ساحر لدھیانوی کی شاعری’’تلخیاں ‘‘ کی روشنی میں

 

ساحر لدھیانوی کا اصلی نام عبد الحئی ہے۔وہ ۸؍ مارچ ۱۹۲۱ء کو لدھیانہ میں  پیدا ہوئے۔ اسی لیے لدھیانوی کہلائے۔ جب کہ ساحرؔ ان کا تخلص ہے۔ سا حر لدھیا نوی ایک بڑے متمول گھرا نے میں  پیدا ہو ئے۔ ان کے والد چودھری فضل محمد کا شمار شہر کے معروف اور معزز لوگوں  میں  ہوتا تھا۔ انہوں  نے اولاد نرینہ کی خواہش میں  یکے بعد دیگرے گیا رہ شادیاں  کیں ۔ سا حرؔ کی والدہ سرور بیگم سے ان کی شادی خفیہ تھی۔ اخفا کی وجہ یہ تھی کہ ساحرؔ کی والدہ کو وہ خاندا نی لحاظ سے اپنے ہم پلہ نہیں  سمجھتے تھے اور اسے اپنے سماج ورتبے سے کم تر خیال کرتے تھے کہ ان کے علی الاعلان رشتہ ازدواج قائم کر لیں ۔ سا حرؔ کی پیدا ئش کے بعد ساحرؔ کی والدہ نے اپنے اور بیٹے کے حقوق کے لیے جدو جہد کر نی شروع کردی۔ بالآخر جب ان کی فریاد کی سنوائی کہیں  نہ ہوئی تو وہ اپنی فریاد لے کر عدا لت کے دروازے پر جا پہنچیں۔ بہر کیف ساحرؔ کے والدین کی مقدمہ بازی تقسیم ملک تک جاری رہی۔ ساحرؔ اس دوران اپنے والد کی شفقت سے محروم تنہا والدہ کی سر پرستی میں  رہے۔ انہوں  نے مالوہ خالصہ اسکول سے انٹرنس پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں  دا خلہ لیا۔ اس سے پہلے ان کی سیاسی گر میوں  کا آ غاز ہو چکا تھا۔ سا حر ؔکے والد انگریزی حکو مت کے وفادار تھے۔ لیکن انگریزی حکومت ساحرؔ ساحر کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ انٹر کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور لدھیانہ سے لاہور منتقل ہوگئے۔فرقہ وا را نہ فسادات میں  ساحرؔ کی والدہ جنہوں  نے انہیں  بڑے لاڑ پیار سے پالا تھا کہیں  گم ہو گئیں ۔ ساحرؔ کے لیے یہ حا دثہ بہت الم ناک تھا۔ بہر حال تلاش بسیار کے بعد مل گئیں ۔ ساحرؔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ اس طرح ان کے ذہن میں  یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ پاکستان کے ماحول میں  ایڈ جسٹ نہیں  ہو سکیں  گے۔ اسی وجہ سے وہ راتوں  رات ہندوستان واپس آ گئے اور اپنی عمر کے آخر تک ہندوستان میں  ہی رہے۔ ۲۵؍ اکتو بر ۱۹۸۰ء کو ۵۹ سال کی عمر میں  اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ انہوں  نے اپنی زندگی میں  بہت سے عروج و زوال دیکھے تھے۔ ان کی شاعری انہی جذبات کی عکاس ہے۔ اپنے شعری اثاثے میں  انہوں  نے’’تلخیاں ‘‘،’’ پر چھائیاں ‘‘،’’ آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘‘ اور گیتوں  کا مجموعہ’’ گاتا جائے بنجا رہ‘‘ جیسی شاعری چھوڑی ہے۔ان کے پہلے مجمو عہ کلام’’ تلخیاں ‘‘(۱۹۴۴ء) کی اشاعت سے پہلے ہی، ان کی شاعری نو جوان دلوں  کی دھڑ کن بن چکی تھی۔ ساحرؔ اپنی نظم تاج محل میں  اپنے محبوب سے ان الفاظ میں  اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں  ؂

تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی

تجھ کو اس وادی رنگیں  سے عقیدت ہی سہی

میرے محبوب! کہیں  اور ملا کر مجھ سے

بزم شاہی میں  غریبوں  کا گزر کیا معنی؟

ثبت جس راہ پر ہوں  سطوط شاہی کے نشاں

اس پر الفت بھری روحوں  کا سفر کیا معنی؟

’’تلخیاں ‘‘ میں  ۱۳؍ غزلیں  ہیں  جن میں  ۹ مکمل غزلیں  ہیں  اور ۴ عنوان کے تحت ہیں ’’ آ ؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ میں  غزل نما ۱۳ نظمیں  ہیں  جنہیں  کسی نہ کسی عنوان سے موسوم کردیا گیا ہے۔ ان کا سانچہ اگر چہ غزل کا سا ہے لیکن عنوانات کی مہر لگ جانے کے سبب انہیں  نظم میں  شمار کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ’’گاتا جا ئے بنجا رہ‘‘ میں  بھی محقق کی نظر غزلوں  کو تلاش کر لیتی ہیں ۔ لیکن یہ ان کی فلمی شاعری میں  شمار کی جا تی ہیں ۔ اس لیے ان کا ذکر شا عر کی نغمہ نگاری کے تحت کیا جاتا ہے۔ نغمہ نگاری کے تحت شمار کی جانے والی سا حر کی غزلوں  کے رموز و نکات کو نظر انداز نہیں  کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے تلخیاں  کی تعداد سے دیکھا جائے تو سا حر ؔ کی غزلیں  خال خال ہی نظر آ ئیں  گی۔مگرتینوں  مجموعوں  کی تعداد پر غور کیا جائے تو اتنی غز لیں  تو بہر حال ہو ہی جاتی ہیں  کہ ان کی غزلوں  کے فن و شعور پر غور کیا جا سکے۔ساحرؔ کے یہاں  غزل اپنے تمام لوازم کے ساتھ غزل ہی رہتی ہے جس میں  کلا سیکیت، رو مانیت، تجربات و مشاہدات کی آ میزش، سیاسی و سماجی کشمکش اور ترک الفت کو پیش گیا ہے۔ ان کی غزلوں  کی تازگی، نغمگی، تغزل و تاثر آفرینی نے مجمو عی طور پر تازگی اور نیا پن پیدا کیا ہے۔ ساحرؔ کی غزلیں  مو ضو عات کے تنوع کے لحاظ سے محدود ہو کر بھی اشعار کی تازگی، سادگی، سنجیدگی و پر کاری کو برقرار رکھتی ہے۔سا حرؔ کی شاعری کی ابتدا تو ان کی ذا ت سے ہوئی لیکن جلد ہی کائنات تک پہنچ گئی۔ ان کی سیاسی و انقلابی نظموں  کے ساتھ ان کے تحقیقی شعور میں  بھی پختگی آ تی گئی اور اسلوب و آہنگ نکھرتا و سنورتا گیا۔ اس کے علاوہ ساحرؔ کے اسلوب کی ایک صفت نغمگی اور تغزل بھی ہے۔ نغمگی، موسیقیت اور تغزل کے امتزاج نے ان کی نظموں ، غزلوں  اور نغموں  میں  وہ تاثر کی شدت پیدا کردی ہے کہ قاری و سامع اس میں  کھوکر رہ جاتا ہے۔ بالخصوص غزل تو تغزل کے بغیر حسن بے نمک ہی ہوگی۔ چنانچہ ساحرؔ نے اگر ایک طرف غزل کو زندگی کی صدائے وقت سے دوچار کرایا تو دوسری طرف ایک نئے انداز کا تغزل بھی پیش کیا ہے ؂

ہمیں  سے رنگ گلستاں  ہمیں  سے رنگ بہار

ہمیں  کو نظم گلستاں  پہ اختیار نہیں

نفس کے لوچ میں  دم ہی نہیں  کچھ اور بھی ہے

حیات ساغر و سم ہی نہیں  کچھ اور بھی ہے

جو لفظ مئے کشی ہے نگاروں  میں  آئے گا

یا با شعور بادہ گساروں  میں  آ ئے گا

میں  سمجھتا ہوں  تقدس کو تمدن کا فریب

تم رسو مات کو ایمان بنا تی کیوں  ہو

تم میں  ہمت ہے تو دنیا سے بغا وت کردو

ورنہ ماں  باپ جہاں  کہتے ہیں  شادی کر لو(یکسوئی)

تو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں  سکتا

میں  چا ہوں  بھی تو خواب اور ترا نے گا نہیں  سکتا(میرے گیت)

مختصر طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ساحرؔ ان چند شعرا میں  سے ہی ایک ایسے منفرد اور ترقی پسند شاعر ہیں  جو دنیائے فانی تک مشہور و معروف رہے گا۔٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.