اقبال کے کلام میں قرآنی پیغمبرانہ تلمیحات

 صنعتِ تلمیح کا استعمال اردو اور فارسی میں گم و بیش تمام شعرائے کرام نے کیا ہے اور بہت خوبصورتی سے اس کو نبھایا بھی ہے تاہم اقبال نے اس صنعت کا استعمال جس قدر عمدہ طریقے سے کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے بار بار اپنے کلام میں تلمیحات کا استعمال کر کے عمل پر ابھارا ہے اور قوم کی تشکیلِ نو کے سلسلے میں ان تلمیحات کو ماضی سے مثالیں بنا بنا کر قوم میں رجائیت اور امید پیدا کی ہے۔اقبال کے ہاں تلمیحات کا بہت خوبصورت اور عمدہ استعمال ہے جس نے نہ صرف ان کے شعری کمال کو بلند پروازی بخشی ہے بلکہ ان کے تخیلات کی ترویج میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔زیرِ نظر مضمون میں اقبال کی وہ تلمیحات جو کہ پیغمبرانِ کرام سے منسلک ہیں اور ان پر قرآن کریم کے اثرات ہیں ان کا مختصر سا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اقبال کی قرآنی تلمیحات پر بات کرنے سے قبل ان کی تعلیمات پر جو قرآنِ کریم کے اثرات ہیں ان کا مختصر احوال بیان کیا جاتا ہے

تعلیماتِ اقبال پر قرآن مجید کے اثرات

یہ بات عجیب نہیں ہے کہ کوئی بھی بڑا تخلیق کار کسی بڑی شخصیت یا کسی کتاب سے متاثر ہو اور پھر وہ اس شخصیت یا کتاب کے افکار کو اپنے اندر جذب کرکے ان کا اظہار کرے۔ مسلم شعراء اور ادباء پر قرآن پاک اور سیرت طیبہ ﷺ کے واضح اثرات پائے جاتے ہیں مثال کے طور پر حالی کی شاعری، مولانا شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کی شاعری اور تحریروں پر سیرت طیہ کے اثرات جھلکتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے عیسائی ادباء یا شعراء بھی کسی نہ کسی شخصیت سے متاثر ہیں جیسے کیٹس شیکسپئیر سے، ورڈزورتھ ملٹن سے متاثر ہے اور عیسائی ادباء اور شعراء پر بھی بائبل کے اثرات کہیں نہ کہیں موجود ہیں بالکل اسی طرح اقبال کی نظموں اورغزلوں میں قرآن پاک کے اثرات کے واضح اشارے پائے جاتے ہیں۔خصوصاً اسرار خودی اور رموز بے خودی کی اشاعت کے بعد تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے، لیکن یہاں پر عیسائی ادباء و شعراء اور اقبال میں جو ایک فرق سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اقبال ان کی طرح شعوری طور پر سیرت النبیﷺ یا قرآن پاک سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ قرآن پاک ان کے تحت الشعور میں جذب ہوگیا۔اس کے بعد اقبال کی زبان سے قرآن کی ترجمانی ہونے لگی۔اقبال کے شعروں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ قرآن پاک، حدیث مبارکہ، سنت نبوی، صحابہ کرام اور تاریخ اسلام کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ شاید ہی کوئی نظم یا غزل ایسی ہو جس میں ان عنوانات پر شعر نہ کہے گئے ہوں۔ اقبال کی شاعری میں موجود خیالات کا بنیادی ماخذ قرآن مجید ہے اس کے بعد ان کے کلام پراحادیث مبارکہ، سیرت النبیﷺ، صحابہ کرام، بزرگانِ دین اور مسلم و غیر مسلم ادباء و شعراء کے اثرات کچھ حد تک پائے جاتے ہیں۔اقبال کی فکر کے اس پہلو کی جانب پہلی بار ابوالاعلیٰ مودودی نے توجہ دی، انھوں نے اس موضوع پر ’’حیات اقبال کا ایک سبق‘‘کے عنوان سے مضمون لکھا جو۱۹۳۸ء کے مجلہ جوہر اقبال نمبر میں شائع ہوا۔گویا اس مضمون کو اس لحاط سے اولیت کا درجہ حاصل ہے کہ اس میں اقبال کی فکر کے ایک نئے پہلو کو سامنے لایا گیا جو سب سے جدا اور منفرد مقام کا حامل ہے۔اقبال نے مشرقی علوم سے بھی استفادہ کیا اور مغربی علوم سے بھی۔دونوں علوم پر ان کی دسترس رہی۔وہ فلسفے کے بھی امام ہیں اور شاعری و نثر میں بھی جداگانہ مقام و مرتبہ رکھتے ہیں لیکن ان کے تمام فلسفیانہ افکار، شاعری اور نثر میں کہیں نہ کہیں سے قرآن مجید سے استفادہ ضرور ہے۔اقبال زندگی کے ہر پہلو میں قرآن پاک سے رہنمائی لینا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو بار بار تنبیہ کرتے ہیں کہ مسلمان جیسی زندگی کسی طور قرآن پاک کے دکھائے گئے راستے سے ہٹ کر گزارنا ممکن نہیں ہے۔اقبال کو قرآن پاک کا ذوق و شوق اوائل عمری سے ہی تھا۔مولانا سلمان ندوی دو واقعات کو اقبال کی قرآن مجید میں دلچسپی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ کہتے ہیں:

’’سفر کابل کی واپسی میں قندھار کا ریگستانی میدان طے ہو چکا تھا۔۔۔شام کا وقت تھا ہم دونوں ایک ہی موٹرمیں بیٹھے تھے۔۔۔۔ موصوف نے بڑی تاثیر کے ساتھ اپنی زندگی کے دو واقعے بیان کئے۔ میرے خیال میں یہ دونوں واقعے ان کی زندگی کے سارے کارناموں کی اصل بنیاد تھے۔ فرمایا۔۔جب میں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا تو صبح اٹھ کر روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا تھا۔ والد محترم اپنے اوراد و وظائف سے فرصت پا کر آتے اور مجھے دیکھ کر گزر جاتے۔ ایک دن صبح کو وہ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا:

’’کبھی فرصت ملی تو میں تم کو ایک بات بتائوں گا‘‘

میں نے دو چار دفعہ بتانے کا تقاضا کیا تو فرمایا:

’’جب امتحان دے لو گے، تب‘‘

جب امتحان دے چکا اور لاہور سے گھر آیا تو فرمایا’’جب پاس ہو جائو گے‘‘ جب پاس ہوگیا اور پوچھا تو فرمایا’’بتائوں گا‘‘

ایک دن صبح کو جب حسب دستور قرآن کی تلاوت کر رہاتھا تو وہ میرے پاس آ گئے اور فرمایا’’بیٹا کہنا یہ تھا کہ جب تم قرآن پڑھو تو یہ سمجھو کہ قرآن تم پر ہی اتر رہا ہے یعنی اللہ خود تم سے ہم کلام ہے‘‘

ڈاکٹر اقبال کہتے تھے کہ ان کا یہ فقرہ میرے دل میں اتر گیا اور کی لذت دل میں اب تک محسوس کرتا ہوں۔یہ تھا وہ تخم جو اقبال کے دل میں بویا گیا اور جس کی تن آور شاخیں پہنائے عالم میں ان کے کلام کی شکل میں پھیلی ہیں

دوسراواقعہ یہ ہے کہ ایک دن باپ نے بیٹے سے کہا کہ:

’’میں نے تمہارے پڑھانے میں جو محنت کی ہے اس کا معاوضہ چاہتا ہوں’‘

لائق بیٹے نے بڑے شوق سے پوچھا ’’وہ کیا ہے؟‘‘

باپ نے کہا’’کسی موقع پر بتائوں گا‘‘

چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ ’’میری محنت کا معاوضہ یہ ہے کہ تم اسلام کی خدمت کرنا‘‘

بات ختم ہوگئی۔ڈاکٹر اقبال کہتے تھے۔۔۔’’ ایک دن میں نے پوچھا کہ والد بزرگوار، آپ سے جو میں نے اسلام کی خدمت کا عہد کیا تھا وہ پورا کیا یا نہیں ؟‘‘

باپ نے بسترِ مرگ پر شہادت دی کہ ’’جانِ من، تم نے میری محنت کا معاوصہ ادا کر دیا‘‘

کون انکار کر سکتا ہے کہ اقبال نے ساری عمر جو پیغام ہم کو سنایا وہ انہی دو مثنویوں کی شرح تھی‘‘؎۱

پہلے واقعہ کا مفہوم اقبال نے بال جبریل میں اس طرح ادا کیا ہے:

تیرے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف ۲

اقبال کی تمام زندگی میں ان کے والد کی اس نصیحت نے اثر رکھا۔ وہ قرآن مجید کو صرف ایک کتاب سمجھ کر یا نیکی کے حصول کے لئے نہیں پڑھتے تھے بلکہ وہ اس کی فہم پوری طرح رکھتے تھے۔ کلام الہٰی کو اپنے دل پر اترتا محسوس کرتے تھے۔ قرآن پاک کی معنویت اور اس کے الفاظ کا ان کے دل پر اس قدر اثر ہوتا تھا کہ وہ تلاوت کے دوران رو پڑتے تھے۔اس سلسلے میں اقبال کے معاصر مرزا جلال الدین کا بیان قابل غور ہے۔ لکھتے ہیں:

’’مطالب قرآن پر ان کی نظر ہمیشہ رہتی۔ قرآن پاک کو پڑھتے تو اس کے ایک ایک لفظ پر غورکرتے۔ بلکہ نماز کے ودران میں جب وہ باآواز بلند پڑھتے تو وہ آیات قرآنی پر فکر کرتے اور ان سے متاثر ہو کر رو پڑتے‘‘۳

اگرچہ مندرجہ بالا واقعات اقبال کی قرآن فہمی کی ایک بڑی وجہ تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند عوامل اور بھی تھے جو اقبال کی قرآن فہمی کی وجہ بنے۔ان عوامل میں سے مغربی تعلیم ایک بڑی وجہ قرار دی جا سکتی ہے۔ اقبال یورپ میں قیام کے دوران مغربی تہذیب اور اس کی تعلیم کے اثرات سے پوری طرح واقفیت حاصل کر چکے تھے۔مغربی تعلیم اور تہذیب جہاں عام مسلمانوں کی بے راہ روی کی ایک بڑی وجہ تھی وہاں اقبال جیسے مدبر اور مفکر کے لیے ایک نئی سوچ، ایک نیا راستہ تلاش کرنے کا باعث بن گئی۔ مغربی تعلیم و تہذیب کے ردعمل کے طور پر ہی اقبال نے قرآن پاک سے رجوع کیا اوراسے اپنی شاعری کا موضوع بنایا، کیونکہ قرآن مجیدمیں گم ہو کر ہی مسلمان عافیت حاصل کر سکتے تھے ورنہ مغربی تہذیب کا سیلِ آب مسلم تہذیب کو بہا کے لے جاتا۔یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب کی اصلیت جان کر اقبال قرآن کے اور قریب ہوگیا۔سید ابوالاعلیٰ مودودی اس بارے میں رقم طراز ہیں:

مغربی تعلیم و تہذیب کے سمندر میں قدم رکھتے وقت وہ (اقبال)جتنا مسلمان تھا، اس کے منجدھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ مسلمان پایا گیا۔ اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا۔یہاں تک کہ اس کی تہہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہو چکا ہے، اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیں رہا۔ جو کچھ وہ سوچتا تھا قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا جو کچھ دیکھتا تھا ورقرآن کی نظر سے دیکھتا تھا۔۔۔۔‘‘۴

اقبال سالہا سال مختلف علوم سے استفادہ حاصل کرتے رہے، اعلیٰ یونیورسٹیوں اور بہترین اساتذہ کرام سے فیض حاصل کیا لیکن ان کے نزدیک حقیقت صرف قرآن مجید ہے اور تمام علم کا سرچشمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جہاں سے جو بھی علم حاصل کیا اس کو قرآن پاک کی کسوٹی پرپرکھا اور جو قرآن مجید سے الگ تھا اس کو رد کرکے اس علم کو قرآن مجید کی روشنی میں درست کیا۔ اقبال کے تقریباً تمام تصورات یا تو قرآن مجید سے اخذہیں یا پھر ان پر قرآن مجید کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ زندگی کے آخری دور میں تواقبال صرف قرآن پاک کے مطالعہ میں مصروف رہے اور دیگر تمام کتب کا مطالعہ ترک کر دیا تھا۔ قرآن پاک کے سوا کوئی کتاب اپنے سامنے نہیں رکھتے تھے۔اس کا ثبوت سید ابوالاعلیٰ مودودی کے مضمون میں شامل اس واقعہ سے ملتا ہے۔لکھتے ہیں:

’’ایک مرتبہ کسی شخص نے ان کے پاس فلسفہ کے چند اہم سوالات بھیجے اور ان کا جواب مانگا۔ان کے قریب رہنے والے لوگ متوقع تھے کہ علامہ اپنی لائبریری کی الماریاں کھلوائیں گے اور بڑی بڑی کتابیں نکلوا کر ان مسائل کا حل تلاش کریں گے۔ مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لائبریری کی الماریاں مقفل کی مقفل رہیں اور وہ صرف قرآن ہاتھ میں لے کر جواب لکھوانے بیٹھ گئے‘‘۵

زندگی کے آخری ایام میں اقبال کی توجہ قرآن پاک کی طرف رہی۔ خوش الحان تھے۔ تلاوت باآواز بلند کرتے تھے اور اس دوران اشکبار ہوجاتے تھے، آخری دنوں میں بیماری کے باعث قرآن پاک اور نماز پڑھنے میں باقاعدگی نہیں رہی تھی۔عام دنوں میں علامہ اقبال کا معمول تھا کہ قرآن پاک کی تلاوت باقاعدگی سے بلند آوازمیں کرتے تھے۔ آواز شیریں تھی۔آخری دنوں کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے اقبال کے ملازم علی بخش کہتے ہیں:

’’جن دنوں ہم بھاٹی دروازے میں رہتے تھے ایک دفعہ پورے دو مہینے بڑی باقاعدگی سے تہجد کی نماز پڑھتے رہے۔ ان دنوں ان کا عجب حال تھا۔ قرآن اس خوش الحانی کے ساتھ پڑھتے تھے کہ جی چاہتا تھا بس سارے کام چھوڑ کر انہی کے پاس بیٹھا رہوں۔ اس زمانے میں کھانا پینا بھی چھوٹ گیا تھا۔ صرف شام کو تھوڑا سا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ خدا جانے کیا رمز تھی۔’‘۶

مولانا عبدالسلام ندوی اپنی تصنیف اقبال نامہ ص۱۷ پر اقبال کی قرآن پاک سے وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دوران تلاوت اقبال کے آنسوئوں کا تار بندھ جاتا تھا۔ تلاوت بہت رغبت اور ذوق و شوق سے کرتے تھے۔ ڈاکٹر اقبال کی وصیت کے مطابق جب ان کی کتابیں اسلامیہ کالج لائبریری کو دی گئیں تو ان میں قرآن پاک کا وہ نسخہ بھی تھا جو آنسوئوں سے تر تھا۔اقبال کو آخری ایام میں گلے کی خرابی کے باعث ڈاکٹروں نے بلند آواز میں تلاوت سے منع کر دیا تھا جس کا ان کو بہت رنج تھا۔آخری ایام میں اقبال قرآن پاک پر ایک کتاب بھی لکھنا چاہتے تھے اور ان کا ارادہ یہ کتاب انگریزی میں لکھنے کا ارادہ تھا لیکن بیماری کے باعث اس قدر وقت میسر نہ ہوا کہ وہ اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔سر راس مسعود کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’۔۔۔۔اور اس طرح میرے لئے ممکن ہوسکتا تھا کہ میں قرآن کریم ہر عہد حاضر کے افکار کی روشنی میں اپنے وہ نوٹ تیار کر لیتا جو عرصہ سے میرے زیر غور ہیں لیکن اب تو، نہ معلوم کیوں، ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میرا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ اگر مجھے حیات مستعار کی باقی گھڑیاں وقف کر دینے کا سامان میسر آئے تو میں سمجھتا ہوں قرآن کریم کے ان نوٹوں سے بہتر کوئی پیش کش مسلمانانِ عالم کو نہیں کر سکتا‘‘۷

قرآن مجید کا اثر اقبال کی شخصیت، ان کے تصورات و خیالات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قرآن پاک کے اثرات ان کے اسلوب اور لفاظی پر بھی پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کلام کی تراکیب اور الفاظ بھی قرآن پاک سے اخذ کرتے ہیں۔۔ اسلوب اور آہنگ ہی نہیں بلکہ اقبال کی شاعری میں موجود علامتیں اور پیکر بھی قرآن مجید سے اخذ ہیں۔اقبال کے آہنگ کا قرآن مجید سے گہرا تعلق ہے۔ اقبال جو الفاظ اپنی شاعری میں استعمال کرتے ہیں ان میں متعدد ایسے ہیں جو قرآن مجید سے اخذ کردہ ہیں جیسے ایمان، کفر، توحید، شہادت، فکر، لاالہ، لاتخف، لاتخزن، بشیر، نذیر، قم باذن اللہ، نظر، مسجد

اقبال نے پیغمبروں کی علامات بھی قرآن مجید سے لی ہیں اور تاریخی شخصیات کو ان کی تاریخی حیثیت سے کم اور علامتوں کی حیثیت سے زیادہ دیکھا ہے۔آتش نمرود، درخت طور، خلیل و نمرود اور موسیٰ و فرعون جیسی علامتوں کا ماخذ بھی قرآن مجید ہے اور کچھ ایسی علامتیں بھی ہیں جن پر قرآن کے اسپرٹ کے اثرات پائے جاتے ہیں یا وہ قرآن کی روح سے ہم آہنگ ہیں۔مثال کے طور پر شاہین، مرد حر، مرد مومن اور کچھ پاکیزگی کی علامتیں جیسے گل لالہ وغیرہ، ان سب پر قرآن پاک کے اثرات پائے جاتے ہیں یا پھر انھیں قرآن سے اخذ کیا گیا ہے

قرآنی پیغمبرانہ تلمیحات

اقبال کے تفکر میں جو پیغام موجود ہے اس کی تشکیل میں جو عناصر کارفرما ہیں ان میں ایک ماضی پرستی بھی ہے۔ اقبال اپنے اسلام کے اسلاف سے بخوبی واقف ہیں اور وہ ماضی سے بار بار ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جو ان کی تاریخ، سیاست، ادب، ثقافت اور دین پر دسترس کی غمازی کرتی ہیں۔ وہ بار بار تاریخ کے جھروکوں سے پیکر تلاش کر کے ان کو پوری مہارت سے تراش کر مجسم صورت میں پیش کرتے ہیں۔اقبال نے اس سلسلے میں تلمیحات کا سہارا لیا جہاں انہوں نے ماضی کی دیگر عظیم ہستیوں کی تلمیحات پیش کی ہیں وہاں انہوں نے پیغمبرانِ کرام کی تلمیحات بھی بدرجہ اتم استعمال کی ہیں۔اقبال کا کلام درحقیقت اسلام کے ماضی کی عظیم داستان ہے جس کو وہ باربار تلمیحات کا سہارا لے کر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے متعدد مقامات پر اپنے افکار کو انبیاء کرام کے حوالے سے پیش کر کے مردِ مومن کو سخت کوشی، صبر و تحمل اور برداشت کا سبق دیا ہے۔ جہاں ماضی سے تعلق، پیغمبرانِ اکرام کی تعلیمات کا بیان اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے افکار کی توضیح ان کے کلام کا ایک حصہ ہے۔اقبال نے اپنی شاعری میں ایسی پیغمبرانہ تلمیحات کا بھی بار بار استعمال کیا ہے جو قرآن مجید سے اخذ کردہ ہیں۔اقبال کے نزدیک پیغمبرانِ کرام خودی کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں اور مردِ مومن کی بلند ترین صفات سے بھی آراستہ ہیں۔ اقبال نے اپنے کلام میں پیغمبرانہ تلمیحات کا جہاں خوبصورتی سے استعمال کیا ہے وہاں یہ امر بھی قابلِ ستائش ہے کہ ان کی پیش کردہ اکثر تلمیحات قرآنِ کریم سے ماخوذ ہیں۔ ذیل میں اقبال کی چند ان پیغمبرانہ تلمیحات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا ماخذ قرآنِ کریم ہے۔یہاں ان قرآنی پیغمبرانہ تلمیحات کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

حضرت محمدﷺ کی تلمیحاتــ:۔

اقبال نے عشق کے موضوع پر ایک تواتر کے ساتھ خیالات کا اظہار کرکے اس کو ایک نیا رنگ نیا موڑ دیا۔ عشق کے معانی و مطالب تبدیل کر دیئے۔ اقبال کا تصورِ عشق ان کے افکار کا ایک جزو لاینفک ہے۔انہوں نے عشق کے درجات بھی بتائے اور اس کے مقامات سے بھی آگاہی دی اور ساتھ ساتھ عشقِ رسولﷺ کی اہمیت سے بھی آگاہی دی۔ اقبال نے شانِ رسالتﷺ میں باقاعدہ نعت گوئی نہیں کی لیکن آنحضورﷺ کی شان میں ان کے بکھرے ہوئے اشعار سے ان کے عشقِ رسولﷺ کی گہرائی و گیرائی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ باقاعدہ نعت گو شاعر نہ ہونے کے باوجود عشقِ رسولﷺ میں ان کے تصورات ان کو دیگر اہم ترین نعت گو شعرا سے بھی بلند تر درجہ دیتے ہیں۔ اقبال نے شانِ نبوت، شانِ رسالت ﷺ اور ذاتِ رسولﷺ پر قرآن پاک کی روشنی میں جائزہ لیا ہے۔اقبال کے ہاں عشق رسولؐ کا موضوع ہمہ گیرجہت کا حامل ہے، اقبال نے اس موضوع پر بھی نئے انداز میں خامہ فرسائی کی ہے آنحضرتؐ تمام جہانوں کیلئے رحمت ہیں اقبال کہتے ہیں:

تجھ میں راحت اس شہنشاہ معظمؐ کو ملی

جس کے دامن میں اماں اقوام عالم کو ملی

سورۃ الانبیاء کی آیت۱۰۷میں ہے

وَ مَآ اَرْ سَلْنٰکَ اِ لَّا رَ حْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن

 اور آپ کو جو ہم نے بھیجا تو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر

آنحضرت ﷺ کوتمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔اقبال نے مقام رسالت پر جو کچھ لکھا ہے وہ رسماً نہیں لکھا۔اقبال کو آنحضرتؐ سے عقیدت سچی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اقبال کے کلام میں جا بجا آنحضرتؐ کے متعلق اظہار خیال ملتا ہے

سید عابد علی عابد شعر اقبال میں لکھتے ہیں:

’’…اقبال نے مقام رسالت پر جو کچھ لکھا ہے وہ…بلند بزرگ اور معنی خیز ہے اس کی وجہ سے یہ ہے کہ رسول پاکؐ سے اقبال کی عقیدت رسم و روایت پر مبنی نہیں بلکہ ذاتی فکر اورعمیق سوچ بچار کا نتیجہ ہے‘‘۸

اپنے وطن کو چھوڑنا گھر بار سے ہجرت کرنا سنت الٰہی ہے اقبال کہتے ہیں:

ہے ترک وطن سنت محبوبؐ الٰہی

دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی

سورۃ المومنون کی آیت۲۵ میں ہے:

وَاِ نَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ

 اور بے شک یہ تمہاری امت ایک امت ہے اور میں ہوں تمہارا رب بس مجھ سے ڈرتے ہو

امت مسلمہ کہیں بھی ہو ایک ہی امت ہے آنحضورؐ سے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تاہم ان کی امت ایک ہے چاہے وہ دنیا کے کسی کونے پر بھی ہو، آنحضورؐ کی امت، امتِ واحد ہے اور آنحضرت,ﷺ تمام جہانوں کیلئے رحمت ہیں۔ تمام ہی نوع انسان کیلئے راحت جاں ہیں۔ آنحضورؐ کی نبوت کسی ایک گروہ یاقوم کیلئے مخصوص نہیں تمام جہان کیلئے ہے۔ سورۃ سبا کی آیت۸۲میں ارشاد ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِ لَّا کَآ فَّۃً لِّانَّا سِ بَشِیْرً ا وَّ نِذِ یْرً ا وّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّا سِ لَا یَعْلَمُوْ ن

اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر انسانوں کیلئے بشارت دینے اور ڈرانے والے لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے

آنحضورؐ پر تمام انبیاء پر فوقیت حاصل ہے اور رسول پاکؐ کے درجات تمام انبیاء کرام سے بلند رکھے گئے ہیں۔ آنحضورﷺ کو جو شان رفعت حاصل ہے وہ کسی دوسرے نبی کو نہیں حاصل ہوئی۔

جو عشق رسولؐ میں سرشار ہوتا ہے اس کو جھوٹ پر ہمیشہ فتح حاصل ہوتی ہے۔کیونکہ حق ہمیشہ باطل پر حاوی ہے

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفویٰ سے شرار بولہبی

سورۃ اللہب میں ہے

 تَبَّتْ یدَ آ اَبِیْ لَھَبٍٍ وَّ تَبَّط ہ مَآ اَ غْنٰی عَنْہُ مَا لُہٗ وَمَا کَسَبَ ط ہ سَیَصْلٰی نَا رًا ذَاتَ لَھَبٍ ہوَّ امْرَ اَ تُہٗ ط حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ ہفِیْ جِیْدِ ھَا حَبْلُٗ مِّنْ مَّسَدٍ

ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ٹوٹ گیا وہ آپ کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ جو کمایا، اب پہنچے گا لپٹ مارتی آگ میں اور اس کی جورو سر پر لیے پھرتی ایندھن اس کی گردن میں رسی ہے مونج کی

 خدا کی اطاعت کیلئے ضروری ہے کہ رسولؐ کی اطاعت کی جائے، خدا کی وحدانیت کیساتھ ساتھ اس بات پر یقین رکھنے والا ہی مسلمان ہوسکتا ہے کہ آنحضورؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ خدا کے ساتھ رسول پاکؐ کی محبت مسلمان کا نہ صرف عقیدہ ہے بلکہ کم درجہ کا ایمان رکھنے والا بھی آنحضورؐ کیلئے جان دینے پر تیار ہے۔دینِ اسلام پر سچے دل سے کاربند رہنے اور اس کو دل سے تسلیم وہی کر سکتا ہے جس کے دل میں محبتِ رسولﷺ مکمل طور پر جاگزیں ہو اور جو حبِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کے ہر معاملے پر ترجیح دے۔

پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس!

صدیقؓ کیلئے ہے خدا کا رسولؐ بس!

سورۃ الانبیاء کی آیت۸۰میں ہے

من یطیع الرسول فقد اطاع اللہ

جس نے اطاعت کی حضورﷺ کی، اس نے اطاعت کی اللہ کی

مندجہ بالا چند مثالیں محض بانگ درا کے چند اشعارسے پیش کی گئیں جبکہ اقبال کے تمام کلام میں سینکڑوں ایسی مثالیں پائی جاتیہیں۔

حضرت ابراہیم ؑ کی تلمیحات:۔

حضرت ابراہیم ؑ کی اطاعت و فرمانبرداری جیسی مثال دیگر انبیاء کرام میں کم ملتی ہے۔جب بھی توحیدِ الٰہی کے اثبات کا تذکرہ ہوتا ہے وہاں پر حضرت ابراہیم ؑ کی جانبازی اطاعت اور فرمانبرداری کا بھی ذکر ضرور ہوتا ہے کہ جنہوں نے اپنے گمراہ والد کی اطاعت پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کو ترجیح دی اور بت خانے کے بت پاش پاش کر ڈالے۔اس اطاعتِ لہٰی کی پاداش میں جب انھیں آگ میں ڈالا گیا تو احکامِ خداوندی سے وہ آگ گل و گلزار ہوگئی۔گویا جو انسان حق پر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تکمیل کے لیے جان لڑا دیتا ہے تو وہ دنیاوی رشتوں ناطوں سے بے پروا ہو کر صرف رضائے خدا کے لیے ہر عمل کرتا ہے۔حضرت ابراہیمؑ بت شکن ہیں۔ انہوں نے ہر لالچ کو پسِ پشت ڈال کر صرف توحیدِ الٰہی کے اثبات کے لیے ہر عمل کیا۔اس حوالے سے اقبال کہتے ہیں

بت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گرہیں

تھا ابراہیمؑ پدر، اور پسر آذر ہیں

سورۃ الانعام کی آیت۷۴ہے:

وَ اِ ذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ لِاَ بِیْہِ اٰ زَ رَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَا مًا اٰ لِھَۃً اِ نِّیْ ٓ اَرٰ کَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْن

اور جب کہاابراہیمؑ نے اپنے باپ آذر سے، کیا تو پکڑتا ہے مورتوں کو خدا؟ میں دیکھتا ہوں تو اور تیری قوم صریح گمراہی میں ہے

حضرت موسیٰؑ کی تلمیحاتـ:۔

 حضرت موسیؑ محب تھے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار کا تقاضاکیا اللہ تعالیٰ سے۔ لہٰذا حضرت موسیٰؑ کو محب جبکہ محمدؐ کو محبوبیت کا درجہ حاصل ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

تھا ارنی گو کلیمؑ‘ میں ارنی گو نہیں

اس کو تقاضا روا‘ مجھ پہ تقاضا حرام

سورۂ الاعراف: آیت۱۴۳ میں ہے

قَالَ رَبَّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْک

 موسٰیؑ نے عرض کیا‘ اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں

حضرت موسیٰؑ کے متعلق ہے

اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیمؑ

طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی

سورۃ الاعراف کی آیت۱۴۳میں ہے

وَ لَمَّا جَآ ئَ مُوْسٰی لِمِیْقَا تِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ لا قَالَ رَبَّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط قَا لَ لَنْ

تَرٰ نِیْ وَ لٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِ نِ اسْتَقَرَّ مَکَا نَہٗ فَسَوْفَ تَرٰ نِیْ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَ کًا وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا فَلَمَّآ اَ فَا قَ قَا لَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اَلَیْکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُئْو مِنِیْن

اور جب موسیٰ ہمارے وعدے پر حاضر ہوا اور اس کے اس کے رب نے کلام فرمایا!عرض کی اے میرے رب! مجھ اپنا دیدار دکھا کر میں تجھے دیکھوں، فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔یا اس…….پہاڑ کی طرف دیکھ، یہ اگر اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا تو اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش، پھر جب ہوش ہوا، بولا پائی ہے تجھے، میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوا(بنی اسرائیل میں سے)

بانگ درا میں اقبال کہتے ہیں

کھنچے خود بخود جانب طور موسیٰ

کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی۹

اقبال کے کلام میں انبیاء کرام کا بار بار تذکرہ ان کی دین اسلام سے محبت کا بھرپور ثبوت ہے۔جبکہ اقبال نظریہ خودی، مرد مومن کی

خصوصیات، تذکرہ، عشق رسولؐ، جذبہ شہادت کی ترویج امت مسلمہ کی اصلاح کیلئے کرتے ہیں۔ مسلمان قوم کاکمال کے اوج پر

دیکھنے کے خواہش مند ہیں اسی لیے ان کی فکر میں ایسی ہستیوں کا تذکرہ بار بار ملتا ہے جن کی شخصیت نے دنیا کو اک نیا راستہ عطا

کیا اسی لیے اقبال نے پیغمبرانہ تلمیحات کا بار بار استعمال شعوری طور پر کیا ہے۔یہ امر نہ صرف ان کے پیغمبرانِ کرام سے محبت اور

انس کا مظہر ہے بلکہ ان کی قرآنِ کریم سے محبت کا بھی غماز ہے۔

حواشی

۱۔غلام مصطفی خاں، ڈاکٹر، اقبال اور قرآن، لاہور، اقبال اکادمی پاکستان، طبع ثالث، ۱۹۹۴ئ، ص۹

۲۔محمد اقبال، ڈاکٹر، علامہ، کلیات اقبال(اردو)، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۴ئ، اشاعت اول، ص۲۰۷

۳۔ محمود نظامی( مرتب) ملفوظاتِ اقبال، لاہور، اشاعت منزل، طبع دوم، سن ندارد، ص۱۲۱، ۱۲۳

۴، ۵۔ ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا، حیات اقبال کا سبق مشمولہ رسالہ جوہر(اقبال نمبر)دہلی، مکتبہ جامعہ، ۱۹۳۸ء، ص ۷۳

۶۔چراغ حسن حسرت( مرتب)اقبال نامہ، لاہور، تاج کمپنی، سن ندارد، ص۱۸

۷۔غلام مصطفی خاں، ڈاکٹر، اقبال اور قرآن، ص ۱۷

۸۔عابد علی عابد، سید، شعرِ اقبال، لاہور، بزمِ اقبال، سن ندارد، ص۲۰۸

۹۔اقبال، علامہ، ڈاکٹر، کلیاتِ اقبال(اردو)، ص۳۲۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوید حسن ملک

لیکچرار گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج جنڈانوالہ (بھکر)، پنجاب، پاکستان

موبائل فون نمبر +923334597960ای میل ایڈریس:۔naveedhassanmalik@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.