اردوغزل کا تحقیقی  جائزہ

تلخیص: غزل اُردو ۔ فارسی یا عربی کی ایک صنفِ سُخن ہے۔جس کے پہلے دو مِصرے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ غزل کے لیے پہلے ریختہ لفظ  استعمال میں  تھا۔( امیر خسروؒ نے موسیقی کی راگ کو ریختہ نام دیا تھا) ادب کے دیگر اصناف ادب اور فنون لطیفہ میں سب سے زیادہ  غزل کو پسند کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ غزل اسٹیج کے علاوہ سخن کا بہترین  ذریعہ اظہار بھی ہے۔ کم لفظوں میں مکمل بات کرنے کا ہنر ہے۔ غزل کا سانچا چھوٹا ہوتا ہے اسی لیے جذبے یا خیالات کو پھیلانے کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔ اس لیے رمزء ایماتمثیل و استعارہ، پیکر آفرینی اور محاکات اُس کے فنی لوازم بن گئے ہیں۔غزل متنوع موضوعات کا مرکب ہوتی ہے۔اس مقالہ کا بنیادی مقصد  قدیم اور جدید غزل کی بدلتی ہئیت اور  معنویت کی عکاسی کرنا ہے۔ ہیئت سے مراد ‘اندازِ و بیاں کی وہ صورت جو فنی اور تکنیکی خصوصیات کے سبب شعری تخلیق کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ ہم نےموضوع کے تحت   اُردوغزل کے آغاز کا جائزہ تاریخی  پس منظرمیں لیا ہے ۔ اس صنف کی ہئیت کو  مستند اشعار کوثبوت  میں پیش کیا ہے۔ تاکہ عنوان کی صحیح معنویت کی وضاحت ہو سکے۔ غزل قصیدے کا جزو تھی، جس کو ’’تشبیب‘‘ کہتے ہیں۔ پھر وہ الگ سے ایک صنفِ شعر بن کرقصیدے کے فارمیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ فنی اعتبار سے بحر اور قافیہ ’’بیت‘‘ اور غزل کے لیے یکساں ہے۔ اس مقالہ میں غزل کی بدلتی ہئیت کی داستان  کو چار ادوار میں منقسم کیا گیاہے ۔پہلا دکنی غزل ۔ دوسرا اٹھارہویں صدی کی ابتدا سے انیسویں صدی کے نصف اول تک محیط ہے بلکہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے آخر تک ۔ تیسرا۱۸۵۷ء سے اقبال تک کا جائزہ لیا گیا ہےاور آخری میں اقبال کے بعد جدید دور تک کا احاطہ کیا گیاہے۔ اس کے بعد ترقی پسند(۱۹۳۶ء تا۱۹۵۰ء) کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس عہد میں غزل ہئیت اور معنویت  دونوں میں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو گئ۔ ترقی پسندوں نے بھی غزل کے متعلق اپنی اجدادی وراثت اور روایت سے بےشمار غلط سمجھوتے کیے۔ قدیم روایاتی علامات، استعاروں، تشبیوں، تلمیحات یا کتب وغیرہ کو غیر روایاتی معنیٰ اور ماہیم دینے کی کوشش کی۔ اس طرح قدیم روایت کے ملے جلے اثرات ترقی پسندوں کی روایت شکنی کے اعلانات کے باوجود جدید غزل میں شعوری اور غیر شعوری طور سے سرایت کرتے چلے گئے۔ [2]جدید تحقیق میں اُردو غزل کا پہلا نمونہ امیر خسرؔو کے ہاں ریختہ کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے بغیر بہت سے صوفیائے کرام نے شاعری کو اظہار خیالات کا ذریعہ بنایا لیکن غزل کے ہاں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بہمنی سلطنت میں غزل کے نمونے بہت ہیں۔ لیکن گولکنڈہ کی سلطنت کے قطب شاہی اور عادل شاہی حکمران کی شعر و ادب سے دلچسپی کی وجہ سے اردو غزل بہت ترقی کی۔ مقالہ میں غزل کے بدلتی  روایت کو   نویں صدی کے اواخر میں فارسی غزل سے ترقی کر کے  سترویں صدی میں اردو میں منتقل ہونے تک کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ فارسی سے اردو میں آئی تھی۔ اس لیے فارسی کے عصری معنویت اور تاثرات بھی اردو غزل میں کوبہ کو نظر آتے ہیں۔ابتدائی غزلوں میں ماسوائے عشق و محبت کے مضامین باندھنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ کیوں کہ خود غزل کے لغوی معنی بھی عورتوں سے بات چیت کرنے کے ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا شبلی نے بھی غزل کو عشق و محبت کے جذبات کی تحریک سمجھا۔لیکن بعد حاؔلی نے مقدمہ شعر و شاعری میں غزل کے ہر مضمون کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔جس کے بعد اس صنف میں ہر قسم کے خیالات بیان کئے جارہے ہیں۔اس طرح کی بدلتی ہئیت کو اس کی  مناسب معنویت کے ساتھ تحقیقی نقطہ نظر سے بیانیہ انداز میں تاریخی تحقیق کا طریقہ کار میں مقالہ قلم بند کیا گیاہے۔یہ مقالہ طلباء ٹیچر اور شعراء کو اردو غزل کی ہئیت اور مختصر تاریخ کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہوگا۔

کلیدی الفاظ:اُردو غزل،تفہیمِ غزل، غزل کی تاریخ،غزل کی ہئیت اور معنویت۔

  1. تعارف:

غزلولیت اردو شاعری کی آبرو  ہے۔[3] اگر چہ مختلف زمانوں میں شاعر کی بعض دوسری قسمیں بھی اردو میں بہت مقبول رہی ہیں۔ لیکن نہ تو ان کی مقبولیت کا مقابلہ کر سکی  نہ ہی اس کی مقبولیت کو نقصان پہنچا سکی۔ پھر بھی بیسویں صدی کے نصف میں اس صنف کے بہت مخالفین  پیدا ہوئے لیکن مقبولیت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

لفظ ’غزل‘ کے سنتےہی حواسِ خمشہ بیدار ہو جاتے ہیں۔یہ صنف  ادب و سخن میں مرکزی حیثیت کی حامل  ہے، عام و خاص کی ابتدا د سے ہی دلچسپی کا ذریعہ ہے۔ فنی نقطہ نظر سے بھی اس مقام اعلیٰ ہے۔ عالمی سطح پر سیر و تفریح کرتی ہے۔  یہ ادب بھی ہے اسٹیج بھی ہے۔جذبات و احساسات کا سمندر بھی ہے۔ ناگن سی ناچتی مستی شراب کی لزت بھی اسی میں ہے۔ قوموں ‘ملکوں کے فاصلے مٹانے کا ذریعہ بھی ہے۔میر و غالب ہوئے ‘ حالی  درد بیدل اقبال ہوئے یا پھر جگر مومن اور درد آتش ہوئے۔ حسرت اس صنف سے فیضیاب ہوئے تو جرأت نے ایسی داغ بیل ڈالی کے سب ذوق اس کے آگے فانی ہوئے۔ ناطق اپنے جوش وجگر سے بے نظیر ہوئے۔ شاد فرازا و رفراق نے شوق سے غزل کےآرزو مند ہوئے۔ ندا سے اس کی ہر کوئی سر شار ہوئے۔دکن میں قطب، خواجہ ، شوقی، عادل ،نصرتی، میرا ں،غواصی،وجہی سب اس کے جاں نثار ہوئے۔ وہیں ان کے نقش قدم پر وؔلی ، سراج  اور صفی بھی متوجہ ہوئے ۔ شمال میں  شاہ حاتم ،  آبرو، مظہر  نے  لطف  اور مجاز سے  کوئی بہادر ہوئے کوئی ظفر ہوئے۔ ایہام گوئی  کے آبرو، ناجی، مضمون، یکرنگ، سجاد،  یقین، میری ، مرزا سودا، خواجہ میر درد، قائم چاندپوری، میر سوز  اس صنف  کے  عاشق ہوئے۔ دبستان لکھنو میں جرأت،انشاء،مصحفی،رنگین،نسیم ، آتش، ناسخ،تلامذہ اور  انیسؔ نے  غزل گو ئی کو اپنا خون و جگر دیا۔ وہیں ناؔصر ، ناسخ، نصرتی نے بڑی آرزؤں ‘ آزادخیالی سے اس کے مجروع ہوئے۔ اس طرح سے غزال کو غزل بنانے میں ہر کوئی اپنے اپنے وہت کے ساتھ اس فن کو فروغ دیتے رہے ۔لیکن روایتی طور پر سب اپنی دکھ اور درد کو ہلکا کرنے کا ذریعہ غزل کو ہی تصور کر رکھا تھا ۔ اس کے برعکس مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے روایت کے خلاف جنگ چھیڑ دی جس میں انہوں نے  عورتوں سے بات کرنے کے بجائے  سماج کی باتیں کرڈالی۔خاص طور پر مسدس، مدوجزر اسلام لکھ کر انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی اور نئے امکان سے روشناس کیا۔انہیں کی وجہ سے اردو غزل  میں نئے رنگ و آہنگ پید اکیا۔ حالاں کہ ان کی غزلیات کا دیوان مختصر ہے لیکن تمام تر منتخبہ ہے۔ثبوت میں ان کی ایک غزل  ملاحظہ فرمائیں:

بُری اور بھلی سب گذرجائے گی؛یہ کشتی یوں ہی پار اُتر جائےگی

ملے گا نہ گُلچیں کر گُل پَتا؛ہر ایک پنکھڑی یوں بکھر جائےگی

رہیں گے نہ ملّا یہ دِن سَدا؛ کوئی دن میں گنگا اُتر جائے گی

بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ؛یہ عزّت تو جائے گی پر جائےگی

سنیں گے نہ حاؔلی کی کب تک صدا

یہی ایک دِن کام کر جائےگی

حالی ؔ کی غزل پیش کرنےکا مقصد یہ ہے کہ پچھلی صدیوں سے چلی آرہی روایت  سے ہٹ کر غزل گوئی کے ذریعہ اصلاحی معاشرہ کے کام کس طرح لینا ہے یہ ہم حالی سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم اس غزل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے ۔ پہلے شعر میں’ میرے احساسات اور میرے جذبات کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس دنیا میں کوئی میرا محرم یا رازداں نہیں ہے۔ میری زباں حال کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔ میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں۔ دوسرے شعر میں  ان کا خیال ہے  شاعر خود کو ایک ایسے طاکر سے تشبیہ دیتا ہے جسے چمن سے جد کر کے قفس میں بند کر دیا گیا ہے۔ وہ کوشش کرتاہے کہ کس طرح قفس میں جی بہل جائےکیوں کہ اب ایسی زندگی گزارنی ہے۔ لیکن آشیاں کی یاد اُسے بے چین رکھتی ہے۔ شاعر یاس کے عالم میں کہتا ہے کہ کوئی میرے آشیاں کو آگ لگادے۔ مجھے یقین ہوجائے گا کہ آشیاں جل چکا ہے تو پھر قفس کی زندگی چین سے گزرےگی۔

شاعر تیسرے شعر میں کہتاہے محبوب ‘ شاعر اشارے کنایہ میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو رقیب اور بو الہوس حسد کرتے ہیں۔ شاعر ایک پُر لطف طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ ان معمولی اشاراتِ نہاں میں کیا رکھاہے۔ بوالہوس بھی چاہیں تو اس قسم کی اشارہ بازی کرلیں ۔ مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ چوتھے شعر میں شاعر کہتا ہے میری داستانِ غم بڑی طویل ہے۔ جب سناؤں تفصیلات ذہن میں آتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ہر وقت ایک نئے عنوان کی کہانی سنارہا ہوں۔ کیا کیا جائے ۔ محبوب کے ظلم و ستم کی داستان میں اتنا تنوع ہے کہ میری داستان ہر وقت نئی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

پانچویں شعر میں شاعر کہاتا ہے۔ خدانے مجھے ایک درمند دل عطاکیا ہے۔جس میں اپنے اور انسانیت کے دُکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ یہ پُر درد دِل سیری زندگی کا بڑا سرمایہ ہے ۔ اس کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں ہمیشہ ایک ہیجان کارفرما ہوتا ہے ۔ خدانے مجھے فرصت دی تو میں اپنے دل درد مند سے کچھ کام لوں گا۔ اور انسانیت کے دُکھ اور آلام کو منظرِعام پر لاؤں گا۔شاعر غزل کے آخری شعر میں لکھتا ہے ۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ابھی دنیا میں ایسے پاکیزہ فطرت انسان موجود ہیں۔ پہلی نظر میں ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی انسان کی سیرت اور شخصیت  میں کیا باتیں چُھپی ہوئی ہیں۔ لیکن قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقع ہوتو کِسی غیر معمولی اور قابلِ قدر انسان کا جوہر ہم پر کُھل جاتا ہے۔ شاعر نے اس غز ل کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ  غزل صرف فحش یا لغو باتیں کرنے کا ہنر نہیں ہے نہ ہی عورتوں کے جسم کی ہرہر حرکت پر غورو خوص کا کام ہے۔ اس مختصر تعارف کے راقم نے مقالہ کے بنیادی مقصد کا احاطہ کچھ اس طرح کیاہے۔

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور سب سے جاندار صنف ہے۔ دوسری تمام شعری اصناف مختلف ادوار میں عروج و زوال کی دھوپ چھاؤں سے دو چار ہوئیں لیکن غزل کے آنگن میں ہمیشہ دھوپ ہی دھوپ کھلی رہی۔ غزل حقیقتاً ’’ اردو شاعری کی آبرو‘‘ ہے۔ غزل صنفِ سخن ہی نہیں معیارِ سخن بھی ہے۔‘‘[4]لفظ غزل کا ادبی مطلب محبوب سے گفتگو ہے۔تاریخ کی رو سے یہ عربی لفظ غزل سے بنا ہے۔ جس کے معنیٰ ہرن کے ہیں ۔جو عام فہم زبان میں غزل ایک ایسی پابند منظوم صنف ہے۔ جس میں سات۔نویا درجن بھر یکساں وزن اور بحر کے جملوں کے جوڑے ہوں۔ اس کا آغاز جس جوڑے سے ہوتا ہے وہ مطلع کہلاتا ہے اور اختتام کےجوڑے کو مقطع کہتے ہیں۔ جس میں شاعر اپنا تخلص یا نام استعمال کرتا ہے۔غزل کے شعر میں ہر جوڑے ہر انفرادی جملے کا یکساں دراز ہونا لازمی ہوتا ہے۔پابند جملوں کے یہ جوڑے شعر کہلاتے ہیں ۔ اردو میں شعر کی جمع اشعار کہلاتی ہے۔غزل کے بنیادی نظریہ اور تعریف کے مطابق اس کا ہر شعر اپنی جگہ ایک آزاد اور مکمل منظوم معنیٰ رکھتا ہے۔کسی بھی شعرکا خیال اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا چاہیے۔جن غزلوں میں ایک سے زائد اشعار ایک ہی مرکزی خیال کےلئے ہوتے ہیں ان کو نظم یا نظم نما غزل بھی کہا جا سکتا ہے۔

1.1غزل کا فن:

 اردو میں لفظ نظم کا واضح مطلب جملوں کے اختتام پر وزن اور صوتی اثر کا مساوی ہونا ہے۔غزل کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں آخری ایک دو یا زیادہ سے زیادہ تین الفاظ پوری غزل کا توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ غزل کے مطلع کا پہلہ مصرعہ بھی انہی الفاظ پر ختم ہونا چاہیے۔اسے غزل کا ردیف کہتے ہیں ردیف سے پہلے کا لفظ منظوم ہونا ضروری ہے۔ علامہ اخلاق حُسین دہلوی نے اپنی تصنیف ’فن شاعری‘ میں ردیف سے متعلق کہا ہے’’ ردیف کے بدلنے سے قافیے کی حیثیت بدل جاتی ہے اور ایک ہی قافیہ کئی طریق سے بندھ ہو سکتا ہے جس سے مضامین وسعت اور ارنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔ ردیف جتنی خوشگوار اور اچھوتی ہوتی ہے اتناہی ترنم اور موسیقی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘[5]قافیہ ہی غزل کی بنیادی ضرورت ہے۔[6]قافیہ غزل میں اس مقام پر آتا ہے جہاں موسیقی میں طبلے کی تھاپ دونوں میں تاخر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ردیف اور قافیہ دونوں بحر کی موج پر اُبھر تے ہیں۔ بحرکا انتخاب غزل گو شعوری طور پر نہیں کرتا، یہ جذبہ اور کیفیت سے متعین ہوتی ہے۔ غزل کا پہلا مصرع جذبے یا کیفیت کے ساتھ خود بخود ذہن سے گنگنا تا ہوا نکلتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ بحر معین ہو چکی ہے، قافیہ بھی معین ہو چکا ہے ، اور اگر ردیف ہے تو وہ بھی غزل کی ہئیت کا اس کے اسلوب پر بھی اثر پڑتا ہے۔ غزل کا اسلوب ایجازو اختصادر رمز و کنایہ‘مجاز، تمثیل، استعارہ و تشبیہ سے مرکب ہے اس لیے اس میں وہ تمام خوبیاں اور خامیاں ملتی ہیں جو سخنِ مختصر کی خصوصیات ہیں۔

غزل بنیادی طور پر ایک انفرادی فنکار انہ عمل ہے۔ لیکن اس کے جذبات کی عمومیت مسلّم ہے جو سرشت انسانی کی وحدت اور جبّلتوں کی یکسائی پر مبنی ہے۔ اور یہ عُمومیت ماضی ، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔[7]غزل کے فن سے متعلق  اختر سعید خاں کا خیال ہے’’ غزل کا فن نرم آنچ سے جلاپاتا ہے‘ بھڑکتے ہوئے شعلوں سے نہیں۔ قدیم غزل ہو یا جدید اس کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ وہ اشاروں اور کنایوں میں بات کرتی ہے‘اونچی آواز میں نہیں بولتی ‘اس ک اکمال گویائی برہنہ حرفی نہیں ‘پیام زیرلبی ہے۔ غزل کا فن نہ سینہ کوبی ہے نہ قہقہہ لگانا۔ وہ ایک آنسو ہے پلکوں پر ٹھہراہوا‘ایک تبسم ہونٹوں پر پھیلا ہوا۔ کبھی اس کے تبسم میں اشکوں کی نمی ہوتی ہے اور کبھی اشکوں میں تبسم کی جھلک۔‘‘[8] غزل کے فن سے متعلق لکھا ہے’’ غزل کا فن دراصل رمزیت اور ایمائیت کا فن ہے۔ دیگر اصنافِ سخن کے مقبلہ میں غزل اپنے فن کی اسی جاذبیت کی وجہ سے ممتاز رہی ہے۔ [9]غزل کی تبدیلیوں سے متعلق  حامد کا شمیری نے اپنی  تصنیف’ اردو تنقید (منتخب مقالات‘ میں الطاف حسین حالی کے نظریات پیش کیے ہیں۔ جس میں سب سے پہلے تخّیل  کا ذکر ہے جس میں سب مقدّم اور ضروری چیزہے۔ جو کہ شاعر کو غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے۔ اس کے بعد تخّیل کی تعریف کے تحت تخیل یا امیج نیشن کی تعریف کرنی بھی ایسی ہی مشکل ہے ۔جیسے کہ شعر کی تعریف اور اس کی وضاحت کی ہے۔ دوسری شرط کائنات کا مطالعہ بتا ہے ۔ جس میں اگر قوتِ متخیلہ اس حالت میں بھی جب کی شاعری کی معلومات کا دائرہ نہایت تنگ اور محدود ہوا سی معمولی ذخیرہ سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتے ہیں۔لیکن شاعری میں کمال فطرتِ انسانی کا ’مطالعہ‘ نہایت غور سے کیا جائے۔ تیسری شرط تلفظ الفاظ کی بیان کی گئی ہے۔ جس میں کائنات کے مطالعہ کی عادت ڈالنے کے بعد دوسرا نہایت ضروری مطالعہ یا تفحص ان الفاظ کا ہے جن کے ذریعہ سے خاطب کو اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کرنے ہیں۔ دوسرا مطالعہ بھی ویا ہی ضروری اور اہم جیسا کہ پہلا۔ان اصولوں سے متعلق چند ضروری باتیں ہیں جن کا خیال رکھانا چاہیے۔

’’ شعر کے وقت ضروری ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اوّل خیالات کو صبر و تحّمل کے ساتھ الفاظ کا لباس پہنانا پھر ان کو جانچنا اور تولنا اور ادائے معنی کے لحاط سے ان میں جو قصور رہ جائے اس کو رفع کرنا۔ الفاظ کو ایسی ترتیب سے منظم کرنا کہ صورۃ اگر چہ نثر سے متمیز ہو مگر معنی اسی قدر ادا کرے جیسے کہ نثر میں ادا ہو سکتے۔ شاعر بشر طیکہ شاعر ہو اول تو وہ ان باتوں کا لحاظ وقت پر ضرورکرتا ہے اور اگر کسی وجہ سے بالفعل اس کو زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر جب کبھی وہ اپنے کلام کو اطمینان کے وقت دیکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اثر بڑے بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ پایا جاتا ہے۔‘‘[10]

ڈاکٹر یوسف حسین خاں نے مشرقی میں المیہ کی معنویت کی وضاحت غزل کی روح سے کیا ہے۔کیوں کے غزل کے جذبہٗ غم کو مغربی ادب کی ٹریجیڈی (المیہ) کے مساوی قراردیا ہے۔کیوں کہ لفظ غزل کے ایک معنی اس دل گداز چیخ کے ہیں جو شکاری کے طویل تعاقب، اس کے خوف اور تھکن سے گرپڑنے والے ہرن کے حلق سے نکلتی ہے۔ جس کی تاثیر سے شکاری کتا ہرن کو پاکر بھی اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔[11]

گویا خُز نیہ لَے اور المیہ غزل کی ہئیت ترکیبی میں شامل ہے۔ غزل کے تمام بڑے اور قابلِ ذکر شاعروں نے کسی نہ کسی رنگ میں المیہ احساسات کی ترجمانی ضروری کی ہے۔اگر چہ ایسی غزلوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی ، جنہوں کلی طور پر المیہ کہا جاسکے(مولانا روم کا دیوان شمس تبریز اس سے مستثنیٰ ہے۔ جس کی زیادہ تر غزلیں حزنیہ اور المیہ ہیں) کلی طور پر ’ طربیہ غزل‘ بھی شاید ہی کسی بڑے غزل گو کافنی مطمح نظر رہا ہے۔ غزل کے شاعر کو روایتاً ہی سہی غم کا بیان ضرور کرنا پڑ تا ہے۔ اسی لیے رنج و الم کے جذبات و احساسات کو جو نسبت صنف غزل سے ہے کسی اور صنف شاعری سے نہیں۔ اردو غزل کا فکری و فنی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل میں المیہ مواد اور الم پسندی کی طویل روایت کے چار نمایاں اسباب ہیں۔

  1. ہیئتی توارث
  2. فارسی غزل کی فکری ، جذباتی اور جمالیات تشکیل کے تاریخی اسباب
  3. تصوف کی روایت کے حزنیہ عناصر
  4. اُردو غزل اور اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پس منظر[12]

عربی لفظ غزل کے معنی عورتوں سے حسن و عشق کی باتیں کرنا ہے۔ غالباً اردو، فارسی اور عربی کے سبھی لغات کے یہی معنی نکلتے ہیں۔ البتہ تغزل یا غزلیت یعنی’ ایک خاص انداز کا باوقار اور سنجیدہ گداز، جو عشق کی خاص پہچان ہے۔ لغوی اعتبار سے یہ صنف حسن و عشق کی واردات و کیفیات اور معاملات کا ذریعہ اظہار ہے۔[13]غزل اردو فارسی میں ایک صنف، جس کے اشعار کی تعداد مقرر ہوتی ہے اور جسے عموماً ساز کے ساتھ گایا جاتا ہے[14] منجملہ فارسی غزل اگر چہ اپنی موجودہ ہئیت کے اعتبار سے عربی قصیدے کی تشبیب ہی کی قلم ہے ۔ ہندوستان میں عربی گو شعراء میں سب سے پہلا نام مسعود سعد سلمان کانام آتا ہے۔ جو فارسی کے علاوہ عربی اور ہندی میں بھی شعر کہتے تھے۔ ان کے بعد امیر خسرو ہیں جو فارسی کے سب سے بڑے غزل گو شاعر ہیں ۔ انہوں نے عربی بھی شعر کہے ہیں ان کے علاوہ قابلِ ذکر عربی شعراء میں نصیرالدین چراغ دہلی، قاضی عبدالمقتدر ، احمد تھا نیری، شاہ احمد شریفی ، سید عبدالجلیل بلگرامی، شاہ ولی اللہ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم اور بیٹے عبدالعزیز و رفیع الدین نیز محمد باقر مدراسی کے نام شامل ہیں۔[15] کیوں کہ ایران میں غزل عام تھی ۔اس کی نشو ونما کے لئے تاریخی اور نفسیاتی اسباب و عوامل پہلے سے موجود تھے۔

فارسی غزل کا اولین شاعر شہید بلخی کو تسلیم کیا جاتا ہے جس کا زمانہ چوتھی صدی ہجری ہے البتہ غزل کو ترقی رود کی اور عنصری نے دی لیکن محبت، محبوب اور شراب کی مثلث کو کثیر الاضلاع بنانے میں سنائی اور دوسرے صوفی شعراء نے بھر پور کردار ادا کیا۔[16]یہی دیگر دانشوروں کا ہے  اردو غزل کے تاریخی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صنف اُردو میں فارسی شعرو ادب کے اثر سے آئی اور فارسی میں عربی قصیدے کی تشبیب سے الگ ہو کر وجود پذیر ہوئی۔ علامہ شبلی نعمانی کے خیال کے مطابق یہ بار بار لکھا جا چکا ہے کہ ایران میں شاری کی ابتدا قصیدہ سے ہوئی اور ابتداء میں غزل جو طبع سے نہیں ، بلکہ اقسام شاعری کے پوراکرنے کی غرض سے وجود میں آئی ۔ قصیدہ کی ابتداء میں عشقیہ شعر کہنے کا دستور تھا، اس حصے کو الگ کر لیا تو غزل بن گئی ، گو یا قصیدہ کے درخت سے ایک قلم لے کر الگ لگالیا۔[17]متذکرہ مباحث کی روشنی میں ہم کہے سکتے ہیں کہ اردو غزل فارسی سے نمودار ہوئی ہے لیکن خورشد الاسلام نے اپنی تصنیف ’اردو ادب آزادی کے بعد‘ میں اس کے برعکس لکھا ہے:

’’ اردو غزل کی تاریخ کو میں اردو زبان کے باقاعدہ رواج پانے کی تاریخ سے قدیم تر سمجھتا ہوں۔ بظاہر یہ بات ناقابل فہم معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ اردو زبان سے پہلے اردو غزل کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں غزل کے اس فکری و جذباتی سر مائے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو زبان سے علیحدہ کر کے دیکھاجا سکتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے کسی جگہ غالب کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اردو غزل کے نسب نامے کو ولی سے آگے بڑھا کر رودکی تک پہنچا دیا۔ غالب سے رود کی ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے جو اچھے خاصے رشتوں کو دھندلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ لیکن سولہویں صدی عیسوی کے آغاز تک یہ رشتہ ہمیں زیادہ واضح نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے فارسی غزل زیادہ تر ایران کی چیز تھی اس میں سعدی و حافظ کی روشنی تو تھی لیکن صناعی ونازک خیالی کے وہ تکلفات نہ تھے جو اسے ہندوستانی بنا کر اردوغزل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ سولہویں صدی میں کسی حدتک دبستان ہرات کے زیر اثر تازہ گوئی کی ایک انجمن قائم ہوئی جس کی قیادت فیضیؔ و عرفیؔ کرتے تھے۔ اسی کے تحت ان علایم و رموز اور مخصوص اسالیب بیان کو فروغ ہوا جنہوں نے اکبر سے شاہجہاں تک فارسی غزل میں ایہام ، معاملہ بندی، شوخی بیان اور مبالغہ آرائی کو بڑھاوا دیا جو آگے چل کر اردو غزل کی بنیادی خصوصیات قرار پائیں۔‘‘[18]

این کارٹا ڈکشنری میں بھی غزل کو گیت کی غنائی ہیئت کے معنی ہیں۔جو عربی ، فارسی یا اردو کی سریلی نظم قرار دیا ہے۔[19] غزل کے اجزا ئے ترکیب یہ ہیں ۔ پہلا مطلع دوسرا ردیف تیسرا قافیہ چوتھا مقطع اور پانچویں بحر ہوتی ہے۔ اس ترکیب سے غزل میں فنی  عناصر پیدا ہوتے ہیں۔ ہئیت کے نقطہ نظر سے بحر اور قافیہ غزل کے محور ہیں۔ ردیف ایک مزید بندش ہے جسے اردو شاعر اکثر اپنے اورپر عائد کرلیتا ہے۔ اس سے اچھے اور بُرے نتائج مرتب ہوتے ہین۔ غزلیں غیر مُردَّف بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اردو کی بیشتر غزلیں مردَّف ہیں۔ ردیف کے الفاظ فعل بھی ہوسکتے ہیں جیسے’’ ہے‘‘،’’ہیں‘‘یا’’ کھینچ‘‘۔

ع نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ

اور حروف اور اسم بھی جیسے’’ پر ‘‘ نہیں‘‘، ’’شمع‘‘ اور ’’نمک‘‘

عکیا مزا ہوتا اگر پتّھر میں بھی ہوتا نمک(غاؔلب)

غزل کے پاؤں میں ردیف یا جھانجھن کا حکم رکھتی ہے۔ یہ اس کو موسیقیت ،ترنّم اور موزونیت کو بڑھاتی ہے۔ دوسری طرف اس کے تنِ نازک کو گراں باریِ زنجیر کا احساس بھی دلاتی ہے۔ فنی لحاظ سے ردیف کی چولیں سب سے پہلے قافیے کو بٹھانی پڑتی ہیں۔[20] غزل کے فنی لوازمات پر وفیسر عنوان چشتی نے چند اصول بیان کیے ہیں۔

’’ غزل کا رجحان بنیاد ی طور پر عربی و فارسی شعریات پر ہے۔ یہ اصول ،علم لغت، علم بیان اور عروض و قافیہ سے ماخوذ ہے، علم قواعد، علم بدی،جنہیں استاذہ نے ’’معائبِ سخن‘‘ اور ’’محاسنِ سخن‘‘کا نام دیا ہے۔ وہ نقائص، جو شعری ہئیت کے حسن کو مجروح کرتے ہیں، ’’ معائبِ سخن‘‘ میں شامل ہے۔اور خوبیاں جو ہئیت کے جمال میں اضافہ کرتی ہیں،’’ محاسنِ سخن‘‘ کہلاتی ہے۔’’معائبِ سخن‘‘ میں ایوبِ خوافی ، ایوبِ بحر، ایوبِ زبان اور دیگر نقائص ہئیت شامل ہے۔ ایوبِ خوافی میں ایطا، اکفا، اقوا، صناد وغیرہ شامل ہے۔ان کے علاوہ غُلو تعدی، تفمین، تغیّر، معمولہ، تعریف اور اختلافِ حرفی روی پر بھی اس نقطہ نظر سے سوالیا نشان قائم کیا جاتا ہے۔ اس نظم قوافی میں ہر فِ روی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے انگریزی کی طرح اردو میں قطّیٰ، بسری اور صوتی قوافی کی گنجائش نہیں۔جن شاعروں نے صوتی قوافی (میراث اور احساس) بڑھتے ہیں۔ انہیں زیادہ سے زیادہ ایک تجربے کا نام دیا جاتا ہے۔ ایوبِ بحر میں حرف صحیح کا سقوط اور عربی اور فارسی الفاظ کے حروف ِعلت کا سقوط شامل ہے۔ بعض بحروں میں شکستِ نارو اوارد ہوتا ہے۔ داغ ؔ اسکو کے اکثر استاذہ نے اس کو عیب گردانا ہے۔ لیکن بعض شعرا شکست ناروا اور عربی و فارسی کے حروف علت کے سقوط کو روا رکھتے ہیں۔ مگر اکثریت ان صورتوں سے اجتناب کرتی ہے۔ چوں کہ غزل کا سانچا عروضی نقطہ نظر سے زیادہ لچک دار نہیں ہے ۔ اس لیے اوزان و بحُور کے نقطہ نظر سے ذرا سی بے اعتدالی بھی بہت زیادہ کھٹکتی ہے۔‘‘[21]

اردو غزل ہمیشہ فارسی شاعری کی مقلد رہی ۔اس کی وضاحت ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی نے اس طرح کی ہے کہ شعر و شاعری کا عموماً اور ایشیائی شاعری کا خصوصاً عشق و محبت کے جذبات و احساسات سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ۔ ہماری اردو شاعری سراسر فارسی شاعری کی متبع ہے اپنے ابتدائی حالات میں عشق و محبت و معشوق و دیگر لوازمات عاشقی کے وہی سانچے وہی تصورات اور وہی معیار رکھتی ہے جو ایران میں اس وقت رائج تھے ۔[22] اسی طرح محمد یعقوب آسی نے غزل کی تعریف  کچھ اس طرح بیان کی ہے۔لفظ ’غزل‘ کے معنی کے لحاظ سے اور اس کے موضوعات کے حوالے سے ’غزل‘ کو جو کچھ کہا جاتا رہا، اس تفصیل کا اجمال کچھ اس طرح ہے:

  1. عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کی سی باتیں کرنا، جسے ریختی بھی کہا جاتا ہے۔
  2. ہرن (غزال) جب زخم خوردہ ہو تو جو آواز وہ شدتِ خوف اور شدتِ درد کے عالم میں نکالتا ہے اسے بھی غزل کہتے ہیں۔ اس حوالے سے درد و الم کے بیان کو غزل کا موضوع کہا جاتا ہے۔
  3. محبوب کا شکوہ، اس کے لئے اپنے جذبے اور وارفتگی کا بیان، اس کی بے اعتنائی کا احوال غزل کا محبوب موضوع رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ محبوب حقیقی بھی ہو سکتا ہے، مجازی بھی، خیالی بھی اور بعض شعرا کے ہاں اپنی ذات محبوب کا درجہ رکھتی ہے۔
  4. دوستوں اور زمانہ کی شکایت، اپنے ذاتی، اجتماعی یا گروہی رنج و الم کا بیان۔
  5. اپنے گرد و پیش کے مسائل کا بیان اور ذاتی تجربات اور مشاہدات کا قصہ، ارادوں کا اظہار اور ان کے ٹوٹنے پر دکھ کی کیفیت۔
  6. گل و بلبل، جام و مینا، لب و عارض کا بیان۔ خیال آفرینی، معنی آفرینی اور حسنِ بیان۔

 غزل کے ڈھانچے کی تعمیر کے ان متعدد طریقوں میں ایک ہے جن کا ہم ذکر کرچکے ہیں۔وہی غزل جس کے مختلف اشعار کے موضوعات میں ظاہر ی ربط تو نہیں ہوتا لیکن غزل کی داخلی و حدت کو محسوس کیاجا سکتا ہے۔ کائنات ِ اصغر سے لے کر عالم اکبر تک اور انفرادی سے لے کر عالم گیر تجربے تک وجود کی مختلف سطحوں کے بدلنے کے عمل میں ہمیں غزل کے ادراکِ کائنات کے طریقہ کار کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔[23] بقول پروفیسر رشید احمد صدیقی: ’’ہماری تہذیب غزل میں اور غزل ہماری تہذیب کے سانچے میں ڈھلی ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے رنگ و آہنگ، سمت و رفتار اور وزن اور وقار ملا ہے ‘‘۔ فراق گورکھپوری کے بقول ’’اردو غزل کا عاشق اپنے محبوب کو اپنی آنکھوں سے نہیں اپنی تہذیب کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ‘‘[24]۔ اس سلسلہ کی کڑی کو احمد ندیم قاسمی نے ایک شعر سے جوڑا ہے :

غزل کے روپ میں تہذیب گا رہی ہے ندیم؛مرا کمال مرے فن کے اس رچاؤ میں تھا

اردو غزل کی بدلتی ہئیت اور اس وقت کی تہذیبی معنویت کو فراق گورکھپوری نے نہ صرف سمجھا بلکہ انہوں نے ہندوستانی تہذیب کو غزل کا حصہ بنا یا ثبوت میں خود انہوں نے۲۰ اکتوبر ۱۹۴ء کو ایک ا نٹرویو میں ڈاکٹر شمیم حنفی سے کہا اپنی غزل گوئی سے متعلق  کہا:

’’ ۲۰ ہزار کے قریب اشعار اپنی غزل  میں کہے ہیں۔ ان کے نزدیک گھر خیر و برکت کا مرکز ہے گھر صرف جسم کا نہیں بلکہ روح کا گہوارہ ہے۔ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ۔ ان سے گھر کا مقام کہیں بلند ہے تو میری غزلوں میں جو روح گردش کر رہی ہے ان سے جو فضاپیدا ہو ئی ہے جو راحت اور طمانیت گھر کے تصور میں ہے۔ ان تمام محرکات کو میں نے اپنی غزلوں میں جاری و ساری کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کام آسان نہیں تھا۔ مجھے اپنی غزلوں کو مغائرت یا غیرتیں،بیرونیت اور خارجیت سے بھی بچا نا تھا اور بیمار قسم کی داخلیت سے بھی۔مجھے اپنی غزلوں میں ایک سہانے پن پیدا کرنا تھا جو نور کے تڑکے میں ہوتا ہے۔ سکوت نیم شبی میں ہوتا ہے، فطرت کے پس منظر اور پیش منظر ، گھر اور گھریلو زندگی میں ہوتا ہے اور جنسی زندگی کے ایسے شعور میں ہوتاہے جو ہندوستانی ثقافت کے پیدا کردہ مرد و زن کے باہمی تعلقات میں زندہ جاوید کر دیا گیا ہے۔‘‘[25]

 فراق کی غزلوں کی معنویت کا اندازہ  ان کی  اردو غزل سے لگا یا جاسکتا ہے کہ انہوں نے غزل کو اپنی روایت سے وابستہ کرنے کی کوشش میں مخلوط اور مشترکہ ثقافتی اقدار سے ہمیں اسرِ نو روشناس کریا ہے۔ خاص طور سے ہندوستانی اساطیر کا وہ فلسفیانہ پہلو جس سے اردو غزل اس وقت تک تہی پہلو تھی۔ ہندو دھرم میں عشق کا جو کرشنائی روپ ہے اس کا وہ تکلم، اس کا وہ لب و لہجہ فراق کی وساطت سے اردو غزل میں تخلیقی سطح پر اسرِ نو دریافت ہوا ہے:

یہ کہاں سے بزم خیال میں امڈ آئیں چہروں کی ندیاں؛کوئی ہ چکاں، کوئی خونفشاں، کوئی زہرہ وش ، کوئی شعلہ رو

کرش تا سقراط کوئی کس کس کا نام گنائے؛کیا کیا قیدی دیکھے اے دنیا تیرے زندنوں نے

حسن و محبت آپ اپنی توہین ہیں اگر معصوم نہ ہوں؛تھوڑی دیر کو بھولے بن لیں، ہم بھی سیانے تم بھی سیانے

ان اشعار کی روشنی میں پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ فراق کی شاعری بنیادی طور پر معنویت ، احساس اور نغمگی کی تثلیت سے تشکیل پاتی ہے۔ ان کی غزلوں میں روایت کی پاسداری بھی ہے اور اس سے انحراف اور اضافہ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ نئے نئے استعارات، نئی تشبیہات اور نئی نئی پیکر تراشیوں سے مزین اور مملو ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی غزلوں میں غنائیت اور نغمگی کا احساس کوبہ کوبہ ملتا ہے۔ [26] وقت کے ساتھ ساتھ غزل کی ہئیت میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہو رہی تھی اسی صورت میں اصغر نے  غور و خوص کیا  ۔ وہ سمجھتے ہیں غزل مطرود، مردود اور معون  ہو رہی تھی اسے نیم وحشی صنف سخن اور گردن زندنی قراردیا جا رہا تھا تو ایسے حالات پر  اصغر کا خیال ہے۔’’غزل شاعری کی اعلیٰ ترین صنف ہے۔ لیکن اس وقت جب کہ شاعر کی فطرت اس کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہو۔ ورنہ غزل سے زیادہ لفظی گرہ بازیوں اور سطحی ہرزہ سرائیوں کا موقع کس اور صنف شاعری میں نہیں۔‘‘ ۷۴ اس کے علاوہ ان کا عقیدہ یہ تھا’’ فن کی ترقی تقسیم عمل سے ہے۔ شمس الرحمٰن فارقی نے کلاسیکی اردو غزل کے وجود کے بنیادی تصورات یہ ضبط کیے ہیں۔

علمیاتی تصورات وجود یاتی تصورات

مضمون آفرینیبامعنی لفظ (یا مضمون)

معنی آفرینیوزن و بحر

خیال بندی وزن و بحر

کیفیت

شو انگیزیربط[27]

اگر شعر ان تصورات پر قائم نہ کیا جائےتو شعر وجود میں آنا مشکل ہے۔جب تک مختلف شعبوں میں اختصاصین کی جماعتیں نہ ہوں‘ اس وقت تک فن کی تکمیل نہیں ہو سکتی‘‘[28] متذکرہ معلومات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصغر غزل کو شاعری کی آبرو سمجھا  اور اس کی نزاکت احساس، لطافت جذبات، رنگینی تخیل کو حسین ترین مرقع تسلیم کیا ہے ۔ اسی لیے ان کی غزل گوئی میں بنیادی خوصوصیات، اشارات و کنایات معنویت و لطافت، علوو شائستگی ، متانت وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔

اصغر کی نظر میں شاعر کا نام موضوع حسن اور غزل کا عشق ہے۔’ شاعری کا عام موضوع حسن۔ ارباب فقر و تصوف کے نزدیک اس کامفہوم نہایت وسیع ہے۔ جس میں مجاز و حقیقت ، اخلاقی اور مادی حسن کی تمام ادائیں داخل ہیں[29]انک ا مزید خیال ہے ’ غزل کا عام موضوع عشق و محبت اور شوق و طلب کی داستان ہے۔[30]روح انسانی ایک جوہر لطیف ہے۔ خدا کے ساتھ انقیاد و محبت اس کا خاصہ ازلی ہے اس جد عنصری میں پہنچ کر اپنی دیرینہ عظمت کی تلاش ایک تقاضائے فطری ہے۔[31]

  1. غزل کی بدلتی ہئیت:

ہیئت کےآکسفورڈ انگلش ۔انگلش ۔اردو میں معنی کسی شے یا طریقہٗ کار کی خاص شکل صورت ، وضع، ترتیب اعضاوا اجرا‘ اور مخصوص شکل اختیار کرنا یا بنانا، مخصوص ڈھانچہ بنانا‘ہدائیت شدہ ہئیت ہونا، جیسا بتایا گیاہے۔[32] اس کے علاوہ دیگر لغات میں  معانی کچھ اس طرح ہے۔شکل۔ صورت ۔ وضع۔ تراش۔ ڈھنگ ۔ انتظام۔ نظم و نسق۔بندوبست ۔ دستور۔ ضابطہ۔ ریتی۔ بدھی۔ مرجاد۔ قاعدہ۔ کورا نقشہ ۔ظاہر داری۔ دنیا دکھاوا۔ رسم ۔خوبصورتی۔ نمایش۔ پاکیزگی۔ حسن۔ سندر تائی۔ روپ۔ دھج۔ سجاوٹ ۔شکل۔ خیالی صورت ۔ سانچا۔ قالب۔ نمونہ ۔ لمبی تپائی بغیر تکیے کے۔ ایک لمبا تختہ۔ درجہ۔ رتبہ۔ مرتبہ ۔خرگوش کی خواب گاہ ۔کتاب کی صورت میں چھپا ہوا جز۔ فرما ۔بنانا۔ گھڑنا۔ ساخت کرنا۔ پیدا کرنا ۔ ڈھالنا۔ صورت بنانا۔ شکل یا ڈول بنانا۔ ڈول ڈالنا۔ صورت دینا۔ سدھارنا۔ سنوارنا۔ مرتب کرنا۔ سجانا۔ سریانا۔ آراستہ کرنا ۔ سکھانا۔ تعلیم دینا۔ تربیت دینا۔ سدھانا۔ درست کرنا ۔حالت، صورت اور ساخت کے ہیں۔ بالخصوص فرہنگِ آصفیہ اور نور اللغات میں لفظ ہیئت معانی اس طرح ہیں۔صورت، شکل، چہرہ مہرہ،ڈول، ساخت، بناوٹ، دھج حال، حالت، کیفیت، ڈھنگ، طور، طریق کے ہیں۔

انگریزی ادبیات میں ہیئت کے لیے Form کا لفظ مستعمل ہے، یہاں یہ کہنا بے موقع نہیں ہے کہ انگریزی میں Form کا لفظ جہاں ہیئت کے لیے برتا جاتا ہے وہاں صنف کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، مغربی تنقید نگاروں کے ہاں یہ لفظ بالعموم اسی دوہری معنویت کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ مروجہ اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے صنف اور ہیئت ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں، صنف کا تعلق کسی فن پارے کے مواد اور موضوع سے ہے جب کہ ہیئت کسی تخلیق کے ظاہری ڈھانچے اور صورت کا نام ہے۔ اس کے بر عکس غزل کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں اس کا ظاہری ڈھانچہ جلوہ گر ہونے لگتا ہے اور اس کے ہیئتی خد و خال (جیسے مطلع، مقطع، ردیف، قافیہ وغیرہ) ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس اعتبار سے غزل کو ہیئت کہنا زیادہ مناسب ہے۔[33]اس ضمن میں شمیم احمد نے غزل کو “ہیئتی صنف” قرار دیا ہے:

’’شعری ہیئتوں کی شناخت کوئی بڑا مسئلہ نہیں، اس لیے کہ ان کی شناخت بہت حد تک ظاہری صورت سے متعلق ہوتی ہے۔ لیکن صنفِ سخن کی شناخت میں تھوڑی بہت پیچیدگی ضرور ہے کیوں کہ بعض اصناف کی شناخت ہیئتی اصولوں پر منحصر ہوتی ہے بعض موضوع سے پہچانی جاتی ہیں، بعض دونوں پر اپنی شناخت کا دارومدار رکھتی ہیں۔ بعض موضوع و ہیئت دونوں میں سے کسی پر اپنی شناخت کا انحصار نہیں کرتیں۔ بعض ایسی اصناف ہیں جو محض کسی وزن (اوزان) ہی کی وجہ سے اپنی صنفی شناخت قائم کرتی ہیں۔‘‘[34]

اس سے قبل کہ ہیئت کی اصطلاحی معنویت کا تعین کرتے ہوئے اس کے خد و خال کا جائزہ لیا جائے، مناسب ہو گا کہ Formکے لغوی معانی پر ایک نظر ڈالی جائے۔[35]ہیئت ایک ایسی کثیر المعنی اور ہشت پہلو ادبی اصطلاح ہے۔ جس کے معنی و مفہوم کی واضح اور حتمی حدود مقرر نہیں کی جا سکتیں۔ ہیئت اپنے محدود اصطلاحی مفہوم کے مطابق ایک ایسا پیمانہ یا سانچا ہے جسے فن کار اپنے جذبات اور خیالات کی تشکیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔لیکن وسیع تر مفہوم میں ہیئت، تکنیک اور اسلوب کو بھی محیط ہے۔ دانشوروں کے یہاں ہیئت کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے اور شاید اسی لیے محمد حسن عسکری نے ہیئت کو” فریبِ نظر” اور ڈاکٹر شوکت سبزواری نے ہیئت کے مفہوم کو کثرتِ تعبیر کے باعث خوابِ پریشاں قرار دیا ہے۔ ذیل میں ہیئت کی چند ایسی تعریفیں پیش کی جاتی ہیں جو اس کے محدود اور وسیع اصطلاحی مفاہیم کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اس ضمن میں حفیظ صدیقی نے کہا ہے:

’’کسی نظم کا وہ خارجی پیکر جو نظامِ قوافی، مصرعوں یا بندوں کی تعداد، مصرعوں کے طول کی یک سانیت یا عدم یک سانیت، کسی مصرعے یا شعر کی تکرار اور کسی وزنِ خاص کی شرط وغیرہ سے معین ہوتا ہے۔” ان کے خیال کو اتفاق کرتے ہوئے عارف عبد المتین نے لکھا ہے ’’(ہیئت) ابلاغ کی وہ مخصوص طرز ہے جسے ہم اپنے مذکورہ مقصد [خیال بہ شمول جذبے کی ترسیل] کے حصول کے لیے برتتے ہیں اور واضح ہے کہ اس میں اظہاری سانچے کے طور پر خاص صنفِ ادب کا انتخاب، اس کے لیے مناسب الفاظ کا چناؤ، احسن تکنیک کی تجویز اور منفرد اسلوب کی تعیین کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔” ،’’ہیئت سے مراد وہ سب ذرائع ہیں جن سے مصنف کے جذبات یا جذبیلے افکار قارئین تک پہنچائے جاتے ہیں۔‘‘

شعری ہیئت مخصوص طرزِ اظہار ہوتا ہے۔ جس کی قابلِ شناخت ظاہری شکل بھی ہوتی ہے۔ جو کسی خاص نظام کے تحت تشکیل پاتی ہے۔ کیوں کہ شعری ہیئت کی تشکیل کا نظام یا تو قوافی کی کسی ترتیب میں ہوتا ہے جیسے غزل کے تمام ثانی مصرعوں کا ہم قافیہ ہونا یا پھر اس پر مبنی ہو گا یا ابیات مثنوی میں ہر دو مصرعوں کا ہم قافیہ ہونا۔یا مصرعوں کی تعداد مسمط کی مختلف شکلیں میں ظاہر ہونا۔جوقوافی کی نفی (نظمِ معریٰ) یا مصرعوں کے ارکان میں کمی بیشی (آزاد نظم) سے ترتیب پائے گا۔ اسے مختصراً ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر شعری ہیئت قابلِ شناخت ظاہری شکل ضرور رکھتی ہے۔جسے دیکھتے ہی پہچان لیا جا سکتا ہےکہ یہ فلاں ہیئت ہے۔‘‘[36]

ہیئت کی متذکرہ بالا معنوی توضیحات کے وسیع مطالعے سے دانشوروں کے باہمی اختلاف کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کیوں کہ ان کے بنیادی اسبابِ ہیئت کی حدود کی عدم تعیین ہے۔ محققین نے ہیئت کے دائرے میں تکنیک، آہنگ، لفظیات اور دیگر محسناتِ کلام کو شامل کر کے اسے ایک پیچیدہ اور خطر ناک حد تک ناقابلِ گرفت اصطلاح بنا دیا ہے۔ بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ تکنیک، آہنگ اور لفظیات وغیرہ ہیئت کے ساتھ ایک لطیف ربط رکھتے ہیں ۔اسی  وجہ ہے کہ ہیئت کی کوئی جامع تعریف قائم کرنا مشکل ہے۔اس سلسلہ میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے کہا ہے’’تجربہ جب اظہار کے قالب میں ڈھلتا ہے تو عموماً اپنی ہیئت، وزن۔ آہنگ اور صورت خود اپنے ساتھ لاتا ہے، لیکن اس صناعی میں شاعر کے شعور کو بھی دخل ہوتا ہے اور یہیں سے قصد کی سرحد شروع ہو جاتی ہے۔‘‘[37]اس کے برعکس ایک دوسرا نقطۂ نظر یہ پیش کر تے ہیں  ہیئتیں معروضات میں موجود ہوتی ہیں جسےتخلیق کا ر اپنی پسند یا ضرورت کے مطابق استعمال کر تا ہے۔ جس سے آلائشوں اور غیر متعلق و غیر اہم عناصر سے پاک ہئیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے لیٹریچر کی ہئیتی صفائی اور تازگی کے باعث دل پذیری اور رعنائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ کیوں کہ فن کا ر پہلے سوچتا ہے پھر اظہار کے لیے خاص ہیئت تلاش کرتا ہے۔ متذکرہ ہیئت  اسی طرح تسلیم کربھی لیا جائے تو ہیئتوں کا شمار ممکن نہیں رہتا اور نہ ہی ہیئت کے تجربات کی تخصیصی صورت کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ تخلیق کار شعوری طور پر ہیئت تلاشتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق اس میں ترمیم و اضافہ کرتا ہے۔اس ضمن میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر غیاث الدین فاروقی نے لکھا ہے’’غزل اپنی نمود اول سے تاحال حسن و عشق کا محور رہی ہے ، نقادوں کی بے رحمیوں اور زمانے کی چیزہ دستیوں کے باوجود غزل کی محبوبیت ومجازیت زندہ و تابندہ ہے، جذبہ عشق کی پر اسراریت کے لیے غزل کا ایمائی و اشارتی اسلوب ہی موزوں ہے، دل کے زخموں کی جراحت غزل ہی میں چمن کھلاسکتی ہے۔[38]لیکن اس کے برعکس مولانا شبلی نعمانی نے ’شعر العجم‘‘ جلد پنجم کے صفحہ۶۵ میں خیال بندی کے سلسلے میں ایک معرکہ آرا بات کہی کہ اس کی وجہ سے عشقیہ شاعری کو ’نقصان‘ پہنچا۔ در اصل میں خیال بندی غزل کے میدان کا وسیع  فن ہے۔ لیکن شبلی اس تصور کے خلاف تھے۔ شبلی اس بات کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ اس طرز نے شاعری نے ترقی پیدا کرکی۔

’’ فغانی کے سلسلے میں رفتہ رفتہ خیال بندی، مضمون آفرینی، وقت پسندی پیدا ہوئی۔ اس کی ابتدا عرفی نے کی ۔ ظہوری، جلال اسیر، طالب آملی، کلیم وغیرہ نے اس طرز کو ترقی دی، اور یہی طرز مقبول ہو کر تمام دنیا ئے شاعری پر چھاگیا۔ ۔۔ اس انقلاب نے اگرچہ غزل کو سخت نقصان پہنچایا۔ کیوں کہ غزل اصل میں عشقیہ جذبات کا نام ہے، اور اس طرز میں عشقیہ جذبات بالکل فنا ہوگئے، لیکن شاعری کوفی نفسہ ترقی ہوئی، عرفی نے نہایت بلند فلسفیانہ مسائل ادا کئے ۔ کلیم اور صائب نے تخیل کو بے انتہا ترقی دی۔ بعض شعرا نے اخلاق و موعظت کو نہایت خوبی سے ادا کیا۔‘‘[39]

یہ در اصل میں ہندوستانی اردو غزل گو شعراء سے متعلق تعصب ہے وہ غالب کا نام نہیں لیتے، اور خیال بندی کے تحت ہندوتانیوں کا کہیں کہیں ذکر بھی کرتے ہیں تو بیدل اور ناصر کے آگے شاز ہی جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے ہندوستانی معاشرہ میں غالب کے کلام کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اردو غزل کو تقریباً گردن زدنی قراردینے کے بعد دلّی اور لکھنئو کے دبستانوں کی چھان پھٹک کے نتیجے میں جو فضابن رہی تھی اس میں غزل پر اصرار کرنا خود کو خطرے میں ڈالنے کے متردادف تھا۔[40] ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اردو غزل کی جہاں گردن ماردینے کو جا رہا تھا وہیں دکنی شعراء نے اس میں معانی افرینی ،نئی طرز احساس اور  تہذیبی اور اخلاقی اقدار  اس میں ڈال کر ایک نئی غزل کو اعجاد کیا۔ اسی لیے سر زمیں دکن کو یہ فخر ہے کہ یہ غزل کی پرورش میں محمد قلی قطب کے بعد اپنے اپنے طور پر اس کی حفاظت کر تے رہے۔ اسی لیے عادل شاہی حکمراں اور مغل شاہی حکمراں نے بھی اس ترقی و ترویج میں ہر ممکن معاون و مدد گار بنتے رہے۔لیکن دکنی شعراء کے کلام کی خاص  معنویت یہ رہی کہ وہ وقت اور حالات کے تقاضوں کے ساتھ رہے اور وہی  تبدیلیاں کرنا پسند کیا جو سماج کی ضرورت تھی۔ویسے بھی کسی بھی فن پارے کے مطالعہ کے وقت یہ خیال آتا ہے کہ فن کی تخلیق میں خیال زیادہ اہمیت کا حامل ہے یا ہیئت۔ فن کار ہیئت کے ذریعے تجربے میں تنظیم، حسن اور ترتیب پیدا کر کے اپنے جذبات و تاثرات کو مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں خیال اور اس کی پیش کش دونوں اپنی اپنی جگہ اہمیت اور قدر و قیمت کے حامل ٹھہرتے ہیں۔ اور ان دونوں کے امتزاج سے ہی ایک ایسا فن پارہ معرضِ وجود میں آتا ہے۔ جو اپنی صفائی اور جاذبیت کے باعث قلب و نگاہ کو اپنا اسیر کر لیتا ہے۔[41]

2.1 فروغِ اردو کے اہم شعرا ء اور ان کی  تحریکات:

اردو غزل کے قدیم مسکن کے معاملے میں بھی دکن کو شمال پر فوقیت حاصل ہے ۔دکن کی غزلوں کے سلسلے میں بات عموماً محمد قلی قطب شاہ سے شروع کی جاتی ہے۔ جِس کی عظمت کئی لحاظ سے مسلمہ ہے۔[42]اردو غزل کی ترقی میں میں چند غزل گو شعرا اور تحریکات کے اہم انجمنوں کی خدمات  میں دکنی دور میں خواجہ محمد واحد ار فانی، حسن شوقی، علی عادل شاہ ثانی شاہی،نصرتی، سید میرا ں ہاشمی،دکن کا پہلا صاحب ِ دشاعریوان محمد قلی قطب شاہ غزل گو شاعر بھی تھا۔ لیکن صنف میں جن دکنی شعراء نے خاص طور پر مقبولیت حاصل کی ان میں وؔلی دکنی، سراج اورنگ آبادی کا نام سر فہرست لیا جا سکتا ہے۔شمالی ہندی کے فارسی شعراء ولی کےکلام کو دیکھ کر ہی غزل کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ شمالی ہندوستانی میں اردو  غزل کا  کے اہم شعراء میں شاہ حاتم ، شاہ مبارک آبرو، مرزا مظہر جانِ جاں اورآرزو وغیرہ کے نام ہیں۔[43]ایہام گوئی کی تحریک میں اردو غزل گو شعراء میں آبرو، ناجی، مضمون، یکرنگ، احسان اللہ خاں احسان، سجاد، ایہام گوئی کی تازہ تحریک کے شعرا میں یقین، میری تقی میر، مرزا سودا، خواجہ میر درد، قائم چاندپوری، میر سوز وغیرہ کے نام اہم ہیں۔دبستان لکھنو کے اہم غزل گو شعراء میں جرأت،انشاء،مصحفی،رنگین،نسیم دہلوی، آتش، ناسخ،تلامذہ ناسخ لیکن ان سب الگ منفرد شاعر  انیسؔ جسے غزل گو کی حیثیت کم مقبولیت حاصل ہوئی پھر بھی ان کی غزل گوئی سے متعلق  ناؔصر نے کہا تھا’’ عالم شباب میں چندے مشق غزل گوئی رہی۔‘‘(ص۳۰۵) شریف العلماآزادؔ کے نام خط میں خود انیس کے حوالے سے ان کی غزل گوئی کا حال اس طرح لکھا ہے’’ میر انیس اپنی ابتدائی حالت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مشاعرے میں غزل پڑھتا تو دو چار دس آدمی رو کر لوٹنے لگتے اور میر خلیقؔ کے سامنے ذکر ہو تا کہ میر انیس خوب پڑھتے ہیں تو (خلیق) بہت بگڑ تے۔‘‘ [44](محمد حسن آزاد)

 دلی کے بزم آخر کے غزل گو شعرا ء میں مومن، ذوق، غالب،تلامذہ وغیرہ اہم ہیں۔اردو غزل اور رامپور کے اہم شعراء میں مرزا داغ، امیر مینائی نے غزل کےفروغ میں اہم خدمات انجام دیے ہیں۔ اس کےعلاوہ انجمن پنجاب کی تحریک سے جڑے اہم اردو غزل گو شعراء میں الطاف حسین حالی کے بعد علامہ اقبال نے اس صنف میں فلسفہ پیش کر کے ایک نئے انداز کی بنیاد رکھی۔ اس درمیان شبلی نے بھی ’’ دستہٗ کَل‘‘ فارسی غزلوں کا مجموعہ لکھا۔ جس میں سے بارہ چودہ اشعار ایسے ہیں جنہیں ’’ گرما گرم‘‘ کہا جسا سکتا ہے۔

مست و پُر عربدہ تنگش بکشم در آغوش؛تشنہٗ وصلم وتاکئے بہ محابا بشم

 من فعائے بتِ شوخے کہ بہ لنگام وصال؛بمن آموت خود آئین ہم آغوش را[45]

 ان کے بعد ، حسرت موہانی، فراغ گورکھپوری، اصغر گونڈوی، فانی بدایونی،جگر مرادآبادی، یا س یگانہ، خورشید الاسلام، ناصر کاظمی، خلیل الرحمٰن اعظمی، شاذؔ تمکنت، شہر یار، بشیر بدر، ظفر اقبال، احمد مشتاق، شکیب جلالی، ساقی فاروقی، عادل منصوری، محمد علوی ، پرکاش فکری، اطہر نفیس،صہبا اختر، محبوب ہاشمی، منظور خزاں ، بمل کرشن اشکؔ وغیرہ نے اردو غزل کے فروغ میں رومانی تحریک ، ترقی پسند تحریک ، ترقی پسند شعراء اور حلقہ ارباب ذوق کے تحت شعراء نے اردو غزل کو فروغ دیا ہے۔

آزادی کے بعد دبستانِ دہلی کے اہم غزل شعراء:

سر زمین دہلی کے اردو غزل گو شعراء نے ایک طرف ان رجحانات کو قبول کیا ہے ۔ جو ہماری سماجی اور تہذیبی تاریخ سے وابستہ ہیں۔ دوسری طرف ان تحریکوں کے اثرات کو اپنایا ہے۔ جو دوسری زبانوں اور ادبوں سے مخصوص ہیں اور ہرنئی روشنی کو دیدہ و دل میں بسا ہے ۔ اور ہر نئے تجر بے کا اپنی زندہ و تابندہ روایات کے تناظر میں خیر مقدم کیا ہے۔اسی لیے دہلی کو علم و ادب کا گہوارہ مانا گیا ہے۔ یہاں مقالہ موضوع اعتبارسے تفصیل میں نہیں جاسکتے لہذا دہلی کے اہم غز گو شعراء  کے نام دکھایا جارہا ہے۔اجمل ؔاجملی ،پنڈت ہری چنداخترؔ،جگن ناتھ آزادؔ،اظہاراثرؔ، افضل پشاوری، امن لکھنوی: چوپی ناتھ، انورؔ صابری، انورؔ صدیقی، امیر ؔ قزلباش، بانی منچنارا، بسمل سعیدی، بیخوؔد دہلوی، کمار پاشیؔ، غُلام ربانی تاباںؔ، من موہن تلخؔ، نورجہاں ثروتؔ،جاوؔید وششٹ، حسنؔ نعیم، حیاتؔ لکھوی، مسعود حیاتؔ، خارؔزشتی دہلوی،خالدؔ محمود، شجاع خاورؔ، درشن سنگھ، راج نرائن رازؔ، روؔش صدیقی،زبیر ؔرضوی،ساحرؔہوشیار پوری، ساغرؔ نظامی،کنور مہندرسنگھ بیدی سحرؔ،رفعت سروشؔ،سلامؔ مچھلی شہری، سلطانؔ نظامی، سید ؔغلام سمنانی، سیفیؔ پریمی، نرش کمار شادؔ، شاہد ماہلی، شمیم ؔحنفی،شمیم عثمانی، شمیم کرہانی ، شہابؔ جعفری، صادقؔ،صغیر احمد صوفی، ضیا ؔفتح آبادی، طالبؔ دہلوی، طالب ؔچکوالی، ظفرؔمرادآبادی، یعقوب عامرؔ، عتیق اللہ، عرش ؔملسیانی: پنڈت بال مکند، عزیزؔ بکھروی، عزیزؔ وراثی، علیمؔ اختر، عنوانؔ چشتی،مغیث الدین فریدیؔ، ہیرالال فلکؔ، قمر سنبھل، قیصر ؔحیدری، کامل ؔ قریشی، کرشنؔ موہن، کمالؔ احمد صدیقی، گلزارؔ دہلوی، گوؔپال متّل، گوہرؔدہلوی: دگمبر پرشاد جین، کیلاش ماہرؔ، تلوک چند محرومؔ، محسن ؔزیدی،مخمورؔ سعیدر،مشیرؔ جھنجھانوی، پنڈت رام کرشن مضطرؔ، مُظفر جنفی، پنڈت آنند نرائن مُلّاؔ،ممتازؔ مرزا، بشیشو پرشاد، میکشؔ امروہوی، اندر سروپ دت نادانؔ، نظمیؔ مہدی نظمی، مہیش چند نقشؔ، ذکیہ سلطانہ نیّرؔ اور واجدؔسحر وغیرہ کی جدید اردو غزل کی بدلتی ہئیت اپنے آپ میں منفرد ہے۔

  1. تفہیم غزل:

غزل کے’ فیروز اللغات ‘میں معنی ٰ عورت سے بات کرنا ہے اور ’لغات کشوری‘ میں  ’’ وہ شخص جو عورتوں کے عشق کی باتیں کرتا ہے ‘۔ اور ’’کاتنا‘‘ ۔ ’’رسی بٹنا‘‘ یا ’’سوت ریشی‘‘ کے معنی درج ہیں ۔ اگر ہم ان معنوں کو تسلیم کرلیں تو سمجھنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔جیسے جن سے نکاح جائز نہیں ایسی عورتوں سے باتیں کرنے کے معنی تو نہیں ہو سکتے اسی لیے راقم کی رائے ہے تمام لغات کو از سر نو معنی صاف صاف بیان کرنا چاہیے کہ کس خاتون اور کس عمر کی خاتون کو غزل کا مرکزی خیال بنایا جانا چاہیے۔ جتنے رشتے ہوتے ہیں اتنی ہی عورتیں ہوتی ہیں۔ماں، بیٹی، بہین، بیوی، معشوقہ،ساس ، بہو ،معلمہ ، استانی یا رشتہ دار خاتون یا عزیز خواتین ان تمام عورتوں سے باتیں کرنے کا مطلب اگر غزل ہے تو  اس صنف پر غور و خوص کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح حالی نے ’مقد مہ شعر وشاعری ‘ اور ’ یاد گارِغالب ‘میں انہوں نے غزل کی ایسی گرہیں کھولی ہیں کہ اس سے نہ صرف منظر کشی ہوتی ہے بلکہ شخصیت کی دلچسپی بھی معلوم ہوتی ہے۔ثبوت میں غزل کے یہ دو اشعار:

 رضوان چو شہد و شیربغالب حوالہ کرد؛ بے چارہ بازداد دمےَّ مشکبو گرفت

رموزدیں نشنا سم درست۔ومعذورم؛ نہا دِمن عجمی و طریقِ من عربی سست

یعنی رضوان ، دارو غہٗ جنت نے جب غالب کو دودھ اور شہد پیش کیے تو بے چارے نے انہیں واپس کردیا اور مشک بوشراب لے لی‘‘[46]لیکن حالی کی غزل کی تنقید کا اثر زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔  حالاں کہ انہوں نے غزل کا کینوس بڑا کر دیا تھا لیکن  کیوں کہ ہمارے نئے غزل گو شعراء نے اپنی فکر و فن کو نئی جہتوں سے آشنا کر لیا۔ یہ وقت کا تقاضا بھی تھا زمانے کی ضرورت بھی تھی اور حالات کے ساتھ خیالات کی تبدیلی بھی جو نئی سوچ کی ایجاد تھی۔[47]لغت کشوری میں غزل کے معنی درست ہیں۔ نوجوان مرد و زن کے آپسی بات چیت ان کے درمیان راز ونیاز ‘ شکوے شکایتیں ‘ روٹھنے منانے  اورملنے بچھڑے کی باتیں کرنا یا حسن و عشق کی باتیں یا و فاؤں کے وعدے کرنایہ تمام باتوں کو عشقیہ بات چیت میں آتی ہیں ۔ اگر ایسی گفتگو  کو غزل کے معنی و مفہوم میں لینا درست ہے۔ غزل سے مراد معشوقہ سے ہمکلام ہو کر لطف اندوز ہونا ‘ اس کے حسن و جمال کی تعریف کرنا اور اس سے عشق و محبت کا اظہار کرنا ۔ ایسی حسی کیفیات جن سے جذباتی واردات پیدا ہوتے ہوں وہی لمحات ، احساسات، کیفیات اور جذبات غزل کہلاتی ہیں ۔ اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالحلیم ندوی نے لکھا ہے ’’ جاہلی دور کے اصناف سخن میں سب سے اہم اور ممتاز صنف غزل ہے ۔ اور اس غزل کا موضوع اور محور عورت تھی ۔ کیونکہ غزل کے معنی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی آپس کی بات چیت اور عورتوں سے لطف اندوزی اور ان سے حسن و محبت کی باتیں کرنا ہے۔ ‘‘ [48]یہاں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ غزل اس صنف کو کہیں گے جس میں حسن وعشق یا محب و محبوب سے متعلق مضامین شامل ہوں ۔[49] یعنی ہجو وصال کا تذکرہ ‘ سوز و غم کا ذکر ‘ وصل معشوق کی لذت اور اس طرح کی دیگر کیفیات عشق واردات محبت شامل ہوں یعنی آنکھوں سے آنکھیں چار ہونا اور ہوش و حواس گم ہونا اور ہمیشہ حسن یار میں کھوئے رہنا :

ملے کسی سے نظر تو سمجھو غزل ہوئی؛رہی نہ اپنی خبر تو سمجھو غزل ہوئی

غزل شاعری کی ایک اہم صنف ہے ۔ جو با ضابطہ منظوم ہونے سے گایا جاتاہے۔اس صنف کا آغاز دسویں صدی میں فارسی سے ہوا ۔بعد ازاں اس پر عربی ادب اثرات آگئے۔اسی اثر نے اردو میں صوفیانہ رنگ بھر دیا۔اردو غزل ایک غیر معمولی طریقہ اظہار ہے ۔جس میں بے انتہا اندرونی رومانی جذبات کی عکاسی ہوتی ہے۔ غزل اپنے آپ میں تاریخی اعتبارسے ایک ادب ہے۔ اس کے متنوع جہات اور موضوعات کا احاطہ کرنا مشکل عمر تھا۔ اسی لیے راقم نے اس کو چار دبستانوں میں بانٹنے کی کوشش کی ہے۔غزل جذب و خیال، متنوع موضوعات کا حیرت کدہ اور جہانِ معانی کا آئینہ خانہ ہے۔ غزل میں زندگی کی سی وسعت ہے جس طرح زندگی اپنے اندر تمام موسم رنگ واقعات جذبے، تحریکیں، چہرے نظریے اور رویے سمو لینے پر قادر ہے۔ اسی طرح غزل بھی ان سب عناصر کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ جس طرح زندگی کا ارتقائی سفر جاری رہتا ہے۔ اسی طرح غزل کا ارتقائی سفر بھی ایک تسلسل سے جاری رہتا ہے اور زندگی کے بدلتے مناظر اور مظاہر صنف غزل کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں تاریخ ادب اردو ۱۷ءتک(جلد پنجم ) کے مرتبین پروفیسر سیدہ جعفر اور پروفیسر گیان چند جین  نے لکھا ہے:

’’ غزل کی جڑیں ہماری تہذیب اور سماجی زندگی میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور وہ سینکڑوں سال سے اردو شاعری کی روح میں سمائی ہوئی ہے فکر و احساس غزل کے سانچے میں صدیوں سے ڈھلتے آئے ہیں۔ ہر دور میں اس صنف نے ہمارے جذباتی ،ذہنی اور سماجی تقاضوں کی بڑی سچی اور بھرپور عکاسی کی ہے۔ ’’ آرائش خم کا کل ‘‘ اور اندیشہ ہائے دور دراز’’گرمی بزم‘‘ اور’’ خلوت غم‘‘،’’ دار‘‘ اور ’’ کوئے دلدار‘‘ حقیقت و مجاز اور رندی و اخلاق آموزی کی جیسی رنگارنگ اور متنوع تصویریں غزل میں ملتی ہیں۔ اس کا مقابلہ ادب کی کوئی اور صنف نہیں کرسکتی ۔ غزل اپنی ریزی کاری اور اختصاری کے باوجود بڑی جامع صنف ہے۔ یہ اس اعتبار سے بھی جامع ہے کہاس میں ماحول کی مختلف کیفیات اور انسانی فکر و احساس سے مطابقت پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ غزل کا آرٹ حرکی ہے اور زندگی کی طرح حرکت و نمو میں چار بسا ہوا ہے۔غزل چوں کہ اپنے دور کی حسّیت اور تہذیب زندگی کی دھڑکنوں کے ترنم پر رقص کرتی رہی ہے۔اس لیے اس کے موضوعات ، اس کی معنویت‘ اس کی کنائیے اور اس کی علامتیں ہر دور میں نئے جلوسے دکھاتی رہی ہیں اور عہد میں انسانی مسائل کی موثر ترجمانی کرتی رہی ہیں۔‘‘[50]

اردو غزل فارسی غزل کی مرہون منت ہے۔ ابتدائی دور کی اردو غزل پرفارسیت کے اثرات نمایاں ہیں اور اردو کا پہلا قابل ذکر غزل گو شاعر ولی دکنی کو کہا جاتا ہے۔[51] جسے اردو کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق’’اردو غزل کی داستان کے چار ابواب ہیں پہلا باب دکنی غزل کے متعلق ہے دوسرا باب اٹھارہویں صدی کی ابتدا سے انیسویں صدی کے نصف اول تک کے دور پر محیط ہے بلکہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو اس کے آخر تک قرار دیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ تیسرا باب۱۸۵۷ء سے لے کر اقبال تک اور آخری باب اقبال کے بعد جدید دور سے متعلق ہے۔‘‘[52]لیکن تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے اردو میں جدید غزل کا آغاز غاؔلب سے ہوتا ہے۔ یوں تو خود ولیؔ دکنی اپنے زمانے کا جدید شاعرتھا اور پھر میر تقی میرؔ نے بیان کی آرائشوں سے زیادہ موضوع کی لطافتوں پر زور دے کر اپنے زمانے کے حوالے اردو غزل میں ایک اور جدید دور کا آغاز کیا۔ میر تقی میرؔ غزل کے میدان میں سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ انہیں غزل سے خصوصی رغبت تھی۔جس کی وجہ سے دوسری اصنافِ سخن کے مقابلے میں غزل میں نمایاں کامیابی ملی۔ دیگر اردو کے شعراء سے ان کا انداز بیاں منفرد تھا لیکن احساسات ا ور جذبات یکساں ہے۔ وہ بھی اپنے اندر ایک نازک و حساس دل رکھتے ہیں۔ جب کبھی انہیں تکلیف پہنچاتی ہے تو وہ بھی کرب سے چیخ اُٹھتے ہیں۔ یہی وہ غم اور تکلیف ہے ان کی غزل کی شکل میں بے حد نفاست کے ساتھ جگہ بنا لیتی ہے۔

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے؛ یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

 میرؔ کو محبوب کی اَدھ کھلی آنکھوں میں شراب کا نشہ نظر آتا ہے۔ وہ اس کی نشیلی آنکھوں کے دیوانے ہیں اور اسی دیوانگی نے ہی ان سے یہ شعر کہلوایا ہے۔

میر اُن نیم باز آنکھوں میں ؛ساری مستی شراب کی سی ہے

 جدید غزل کا آغاز اقبال سے  مانا ہے۔ کیوں کہ اردو غزل کو صحیح جدت سے آشنا کرنے اور اسے ایک فرسودہ و بوسیدہ اور اس لئے ایک ناکارہ صنفِ سخن بنا جانے سے بچانے والی شخصیت غالب کےبعد اقبال  ہے۔اس ضمن میں غالب کی غزل کے ایک شعر کی تشریح پیش خد مت ہے۔ تفہیمِ غالب میں کوئی اضافہ تو نہیں کر سکتا، پھر بھی دیوانِ غالب کی پہلی غزل جسے سب سے مشکل سمجھا جاتا ہے اس کا  مختصر  جائزہ  کچھ اس طرح ہے۔غزل کا مطلع اپنے عہد کی روایت سے مختلف ہونے نے ساتھ ساتھ  منفرد ہے۔ کیوں کہ شاعر نے تنظیم دوجہاں اورانسانی تقدیر پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے۔ اسی سے شاعر کی ذہنی حوصلہ مندی اور فکری بلندی معلوم ہوتی ہے۔کیوں سب روایت کی ہی پاسداری کرتے ہیں۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا؛کاغذی ہے پیر ہن، ہر پیکرِ تصویر کا

 مطلعے کو پڑھتے ہی غالب کا یہ شعر :

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے ؛    جو لفظ کہ غالب میرے اشعار میں آوے

بے ساختہ ذہن میں آ جا تا ہے اور غالب کے ’’گنجینۂ معنی کے طلسم ‘‘ کا قائل ہو نا پڑ تا ہے۔ اس شعر میں جس قدر معنوی پہلو پوشیدہ ہیں ، اسی قدر صنعتیں بھی ہیں۔ جو غالب سے قبل یہ تہہ داری کسی اور شاعری میں نہیں ملتی ۔اس شعر کی تشریح خود غالب نے اس طرح کی ہے ’’نقش کس کی شوخی تحریر کا فریادی ہے کہ جو صورت تصویر ہے، اس کا پیر ہن کاغذی ہے۔ یعنی ہستی اگر چہ مثل تصاویر اعتبار محض ہ، موجب رنج و آزار ہے ‘‘۔شعر کی گرہ کھولنے سے قبل پہلے شعر کے کلیدی لفظ کو تلاش کر یں۔ اس کے بعد گر ہیں خود بخود کھلتی چلی جائیں گی۔ زیر بحث شعر میں لفظ ’’کِس‘‘ کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے بعد ’’نقش‘‘ اور ’’شوخی تحریر‘‘ خاص توجہ کے طالب ہیں۔ اگر ’’کِس‘‘ کو خالقِ کونین کا استعارہ تسلیم کر لیا جائے تو شعر کے معنی کسی حد تک واضح ہو جائیں گے۔ لیکن شعر کی معنو یت محدود ہو جائے گی۔ ساتھ ہی ’’کِس کی‘‘ کے استفہام کا لطف بھی جاتا رہے گا۔ جو شعر کی حقیقی جاذبیت ہے۔ یہ کہے سکتے ہیں۔’’کِس‘‘ کا اشارہ خالقِ مطلق کی طرف ہی ہے کہ اس نے از راہِ شوخی تصویر کو نا پائیدار بنایا ہے، اسی لیے تصویر اپنی زبان بے زبانی سے فریاد کر رہی ہے کہ جب ہستی کو نا پائیدار ہی بنا نا تھا تو اس میں اس درجہ کمال، اس درجہ کشش رکھنا کیا ضروری تھا ؟ دنیا کی یہ رنگا رنگی یہ کشش یہ دلفر یبی اور مو ہ کیا ہے ؟ جب کہ ہر چیز فانی ہے۔

غزل کی ابتدا سے ہی یہ روایت رہی ہے کہ شعری مجموعوں کے آغا ز میں حمد، نعت اور منقبت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ غاؔلب نے روش عام سے گریز کرتے ہوئے، دیوان کے پہلے ہی شعر میں تخلیقِ کائنات پر سوالیہ نشان لگایا۔ اس شعر کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غالب کائنات کے فلسفے کو سمجھنا چاہتا ہے کہ اس کائنات کا راز کیا ہے؟ جہاں ہر شئے مجبورو لاچا ر دکھا ئی دیتی ہے اور شاید اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے کہا تھا :

سبزہ و گل کہا ں سے آئے ہیں ؟؛ابر کیا چیز ہے ؟ ہوا کیا ہے ؟

جب کہ تجھ بن نہیں کو ئی موجود ہے؛پھر یہ ہنگامہ ائے خدا کیا ہے ؟

 اب شعر کے اس مفہوم کی طرف رخ کر تے ہیں ، جس کا ذکر عموماً کیا جاتا ہے کہ ایران میں رسم تھی کہ فریادی فریاد کے لیے کاغذی لباس پہن کر دربار میں حاضر ہوا تے تھے۔ کیوں کہ کاغذ کی کو ئی وقعت نہیں ہوتی، یہ ہوا کے تیز جھو نکے سے، آگ کی گرمی سے، حتٰی کہ ذرا سی رگڑ لگنے سے بھی تار تار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کاغذی پیرہن فریادی کی بے بساطی کی دلیل سمجھا جاتا تھا ۔یعنی اس دنیا میں انسان کی ہستی ٹھیک کاغذی پیرہن کی طرح ہے۔ جس کی کہ کو ئی ساکھ،کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ چوں کہ مصور، تصویر کو کاغذ پر بناتا ہے، جس کا وجود عارضی اور بے بساط ہوتا ہے۔ اس لیے تصویر اپنے خالق سے جدائی کی فریاد کر رہی ہے۔

زیر بحث شعر کے دوسرے مصرعے ’’کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا‘‘ کے ’’ہر‘‘ سے یہ گمان ہو تا ہے کہ اس سے تمام جاندار مراد ہو سکتے ہیں لیکن شعور و احساس چوں کہ صرف انسان ہی کو حاصل ہے۔ ا س لیے ’’فریادی‘‘ سے مراد انسان ہی ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت انسان کے علاوہ دوسری کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا ’’شوخی تحریر‘‘ سے اگر انسانی ’’شعور و احساس‘‘ مراد لیے جائیں اورسا تھ ہی ساتھ فرشتوں اور تمام جانداروں کو ملحوظ رکھا جائے تو انسان کی عظمت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ جو کہ خالق کائنات کی ’’شوخی تحریر‘‘ کا سب سے بڑا کرشمہ ہے۔غالب کے بعد اردو غزل میں جدید سونچ رکھنے والا شاعر علامہ اقبال ہے ۔ انہوں نے  ’ بال جبریل‘ کی غزلیات میں فنی اعتبار سے تو وہی ہے لیکن فکری اور موضوعاتی  اعتبار سے  عورتوں سے باتیں کرنے کی بجائے دیگر تمام مضامین باندھے ہیں۔ ثبوت میں بالِ جبریل کے ایک شعر کی تفہیم پیش خدمت ہے۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتاہے ہیرے کا جگر؛مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

یعنی پھول کی پتی سے ہیرے کو اندر تک کاٹ ڈالنا اگرچہ ناممکن کام ہے، یہ ناممکن بھی ممکن ہو سکتاہے البتہ کسی بے وقوف شخص پر نرم و نازک یعنی لطیف بات کسی صورت اثر نہیں کرسکتی۔ پہلے مصرعے میں ’پھول کی پتی سے‘ کے بعد ’کبھی‘ یا ’کہیں‘ کو محذوف قرار دینا پڑے گا۔ یعنی پھول کی پتی سے بھی کہیں ہیرے کا جگر کاٹا جاسکتاہے۔ اس شعر کی مفہومی ترتیب مصرعوں کی ترتیب کے برعکس ہے۔ مردِناداں پر نرم ونازک کلام بے اثر رہتاہے کیوں کہ پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر نہیں کٹ سکتا۔خلاصہ : ’’مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ میری شاعری کلامِ نرم ونازک پر مشتمل ہے ’لیکن بے سمجھ لوگ اس سے مستفید نہیں ہوسکتے۔‘‘اِس اسلوب میں بیان ہونے والا یہ خلاصہ ناقص ہے۔ اس شعر کا دوسرا مفہوم بھی نسبتاً زیادہ قطعیت کے ساتھ متعین کیا جا سکتا ہے۔ میری شاعری کلامِ نرم ونازک نہیں ہے کیوں کہ میرے مخاطب وہ نادان لوگ ہیں جن پر ایسا کلام اثر نہیں کرتا۔یہ وضاحت اقبال کے تصورِ شعر سے بھی مناسبت رکھتی ہے۔ جو اقبال نے گویا عرفی کی اس ہدایت کی اتباع میں تشکیل دیا تھا:
حدی را تیز ترمی خواں چومحمل را گراں بینی؛نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی

  1. غزل کی بدلتی ہئیت :

تقریبا ایک ہزار سال سے قبل غزل کا آغاز ایران میں ہوا۔ وہاں فارسی زبان میں ہی اس صنف کا استعمال کیا گیا۔بادشاہوں، امیر امراوو وغیرہ کی تعریف میں لکھے جانے والے قصیدے کی زبان اولاً تو فارسی ہوئی۔ ایران کے شعرائے کرام میں اس کی تشبیب کو قصیدے سے الگ کر کے اس کا نام غزل رکھا۔ [53]مغل بادشاہ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی فارسی تہذیب کا چلن پیدا ہوا۔یہاں تک کہ خانگی کے علاوہ سرکاری سطح پر بھی  فارسی کر دی۔ اس سے قبل شورسےنی اپبھرنش کا استعمال تھا ۔جو عام بول چال کی زبان نہ ہوکتابی زبان تھی۔ جو سنسکرت سے ہو کر نکلی تھی۔ جب عدالتی زبان اور سرکاری کام کاج کی زبان فارسی بنی تو لوگوں کو مجبورا ًفارسی سیکھنی پڑی۔ یہاں کے شاعروں نے بھی مجبوراً اسے سیکھا اور غزل سے ہاتھ ملایا۔ یہ سب حکمران مسلم تھے اسی لیے انھوں نے مذہب اور فارسی کا خوب فروغ دیا۔اس طرح یہ سلسلہ صدیوں چلتا رہا۔

غزل کا سب سے بڑا نمائندہ ولیؔ دکنی تھا۔ لیکن اس سے قبل بہت سے دکنی شعراءکے ہاں غزل ملتی ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ، نصرتی ، غواصی ، ملاوجہی۔ لیکن ولی پہلی بار غزل میں تہذیبی قدروں کو سمویا ۔ بعدکے شعراایہام گو ہیں۔ جنہوں نے فنی اور فکر ی حوالے سے غزل کو تہذیبی روایات سے قریب کیا۔اس کے بعد اصلاح زبان اور فکر کی تحریک کا آغازمظہر جانِ جاناں نے غزل میں فارسیت کو رواج دیا پھر بھی وہ مکمل طور پر ہندیت کو غزل سے نکال نہیں سکے۔

 میر تقی میرؔ او ر سودؔا نے اردو غزل کے موضوعات اور اس معنویت بہت سی تبدیلیاں پیدا کردی۔ انہیں کےساتھ نئی تہذیب اور اسلوب کا اعجاد ہوا۔اس عہد کی غزل میں ہندوستانی ثقافت نظر آتی ہے لیکن وہ بھی ہندی ایرانی کلچر سے مآخذ ہے ۔وہ اسلوب ہے جس میں فارسی کا غلبہ تو ہے لیکن اندرونی طور پر ہندی ڈکشن کے اثرات ہیں۔ یہ عہد غزل کا زریں کا دور کہلاتاہے ۔ کیوں کہ سودا کی غزلیات کا ایک حصہ خارجیت، معنی آفرینی، خیال بندی، تمثیل نگاری، سنگلاخ زمینوں میں سخن تراشی، قصیدے جیسے انداز اور بیان پر مشتمل ہے، وہیں دوسرے حصے میں جو تجربات اور پُر خلوص جذبات کا آئینہ دار معلوم ہوتا ہے۔ خصوصاً غزل میں محبوب سے محبت، اس کی جدائی، ہجر و وصال کی داستانیں جنم لیتی ہیں ، جدائی کا کرب، محبوب کو کھو دینے کا غم، زندگی کا وبال بن جاتا ہے۔یہی کیفیت تقریباً تمام شعراءکےکلام میں بدرجہ اتم ہے۔اردو کے ہر شاعر کے کلام میں  غمِ جاناں سے پُر نظر آتا ہے۔ زندگی کے مسائل اپنی جگہ اور محبت کی تلخی اپنی جگہ ہے۔

 دبستان ِ لکھنو میں غزل کی بدلتی ہئیت مصحفی ، انشاء، رنگین اور جرات سے ہوتی ہے۔ثبوت میں انشاء کی ایک مقبول غزل’ کمر بندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یا بیٹھے ہیں‘‘ لکھا ہے۔ یہ غزل انہوں نے جوانی میں لکھی۔ لیکن اس غزل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سن رسیدہ اور تجربہ کا ر عمر میں قلم بند کیاہے۔ اس غز ل سے متاثر ہو محمد حسین آزادؔ نے یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ انشا کی آخری عمر کی تصنیف ہے۔ کیوں کہ اس غزل کا مزاج لب و لہجہ دبستان دہلی کی ہی دین ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

کمر بندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں؛ بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

نہ چھڑا اے نکہت باد بہادی راہ لگ اپنی؛ تجھے انکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

کہیں ہیں صبر کس کو آہ ننگ و نام کیا شے ہے؛ غرض روپیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں

کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے؟ انشاؔ؛ غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں[54]

ان ہی شعراء نے پہلی دفعہ کلاسیکی موضوعات پر غزل گوئی کی۔ اسلوب اور موضوعات نئے تھے۔ لکھنو کا دوسرا دور آتش اور ناسخ کا ہے ۔اس میں پچھلی روایت کے برعکس نئی اقدار کو مضبوط کیا گیا۔ یہاں سے غزل میں تصورِ محبوب اور اس کی شخصی معنویت میں تیزی تبدیلی شروع ہوگئی۔ اس سے قبل کی پاکیزگی کا جو تصور تھا اس میں بھی بہت سی دراڑیں پڑ گئیں۔اس طرح کی ہلکی پھلکی روایتی تبدیلیوں کے بعد غزل میں اچانک بہت بڑے پیمانے میں تبدیلی غالب کےدو رآگئی۔اسی عہد سے ایسی غزل کا آغاز ہوا جو اپنے دامن میں تفکر کے بہت سے زاویے رکھتی تھی۔جس میں فلسفہ اور خاص کر خدا ، انسان اور کائنات کارشتہ مقرر کرنا جیسے موضوعات پر غزل کہی جانے لگی۔

1857ءکے بعد غزل میں کلاسیکی عمل کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی رام پور کا دور شروع ہوتا ہے جس میں  داغ دہلوی، امیر ، جلال اور تسلیم جیسے اہم شعراء نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ اس ضمن میں جلال انجم کا خیال ہے’’ سینکڑوں شاعر دہلی چھوڑ نے پر مجبور ہوگئے کچھ نے رام پور کی راہ لی اور کچھ لکھنو جا نکلے ۔یہی وہ دور ہے جس میں دبستان لکھنو اور دبستان دہلی دو الگ الگ دبستانوں کی شناخت قائم ہوئی۔ دو مختلف علاقوں میں غزل کے فرق کو پرکھا جانے لگا۔ اس میں ایک طرف تو ناسخ و آتش نے غزل کو پری پیکر کا روپ دیا تو دوسری طرف ذوق غالب اور مومن نے اپنی ذہانت اور ہنرمندی سے غزل کے فن کو نکھارا اور وہ اسلوب اختیار کیا کہ غزل کے اپنے مخصوص اور محدود دائرے کو ترک کرکے اسے کشادہ اور وسیع تر بنادیا اور اسی طرح غزل کا سکہ سورج کی روشنی کی مانند سارے عالم پر غالب ہو گیا۔‘‘[55]

غزل کا جدید دور:

مقالہ کا یہ حصہ جدید غزل گو شعرا کی بدلتی ہئیت اور ان کی معنویت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں ہم نے نمائندہ اردو کے جدید غزل گو شعراء کا ہی احاطہ کیا ہے۔ اس سلسلہ کی کڑی کا آغاز مولانا مولانا الطاف حسین حالی ؔسے ہوتا ہے۔ انہوں نے جدید غزل کی بنیاد رکھی  تاکہ غزل  میں فحاشی اور عریانیت یا صرف محبوب کا ذکر ہویا  خواتین  کے حسن و عشق کی باتیں نہ  ہو ۔ ان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس صنف کے ذریعہ  انسانیت اور اخلاقیت پیدا ہو سکیں۔  اس لیے انہوں نے  غزل گوئی کی  پچھلی روایت سے منفرد ہے غزل کی داغ بیل ڈالی۔ اسی لیے ہم نے جدید غزل میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ روایتی خیالات اور سابق شعرا کی بیان کی ہوئی باتوں کو مختلف الفاظ میں دہرانے سے گریز کیا جائے۔ حقیقت نگاری، جدید غزل کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ جدید تازہ موضوعات زیادہ تر شہری زندگی کے مسائل اور پیچیدگیوں سے اخذ کیے ۔ ان مسائل کے بیان اور غزل کا چہرہ مہر ہ نیا کرنے کے سلسلے میں ایک رجحان جدید تمدنی مظاہر کے استعمال کا بھی ہے۔ روایتی غزل تشبیہوں، استعاروں، علامتوں ، اشاروں، کتانیوں کے حصول کے لیے عموماً یا تو بزم کی طرف رجوع کرتی ہے اور مے خانہ ،محفل ، دربار وغیرہ کے تلازمات کو استعمال کرتی ہے، یا فطرت کی طرف دیکھتی ہے اور چمن ، دریا ،پیاڑ ، صحرا وغیرہ اور ان کے متعلقات سے ا ستفادہ کرتی ہے۔ روز مرہ زندگی کی اشیاء و مظاہر کی طرف بھی اس کا میلان رہا ہے لیکن جدید دور میں آکر بھی اکثر شعرا زیادہ تر انھی اشیا و مظاہر کا استعمال کرتے رہے جو فارسی غزل سے مستعار یا اٹھارویں اور انیسویں صدی کے تمدن سے متعلق تھے۔ جدید غزل نے اس رویے میں بھی تبدیلی پیدا کی اور جدید تمدنی مظاہر کو غزل میں رواج دینے کی کوشش کی ۔ اس سلسلے میں ناصر کاظمی کے ہا پہلی مرتبہ نمایاں طور پر شہری زندگی اور اس کے متعلقات کا ذکر ملتا ہے اور پھر یہ سلسلہ ا گر چہ سست روی کے ساتھ آگ بڑھتا ہے۔ [56] یعنی شاعر اپنے شخصی احساسات اور اپنے شخصی مشاہدات اور کیفیات کو اشعار میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زبان اور الفاظ پر سارا زور حرف  کرنے کی بجائے خیال کی تازگی اور نُدرت پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ جدید غزل بنیادی طور پر دل کی باتیں بیان کرنے کا فن ہے۔ احساس کی صداقت ، جذبہ کی گرمی، اندازِبیان کی لطافت، اور شعر کی نغمگی، یہ وہ خصوصیات ہیں جو غزل کے شعر میں تاثیر پیدا کرتی ہیں۔خواہ یہ اشعار وارداتِ عشق سے متعلق ہوں، یا سیاسی اور سماجی مسائل سے ہوں۔ ثبوت میں حالی کی غزل ملاحظہ فرمائیں:

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں ؛ مجھے کہنَا ہے کچھ‘ اپنی زباں میں

قفس میں جی نہیں سکتا کِس طرح؛ لگا دو آگ کوئی‘ آشیاں میں

کوئی دن بوالہو س بھی شاد ہولین؛ دَھر اکیا ہے‘ اشارات نہاں میں

نیاہے لیجئے جب نام اُس کا؛ بہت وسعت ہے میری داستاں میں

دل پُر درد سے کچھ کام لوں گا؛ اگر فرصت مِلی مجھ کو‘ جہاں میں

بہت جی خوش ہوا حالی ؔ سے مل کر

ابی کچھ لوگ باقی ہیں جہَاں میں

یعنی حالی  اپنے شعر میں کہتے ہیں میرے احساسات اور جذبات کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس دنیا میں کوئی میرا محرم یا رازداں نہیں ہے۔ میری زباں ھال کو سمجھنے والا کوئی نہیں ۔ میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں۔ اور غزل کے آخری میں کہتے ہیں بظاہر خود اپنا ذکر کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا شعر ہے جو اکثر اوقات کسی قابل قدر انسان سے ملنے کے بعد ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ابھی دنیا میں ایسے پاکیزہ فطرت انسان موجود ہیں۔ پہلی نظر میں ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی انسان کی سیرت اور شخصیت میں کیا باتیں چھپی ہوئی ہیں۔اگر قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقع ہو تو کسی غیر معمولی اور قابلِ قدر انسان کا جوہر ہم پر کُھل جاتا ہے ۔

علامہ اقبال کی غزل گوئی :

اقبال کی نظموں کی طرح ان کی غزلیں بھی اردو کے دوسرے شاعروں کی غزلوں سے بہت مختلف ہیں۔ ایک تو موضوع کے اعتبار سے ، دوسرے زبان وبیان کے اعتبار سے ، تیسرے لہجے کے اعتبار سے اقبال کی غزلوں کا موضوع یا تو ان کا خاص فلسفہ زندگی اور فلسفے سے تعلق رکھنے والے اجزاء مثلاً خودی ، عشق، عقل ، عمل نقر، تقدیر، شاہین وغیرہ سے متعلق خیالات ہیں یا قوموں کے عروج و زوال ، مشرق و مغرب کے فرق، قو اور بین الاقوامی حالات پر تبصرہ حالات پر تبصرے، تاریخ اسلام اور تاریخ انسانی پر تنقید ، فلسفہ و حکمت کے متعلق باریک باتیں غرض کہ موضوعات کے اعتبار سے قبال کی غزلوں کی دنیا اردو کے دوسرے شعراء کی دنیا سے بڑی حد تک مختلف ہے۔ اقبال نے جو زبان و بیان کا استعمال کیا ہے وہ کسی اور شاعر سے مختلف ہے۔[57]

اس کے بعد  اقبال نے اس روایت کو آگے بڑھا یا۔انہوں نے حالی کی مقصدیت کو آگے لے کر چلتے ہیں لیکن وسیع معنوں میں اقبال اخلاقیات اور مقصدی مضامین تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے غزل کی مرکزی فکر کو فطرت اور کائنات سے جوڑا۔اس کے بعد سے غزل میں اتنی وسعت پیدا ہو گئی کہ وہ حقائق کی عکاسی ہو یا عصری معنویت ہو ہر ایک میدان کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ جیسے  انسان ، خدا ، کائنات اور فطرت کے رشتے اور پھیلی ہوئی کائنات سب کی سب آج غزل میں موجود ہے۔ اقبال کی ابتدائی غزلیات کو چھوڑکر عام شاعروں کی طرح عشق و محبت اور ہیر و وصال کی باتیں نہیں  کیے۔ وہ ایک فلسفی شاعر ہے۔ انہوں نے انسانوں کو آزادی، عزّت اور خود داری کی زندگی بسر کرنے کی تعلیم  اپنی غزلوں کے ذریعہ دی ہے۔انسان کو چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لیے سرگرداں رہنے کی بجائے ‘ اعلیٰ نصب العین اور اعلیٰ مقاصد کے لیے جدو جہد کی تلقیس کرتے ہیں۔ وہ خودداری اور  دلیری کی مختصر زندگی کو بُزدلی اور بے غیر تی کی طویل زندگی کے مقابلے میں ترجیحی دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں ’’ شیر کی ایک دن کی زندگی ‘ بھیڑوں کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے‘‘۔ جو شخص اعلیٰ انسانی قدروں کا احترام کرتا ہے‘ اور ان کے لیے سینہ سپر ہوجاتا ہے ‘ وہی ان کے نذدیک اعلیٰ انسان ہے۔ اس فکر پر مبنی اقبال کی یہ  غزل ملاحظہ فرمائیں:

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی؛ نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی‘آدابِ سحر خیزی

کہیں سارمایہٗ محفل تھی‘ میری گرم گفتاری؛کہیں سب کر پرشیان کر گئی ‘میری کم آمیزی

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھو ں میں ہو‘ پھر کیا ؛طریقِ کوہ کَن میں بھی‘ وہی حیلے ہیں پرویزی

جلالِ پادشاہی ہو‘کہ جمہوری تماشاہو؛جُدا ہو دیں‘ سیاست سنے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

سَوادِ رومتہ الکُبریٰ میں ‘دِلّی یاد آتی ہے

وہی عبرت‘وہی عظمت ‘ وہی شانِ دِل آدیزی

 اقبال نے اس غزل کے ابتدا میں لندی کی سخت سردی  کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا  ہے کہ اس سخت سرد موسم بھی مشرقی تہذیب کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ دوسرے شعر میں انہوں نے اپنی جوانی میں اپنی حاضر جوابی کا ذکر کیا ہے ۔ جس سے مغربی عوام متاثر تھی۔ تیسرے شعر میں شاہی بادشاہوں کی حکومت، اشتراکیت اور مزدوروں کی حکومت کے ساتھ مقا بلہ  کی عکاسی کی ہے۔جس میں خاص کر مزدوروں کے استحصال پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔یہی سلسلہ چوتھے شعر میں بھی ہے۔  ساست اور حکومت ‘ دِین اور مذہب سے بے نیاز ہو جائیں‘ تو ایسی حکومت‘ چنگیزی کی حکومت ہو کر رہ جاتی ہے۔[58] آخری شعر میں روم‘ جو موجودہ اِٹلی کا یا یہ تحت ہے‘ دنیا کے نہایت قدیم‘ پُر شُکوہ اور عجیب و غریب شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

 یہ شہر ۷۵۲ قبل مسیح میں آباد ہواتھا۔ اور صدیوں تک عظیم مملکت روم (رومَن امپائر) کا درالخلافہ تھا۔ اور اس زمانے میں دنیا کا سب سے زیادہ متمدن اور شاندار شہر تھا۔ اس شہر کے قدیم اور پر شوکت تاریخی آثار آج تک موجود ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ رومتہ الکُبریٰ ’’ گریٹ روم‘‘ اسی نام سے یہ شہر موسوم تھا) کی نواح میں‘ گھومتا ہوں‘ اور اس شہر کے کے عظیم اور حسین تاریخی آثار کو دیکھتا ہوں۔ تو اپنے وطن کے دارالحکومت ‘ دہلی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ دہلی بھی روم کی طرح نہایت قدیم شہر ہے ‘ اور ہزاروں سال سے ‘ ہندوستان کی مختلف حکومتوں کا دارالخلافہ رہا ہے۔ ماضی کی وہی عظمت ‘اور دل کشی جو دلّی میں نمایاں ہے ، روم میں بھی نظرآتی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ عبرت کا ایک شدید احساس بھی‘ ان دونوں شہروں کے تاریخی آثار کو دیکھ کر دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔اقبال کے بعد جدید غزل گو شعراء میں ایک مقبول و معروف نام حسرت موہانی ہے۔ ان کی علمیت کی وجہ سے انہیں غزل گو شعرا کا امام تسلیم کیا گیا ہے۔ کیوں کہ ان کی غز ل گوئی میں سادگی اور پُرکاری ملتی ہے۔ان کی شاعری میں محبت کا ایک لطیف اور حقیقت پسندانہ تصور ملتا ہے۔ ثبوت میں ان کی ایک غزل ملاحظہ فرمائیں:

زمانِ فصلِ گُل آیا‘ نسیم مُشک بارآئی؛دلوں کو مُژدہ ہو‘ پھر جو شِ مستی کی بہارآئی

پھلا پھلارہے گلزار‘ یارب‘ حُسنِ خو باں کا؛مجھے اِس باغ کے ہر پھول سے خوشبو ئے یار آئی

تری محفل سے ہم آئے ‘ گر باحالِ زار آئے؛تماشا کا میاب آیا‘ تمنا بے قرار آئی

جو‘ اُن کے حُسن سے بھی بڑھ گئی ہے‘ بے قراری میں؛تڑپ ایسی کہاں سے عشق میں ‘ پروردگار‘ آئی

یہ کیا اندھیر ہے ‘ اے دشمنِ اہل ِ وفا تُجھ سے؛ہوس نے کام جاں پایا‘ محبّت شرم سار آئی

بجا ہیں کوششیں ترکِ محّبت کی ‘مگر حسرؔت

جوپھر بھی دِل نورازی پر‘ وہ چشم سحرِ کار آئی!

حسرؔت نے پہلے شعر میں موسم بہار اور باد نسیم خوشبو کے جھونکوں سے لدی ہوئی آرہی ہے ۔ شاعر کے لئے یہ ایک خوشخبری ہے کہ جذبہٗ عشق میں بھی بر کی ایک لہر تازہ لو جائے گی کا تصور پیش کیاہے۔ دوسرے شعر میں فریاد ہے اے خدا حسینوں کا یہ گلزار پھلا پھلا ہے‘ اور حسن کی تازگی اور نکھار ہمیشہ قائم رہےمجھے باغ حُسن کے ہر پھول‘ یا دوسرے الفاظ میں حُسن کے ہر پیکر سے‘ محبوب ہی کی خوشبو آتی ہے۔ تیسرے شعر میں ہم تیری محفل سے نام لوٹے، ہمارے حالت زات تم نے نہیں دیکھی افسوس کہ تماشا کرنے والوں اور بل ہو سون کی آنکھیں توٹھنڈی ہو گئیں‘ اور عاشقِ صادق کو اپنی ناکام تماؤں کے ساتھ واپس ہونا پڑا۔ چوتھے شعر میں محبوب کی یاد میں دل ِ ایک مستقل تڑپ سے دوچار ہے ۔ اس تڑپ میں جو کیف اور لُطف ہے‘ وہ محبوب کے حُسن سے بھی زیادہ دلکش معلوم ہوتا ہے۔ اسے خدا تو نے ایسی حسین خلش میرے دِل میں کہاں سے پیدا کردی۔ پانچویں شعر میں شاعر کہات ہے کہ محبوب مجھ جیسے وفادار عاشقوں کا دشمن ہے ۔ بل ہوس اُس کے نظارے سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں۔ اور سچّے عشق کو نا کام اور شرم سار ہونا پڑتا ہے اس طرح آخر شعر میں محبوب کی جفاؤں سے تنگ آکر میں نے طے کیا ہے کہ محبت سے ہمیشہ کے لئے رشتہ توڑ لوں لیکن اس کو کیا کروں کہ اگر پھر ایک بار اسی کی سحرکا آنکھیں میرے دل کو رِجھا نے لگیں۔

فاؔنی بدایونی:

شوق سے ناکامی کی بددلت کو چہٗ دل ہی چھوٹ گیا؛ساری اسیریں ٹوٹ گئیں ‘دل بیٹھ گیا‘ جی چھوٹ گیا

فضلِ گُل آئی‘ یا اجل آئی ‘کیوں درِ زندان کھلتا ہے؛کیا کوئی وحشیِ اور آپہنچا‘ یا کوئی قبدی چھوٹ گیا

لیجئے کی ادامن کی خبر‘ اور دستِ جنوں کو کیا کہیے؛اپنے ہاتھ سے دل کا دامن ‘ مت گزری چھوٹ گیا

منزِل عشق پہ تنہا پہنچے‘ کوئی تمنّا ساتھ نہ تھی؛تھک تھک کر اِس راہ میں آخر اک اک ساتھی چھوٹ گیا

فانیؔ ہم تو جیتے جی‘ وہ میّت میں بے گور و کفن!

غُربت جس کو راس نہ آئی‘ اور وطن بھی چھوٹ گیا

فانی نے پہلے شعر میں محبت  میں ناکامی کی وجہ سے‘دل کی ساری آرزوئیں اور تمنائیں ختم ہوگئیں۔ گویاہم کوچہ دل ہی سےدور ہوگئے۔ اب نہ کوئی آرزو ہے اور نہ امید، دل ہمیشہ کے لئے ہمت ہار بیٹھا ہے۔ دوسرے شعر میں محبت کے دیوانے زندان یا قیدخانہ میں بند کردئے گئے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ زنداں کا دروازہ کھولا جاراہا ہے۔ وہ باتیں ممکن ہیں‘ شاہد باہر کی دنیا میں موسم بہار آ پہنچا‘ اور کوئی عاشق دیوانگی کا شکار ہوگیا۔جسے پکڑ کر زنداں میں داخل کر نے کے لئے داروازہ کھولا جارہا ہے۔ یا شاید یہ بات ہے کہ زِنداں کے قیدیوں میں کِس کی موت آپہنچی‘ ادب زنداں سے اُس کی لاش باہر نکالی جارہی ہے۔

 تیسرے شعر میں  وہ کہتے ہیں کہ جوش محبت نے ہمیں دیوانہ بنادیا۔ اور عرصہ ہوا کہ ہمارے ہاتھ سے دل کا دامن‘ یا صبر و قرار کا دامن‘ چھوٹ چُکا ہے۔ اب اگر عالمِ دیوانگی میں ہمارے ہاتھ اپنے دامن کو تار تار کر رہے ہیں‘ تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ دامن کی احتیاط ممکن ہے‘ اور نہ ہاتھ کو روک سکتے ہیں۔ چوتھے شعر میں وہ کہتے ہیں محبت میں منزل ِ مقصود حاصل تو ہوئی ‘لیکن اتنی دیر سے‘ کہ اب ساری تمنائیں اور آرزوئیں مردہ ہو چکی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمنائیں اورآرزوئیں جو ہمارے ساتھ ہم سفر تھیں‘ اس راستہ میں سب نے ہمارا ساتھ چھوڑدیا‘ اور ہم تنِ تنہا عشق کی منزل پر پہنچے ہیں۔اس طرح آخری شعر میں  شاعر نے  اپنی آپ بینی بیان کی ہے۔ ترک ِوطن کے پردیس آئے تھے ‘ لیکن پردیس کی فضا راس نہ آئی‘ نہ وطن کے رہے ‘ اور نہ پردیس میں آسودگی میسّر ہو سکی۔ میری مثال ایک ایسی زندہ لاش کی سی ہے‘ جسے قبر نے قبول کرنے سے انکار کردیا‘ اور کفن بھی اسے میسّر نہ آسکا۔

یگانہ چنگیزی : کی ایک غزل

جب تک  خلشِ درد خدا داد ہے گی؛ دنیا دلِ ناشاد کی‘ آباد رہے گی؛دل اور دھڑکتا ہے ادب گاہِ نفس میں ؛ شاید زباں تشنہٴ فریاد رہے گی

جو کاک کا پُتلا‘ وہی صحرا کا بگولا!؛ مِرنے پہ بھی اک ہستیٴ برباد رہے گی؛شیطان کا شیطان ٗ فرشتہ کا فرشتہ؛ انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی

ہر شام ہوئی صبح کوٗاک خرابِ فراموش؛ دنیا یہی دنیا ہےٗتو کیا یاد رہے گی

شہرہ ہے یگانہؔ تیر بیگانہ روی کا

واللہ یہ بیگانہ روی یا درہے گی

یگانہ چنگیزی نے اس غزل  پہلے شعر میں بیان کیا ہے کہ میرے دل کی دنیا  اگر چہ مسرت یا خوشی سے معمور نہیں ہے۔ پھر بھی آباد ہے۔ کیوں کہ خودا نے درد کی جو کسک میرے دل کو عطا کی ہے۔ وہ ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ دل میں درد کا ہونا ہی اس کے آباد ہونے کی دلیل ہے۔ جو دل درد سے خالی ہوتا ہے وہ ویران ہوتا ہے۔ اور دوسرے شعر میں  کہا ہے قفس کی بندیشوں اور پابندیوں کی وجہ سے ، دل کی دھڑکن اور بڑھ گئی ہے۔انسان اپنے دکھ دردکا اظہار کر دےتو کچھ نہ کچھ تسکین ہوجاتی ہے،لیکن جہاں فریاد کرنےکابھی موقع نا ہوتو دم گھٹنے لگتا ہے۔ شاید قفس میں میں زبان بھی فریاد کرنے کےلیے بیچان رہے گی۔ تیسرے شعر میں شاعر کہتا ہے انسان کو خاک کا پتلا کہا جاتا ہے۔ یہ خاک کا پتلا جب خاک میں مل جاتا ہے تو پھر یہ خاک بگولا بن کر سحرا میں منتشر اور  پریشن ہو جاتی ہے۔ چوتھے شعر میں بھی انسان کو علامت کے طور پر پیش کیا ہے ۔ شاعر کہتا ہے انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔اس میں خیر و شر سے دونوں کی قوتیں ایسی جمع ہوگئیں ہیں کہ تمام مخلوقات میں اس کا جواب نہیں مل سکتا۔ ہو جب بدی پر اتر آتا ہے  تو شیطان کا بھی شیطان بن جاتا ہے۔ شیطان بھی ا س کی بدی کی قوت کے آگے خوش نہیں رہے جاتا اسی طرح جب وہ نیکی طرف مائل ہوتا ہے تو فریشتہ سے بڑھ جاتا ہے۔ اور یوں فریشتے کا فرشتہ بن جاتاہے۔انسان کا ہستی عجیب وغریب  ہے اور اسی متضاد صلاحیتوں اور قوتوں کا مجموعہ ہے کہ اس کی نظر نہیں ملتی ۔ پانچویں شعر میں زندگی میں کیسے کیسے واقعات پیش آتے ہیں۔ لیکن انسان سب کچھ جلد بھول جاتاہے۔ رات جس عالم میں بسر ہوئی تھی‘ صبح کہ وہ ایک خواب ‘ بلکہ بھولا ہوا خواب معلوم ہوتاہے۔ ماضی کے نقوش بہت جلد ذہن سے فراموش ہوجاتے ہیں۔ جب عالم یہ ہوتو زندگی کے بعد‘ زندگی کی یادیں کیا باقی رہیں گی۔

آخری شعر میں حقیقت یہ ہے کہ یاگانہ نے اس شعر میں اپنے طرز زندگی کی ترجمانی کردی ہے۔ وہ ہر جگہ بیگانہ رہے کبھی گُھل مِل کر رہنا انہوں نے پَسند نہیں کیا۔ لکھنو میں رہے تو وہا ں کے تمام شعرا سے ان کی چشمک رہی۔ ان کو اپنی اِس بیگانہ روی کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ حیدرآباد میں بھی وہ مہاراجہ کشن پرشاد کے دربار میں رہ نہ سکے۔ پرنس معظم جاہ بہادر کے دربار میں بھی وہ رہ نہ سکے۔ فانیؔ اور دوسرے شعراء سے جو حیدرآباد میں مقیم تھے ان کی نبھ نہ سکی اسی طرح سے وہ زندگی بھر سب سے الگ تھلک رہے ۔ غرض ان کی یہ بیگانہ روی انہیں اپے دور کا ایک یادگار شاعر بناتی ہے۔ اور اسی بات کو انہوں نے اپنے شعر میں پوری صداقت کے ساتھ پیش کردیاہے۔

فراق گورکھپوری:

فراق عہد حاضر کے مشہور غزل گو شاعر ہیں۔ ثبوت میں ان کی بہت ہی  مقبول غزل پیش خد مت ہے۔

بڑاکرم ہے یہ مجھ پر‘ ابھی یہاں سے نہ جاو؛بہت اُداس ہے یہ گھر ‘ ابھی یہاں سے نہ جاو

دھواں دھواں سی یہ شام اِلم ‘ فضاوں کے؛بجھے بجھے سے ہیں تیور‘ ابھی یہاں سے جاو

ہماری آنکھوں سے چُن لوکہ پھر کسی داسوں؛ نہ مل سکیں گے یہ گوہر‘ ابھی یہاں سے نہ جاو

تہمارے پاس یہ اندازہ ہو رہا ہےمجھے؛ کہ میراحال ہے بہتر ‘ ابھی یہاں سے جاو

ابھی تو سوے چراغوں نے آنکھ کھولی ہے؛ ابھی تو جاگتے ہیں گھر‘ ابھی یہاں سے جاو

ابھی درختوں کے جھُر مٹ پہ پڑنے والی ہے

کمندِ ماہِ منّور‘ ابھی یہاں سے نہ جاو

فراق کی غزل گوئی اپنے آپنے ایک سمندر ہے۔ جو ہندوستانی ثقافت کو اپنی غزل کا مرکزی خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے کے ذریعہ اصلاحی معاشرہ کا کام لیا ہے۔ بالخصوص  اس غزل کے پہلے شعر میں لکھتے ہیں مجھ پر بڑا کرم اور نوازش ہے کہ تم میرے گھر آئے ہو۔ اب میری یہی درخواست ہے کہ اور کچھ دیر کے لیے یہاں ٹہر جاو۔ محبوب کی آمد کیوجہ سے شاعر کا گھر بارہ نق ہو گیا ہے اور وہ چلاجائے تو پھر شاعر تنہا رہ جائےگا اور اس کا گھرویرانی کا منظر پیش کرےگا۔ دوسرے شعر کا مطلب ہے شام کا وقت ہے‘ سارا ماحول اداس ہے‘ اور نیم تاریکی میں لپٹا ہوا ہے۔ فضا پر گہری اداسی چھائی ہے‘ محبوب کو اپنے پاس پاکر اس سے اپنے ساتھ کچھ وقت گزارنے کی درخواست کرتا ہے۔ تیسرے شعر میں محبوب کے رخصت ہوتے وقت شاعر کی آنکھوں میں آنسو جو دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے ہیں‘ بے بہا موتی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آنسووں کا یہ قیمتی تحفہ قبول کرو‘ اور ابھی یہاں سے نہ جاو۔

 چوتھے شعر  کا مطلب ہے شاعر محبوب کی جدائی  میں بے حال اور بے تاب رہا کرتا ہے۔ لیکن اب جب کہ محبوب اس کے قریب ہے‘ وہ محسوس کرتا ہے کہ اگر محبوب چلا جائے تو یہ سکون ‘ پھر اضطراب میں تبدیل ہو جائے اس لیے وہ کہتا ہے کہ کچھ دیر اور ٹہرے ہو۔ غزل کے پانچویں شعر کا مطلب ہے ابتدائی رات ہے ۔ محبوب سے ملاقات میسر ہوئی۔ اب وہ رخصت ہونا چاہتا ہے شاعر کہتا ہ کہ چراغ جو دن بھر خوامیدہ تھے‘ تجھے ہوئے تھے‘ ابھی کچھ دیر پہلے روشن ہوئے ہیں۔ ابھی تو ساری رات پڑی ہے ابھی سے واپس لوٹنے کا ارادہ نہ کرو۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر فرماتا ہے طلوعِ ماہتاب کا منظر پیش کیا ہے۔ چاند کی روشن کرنیں ، ابھی کچھ دیر میں درختون کو چھونے لگیں گی۔ گویا چاند درختون کی چوٹیون پر اپنی کمند چھنکنے کی تیاری کررہا ہے۔ ابھی کچھ دیر اور ٹہر ے رہے۔

ناصر کاؔظمی:

ناصر کاظمی جدید غزل گو شاعر کی حیثیت سے اردو غزل کی بدلتی ہئیت کے ساتھ  ساتھ اپنے کلام کی معنویت بدلتے رہے۔ حالاں کہ وہ نجی زندگی میں بے روزگاری، مفلسی اور مصائب میں گزاری۔ پھر تقسیم ہند کے سلسلے میں انہوں نے بڑے ہولناک اور انسانیت سوز واقعات  کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسی لیے ان کی غزلوں میں درد و الم کو اپنی غزلوں کا حصہ بنایا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک نئی روایت کا آغاز تھا۔ کیوں کہ قدیم شعرا نے سوائے خواتین کی باتیں کرنے کے غزل میں اور کچھ نہ کیا تھا۔ اسی لیے ناصر کی غزلوں میں سادگی کے علاوہ گہری معنویت ملتی ہے۔ انہوں نے عا اور مانوس لفظیات میں غزل گوئی کی ہے۔ ثبوت  میں ایک غزل ملاحظہ فرمائیں:

شہر در شہر جَلاے گئے !!؛ یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے

اک طرف جھوم کر بہا ر آئی؛ اک طرف آشیاں جلائے گئے

اک طرف خونِ دل بھی تھا نا یاب؛ایک طرجشنِ جم مناتے گئے

کیا کہوں کس طرح سرِ بازار؛ عصمتوں کے دیئے بجھاتے گئے

آہ وہ خلوتوں کے سرمائے؛ مجمع عام میں لُٹا تے گئے

وقت کے ساتھ ہم بھی اے ناصرؔ؛ خسارہ خس کی طرھ بہاتے گئے

اصغر گونڈوی اردو غزل میں نئی لطافتیں پیدا کیں اور اس میں فکر و تامیل کے لیے نئی سمت نکالی ان کے اسالیب نے بھی اردو غزل میں نئے باب کھولے ۔ وہ ہم کو انگریزی کے مشہور شاعر درڈ سورتھ ی یاد لاتے ہیں۔ ان کےکلام میں وہی مدرائی (Transcenden) کی کیفیت شروع سے آخر تک چھائی ہوئی ملتی ہے جس سے ورد سورتھ کی شاعری ممتاز ہے۔ [59] جگر مراد آبادی اور یاس یگانہ چنگیزی نے اردو غزل کے جدید معمار ہیں۔ بالخصوص اصغر تصوف کے راستے اور فانی نے موت اور یاسیت کے راستے سے کائنات کی بدلتی فکر اور اس کی معنویت کی تلاش کی۔

ولیؔ اور نگ آبادی:

کوچہٴ یار‘ عین کا سی ہے؛جو گئی دِل‘ وہاں کا باسی ہے

پی کے بیراگ کی اُداسی سوں؛دل بھی بیراگی دادُاسی ہے

زلف تیری ہے موج‘ جمنا کی ؛پاس تِل اس کے‘ جیوں سناسی ہے

یہ سیہ زلف‘ تجھ زنخد اں پر؛ناگنی جیوں کنویں یہ پیاسی ہے

اے ولیؔ‘ جو لباس تن پہ رکھا

عاشقاں کے نزک لباسی ہے

یہ غزل ولی ؔ کے قدیم رنگ ِ سخن کی عکاسی کرتی ہے۔ حالاں کہ وہ دکنی بول چال میں شعر کہتے تھے۔ قدیم دکنی غزل کے مطابق اس غزل میں ہندوستانی  تہذیب کی جھلکیاں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ شاعر نے محبوب کے تصور پیش کیا  ہے۔ شاعر کہتا ہے میر امحبوب کا کوچہ میرے لیے ایسا ہی عزیز اور قابل احترام ہے‘ جیسے کاشی ۔ پھر جیسے بنارس میں دریائے گنگا کے کنارے کو بہ کو جوگی مراقبے میں مست مگن ہوکر جس طرح بیٹھے دکھائی دیتے ہوں۔ویسے ہی میرا دل بھی ایک جوگی جیسا کو چہ یار کا یاس بنا ہے۔

 شاعر  دوسرے شعر میں محبوب کے غم پوری دنیا کے مسروفیت ترک کر دیے ہیں۔ اور تمام زندگی  کی خوشیوں کو قربان کر دیا ہے۔اپنی محبوبہ کے غم میں بیراگ لیا ہے‘ اسی بنا پر  میرا دل بھی بیراگی اور اداسی سی چھائی ہوئی ہے۔ تیسرے شعر میں بھی محبوب کی پیشانی کو ہردوار سے تشبیہ دی ہے، جو ہردوار کے کنارے عبادت کی حالت میں بیٹھا ہے۔ چوتھے شعر میں شاعر کہے رہا ہے تیری  بل کھائی زُلفین‘ جمنا کی موج کی طرح ہے۔ چہرے  کا تل یو گی یا سنیاسی ‘ جمنا کے دھونی رمائے بیٹھا نظر آ رہا ہے۔ پانچویں شعر میں زنخداں کو شاعر چاہِ رنج بھی کہتے ہیں۔ بل کھا ئی ہوئی زلفوں کو محبوب کی تھوڑی کے قریب لہرارہی ہیں‘ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پیاسی ناگن پیاس  بُجھا نے کے واسطے کنویں پر آئی ہے۔ چھٹویں شعر کا مطلب ہے گفتگو اگر بے جان ہو تو بے مزہ  لگتی ہے۔اگر انسان کی گفتگو میں جان نہ ہو تو بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے۔ بحث و مباحث میں اگر لطف نہ ہو تو وہ مثل باسی غذا کی  رہے جاتی ہے۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر کہے رہا ہے عاشق کا کمال یہی ہے کہ وہ ہوش  و حواص سے بیگانہ ہو جائے۔ اور اپنا جامہ تار تار کردے۔ایسا عاشق جو اپنے لباس میں ملبوس ہو، حقیقی عاشقوں کے نزدیک پر فریب اور چھوٹا ہے۔

میر تقی میرؔ:

 دور متوسط کی غزل میں میر  سر فہرست ہیں۔ میر کی غزلوں کے چھ دیوان ہیں۔الاوہ ازیں مثنویاں، قطعات، رباعیات، قصائد اور واسوخت  بھی تحریر کیے ہیں۔ لیکن وہ غزل کے میدان میں سب سے  افضل ہیں۔ان کے بعد تمام شعراء ان کی عظمت کو قبول کیا ہے۔ کیوں کہ وہ ایک درد مند  اور حسّاس  شخص تھے۔ مصائب حیات نے انہیں نازک اور پُر درد بنا دیا تھا۔ ان کی شاعری میں  دردمندی، محرومی، ناکامی، زندگی سے مایوسی اور غم و الم کے احساسات کو بہ کو ملتے ہیں۔ اسی کا ایک نمونہ  ان کی یہ غزل ہے:

چلتے ہو تو چمن کو چلیے‘ سنتے ہیں کہ بہاراں ہے؛پات ہرے ہیں‘ پھول کھِلے ہیں‘ کم کم با دوبار اں ہے

رنگ ‘ ہو ا سے یوں ٹپکے ہے‘ جیسے شراب چواتے ہیں؛آگے ہو میخانے کے نکلو‘ عہد بادہ گُساراں ہے

عشق کے میداں داروں میں بھی‘ مرنے کا ہے وصف بہت؛یعنی مصیبت ایسی اٹھانا‘ کارِ کار گزاراں ہے

دل ہے داغ‘ جگر ہے ٹکڑے ‘آنسو سارے خون ہوئے؛لو ہو پانی ایک کرے‘ یہ عشقِ لالہ عذاراں ہے

کوہ کَن و محبتوں کی خاطر‘ دشت و کوہ میں ہم نہ گئے

عشق میں ہم کو میرؔ نہایت‘ پاسِ عزّت داراں ہے

 شاعر پہلے شعر میں محبوب کو دعوت دیتا ہے کہ وہ چمن کو ساتھ چلے۔ سُنا ہے کہ بہار آئی ہے۔ سبز پتے اپنا نکھار دکھا رہے ہیں۔ پھول مسکرارہے ہیں۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی ہے۔ اس شعر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں محاکات نگاری ہے۔ اس سے مراد کسی چیز کی ہُو بہو تصویر کشی کرنا ہے۔ بہار کے موسم میں چمن کی جو کیفیت  ہوتی ہے۔ شاعر یہاں موسم بہار کی ایسی منظر کشی کی ہے جس طرح مصور کرتا ہے۔ دوسرے شعر میں بھی موسم بہار کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ ہوا میں ایسی رنگینی اور سرمستی ہے کہ انسان پر نشا طاری ہو جاتا ہے۔ وہ اس فضا سے  ایسا سرشار ہو تا ہے جیسے شراب پلادی ہو۔

 غزل کے تیسرے شعر میں جولوگ عشق کے مردِ میدان  ہوتے ہیں وہ کسی بھی مصیبت نہ ڈرتے ہو اور اپنی جان کی بازی تک  لگا دیتے ہیں۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں یہ مستعد بے باک اور بہادر ہی کر سکتے ہیں یہ تصور پیش کیا ہے۔ چوتھے شعر میں عشق کو سخت ترین آزماشوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ محبوبہ کی محبت میں خونی آنسوں بہانے پڑتے ہیں یہاں تک کے جگر چور چور ہو جاتاہے۔اس طرح کی مشکلات کے بعد ہی عشق  میں کمال حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح محبت اور جذبات کی عکاسی کی ہے۔ آخری شعر میں کو ہ کَن سے مراد فرہادؔ کو لیا ہے۔ جس نے اپنی محبوبہ شیریں کی خاطر دودھ کی نہر جوے شیر لانے کے لیے بے ستون کا پہاڑ کاٹا تھا۔ اور عرب کا مشہور عاشق مجنو جس نام قیس تھا اس نے لیلیٰ کے عشق میں گرفتار تھا۔ میر نے اپنے عشق کو بڑائی بالکل اچھوتے انداز میں کی ہے۔ شاعر کہتا ہم بھی عشق میں فرہاد ار قیس سے کم نہیں۔ بلکہ ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ لیکن ہم اپنے عشق کی بڑائی کے لیے دوسروں کی کو خاک میں نہیں ملانا چاہتے۔ ہمیں ان کی عزت  کا لحاظ ہے۔ اسی لیے صحراؤں کی خاک چھاننے یا فرہاد کی طرح پہاڑ کا رخ نہیں کیا۔ورنہ ہم بھی دشت وکوہ رُخ کرتے تو  لو گ کوہ کَن اور مجبوں  کے نام سے ہمیں بھی بھول جاتے  تھے۔

مرزا غالبؔ:

 مرزا اسد اللہ خاں غالب کا پورا نام  ہے۔ مالی منفعت کی توقع پر انہوں نے بعض اُمرا‘ اور انگریز عہدہ داروں کی شان میں قصیدے بھی لکھے ہیں۔ لیکن وہ عزّتِ نفس کا پورا خیال رکھتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے  صرف انہیں  کی مدح کی ہے‘ جن کا رتبہ اس زمانے  میں بہت بلند تھا۔ ان کی گفتگو میں بڑے کمال کی جاذبیت ہو تی تھی اور وہ بڑے ظریف طبع بھی تھے۔ وہ ہر مذہب کے لوگوں کو چاہتے تھے۔ وہ شوخی مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے رندی اور سرمستی کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں۔ ثبوت میں ان کے خطوط ہیں جس میں انہوں نے  اپنی خوبیاں اور خامیاں دونوں پہلوؤں   کی وضاحت کر دی ہے۔ وہ فارسی شاعر  پر فخر کرتے تھے لیکن انہیں وہ مقام اردو سے ملا۔ وہ ابتدائی  شاعری میں مشکل گوئی میں مشہور تھے۔ ان کے اشعار فارسی کے دقیق الفاظ، پیچیدہ ترکیبوں اور دُور از کاز تشبیہوں اور استعاروں سے پُر تھے۔

غالب ایک ذہین دقاق فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ دیوان فکر شخص تھے۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت کے مشاہدات و احساسات اور حقائق ِ حیات سے گہری بصیرت ملتی ہے۔ان کی غزل گوئی میں جذبے کی حرارت سے جان پیدا ہو جاتی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ جذبات کی گہرائی ‘مشاہدات کی تازگی اور انفرادیت ہر جگہ ملتی ہے۔ یہی ان کی غز ل گوئی میں بھی اثرات نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ ان کی  غزل کا اسلوب آگلے شعراء پر نظر آتا ہے۔میر کی طرح غالب کی غزل گوئی  میں تہہ داری ہے ثبوت میں ان کی ایک غزل مع  خلاصہ ملاحظہ ہوں:

نہ ہوی گر مرے مرنے سے تسلی‘ نہ سہی؛امتحاں اور بھی ہو‘ تو یہ بھی نہ سہی

خارخارِ المِ حرستِ دیدار تو ہے؛ شوق‘ گلچینِ گلستانِ تسلی نہ سہی

لے پرستاں‘ خُم مے‘منہ سے لگاے ہی بنے؛ایک دنِ گرنہ ہو البزم میں ساقی‘ نہ سہی

نفسِ قیس‘ کہ ہے چشم و چَراغ ِ صحرا؛ گر نہیں شمعِ سید خانہ لیلی‘ نہ سہی

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے‘ گھر کی رونق؛ نو جہٴ غم ہی سہی‘ نغمہٴ شادی نہ سہی

نہ ستائش کی تمنّا‘ نہ صلہ کی پروا

نہ ہوئی غالبؔ اگر عمرِ طبعی‘ نہ سہی

غزل کے پہلے شعر میں  کہتا ہے کہ محبوب ستم پیشہ  ہے۔ سچے عاشق کی قدر کرنے کے بجائے اس پر طرح طرح کی مصیبتیں ڈھا تا ہے۔پھر اپنی سچی محبت دکھا نے کے لیے موت سے لڑ جاتا ہے۔ پھر بھی  محبوبہ کو یقین  نہیں آتا۔ اسی لیے عاشق کہتا ہے میں سب بڑ امتحانوں سے گزرگیا ہوں لیکن تمہیں اس پر بھی تسلی نہیں ۔ اگر اور کوئی امتحان ہو تو بتادینا میں اس سے بھی گزر جاؤنگا۔ دوسرے شعر میں  کہتا ہے تم سے ملاقات کی تمنّا ہی زندگی کا میری حاصل ہے۔میری تمنا اور شوق پورانہ ہو سکا تو  میرا شوق تسلی اور کامرانی کے گلستاں سے پھول توڑنے میں بھی کام سمجھو نگا۔ محبوب کے دیدار کی حسرت ایک پر لطف غم بن کر میرے دل میں ہے۔ یہی کافی ہے کیوں کہ محبوب کی حسرت اور تمنا جو لذت ہے وہ کسی سے کم نہیں۔ غزل کے تیسرے شعر میں شاعر کا خیال ہے مے پرستو، اے میرے دوستو‘آج محفل میں ہم سب موجود ہیں، اور خمِ مے بھی سامنے رکھا ہے۔ ساقی کا انتظار کب تک کہ وہ آئے اور جام شراب بھر کر دے‘ تب پئیں گے۔ ساقی اور جام موجود نہیں ہیں۔ نہ سہی آو آج ہم راست خُم سے منہ لگا کر پئیں گے۔

غزل کے چوتھے شعر میں شاعر کا خیال ہے قیس یا مجنوں ‘ لیلیٰ کے غم میں‘ صحراؤں میں دیوانوں کی طرح گھومتے رہے ۔یہاں تک لوگ مجنو کو دیکھنے آتے تھے۔ اس سے صحرا میں گویا ایک رونق ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ صحرا کا بیٹا ہے یااس کا چشم و چراغ ہے۔ دیوانگی کی حد تک گزرنےکے باجود   قیس ‘لیلیٰ سے نہ مل سکا‘ اور نہ  خآنہ لیلیٰ کی زینت ‘ یا اس کی روشنی نہ بن سکا۔ نہ سہی اچھا ہی ہوا۔ اگر وہ لیلیٰ کے سیہ خانہ کی زینت بنا رہتا ‘تو دنیا قیس کے ہنگامہ پر ورُجنون سے محروم رہ جاتی کیوں کے چاہت کی دیوانگی  کی مثال دینے کے لیے کسی اور کی دینا پڑتا۔ پھر دشت و صحرا ئیں بھی ویران بن جاتے۔ پانچویں شعر میں  شاعر کہتا ہے زندگی کی رونق اور چہل کسی نہ کسی ہنگامے پر موقوف ہوتی ہے۔ یہ ہنگامہ خوشی کا نہ سہی ۔ غم کا ہنگامہ بھی زندگی کی چہل پہل کو باقی رکھتا ہے۔ اگر زندگی میں کسی قسم کا  ہنگامہ نہ ہو تو ساقی اور سپاٹ اور بے جان بن جاتی ہے۔

 چھٹویں شعر میں  غالب کا خیال ہے  وہ نُد رت پسندی اور جدت پیدا کرنے کی خاطر فارسی کے کلاسیکی شعرا ءکی شاعری سے ‘ دُور از کار تشبیہی اشتعارے‘ ار دقیق الفاظ ‘چُن چُن کر اشعار میں سجائے تھے۔ پھر بھی معاصرین مذاق اڑاتے تھے۔اسی لیے اس کے  جوابات’ دیوان غالب‘ جگہ جگہ ہیں۔ پھر کہتے  ہیں اگرمیرے اشعار بے معنی معلوم ہوتے ہیں‘ تو ہواکریں ، میں اپنی شاعری کی تعریف اور ستائش کی تمنا  نہیں کر تا۔  نہ ہی اچھے  شعر کی صلہ کی پروا ہے۔ اس طرح آخری شعر میں جو لوگ عشق و عاشقی میں زندگی گذارتے ہیں۔اور مختلف قسم کی بے اعتدالیوں کو روا رکھتے ہیں۔ ان کی عمر فطری طور پر کم ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ مئے نوشی اور اسی قسم کے بے اصولیوں سے صحت متا ثر ہو تی ہے ۔ لیکن  یہاں شاعر زندگی سے زیاہ دل کے سکون کو اس طرح دیتا ہے اگرمے اوعر معشوق میسر ہو ں تو ایسے پر لطف لمحات کے سوا اور کیا چاہیے۔ خواہ زندگی کا عرصہ کچھ کم ہی کیوں نہ ہو جائے ۔ ایسی لمبی عمر کس کام کی جوخشک اور بے رنگ ہو۔ شاعر نے بے مزہ زندگی پر طنز کیا ہے ۔

مومن کی غزل گوئی:

مومن کی شاعری میں عشق و عاشقی اور محبت کے علاوہ حکیمانہ اور اخلاقی مسائل بھی ہیں۔ لیکن غزلوں میں صرف عشق و محبت کا ذکر زیادہ ہے۔ دوسرے شعراء کے برعکس عشق  حقیقی یا خدا سے محبت کی باتیں نہیں کرتے۔ان کا محبوب گوشت پوشت کا انسان ہے۔ مادّی یا جسمانی محبت سے متعلق مشاہدات و کیفیات کو وہ پر لطف انداز میں پیش کیے ہیں۔ اسی لیے مومن کے زمانہ کو اردو غزل گوئی کا سنہرےدور سے موسوم کیا جا تا ہےان کے ہم عصروں میں غالب شیفتہ، ظفر اور ذوق جیسے اہم شعرا ء تھے۔ وہ ایسے ماحول میں پیدا ہوئے کہ میر ، سودا ، درد اور سوز جیسے استاذشعراء موجود تھے۔ اسی فضا میں ان کی غزل گوئی پروان چڑھی۔ ثبوت میں ان  کی یہ غزل   ہے۔

دیدہٴ حیرا نے تماشا کیا؛ دیر تک وہ مجے دیکھا کیا

آنکھ نہ لگنے سے‘ سب احباب نے ؛آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا

ان سے پری دَش کو‘نہ دیکھے کوئی؛مجھ کو ‘ مری شرم نے رسواکیا

جور کا شکوہ نہ کروں ‘ظلم ہے؛راز مرا ‘ صبر نے افشا کیا

رحمِ فلک ‘ اور مرے حال پر ؟؛ تونے کرم‘ اے ستم آرا کیا

دشمنِ مومنؔ ہی رہے ‘بُت سدا

مجھ سے‘ مرے نام نے یہ کیا کیا

مومن نے غزل پہلے شعر میں کہا ہے ۔ محبوبہ کے غیر معمول حُسن و جمال کو دیکھ کر ‘مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی۔ جب میں اس حال میں اسے دیکھا تو میری اس بے خودی کو ‘ محبوب تعجب سے  دیکھتا رہا۔ اس طرح میری ان حیران آنکھیں ایک تماشائی ماحول پیدا کر دیے۔دوسرے شعر میں ۔ میں نے اپنے عشق کو چُھپا نے کی کوشش کی‘ لیکن رات بھر نیند اُچاٹ رہنے لگی تو دوستوں کو یقین ہوا کہ میں نیند میں ہوں اور میں کسی کی نگاہوں کا شکار ہو گیا ہوں۔

 تیسرے شعر میں۔ محبوب محفل میں موجود ہونے کے باوجود میں نے شرم سے اسے نہیں دیکھا۔ یہ خیال ہو ا کہ اسے دیکھوں تو دوسروں کو میرے دل کی حالت معلوم ہو جائے گی ۔ لیکن محبوب کا پری چہرہ حسین کو نہ دیکھنا بجائے خو دآپنے آپ عجیب و غریب عمل تھا۔ میرا نہ دیکھنا ہی غضب ہو گیا۔ اور دوسروں کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ میرے دل میں چور ہے ۔ میری شرم ہی میری رسوائی کا باعث بن گئی۔ چوتھے شعر میں۔ میں نے محبوب کے ظلم وستم پر صبر سے کام لیا، اور کسی سے شکایت و شکواہ نہیں کیا۔ یہی دوسروں کے لیے تعجب سی بات تھی۔ میری خاموشی اور غیرت نے ہی میرے دل کا راز فاش کردیا۔ پانچویں شعر میں کہتا ہے ۔ مجھے موت آئی اور آخر کار اس نے مجھے غم و الم کی زندگی سے نجات عطا کی ۔ بظا ہر موت ایک مسیحا کا کام کیا۔ لیکن سچی  تو یہ ہے کہ ہجر کی زندگی ‘محبوب سے دوری کی زندگی خود موت سے کم نہیں تھی۔ چھٹویں شعر میں شاعر کا خیال ہے کہ انسان پر ساری مصیبتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔ اس لیے فلک کی ظلم و زیادتی کی شکایت کرتے ہیں۔ لیکن مومن کہتے ہیں کہ فلک کا کام تو ظلم کرنا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ آسمان بھی میرے حال پر رحم کر رہا ہے۔ تعجب ہے! بات یہ ہے کہ تونے (محبوب نے ) میرے حال پر اتنا ستم روا رکھا ہے کہ آسمان کو بھی مجھ پر رحم آگیا۔ اس طرح تیراستم میرے حق میں کرم ثابت ہوا۔ غزل کے آخری شعر میں مومن  میں اپنے تخلص کو لفظی معنوں میں استعمال کیا ہے جیسے بُت سے مراد محبوب ہے ۔ کہتے ہیں کہ  بت ہمیشہ مومن کے دشمن بنے رہے۔ یہاں تک کے میرے نام ‘ یا میرے تخلص پر ان کے  اثر بنے رہے۔

بہادر شاہ ظفر کی غزل گوئی:

بہادر شاہ ظفرؔ کو ابتدائے عمر سے شاعری سے لگاو تھا۔ پہلے شاہ نصیرؔ کو کلام دکھاتے تھے۔ پھر ذوقؔ اور آخر میں مرزا غاؔلب کو اپنا استاد مقرر کیےتھے۔  لیکن ان کا اپنا جداگانہ رنگ ہے۔ جس میں میر اوردرد کا انداز جھلکتا ہے۔ وہ بہت پر گو شاعرتھے۔  انہوں نے چار دیوان  لکھے ہیں۔ غزلوں کے علاوہ انہوں نے نعتیہ قصائد ‘ مرثیے‘ سلام‘ شہرآشوب‘ قطعات‘ دو ہے ٹھمریاں‘ بھجن اور گیت بھی لکھے ہیں۔ وہ اردو ، فارسی ، برج اور پنجابی  زبانیں جانتے تھے۔ ظفر کو عمر بھر شدید احساس تھا کہ وہ بابر ،اکبر اور عالمگیر جیسے عظیم بادشاہوں کے خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ لیکن حالاتِ زمانہ نے انہیں برائے نام بادشاہ بنا یا ہے۔ کیوں کہ غیر ملکی طاقتیں عملاًملک پر حکومت کررہی ہیں۔ ناکامی اور درد وغم کا یہ شدید احساس ان کے کلام میں ہر جگہ نظرآتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے بلبل ، قفس ، صیّاد‘ آشیانہ، جیسی غزلوں کی لفظیات میں اپنے تاثرات ِ حیات پیش کیے ہیں۔ ثبوت میں ایک غزل بطور نمونہ پیش خدمت ہے:

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا؛یا مرا تاج گدایا نہ بنایا ہوتا

خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے؛کاش خاکِ در ِ جانا نہ بنایا ہوتا

نَشّہ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو؛عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

صوفیوں کے جونہ تھا لائق صحبت ‘تو مجھے؛قابل جلسہٴ رِندانہ بنایا ہوتا!

تھا جَلا ناہی اگر‘ دُوری ساقی سے مجھے؛تو چَراغِ درِ میخانہ‘ بنایا ہوتا

روز معمورہٴ دنیا میں خرابی ہے ظفر

ایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا

شاعر پہلے شعر میں   خدا سے اس بات کی شکایت کرتا ہے کہ خدانے اپنی مہربانی سے بادشاہ توبنادیا ہے ۔لیکن دوسری طرف حالات ایسے تنگ کر دیے گیے ہیں کہ وہ مجبوری اور لاچاری کی زندگی گزارنا پڑا ۔ اسی لیے وہ شکوہ کرتے ہیں ۔اے خدا  اگر تو نے مجھے صحیح بادشا بنایا ہوتا اور  وہ قوت واختیار دیتا جو مجھے مطلوب ہے تو میں دنیا میں کوی اعلیٰ کام کرجاتا۔ یا پھر مجھے فقیر ی کا تاج عطا کردیا ہوتا تو میں فقیروں کی سی بے نیاز زندگی بسر کرتااور ہر چیز سے مستغنی ہوجاتا۔ دوسرے شعر میں  فریاد کر تا ہے  اگر میری قسمت میں خاکساری ہی لکھی تھی اور خاک میں ملنا ہی میرا مقدر تھا۔ تو اے خدا کاش تونے مجھے محبوب کے درکی خاک بنادیا ہوتا۔تو میں محبوب کے قدموں میں رونداجاتا تو میری حقیقی خوشی ہوتی۔

 تیسرے شعر کی فریاد۔ اے خدا تونے مجھے عشق کے جام سے سرشار کیا ہے۔ یہ نَشّہ مجھے بہت عزیز ہے۔ اور میں اس میں سر شار رہوں گا۔ لیکن اے خدا محبت طویل فرصت چاہتی ہےلیکن عمر کا پیمانہ  مختصر ہے۔ چوتھے شعر میں کہتے ہیں۔ ایسے لوگ جو تصوف کو اپنا شعار بنالیتے ۔ صوفی کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ خدا کی وحدانیت  کو اس قدر مانتے ہیں کہ وہ ہر چیز میں خدا ہی کے جلوؤں کو دیکھتے ہیں۔ ظفر کہتے ہیں کہ کاش خدا نے مجھے صوفیوں کی سی نظر عطا کی ہوتی۔ اگر میں سوفیوں کی صحبت کے لائق نہ تھا تو کم از کم مجھے رِندوں کی صحبت عطا کی ہوتی ( رِنداُس آدمی کو کہتے ہیں جو شرعی باتوں کی پابندی نہیں کرتا)۔جو دل میں آئے کر گرتا ہے۔ لیکن اس کے قول و فعل سے میں تضاد نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی میں ریا کاری نہیں ہوتی ۔ مزید شاعر فریاد کر تا ہے۔اگر میں صوفی نہیں بن سکتا تھا تو کم از کم مجھ میں جراتِ رند انہ ہوتی۔ تاکہ میں اپنے دل کے کہے پرعمل کرتا۔ پانچویں شعر کی فریاد ۔ اگر قدرت کو یہی منظور تھا کہ میں ساقی کے ہجر میں جلتا رہوں ۔ اگرجلنا ہی میرا مقّدر تھا تو میخانے کا چراغ بن کر جلتا ۔ تاکہ ساقی اور شراب سے قریب ہوتا۔آخری شعر میں ۔ بظاہر یہ دنیا بھلےہی پُر ہے لیکن آئے دن نِت نئے تباہیاں یہاں ہوتے رہتے ہیں۔ ہنگامے و جنگ اور قتل وخون یہاں کا معمول ہے ۔بے دردی اور بر بریت تو وہ دیرانہ ہی اچھا جہاں سکون ہی سکون ہو۔ خدانے یہ دنیا کیوں بسائی۔ اسی سے تع دیرانہ ہی بہتر تھا۔

داغؔ دہلوی کی غزل گوئی:

 داغؔ کا ابتدائی دور رام پور میں گذرا ۔ ان کی ماں بہادر شاہ ظفرؔ کے ایک شہزادے مرزا مخر سے وابستہ ہوئیں تو داغ بھی ۱۴ سال کی عمر میں دہلی آگیے۔ اس کے بعد دلیّ کے لال قلعے میں ان کی علمی و ادبی صلاحتیں پروان چڑحیں ۔ قلے میں اکثر شعر و سخن اور رقص و سرور کی محفلیں منعقد ہوا تی تھیں ان فضاؤں نےبھی داغؔ کی صلاحیتوں کو جلا بخشا۔ اور ستاد شعراء میں غالب، ذوق، مومن اور شیفتہ کی صحبتوں سے راست استفادہ کیا۔۱۸۵۷ء میں مرزا فخر و کا انتقال ہوا تو داغ رام پور واپس آگیے۔ لیکن چند دنوں کے بعد قدر دانی کی امید سے نوابوں اور اردو کے شہر حیدرآباد کا کوچ کیے۔ ۱۸۹۰ء میں حضور نظام نواب میر محبوب علی خاں کے دربار میں باریاب ہوئے ۔نظام دکن نے ان کی سرپرستی کی اور ماہانہ سترہ سو روپے تنخواہ مقرر کیے۔ اس زمانے میں اتنی موٹی اجرت کسی دوسرے شاعر کو نہ تھی۔

 داغؔ کے غزلوں میں طرز بیان کی شوخی اور نمایاں خصوصیت ہیں۔ انہیں زبان اور محاورہ پر غیر معمولی عبور تھا۔انہیں خیالات اور جذبات میں گہرائی نہ ہونے کے باوجود ان کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ انہیں  زبان کا شاعرمانا گیا۔ وہ  زبان کے چٹخاروں سے معمولی مضمون کو بھی چمکا نے کا ہنر رکھتے تھے۔ اسی لیے ان کی زبان کو مستند مانا جاتا  ہے۔ ان کے اشعار میں فارسی ترکیبیں، دقیق الفاظ دُور از کا ر تشبیہات اور استعارات  بہت کم ملتے ہیں ۔ وہ سادہ بول چال کی زبان میں  غزل کو سجا ئیں ہیں۔ ثبوت میں ان کی ایک غزل ملاحظہ ہوں:

ساز ‘ یہ کینہ ساز‘ کیا جانیں؛ناز والے ‘ نیاز کیا جانیں

کب کسی در کی گجبّہ سائی کی ؛شیخ صاحب ‘ نماز‘ کیا جانیں

شمع رُوآپ گو ہوئے لیکن؛لطف سوزو گداز کیا جانیں

جو‘ رہِ عشق میں قدم رکھیں!وہ نشیب و فراز کیا جانیں

پو چھیئے ‘مے کشوں سے ‘ لطفِ شراب؛یہ مزا پاک باز‘ کیا جانیں

جو گذرتے ہیں داغؔ پر صدمے

آپ بندہ نواز‘ کیا جانیں

داغؔ  پہلے شعر میں کہا ہے۔ محبوب عاشق کو نہیں پہنچانتا ‘ اس لیے اس کے دل میں کدورت اور کینہ ہے۔ جو لوگ دل میں کینہ اور کدورت رکھتے ہیں وہ میل ملاپ اور دوستی کو  نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح جو لوگ صرف ناز کرنا جانتے ہیں۔ یعنی یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ان کا خیال رکھیں۔ ان کی ہر بات کو مانیں ایسے لوگ نیازعاجزی اور انکسار کے جذبات سے ناواقف ہو تے ہیں۔ دوسرے شعر میں لفظ شیخ کا استعمال ہوا ہے۔ جواردو غزل میں  ہو تا ہے۔ یعنی ایسا شخص جو زاہدِ خشک ہو، جو ریا کاری سے کام لیتا ہو۔ ظاہری اعمال پر ضرورت سے زیادہ زور دیتا ہو۔ جو شرعی اصولوں کا تو پابند ہو لیکن ان کی روح اور اس کے مقصد سے نا واقف ہوتا ہے۔ داغ کہتے ہیں کہ شیخ صاحب نماز تو پرھتے ہیں۔ لیکن ان کی نمازیں بے جان ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی سے محبت  نہیں کی ۔کیوں کہ وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ پیشانی رگڑنے میں کیالطف پوشیدہ ہے۔ ایسا شخص خدا سے محبت کے مفہوم سے بھی واقف نہیں ہوتا۔

غزل کے تیسرے شعر میں شاعر کا خیال ہے یقیناً آب کا چہرہ شمع کی طرح روشن اور تاباں ہے۔ لیکن دل کے جلنے سے جو سوزو گداز پیدا ہو تا ہے۔ یا جس طرح شمع کسی غم میں جلتی ار پگھلتی جاتی ہے۔ اس کیفیت سے آپ واقف نہیں۔  چوتھے شعر میں  جو لوگ عشق کے راستے کو اختیار کرتے ہیں وہ رکاوٹوں ،مُشکلوں اور راستے کے نشیب و فراز کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔ عشق کا راستہ ہمیشہ پُر خطرا ہوتا ہے۔ لیکن عشق کا جنون راستہ کے نشیب و فراز کو خاطر میں نہیں لاتا۔ پانچویں شعر میں شراب کا مزہ تلخ ہوتاہے لیکن اس کے پینے کے بعد جو سُر ور پیدا ہوتا ہے ۔ اس کی لذت پینے والا ہی بیان کر سکتا ہے ۔ شیخ یا زاہد جس نے شراب پی ہی نہیں وہ اس کے لطف سے کیا واقف ہوگا۔

چھٹویں شعر میں زندگی کا لطف اسی وقت ہے جب انسان آنے والی موت کے امکان سے بھی واقف ہو۔ اگر موت نہ ہوت وطویل زندگی سپاٹ اور بے لطف  بن جائے ۔ داغ کہتے ہیں کہ حضرت خضر کو بہت لمبی عمر ملی ہے۔ وہ قیامت تک جئیں گے لیکن ایسی زندگی میں کوئی مزہ نہیں۔ کیوں کہ اس میں موت کا کھٹکا نہیں۔ آخری شعر میں شاعر کا خیال ہے میرے دل پر جو کچھ گذرتی ہے اِسے  میں ہی جانتا ہوں ۔ کیوں کہ عاشق کا دل ہی جانتا ہے کہ اسے کیسے صدمے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ بندہ نواز یعنی اے مہر بان آپ معلوم  ہے کہ میرے دل پر کیا گذر تی ہے۔ بندہ نواز کا لفظ محبوب کے لیے طنزاً استعمال ہوا ہے۔

غزل گو شعراء اجمالی جائزہ:

جگرؔ ایک رندی اور سرمستی کا راستہ تلاش کیا ہے۔ حسرت موہانی نے ان سے الگ ایک منفرد راستہ تصورِ عشق کو تلاش کر لیا ۔ انھوں نے غیر مادی تصور عشق کو مٹا کر مادی تصورِعشق پیش کیا۔اُنہوں نے ایک مادی پیکر محبوب کو دیا ۔ اس روایت سے تھوڑا الگ یاس یگانہ چنگیزی حقائق کی تلاش کرلی ۔ انہوں نے  ذات کی انانیت کے حوالے سے اہم نام پیدا کرلیا۔ رشید احمد صدیقی نے غزل کو اُردو شاعری کی آبرو کہا ہے۔ اس حوالے کی روشنی میں ہم یہ بات اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ جگرؔ مراد آبادی ان شعراء میں سے تھے جو جدید غزل کی آبرو تھے۔ جن شعراء نے غزل کو نئے زمانے کے تقاضوں سے آشنا کیا، ان میں حسرتؔ موہانی، فانیؔ اور اصغرؔ کے ساتھ جگرؔ کا نام لازم و ملزوم ہے۔ جگرؔ نے شاعری میں مختلف اندازِ بیاں اختیار کے ہیں اور ہر جگہ ان کی بے ساختگی، ندرتِ بیاں ، والہانہ پن، سادگی و شعریت سے بھر پور انداز ایک نئی فضا قائم کر دیتا ہے۔ عشق و محبت کے خمیر میں گندھے ہوئے اشعار قارئین کے دل میں اُتر جاتے ہیں۔ ان کی یہ غزل جس میں نغمگی بھی ہے، کیف و سرور بھی ہے :

محبت کار فرمائے دو عالم ہوتی جاتی ہے؛کہ ہر دنیا دلِ شائستۂ غم ہوتی جاتی ہے

ہر اک صورت، ہر اک تصویر مبہم ہوتی جاتی ہے؛الٰہی! کیا میری دیوانگی کم ہوتی جاتی ہے

ایک اور غزل

نہ اب مسکرانے کو جی چاہتا ہے نہ آنسو بہانے کو جی چاہتا ہے؛ستاتے نہیں وہ تو ان کی طرف سے خود اپنے ستانے کو جی چاہتا ہے

کوئی مصلحت روک دیتی ہے ورنہ پلٹ دیں زمانے کو جی چاہتا ہے؛تجھے بھول جانا تو ہے غیر ممکن مگر بھول جانے کو جی چاہتا ہے

اصغرؔ گونڈوی کی شاعری میں صوفیانہ رنگ نمایاں ہے لیکن اصغرؔ گونڈوی کا تغزل نہایت دل کش ہے۔ وہ مومنؔ اور حسرتؔ کی سی شعریت اور تغزل تو پیدا کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں لیکن مومنؔ اور حسرتؔ کی سی رندانہ جرأت ان کے یہاں نہیں۔ رشید احمد صدیقی نے فانیؔ بدایونی کو یاسیت کا امام لکھا ہے تو غلط نہیں کہا کہ فانیؔ بدایونی کی تمام شاعری ذاتی حالات اور داخلی کیفیات کا آئینہ ہے۔ فانیؔ بدایونی اپنے گھر اور باہر بہت سے صدموں سے دو چار ہوئے اور یاسیت کا یہی رنگ ان کی شاعری پر غالب آ گیا ہے۔ ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تری جوانی تک تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا دل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا گم کردہ راہ ہوں قدمِ اوّلیں کے بعد پھر راہ بر مجھے نہ ملا راہ بر کو میں بتا اب اے جرسِ کارواں کدھر جاؤں نشانِ گردِ رہِ کارواں نہیں ملتا حسرتؔ موہانی اور غزل کو لازم و ملزوم کہا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ حسرتؔ موہانی کا غزل سے جنون کی حد تک عشق ہے۔

 حسرتؔ موہانی نے غزل کے مردہ جسم میں نئے سرے سے روح پھونک کر اسے وہ توانائی بخشی کہ اُردو کی دوسری اصنافِ سخن اس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہ کر سکی۔ حسرتؔ کے رنگا رنگ دیوان میں عشق کا رنگ بھی بڑا گہرا نظر آتا ہے۔ ان کے تصورِ زن کو آنکھوں میں بسانے اور دل میں اُتارنے میں کہ ان کا کلام دل میں بسنے کے ہی قابل ہے ؎ آئینہ میں وہ دیکھ رہے تھے بہارِ حسن آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے اللہ رے جسمِ یار کی خوبی کہ خودبخود رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام بزمِ اغیار میں ہر چند وہ بیگانہ رہے ہاتھ آہستہ مرا پھر بھی دبا کر چھوڑا حالیؔ کی ابتدا کی غزلیں صفِ اوّل کا شاہکار ہیں۔ غزل کا ایک شعر ؎ عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید خودبخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا اُردو غزل کا روشن ستارہ مرزا اسد اللہ خان غالب شاعری کے افق پر صدیوں سے جلوہ گر ہے اور اس حقیقت سے کسی کو انحراف نہیں کہ میرؔ کے بعد غالبؔ اُردو شاعری کے میدان میں سب سے بلند اور منفرد نظر آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حالی ؔ کا خیال ہے:

’’ اردو میں ولیؔ سے لے کر انشاؔ اور مصحفی تک عموماً سب کی غزل میں صفائی سادگی روز مرے کی پابندی ، بیان میں گھلاوٹ اور زبان میں لچک پائی جاتی ہے۔ ان کے بعد دلّی میں ممنونؔ غالبؔ، مومنؔ اور شیفتہ وغیرہ کے یہاں فارسی ترکیبوں نے اردو غزل میں بلاشک زیادہ دخل پایا۔ مگریہ لوگ بھی اعلا درجہ کے شعرا کو سمجھتے تھے جس میں پاکیزہ اور بلند خیال ٹھیٹ اردو کے محاورے ہیں اداہوجاتاتھا۔ ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ غزل می اعلیٰ درجے کا شعر ایک یادو سے زیادہ نہیں نکل سکتا باقی بھرتی ہوتی ہے۔ اگلے شعر اشتر گربگی کی کچھ پروانہ کرتے تھے۔ ایک دو شعر اچھال نکل آیا باقی کم وزن اور پھسپھسے شعر وں سے غزل کا نصاب پورا کر دیا۔ ہم لوگ یہ کرتے ہیں کہ اشعار کو فارسی ترکیبوں سے چست کردیتے ہیں ۔ تاکہ بادی النظر میں حقیر نہ معلوم ہو ں بات یہ ہے کہ یہ لوگ انھی معمولی خیالات کو مدّت سے مختلف شکلوں میں بندھتے چلے آتے تھے بہت باندھتے تھے اس لیے اردو وز مرے کا سرشتہ اکثر ہاتھوں سے جاتا رہتا تھا۔ بہ ایں ہمہ غزلیت کی شان ان کے تمام کلام میں پائی جاتی ہے۔‘‘[60]

اس دور کی سب سے بڑی خصوصیت استعاروں اور تشبیہوں کی جدت اور افراوانی بھی ہے۔ تشبیہوں اور استعاروں میں نازکی اسی وقت آتی ہے جب زبان میں جامعیت پیدا ہو گئی ہو۔ چوں کہ زبان وادب جامیعت کی ایک بلند تدریجی ارتقائی منزل پر پہونچ گئی تھی اس لیے لکھنو اور دہلی کے تمام شعراء نے یہی فن اسی طرح کی زبان و بیان کا استعمال کیاہے۔لیکن مومن  نے غزل کو روایت کے سانچے سے نکال کر باہر کی فضاؤں (ان کا محبوب اور رقیب دونوں کھلی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں ) ہر شاعر کی طرح مومنؔ کی شاعری بھی عشق کے مثلث کے گرد گھومتی ہے۔ مومنؔ کا محبوب پردہ نشین ہے۔ وہ اپنی غزلیات میں اپنے محبوب کی نقاب کشائی کرتے ہیں۔ ان کی غزلیات میں محبوب کا عکس کچھ اس طرح منور ہے:

میرے آنسو نہ پوچھنا دیکھو کہیں دامان تر نہ ہو جائے؛رشکِ دشمن بہانہ تھا سچ میں نے ہی تم سے بے وفائی کی

عشق کی رنگا رنگی اور محبت کے جنون کو انہوں نے لفظوں کا جامہ اس طرح پہنایا ہے

عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں؛مومنؔ آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

یہ سچ ہے، عشق و محبت کسی کی میراث نہیں۔ یہ جذبہ فقیر و ولی کے دل میں بھی جاگ سکتا ہے اور بادشاہ کی بادشاہت اور اس کی انا و تکبر پر بھی غالب آسکتا ہے۔ پھر تخت و تاج کی کس کو پروا، بس مرنا جینا عشق ہے، صحراؤں ، جنگلوں ، مرغ زاروں ، محلوں میں عشق ہی جلوہ دکھاتا ہے۔ جنونِ عشق کے حوالے سے کئی بادشاہ اور ان کی محبت و سلطنت تاریخ کے اوراق میں سما چکی ہے۔ جہانگیر اور نور جہاں کی مثالی محبت نے بھی اپنی چمک دمک دکھائی لیکن محبت اور بادشاہت کے حوالے سے میری نگاہ بہادر شاہ ظفرؔ کے کلام پر جا کر ٹھہر گئی ہے۔ بہادر شاہ ظفرؔ کو بھی اپنے محبوب سے بات کرنی اور اس کا دیدار کرنا پڑا ہی مشکل ترین نظر آ رہا ہے کہ حالات ان کے حق میں نہیں ہیں۔ با اختیار ہوتے ہوئے بھی کاروبارِ زندگی اور محبت کے معاملے میں بے اختیار نظر آتے ہیں۔ کس قدر متاثر کن اور سوز و ساز سے آراستہ یہ غزل ہے ۔

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی؛ جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

ایسے عہد میں جہاں اردو غزل کے ہر ہر پہلو پر مخالفت ہونے کے باوجود اختر انصاری نے غزل کو ہئیت کو بدل دیا اور نئی معنویت کے ساتھ اپنے کلام کو پیش کیا۔ وہ رسمی مضامین غیر شعوری طور پر درآئے جب کہ انہوں نے  روایتی غزل گوئی سے پوری طرح اجتناب کیے بقول نظیر صدیقی ان کی غزلیں ’’ رسمی عناصر سے پاک غزلیں اس دور میں کہیں ، جب غزل کا بڑے سے بڑا شاعر رسمی عناصر کے بغیر اپنی غزل مکمل نہیں کر پاتا تھا۔[61]

  1. ترقی پسند ی کا دور :

 ترقی پسند شعراء میں ساحر، فیض ، مجروح، احمد ندیم قاسمی ، عدم ، جانثار اختر  اور علی سردار جعفری وغیرہ کے نام اہم ہیں۔جنہوں نے غزل کو ریختہ سے بھی منسوب کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ریختہ لفظ غزل کے لیے کیوں رائج ہو۔ اس کے اسباب کیا تھے۔ یہ لفظ اولین کون سی غزلوں کے لیے مستعمل تھا۔ ان سوالات کا جواب محمود شیرانی نے اپنی کتاب ’پنجاب میں اردو ‘میں اس بات کی صراحت کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ محمود شیرانی نے موسیقی کی اس نئی اصطلاح کی تلخیص میں حضرت علاؤالدین ثانی برناوی کی تصنیف کتاب چشتیہ کے حوالے سے لکھا ہے ۔’’اس اصطلاح سے موسیقی میں یہ مقصد قرار پایا کہ جو فارسی ، خیال ہندوی کے مطابق ہو اور جس میں دونوں زبانوں کے سرود ایک تال اور ایک راگ میں بندھے ہوں، اس کو ریختہ کہتے ہیں۔ریختہ کے لیے کسی پردے کی قید نہیں ہے۔وہ ہر پردے میں باندھی جاتی ہے۔ [62]‘محمود صاحب نے ریختہ کی اصطلاح پر موسیقی کے قاعدوں کے اعتبار سے کوئی خاص تحقیق نہیں کی وہ موجود کلام کے نتیجے پر یہ کہتے ہیں ریختہ اک ایسے نمونۂ کلام کا نام ہے جس میں فارسی اور ہندوی کلام کی آمیزش ہواور اسی ترتیب میں پرویا گیا ہو۔ متذکرہ معلوم  کے نتیجہ پر پہنچنے سے قبل  ہمیں امیر خسروؒ کی اس اصطلاح ریختہ پر غور کرنا ہوگال کیوں  لفظ ریختہ کا استمال کیا گیا تھا۔محمود شیرانی نے جن غزلوں کو ریختہ کے طور پر پیش کیا ہے اُن کی بحریں یہ ہیں:

مصرع:زحالِ مسکیں مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں
بحر:مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن
مصرع:سعدی کہ گفتہ ریختہ در ریختہ در ریختہ
بحر:مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن
مصرع:سن لے یشودا رانی تو لال کی بڈائی
بحر:مفعول فاعلاتن، مفعول فاعلاتن
مصرع:سوکھ چین کے منڈل موں ، سبھ جاکرو پکارا
بحر:مفعول فاعلاتن ، مفعول فاعلاتن

یہ تمام بحریں شکستہ ہیں ۔ موجودہ معلوم کی روشنی میں یہ  کہا جا سکتا ہے کہ ریختہ اول اول میں اس کلام کو کہا گیا ہوگا جس میں بحر کے اعتبار سے شکستن اور ریختن کے عناصرپوری طرح کارفرما نظر آئیں  ہوں۔ لفظ ریختہ پر مسلسل بحث کی ضرورت ہے کیوں کہ اس کی وضاحت محمود صاحب نے بھی اھوری چھوڑی ہے ۔ اسی لیے  ہم نصیر الدین ہاشمی کو ریختہ بمعنی غزل کے لیے اردو میں اپنی تحقیق کا بنیادی رکن بنایا جائے تو ریختہ کو ولی نے ۱۷۰۰ء کے بعد یعنی اٹھارہویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے سفرِ دہلی کے بعد گجرات یا دکن میں غزل کے طور پر استعمال کیا ہوگا۔ [63]ولی ؔ نے ریختہ کے لیے نہ تو شکستہ بحر کی کوئی شرط ملحوظ رکھی ہے ۔ نہ ہی فارسی اور ہندی کلام کی آمیز ش کی کوئی بندش خود پہ لگائی ہے اور مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے اپنے کلام کو ریختہ کا نام دینے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے۔ ثبوت میں یہ شعر ملاحظہ ہو:
امید مجھ کوں یوں ہے ولیؔ کیا عجب اگر؛اس ریختے کو سن کے ہو معنی نگار بند

یہاں پر سب سے ضروری بات یہ  ہے کہ ریختہ کی جگہ غزل نے کیوں لی؟ جب کہ غزل کی اصطلاح شاعری میں موجود تھی تو پھر ریختہ کی ضرورت کیوں ہوئی ۔ کن وجوہات کی بنا پر ریختہ لفظ کو غزل میں تبدیل ہونا پڑا۔یا ہو سکتا ہے ریختہ کسی ایسی صنفِ سخن کانام تھا جس کے قواعد غزل سے الگ تھے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط میں میر کے ریختہ سے متعلق بیانات کو محمود شیرانی ان کی ذہنی اُپج قرار دیتے ہیں۔میر نکات الشعرا کے خاتمے میں ریختہ کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ ’’اول آنکہ یک مصرعش فارسی و یک ہندی چنانچہ قطعہ حضرت امیر خسرو علیہ الرحمۃ نوشتہ شددویم آنکہ نصف مصرعش ہندی و نصف فارسی چنانچہ شعر میر معز (موسوی مرقوم) سویم آنکہ حرف و فعل فارسی بکارمی برند وایں قبیح است چہارم آنکہ ترکیباتِ فارسی می آرند۔‘‘اگر یہاں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ریختہ کی یہ جو شرطیں میر نے بیان کی ہیں اُن پر خود اُن کا وہ کلام پورا نہیں اُترتا۔ثبوت میں یہ اشعار ملاظہ فرمائیں:

پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ؛مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
کس کس طرح سے میرؔ نے کاٹا ہے عمر کو؛اب آخر آخر ان کنے یہ ریختہ کہا
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میرؔ ؛یہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے؛معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختہ کے؛بہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے
میرؔ کس کو اب دماغِ گفتگو؛عمر گزری ریختہ چھوٹا گیا

مندرجہ بالا اشعار میں بھی اگرریختہ کا لفظ نظر انداز کردیا جائے تو میرکے یہ شعر آسان ہندوی زبان کے ہیں جن کا اُن تمام شرطوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جن کو خود میرؔ نے بیان کیا ہے۔[64] اس پر سب سے قبل اردو کے دانشور محقق شمس الرحمان فاروقی نے اپنی کتاب ’’اردو کا ابتدائی زمانہ ‘‘ میں دہلی میں ریختہ اور غزل کی مناسبت پر اپنے اظہار خیال کچھ اس طرح کیا ہے۔ ’’فارسی کی طرف جھکاؤ اور فارسی (یا سبک ہندی) کی غیر معمولی توقیر و مقبولیت کا ایک ثبوت اس بات میں بھی ملتا ہے کہ دلی والے عرصۂ دراز تک ’غزل‘اور ’ریختہ ‘ میں فرق کرتے رہے۔یعنی وہ ریختہ میں کہی ہوئی غزل کو غزل نہیں صرف ریختہ قرار دیتے تھے۔غزل کی اصطلاح صرف فارسی غزل کے لیے تھی۔ ‘‘ اس بیان کا مآخذ قائم ؔ اور مصحفی ؔ کے ان اشعر میں دیکھا جا سکتا ہے:

قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ؛اک بات لچر سی بہ زبانِ دکنی تھی
مصحفی ریختہ کہتا ہوں میں بہتر ز غزل؛معتقد کیونکے کوئی سعدیؔ و خسروؔ کا ہو

مصحفی ؔکے ان اشعارسےصاف معلوم ہوتا ہے انہوں نے ریختہ اور غزل کی لفظی مناسبت کا اہتمام کیا ہے۔کیوں کہ ان اشعار میں  ریختہ اور فارسی غزل کو غزل سے پکارا ہے ۔ متذکرہ اردو غزل کی تاریخی مطالعہ کی روشنی میں ہم یہ کہی سکتے ہیں کہ غزل لفظ سے صرف فارسی غزل مراد لیتے تھے۔ ریختہ اور غزل پر ہونے والی اس گفتگو سے معلوم ہوتا ہے پچھلے تمام شعراءریختہ کو مذکر ہی سمجھتے ہیں اور اسے ہمارے کلاسیکل شعرا نے زیادہ تر مذکر ہی باندھا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے اوائل میں لفظِ ریختہ جہاں ایک طرف اپنے لغوی اور اصطلاحی معنی کی تشکیل میں گم تھا وہیں اس کے مذکر اور مؤنث ہونے پر بھی اختلافات تھے اس ضمن میں جرأت کا یہ شعر ملاظہ ہوں :

کہہ غزل اور اس انداز کی جرأت اب تو؛ریختہ جیسے کہ اگلی تری مشہور ہوئی

جرأ ت نے جس لفظِ ریختہ کو موئنث استعمال کیا ہے اس کی تاریخ بڑی عجیب اور دلچسپ ہوگی۔اس لفظ کا استعمال بارھویں صدی ہجری کی ابتدا سے تیرھویں صدی کے آخر تک ہوتا رہا اور غالب اور ان کے معاصرین کے یہاں بھی اس لفظ کو اردو غزل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔۱۹۸۰ءکے بعد ایک طرف تو جدید تر طرز احساس اور پیرائیہ اظہار نے غزل کو فکری اور فنی حوالے سے توانائی عطا کی اور اس میں عہدرواں کا رنگ رَس شامل کر کے اسے نئے امکانات کی بشارت دی۔ دوسری طرف اس عہد میں غزل کی ہیئت کو جامد قرار دے کر نئے ہیتی تجربات کا ڈول ڈالا گیا۔ ان تجربات کے نتیجے میں آزاد غزل ، معریٰ غزل اور نثری غزل جیسے ہیتی ڈھانچے وجود میں آئے۔ بقول پروفیسر وہاب اشرفیؔ’’ہر زمانے کے ادب پر مابعد جدیدیت کے نقطۂ نظر سے بحث ہو سکتی ہے،بلکہ ہو رہی ہے، اس لئے کہ اس کے تمام نُکات واضح طور پر کسی ایک عہد، زمانے یا رجحان میں قید نہیں، بلکہ یہ زمان و مکان کے بے حد وسیع تناظر میں اپنا کام سرانجام دیتے ہوئے نظر آتی ہے‘‘۔ بالخصوص ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کا خیال ہے’’ ناسخ سے پہلے اردو زبان اور غزل دونوں کو ریختہ کہتے تھے۔ ناسخ نے غالباً سب سے پہلے زبان اور غزل کو علیحدہ علیحدہ اردو اور غزل کے نام سے رواج دیا۔۔۔ غزل میں عاشقانہ جذبات کے علاوہ دوسرے مضامین ادا کرنے کی تذکیر وہ تانیث کے قواعد مرتب کیے۔ ردیف اور قوافی کے اصول بنائیں۔ ان تمام امور کو ملحوظ رکھیں تو ناسخ کو شعراےلکھنو کا استاد کہنا بے جا نہیں ہے۔‘‘[65]  اسی طرح کا ایک شعر نظیر اکبر آبادی کا ایک شعر ثبوت کے طور پر ملاحظہ فرمائیں:

عشق بھلا ہے تجھے زلف بتا ں کی قسم؛ ہجر کی شب سے کوئی شب ہے بڑی اور بھی

اس شعر میں’’ منکا ڈھلا‘‘ بڑاھسین محاروہ ہے اور آخر میں ’’بھلا‘‘ کا استعمال بڑا ندر اور نظیر کے حصے کی چیز ہے ۔ نظیر کی غزلوں میں لگاوٹ ، چوچلے اور چھیڑ چھاڑ کا مزہ بھی موجود ہے۔ معاملہ بندی میں بھی اسے پورا کمال حاصل ہے۔ رازو نیاز کا بھی سچا مصور ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ یہ سارے جزنیات بلکہ کسی تصنع اور خارجی آمیزش کے فطری سادگی کے ساتھ غزل کے قالب میں ڈھلے ہوئے میسر آتے ہیں ردیف میں نظیر کی غزل کو جرأت اور انشاکی غزلوں پر کھلی ہوئی فوقیت ہے۔[66]

اُردو غزل جدید ہو یا مابعد جدید اپنی بنیادی روایات، رسومیات اور شعریات سے جدا نہیں ہو سکتی۔ ہر دور کی غزل کا پچھلے دور سے ایک جدلیاتی رشتہ رہتا ہے۔ غزل کے تاریخی تسلسل کو قائم رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے۔ اسی لئے مابعد جدید تنقید کو مابعد جدید غزل کے پیچ و خم سلجھانے اور نمایاں کرنے کے لیے اس حقیقت کی نمائندگی کرنا ہے۔۱۹۷۰ء کے بعد کی غزل اپنے موضوعات، اسالیب ، لفظیات اور تکنیک کے اعتبار سے جدید غزل سے مختلف ہے۔ جدید غزل نے ساٹھ کی دہائی میں واقعیت زدگی کے رجحان کی لپیٹ میں ا ٓ کر اپنا تشخص کھو دیا ۔ جدید شعرا نے جدت کے شوق میں غزل کے منظر نامے پر ایسی مضحک تصویریں پیش کیں جو اس صنف کے مزاج سے کسی طور ہم آہنگ نہ تھیں۔عام طور پر اس رجحان کی حامل غزل کو جدید غزل کا ردِ عمل قرار دے کر اسے ’’جدید تر غزل‘‘ کا نام دیا گیا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ غزل بدیہی طور پر جدید غزل سے جُڑی ہوئی ہے ۔ جدید تر غزل یا مابعد جدید غزل کا اطلاق ستر کی دہائی میں ابھرنے والی غزل پر ہوتا ہے۔ جو اپنے ظاہر اور باطن کے لحاظ سے جدید غزل سے مکمل طور پر الگ حیثیت کی حامل ہے۔

جدید تر غزل نے اپنی شناخت کے لیے نہ تو لسانی تجربوں کو بنیاد بنایا ہے اور نہ واقعیت زدگی ایسے رجحانات کو، اس میں رنگِ میر کی بازیافت کی شعوری کوشش کا عمل دخل نظر آتا ہے نہ یہ اسالیبِ غالب و اقبال کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یہ غزل اپنے رنگ و روغن اور ظاہر و باطن کے لحاظ سے مختلف اور منفرد ذائقہ رکھتی ہے۔ جدید تر غزل نے غزل کی روایت کو استحکام اور توانائی عطا کی ہے۔ فنی اعتبار سے جدید تر غزل نے اظہار کے جن قرینوں کو رواج دیا ہے۔ وہ غزل کی تابانی کو بہت دیر تک قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جدید تر غزل میں ترکیب سازی، علامات و استعارات کا استعمال اور پیکر تراشی کے رجحانات ایک نئی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ ان تکنیکی عناصر کے باعث نئے معنوی تناظرات اجاگر ہوئے ہیں ۔جو عصری میلانات اور جدید حسیت کی مؤثر پیش کش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔علامتی اور استعاراتی اظہار نے غزل کی تہ داری اور رمزیت میں اضافہ کیا ہے۔جدید تر غزل میں تلمیحات کا استعمال ایک خاص انداز سے سامنے آیا ہے ۔

 قدیم تاریخی اشارے اور تلمیحات نئے سیاق و سباق میں گندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔جدید تر غزل میں اوزان و بحور کا تنوع دیدنی ہے۔ شعرا نے مروج اوزان میں ارکانِ عروضی کی کمی بیشی سے آہنگ کی نئی اور خوش آیند صورتوں کو رواج دیا ہے۔ اوزان و بحور کے ان تجربوں کے باعث عروضی نظام کا جمود تحرک آشنا ہوا ہے۔جدید تر غزل کی تعمیرو تشکیل میں جن شعرا نے اہم کردار ادا کیا اور تکنیکی ، اسالیبی اور صوتی حوالوں سے غزل کے نئے آفاق کی بشارت دی ، ذیل میں ان کی غزل کا اجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔[67]

پروین شاکر(۱۹۵۲ء تا ۱۹۹۴ء) جدید تر غزل کی سب سے مقبول شاعرہ کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ ان کے اولین مجموعۂ کلام ’’خوشبو‘‘ کا پاکستان اور ہندوستان میں والہانہ استقبال ہوا ، نوجوان نسل نے بالخصوص اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور یوں اس مجموعے کے باعث بہ قول پروین شاکر ’’محبت کے روایتی تحفوں‘‘ میں اضافہ ہوا۔ ’’خوشبو‘‘ میں جذبے کی شدت اور وارفتگی مخصوص نسوانی لحن میں ڈھلی ہوئی ہے۔ عشق و محبت کی گریز پا کیفیتوں اور جذباتی رویّوں کی ناقابلِ بیاں حالتوں کو پروین شاکر نے ہُنر مندی کے ساتھ شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ چاند ، خوشبو، پھول، بارش، جگنو، تتلی،گلاب، شہر اور چڑیا جیسے مخصوص استعارات و علامات اور ردا، نقاب، آنچل، گھونگھٹ، ساری، دوپٹہ ،دلہن، حنا ، جُوڑا وغیرہ جیسے نسوانی رنگ کے حامل الفاظ کے معنی خیز استعمال سے اظہار کی نئی جہات سامنے آئیں۔ پروین شاکر نے عورتوں کے احساسات، میلانات اور رویّوں کے حامل مضامین کو بے باکی اور جرأت کے ساتھ غزل میں شامل کر کے اس کے دائرۂ موضوعات کو وسعت بخشی۔

۱۹۷۰ء کے بعد ایک طرف تو جدید تر طرزِ احساس اور پیرایۂ اظہار نے غزل کو فکری اور فنی حوالے سے توانائی عطا کی اور اس میں عہدِ رواں کا رنگ رس شامل کر کے اسے نئے امکانات کی بشارت دی، دوسری طرف اس عہد میں غزل کی ہیئت کو جامد قرار دے کر نئے ہیئتی تجربات کا ڈول ڈالا گیا۔ ان تجربات کے نتیجے میں آزاد غزل، معریٰ غزل اور نثری غزل جیسے ہیئتی ڈھانچے وجود میں آئے۔ ان نئے سانچوں کی مضحکہ خیزی نے غزل کے تشخص کو مجروح کیا اور اس کی توانا روایت سے بغاوت اور انحراف کے رجحانات کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا۔ اس سلسلہ میں پروفیسر ظہیر احد صدیقی کا خیا ہے اردو غزل میں آگے چل کر جو معنی آفرینی ، بلند خیالی اور مضامین کی تازہ کاری دکھائی دیتی ہے، جس کی نمائندگی سودا، غالب اور انیس نے کی تھی۔[68]

 غزل کی شناخت اس کی ہیئت میں ہے یہی وجہ ہے کہ غزل نے ہر دور میں اپنی ہیئت کا دفاع کیا ہے۔ موضوعات، اسالیب، لفظیات اور تکنیک کے تجربات کے لیے اس صنف نے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھا ہے اور اپنے مزاج سے ہم آہنگ عناصر کو ہر دور میں قبول کرتی رہی ہے مگر ہیئت کے لحاظ سے ریختہ کی ابتدائی ہیئتی صورتوں کو چھوڑ کر صرف دو اہم تبدیلیوں کا سراغ ملتا ہے۔ اوّل مستزادغزل دو م غیر مردف غزل۔ یہ دونوں تبدیلیاں غزل کی ہیئت اصلی سے کسی طور متصادم نہیں۔ مستزاد غزلیں بہت کم کہی گئیں اور ان کی حیثیت ایک تجربے سے زیادہ کُچھ نہیں البتہ غیر مردف غزل کا سانچا ہر دور میں مروج رہا ہے اور اس میں اکثر و بیش تر غزل گو شعرا نے کلام کہا ہے۔

 قافیہ اور وزن کی طرح ردیف ہیئت کا لازمی ترکیبی عنصر نہیں ہے اس لیے ردیف کے ہونے یا نہ ہونے سے غزل کی ہیئت متأثر نہیں ہوتی۔۱۹۷۰ء کے بعد ہونے والے ہیئتی تجربات میں غزل کے مزاج کو نظر انداز کرتے ہوئے محض جدت یا تبدیلی کے شوق میں نئے نئے سانچوں کو متعارف کرایا گیا۔ ہیئت برائے ہیئت کی غرض سے ہونے والے ان تجربات میں کئی شعرا نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ضائع کیا اور غزل کے روشن منظر نامے کو دھندلانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ان ہیئتی تجربات کا اجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے شاعر مظہر امام نے سب سے پہلے آزاد نظم کے تتبع میں ’’آزاد غزل‘‘ کا تجربہ کیا۔ اس تجربے کے آغاز اور اس کے جواز کے متعلق وہ رقم طراز ہیں:

 ’’ غزل کی ہیئت میں واقعی انقلابی تجربہ آزاد غزل کی صورت میں ہوا،جو اب تک متنازع فیہ بنا ہوا ہے۔ اگر اپنے ذکر کو بد مذاقی پر محمول نہ کیا جائے تو یہ عرض کروں گا کہ اس تجربے کا پہلا گنہ گار میں ہی ہوں۔۔۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر آزاد نظم ہی کی طرح آزاد غزل کہی جائے اور مصرعوں میں ارکان کی کمی بیشی روا رکھی جائے تو غیر ضروری الفاظ اور فقروں سے نجات پائی جا سکتی ہے اور خیال کو وسعت بھی بخشی جا سکتی ہے۔ میں نے غزل کے دوسرے لوازمات اور صنفی خصوصیات پر حرف نہیں آنے دیا، چوں کہ ارکان کی کمی بیشی سے ہی آزاد نظم کی تشکیل ہوتی تھی،اس لیے مجھے اس کے مقابل ’’آزاد غزل‘‘ ہی مناسب نام معلوم ہوا۔‘‘[69]’’غزلوں کی ہیئت میں تبدیلی بظاہر محال ہے۔ مگر کیوں نہ اس ضمن میں بھی تجربہ کر لیا جائے۔۔۔  غزل کی ہیئت میں جو عناصر زیادہ اہم ہیں وہ قافیہ ردیف ہیں کہ انہی سے غزل کو صوت و آہنگ کی دل کشی ملتی ہے۔ ردیف کو نظر انداز بھی کر دیں تو قافیہ بہ ہر حال غزل کی جان رہے گا۔سو میں نے قافیہ ردیف کو نہیں چھیڑا، صرف کبھی مصرع ہائے اولیٰ میں اور کبھی مصرع ہائے ثانی میں چند رکن کم کر دیئے ہیں۔ اس طرح نہ تو غزل کی نغمگی مجروح ہوتی ہے اور نہ ہی مؤثر طور پر مضامین باندھنے میں دقت پیش آتی ہے بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ غزل کی یہ ہیئت بعض صورتوں میں صوت و آہنگ کے تقاضے زیادہ خوش اسلوبی سے پورے کرسکتی ہے۔‘‘[70]

  1. اُردو غزل میں نسائیت:

نئے ادیبوں نے ادب کے ان تمام سکّہ بند معیاروں پر سوالیہ نشانات قائم کیے ہیں جن کے سبب ، بالادست فکری اور ادبی طبقات کو ماضی کے ادبی اظہار میں مرکزیت اور مثالی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس سلسلہ میں  غزل کے مواد اور ہئیت کے رشتے سے متعلق کہا ہے’’ شاعر کا پہلا کام شاعری ہے وعظ دینا نہیں۔ اشتراکیت و انقلاب کے اصول سمجھانا نہیں۔[71] ادبی روایت میں آفاقی اصولوں کا تصور ہو یا جاگیر دارانہ مسلمات کی قطعیت ، غالب سماجی اداروں کی اجارہ داری ہو یا پدرانہ نظام پر قائم سماجی تصورات اور جنسی تفریق کی بالادستی ، اس نوع کے سارے معیارات گزشتہ برسوں میں شدت کے ساتھ زیربحث آئے ہیں۔ اس ضمن میں باقر مہدی کی یہ رائے عبرت ناک صورت حال کو نمایاں کرتی ہے :

’’خود ترقّی پسند اور جدید ادیبوں اور شاعروں کی تحریریں عورت کی جذباتی اور معاشرتی کش مکش کو مسخ کرکے پیش کرتی رہی ہیں ۔ خواہ وہ راشد کی نظم میں ہم رقص ہو یا مجاز کی ’آنچل کو پرچم بنانے والی باغی لڑکی ‘ ہو، عورت کے جسم و ذہن کی اتنی ہی اہمیت ہو جتنی مرد کی ، کہیں نظر نہیں آتی، اور غزل کی حکمرانی نے عورتوں پر تغزل کے دروازے اس طرح بند کیے تھے کہ وہ جان غزل تو بن سکتی تھی مگر خود غزل گو نہیں بن سکتی تھی ۔‘‘

اُردو شاعری کے معاصر منظرنامے میں جن شاعرات کی کاوشوں کو سنجیدہ مطالعہ کا موضوع بنایا جاسکتا ہے، ان کی اکثریت بھی جنسی بنیاد پر قائم تفریق کے مسائل کو بالعموم قابلِ اعتنا بھی نہیں سمجھتی۔ بعض شاعرات ، نسائی جذبات و احساسات کی پیش کش یا کسی حد تک اعترافی شاعری کی حدوں کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہیں اور معدودے چند ایسی ہیں جن کی نظموں میں اپنی صورت حال سے بے اطمینانی، قدرے انحراف اور مساوی حقوق کی طلب کا واضح رجحان ملتاہے ۔ مثال کے طور پر شفیق فاطمہ شغریٰ دانشورانہ موضوعات ، مذہبی اور روحانی محرکات سے دلچسپی اور گہری بصیرت کے سبب ، ایک ایسی شاعرہ کا تاثر قائم کرتی ہیں جس کے لیے جنسی بنیاد پر قائم معاشرہ کوئی قابلِ توجہ مسئلہ نہیں محسوس ہوتا۔ شفیق فاطمہ شغریٰ ’’بانوئے فرعون‘ ‘ کے کردار کی وضاحت میں اس کی معنویت یوں نمایاں کرتی ہیں :

’’ بانوئے فرعون کا کارنامہ یہ ہے کہ ان کی دعا کے الفاظ سے یہ عقیدہ ختم ہوجاتا ہے کہ سربراہ خاندان ، خاص طور سے شوہر سے غیر مشروط ہم آہنگی کا نام ’وفا ‘ہے ، اور عورت ایک ایسی مخلوق ہے جو اس وفا کی بنا پر باشرف ہے۔ فرعونی جلال و جبروت کو ٹھکراتے ہوئے صرف عائلی نظام ہی سے نہیں، بلکہ ناکسوں کے اہتمام خشک و تر سے بھی غیر مشروط ہم آہنگی کے وفادارانہ عقیدہ کو وہ مسترد کرتی ہیں جس کو آج سے ہزاروں برس پہلے مسترد کرنا، جان کا زیاں تھا۔‘‘

اس حاشیے میں وہ سماجی نابرابری کی تحریکات کے ساتھ جنسی نابرابری کی عالمی تحریک کا بھی ذکر کرتی ہیں اور اسے آزادیٔ اظہار کی بوکھلاہٹ کا نام دیتی ہیں اور ان الفاظ میں اپنے موقف کی مزید وضاحت بھی کردیتی ہیں’’ یہ ضروری نہیں کہ ان خیالات کی بناء پر ، میں اُناثی تحریک کی گردِ کارواں سمجھی جاؤں ، سچ بات تو یہ ہے کہ اس تحریک کے رطب و یابس کا بوجھ اُٹھانا میرے بس کا روگ نہیں ۔‘‘شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اپنی نظم کے بین السطور میں ایک نسائی امیج کو مثالی اور انحرافی قرار دینے کے باوجود ، شغریٰ آزادیٔ اظہار کی ان سرحدوں کو چھونا نہیں چاہتیں جہاں مذہبی قدغن سے سابقہ پڑنے کا اندیشہ ہو ۔کم و بیش یہی صورت حال شاعرات کی غزل گوئی کی ہے۔

غزل گو شاعرات کا عام رویّہ تانیثی نقطۂ نظر کے اظہار کے برخلاف غزل کے مروجّہ موضوعات سے دلچسپی اور جنسی تفریق پر قائم ثنویت سے صرف نظر کرنے کی صورت میں سامنے آیاہے۔’ غزل کا معشوق بوجواہ اکثر بہت مبہم اور دینی اور انسانی معلوم ہوتا ہے۔ یعنی اس معشوقانہ صفات عام پر طور پر بہت بڑھا چڑھا کر بیان کئے جاتے ہیں،اس لیے اس لیے اس میں انسان پن بہت کم نظر آتا ہے اور اس باعث حالی کی طرح کے اخلاقی نقادوں اور ممتاز حسین یا کلیم الدین کی طرح غزل کی رسومیات سے بے خبر نقادوں کو شکایت کا موقع ہاتھ آتا ہے۔‘[72]لہذا بطور صنف سخن غزل کو مکمل اور وسیع بنانے میں بعض شاعرات نے اپنے عشقیہ جذبات کو خواب ناک محبوبیت کے ساتھ یا خود سپردگی کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔ کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی غزلوں کے تسلسل کے طور پر پروین شاکر ، رفیعہ شبنم عابدی اور عشرت آفریں کے اشعار میں حسّی اور جذباتی نسائیت کے عناصر ملتے ہیں ۔ مگر چوں کہ ان حسّی اور جذباتی مسائل کو کبھی نابلوغت سے وابستہ جذبات کا نام دیا گیا اور کبھی ان پر ناپختہ کار تجربے کا الزام عائد کیا گیا ، اس لیے تنقیدی دہشت گردی کی ہیبت نے اس رجحان کو بھی زیادہ پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر عمر کا سچّا تجربہ ، سچّے اظہار سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے اور اپنے مخصوص تناظر میں جینون تخلیقی رویّے کی حیثیت سے پہچانا جاسکتاہے ۔ اس لیے صرف نمونے کے طور پر یہ چند اشعار ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں جو فکری دبازت کی نفی ہی نہیں کرتے بلکہ خواب ناک نسائی احساس اور جذبے کی صداقت کی نمائندگی بھی کرتے ہیں :

دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگ؛مہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں(کشور ناہید)

کچھ یوں ہی زرد ، زرد سی ناہید آج تھی؛کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا نہ تھا

وہ خواہشِ بوسہ بھی نہیں اب؛حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں(فہمیدہ ریاض)

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی؛وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا

بارش سنگ ملامت میں وہ میرے ساتھ ہے؛میں بھی بھیگوں ، وہ بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ(پروین شاکر)

 ان اشعار میں سے بیش تر کو اعترافی شاعری کا نام دینا زیادہ مناسب ہوگا ۔ تانیثی نظریۂ ادب کے نقطۂ نظر سے اس رویّے کی اہمیت اس لیے بھی قابلِ توجہ بن جاتی ہے کہ احتجاج اور انحراف کی منزلوں تک پہنچنے والوں کے لیے ان مرحلوں سے گزرنا بڑی حد تک ناگزیر ہوتا ہے ۔ غزل عورت کی حیثیت سے اپنے وجود کا احساس ، نسائی جذبات کا اظہار یا اعتراف اور جنسی ثنویت پر قائم معاشرے سے انحراف جیسے مراحل اُردو میں تانیثی رویّے کے مختلف مدارج ہوسکتے ہیں ۔ جہاں تک نسائی منصب کے احساس کا سوال ہے تو ہمیں بعض ایسی غزلیں ملتی ہیں جو تخلیق کے تجربے کے مختلف مراحل کو کچھ اس انداز سے موضوعِ گفتگو بناتی ہیں کہ ان میں تخلیق کے مطلق عمل کے ساتھ تنقیدی اصطلاح میں ’تخلیقی عمل ‘ کے اسرار بھی کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

غزلوں کی ہیئت میں ان کی متعدد نظمیں فنّی لوازم کو زیادہ بہتر طریقے پر اپناتی ہیں اور صحیح معنوں میں اسی نوع کی نظمیں نسائی جمالیات کے ضمن میں ان کی کاوشوں کا منفرد ثبوت پیش کیے گئیں ہیں۔ جن غزلوں میں نسائی رویّوں اور تانیثی رجحان کی پہچان اور تعیّن قدر، کے اس جائزے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ادبی اور تنقیدی اظہار میں تانیثیت کی شمولیت کے بعد ادبی فکر و فن کے تناظر کے افق میں کیوں کر وسعت پیدا ہوئی ہے ؟ اُردو میں چوں کہ تانیثی نظریے کو کسی طاقت ور رجحان کی صورت میں ابھی پنپنے کا موقع نہیں ملا ، اس لیے انفرادی کوششوں کی اہمیت کے باوجود ابھی نسائی جمالیات کی تشکیل ہونا باقی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس نسائی جمالیات میں تانیثی نقطۂ نظر کے ساتھ ادب کی تفہیم ، ہئیت و مواد کے توازن اور تخلیقی فن پاروں کے تعیّن قدر کے مسائل نئے سرے سے مرتّب ہوں گے اور اسی صورت میں ہم تانیثیت کو نظریے کی سطح سے بلند کرکے فنّی سطح تک لاسکتے ہیں۔    [73]

  1. مشاہدات:

 اصناف فنون لطیفہ میں غزل کا میدان بہت وسیع رہا ہے۔ دنیا جہان کے متنوع موضوعات غزل میں سما گئے ہیں۔ سنجیدگی، متانت اور ماتمی کیفیات کے ساتھ ساتھ طنز اور ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ بھی اس صنف میں موجود ہے ۔غزل کا استعمال قلم کار، نغمہ نگار،گلوکاراوں کے علاوہ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے علاوہ تصوف، عقائد اور مابعد الطبیعیاتی مسائل  کے لیے غزل کا استعمال کیا گیا ہے۔موضوعاتِ غزل میں جو کچھ بھی شامل ہو سکے ہونا چاہئے تاہم ایک بنیادی شرط پر کہ کسی صورتِ حال یا واقعے یا فکر کو محض بیان کر دینے کا نام غزل نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ شاعر اپنا احساس اور تجربہ اپنے اندازِ اظہار میں شامل کرے اور قارائین اور ناظرین کو یہ باور کرا سکے کہ اس نے کس حد تک کسی صورتِ حال کا اثر لیا ہے۔ بالخصوص اردو غزل کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ یہ مختلف ذہنی کیفیات اور جذبات و احساسات کی آئینہ دار ہے اس میں حسن ع عشق کی واردات و کیفیات اور زندگی کے اخلاقی پہلو دل چسپ انداز میں نظم کیے جاتے ہیں‘ اردو شاعری کی اس صنف میں بڑی کشش جاذبیت اور وسعت ہے۔

قدیم شعرا نے اس صنف کو آگے بڑھانے اور اس میں وسعت و گہرائی پیدا کرنے میں بڑ محنتیں کی ہیں۔ سترھویں صدی کے آخر میں غزل نے خاصی مقبولیت حاصل کرلی تھی یہاں تک کہ ولی، سراج، حاتم، مظہر، سودا، میر، سوز، درد، اور قایم نے غزل کو نئے رنگ میں رنگ دیا۔ انہوں نے غزل کو نئی زندگی دی اس میں دل کشی اور جاذبیت پیدا کر کے اس کو زندگی کے قریب کردیا۔ اس کے بعد غزل نے ایک نئی کروٹ بدلی اور اٹھاوریں صدی کے آخر میں ولی و لکھنوں اسکولوں کا قیام عمل میں آیا ۔ ان دونوں اسکولوں نے غزل کو زندگی سےقریب کردیا۔دلیّ میں مومن ، غالب اور ان کے شاگردوں نے غزل میں سنجیدگی ، گہرائی و گیرائی اور اردو زبان و ادب کی باریکیوں ، لطافتوں اور نزاکتوں سے غزل کو نیا آہنگ عطا کیا۔[74] بالخصوص اگر ہم  اثرؔ کی غزل گوئی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اثرؔ کی غز لیں جذبات عشق کا بیان کرتی ہیں۔ جس میں شدید داخلیت کا اندازہ ہوتاہے۔

 عشق کے جن جذبات کو موضوع بحث بنایا ہے وہ ارضی محبت کے لیے ضروری ہیں لیکن جہاں کہیں محبت کا ذکر آبھی گیا ہے یا جس جگہ مثالی عشق کا ذکر کیا ہے وہا یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ اب ان کے محبوب کا تعلق اس دنیا ئے آب گل سے نہیں رہا‘ ان کے کلام کا بڑاحصہ ایسے عشق میں ڈوبا ہوا ہے جکو مادرائی نہیں زمینی عشق ہے۔ وہ محبوب سے اظہار محبت بھی کرتے ہیں، اس کے حسن و جمال کی تعریف بھی زبان پر لاتے ہیں۔ ۔ ہجر و فراق کا ذکر بھی کرتے ہیں، اپنی وفاؤں اور محبوب کی جفاؤں کا اظہار بھی ان کے یہاں موجود ہے ۔ وہ کبھی کبھی محبوب کی کج ادائیوں پر دل برداشتہ برداشتہ بھی ہوتے ہیں اور اپنی محبت جتا کر اس کی نگاہِ التفات کے طالب بھی ہوتے ہیں۔ وہ محبت کو ایک مقدّس فرض سمجھ کر انجام دیتا ہے ۔اثر کے یہاں عشق کے جذبات میں ڈوبے ہوئے اشعار بشتر جگہ ملتے ہیں جو ان کے اصلی اور سچے تصور محبت کی نشان دہی کرتے ہیں جیسے:

 مرض عشق دل کو زور لگا؛ جان بلب ہوں خیال گورلگا؛کہوں کیا خدا جانتا ہے صنم؛ محبت تری‘ اپنا ایمان ہے

نشہٴ عشق ،سبح ہے پینا؛ لیکن اس کا سنبھال مشکل ہے[75]

اس مقالہ میں غزل کی بدلتی ہئیت اور اس کی معنویت کو شعراء کے کلام کی روشنی میں حقائق کے ساتھ پیش کیا ہے۔ تاکہ ی  غزل کی بدلتی ہئیت سے  قاری (یا سامع) بھی شاعر کے تجربے کو محسوس کر سکے۔ غزل اردو شاعری کے ہر دبستان میں مقبول و عام صنف رہی ہے۔ کیوں کہ اس صنف میں پہلے صرف عشق و عاشقی کی باتیں ہوتی تھی یا پھر محبوب سے ہمکلام ہونا یا پھر روٹھنا منانے تک ہی محدود تھی لیکن جدید شعرا ء نے غزل کی وسعت کو اتنا آگے بڑھا دیا کہ اس میں متنوع موضوعات سما سکتے ہیں۔ غزل کے ہر شعر کا نفسِ مضمون الگ ہو سکتا ہے اور مجموعی طور پر غزل کا ایک تاثر بھی بن سکتی ہے۔

  1. مفروضے:
  2. ابتدائی غزل عورتوں سے باتیں کرنے تک محدود تھی یا پھر عورتوں کی زبان میں باتیں کی جاتی تھی۔
  3. غزل کی بدلتی ہئیت اور اس کی معنویت ہر عہد میں بدلتی رہی۔
  4. غزل میں وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
  5. اردو شاعر میں غزل کا مقام بلند ہے۔ اسے ہر عہد کے چھوٹے سے بڑے ہر شاعر نے طبع آزمائی کی ہے۔ غزل سے ہی  اردو شاعری کی پہچان بنی۔
  6. غزل کے ذریعہ فن کار اپنے تجربات واحساسات کو ترتیب کے ساتھ ردیف اور قافیہ کی پابندی میں رہ کر مختصر الفاظ میں سمندر کو کوزے میں بند کرتا ہے۔
  7. مقاصد:

مقالہ کے مقاصد میں اردو غزل کی بدلتی ہئیت کو استا شعرا ء کی آرا ، احساسات، فکر و فن اور ان کی معنویت کی عکاسی کرنا ہے۔ تاکہ غزل کے معنی مفہوم اور اس کا تاریخ پس منظر میں جائزہ  اشعار کے ثبوت میں لینا ہے۔ جس کے لیے حسب ذیل  مقاصد کچھ اس طرح قائم کیے گئیں ہیں۔

  1. اردو شعر و سخن میں غزل کی بڑھتی ہوئی اہمیت و افادیت کی بنیادی وجوہات معلوم کر نا۔
  2. غزل کا تاریخی جائزہ لے کر اس کی تفہیمات سے متعلق اپنی آرا بیان کرنا۔
  3. غزل کی بدلتی ہئیت کو عہد بہ عہد شعراء کے کلام کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس کی عصری معنویت  کا جائزہ لینا۔
  4. جدید غزل کی روایت کو استحکام اور توانائی کس طرح عطا کی ہے اس کی وضاحت فنی اعتبار سےکس طرح نئے قرینوں کو رواج دیا ہے اس کا تفصیلی جائزہ لینا۔
  5. غزل کو جہاں مرد شعراء اپنی مقبولیت کا حصہ بنا یا پھر صنف نازک کے ہر حصہ کو لفظوں میں ڈھالکر اسے ایک محبوب یا معشوقہ کی حیثیت سے پیش کیا ۔ وہیں خواتین شعراء نے بھی اپنے علم و ہنر سے پاک دامنی کو کس طرح  سے اپنے نرم و نازک احساسات کو غزل کا مرکزی خیال بنایا ہے اس کا جائزہ لینا۔
  1. محاصل:

غزل کی ابتداءً قصیدہ سے ہوئی جو عربی کی قدیم معروف صنف ہے۔ جس میں زورِ بیان، ندرتِ خیال، موسیقیت، رومانی اور نازک موضوعات اور حسنِ بیان میں خود اتنی جان تھی کہ تشبیب کے اشعار یا ابیات کو قصیدہ سے الگ کر کے بھی پڑھا یا سنا جائے تو ان کا اپنا ایک تاثر بنتا تھا۔ اس خوبی کی بنا پر اس کی ایک آزاد حیثیت ایک الگ صنفِ سخن کے طور پر معروف ہو گئی جسے ’’غزل‘‘ کہا گیا۔ غزل کا لفظ غزال سے نکلا ہے اور غزال ہرن کو کہتے ہیں غزل “ہرن کے گلے سے نکلنے والی اُس آواز کو کہا جاتا ہے جب وہ شیر کے خوف سے بھاگ رہی ہوتی ہے غزل کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا یا عشق و محبت کا ذکر کرنا بھی بتایا گیا ہے۔

اشعار پہ مشتمل مجموعہ غزل کہلاتا ہے اک غزل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے پہلے حصلے کو مطلع کہا جاتا ہے جس میں دو مصرے ہوتے ہیں پہلے مصرع کو مصرع اولیٰ اور دوسرے مصرع کو مصرع ثانی کہتے ہیں مطلع کے دونوں مصروں میں قافیہ اور ردیف استمال ہوتا ہے لیکن کسی غزل میں ردیف لازی جز نہیں ہے قافیہ کے بعد اگر ردیف نہ بھی لکھا جائے تو کوئی قید نہیں۔غزل کے دوسرے حصے کو مقطع کہا جاتا ہے جس کے پہلے مصرعے یعنی مصرع اولیٰ میں اکثر شاعر اپنا تخلص استمال کرتا ہے اور دوسرے مصرعے یعنی مصرع ثانی میں قافیہ اور ردیف استعمال ہوتا ہےغزل کے تیسرے حصے کو اشعار کہا جاتا ہے یعنی مطلع اور مقطع کے درمیاں والے مصروں کو اشعار کہتے ہیں۔ ان تمام امور کو  مد نظر رکھتے ہوئے راقم نے غزل کی بدلتی ہئیت اور اس کی معنویت کو مقالہ کا مرکزی خیال بنا یا ہے۔ جس میں شعراء کے کلام کو عہد بہ عہد تبدیلیوں کا احاطہ کرنے کےساتھ ساتھ ان کی معنویت کو بھی  ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جو غزل کی تبدیلیوں کو سمجھنے میں معاون ہو سکتی ہے۔

 ویسے تو غزل  پر متعدد مقالات پیش کیے جاچکے ہیں۔ لیکن میری معلومات کے مطابق اس موضوع پر لکھے جانے والا یہ پہلا مقالہ ہو گا۔ جس کے مطالعہ سے نہ صرف غزل کی تاریخ کا علم ہو گا بلکہ ساتھ ساتھ اس کی اہمیت و افادیت کا بھی احاطہ کرنے میں آسانی ہوگی۔  راقم نے اس موضوع پر مقالہ اس لیے قلم بند کیا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اردو  ذریعہ تعلیم  کے مدارس، کالجیس اور جامعیات میں اس صنف کو پڑھا یا جاتا ہے لیکن اس کی عصری معنویت کا طلباء کو صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ یہی وہ صنف ہے جو مشترکہ کلچر کی حفاطت کرتی ہے۔اس میں نغمہ نگاری بھی ہے جاذبیت بھی ہے۔ یہ فن اپنے آپ میں مکمل ادب ہے۔ اسی لیے غزل کو اگر ادب کی ماں کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔اسی لیے راقم نے ابتدا میں غزل کا مختصر تعارف بیان کرکے اس کی فنی افادیت پر زور دیا ہے۔

 اس کےبعد غزل کی تاریخ  پیش کی ہے اور اگلے حصہ میں تفہیم غزل پر مفصل دانشوروں کی آرا کی روشنی میں وضاحت کی ہے۔اس طرح اس کے بعد کے حصہ میں غزل کی ہئیت پر جامعہ بحث مشاہدوں کی بنیاد پرکی ہے۔اگلے حصہ میں غزل کو ادوار میں منقسم کر کے اس  کاحاطہ کیا گیاہے۔ بالخصوص ترقی پسند غزل اور جدید غزل  کے ساتھ ساتھ مابعد جدید غزل اور غزل گو شعراء کے کلام کو ثبوت کے طور پر پیش کیاہے۔ تاکہ مقالہ مستند ہوسکے۔مقالہ کا آئینی نقطہ غزل کی ہئیت اور اس کی عصری معنویت کو بیان کرناہے۔ یہ مقالہ بنیادی طور پر اردو شعرا ، ریسرچ اسکالر اور ٹیچرس  کے لیے زیادہ مفید ہوگا اور آئندہ غزل پر تحقیق کرنے میں معاون ہوگا۔ اس مقا لہ کے ذریعہ  ہندوستانی تہذیب اور مسلم دانشور شعراء کی خدمات کا بھی جائزہ لیاگیا ہے۔ ویسے تو یہ مقالہ غزل کی ہئیت  پر ہے لیکن اس سے جڑے معتبر شعراء حالی اور اقبال جیسے اہم شعرا کی آرا اور ان کے کلام کو بھی موقع کی مناسبت سے حوالہ جات کی روشنی میں مضمون مکمل کیاگیا ہے۔

  1. تجاویز:

غزل  کی بدلتی ہیت  اور اس کی معنویت نے جو اہمیت حاصل کی ہے، اس کے پیشِ نظر نظم و نثر میں تصوّرِ زن کے حوالے سے تحقیق و تنقید کے نئے امکانات منظرِ عام پر آرہے ہیں۔اس فن کے ذریعہ دانشورں نے علم و ہنر کی خدمات لی ہے۔ یہی وہ فن ہے جس سے عریانیت اور فحاشی کو بھی فروغ ملا تو اودھ  کی طوائفوں نے غزل کے ذریعہ  ہی اپنے چاہنے والوں پر    گہرے اثرات مرتب کیے۔ غزل کو ابتدا میں  صرف اور صرف محبوب کے تصور اور خواتین سے باتیں کرنے تک محدود تھی۔ ایسی صورت حال میں الطاف حسین حالی  اور علامہ اقبال جیسے کئی شعراء اپنے کلام کے ذریعہ اصلاحی معاشرہ  کا کام لیا۔جیسے اقبال کی غزل کا ایک شعر ثبوت میں:

دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ؛کہ یہی ہے اُمتّوں کے مَرضِ کُہن کا چارہ[76]

 راقم الحروف نے اس مقالہ کے ذریعہ کچھ ایسے سوالات اُٹھائیں ہیں جن  پر غور وخوص کر کے آج بھی  اس ترقی یافتہ دور میں نہ صرف غزل کی اہمیت و افادیت کو مزید تقویت دی جاسکتی ہے بلکہ اس کے ذریعہ پھر ایک بار ہمارے بزگ ہستیوں کی فکروں کو زندہ کیا جاسکتا ہے۔

  1. غزل فہمی عام کی جائے تاکہ طلبا میں فن کار کے مقصد کو سمجھنے کی فہم و ادراک پیدا ہو سکے
  2. غزل کو بجائے تفریح کے باقاعدہ نصاب میں پڑھا یا جائے تاکہ اس کے فن سے وقفیت ہو سکے
  3. غزل کو پھر سے نئے زاویے سے اسٹیج سے جوڑا جائے ۔ جس میں عورتوں سے باتیں یا محبوب کے تصور سے ہٹ کر اصلاحی فکر کو زندہ کیا جائے تاکہ مشرقی تہذیب مسخ ہونے سے بچے۔
  4. غزل کو کسی مذہب سے نا جوڑا جائے ۔ یہ ایک ادبی صنف ہے صرف اسے فن کے اعتبار سے اس کی خوبی اور خامیوں پر نظر رکھیں۔
  5. غزل کا شاعری میں ہمیشہ سے بلند مرتبہ رہا ہے اسی لیے اس کی افادیت کو عام کیا جائے تاکہ غزل سماج کا حصہ بن سکے۔

جسم تو خاک ہے اور خاک میں مل جائےگا؛ میں بہر حال کتابوں میں ملوں گا تم کو[77]

انشاؔ سے نہ روٹھ ‘ مت خفا ہو؛ ہے بندہٗ جاں نثار تیرا[78]

[1] Md Nisar Uddin (Jan Nisar Moin), Deptt. of Women Education, Maulana Azad National Urdu University, Gachibowli. Hyderabad-32. Telangana State. India. e.mail.Jannisarmoin1@gmail.com Contact No.9394578313

[2] مقصود عمرانی،’ نئی غزل کا شعور‘،ص۳۲۶،مدھیہ پردیش میں اردو ادب کے پچیس سال، مدھیہ پردیش اردو اکادیمی، بھوپال،۱۹۸۱ء

[3] پروفیسر رشید احمد صدیقی،

[4] جدید غزل، از۔ رشید احمد صدیقی، (مطبوعہ بارِاول ۱۹۵۵ء)ص۳

[5] علامہ اخلاق حُسین دہلوی،فن شاعری،ص۱۵۰،کتب خانہ انجمن ترقی اردو، جامع مسجد دہلی،جدید ایڈیشن ۲۰۱۰ء

[6]غزل کے لغوی معنی ہیں: “عورتوں سے باتیں کرنا” یا “عورتوں کی باتیں کرنا”، غزل اس آواز کو بھی کہا جاتا ہے جو ہرن کے گلے سے اس وقت نکلتی ہے جب وہ شیر کے خوف سے بھاگ رہی ہوتی ہے۔اس لیے چوں کہ اس میں وارداتِ عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہوتا ہے، شاید یہ نام پڑا۔ اصطلاحِ شاعری میں غزل سے مراد وہ صنفِ نظم ہے جس کا ہر ایک شعر الگ مضمون کا حامل ہو اور اس میں عشق وعاشقی کی باتیں بیان ہوئی ہوں خواہ وہ عشق حقیقی ہو یا عشق مجازی۔ لیکن آج کل غزل میں عشق و عاشقی کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی موضوع زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز فارسی زبان سے ہوتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اسکے عربی زبان سےتعلق سےبھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ عربی صنف قصیدہ میں موجود تشبیب سے ہی غزل کی ابتداء ہوئی۔غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتاہے جس کے دو نوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف یا صرف ہم قافیہ ہوتے ہیں اور باقی اشعار میں سے دوسرا مصرع قافیہ میں پہلے شعر کی پابندی کرتا ہے۔ آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اور اسے مقطع کہا جاتا ہے۔ کلیم الدین احمد نے غزل کو ایک نیم وحشی صنف ِ سخن قرار دیا ہے، یعنی غزل کے اشعار میں موضوع کے حوالے سے کوئی ربط نہیں ہوتا اور ہر شعر کا موضوع اور مطلب الگ الگ ہوتا ہے۔غزل اردو ادب میں کامیابی اور پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر دور میں ہمارے ساتھ چلتی رہی۔ ہمارے مزاج اور ہمارے انفرادی اور اجتماعی حالات اور ہمارے تہذیبی رویوں کے ساتھ غزل نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا اور آہستہ آہستہ ہماری تہذیبی روایات ، حالات اور بدلتے ہوئے مزاج کے باطن میں بیٹھی رہی۔ غزل نے ہمیں نہیں چھوڑا تو ہم نے بھی غزل کو نہیں چھوڑا ۔ بہت سی اصناف مثلاً قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی وغیرہ کو ہم لوگوں نے چھوڑ دیا لیکن غزل ابھی تک ہمارے ساتھ چل رہی ہے۔غزل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا نمائندہ جس نے اس کو باقاعدہ رواج دیا تھا۔ وہ ولی دکنی تھا۔ لیکن ولی سے غزل کاآغاز نہیں ہوتا اس سے پہلے ہمیں دکن کے بہت سے شعراءکے ہاں غزل ملتی ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ، نصرتی،غواصی، ملا وجہی ۔ لیکن ولی نے پہلی بار غزل میں تہذیبی قدروں کو سمویا۔

[7] ایم حبیب خان،کلاسیکی شعرأ پر تنقیدی مقالات،’غزل کافن‘،ص۳۵۲، مغربی پاکستان اُردو اکیڈمی ،لاہور،۱۹۹۸ء

[8] ڈاکٹر خالد محمود،ادب کی تعبیر،’ غزل کے مزاج داں۔ اختر سعید خاں‘،ص۸۳،

[9] ڈاکٹر ثریّا خانم، جوش ملیح آبادی فکر وفن،ص۴۳،انیس کتاب گھر،رجستھان،۲۰۱۰ء

[10] حامد کاشمیری، اردو تنقید (منتخب مقالات)،ص۳۸۔۳۹، ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی،۱۹۹۷ء

[11] ڈاکٹر یوسف حسین خان ،اردو غزل ،ص۱۳۷۔۱۳۶، آئینہ ادب،لاہور،۱۹۶۴ء،اصفہانی ، راغب، امام: مفردات القرآن، اردو ترجمہ از مولانا محمد عبدہ فیروز پوری،۱۹۷۱،ص۷۵۳

[12] ڈاکٹر اسلم انصاری، اردو شاعری میں المیہ تصورات(میر سے فانی تک)،ص۳۰،مغربی پاکستان اردو اکیڈمی،لاہور،۲۰۰۸ء

[13] ڈاکٹر انور صابر، پاکستان میں اُردو غزل کا اِرتقاء، ص۔۱۸،مغربی پاکستان اُردو اکیڈمیِ،لاہور،۲۰۰۲ء

’’شعرا ء نے غزل میں حیات انسانی کے تقریباً سبھی کو موضوع بنایا ہے اور آج غزل  محض غزل ہونے کے علاوہ ایک نقطہ نظر ایک انداز فکر ، ایک اصول تلخیص ایک سلیقہ اظہار کی نمائندہ صنف ہے۔ داخلی کیفیات میں جذبات و احساسات کے اظہار کے ساتھ ساتھ خارجی واقعات و حالات کو بھی غزل نے داخلی کیفیات میں جذب کر کے بیان کیاہے۔ اس طرح ، فراق گورکھپوری کے خیال میں روایتی طور پر موضوع غزل تین حصے ہو گئے ہیں۔الف) معرفت و تصوف۔ب) حیات و کائنات اور اخلاقیات پر انعفالی یا فلسفیانہ طور پر حکم لگانا۔ج) عشق مجازی‘‘ اس ضمن میں ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنی تصنیف لکھا ہے ’’اردو شاعری کا مزاج ‘ کے ص ۲۲۴ میں مجنو گورکھپوری سے اتفاق کرتے ہوئے رائے ظاہر کرتے ہیں۔’’ چوں کہ غزل مزاجاً گیت کی اساس پر استوار ہے اس لئے غزل کو عربی قصیدہ کی تشبیب کے بجائے ایرانی’جامہ‘ سے منسلک کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔‘‘

[14] Oxford, English-English-Urdu Dictionary, NCPUL,(2015),New Delhi, Ghazal means

“A traditional form of poetry in Persian or Urdu. It has a fixed number of verses and is usually set to music”

[15] ڈاکٹر ابو سعد اصلاحی، عربی زبان و ادب،ص۱۲۵،رام پور رضا لائبریری، رامپور، یوپی۔۲۰۰۴ء

[16] بقول جابر علی سید ،ڈاکٹر انور صابر، پاکستان میں اُردو غزل کا اِرتقاء، ص۱۹،مغربی پاکستان اُردو اکیڈمیِ،لاہور،۲۰۰۲ء

[17] علامہ شبلی نعمانی، شعرالعجم، ج۵، ص۳۴طبع نو، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد،۱۹۷۲،ج۱۔ص۲۶

[18] خورشید الاسلام، اردوادب آزادی کے بعد، علی گڑھ،۱۹۷۳ء، مشمولہ:مولف، وارث کرمانی، اردو شاعری کے نیم و ادریچے،’اردو غزل اور فارسی روایت‘ص۲۲، رام پور رضا لائبریری،یوپی، رامپور،مبطع،پرنٹولوجی انک، نئی دہلی،۲۰۰۵ء

[19]Encarta Dictionary, میںـGhazal’ معنی اور مفہوم اس طرح درج ہے.غزل کے

  1. Lyric poem: an Arabic, Persian, or Urdu lyric poem consisting of five more couplets that may each have a different theme.
  2. Poem set to music: a lyric poem in Urdu, set to music and sung in a distinctive style. Ghazal are popular in Indian films.

[20] ڈاکٹر انور صابر، پاکستان میں اُردو غزل کا اِرتقاء ،ص۱۵۸۔۱۵۹،مغربی پاکستان اُردو اکیڈمیِ،لاہور،۲۰۰۲ء

[21] پروفیسر عنوان چشتی، آزادی کے بعد دہلی میں اردو غزل،ص۱۵،اردو اکادمی،دہلی،۱۹۹۸ء

[22] دلی کا دبستان شاعری ۔ ص 24

 [23] ڈاکٹر نَتالیا پری گارِنا،روسی مترجم، اُسامہ فاروقی،(منظوم تراجم: اختر حَسن ، مُضطر مَجاز،مِرزا غالِب۔ادارہ ادبیاتِ اردو، حیدراآباد،۱۹۹۷ء

[24] اردو کی برقی کتابیں، محمد یاقوب آسی،فاعلات،’اصنافِ شعر‘،http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/Faelaat.html۔ ایکسس آن ۱۳جنوری ۲۰۱۶ء

[25] ۲۰؍اکتوبر ۱۹۶۴ء کو ڈاکٹر شمیم حنفی کے ساتھ  ایک ا نٹرویو میں کہا تھا۔مشمولہ:آفاق احمد’شناسائی-فرق کی غزلوں سے‘،ص۶۴،ترتیب و تہذیب، گوپی چند نارنگ، فراق گورکھپوری شاعر، نقاد، دانشور، ساہتیہ اکادمی،۲۰۰۸ء

[26] پرویز شھر یار،’فراق گورکھپوری کی غزل گئی‘، مشمولہ: ،ترتیب و تہذیب، گوپی چند نارنگ، فراق گورکھپوری شاعر، نقاد، دانشور، ص۷۵،ساہتیہ اکادمی،۲۰۰۸ء

[27] شمس الرحمٰن فاروقی، اُردو غزل کے اہم موڑ، ص۱۳،غالب اکیڈمی،نئی دہلی،۲۰۰۱ء

 مندرجا بالا چاروں تصورات کے کچھ ذیلی تصورات بھی ہیں جن کا شعر کے لیے لازمی نہیں قرار دے سکتے، ہاں اگر ان کی پابندی کی جائےتو شعر میں خوبی پیدا ہو گی، مثلاً بامعنی لفظ(مضمون) کے تصور کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ شعر کی بندش چست ہو، یعنی اس میں کوئی غیر ضروری، یا کم زور یا معنی کےلیے نامناسب لفظ نہ ہو۔ وزن و بحر کے تصورات کا ایک تقاضا یہ ہے کہ شعر میں روانی ہو۔ کیوں کہ یہ ممکن ہے کہ کوئی عبارت موزوں ہو (یعنی بحر اور وزن کی شرطیں پوری کرتی ہو) لیکن اس میں روانی نہ ہو یا کم ہو کلاسیکی زمانے میں مختلف شعرا کی درجہ بندی میں یہ سوال ہمیشہ زیر بحث آتا ہے ۔

[28] مقدمہ رباعیات رواں،ص۸، مشمولہ: محمد اقبال احمد خاں،اصغر گونڈوی(آثار و افکار‘،ص۲۹۱۔۲۹۲،مغربی پاکستان اردو اکیڈمی،لاہور۔۱۹۹۴ء

[29] مکتوب جناب علی ظہیر بنام مقالہ نگار ۶ سمبتر۱۹۷۰ء مشمولہ: محمد اقبال احمد خاں،اصغر گونڈوی(آثار و افکار‘،ص۲۹۱۔۲۹۲،مغربی پاکستان اردو اکیڈمی،لاہور۔۱۹۹۴ء

[30] مقدمہ یادگارِنسیم۔ص۵، مشمولہ: محمد اقبال احمد خاں،اصغر گونڈوی(آثار و افکار‘،ص۲۹۱۔۲۹۲،مغربی پاکستان اردو اکیڈمی،لاہور۔۱۹۹۴ء

[31] بلبل و گل میں جو گذری ہم کو اس سے کیا غرض؛ہم تو گلشن میں فقط رنگ چمن دیھا کئے،مشمولہ: محمد اقبال احمد خاں،اصغر گونڈوی(آثار و افکار‘،ص۲۹۱۔۲۹۲،مغربی پاکستان اردو اکیڈمی،لاہور۔۱۹۹۴ء

[32] آکسفورڈ انگلش ۔ انگلش۔اردو ڈکشنری،قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو، نئی دہلی،۲۰۱۵ء

[33] ڈاکٹر ارشاد محمود ناشاد(ناشاد)، اردو غزل، تکنیک اور ہیئت کے خد و خال،

’’ اردو ادب میں اگرچہ صنف اور ہیئت انہی مروجہ معنوں میں مستعمل ہیں تاہم بعض اوقات یہ اصطلاحیں یوں باہم آمیخت ہو جاتی ہیں کہ ان کی علاحدہ شناخت اور انفرادی حیثیت گم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ہیئت صنف کے لیے اور صنف ہیئت کے لیے استعمال ہونے لگتی ہے۔ جیسے غزل بہ یک وقت صنف بھی ہے اور ہیئت بھی۔ کیوں کہ یہ دونوں حیثیتیں اس کے وجود میں ضم ہیں۔ لیکن جب مروجہ مفہوم کے مطابق ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ غزل صنف نہیں ہے کیوں کہ صنف کا تشخص مواد اور موضوع سے ہے، ابتدا میں جب غزل محض عشقیہ ماحول کی ترجمان تھی اُس وقت تک اسے صنف کہنے میں تامل نہیں ہو سکتا مگر اب جب کہ غزل کے دائرۂ موضوعات میں پوری انسانی زندگی اور اس کے میلانات و امکانات شامل ہو چکے ہیں، اس لیے اس کو کسی محدود دائرے میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

[34] ایضاً۔۔ اسی طرح مثنوی، رباعی، فرد، قطعہ وغیرہ اصنافِ سخن نہیں ہیں بلکہ شعری ہیئتیں ہیں۔ شعری اصناف میں حمد، نعت، قصیدہ، مرثیہ اور ہجو وغیرہ شامل ہیں کہ یہ کسی ہیئت میں بھی ہوں اپنا موضوعاتی دائرہ رکھتی ہیں ۔ اسی موضوعاتی دائرے کو اپنی شناخت کا ذریعہ بناتی ہیں۔ چوں کہ یہ کسی متعینہ ہیئت کی پابند نہیں، اس لیے ان کا نام لینے سے ان کے ڈھانچے کا تصور پیدا نہیں ہوتا۔ صنف اور ہیئت کے خلط ملط سے پیدا ہونے والی صورتِ حال ہے۔اس ضمن میں دیگر دانشوروں میں ڈاکٹر محمد شمس الدین صدیقی کے خیال میں ہئیت’’صورتِ ذہنیہ سے لے کر صورتِ نوعیہ جسمیہ تک جو کچھ ہے فارم ہے۔ اصل وہ جذباتی تحریک ہے جس نے ادیب یا شاعر کو کُچھ لکھنے پر مجبور کیا۔” اور سید احتشام حسین نے لکھا ہے’’ہیئت اپنے وسیع مفہوم میں ایک طرف تو وہ طریقِ اظہار ہے جو فن کار استعمال کرتا ہے اور دوسری جانب جذبات سے بھرا ہوا وہ پر اثر اور کسی حد تک مانوس اندازِ بیان ہے جو شاعر اور سامع کے درمیان رابطہ اور رشتہ کا کام دیتا ہے۔ اس میں زبان، زبان کی آرائش، اثر اندازی کے تمام طریقے، مواد کے تمام سانچے، حسن اور لطافت پیدا کرنے کے تمام ذریعے اور ان سب سے بڑھ کر مواد کے ساتھ ہم آہنگی کا احساس دلا کر ایک مکمل فنی نمونہ پیش کرنا سبھی کچھ شامل ہے۔‘‘

[35] ‘‘The external appearance of somebody / something; The shape of somebody / something۔ Shape of a body; the boundary-line of an object; model; a mould; a species; mode of being; mode of arrangement; order; regularity system as government; beauty of style and arrangement; established practice: ceremony; behavior; fitness of efficiency for any undertaking; etc۔ ’’

[36] “A term used to designate the organization of the elements in a work in relation to its total effect۔ There is a definite sense in which literature is form۔ Verse-form means the organization of rhythmic units in a line and stanza form is the organization of a verse۔ Form defines the pattern or structure or organization which is used to express the content۔” –(Syed Shahid Hussain)

“When we speak of a form of a literary work we refer to its shape and structure and to the manner in which it is made۔ Form and substance are inseparable، but they may be analysed and assessed separately۔” — (J۔ A۔ Cuddon)

[37] ڈاکٹر ارشاد محمود ناشاد(ناشاد)، اردو غزل، تکنیک اور ہیئت کے خد و خال،

ہیئت کے لیے خیال (مواد) بنیادی توانائی کی حیثیت رکھتا ہے، جب فن کار کے ذہن میں ایک خیال جنم لیتا ہے تو وہ اس کا مؤثر اظہار چاہتا ہے، چوں کہ خیال ایک غیر مرئی داخلی جذبے کا نام ہے اس لیے اس کو اپنے اظہار کے لیے کسی مرئی اور خارجی پیکر کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فن کار ایک ایسا سانچا تلاش کرتا ہے یا وضع کرتا ہے جو اس مقصد کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔ نتیجتاً ہیئت کی تخلیق ہوتی ہے گویا خیال کے لیے ہیئت ایک مرئی اور خارجی سانچے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح روح کسی جسم کی موجودگی کے بغیر اپنے اظہار سے قاصر ہے اسی طرح خیال اور جذبے کی نمود ہیئت کا ذریعہ اور واسطہ قبول کیے بغیر ناممکن ہے۔ روح اور جسم کے باہمی اشتراک سے زندگی کا ظہور ہوتا ہے اور خیال و ہیئت کی نامیاتی وحدت سے فن کی آفرینش ہوتی ہے۔ ہیئت کی تخلیق کے بارے میں ایک عام تصور تو یہ ہے کہ ہیئت تخلیق کا رکے ذہن میں پہلے سے موجود ہوتی ہے اور وہ اس کا اظہار فن کی تخلیق کے ذریعے کرتا ہے گویا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر تخلیقی تجربہ اپنے ساتھ ہیئت بھی لے کر آتا ہے یا پھر یہ کہ تخلیقی تجربے کی نمود کے ساتھ ہی ہیئت کی تعمیر و تشکیل شروع ہو جاتی ہے۔ یوں ہیئت کے آئینے میں تہذیب و تمدن کے نقوش جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ہیئت خیال کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے عصری معیارات کے تشخص کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ فن کار چوں کہ معاشرے اور عصر کا آئینہ بردار ہوتا ہے اس لیے ہیئت کی تخلیق کے وقت وہ عصری میلانات اور تہذیبی معیارات کو پیشِ نگاہ رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تمدن اور تہذیب کی تبدیلی سے ہیئتوں کا اثر کم ہونے لگتا ہے اور ان کی تازہ کاری ماند پڑنے لگتی ہے۔ ہیئت کے ذریعے معاشرے کا احساسِ جمال نکھرتا ہے اور اس کی پسند و نا پسند کا معیار بلند ہوتا ہے۔ ہیئت قاری کے ذہن میں کچھ شعری امکانات پیدا کر دیتی ہے جو اسے فن پارے کی تفہیم میں مدد دیتی ہے اور یوں وہ فن پارے سے حظ اٹھا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر غزل کا نام آتے ہی قاری کے ذہن میں وارداتِ حسن و عشق، حکایاتِ وصال و ہجر، مسائلِ زمین و زمان، ردیف قافیے کی تکرار، تغزل، ایجاز و اختصار اور دیگر غزلیہ عناصر بے دار ہو جاتے ہیں اور وہ غزل کے مطالعے یا سماعت کے دوران میں ایک خاص لذت کشید کرتا ہے۔تہذیب اور معاشرے کی تبدیلی سے خیال میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور خیال کی تبدیلی بعض اوقات ہیئت میں تبدیلی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ [واضح رہے کہ ہیئت کی تبدیلی کا مطلب اس کے ظاہری ڈھانچے کا انہدام نہیں ہے۔] شروع شروع میں نیا (تازہ) خیال اپنے آپ کو منوانے اور مقبول بنانے کے لیے پُرانی ہیئت کا سہارا لیتا ہے کیوں کہ ہیئت کا قاری کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق ہوتا ہے۔ اور آزمودہ کاری، ذہنی قربت اور افادۂ قدیم کے پیشِ نظر ہی ہیئت نئے خیال کو قاری تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہے، اگر خیال کے ساتھ ہیئت بھی نئی ہو تو شاید معاشرہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دے یا بہت دیر بعد جا کر اس کے اثرات ظاہر ہوں۔ بعض اوقات خیال کی فرسودگی اور کہنگی کو چھپانے کے لیے بھی ہیئت کی تازگی کو کام میں لایا جاتا ہے چوں کہ ہیئت کوئی جامد یا معین چیز نہیں ہوتی اس لیے اگر تجربات اور واردات میں تبدیلی پیدا ہوتی رہے تو ہیئت میں تبدیلی بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ تجربات کا نیا رنگ و آہنگ اظہار کے لیے مناسب اور تازہ ہیئتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ اس موڑ پر فن کار یا تو پُرانی ہیئت میں جزوی تبدیلیاں کرتا ہے یا پھر کسی نئی ہیئت کی تعمیر کرتا ہے، یہاں یہ کہنا خارج از آہنگ نہیں کہ نئی ہیئتوں کی تلاش صرف جدت کی خواہش نہیں ہوتی کیوں کہ ہیئت برائے ہیئت سے فن کار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔

[38] ناشر و مصنف ،پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر غیاث الدین فاروقی ،اردو شاعری اور تصوف تاریخی و تنقیدی جائزہ،ص۶۶۲۔۲۰ چہ۰۹ء حیدرآباد۔

[39] شمس الرحمٰن فاروقی، اُردو غزل کے اہم موڑ،ص۱۳۷۔۱۳۸،غالب اکیڈمی، نئی دہلی،۲۰۰۶ء

[40] پروفیسر عائشہ سعید، اردو غزل کے عناصر اربعہ،ص۱۲،کتابی دنیا، دہلی،۲۰۰۵ء

[41] ڈاکٹر ارشاد محمود ناشاد(ناشاد)، اردو غزل، تکنیک اور ہیئت کے خد و خال،

اُردو ادب کی تشکیل میں ہندوستانی زبانوں کا رنگ روپ بھی شامل ہے ۔اس لیے اُردو نے اپنے ادبی آغاز میں ہی جہاں ہندوستانی زبانوں کی شاعرانہ ہیئتوں مثلاً جکری، بارہ ماسہ، اشلوک، بھجن، کِبت، دوہا وغیرہ کو قبول کیا وہاں عربی وفارسی کی شاعرانہ ہیئتوں اور اصناف جیسے مثنوی، رُباعی، قصیدہ، غزل، مسمط وغیرہ کو بھی اپنایا۔ بعد میں مخصوص تہذیبی اور معاشرتی حالات کی تبدیلی نے بھی اُردو کی کئی مقبول اصناف کو کم رواج کر دیا جن میں قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ شامل ہیں۔ 1857ء کے بعد جب ہندوستان پر انگریزوں کا باقاعدہ اقتدار قائم ہوا تو انگریزی زبان و ادب کے اثرات یہاں کی مقامی زبانوں پر پڑے۔ اُردو پر انگریزی ادب کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریزی کی کئی شعری اصناف اور ہیئتیں جیسے سانیٹ، لِمرک، کینٹوز، نظمِ آزاد، نظمِ معریٰ وغیرہ اردو میں تخلیقی سانچے کے طور پر اپنا لی گئیں مگر نظمِ آزاد اور نظمِ معریٰ کے علاوہ باقی ہیئتیں وقتی طور پر اپنی چمک دمک دکھا کر ختم ہو گئیں کیوں کہ یہ ہیئتیں اُردو کے تہذیبی رچاؤ کواس کی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ ظاہر کرنے سے قاصر رہیں۔جدید علوم اور سائنسی پیش رفت نے انسانوں کی نفسیات، مزاج اور میلانات تبدیل کر دیئے ہیں۔ اس تبدیلی کے باعث زندگی کے باقی شعبوں کی طرح ادب پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس وقت ادبیاتِ عالم کو نئے موضوعات کی پیش کش کے لیے نئے پیمانوں اور شعری سانچوں کی تلاش ہے۔

[42] محمد قلی قطب شاہ کے تخلص کے بارے میں ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں’’ کلیات میں اس نے سترہ تخلص استعمال کئے ہیں۔ کہیں محمد، محمد شاہ محمد قلی، محمد قطب، قطبِ زماں، قطب شہ، محمد قطب شہ، محمد قطب شہ غازی تخلص لایا ہے اور کہیں محمد قطب شہ راجہ ، محمد قطب شہ سلطان، قطب شہ نواب ، معانی قطب معنی، قطب معنا، اور ترکمان باندھا ہے۔ لیکن زیادہ ترمعافی ،قطب ،قطب شہ اور ترکمان بطور تخلص استعمال کئے ہیں۔‘‘[ ’’ تاریخ ادبِ اردد‘‘ ۰جلد اول)۔ از داکٹر جمیل جالبی (طبع اول ۱۹۷۷ء)ص ۴۱۱۔۴۱۲]،مشمولہ:ڈاکٹر اختر بستوی،سیکولرزم اور اردو شاعری، ص۱۵۶،اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنو،۱۹۹ء

[43] پروفیسر نور الحسن نقوی، تاریخ ادب اردو، ص۳۳،ایجو کیشنل ہاؤس، علی گڑھ،۲۰۱۴ء

[44] نیّر مسعود، انیس سوانح،ص۴۰،قومی کونسل فروغِ اردو زبان، نئی دہلی،۲۰۰۲ء

[45] سید شہاب الدین د،سنوی،شبلی معاندانہ تنقید کی روشنی میں ،ص۱۰۹،انجمن ترقی اردو،(ہند)، دہلی،۱۹۸۷ء

[46] مولانا الفاط حسین حالیؔ، فارسی کے مترجم: نسیم احمد عباسی،یاد گارِ غالب (مع فارسی متن و ترجمہ)،ص۲۳۳،غالب اکیڈمی،نئی دہلی،۲۰۱۱ء

[47] ڈاکٹر عفت زرّیں، بیسویں صدی میں اردو غزل( نو کلاسیکی شعراء)، ص۴،،۲۰۰۱ء، شائن پرنٹرس ، دہلی۔

[48] عربی ادب کی تاریخ ۔ ص 130

[49] اُردو غزل میں تصوّرِ زن جب بات غزل کی ہوتی ہے تو زن کی طرف ذہن خود بہ خود چلا جاتا ہے چوں کہ لغوی اعتبار سے غزل کے معنی ہی عورتوں سے باتیں کرنے کے ہیں اور اس پوری کتاب میں شاعری کی کسی بھی صنف کے حوالے سے بات عورت کے حسن و جمال، ہجر و وصال اور اس پر ٹوٹنے والی قیامت تک ہی محدود ہے۔ غزل کو ہمیشہ ہی سے اُردو شاعری میں بلند مقام حاصل رہا ہے۔ ویسے تو غزل میں حسن و عشق کی داستانیں رقم کی جاتی رہی ہیں لیکن غزل کبھی بھی عشقیہ مضامین تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں زندگی کے تمام مسائل کوبہ خوبی بیان کرنے کی قدرت ہے۔ زمانے کی جہاں روش بدلی، وہاں غزل کے موضوعات میں بھی وسعت پیدا ہوتی چلی گئی۔ سیاسی و سماجی اور معاشرتی حالات، اندرونی و خارجی واقعات اور مختلف نظریات و خیالات کو غزل میں سمویا جانے لگا۔ غزل کے حسن اس کی ہیئت میں ذرا سا بھی فرق نہ آیا بلکہ اس کی شان بڑھتی چلی گئی۔ اس طرح غزل ایک ہمہ گیر صنف کی شکل اختیار کر گئی۔

[50] پروفیسر سیدہ جعفر۔پروفیسر گیان چند جین،تاریخ ادب اردو ۱۷۰۰ء تک،جلد پنجم ،ص۲۲۳،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی،۱۹۹۸ء

 مزید ان ان کا خیال ہے۔’ ’دکنی شعراء نے اپنے ماحول اور اپی مخصوص معاشرت میں غزل کو ایک نیا مزاج عطاکیا۔ ایرانی شعراء کی آواز میں دکنی شاعروں ن اپنی آواز اس طرح شامل کردی کہ دونوں آوازں کے مدغم ہونے سے ایک نئی لے پیدا ہوئی اور غزل کو نیا لب و لۃلہجہ اور نیا رنگ و آہنگ ملا۔‘‘

[51] اُردو میں غزل، فارسی غزل کے زیرِ اثر آئی اور اس صنف میں شعراء نے طبع آزمائی کی اور جلد ہی کام یابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ یوں تو اُردو کا پہلا شاعر امیر خسروؔ کو کہا جاتا ہے لیکن غزل کی ابتدا شمالی ہند کی بجائے دکن سے ہوئی اور پہلا صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ولیؔ دکنی کو اُردو شاعری کا اوّلین معمار تصور کیا جاتا ہے۔ مولانا محمدحسین آزادؔ کے مطابق ولیؔ اُردو شاعری کا باوا آدم ہے اور یہ شک گزرتا ہے کہ اُردو میں غزل کی ابتدا انہی سے ہوئی۔ ولیؔ کو یقیناً اس بات میں اوّلیت حاصل ہے کہ انہوں نے اُردو میں باقاعدہ غزل کی بنیاد ڈالی اور شمالی ہندوستان میں باقاعدہ اُردو شاعری کی تحریک پیدا کی۔ اُردو غزل کا جو مخصوص آہنگ ہے، اس کا تعین بھی ولیؔ نے کیا، غزل کے مزاج کی ترتیب میں انہیں بلا شبہ اوّل مقام حاصل ہے۔ ولیؔ دکنی کی ہی طرح ملا وجہیؔ کو بھی دکنی دور میں بے حد اہمیت اور مقبولیت حاصل رہی ہے۔

[52] وزیر آغا، ڈاکٹر، اردو شاعری کا مزاج، مجلس ترقی ادب، لاہور،۲۰۰۸ ص۸۶

[53] غزل یعنی محبوب سے گفتگو ایران میں یہ فن بہت پھولی پھلی اور مقبول ہوئی۔ درحقیقت برصغیر کو یہ فن ایران کی ہی دین ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قصیدے سے ہی نکلی۔ قصیدے بادشاہوں کی تعریف میں کہے جاتے تھے اور شاعر اپنی روزی روٹی چلانے کے لئے حکمرانوں کی جھوٹی تعریف کرتا تھا اورشاعر بادشاہوں کو وہی سناتا تھا جس سے وہ خوش ہوتے تھے۔ شراب،کباب اور شباب کے ساتھ بادشاہ قصیدے سنتے تھے اور راجہخواتین کے ذکر سے خوش ہوتے تھے تو شاعرعورت اور شراب کا ذکر ہی غزلوں میں کرنے لگے وہ چاہ کر بھی عوام کا دکھ درد بیان نہیں کر سکتے تھے۔ تو غزل کا مطلب ہی عورتوں کے بارے میں ذکر ہو گیا۔ یہیں پر اس کا بحر اور اوزان بنا جو فارسی میں تھا۔

[54] اسلم پرویز، انشاءاللہ خاں انشاؔ عہد اور فن،ص۱۴۸،دلی کتاب گھر،نئی دہلی،ج۲۰۱۵ءج۲۔

[55] ڈاکٹر جلا ل انجم ،اردو غزل انیسویں صدی کے تناظر میں ،ص۲۹، ماڈرن پبلیشنگ ہاؤس، دریا گنج نئی دہلی،۲۰۰۷ء

[56] دریافت، شمارہ ۔سات،نیشنل یونیورسٹی،آف ماڈرن لینگوئجز، اسلام آباد، جو دو ہزار آٹھ، نیشنل یونیورسٹی ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد، طارق ہاشمی، ڈاکاٹر، ’اردو غزل میں ،زبان اور ہئیت کے تجربات، مقالہ ب مشمولہ برائے پی ایچ ڈی اردو پشاور یو نیورسٹٰ، ۲۰۰۵ء ص ۱۲۳:ڈاکٹر عابد سیال،’اردو غزل میں جدید تمدّنی مظاہر کے استعمال کا رجحان‘ص۲۹۸،

[57] ڈاکٹر وسیم انجم،’اقبال کی اردو غزل‘،ص۸۵، دریافت، شمارہ:۱۴،نیشنل یو نیورٹی آف ماڈرن لینگوئجز، اسلام آباد،جنوری دو ہزار پندرہ

[58] چنگیز خاں ایک ظالم اور خوں خوار تا تاری حکمراں تھا، جس نے ایشیائی ملکوں کے لاکھوں بے گنا انسانوں کا قتل عام کردیا تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ کسی ایک فرمانروا کی حکومت ہو‘ یا بظاہر کوئی جمہوری حکومت (جیسے مغرب کی بڑی جمہوری حکومتیں) اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ بادشاہ کمزور اور مظلوم انسانوں کا خون بہائے‘ یا جمہوری حکومت کمزور قوموں کو غلام بنانے اور اُن کا خون چوسے‘ دونوں چنگیزی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ کیوں کہ دونوں مذہبی اور اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کے کے حکومت چلارہے ہیں۔

[59] دوش فراد۔از مجنو گورکھپوری۔ص۱۵۴۔۱۵۵

[60] ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی، دلیّ کا دبستانِ شاعری، ص۱۴۵۔۱۴۶،اُتر پردیش اُردو اَکادمی،لکھنئو،۲۰۰۹ء

 [61] اختر انصاری، دہان زخم، ،ص۴۵۰،علی گڑھ، مشمولہ:عادل حیات،اختر انصاری اور ان کی غزل گوئی، ص ۴۰،ایم آر۔ پرنٹرز،نئی دہلی،۲۰۰۶ء

[62] پنجاب میں اردو، ص۳۲، مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان

[63] ریختہ بمعنی غزل کا لفظ نورالدین ہاشمی کی تحقیق کے مطابق اس سے پہلے پنجاب میں ملا شیری کے ذریعے ایک صدی قبل یعنی سترہویں صدی کے شروعاتی دور میں استعمال ہوچکا تھا۔اس طرح لفظ ریختہ بمعنی غزل کا تاریخی سفر پنجاب سے دہلی اور دہلی سے دکن تک کا قرار پائے گا ۔مگر سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس لفظ کا رشتہ دکنی غزل سے کچھ اس طرح قائم ہوا کہ بعد میں اسے دکن کے شاعروں نے یا کہا جائے کہ ولی کے معاصرین نے غزل کے طور پر زیادہ استعمال کیا ہے اور رفتہ رفتہ ریختہ نے دکن یا گجرات کے شعرا میں غزل لفظ کی جگہ لے لی۔یہاں ایک اور بات کا ذکرخالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ ہم جس ریختہ لفظ کا استعمال شمالی ہند میں پہلے دیکھتے چلے آرہے تھے اس میں شکستہ بحر کی شرط بدستور قائم تھی لیکن جس شاعر کو ہم سب سے پہلے دونوں بنیادی شرطوں سے انحراف کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ ولیؔ ہے۔

[64] اب آئیے ریختہ اور دہلی کے تعلق کی طرف تو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہلی والوں نے جب ولی ؔ کو اپنا استادِ معنوی تسلیم کیا تو ان میں بہت سے ایسے تھے جنہیں ریختہ لفظ کو اردو غزل کے طور پر ماننے سے لاشعوری طور پر کچھ اعتراض تھااور اس کی وجہ تھی فارسی کی وہ غزل جو دہلی والوں کے ذہنوں سے کسی بھی طرح دیس نکالا نہیں پاسکتی تھی۔

[65] مرۃ الشعراء____ص۳۵۴۔۲۵۵

[66] سید محمد محمود رضوی مخموراکبرآبادی،رُوحِ نظیر،ص۱۵۳، اُتر پر دیش اُردو اکادمی، لکھنئو،۲۰۰۳ء

[67] ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد۔’ جدید تر اُردو غزل کا فنی مطالعہ‘

http://lib.bazmeurdu.net

[68] شمس الرحمٰن فاروقی، اُردو غزل کے اہم موڑ،ص۸،غالب اکیڈمی، حضرت نظام الدین ، نئی دہلی،

[69] اُردو غزل میں ہیئت کے تجربے(مضمون) ، مشمولہ:معاصر اُردو غزل، دہلی، اُردو

[70] ماہ نامہ ’’افکار‘‘، کراچی ، اگست ۱۹۸۰ء۔

[71] خلیل الرحمٰن اعظمی، اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک،ص۲۹۸،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی،۲۰۰۸ء

[72] شمس الرحمٰن فاروقی،شعر شور انگیز،جلد اول،تیسرا ایڈیشن مع ترمیم و اضافہ،ص۱۴۱،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی،۱۹۹۰ء

http://ncpulblog.blogspot.in/2015/12/taaneesi-adab-ki-shanaakht-aur-taayyun-e-qadr.html[73] تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر /ابولکلام قاسمی

[74] ایم حبیب خان، کلاسیکی شعرا پر تنقیدی مقالات، ص۳۸۹،مغربی پاکستان اردو اکیڈمی ،لاہور،۱۹۹۸ء

[75] ڈاکٹر کامل قریشی، دیوان ِ اثر،ص۱۱۹،انجمن ترقی اردو(ہند)،نئی دہلی،۱۹۷۸ء

[76] مشمولہ: احمد جاوید، انتخاب کُلّیاتِ اقبال منتخب بہترین نظمیں و غزلیں(مع فرہنگ)،ص۲۹۷،اریب پبلیکیشنز،نئی دہلی،۲۰۰۶ء

[77] مرتبہ ، شوکت علی خاں ، شہکار شعری انتخاب، ص۱۱۲رام پور رضا لائبریری، رامپور، ۲۰۰۰ء ہوشؔ نعمانی کا شعر ہے۔

[78] ایم ۔حبیب خاں، انشاء اللہ خاں انشاؔ،ص۱۰۰،ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی، ۱۹۹۶( مونوگراف۔انشاء اللہ خاں)

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.