راجندر سنگھ بیدی کے ناولٹ ’’ایک چادر میلی سی‘‘میں پنجابی تہذیب

ادب انسانی لاشعور کی تکمیلیت کا ذریعہ ہے جو شعور کے صفحوں پربکھر کر انسانی ضمیر کو جھنجوڑتا ہے جس سے ہر ادیب یا تخلیق کار کے مافی الضمیر کے ساتھ ساتھ اس کے ماحول یا سماج کو جانچا جا سکتا ہے۔اردو کے افسانوی ادب میں راجندر سنگھ بیدی ایک اہم نام ہے۔انھوں نے اپنے افسانوی ادب کی اساس ‘مشاہدے ‘تخیل اور فکر کی بنیادوں پر اسطوار کیا ہے۔انھوں نے جو کچھ لکھا اس میں غوطہ زن ہو کر لکھا۔ان کی تخلیقات میں اپنے عہد کے انسانوں کے جذبات و احساسات ‘افکار و خیالات ‘ عقائد و توہمات‘ رسوم و رواج ‘تہذیب وثقافت‘اخلاقی و روحانی عناصر‘غم وغصہ‘نفرت و محبت کے ساتھ ساتھ فکری رویئے‘ذہنی رجحانات اور جذباتی ہلچل سب عیاں ہو جاتے ہیں۔

راجندر سنگھ بیدی کے ناولٹ کی اساس معاشی بدحالی پر استوار ہے اس معا شی بدحالی کے پس منظر میں انھوں نے ایک گھر کا نقشہ کھینچا جس سے ایک عہد کا ماحول ‘تہذیب‘معاشرت‘ذہنی و اخلاقی معیار، تربیت اور شرافت سب عیاں ہو جاتے ہیں۔بیدی نے ناولٹ کا بنیادی ماحذ دیہی زندگی سے لیا ہے۔ پورے ناول میں بنیادی طور پر تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں، اول مذہبی اساطیر، دوم انسانی فطرت اور سوم زمینی واقعات ہے۔ انہی تین حقیقتوں سے ناول اول تا آخر جاری و ساری رہتا ہے جسے سماج کا چہرۂ فطرت، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت وغیرہ غرض ظاہر و باطن منعکس ہوجاتا ہے۔ ناول میں جن حالات و واقعات کو بیان کیاگیا اسے زندگی کے مخفی حقائق سے پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ جو کہ افراد کے اعمال و خصائل اور مظاہر فطرت کی صورت میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔کرداروں او رفطرت کا یہ اشتراک پورے ناول میں آئینہ تمثال نظر آتا ہے۔

بیدی نے ناول میں زندگی کی جس حقیقت کواُبھارا ہے وہ سطحی نہیں بلکہ پیچیدہ اور پہلودار ہے۔ جس میں خوشی اور غم، المیہ اور طربیہ وغیرہ ہمہ رنگی کے ساتھ پیش ہوا ہے۔ اس میں بیدی کے خارجی اور داخلی احساسات ہم آہنگ ہوتے ہوئے بھی آفاقی نظر آتے ہیں جو زندگی کی تلخ حقیقتیں پیش کرتاہے۔ اگر چہ یہ پوراناول رانو کے کردار کے ارد گرد گھومتا ہے مگر اس میں سماج کی وہ تمام تلخ حقیقتیں ظاہر ہوتی ہیں جس میں سماج کی غریبی، اُن کی تہذیب وتمدن، اُن کی معیشیت اور بے بسی و لاچارگی سب کھل کر سامنے آتی ہے۔ گویا ناول میں  جس نظام کو خلق کیا گیا وہ افراد کے ذہن و دل، مظاہر فطرت کے حالات و واقعات اور اشیا کے باہمی تعلق سے قائم ہے، جو ایک بھر پور تہذیب کی عکاسی کر تا ہے۔اس ضمن میں شمس الحق عثمانی لکھتے ہیں۔:

’’ایک چادر میلی سی کی بُنت  میں جن افرد کے ذہن و دل اور حالات و واقعات شامل ہے وہ ایک سر زمین اور اُس سر زمین کی مخصوص بو باس کے حامل ہوتے ہوئے بھی ہندوستان (بر صغیر)کے آدمی کا ظاہر و باطن منعکس کرتے ہیں’‘۔ ۱؎

اسی بات کو علی احمد فاطمی نے اس انداز میں لکھا ہے۔:

’’یہ کہانی صرف رانو کی نہیں ہے۔ایک گھر کی بھی نہیں بلکہ اُس سماج کی ہے جہاں غریبی کا تسلط ہے، بے بسی و بے چارگی کا دور دورہ ہے۔ افلاس نے احساس کو مار دیا ہے‘‘۔۲؎

بیدی نے اپنے ناولٹ میں جن کرداروں کو پیش کیا ہے وہ قاری کے ذہن پر اپنا عکس چھوڑتے ہیں۔ان کرداروں کی بدولت ہی بیدی نے اس معاشرے کا چہرہ پیش کیا جس سے اس معاشرے کی تہذیب و تمدن اپنی تما م تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ کرداروں میں عورت، مرد، بچے سب کی نفسیات عیاں ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کی معصو میت اور مظلومیت کے علاوہ ناول میں پنجاب کی عوامی تہذیب کاخاکہ اُبھر تا ہوا نظر آتا ہے جس کو بیدی نے اُن کے خیالات، عقائد اور نظریات کے ساتھ اور اُنہی کی زبان سے پیش کیا ہے۔

بیدی نے ناول میں جس سماج اورمعا شرے کی عکاسی کی ہے اس کو ہم بیدی کے تخلیق شدہ کر داروں کے حوالے سے ہی پیش کرنے کی سعی کریں گے جو کہ اُن کی زبان، اُن کے خیالات، عقائد اور دوسرے تہذیبی عناصر کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اس ناول کے کرداروں میں  مثبت اور منفی دونوں رویے نظر آتے ہیں جو کہ تہذیب کی شائستگی اور تہذیبی زوال کے دونوں رُخ پیش کرتے ہیں۔

ناول کے کرداروں میں ’’جنداں’‘ ایک اہم کردار ہے جو کہ’ رانو‘ کی ساس اور’ تلوکا‘ اور منگل کی ماں ہے۔ جنداں ایک روایتی ساس کی طرح اپنی بہو کو ڈانتی ہے، گالیاں دیتی ہے اور بار بار گھر سے نکلنے کی دھمکی دیتی ہے۔ گویا وہ’ رانو‘ کی معصومیت اور مظلومیت دونوں سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔ ’جندا ں ‘ کی زبان سے نکلنے والاہر جملہ اس تہذیب کا عکس بیان کرتا ہے۔ جس میں جہاں غصہ اور نفرت ہے وہیں معاشرے کی حقیقت اور مثالیت پسندگی کی بہترین مثال بھی ہے۔ جو دیہی علاقے کے ایک مخصوص طبقے کی تہذیب سے بالا تر ہوکے نظر آتا ہے جس کو بیدی نے ناول میں اس انداز سے پیش کیا ہے۔:

’’رانی کو تو دیکھتے ہی بڈھیا کے بدن کے سارے تکلے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ رانو پر اپنی گالیوں کے چھاجوں کے چھاج خالی کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔رنڈئیے، ڈائنے! چڑیلیے۔ ۔۔۔۔۔۔ میرے بیٹے کو کھا گئی اوراب ہم سب کو کھا نے کے لیے منہ پھاڑے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔چلی جا۔۔۔۔۔۔۔جدھر منہ کرنا ہے کرے اب اس گھر  میں کوئی جگہ نہیں تیرے لیے۔‘‘ ۳؎

دوسری جگہ بیدی نے اس کی تصویر کشی کچھ اس طرح کی:

’’جنداں آتے ہی بولی۔۔۔جانتی تھی۔ ۔۔۔۔ میں  جانتی تھی ایک دن یہ چاند چڑھنے والا ہے۔۔ ۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔۔یہ ٹپڈی داسوں (خانہ بدوشوں ) کی اولاد۔ ۔۔۔۔۔جانے کہاں سے ہمارے گھر  میں آگئی۔۔۔۔۔۔؟‘‘۴؎

مندجہ بالا دونوں اقتباسات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُس مخصوص علاقے کی بوڑھی عورتوں میں کس طرح کی نفرت، بغض اور حسد کے ساتھ ساتھ اخلاقی گراوٹ ظاہر ہوتی ہے۔ گویا معا شرے میں بوڑھی عورتوں کی بد سے بدتر اخلاقی صورتحال عیاں ہوجاتی ہے جو کہ پنجاب کے کوٹلے گائو ں کا نقشہ پیش کرتا ہے۔

ناول کا دوسرا اہم کردار’ چنو ں ‘ ہے۔ اس کردار سے بیدی نے اس معاشرے کا دوسرا تہذیبی رخ دکھایا ہے۔’چنوں ‘ بھی ایک عورت ہے اور اس میں رانو کے لیے محبت اور ہمدردی پائی جاتی ہے۔’ تلوکا‘ کی موت کے وقت اور اس کے بعد’ چنوں ‘ کی ہمدردی کاخلاصہ کرتے ہوئے بیدی نے لکھا ہے۔:

’’رانو باہر دوڑی، پھر اندر چلی آئی پھر باہر اٹھ دوری۔ ۔۔۔۔اس کی سمجھ  میں کچھ بھی نہیں آرہاتھا۔۔ ۔۔۔وہ یہ سب کرنے والی تھی کہ چنوں نے پکڑلیا اور اس کے ہاتھ دیوار سے مار مار کر چوڑیا ں توڑنے لگی۔ پورن دئی باہر سے مٹی کی مٹھیاں بھر کر لائی اور رانو کے سر پر خالی کر دی۔‘‘ ۵؎

’تلوکا ‘کی موت کے بعد’ چنوں ‘ کی ہمدردی ’رانو‘ کے ساتھ بر قررار رہی جس کا اظہار بیدی نے ان الفاظ میں  کیا:

’’چنوں شروع ہوئی یہ جنداں بندی، یہ ساس تیری تجھے جینے نہ دے گی، اس گھر  میں بسنے نہ دے گی۔۔۔۔۔یہاں رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ کیاطریقہ؟۔۔۔۔رانو نے جاننے سے پہلے ہی ڈھارس پاتے ہوئے کہا وہ یہ کہ تو۔ ۔۔۔منگل سے شادی کر لے۔ چادر ڈال لے اس پہ‘‘۔ ۶؎

 مندجہ بالادونوں اقتباسات میں ایک تہذیبی رسم نظر آتی ہے۔ ایک یہ کہ شوہر کے مرنے پر عورت کی چوڑیا ں توڑنا اور دوسرا چادر ڈالنے کی رسم ہے۔ گویا’ چنوں ‘ رانو کو پہلے چوڑیاں توڑتے وقت ہمدردی دکھاتی ہے اور پھر اب اُسی’ رانو‘ کو پھر سے نئی چوڑیاں پہننے کی نہ صرف مشورہ دیتی ہے بلکہ ہمدردی کا اظہار بھی کرتی ہے۔ اگر چہ چادر ڈالنے کی رسم بہ ظاہر زوال پذیر تہذیب کی عکاسی کر تی ہے مگراس میں انسانی بقا کی خیر سگالی بھی نظر آتی ہے۔ جس کو بیدی نے ان الفاظ میں جامہ پہنایا:

’’چنوں بولی، دیکھ۔۔۔۔۔تجھے اس دنیا  میں رہنا ہے کہ نہیں رہنا؟ اس پیٹ کا نرک بھرنا ہے کہ نہیں بھرنا؟ اس اپنی شرم کو ڈھانپناہے کہ نہیں ڈھانپنا؟‘‘۷؎

’چنوں ‘ کا مشورہ اگر چہ’ رانو‘ پر قہر بن کر گر پڑا ہے مگر’ چنوں ‘ کی ہمدردی سے نہ صرف ’رانو‘ سہاگن بن جاتی ہے بلکہ ان کے بچوں کو بھی باپ مل جاتا ہے۔ اس رسم سے پنجاب کے کوٹلے گاوں کی تہذیب کا دوسرا رخ سامنے آجاتا ہے جس میں انسانیت کی بقا بھی شامل ہے۔

ناول کا سب سے اہم اور مرکزی کردار’ رانو‘ ہے۔ جس کی وجہ سے بیدی نے پیجاب کے کوٹلے گاوں کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے تمام شیر و شکر کو عیاں کیا ہے۔ ’رانو‘ کا کردار مثبت و منفی دونوں سطحوں سے دکھایا گیا ہے۔’ رانو‘ ناول میں ایک زاول پذیر معاشرے کی تہذیبی علامت نظر آتی ہے، جس پر ظلم و ستم کے جوار توڑے جاتے ہیں۔ ایک تو روز’ منگل ‘کی مار پٹائی تو دوسری طرف ساس’ جنداں ‘ کے زہر بھر جملے ہر روز سننے پڑتے ہیں۔مگر ’رانو‘ کی معصومیت اور مظلومیت آخر کار اُسے دیوی سمان آشکار کرتی ہے۔ ’رانو‘ جہاں ’تلوکے‘ کی موت پر افسوس کرتی ہے وہیں اُس زوال پذیر معاشرے میں اپنی بیٹی ’بڑھی‘ کی فکر اسے کھائے جاتی ہے۔’ تلوکا‘ کی موت اور چادر ڈالنے کی رسم کے وقت’ رانو‘ کے جذباتی الفاظ بیدی کے دل خراش قلم سے اس طرح صفحہ قرطاس پر بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔:

’’رانو کو لاکر جب چادر کے نیچے بٹھایا گیا تو اس نے ایک دلدوز چیخ ماری۔۔۔۔۔ مرنے والے !آدیکھ کیا ہورہا ہے تیری رانی کے ساتھ۔‘‘ ۸؎

رانو کی یہ چیخ نہ صرف رانو کے برداشت کی حد تھی بلکہ ایک مجبور عورت کی حال زار کے ساتھ اس غریب معاشرے کی تہذیب کا عکس تھا جس میں عام عورت رسم و رواج اور تہذیب کی جکڑ بندیوں میں گرفتا ر تھی۔ ’رانو‘ اس زوال پذیر تہذیب میں اپنی بیٹی ’بڑھی‘ کے لیے کیا کچھ نہیں سوچتی تھی۔ اس کے بر عکس ’رانو‘ کی ساس’ جنداں ‘ نے ’رانو‘ کی غیر موجودگی میں بڑھی کا سودا کرنا چاہا تا کہ ’بڑھی‘ کو بیچ کر کچھ روپے مل جائیں۔اس منظر کی تصوری کشی بیدی کچھ اس طرح کرتے ہیں۔:

’’ہزار روروپئے سے آتے آتے ساڑھے پانچ سو پر فیصلہ ہوا۔اس کو جنداں کو سوچنے کا موقع دے کر اپنی تسلی تشفی کرتے ہوہے وہ لوگ چلے گئے۔ حرافہ نے موقع بھی ایسا تلاش کیا تھا جب کہ رانو گاوں کی دوسری عورتوں کے ساتھ کپاس چننے گئی تھی۔‘‘ ۹

آگے بیدی لکھتے ہیں۔:

’’رانو اُٹھ کر اندر گئی تو ’بڑھی‘ نے اپنی ٹھیٹھ ز بان  میں سب کہہ دیا۔ ساڑھے پانچ سو کی بات بھی سنا دی۔۔۔۔۔وہ دروازے کے پیچھے سے سب سنتی رہی۔’‘۱۰

پھر بیدی نے آگے لکھا ہے۔:

’’آج کون آیا تھا یہاں ؟۔۔۔۔کس کی ہمت پڑی یہ دہلیز پھاندنے کی؟۔۔۔ میری بیٹی کا سودا کرنے کی ؟۔ ۔۔۔جنداں ایک ’ناعورت‘قسم کی مدافعت پر اتر آئی۔۔۔۔ نہیں رانیے وہ تو ایسے ہی بات کر رہ تھے۔ اب ہر کسی کا منہ تھوڑا پکڑا جاسکتا ہے۔‘‘ ۱۱

’رانو‘ نے اپنی بیٹی کے لیے کیا کچھ نہیں سوچا تھا مگر آخر میں دیوی سمان رانو بھی اس زوال پذیر تہذیب میں مثبت سوچنے کی بجائے منفی سوچنے لگی۔ ’بڑھی ‘کا بیاہ کرنے کے لیے انھوں نے خود کو بیچنے کی سوچی ہے۔ اس واقعہ کے پس منظر میں بیدی نے’ رانو‘ کی نفسیات اُن کی ممتا اور سوچ دونوں سطحوں سے پرکھا جو اس معاشرے میں انحطاط پذیر تہذیب کا نقش آئینہ تمثال کر دیتا ہے۔ بیدی لکھتے ہیں۔:

’’اور یہ بیٹی میری بک جائے گی۔ ۔۔۔۔گھر  میں کھانے کو کچھ نہیں۔بیاہ ہوگا بھی تو کیسے۔۔۔۔ایک لمحے کے لیے اُسے خیال آیا۔ ۔۔۔آج مہربان داس چودھری ہوتا، ایک ہی رات  میں بیٹی کا جہیز تیار کر لیتی اور پھر اسے اپنے سامنے طو طنیاں بجاتی، ناچتی، گاتی ہوئی بارات، سہرے باندھے ہوئے لڑکے کے حوالے کر دیتی اور جب ڈولی اُٹھتی تو دور کھڑی دیکھتی، روتی، دیکھتی۔۔۔۔۔لیکن کبھی نہ کہتی۔۔۔۔بیٹی تیرے سہاگ کے لیے رات ایک ماں نے اپنا سہاگ لُٹا دیا۔آخر بیچنا ہی ہے تو ایک ہی بار ساڑھے پانچ سو  میں کیوں، کیوں نہ  میں اسے شہر لے کر نکل جاوں اور تھوڑا تھوڑا کر کے بیچوں۔’‘۱۲؎

ان اقتباسات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ معاشی بد حالی اور افلاس کے دور میں تہذیب کی شائستگی خود بہ خود دم توڑ دیتی ہے اور معاشرے میں تہذیب کی رعنائیاں، سوچ اور احساس بھی دم توڑ دیتا ہے۔ گویا اس ماحول میں کوٹلے گئوں کے لوگوں میں جو تہذیبی زوال آچکا تھا اس کی نوعیت ان کی سمجھ کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی اور روحانی زوال کو نمایاں کر دیتی ہے۔

ناول کا ایک اور کردار’ باوا ہری داس‘ ہے۔ ’باوا ہری داس‘ ایک ڈھونگی بابا تھاجو عورتوں کو ٹوٹکا وغیرہ دیا کرتا تھا چوں کہ کوٹلے گائوں کی عورتوں کو اس پر یقین تھا لیکن ’باوا ہری داس‘ عیاش اور ریاکار ڈھونگی تھا۔اس سے متعلق بیدی نے لکھا ہے۔:

’’جس کے بارے  میں مشہور تھا کہ اس نے لوہے کا لنگوٹ پہن رکھا ہے اب تک نہیں جانتا عورت کیا چیز ہے؟ حالاں کہ چوبیس گھنٹے آٹھوں پہر اس کے گرد عورتوں ہی کا جمگھٹا رہتا تھا۔ کوئی بیٹا مانگتی، کوئی اٹھار کی دوا۔۔۔۔ اکثر تو اپنے مردوں کو بس  میں کرنےکے ٹوٹکے ہی پو چھنے آتیں۔’‘۱۳؎

اس اقتباس سے نہ صرف’ باوا ہری داس‘ کا اصلی چہرہ نظر آتا ہے بلکہ اُس معاشرے میں عورتوں کی ذہنیت اور اندھی تقلید، جوکہ مذہب میں ٹھیک نہیں ہے، سب عیاں ہوتا ہے۔ بیدی نے ’باوا ہری داس ‘کے کردار میں جس تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے وہ مثالی ہے۔ چوں کہ ہندوستان کی تہذیب و تمد ن میں  آج بھی یہ روایت نظر آتی ہے اور اس رسم کو زیادہ تر وہی عورتیں زندہ رکھی ہوئی ہیں جو یا تو مذہب سے بے گانہ ہیں یا دیہی علاقوں میں علم کی فراوانی سے بے خبر ہیں۔’باوا ہری داس‘ کی عیاری اور عیاشی کے ساتھ ساتھ بیدی نے مذہبی ٹھیکداروں میں  ’ چودھری مہربان داس‘ اور ان کے بھائی’ گھنشیام‘ کا کردار تخلیق کیا۔ان دونوں بھائیوں نے دیوی کے مندر کے سامنے دھرم شالہ بنائی تھی۔ دیوی کے درشن کے لیے مختلف علاقوں کے جاتری آیا کرتے تھے۔ زیادہ تر جاتریوں کے رکنے کی جگہ یہی دھرم شالے تھے۔ لیکن یہ مذہبی ٹھیکدار ’چودھری مہربان داس‘ اور ان کا بھائی’ گھنشیام‘ ان جاتریوں کو اپنی ہوس کا شکار بنادیتے تھے۔ بیدی نے لکھا ہے۔:

ؔ’’تلوکا نے آج جس جاترن کو مہربان داس چودھری کی دھرم شالہ میں چھوڑا، وہ مشکل سے بارہ تیرہ برس کی ہوگی۔دیوی کے پاس تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے ترشول تھا جس سے اس نے بھیر وں کا سر کاٹ کے الگ کر دیاتھا۔ لیکن اس معصوم جاترن کے پاس صرف دو پیار ے پیارے گلابی ہاتھ تھے جنھیں وہ بھیر وں کے سامنے جوڑ سکتی تھی۔’‘۱۴

اس اقتباس سے سماج میں مذہبی عقائد جہاں کھل کے سامنے آتے ہیں وہیں مذہب کی بچی کھچی صورتحال بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ گویا اس سماج میں عورتوں کو جہاں مذہب کا عقیدت مند دکھایا گیا ہے وہی مذہب کے ٹھیکداروں کا اصل رخ بھی پیش کیا گیا۔وہ مذہبی ہوتے ہوئے بھی غیر مذہبی نظر آتے ہیں۔جو اس سماج کی تہذیب کا پر دہ چاک کر کے قاری کے ذہن پر منفی اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔

ناول کے دو اہم کردار’ تلوکا‘ او’ر منگل‘ ہیں۔جو اس سماج میں تہذیب کے دو اہم طبقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔’تلوکا‘ کا کر دار جہاں معاشی صورتحا ل کو سدھارنے کے لیے دکھا یا گیا، وہیں وہ اس طبقے کا نمائندہ بھی نظرا ٓتا ہے جو زیادہ تر شراب خوری کرتا ہے۔ اس کے بر عکس’ منگل ‘کا کردار نواجوان طبقے کا عکاس ہے جو خالی عیاشی اور لڑکیوں کو ستانے اور د ن بھر گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ کام نہیں کرتے ہیں۔چناں چہ دونوں کردار ایک ہی تہذیب کے عکاس ہیں جس سے اس ماحول اور سماج کا اخلاقی اور روحانی عقائد کے ساتھ ساتھ ان کے گذر اوقات نظر آتے ہیں۔جو کہ پنجاب کے کوٹلے گائوں کی زوال پذیر تہذیب کا نقشہ اُبھار دیتے ہیں۔

اس ناول میں بیدی نے پیجابی الفاظ، پنجابی محاورے، پنجابی دیہی لوک گیت، ان کی کھانے پینے کی چیزیں، پرندوں کے نام، کرداروں کی بات چیت اور اُن کے لڑنے جھگڑنے کے علاوہ ہنسی مذاق وغیرہ جوکہ پنجاب کی دیہی زندگی کا جیتا جاگتا نقش پیش کرتا ہے۔ اس ناول میں بدرجہ اتم موجود نظر آتا ہے۔ کچھ الفاظ اس طرح ہیں:  ٹپڈی واسوں (خانہ بدوش)، انھیے(اندھی)، کامے(کارندے)، اڑیا(ارے)وغیرہ۔ اسی طرح محاوروں میں اویے پاپیا، اویے بے شرما، سنار کی بالیاں، ٹھٹھیار کی تھالیاں، چراغ کے چوزے وغیرہ۔ اسی طرح کھانوں میں مو ٹی مکی کی روٹی، بنڈی، بینگن، توری، ساگ وغیرہ۔ پرندوں میں گلنج(چیل) وغیرہ۔ اس طرح پنجاب کے دیہی لوک گیت جو شادی بیاہ وغیرہ پر گائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ وارث شاہ اور بُلے شاہ کا کلام بھی گایا جاتا ہے جس سے پنجاب کے کوٹلے گاوں کی تہذیب تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورے ناول میں پنجاب کی سوندھی سوندھی مٹی کی خوشبو، اُن کے عادات و خصائل، اُن کے نظریات اور اعتقادات اور اُن کے رسم و رواج کے علاوہ دیہات اور کھلیان اُس علاقے کی تہذیبی روح کو پیش کرتا ہے۔گویا یہ ناول نہ صرف کوٹلے گائوں کی تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک علامت بن کر پورے پنجاب کے دیہی علاقوں کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو منعکس کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس ناول کے دوسرے کرداروں سے بھی پنجاب کے رسم و رواج تہذیب کا منظر نامہ عیاں ہوجاتا ہے۔

بہر کیف پورے ناول میں  کوٹلے گاوں کی جس تہذیب کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں ہمدردی اور محبت بھی ہے۔ اس میں وہاں کے رسم و رواج بھی ہیں، اُن کے اچھے اور بُرے اخلاق اور عادات بھی ہیں۔اس میں شکست خوردہ تہذیبی عناصر بھی ہیں جو افسردہ تہذیبی مناظر میں زندگی کی لہریں دوڑاتا ہے۔ گویا کہ پنجاب کے کوٹلے گائوں کا ماحول اور سماج کا منظر نامہ پیش کیا گیا ہے۔ جو کہ پنجابی رسم و رواج میں پروان چڑھ گیا تھا۔ جس میں پنجاب کی دیہی زندگی دھڑکتی سانس لیتی معلوم ہوتی ہے اور اُس مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو اُس تہذیب کا نگار خانہ نظر آتا ہے۔

٭٭٭

حوالہ جات:

۱؎بیدی نامہ، شمس الحق عثمانی، ص ۳۴۴

۲؎ایک چادر میلی سی کا سماجی و تہذیبی مطالعہ، علی احمد فاطمی، فکر و تحقیق، شمارہ ۳، ۲۰۱۵ء

۳؎ایک چادر میلی سی، راجندر سنگھ بیدی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، اکتوبر؍۱۹۸۳ء، ص ۳۰

۴؎ایضاً، ص ۱۴

۵؎ایضاً، ص ۲۷

۶؎ایضاً، ص ۳۸

۷؎ایضاً، ص ۸

۸؎ایضاً، ص ۶۰

۹؎ایضاً، ص ۴۵

۱۰؎ایضاً، ص ۴۵

۱۱؎ایضاً، ص ۴۵

۱۲؎ایضاً، ص ۴۷

۱۳؎ایضاً، ص ۷

۱۴؎ایضاً، ص ۸

مضمون نگار: جمشید احمد ٹھوکر

ریسرچ اسکالر، یونی ورسٹی آف حیدرآباد

فون: 9652586692

Adress: University of Hyderabad

Prof. C.R. Rao Road, Gachobowli, Hyderabad, Telangana-500046

Mens Hostel ”E”(Annex)

Room No. 225

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.