اردومیں بچوں کاسائنسی ادب ایک مطالعہ

ہرزمانہ کی سائنس اور ٹکنالوجی اس دور کے تقاضوں اور ضرورتوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں ،ان ٹکنالوجی کو سمجھ کر ان کی برکتوں سے لطف اندوز ہونا اور اس کو استعمال میں لاناایک ترقی یافتہ سماج کی علامت سمجھی جاتی ہے۔سائنس اور ٹکنالوجی کا شعبہ تو بالکل ہی الگ ہوتاہے لیکن اس کی تعلیم کی ابتداء بچپن سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔اردو ادب میں جس طرح ادب اطفال پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اسی طرح اس میں سائنسی ادب پر بھی بہت زیادہ زور دیاگیاہے۔ اردو میں بچوں کے سائنسی ادب کو ابتدائی ایام سے ہی پڑھائے جانے کا رواج ہے۔تاہم ادب اطفال میں جس انداز میں کہانی،افسانہ اور نظم پر توجہ دی گئی ،سائنسی مضامین پر اس کی آدھی توجہ بھی نہیں دی گئی ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ کام بھی ہوئے اس کی رفتار بہت دھیمی ہے۔
سائنس کی بنیادی تعریف:
لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو انگریزی لفظ ’’سائنس‘‘ (Science)، لاطینی کے ’’سائنسیا‘‘ یا ’’سائنشیا‘‘ (Sciencia) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ’’جاننا‘‘ (To Know) ہے۔ ’’سائنس‘‘ کا اردو اور عربی ترجمہ ’’علم‘‘ کے عنوان سے کیا جاتا ہے جو اس کے لغوی ماخذ سے مطابقت رکھتا ہے، کیونکہ ’’جاننا‘‘ اور ’’علم رکھنا‘‘ کم و بیش ایک ہی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ تاہم آج یہ ممکن نہیں کہ ہر علم کو ’’سائنس‘‘ قرار دیا جاسکے۔
بچوں کے سائنسی ادب پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ سمجھ لینا مناسب ہوگاکہ سائنسی ادب کیاہے؟اس کی کیاخصوصیات ہیں جو اسے عام ادبی مواد سے علیحدہ کرتی ہے اور اسے ایک منفرد شناخت عطاکرتی ہے۔بچوں میں سائنسی رجحان کس طرح پیداکیاجائے؟دراصل جب تک ہمارے اساتذہ اور والدین کا ذہن سائنسی نقطہ نظر کی طرف مرکوز نہیں ہوگااس وقت تک بچوں کے ذہنوں میں بھی سائنسی مضامین کو کماحقہ ثبت کرنا مشکل ہے۔سائنسی نقطہ نظر کسی اصول کو اسی شکل میں قبول نہیں کرتابلکہ اس کے پس پشت ان وجوہات کو جاننے کی کوشش کرتاہے جس کی وجہ سے یہ واقعہ رونماہوا۔مثال کے طور پر پکتے ہوئے برتن پر تیز تاؤ کی وجہ سے ڈھکنے کا اٹھنا،اوپر سے پھینکی ہوئی چیز کا زمین پر واپس آنا،سمندر میں پانی کی سطح کا کم نہ ہونا۔ان تمام سوالات کا تعلق سائنس سے ہے اور بچے ان تمام چیزوں کو جاننے کے لیے بے چین رہتے ہیں اور اس کے متعلق ان کے ذہنوں میں سوالات بھی ابھرتے رہتے ہیں۔اور یہ سب بچوں کو اسی وقت حاصل ہوگا جب کہ بچوں کے سائنسی ادب کے حوالے سے بہتر کوشش کی گئی ہواور اس کو عام فہم ،اثرانداز ا،دلچسپ اور سلیس انداز میں لکھاگیاہو۔یہی وہ سائنسی بنیاد ہے جو بچوں کے لیے سائنسی ادب کی کتابوں اور مضامین کے لیے ضروری ہے۔لیکن اردو میں ایسی کتابیں جو بچوں کو پڑھنے کے لیے راغب کرسکیں،ان کی کمی نظر آتی ہے۔اس لیے ایسے مضامین کے لیے عنوانات کا انتخاب کرنا ہوگا جس میں بچوں کی دلچسپی ہو،زبان کے انداز کا خیال رکھنا ہوگا،جو بچوں کی سمجھ میں آئے اور انھیں اچھا بھی لگے۔جو مصنفین موضوع کا انتخاب کرکے اثر انگیز زبان وبیان کے ساتھ لکھتے ہیں،ان کی کتابیں بچوں کے درمیان مقبول بھی ہیں۔
اردو میں بچوں کے سائنسی ادب پر لکھنے والے اور کتابیں شائع کرنے والوں کی یہ کوشش ہے کہ بہتر سے بہتر مواد بچوں کے سامنے پیش کیاجائے۔اس سلسلے میں مہاراشٹر میں بہت اچھا کام ہورہاہے۔رحمانی پبلشرز نے اس جانب بڑا اہم قدم اٹھایاہے اور مستقل ایسی کتابیں آرہی ہیں جس کو بچے بہت دلچسپی کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔بچوں کے ابتدائی ایام میں ہی سائنس کی ایسی کتابیں فراہم کرائی جانی چاہیے جس کو پڑھ کر بچوں کوسنایاجاسکے اور تصویروں کے ذریعے ان کے اندرمعلومات اور شوق ورغبت پیداکیاجائے۔ایسے مضامین بچوں کے اندر حیرت اور تجسس پیداکرتے ہیں اور بچوں کے ذہن میں کیا،کیوں،کیسے اور کہاں جیسے سوالات پیداہوتے ہیں جو کہ بچوں کی فطرت میں شامل ہے۔بچوں کی اس عمر میں انھیں جو کچھ بھی پڑھایاجاتاہے ،اس کا ذہن اس کو ازبر کرلیتاہے۔ایسی صورت میں بچوں کا سائنسی ادب کی زبان کا آسان ،پر ظریف،چھوٹے چھوٹے جملے،نئی اور تازہ معلومات ،مشکل الفاظ کا کم استعمال اور مضامین کو دلچسپ پیرائے میں پیش کرنا ضروری ہے تاکہ بچے اسے پڑھنے میں دلچسپی لیں اور ان تک سائنسی معلومات پہنچ سکیں۔
بچوں کے سائنسی ادب پر لکھنے کی روایت بہت قدیم ہے۔۱۸۵۷کے بعد ادیب ودانشور نے جہاں بچوں کے لیے کہانیاں،افسانے اور نظمیں لکھیں،وہیں اس دور میں مقبول یعنی پاپولر سائنس کے حوالے سے معلومات بھی فراہم کی گئیں۔۱۸۵۷کے بعد کے ادیبوں میں سب سے پہلے مولوی ذکاؤ اللہ کا نام آتاہے۔مولوی ذکا ء اللہ علی گڑھ تحریک کے سرگرم رکن تھے۔انھوںنے سائنسی مضامین پر مشتمل کتابیں انگریزی سے بچوں کے لیے اردو میں منتقل کیں ،جو بچوں کے سائنسی ادب میں قیمتی اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں۔تاہم یہ تصانیف زیادہ تر اسکولوں کے طلبا کے لیے لکھی گئی تھیںاس لیے ان میں رنگینی اور عبارت آرائی اور ادبی دلچسپیاں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔انیسویں صدی کے آخری دہے میں لگ بھگ ۱۸۹۲اور ۱۸۹۴کے دوران مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی نے منصوبہ بند انداز میں بچوں کے لیے بے حد معیاری درسی کتب تیار کیں۔ان درسی کتابوں میں معلوماتی مضامین بھی شامل کیے گئے جو بچوں کو مختلف موضوعات پر سیر حاصل مواد فراہم کرتے تھے ۔ان مضامین میں ہوا،پانی،کوئلے کی کان،نئی دنیاکی دریافت،ریلوے انجن کا موجد،چھاپے کی ایجاد،زمین اور اس کی اصلیت،زراعت کے مویشی،قوس قزح،ہالہ اور دوسری سائنٹفک چیزیں جو ہمارے اردگرد ہمیشہ موجود رہتی ہیں،ان پر انھوںنے سائنسی انداز میں گفتگوکی اور بچوں کو دلچسپ پیرائے میں اہم معلومات فراہم کیں۔بیسویں صدی کے دوران آزادی سے پہلے صرف چند ہی ادیبوں نے سائنسی موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے۔۱۹۲۷کے دوران نواب منظور جنگ بہادر کی کتاب’’شہد کی مکھیوں کا کارنامہ‘‘قابل ذکر ہے۔جس میںمصنف نے شہد کی مکھی کی زندگی کی تفصیلات،انھیں پالنے کا طریقہ،شہد نکالنا اور شہد کی مکھیوں کی بیماریوں کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ حیاتیات کے پروفیسر عبدالبصیر خان مرحوم نے ’’حیوانی دنیا کے عجائبات‘‘ کے نام سے ایک بے حد معلوماتی اور دلچسپ کتاب لکھی جس میںمغز اور دماغ کا باہمی تعلق ،جانوروںکی ذہانت،روشنی پیداکرنے والے جانور،جانوروں کا رنگ وروغن،بجلی پیداکرنے والے جانور،تاریکی میں رہنے والے جانور،آبی گھونسلے،دواؤں میں جانوروں کا استعمال،جانوروں میں سوسائٹی کے نشوونما اور سچے موتی کہاں سے کس طرح بنتے ہیں،جیسے معلوماتی موضوعات کو بہت دلچسپ اور لطیف انداز بیان کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ۱۹۴۲میں شعبہ حیوانیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے پروفیسر محشر عابدی نے ’’حیوانیات‘‘کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کی جو حیوانیات کے ابتدائی طالب علموں کے لیے بے حد کارآمد کتاب تھی۔انھوںنے اس کتاب میں بعض بہت مفید موضوعات جیسے حیوانات کیاہیں؟ حیوانات کی مختلف شاخیں،حیوانوں کے فائدے،حیوان اپنی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟حشرات الارض،کیڑوں کے نقصانات اور اس کے فائدے اور بیماریاں پھیلانے والے حیوان شامل ہیں۔
آزادی سے پہلے ۱۹۲۳میںجامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے وابستگان ڈاکٹر عابد حسین،ڈاکٹر ذاکرحسین،پروفیسر محمد مجیب اور ان کے رفقائے کار نے بچوں کے ادب پر خاطر خواہ اضافے کیے۔ان کی کاوشیں سائنسی ادب اطفال میںکلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ان میں حسین حسان جو ’’ماہنامہ پیام تعلیم ‘‘کے ایڈیٹر تھے،انھوںنے بچوں کے لیے متعددکتابیں اور مضامین لکھے جن میں سے صرف ایک کتاب’’دیمک‘‘سائنسی مضامین پر مبنی تھی۔اس میں انھوںنے دیمک کی زندگی،اس کی ذاتوں اور نقصانات کے بارے میں تفصیلات کے ساتھ تحریر کیاتھا۔اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کرنل بشیر حسین زیدی کی اہلیہ قدسیہ زیدی کی مختلف کتابوں میں صرف’’ دنیا کے جانور‘‘بحیثیت سائنسی کتاب اہمیت کے حامل ہیں۔عبدالواحد سندھی جو جامعہ کے قدیم استاد تھے،انھوںنے بچوں کے اخلاقی ادب پر بہت کچھ لکھا،اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے سائنسی ادب پر ان کی کتاب’’چیونٹی رانی‘‘بہت مقبول ہوئی۔جامعہ کے ہی ایک قابل استاد مشتاق احمد اعظمی نے بچوں کے لیے بڑی تعداد میں سائنسی اور معلوماتی مضامین لکھے جو پیام تعلیم کے مختلف شماروں میں شائع ہوئے۔ان میں ’’نمک،پودے،بجلی کا کڑکنا،ہم کیوں سوتے ہیں،کشتی،بجلی کے کھیل،تمہاری زمین اور ابتدائی آدمی کی کہانی‘‘ قابل ذکر ہیں۔جامعہ ٹیچرس ٹریننگ سے وابستہ اور معروف ماہرتعلیم ڈاکٹر سلامت اللہ نے بھی بچوں کے لیے معلوماتی مضامیں اور دلچسپ کہانیاں تحریرکیں۔ان کے اہم معلوماتی مضامین میں’’ستاروں کے جھمکے،سورج کے گرد زمین کا چکر،سورج کی کہانی،ہم چاند کیوں دیکھتے ہیں،چاند کی شکلیں،چاندگرہن اور سورج گرہن ‘‘قابل ذکر ہیں۔
تیسرا دورہندوستان کی آزادی ۱۹۴۷کے بعد سے شروع ہوا۔آزادی کے بعد سے ۱۹۸۰تک اہم کتابیں منظر عام آئیں۔ان میں اہم نام قرۃ العین حیدرکا ہے۔ان کا تحریر کردہ ناول ’’جن حسن عبدالرحمن‘‘کو اردو ادب اطفال کے سائنس فکشن میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔انھوںنے اس ناول میں بچوںکو سائنس کے کرشموں سے نفسیاتی طور پر متعارف کرایاہے۔اس ناول کے علاوہ انھوںنے ’’شیرخان‘‘،’’میاں ڈھینچو کے بہادر بچے‘‘ اور ’’بہادر ‘‘ان کے اہم ناولوں میں شامل ہے۔کرشن چندر نے بچوں کے لیلے فنطاسیہ ،مہماتی اور سائنس فکشن تخلیق کیاہے۔ان کی کتاب’’الٹادرخت‘‘اور ’’ستاروں کی سیر‘‘ان کے بہترین ناول ہیں جن میں انھوںنے بچوں کو انوکھی مہمات کے دوان سائنسی ایجادوں اور کائنات کے اسرار سے روشناس کرایاہے۔سائنسی فکشن لکھنے والوں میںسراج انور بھی ادب اطفال مین ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ان کے سلسلہ وار ناولوں میں خوفناک جزیرہ،کالی دنیا اور نیلی دنیامیں انھوںنے سراغ رسانی کے کارناموں اور مہمات کے ساتھ ساتھ بچوں کو جدید سائنسی انکشافات اور ایجادات سے بہت فنکارانہ انداز سے واقف کرایاہے۔ظفر پیامیؔ نے بھی سائنسی ناول’’ستاروں کے قیدی‘‘لکھ کر بچوں کو جدید سائنسی انکشافات سے زیادہ حقیقت پسندی کے ساتھ متعارف کرایاہے۔سائنس فکشن تخلیق کرنے والوں میں پرکاش پنڈت کابھی ایک اہم نام ہے۔’’چاند کی سیر‘‘ان کا طبع زاد ناول ہے ۔’’سرکس کے کھیل‘‘سائنسی موضوع پر ایک طویل کہانی ہے ۔’’چاند کی چوری‘‘ میں انھوں نے ایٹم بم ،ہائیڈروجن اور نائٹروجن بموں سے دنیا کو ختم کرنے کی سازش اور سائنسدانوں کے چاند چرالانے کے منصوبے کو بہت دلکش انداز سے بیان کیاہے۔اطہر پرویز جو پیام تعلیم کے مدیر بھی تھے،ان کی کتاب ’’پودوں اور جانوروں کی دنیا‘‘بچوں کو عام فہم انداز سے حیاتیات سے روشناس کراتی ہے اور اپنی دوسری کتاب’’چارلس ڈارون ‘‘میں انھوںنے بچوں کو اس کی تھیوری سے متعارف کرایاہے۔اظہار اثر نے بچوں کے لیے کئی جاسوسی اور سائنسی کہانیاں قلمبند کی ہیں۔جن میں تجسس ،سسپنس،حیرت،استعجاب اور بچوں کی دلچسپی کے دیگر لوازمات موجود ہیں ۔ان کی کتاب’’تین جاسوس‘‘،’’ایٹمی بوتل کا جن‘‘اور ’’کیمیاگر‘‘ان کی طویل جاسوسی اور سائنسی کہانیاں ہیں۔انھوںنے نیشنل بک ٹرسٹ سے بچوں کے لیے شائع ہونے والی کتابوں ’’ہماراجسم‘‘اور ’’خون کی کہانی‘‘کا اردو ترجمہ بھی کیاہے۔غلام حیدر نے بھی بچوں کے لیے متعدد دلچسپ اور معلوماتی کہانیاں لکھی ہیں۔بچوں کے ادب پر ان کی تقریبا ۲۱؍کتابوں میں صرف ایک کتاب’’وقت کا مسافر‘‘سائنسی موضوع ماحولیات سے متعلق ہے۔اس میں انھوںنے دنیا کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس کے تباہ کن نتائج سے بچوں کو نہ صرف آگاہ کیاہے بلکہ اس کے تدارک کے لیے کچھ کرنے اور کمربستہ ہونے کے لیے جذبہ بھی پیداکیاہے۔بلاشبہ یہ سائنس کا دور ہے۔جس قوم یا ملک نے اس میدان میں پیش قدمی کی اور سائنس وٹکنالوجی پراپنی گرفت مضبوط کرلی وہ دوسروں پر سبقت لے گیا۔کسی قوم یا ملک کی ترقی کا دارومدار اس کی نئی نسل پر ہوتاہے جس کی تربیت اور ذہن سازی اس ادب کے ذریعہ ہوتی ہے جو اس کے لیے تیار کیاجاتاہے۔ہمارے ملک میں نئی نسل کے لیے افسانوی ادب زیادہ اور غیر افسانوی ادب بہت کم لکھاگیاجب کہ اس کے برعکس بیرونی ممالک میں ادب اطفال کے میدان میںافسانوی ادب کم اور سائنسی ادب زیادہ تیار ہواہے۔اس امر کی تصدیق بچوں کے معروف ادیب غلام حیدر کے ذریعے ۱۹۹۹تا ۲۰۱۱تک کے ادب اطفال کے موضوعات پر شائع ہونے والی کتابوں پر ایک سیمپل سروے سے بھی ہوتی ہے ۔اس سروے کے مطابق بچوں کے لیے شائع کی گئی ۱۰۰؍کتابوں میں سائنسی موضوعات پر صرف پانچ کتابیں شامل تھیں۔

سائنسی ادب ۱۹۸۰کے بعد
بچوں کے لیے سائنسی ادب کے فروغ میں ۱۹۸۰؍کے بعد کے دہے میں ’’بچوں کا ادبی ٹرسٹ ‘‘کا اہم کردار ہے۔اس کے ذریعے تقریبا ۱۸؍دیدہ زیب کتابیںشائع ہوئیں۔جن میں سے ۹؍کتابیں ’’پھول کے مہمان،بگلابھگت،تتلی کے بچے،ننھاپودا،چار سہیلیوں کی کیاری،نٹ کھٹ چنو،بہروپیا،کاربن:قدرت کا انمول عطیہ اور سوال یہ ہے کہ۔۔‘‘سائنسی موضوعات پر مبنی تھیں۔ان کتابوں میں کیڑوں،پودوں،بادل،پانی اور جنرل نالج پر مفید معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
۱۹۸۵؍میں سید حامد صاحب مرحوم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مرکز فروغ سائنس کی بنیاد رکھی جہاں سے اب تک ۲۰؍سے زائد سائنسی کتب شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔ یہ کتابیں عام فہم،دلچسپ انداز سے سائنسی معلومات ہی فراہم نہیں کرتیں بلکہ مدارس کے طلباء کے لیے تعارفی کورس کا کام بھی دیتی ہیں۔ان میں نئے سائنسداں،سراغ رساں،ڈی این اے،کھیل کھیل میں سائنس،شہد کی مکھی،ایک عظیم سائنس داں،آنکھ کی کہانی،انڈے سے چوزہ،کیا،یوں اور کیسے ،آگ،چیونٹی:قدرت کی حیرت انگیز تخلیق اور سائنس کے تجربات اہم کتابیں ہیں۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآبادکے وائس چانسلر اور معروف سائنس داںپروفیسر محمداسلم پرویز نے ۱۹۹۴میں انجمن فروغ سائنس قائم کرکے رسالہ ’’ماہنامہ سائنس ‘‘جاری کیاجس میں متفرق سائنسی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ان میں ایسے مضامین بکثرت ہوتے ہیں جو بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے یکساں مفید ہیں۔انھوںنے سائنسی مضامین پر مشتمل کتابیں سائنس کی باتیں،سائنس نامہ،اور سائنس پارے بھی شائع کیے ہیں۔ساتھ ہی نیشنل بک ٹرسٹ کی ایک کتاب کا ترجمہ بھی کیاہے جو ’’کائنات میں ایک سفر ‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے۔
بچوں کے لیے سائنسی ادب پر مسلسل لکھنے والوں میں سائنس داں محمدخلیل ،احرار حسین،عبدالودود انصاری ،انیس الحسن صدیقی،پروفیسر ادریس صدیقی اور شمس الاسلام فاروقی کے نام قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ غلام حیدر، فرید الدین ،سید شہاب الدین دسنوی ،عادل اسیر دہلوی،وکیل نجیب،رحمانی سلیم احمد اور پروفیسر محمداسلم پرویز خاص طور سے قابل ذکرہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک استاد احرار حسین صاحب نے بچوں کے لیے کئی سائنسی کتابیں لکھی ہیں۔جن میں سائنسی شعاعیں،عظیم سائنس داں،سائنس کی مایہ ناز ہستیاں اور حیوانات کی دنیاشامل ہیں۔انھوںنے طبعیات،کیمیا،حیاتیات اور عام فہم سوالات پر مبنی ایک سائنسی کوئز بھی تیار کیاہے جو طلباء کی سائنسی استعداد میں اضافہ کرنے کے لیے بہت ہی سود مند ہے۔
عبدالودود انصاری صاحب ایک استاد ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے بچوں کے لیے متفرق سائنسی موضوعات پر مضامین لکھ رہے ہیں،ان مضامین پر مشتمل ان کی دوکتابیں ’’ترقی کے زینے۔سائنس اور ٹکنالوجی‘‘اور ’’سائنس پڑھو۔آگے بڑھو‘‘اہمیت کی حامل کتابیں ہیں جس کا اندازہ کتاب کے عنوان سے ہی لگایاجاسکتاہے۔ان کے علاوہ انھوںنے طلباء کی سائنسی استعداد میں اضافہ کرنے کے لیے کئی کوئیز جیسے ’’پرندہ کوئز‘‘،’’جانور کوئز‘‘،’’کیڑا کوئز‘‘،’’سانپ کوئز‘‘ اور’’ فلک کوئز‘‘بھی شائع کیے ہیں۔ان کتابوں کو علمی حلقوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے درمیان بھی بہت پسند کیاجارہاہے۔
انیس الحسن صدیقی نے بچوں کے ادب میں اپنی سائنسی دلچسپی دکھائی ہے۔وہ پوری طرح سائنس کے طالب علم تو نہیں رہے تاہم علم ہیئت سے دلچسپی رکھنے کے باعث انھوںنے بچوں کے لیے متعدد کتابیں تحریر کی ہیں جو فلکیات کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ان میں’’ ہمارانظام شمسی کیاہے‘‘،’’ہماراچاند کیاہے‘‘،’’ہمارا سورج کیاہے‘‘،’’سورج گرہن کیاہے‘‘،’’ہماری کائنات کیاہے‘‘،’’دمدار سیارے کیاہیں‘‘، ’’گلیلیو کی کہانی۔اس کی زبانی‘‘،’’چندر شیکھر کی کہانی۔ان کی زبانی‘‘،’’کہکشاں کیاہے‘‘،’’اوزون سراخ کیا ہے‘‘ اور اس طرح کی دوسری کہانیاں منظر عام پر آچکی ہیں۔ان کے علاوہ انھوںنے کئی سائنسی مضامین ،جیسے عجیب وغریب ،نیلے بادل،ہماری دنیاکے لیے آزمائشی دن،جانب چاند ہندوستان کے بڑھتے قدم،رہائشی سیاروں کی تلاش،سیارے مریخ پر پانی کی تلاش اور چندریاں جیسی کہانیاں سہ ماہی رسالہ ’’سائنس کی دنیا‘‘اور ماہنامہ’’سائنس ‘‘میں شائع کیے ہیں۔
پروفیسر ادریس صدیقی جو کناڈامیں مقیم ہیں،انھوںنے بچوں کے لیے سائنسی موضوعات پر پچاس سے زائد کتابیں لکھی ہیں۔ان میں ماحولیات سے متعلق کتب ’’پانی کی موت‘‘اور ’’اوزون کی موت‘‘،فزکس اصولوں پر منبی ’’جادو‘‘اور ’’راکٹ‘‘شامل ہیں۔گرین گیس پر ایک کتاب نیشنل بک ٹرسٹ سے ،کوڑاکرکٹ کے مسائل پر دہلی اردواکادمی سے،جانوروں کے غیر قانونی شکارپر مدھیہ پردیش اردو اکادمی سے اور آب وہواپر مبنی کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شائع ہوئی ہیں۔ماحولیات سے متعلق ان کی ۲۱؍کتابوں کا ایک سیٹ پرتھم بکس سے شائع ہواہے۔پرفیسر صدیقی کا کہناہے کہ کہنانی لکھنا،ابتدائی درجات کے بچوں کے لیے ان کے پسند کی کتابیں لکھنا اور سائنس وماحولیات کے تئیں دلچسپی پیداکرانا ہماری زندگی کا مشن ہے۔
معروف سائنس داںمحمدخلیل صاحب سی ایس آئی آر کی جانب سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’’سائنس کی دنیا‘‘کے مدیر رہے۔انھوںنے بچوں کے لیے متعدد سائنسی کتب تحریر کی جن میں ’’سائنس اور ہم‘‘،’’نہرواور سائنس‘‘،’’ڈاکٹر سی وی رمن:ایک عظیم سائنس داں‘‘،’’حیوانات کی دلچسپ دنیا‘‘،’’سائنس دانوں کی دلچسپ باتیں‘‘، ’’پتنگ:ایک قدیم سائنسی کھیل‘‘،’’عجیب وغریب جانور،‘‘اور ’’دنیا کے عجیب وغریب جانور‘‘ شامل ہیں۔اور حال ہی میں ان کی ایک اور کتاب ’’چچاجان کی سائنسی کہانیاں‘‘شائع ہوئی ہیں۔یہ ساری کتابیں بچوں کے اذہان اور مبلغ فہم کے اعتبار سے لکھی گئی ہیں۔انھوںنے مختلف رسالوں جیسے ’’کھلونا‘‘،’’نور‘‘،’’ہلال‘‘،’’پیام تعلیم‘‘،’’گل بوٹے‘‘، ’’امنگ‘‘،’’غبارہ‘‘، ’’اچھا ساتھی‘‘اور دیگر رسالوں کے لیے بھی اہم موضوعات پر بچوں کے لیے مضامین لکھے جن کو بے حد پسند کیاگیا۔روزنامہ اخباروں کے ادب ایڈیشنوں میں بھی ان کے مضامین شائع ہوئے۔خاص طور سے روزنامہ انقلاب کے سنیچر ایڈیشن میں بچوں کا کالم’’نئے ستارے‘‘میں عرصہ تک پابندی کے ساتھ ان کے مضامین شائع ہوئے۔انقلاب میں ان کی کتاب ہمارے سائنس داں اور چچاجان کی سائنسی کہانیاں بھی قسط وارشائع ہوئیں۔
فرید الدین احمد نے بچوں کے اندر سائنسی رجحان پیداکرنے کے لیے کئی اہم کتابیں لکھیں۔ان کی سائنسی کتاب ’’سائنس کی دنیا‘‘،’’مواصلاتی سیارے‘‘خاص طور سے مشہور ہوئے۔سائنس کی دنیا مکتبہ جامعہ سے ۲۰۱۱میں شائع ہوئی۔اس کتاب میں سائنس کی بنیادی باتیں آسان زبان میں سمجھائی گئی ہیں۔جیسے سورج اور سیارے ،نظام شمسی،قوت ثقل،حرارت وتوانائی،عمل احتراق،بجلی اور مقناطیس،قدرتی بجلی،برقی مقناطیس، برقی رو،ساز آواز وغیرہ پر اچھی معلومات فراہم کی گئی ہے۔مواصلاتی سیارے میں بچوں کو ریڈیو،ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن کی کارکردگی اور مواصلاتی سیارے سے ان کے روابط کو سمجھایاگیاہے۔اس میں پہلے مواصلاتی سیارہEcho-1 سے لے کر سن کومSyn Comتک کا تفصیلی ذکر ہے۔
عادل اسیر کی ادبی خدمات تین دہائیوں پر مشتمل ہے،ان کی شاعری نوخیز اطفال ونونہالان وطن کی امنگوں کا سرچشمہ بھی ہے اور آئینہ داربھی ،جس سے اردو کے طالب علم ہمیشہ استفادہ کرتے رہیں گے۔انھوںنے سائنسی ادب پر ایک بہت دلچسپ کتاب’’ہمارے سائنس داں‘‘لکھی ہیں۔ا س کتاب میں انھوںنے ہندوستان کے چار عظیم سائنس داں ڈاکٹر چندر شیکھر وینکٹ رمن،ڈاکٹر میگھ ناوساہا،ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابھا اور آچاریہ جگدیش چندر بوس کے حالات زندگی،ایجادات او رسائنسی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔
وکیل نجیب گزشتہ پینتیس سالوں سے بچوں کے لیے نظمیں،طویل اور مختصر کہانیاں اور ناول لکھ رہے ہیں۔وکیل نجیب نے عالمی ادب اطفال کے مقابلے بچوں کے لیے فنطاسیہ ،سائنس فکشن کی تخلیق کی ہے۔ انھوںنے اپنی نگارشات میں کہانیاں،ناولٹ،طویل اور تمثیلی ناول بھی ہیں۔نواب بنڈی والا ایک حقیقی کردار ہے جس کو اس خوبصورت انداز میں پیش کیاگیاہے کہ طنزوظرافت کی لطیف چاشنی نے اس ناول میں مقصدیت کو خوشگوار بنادیاہے۔وکیل نجیب بچوں کی نفسیاتی پیچیدگیوں،ذاتی ضروریات اور دلچسپیوں کا پور ا پورا خیال رکھتے ہیں۔دور جدید میں سائنس ،سراغ رسانی اور مہمات پر مشتمل ناول بچوں میں بہت مقبول ہوئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کرداروں کے ذریعے ہم بچوں کو سائنسی معلومات بہم پہنچائیں۔
سائنسی ادب پر لکھنے والوں میں حشرات الارض اور دوسرے چھوٹے چھوٹے جانوروں کے متعلق اردو ادب اطفال کو سب سے اچھی سائنسی معلومات فراہم کرنے والے شمس الاسلام فاروقی کا نام ادب اطفال کی دنیامیں ہمیشہ یاد کیاجائے گا۔فاروقی صاحب خود ماہر حشرات الارض ہیں اور کیڑوں سے متعلق انھیں زبردست معلومات ہیں۔انھوںنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے زولوجی (اینٹومالوجی)میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ۱۹۹۸میں انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دہلی کے شعبہ حشرات الارض میں ۳۷؍سال تک اپی خدمات انجام دینے کے بعد بحیثیت پرنسپل سائنسداں سبکدوش ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد ۳؍سالوں تک مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی دہلی ریجنل سینٹر کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دیا۔ا س کے بعد انجمن فروغ سائنس کی صدارت کی۔اب تک مختلف حشرات الارض اور پودوں کے حوالے سے ان کی تقریبا ۲۰؍کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جب کہ مختلف رسائل وجرائد اور اخبارات میں تقریبا ۲۰۰؍سے زیادہ مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ان کی کتابوں میں انوکھی پہیلی،کیڑوں کی دنیا،نیم بابا،شہید کی مکھی کے انوکھے کام،چیونٹی :ایک حیرت انگیز تخلیق،باہمت چیونٹی،کیڑوں کی پہیلیاں،ننھی مخلوق،کیڑوں کا میوزم،دلچسپ سیر،دماغ اور جگر کی کہانی:خود ان کی زبانی،ڈی این اے :اللہ کی نشانی،انسانی جسم:ایک معجزہ اور حشرات قرآنی جیسی اہم کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا شمار بھی اردو کے ایسے ہی خاموش خدمت گذاروں میں ہوتا ہے جو اپنے طور پر اردو کے فروغ کے لئے ہمہ جہت کوشش میں لگے ہیں۔ان کے معلوماتی مضامین ملک و بیرون ملک کے رسائل اور اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔تدریسی ضرورتوں اور مختلف مواقع پر انہوں نے انگریزی مواد سے استفادہ کرتے ہوئے روز مرہ سائنس کے موضوعات پر معلوماتی مضامین لکھے۔ جو اخبارات اور رسائل میں شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں۔ ان مضامین کو انہوں نے کتابی شکل میں ترتیب دیا ہے۔ چنانچہ ’’سائنس نامہ‘‘ کے عنوان سے ان کی تیسری تصنیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ اس سے قبل ان کے معلوماتی ادبی و تحقیقی مضامین پر مشتمل دو تصانیف’’قوس قزح‘‘ اور’’مضامین نو‘‘ شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں۔

نصابی کتب بھی ادب اطفال کا حصہ ہیں۔حالیہ برسوں میں بعض مصنفین نے اردو میڈیم کے سائنس کے طلباء کے لیے این سی ای آر ٹی نصاب کے مطابق مختلف سائنسی مضامین کی کتب تیار کی ہیں جو طلباء کے لیے بہت کارآمد ہیں۔انھیں تیار کرنے والوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر زاہد حسین،ڈاکٹر خوشنود حسین ،بنگال کے عبدالودود انصاری اور مہاراشٹر کے رفیع الدین ناصر قابل ذکر ہیں۔بچوں کے لیے سائنسی ادب کے سرسری جائزے سے اندازہ ہوتاہے کہ عام طور سے مصنفین نے بچوں کی عمر کا لحاظ کیے بغیراپنی تخلیقات پیش کی ہیں جو زیادہ تر بڑی عمر کے بچوں کے لیے ہیں۔صرف بچوں کا ادبی ٹرسٹ وہ واحد ادارہ ہے جس نے بچوں کی عمروں کو ملحوظ رکھا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں کا ادب ان کی عمروں کے اعتبار سے تیارکیاجاناچاہیے۔تین سے چھ سال کے بچے پڑھنا نہیں جانتے، ان کے لیے تصاویری کتابیں ہو نی چاہئیں جو سائنسی تصورات پیش کرتی ہوں۔چھ سال کے بچے عموما چھوٹے چھوٹے جملے پڑھنے لگتے ہیں۔اس لیے ۶؍سے ۸؍ سال کے بچوں کے لیے ایسی کتابیں ہوں جو زبان کے اعتبار سے آسان ، بے حد مختصر،دیدہ زیب تصاویر سے مزین ہوں۔۹؍سے ۱۲؍سال کے بچے فطرت میں دلچسپی لینے لگتے ہیں،اس لیے وہ ایسی کہانیاں پسند کرتے ہیں جو روزمرہ کے تجربات اور حادثات سے پر ہوں جب کہ ۱۲؍سے ۱۴؍سال کے بچے اپنے ماحول سے پوری طرح باخبر ہوجاتے ہیں اور ایسی تخلیقات پسند کرتے ہیںجو ان کی متجسس فطرت کے لیے باعث تسکین ہوں اور ماحول میں پائی جانے والی چیزوں کے بارے میں ان کے کیااور کیوں کے جواب اپنے اندر رکھتی ہوں۔
بچوں کے سائنسی ادب کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس پر ہمارے ادب کے مستقبل کا انحصار ہے۔اس سلسلے میں حسب ذیل اقدامات مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔
اول٭ مصنفین انفرادی طور پر بچوں کے لیے سائنسی ادب لکھنے پر خصوصی توجہ دیں۔
دوم٭سائنسی ادب کے تخلیق کار اپنی کاوشوں کو غیر اہم تصور نہ کریں
سوم٭ تبصرہ اور تنقید نگار سائنسی ادب پر بھی توجہ مرکوز کریں تاکہ یہ تخلیقات نہ صرف عوام کے سامنے آسکیں بلکہ مثبت تنقید سے معیار ادب میں اضافہ بھی ہوسکے۔
چہارم٭ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور ریاستی اردو اکادمی جیسے ادارے سائنسی ادب اطفال کی تیاری اور فروغ کے لیے منظم طور پر پروجیکٹ کے تحت مختلف عمر کے بچوں کے لیے الگ الگ کتابیں تیار کریں۔

کتابیات
مقالہ محمدخلیل اردو اکادمی دہلی ؍غیر مطبوعہ ۲۰۱۵
ڈاکٹرشمس الاسلام فاروقی ماہنامہ سائنس ۲۰۱۶
اردو میں بچوں کا ادب ایک تجزیہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ۲۰۱۶
نیم بابا ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی نیشنل بک ٹرسٹ ۱۹۹۸
ڈی این اے ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی مرکزی مکتبہ اسلامی ۲۰۰۲
باہمت چیونٹی ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی نیشنل بک ٹرسٹ ۱۹۹۴
ماہنامہ سائنس ایڈیٹر پروفیسر محمد اسلم پرویز مرکز برائے فروغ سائنس جون ۲۰۱۴

رابط تفصیلات
Mohammad Raza
M-54A, Batla House Jamia Nagar New Dellhi-110025
Mob.9650873329
scholarurdu12@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.