اردو افسانہ اور مرزا عظیم بیگ چغتائی کی افسانہ نگاری

انسان کے پاس جب وقت تھاتو وہ فرصت سے لمبے لمبے واقعات ، پریوں کی کہانیاں ، دیومالائی عناصر م جادونگری اور دوسرے ایسے مافوق الفطرت عناصرکو سننے میں بڑی دلچسپی لیتا تھا اور ان مافوق الفطرت عناصر پر یقین بھی کرلیتا تھا ۔طویل کتابیں نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھ لیتا تھا۔ مگر جب زمانے نے کروٹ لی تو یہی انسان جس کے پاس وقت ہی وقت تھا اب اتنی مصروفیت بڑھی کہ اس کو اس طرح کے واقعات سے دلچسپی کم ہونے لگی۔ اب وہ طویل داستان سے گھبرانے لگا۔ فرضی اور عقل کو دنگ کردینے والے واقعات سے دور ہونے لگا۔ ایسے میں زندگی کے حقیقی اور زندہ واقعات کو موضوعِ سخن بنایا گیا ۔جس سے ناول کا وجود عمل میں آیا۔زمانہ اور آگے بڑھا ، مصروفیت اور زیادہ بڑھی تو افسانہ وجود میں آیا۔ ناول میں پوری زندگی کے حالات کو قلمبند کرنا رہتا ہے اس لیے اس میں طوالت تھی، لیکن افسانے میں زندگی کسی ایک پہلو کو پیش کرنا رہتا ہے۔ یہ مختصر بھی رہتا ہے اور زندگی کے گونا گوں حالات سے ہمیں متعارف بھی کراتا ہے۔
اردو نثر کی ترقی اور اس کے فروغ میںاردو افسانہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اردو میںافسانوی ادب مغرب سے آیا۔ شروع میں انگریزی افسانوں کے ترجمے اردو میں ہوئے۔ دھیرے دھیرے خود ہندوستانی تہذیب و تمدن سے مزین افسانے منظر عام پر آنے لگے جو ہماری حقیقی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔یہی نہیں مذہبی،سیاسی، تاریخی اور معاشرتی سب طرح کے موضوعات نے افسانے کو اپنے حصار میں لیا جس کی بدولت ایک بہترین اور صحت مند ادب وجود میں آیا۔ابتداء میں رتن ناتھ سرشارؔ نے انگریزی افسانوں کے ترجمے سے اسے زینت بخشی پھر نذیر احمد نے اپنی ناصحانہ باتوں سے اسے آگے بڑھایا۔ شررؔ نے تاریخی ناول لکھ پہلی بار اس کو ایک نئے پیرائے سے شناسا کرایا۔ رسواؔ نے بھی کئی اصلاحی ناول لکھے۔ افسانے کو بلندیوں سے روشناس کرانے میں منشی پریم چند کابہت بڑا ہاتھ ہے اگر انہیں ’’افسانے کا امام ‘‘ کہا جائے تو یہ لقب ان کے شایانِ شان ہوگا۔ پھر تو ایک قافلہ نظر آنے گا۔ کرشن چندر ، نیاز فتح پوری ، سجاد حیدر ، سدرشن بالی، اعظم کریوی، افسر علی، علی عباس حسینی، راجندر سنگھ بیدی، مرزا عظیم بیگ چغتائی، عصمت چغتائی ،احمد ندیم قاسمی ،کرشن چند ، راجندر سنگھ بیدی اور کنہیا لال کپورنے افسانے کو بہت مقبولیت دی۔اور اسے مختلف موضوعات سے آراستہ اور پیراستہ کیا۔ قرۃ العین حیدر ، افتخار حسین، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، اور حسن عسکری نے سماجی اور علاقائی زندگی سے متعارف کرایا۔سجاد ظہیر نے اردو افسانے کو ترقی پسند تحریک سے ملایا۔ان تمام افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کے ارتقاء میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسے اردو نثر کا کامیاب ترین حصہ بنادیا۔
رتن ناتھ سرشار ، عظیم بیگ چغتائی ،شوکت تھانوی، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی ، مرزا فرحت اﷲ بیگ، کنہیالال کپور، اور ملّا رموزی ،ان تمام افسانہ نگارروں کی تحریروں نے جس طرح طنزومزاح کو عزت و وقار بخشا وہ ادب کا درخشاں باب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ طنزومزاح اپنے تفریحی پہلو کے باوجود سماج کی تہذیبی اور ثقافتی اقدار اور روایت کا امین اور اس کے شائستہ ذوق کا نقیب اور مذاقِ سلیم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ طنز ومزاح کا مقصد تفریحی تو ہونا چاہیے تخریبی نہیں۔ اردو افسانہ کو طنزومزاح سے جن ادیبوںنے پوری طرح مزین کیا، ان میں دیگر فنکاروں کے ساتھ خاص طور پر مرزا عظیم بیگ چغتائی کا نام مستند و سرفہرست ہے۔
مرزا عظیم بیگ کی خوش مزاجی اور زندہ دلی نے ہی اردو افسانہ میں مزاح کے عنصر کو اس طرح شامل کیا کہ وہ معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن گئے ۔ چہار دیواری کے اندر مچلتی ہوئی خواہشوں کو اتنے چلبلے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری کے لبوں پر نہ صرف تبسم رقص کرنے لگتا ہے بلکہ وہ بہت کچھ سوچنے پر بھی مجبور ہوجاتا ہے۔وہ اپنے افسانوں کے واقعات میں خود اپنی زندگی کے بعض حالات کو بھی شامل کرکے ان کے کرداروں میں خود اپنی ذات کو بھی شامل کرلیتے ہیں ان کا پُرخلوص انداز اور شائستہ اسلوب واقعی لائقِ تحریک ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں کے واقعات اور کرداروںکے پس منظر میں کوئی نہ کوئی اصلاحی مقصد ہوتا ہے۔ انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اپنی تحریروں میں کاروانِ حیات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔جو بہت کم ادب میں ملتا ہے۔ وہ سوسائٹی کے ہر پہلو پر کُھل کر تنقید کرتے ہیں ۔اسی لیے ان کے افسانوں کے واقعات زندگی کی زندہ تعبیر اور سماج کی متحرک تفسیر نظر آتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں واقعاتی اور معاشرتی شعور نمایاں رہا ہے۔ حیاتِ انسانی کا مشاہدہ انہوں نے بہت قریب سے اور نہایت انہماک کے ساتھ کیا ہے۔ مشاہدات کی باریکی اور تخیل کی رنگینی سے وہ اپنے ظریفانہ اسلوب کے تاثر کو نکھارتے ہیں۔ مرزا عظیم بیگ چغتائی کا طرز تحریر بھی ان کی طبیعت سے ملتا جلتا تھا۔ بیان سادہ تصنع نام کو بھی نہیں، تحریر بھی شوخی اور ظرافت کی چاشنی بھی نظر آتی ہے۔ نفسیات کے علم اور حسین اسلوب دونوں سے مل کر ان کی تخلیقات ایسی جدت اختیار کرلیتی ہیں جو اردو کے کسی اور اہل قلم کے یہاں بہت کم نظر ملتی ہیں۔وہ اپنے بعض افسانوں میں واقعات کے بیان میں اس قدر جلد بازی سے کام لیتے تھے کہ اکثر جگہوں پر زبانو ںبیان پر ذرا بھی دھیان نہیں دیا ،جس سے ان کا فن مجروح بھی ہوا۔ کوئی بات سنتے تھے غور و فکر کر کے تھوڑے ردوبدل کے ساتھ اسے فوراً افسانے میں پیش کردیتے تھے ۔ وہ خود اپنے مضمون ’’میں افسانہ‘‘ ایسے لکھتا ہوں میں رقمطراز ہیں:
’’ میں افسانہ عموماً ایسے لکھتا ہوں کہ کوئی دلچسپ بات کسی سے سنی۔ کوئی مزیدار واقعہ یا حادثہ کسی پر گذرا یا خود دیکھا۔ یا کسی دوست پر گذرا اور وہ اتنا دلچسپ ہے کہ لوگ اسے غور سے سنیں تو اس کو دل میں رکھ لیا ۔اور دوچار احباب کو سنایا کہ بھئی ایک مزیدار بات سنو۔ اگر دوست احباب اور سننے والوںنے اسکو قابل سمجھا کہ سنیں تو سنادیا ورنہ وہیں کار وہیں ختم کیا… بعض اوقات موقعہ محل کو دیکھتے ہوئے اس میں اس طرح ردّ و بدل یا نمک مرچ لگا دیتا ہوں کہ لطف دوبالا ہوجائے۔ حتی کہ قصہ تیار ہوجاتا ہے۔ اٹھاکر ایک دم سے لکھ دیا ۔ چلیے افسانہ تیار ہوگیا۔‘‘
مرز اعظیم بیگ چغتائی کا ایک اصول تھا اور وہ اسی اصول کو اپنے ہر افسانے کے لیے ضروری قرار دیتے تھے اور وہ یہ تھا کہ جو واقعہ میں لکھوں وہ وقوع پذیر ہوچکا ہو ’’ جو دیکھو وہ لکھو اور جو دکھائی دے وہ لکھو۔ ‘‘ وہ کہتے ہیں میں افسانہ ختم کرنے کی الجھن میں نہیں رہتا جو جُڑ گیا اسے جوڑتا رہتا ہوں اور ہمیشہ افسانے کے اس جواب کو تشنہ چھوڑ دیتا ہوں کہ ’’ پھر کیا ہوا؟اس کے علاوہ وہ افسانے میں اپنی پسند کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’ افسانے میں بائرن کا مقررانہ جوش لانا پسند کرتا ہوں اور کیٹسؔ کی حُسن وعشق کی گرمی واقعات سے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔ آغا حشر کی ڈرامائی کیفیت ، وہ بھی خفیف سی افسانے میںپیدا کرنا پسند کرتا ہو۔۔۔شیکسپئیر کے نسوانی جذبات کو افسانے میں پیدا کرنے کی تمنا رکھتا ہوں۔افسانے میں مزاحیہ نگاری واقعات سے پیدا کرنے سے لطف آتا ہے۔‘‘
مرزا عظیم بیگ کہتے ہیں کہ میری افسانہ نگاری کا دارومدار واقعات کے ردو بدل میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب حقیقت یہ ٹھہری تو نہ تو میرے اوپر الہامی حالت طاری ہوتی ہے اور نہ دلکش منظر اثر کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا موضوع عام طور سے محبت ہی ہے لیکن اِس حسن و عشق کے پس پشت بھی کوئی نہ کوئی اصلاحی مقصد پیشِ نظر ضرور رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے افسانوں کو مشرقی تہذیب اور اس کے عادات و اطوار سے آراستہ اور پیراستہ کرتے نظر آتے ہیں۔مشرقی تہذیب کی مردہ روایات کے بہت بڑے مخالف بھی تھے اور اس پراپنے افسانوں میں بھرپور طنز بھی کیا ہے۔ مغربی تہذیب سے انھوں کبھی استفادہ نہیں کیا۔ اس کااظہار بھی وہ کرتے ہیں:۔
’’ میرے تمام افسانے اوریجنل ہیں۔ واقعات سے پُر ہیں۔ الحمد ﷲ میرے تمام افسانوں کے ہیرو بقید حیات ہیں۔ تمام تر افسانوں کے پلاٹ میں نے واقعات اور اپنی معاشرت سے لیے ہیں اور کسی افسانے میں افسوس کہ مشہور یوروپین یا امریکن افسانہ سے کچھ نہیں لے سکا۔ ‘‘
مرزاعظیم بیگ کے افسانوں میں سے کچھ افسانوں کے نام یہاں درج کررہا ہوں۔ انگوٹھی کی مصیبت ، یکہ، الشذری ، شاطر بیوی، رموز خاموشی ،وکالت، مصری کورٹ شپ ، مہارانی کا خواب ، ممتحن کا پان، چلّہ کشی ، پٹی، میں پڑھا ہے، خواب بیداری، جہالت مکسچر، بڑے شرم کی بات ہے، رسہ کشی ، نیکی جرم ہے، تیمارداری ، قصاص ، خود مختار دوشیزہ ، کرکٹ میچ، کیا کبھی تم پر بھی عاشق ہوا ہے ، قرض مقروض محبت است، فرزند سرحد ، لیفٹیننٹ، سوانہ کی روحیں، قانونی مشورہ، شہزوری، سالنامہ مرمریں، ٹھیس، یتیم لڑکی اور دیکھا جائے گا، ان کے بہترین افسانے ہیں۔
’’ انگوٹھی کی مصیبت ‘‘ مرزا عظیم بیگ چغتائی کا پہلا افسانہ ہے۔یہ’’ نیرنگ خیال‘‘ کے سالنامہ میں جنوری ۱۹۳۰ء میں ایڈیٹر کے تعارفی کلمات کے ساتھ چھپا۔ ’’انگوٹھی کی مصیبت‘‘ کا شائع ہونا تھا کہ ادبی حلقوں میں ایک بھونچال آگیا ہر طرف ہر زبان پر صرف اور صرف مرزا عظیم بیگ چغتائی کے افسانہ ’’ انگوٹھی کی مصیبت کانام تھا۔ادبی حلقوں میں اس کی بڑی پذیرائی اور قدردانی کی گئی۔اس افسانے کی ہیروئن اپنے رفیقِ حیات کے انتخاب کے لیے درجنوں تصویروں میں سے نوجوان بیرسٹر کی تصویر کو پسند کرتی ہے۔ بیرسٹر کے والدین براہِ راست نکاح چاہتے ہیں مگر لڑکی کے والدین نسبت کی رسم پر اصرار کرتے ہیں او رایک سال بعد نکاح و رخصت کے خواہش مند ہوتے ہیں حالانکہ ہیرو اور ہیروئن چٹ منگنی پٹ شادی کے متمنی ہیں۔ بہرحال رسومات کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ اور وقتِ مقررہ پر ہیرو منگنی کی رسم کا سامان لے کر لڑکی کے گھر آتا ہے۔ ہیروئن رسم کی ادائیگی سے قبل سامان کا معائنہ کرتے ہوئے غیر ارادی طور پر منگنی کی انگوٹھی انگلی میں ڈال لیتی ہے۔ انگوٹھی کا پہننا ایک مصیبت بن جاتا ہے۔ سب ہی اس پر زور آزمائی کرتے ہیںکہ کسی طرح انگوٹھی نکل جائے، مگر انگوٹھی نہیں اترپاتی ہے۔ آخر ہیرو اسے ریتی سے ریت دیتا ہے۔عظیم بیگ نے ’’ انگوٹھی کی مصیبت‘‘ میں بڑے پُرلطف انداز میں کچھ سماجی رسومات پر طنز کے نشتر چلائے ۔ انھوں نے علامتی طور پر بے معنی رسوم کو ترک کرنے اور ان سے نجات پانے کو اس افسانہ کو موضوع بنایا اور اس انداز میںبیان کیاہے کہ قاری مسکراتا بھی رہتا ہے اور اصلاحی پیغام سے روشناس بھی ہوتا رہتاہے۔
’’ یکہ‘‘ مرزا عظیم بیگ چغتائی ایک نہایت دلچسپ افسانہ ہے جس میں موٹر سے سفر کرنے والے افراد جب یکہ میں سفر کرتے ہیں تو کیا کیا واقعات رونما ہوتے ہیں ان سفر میں پیش آنے والی مشکلات کو بڑے ہی ظریفانہ انداز میں پیش کیاہے۔ نئی ایجادات اورقد یم ثقافت کے بارے میں بھی معلوماتی باتیں تحریر کی ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب یکہ کو نچلے طبقے کی سواری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بڑے طبقے والوں کو جب مجبوراً اس کی سواری کرنی پڑتی ہے تو کیا حادثات رونما ہوتے ہیںوہ بہت مزیدار ہے اس کا ایک اقتباس ملا حظہ ہو:۔
’’چھتری دور پھینکی۔ ’’ ارے روک روک۔‘‘ایک طرف سے نواب صاحب چیخے اور دوسری طرف سے میں چلّایا۔’’ کمبخت روک۔‘‘بیگم صاحبہ کی ریشمی ساڑی پہیہ میں الجھ کر رہ گئی اور یکہ نہ رکتا تو چونکہ ریشم مضبوط ہوتا ہے۔ ضرور نیچے آتیں۔ یہاں سے مہارانی دروپدی کا ساقصہ شروع ہوتا ہے۔ ساڑی کا زریں کام سب خراب ہوگیا تھا۔ نواب صاحب بہادر یکہ بان پر بے حد برافروختہ تھے نہ اس وجہ سے کہ ساڑی قیمتی تھی، بلکہ اس وجہ سے کہ پہیہ نے بیگم صاحبہ کی لاپرواہی سے فائدہ ناجائز اٹھاتے ہوئے گستاخی کی تھی اور قصور یکہ کا تھا اور یکہ خود یکہ والے کا۔‘‘
’’ الشذری‘‘ عظیم بیگ کا بہت ہی مزاحیہ افسانہ ہے۔’’ الشذری‘‘ چودھری صاحب جو بہت ڈینگیں مارتے تھے اور اپنی عربی دانی کا بہت رعب دکھاتے تھے۔ اسی بیچ انہیں بغداد جانا رہتا ہے وہاں عرب کے باشندوں سے جب سابقہ پڑتا ہے تو ان کی شیخی ہَوا ہوجاتی ہے اور پھر قدم قدم پر جو شرمندگی انہیں اٹھانی پڑتی ہے وہ اتنا دلچسپ ہے کہ قاری ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجاتا اور اسطرح وہ عربی بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ’’ الشذری‘‘ کا ایک دلچسپ واقعہ ملاحظہ ہو:
’’ بڑی تیزی سے دونوں عرب اور حبشی ہم دونوںکو مغلظات سنارہے تھے لیکن بھائی شذری بھی کسی سے کم نہ تھے اور وہ اپنی بے تکی اڑا رہے تھے۔ ’’ انا حبیب القاضی صاحب انا مدعونی طعام ھذا اللیل انت بد اخلاق انت توہین و تشہیر انا قلت الفساد بالقاضی صاحب۔‘‘
’’ رموزِ خاموشی‘‘ میں بتایا ہے کہ جہاں بسیار گوئی تکلیف دہ ہوتی ہے وہیں کم گوئی بھی بہت خطرناک رخ اختیارکرلیتی ہے۔ انہوں نے اس افسانے کے ذریعہ یہ تاثر دیا ہے کہ موقع و محل کی مناسبت سے گفتگو بہتر ہوتی ہے ورنہ جس طرح بسیار گوئی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اسی طرح کم گوئی بھی بعض جگہ بہت زیادہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔
’’وکالت‘‘ میں انہوں نے نئے وکیلوں کی حالات کو بڑے ہی ظریفانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے دکھایا ہے کہ وکالت کے پیشے میں ابتداء میںجو دشواریاںہوتی ہیں اور اس پر مالی پریشانیاں کا دباؤ وکیلوں سے کیا کیا کراتا ہے۔ ان کی حالت زار کو بڑے ہی دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے بھی اس کے موضوع اور لب و لہجے کی بڑی تعریف کی ہے۔افسانے کی شروعات اس شعر کے ساتھ ہوئی ہے جو وکیلوں کے لیے موزوں ہے ۔ ملاحظہ ہو:
منظور ہے گذارش احوال واقعی
اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے
’’ مصری کورٹ شپ ‘‘ میں مرزا عظیم بیگ چغتائی نے معاشرتی کمزوریوں کا مذاق اڑایا ہے اور معاشرے کے فرسودہ خیالات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ہے ۔ انہوں نے حدیثوں اور کتابوں کے ذریعے اس بات کوثابت کیا ہے کہ اسلام لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کے لیے ایک دوسرے کو دیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن معاشرہ زبردستی انہیں اپنی پسند اور ناپسند سے روکتا ہے ۔ اس افسانے کے ذریعے مصنف نے معاشرے کی اس کمزوری کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کے سبھی افسانے حقیقی اور اصلی زندگی سے ماخوذہیں۔ کردار مثالی نہیں اصلی ہیں۔اس کے تمام افسانوں کے پلاٹ سادہ ہیں لیکن ظرافت سے انہوں نے اسے رنگین بنادیا۔ اپنے افسانوں کے ذریعے انہوں نے معاشرے میں پروردہ غلط رواج، غیر اسلامی رسم اور دقیانوسی خیالات پر زبردست ضرب کی ہے اور معاشرے کی خامیوں سے ہمیں آگاہ کیا ہے تاکہ ہم بھی ان غلط رسم و رواج سے بچیں اور ایک صحتمند معاشرے کی بنا ء کے لیے کوشاں ہوں۔مصنف کئی جگہوں پر مذہبی رسوم کی مخالفت میں بہت شدت اختیار کر لیتے ہیں جو ان کے فن کو مجروح کر دیتی ہے ہمیں ان باتوں کا بھی دھیان رکھنا ہوگا اور اس شدت پسندی سے بھی بچنا ہوگا۔ مرزا عظیم بیگ کا اسلوب بیان نہایت سادہ اور شائستہ ہے۔ قصوں میں ندرت ہے، بندش میںسستی نہیں ہے ترکیبوں میںالجھاؤنہیں ہے۔ ان کی زبان میں سادگی اور روانی ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں غیر ضرور ی کردار اور غیر ضروری تفصیل سے ہمیشہ بچے یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے اتنے دلکش اور دلچسپ ہیں۔ارود افسانے میں ان کے یہ افسانے بیش قیمتی اضافہ ہیں۔
MOHD KUMAIL TURABI
RESEARCH SCHOLAR, DELHI UNIVERSITY
kumailturabi@gmail.com
9999963735 / 7897051405
H.NO 140, H-BLOCK, NEW SEELAMPUR, DELHI 53

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.