں ایک بیوہ امبور رہتی تھی ۔اس کے خاوند رُلیا کو مرے ساتھ سال کے قریب ہوئے تھے اسی روز سے بے چاری اپنی عزت کو سنبھالے بیٹھی تھی اگر اسے سماج کے حال پرچھوڑ دیا جاتا تو بے چاری کب کی تباہ برباد ہوچکی ہوتی ۔مادھو کو اس کی مدد کرتا دیکھ کر لوگ کئی طرح کے بہتان لگاتے ۔طرح طرح کی باتیں بنا کر معصوم مادھو اور بدنصیب بیوہ

 کو بدنام کرتے ۔ سماج میں اتنی دیا کہاں کہ جس چیز کو وہ خود دینے سے ہچکچاتی ہے اپنے کسی فرد کو دیتے دیکھے۔‘‘ ۱۴؂

 ا ردو افسانے میں بہار کی دیہی زندگی کو پیش کرنے والوں میں سہیل عظیم آبادی کے بعد اختر اورینوی کا نام اہم ہے۔ انھوں نے دیہی زندگی کو قریب سے دیکھاہے اور اسے بڑی چابکدستی سے پیش کیا ہے۔ افسانہ ’’بیل گاڑی‘‘میں دیہی مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی کردار مویتا ایک کسان ہے۔ اس کی زندگی تنگدستی میں گذرتی ہے۔ اختراورینوی نے’ مویتا‘ کے ذریعہ ہندوستانی کسان کی زندگی کا حال بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔

 احمد ندیم قاسمی کے زیادہ تر افسانے دیہی موضوعات و مسائل پر مبنی ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں نہ صرف پسماندہ طبقات کی بدحالی کو بیان کیا ہے بلکہ ان مظلوموں کو زندگی سے لڑنے کا حوصلہ بھی بخشا ہے۔ ان کے افسانوں میں ’ رئیس خانہ‘’ الحمدﷲ ‘’ماسی گل بانو ‘بین‘بے گناہ‘بابا نور ‘ ’’جوتا‘ وغیرہ دیہات سے متعلق ان کے عمدہ افسانے ہیں۔ افسانہ ’جوتا‘ زمینداروں کے ظلم و جبر کی کہانی ہے۔ اس کا مرکزی کردار’ کرموں‘ نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنی زبو حالی کو بدلنے میں کامیاب ہوتا ہے’ دیوندرستیار‘ بھی ایک مقبول افسانہ نگار ہیں۔ ’یہ آدمی یہ بیل ‘لال دھرتی ‘ ’نیل گائے ‘ وغیرہ میں انھوں نے ہندوستانی دیہات کی بہترین عکاسی ہے۔

                 ۱۹۴۷؁ ء میں ہمارا ملک آزاد ہوا تو اس کے ساتھ ہی حالات واقعات میں بھی تبدیلی رونماء ہوئی ہیں لیکن پریم چند کے پیش کردہ دیہی مسائل آزادی کے بعد بھی موجود تھے ۔چنانچہ اس عہد کے افسانہ نگاروں نے انھیں اپنے افسانوں میں جگہ دی۔ان افسانہ نگاروں میں خواجہ احمد عباس ،قاضی عبد الستار،بلونت سنگھ ،سریندر پرکاش ،جوگندرپال ، معین الدین جینا بڑے‘’وغیرہ شامل ہیں۔ خواجہ احمد عباس نے ’ٹڈی‘

قاضی عبدالستار نے ’پیتیل کا گھنٹہ‘’مالکن‘’اور ’لالہ اما م بخش‘’ بلونت سنگھ نے ’’چھلنی کے چھید‘‘ سریندر پرکاش نے ’بجوکا‘’حاضر حال جاری‘‘ اورجوگندر پال نے ’’باز دید‘’ خوراک‘’ تمناکا دوسرا قدم‘ وغیرہ افسانوں میں دیہی زندگی کی عکاسی کی ہیں اور بھی کئی افسانہ نگار ہیں جن کے یہاں دیہی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ رما نند ساگر کا افسانہ’ بھاگ ان بردہ فروش سے‘’ اقبال متین کا ’’کونپل سے پرزے تک ‘’ مشتاق قمر کا‘’ لہو اور مٹی ‘’ مرزا ادیب کا ‘’ انجانی راہوں کا مسافر ‘ محمد منشاد کے افسانے ’کچی پکی قبریں ‘باس وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غیاث احمد گدی ،رام لعل اور ساجد رشید وغیرہ نے بھی اپنے افسانوں میں دیہی مسائل کوپیش کیا ہے۔

 حاصل گفتگو یہ ہے کہ اردو افسانہ نگاروں نے تقریباً ہر دور میں دیہات اور دیہات سے جڑے مختلف مسائل کو اپنے افسانوں میں نہ صرف پیش کیا ہے بلکہ ان کو حل کرنے کی تدابیر بھی پیش کی ہیں۔

کتابیات؛

ا ؂ ؛بگولے (افسانوی مجموعہ) احمد ندیم قاسمی آغاز نظم مکتبہ اردو لاہور ۔۱۹۴۱

۲؂ احمد ندیم قاسمی ،اردو افسانے کے مسائل ۔نقوش لاہور شمارہ ص ۔۱۱۰

۳؂ ؛اردو ادب میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب ۔قمررئیس ۔ص ۔۴۶۸

۴؂ ؛نیا افسانہ ۔سید وقار عظیم ،ص۔۱۹

۵؂؛ اردو ادب میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب ۔قمررئیس ۔ص۔۳۵

۶؂ ؛ اردو افسانہ ترقی پسند تحریک سے قبل۔پروفیسر صغیر افراہیم ۔ص ۔۹۲؛

۷؂ ؛ اردو افسانہ ترقی پسند تحریک سے قبل۔پروفیسر صغیر افراہیم ۔ص ۔۸۴

۸؂ ؛اردو افسانہ میں حقیقت نگاری۔ڈاکٹر رونق جہاں بیگم ۔ص۔۱۰۶

۹؂ اردو افسانہ ترقی پسند تحریک سے قبل ۔پروفیسر صغیر فراہیم ۔ص۔۹۴

۱۰؂ نمائندہ مختصر افسانے۔مرتبہ محمد طاہر فاروقی ۔ص۔۲۷

۱۱؂ بہار کے چند نامور اردو افسانہ نگار ۔مرتبہ ڈاکٹر رابعہ مشتاق ۔ص ۔۱۸

۱۲؂ ؛مجموعہ ایک گرجا ایک خندن ۔ افسانہ شہتوت کے درخت ۔ص ۔۱۶۲

۱۳؂ ؛؛اردو میں ترقی پسند تحریک ۔خلیل الرحمان اعظمی۔ص۔۱۸۳

۱۴؂ ؛ دانہ ودام ۔راجندر سنگھ بیدی ۔ص ۔۴۱

 ٭٭٭٭٭٭

 فیاض احمد شیخ

 ریسرچ سکالرڈاکٹر ہری سنگھ گور سنڑل یونیورسٹی

 ایم۔پی phdfayaz@gmail.com

 (8602147215)#

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.