اشاریہ ماہنامہ سائنس

اشاریہ ماہنامہ سائنس

مؤلف:               ڈاکٹر محمد کاظم

صفحات:           554

قیمت:              500

ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی

مبصر : ڈاکٹر عزیر اسرائیل

  یہ اتفاق ہی کی بات ہے کہ میری دہلی آمد اسی سال ہوئی جس سال ڈاکٹر اسلم پرویز صاحب نے ماہنامہ سائنس کا اجرا کیاتھا۔ میں نے دہلی کے ایک مدرسہ کے شعبہ حفظ میں اسی سال داخلہ لیا تھا۔شعبۂ حفظ میں سوائے قران اور تجوید کے کسی تیسرے کتاب کی گنجائش نہیں تھی۔ بہت سختی تھی کہ کوئی باہری کتاب پڑھ کر طلبا اپنا ذہن نہ بھٹکائیں لیکن مجھ جیسے کچھ طالب علم پیام تعلیم کے ساتھ ماہنامہ سائنس کی ایک کاپی ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ خرید کر لاتے تھے۔ ماہنامہ سائنس ابھی ابھی نکلنا شروع ہوا تھا، ان دنوں اس اس کا خوب چرچا تھا۔ ہم لوگ ماہنامہ سائنس کا ایک کالم بہت شوق سے پڑھتے تھے جس میں قارئین کے سوالوں کا ایڈیٹر کی طرف سے جواب دیا جاتا تھا۔ اس میں عام قاری کے ذہن میں سائنس کے کسی بھی موضوع سے متعلق سوال کا جواب بہت ہی آسان زبان میں جواب دیا جاتا تھا۔ سائنسی ذوق پیدا کرنے کے لئے کسی ایک سوال پوچھنے والے کو انعام بھی دیا جاتا تھا۔ میں چھپ کر پیام تعلیم کے ساتھ ماہنامہ سائنس کا مطالعہ کیا کرتا تھا۔اس کا ذکر میں نے صرف یہ بتانے کے لیے کیا ہے کہ ڈاکٹر اسلم پرویز نے سائنس جیسے خشک موضوع کو اتنا پرکشش بنادیا ہے کہ بچے اسے قصے اور کہانی کی طرح پڑھنے لگے۔

اردو میں رسائل نکلتے رہتے ہیں۔ کچھ رسائل ایک دو سال نکل کر اپنی آخری سانس لے لیتے ہیں تو کچھ اس سے بھی کم عمر ،ایک یا دو شمارے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ بہت کم رسائل ایسے ہیں جو دس سال یا اس سے زائد عرصہ تک برابر شائع ہوتے رہیں۔  انہیں رسائل میں ایک نام ڈاکٹر اسلم پرویز کی ادارت میں مسلسل تیئس سالوں سے شائع ہونے والا اردو ماہنامہ سائنس بھی ہے۔ اردو زبان سے واقفیت رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا قاری ہو جو اس رسالے سے واقف نہ ہو۔ اس رسالے کی خاص بات یہ ہے کہ پہلے شمارے سے لے کر اب تک مسلسل ایک مشن کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ ہے اردو داں طبقہ کو سائنس سے قریب لانے  اور سائنس کی تعلیم کو عام کرنے کا مشن ۔یہ وہی مشن ہے جس کو لے کر سرسید احمد خان آگے بڑھے تھے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز خود سائنس کے میدان کے شہسوار ہیں۔ بوٹنی (علم نباتات) انکا میدان ہے۔ ذاکر حسین دہلی کالج میں ایک عرصہ سے درس وتدریس کے ساتھ اسی کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔ یہ وہی کالج ہے جس نے اردو زبان میں سائنسی کتابوں کا ترجمہ کرکے اردو میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دینے کی پہل کی تھی۔اس وقت مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد میں وائس چانسلر کے طور پر اردو کا رشتہ جدید تعلیم سے مستحکم کررہے ہیں۔  ڈاکٹر اسلم پرویز نے فروری 1994میں جب پہلے شمارے سے ’سائنس ‘ کا اجرا کیا تھاتو اس وقت انہوں نے جو خواب دیکھا تھا وہ آج عملی صورت میں سامنے ہے۔ اس رسالے نے اردو میں سائنسی مزاج کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ آسان زبان میں سائنس کی باتیں، سوال وجواب کے انداز میں ذہن میں اٹھنے والے سوالات، سائنس کے میدان میں کام کرنے والی اہم شخصیات کا تعارف اور نئی نئی ایجادات کے بارے میں اردو قارئین کو متعارف کراتے ہوئے دو دہائی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی کے سینئر استاد ڈاکٹر محمد کاظم نے اس رسالے کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اشاریہ مرتب کرکے قارئین کے لیے اس سے استفادہ کی راہ آسان کردی ہے۔ اس اشاریہ کو دیکھ کر اس رسالے کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ ڈاکٹر محمد کاظم رسالہ کا تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں:

’سائنس اور ماحولیات سے متعلق ایسے کون سے موضوعات ہیں جن پر یہاں مضامین شامل اشاعت نہیں ہوئے۔ بلکہ روز مرہ میں پیش آنے والی بیماریاں، دشواریاں، سائنسی اصطلاحات، مختلف بیماریوں کی وجوہات اور ان کا علاج، ہمارے ماحول کا بدلتا مزاج اور اس کے اثرات، سائنس اور اسلام، انسائیکلو پیڈیا، سائنس ڈکشنری، سائنس کلب، سائنس خبرنامہ، سائنس کوئز، ستاروں کی دنیا، روشنی کی باتیں، روشنی کا جھکاؤ، روشنی کی واپسی، روشنی کی نظربندی، زمین کے اسرار، سفیران سائنس، عظیم ایجادات، سمندری حیات، مچھلیوں کی دلچسپ باتیں، جانوروں کی دلچسپ کہانیاں، جانوروں کی عادات واطوار، بلک ہول، قرآن اور سائنس، نفسیاتی مسائل، ورک شاپ، وزن کے مسائل، ماحول واچ، انسانی حس اور اس کا اظہار، مشینوں کی بغاوت، صفر سے سو تک، علم کیمیا کا ہے؟ علم نجوم، غذا میں چکنائی، غذا کی اہمیت، ہمارا جسم، طب، ریاضیات، پانی، زراعت، معلومات عامہ، کمپیوٹر، مقناطیسیت، کیا آپ جانتے ہیں؟ کب کیوں اور کیسے؟ سوال وجواب اور اس طرح کے بہت سارے موضوعات اور مسائل پر نہ صرف ایک سے زیادہ مضامین اور اندراجات موجود ہیں بلکہ وقفے وقفے سے ان موضوعات پر سلسلہ وار مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔‘‘

ان مضامین کے قلم کاروں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے حیرت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر اسلم پرویز نے دنیا کے ہر گوشہ سے  سائنس پر کام کرنے والوں سے آسان اردو میں مضامین لکھوا کر انہیں بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ اردو ماہنامہ سائنس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ پہلے شمارے سے issnنمبر کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔1994میں عموما اردو والوں کو اس کی خبر بھی نہیں تھی کہissn کون سی بلا ہے۔ 1994سے 1999تک ’سائنس ‘ کا سرورق ایک کلر میں شائع ہوتا تھا لیکن 2000سے رنگین کلر کے ساتھ آرٹ پیپر پر شائع ہوتا ہے۔1994 میں جب یہ رسالہ شائع ہوا تھا اس وقت اس کی قیمت فی شمارہ 8 روپئے تھی جو 2012 میں بڑھ کر 25روپئے ہوگئی۔ یہی قیمت آج بھی برقرار ہے۔

ڈاکٹر محمد کاظم نے اس رسالہ کا جو اشاریہ مرتب کیا ہے وہ 1994سے 2016تک کے رسالوں پر محیط ہے۔ انہوں نے اشاریہ کو دو طریقے پر ترتیب دیا ہے پہلے سن اشاعت کے حساب سے جس میں وہ ایک سال کے سبھی شماروں میں شامل موضوعات کو ان میں شامل مستقل کالموں کے حساب سے ترتیب دیا ہے۔ مثلاً پہلے ’ڈائجسٹ‘ کے مضامین کی فہرست پھر ’پیش رفت‘ کی فہرست پھر ’میراث ‘کی فہرست شامل کی گئی ہے۔دوسرے حصے میں مضامین کو حروف تہجی کے حساب سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یعنی پہلے الف سے آنے والے مضامین کو اور سب سے آخر میں ’ی‘ سے آنے والے مضامین کو رکھا گیا ہے۔

 یوں تو اس رسالے کے سبھی کالم کافی مقبول ہیں لیکن کچھ کالم ایسے ہیں جن کو قارئین رسالہ ہاتھ میں لیتے ہی سب سے پہلے پڑھنا پسند کرتے ہیں۔کچھ کالم ایسے ہیں جو کسی وقت میں شروع ہوئے اور مکمل ہوگئے۔ جیسے آفتاب احمد کا مشہور کالم ’الجھ گئیـ‘  جو مارچ 2000 سے لے کر مئی 2004تک شائع ہوتا رہا۔ ’انسائیکلو پیڈیا‘جنوری 2004سے دسمبر 2009تک، پہلے یہ کالم ادارہ کی جانب سے شائع ہوتا تھا مگر جنوری 2007سے اس کالم کو سمن چودھری نے لکھنا شروع کردیا۔ ڈاکٹر جاوید انور کا سلسلہ وار مضمون ’بچے کی پرورش کے بارے میں غلط عقائد‘ کل چھ قسطوں میں جولائی تا دسمبر 2011 کے شماروں میں شائع ہوکر کافی مقبول ہوا۔ کچھ کالم ایسے ہیں جن کو ایک سے زائد لوگوں نے مختلف وقتوں میں لکھا ہے جیسے ’پیش رفت‘ جس کو پہلی دفعہ جمیل مرتضی نے اس کے بعد ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی ، ڈاکٹر عبیدالرحمن، ڈاکٹر عقیل احمد، ڈاکٹر لئیق ایم خان، ڈاکٹر معراج الدین ، فہمینہ، محمد طارق اقبال، مدیر، مقبول احمد، نشاط جیلانی اور یوسف سعیدنے فروری 1999اور اکتوبر 2008کے درمیانی شماروں میں لکھا ہے۔ ماہنامہ سائنس کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس کے مضامین روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل سے متعلق رہتے ہیں۔ ہر شمارہ کا ایک خاص موضوع ہوتا ہے جو سرورق پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں تفصیلی مضمون اندرونی صفحات میں ہوتا ہے۔ عام کتابوں سے رسائل کی دنیا اسی لیے زیادہ جاذب ہوتی ہے کہ ان کا ہاتھ قاری کے نبض پر ہوتا ہے۔ کب کس قسم کا مواد چاہئے رسائل فوری طور پر فراہم کرتے ہیں۔ ماہنامہ سائنس کی کامیابی کے پیچھے جہاں ڈاکٹر اسلم پرویز کے فولادی عزم کا دخل ہے وہیں ان کی ادارتی مہارت کا بھی بڑا رول رہا ہے۔ یہی دو خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے ہر قسم کی پریشانیوں کے باوجود ماہنامہ سائنس اسی آب وتاب کے ساتھ شائع تیئس سالوں سے مسلسل شائع ہورہا ہے۔

                ماہنامہ سائنس میں پچھلے دو دہاہیوں میں بے شمار سائنسی اور علمی مضامین شائع ہوئے۔ دوسرے رسائل کی طرح ماہنامہ سائنس کے ساتھ بھی یہ پریشانی ہے کہ اس کے قاری کو یہ نہیں معلوم ہوپاتا کہ اس میں کے گزشتہ شماروں میں کون کون سے مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ اگرچہ ماہنامہ سائنس  کے مدیر نے شروع سے ہی یہ طریقہ اپنایا ہے کہ ہر سال کے آخر میں مضامین کا اشاریہ شائع کردیتے ہیں ، جس سے عام قاری اگر چاہے تو اپنی پسند کے مضامین کو پڑھ سکتا ہے۔  لیکن ڈاکٹر محمد کاظم کے  اشاریہ نے ماہنامہ سائنس سے استفادہ کرنے والوں کو مزید سہولت فراہم کردی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے اس اشاریہ کو سامنے رکھ کوئی اسکالر ماہنامہ سائنس پر ریسرچ کرے کہ اردو میں سائنس کو فروغ دینے میں اس ماہنامہ کا کیا رول رہا ہے؟  یہ ایم فل یا پی ایچ ڈی کا موضوع بن سکتا ہے۔ اس لیے کہ ماہنامہ سائنس میں ایسے مضامین کی ایک بڑی فہرست ہے جس کے بارے میں اردو میں مواد نہ کے برابر ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی محقق اس قسم کا کام کرتا ہے تو اس کے لیے ڈاکٹر محمد کاظم کی یہ کتاب بہت معاون ثابت ہوگی۔

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.