ترقی پسندی ومارکسی تصورات کے تناظر میں مواد وموضوع کی تقدیم

فن وادب کی گتھیوں کو سمجھنے اورپرکھنے کامسئلہ محض مواد اور ہیئت کوسمجھنے کامسئلہ نہیں ہے بلکہ دونوں کی وحدت ویکسوئی سے اٹھنے والی اس حظ او رکیف وسرور ان فکری وحسی تصورات وکیفیات کو سمجھنے کامسئلہ ہے جو مختلف النوع لطیف وحساس جذبات واحساسات کی آبیاری کرتے ہیں۔

لیکن ادبی تنقید میں مواد او رہیئت کو مستقل طور پر وحدت کے لحاظ سے کبھی قبول نہیں کیا گیا یا مواد او رہیئت کی وحدت ادبی تنقید میں مستقل معیار یا مستقل قدر کے طور پر کبھی قائم نہیں رہ سکی۔ بلکہ مختلف ادوار میں کبھی موادکبھی ہیئت کو ادبی تخلیق کی قدرو قیمت متعین کرنے کے لیے ملحوظ نظر رکھاگیا۔ ادب کو جب فن بر ائے فن یا تصوریت یا جمالیاتی قدروں کے معیار پر پرکھا گیا تو ہیئت پر سارا زور صرف کرکے مواد وموضوع کو پس پشت رکھاگیا اورجب فن کی مقصدیت پر زور دیا گیا ‘ سماجی عوامل سے اس کے رشتے کی اہمیت کو سامنے لایا گیا اور حقیقی ومعروضی کائنات کی ترجمانی اس میں تلاش کی گئی تو مواد و موضوع ہی مقدم قرار پایا او رہیئتی پہلو مفقود رہا۔ مختصراً مواد اور ہیئت کی ثنویت مختلف صورتوں میں  مختلف حالات اور تصورات کے پیش نظر ادبی تنقید میں شروع سے قائم رہی۔

اردو تنقید میں بھی مختلف حالات اور جدید تہذیبی اثرات کے پیش نظر جب حقیقت پسندی کارجحان سامنے آیا۔ادب کے افادی اور مقصدی ہونے پر زور دیا گیا‘ سماج سے اس کے رشتے پر روشنی ڈالی گئی تو تنقید میں بھی ہیئت سے زیادہ موا د و موضوع ہی اہم قرار پائے۔حقیقت پسندی کا یہ رجحان یوں تو سرسید تحریک سے شروع ہوا جس نے اردو تنقید میں  ایک بالکل نئی روایت قائم کی۔ پہلے معیار ذوق اوروجدان کو سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں اس تحریک نے سماجی قدروں اور اخلاقی قدروں کو ادب کامعیار قرار دیا۔ پہلے ادب محض جمالیاتی حظ ولذت اٹھانے تک محدود تھا اس تحریک نے اس کے مقصدی وافادی ہونے پر زور دیا۔لیکن سرسید تحریک سے جڑے یہ تمام تصورات کسی مخصوص نظریہ کی سطح پر سامنے نہیں آئے نہ ایک لازمی حقیقت کے طور پر سماج کے اقتصادی یا معاشی یا تار یخی عوامل کے پیش نظر ان تصورات کو اجتماعی سطح پر برتا گیا بلکہ اخلاقی و اصلاحی مقصدیت کے پیش نظر سماج کے ایک مخصوص طبقہ(مسلمانوں ) کے لیے حقیقت پسندی کے ان نظریات کو سامنے لایا گیا۔ اس لیے ادب کی افادیت کو تسلیم کرنے کے باوجود یا ادب کو زندگی یا سماج کاترجمان ماننے کے باوجود اس میں ادب کے جمالیاتی او رفنی پہلوؤں کو بھی اہمیت حاصل رہی یا ادب پر جمالیاتی یا ادب برائے ادب کانقطہ نظر بھی کافی حدتک غالب رہا۔

 اصل میں حقیقت پسندانہ تصورات کو باضابطہ اور منّظم طور پر برتنے کا سہرا ترقی پسندتحریک کو جاتا ہے۔۔ترقی پسند تحریک سرسید تحریک کی ترقی یافتہ شکل تھی جس نے باضابطہ او رمنظم طور پر ان اصول وقواعد پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی جو سرسید تحریک نے اردو ادب کے لیے اٹھائے تھے بلکہ اس تحریک سے بڑھ کر ایک نظریہ کی حیثیت سے ترقی پسندوں نے سماجی او رمعاشی عوامل کو ادب میں برتنے پر زور دیا۔ اس تحریک کی بنیاد چونکہ مارکس کے اشتراکی خیالات پر استوار تھی اس لیے سرسید تحریک کے مقابلے میں اس سے جڑے تمام تصورات ایک مخصوص نظریہ کی سطح پر سامنے آئے یاایک لازمی حقیقت کے طور پر ان تصورات کو اجتماعی سطح پر برتاگیا۔ یعنی اس تحریک نے ادب کا تجزیہ مارکسی پیمانے کے پیش نظر سماجی‘ سیاسی اور تاریخی پس منظر میں افادی حیثیت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کیا۔

اصل میں ادب میں عالمی سطح پر یہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ ایک نیا نقطہ نظر تھا جس میں ادیب کے ذہن او ران میں پیداہونے والے خیالات وتصورات کی اصلیت کو سماجی او رمعاشی یا مادی عوامل سے وابستہ قرار دیاگیا۔ مارکس کا بنیادی تصور چونکہ یہ تھا کہ تمام افکار کی عمارت مادی عوامل یا معاشی حالات پر بنتی ہے یہی خیالات کے بننے بگڑنے اور ارتقائی مراحل طے کرنے کاسبب بنتے ہیں او رانہی عوامل پر انسانی ارادے‘ان کاشعور‘ ان کے عقیدے‘تہذیب‘ تمدن‘ اخلاق‘ مذہب او رعلوم وفنون کی عمارت بنتی ہے۔اس لیے تمام تصورات کی تخلیق او ران کاارتقاء اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ و ہ اپنے دور کے معاشی زندگی کاعکس ہوتے ہیں۔اس لیے فن وادب کو لے کر جو بنیادی طور پر فن کار کے ذہن او ران میں پیدا ہونے والے افکار وخیالات سے وابستہ ہیں یہ نقطہ نظر اختیارکیاگیا کہ مادی عوامل یا معاشی حالات وکوائف ہی ادیب کے خیالات وافکار کی بنیاد قرار پاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اس کی تخلیق کی پرکھ اپنے دور کے معاشی ومادی حالات کے پس منظر میں  کی جائے۔ یعنی معاشی ومادی عوامل سے بننے والے جن سماجی حالات میں اس کے خیالات وافکار بنتے ہیں ان سماجی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے او ریہ دیکھا جائے کہ ان حالات سے فن کار کے یہاں کیسا ادب خلق ہوا ہے او ریہی نہیں بلکہ فن کار کاسماج کے ایک رکن ہونے کی حیثیت سے یا اجتماعی ہیئت کا ایک جزو ہونے کی حیثیت سے یہ مطالبہ کیاجائے کہ وہ اپنے دور کے سماجی و معاشی حالات وکوائف کے پیش نظر اپنا ادب تخلیق کرے چنانچہ ماؤز ے تنگ نے اس کے پیش نظر لکھاہے کہ:

 ’’مصنفوں اورادیب کو اپنے سماجی ڈھانچہ کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔سماج جن طبقات پر مشتمل ہے ان کو بھی دیکھنا چاہیے اور پھر اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ مختلف طبقات کا آپس  میں رشتہ کیاہے؟ مختلف طبقات کے حالات وکوائف ان کے انداز فکر اور ان کی نفسیاتی کیفیات کاشعور حاصل کرنا چاہیے‘‘ ۱؎

ادبی تنقید کے اس نئے نقطۂ نظر نے چونکہ اپنی بنیادی غذا مارکس کے اشتراکی خیالات سے حاصل کی تھی اس لیے ادب کے مطالعے کے لیے سماجی حالات‘ طبقاتی تقسیم اور تاریخ کے مادی عوامل کے جائزے کو ضروری قرار دیا گیا بلکہ فن وادب کی پرکھ کو لے کر حسن وجمالیات کاجو معیار سامنے آتاہے اس کی بنیاد ہی مادی عوامل سے وابستہ قرار دی گئی اور یہ تصور اس کے سامنے لایا گیا کہ انسان میں جمالیاتی پہلو یا جمالیاتی شعور کوئی ابدی چیز نہیں ہے بلکہ جمالیات کے پیمانے مادی دنیا سے وابستہ ہیں۔خوبصورت وہی چیز ہے جو معروض میں  ہے نہ کہ موضوع میں ‘موضوع کی حیثیت معروض کے نزدیک ثانوی ہے یعنی شعور مادہ کے تابع ہے

 ’’ جمالیاتی تصورات سماجی زندگی اور اس کی ساخت ‘تاریخی حالات اور طبقاتی جدوجہد کا نتیجہ ہوتے ہیں یہ محض مجرد تصورات نہیں ہوتے’‘۲؎

مجرد‘الٰہیاتی یا مابعد الطبیعاتی تصورات گمراہ کن اورلغو ہیں ان کی کوئی حقیقت و اصلیت نہیں۔

فن وادب چونکہ جمالیاتی اقدار کا حامل ہوتاہے اس لیے جمالیات پر اس نئی توضیح نے ادبی تنقید میں بھی حسن وخوبصورتی کو سمجھنے او رجانچنے کے معیارات بدل ڈالے، پہلے ادبی تنقید میں جمالیات کو لے کر یہ توضیح سامنے آتی تھی کہ حسن چونکہ عینی‘ ابدی اور مطلق حقیقت ہے اس لیے اس کی پہچان تشریح میں نہیں بلکہ محض اظہار میں ہے۔ اس لیے فن وادب میں بھی محض اس کے اظہاری یا صوری و ہیئتی پہلو ہی اہم قرار پاتے ہیں۔ معنی ومواد کی تلاش بے معنی اورلغو ہے۔لیکن اب خوبصورت مجرد خیال یا عینی حقیقت کے بجائے ٹھوس حقیقت قرار پائی بلکہ ایسی حقیقت قرار پائی جو مارکسی جدلیت کے پیش نظر نہ تو جامد ہے او رنہ ہی انسانی زندگی سے علیٰحدہ کوئی شے ہے بلک جو متحرک اورتغیر پذیر ہے جس کا تانا بانا انسانی زندگی یا سماجی تاریخ میں معاشی عوامل(یعنی اشیاء کی پیداوار تقسیم اور تبادلہ) سے بُنتا ہے اس لیے اد ب میں بھی اسی ٹھوس حقیقت اورانہی مادی عوامل کی ترجمانی اہم قرار پائی بلکہ یہ بات بھی اہم قرار پائی کہ ادب میں حسن یا خوبصورتی کو انسانی عوامل اور طبقاتی جدوجہد میں تلاش کیاجائے اور ایک خاص مقصدیت کے پیش نظر ان غریب اور مزدور طبقہ کی حمایت کی جائے جو مارکس کے نزدیک معاشی تاریخ کی جدلیت میں انقلاب اشتراکیت او رآخری منزل کے موجب ہیں۔

یہی نہیں بلکہ ادبی تنقید میں حسن کے اس نئے تصور نے فنی تکمیلیت کے احساس کو جو اس سے پہلے محض ہیئتی وصوری پہلو تک محدود سمجھا جاتا تھا یہ نیا نقطہ نظر اختیار کیاگیا کہ فنی تکمیلیت کااحساس محض فن کار کے فنی لوازمات یا ہیئتی پہلو کے احسن طریقے سے برتنے پر نہیں ہوتا بلکہ اس چیز سے ہوتا ہے کہ دنیا کی ٹھوس او رمتحرک حقیقتوں کو اس نے کس طرح دیکھا ‘ پرکھا اور جانا ہے او رکس مقصدیت کے تحت اجتماعی سطح پر ادبی تخلیق میں برتا ہے۔ چنانچہ

’’ داخلیت اور خارجیت کے ناگزیر وصل کے آخری مرحلے  میں خوبصورت وہی چیز ٹھہرتی ہے جس کامعروضی وجودہواور جو سماجی تاریخ  میں اہم نکتہ بن کر ابھرے‘‘ ۳؎

چنانچہ مارکس ؔاو رلیننؔ کے خیالات کی توضیح اس کے پیش نظر اس طرح سامنے آتی ہے:

’’خوبصورتی او رسود مندی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ دونوں کا باہمی ربط ہے جسے واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔اس لیے محض خوبصورت نظر آنا خوبصورتی کی نشانی نہیں ہے بلکہ خوبصورتی کے پیچھے اصلی رنگ وروغن کیا ہے اس کی دریافت حقیقت پر مبنی ہوتی ہے‘‘ ۴؎

جمالیات پر مارکسی نظریات کی اس توضیح نے ادب کے انفرادی‘صوری وظاہری پہلو کے برعکس اس کے معنوی‘عملی ‘افادی اور اجتماعی پہلو کی اہمیت کو سامنے لایا بلکہ مارکسی کامادی فلسفہ جن بنیادوں پرکھڑا تھا ان بنیادوں کایہ تقاضا تھاکہ ادب میں ہیئتی وصوری پہلو کے برعکس معنی ومواد اور ان سے جڑے متعلقات یعنی افادیت‘ اجتماعیت‘ حقیقت پسندی اور مقصدیت کو اہمیت دی جائے بلکہ ظاہری حسن یا ہیئت پسند یا انفرادی سوچ رکھنے والوں کے پیش نظرمارکسی تنقید میں یہ خیال سامنے لایا گیا کہ ادب میں انفرادی طریقہ کار انفرادی ذہنیت کو ہوا دیتی ہے جو انسان میں خود پرستی اور بورژوا یا سرمایہ دارانہ خیالات کو جنم دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ انفرادی طریقہ کار اختیار کرنے کے بجائے اجتماعی طریقہ کار اور خیالات کو برتا جائے کیونکہ جس طرح مارکس کے نزدیک اجتماعی یا اشتراکی پیداواری محنت سے خو د غرضی یا انفرادی ذہنیت کے بجائے اجتماعی اورانسان دوستی ذہنیت پیدا ہوتی ہے اسی طرح ادب کے اجتماعی کردار سے ادیب کے اندر پورے سماج کے ساتھ وابستگی کااحساس پیدا ہوتا ہے۔

زندگی کے معاشی‘معاشرتی اور سیاسی مسائل کاحل جو مارکسی تصورات سامنے لائے تھے ان کے اثرات زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح چونکہ ادب پر بھی پڑ ے خاص طور پر سامراجیت‘ جبریت اور غلامی کی گرفت میں گرفتار ممالک کے ادب نے ان اثرات کو خاص طور پر قبول کیا اس لیے جب ہندوستان میں ترقی پسند ادبی تحریک کا آغاز ہوا تو اس سے جڑے ادیبوں اور ناقدوں نے اسے اپنے ملک سے جڑے سماجی‘سیاسی‘ اقتصادی اور بر طانوی سرمایہ داری کی سخت گیریوں کے حل کے طور پر قبول کیابلکہ انہوں نے اپنی تحریک کو دنیا میں ترقی پسند تحریک کے ایک جزو کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ چنانچہ احتشام حسین نے اس کے پیش نظر لکھاہے کہ:

 ’’ہندوستانی ترقی پسند تحریک دنیا  میں ترقی پسند کی تحریک اشتراکیت کے اصول کے پرچار ‘ فاشزم کے خلاف تمدنی اور ادبی محاذ قائم کرنے کی عام تحریک کاایک حصہ ہے اسے ان تحر یکوں کے ایک جزو کی حیثیت سے سمجھنا چاہیے‘‘ ۵؎

اس لیے ترقی پسند ادبی تنقید میں بھی ادب اورجمالیات پر مارکس کے خیالات کی توضیحات کو لے کر یا مارکس کے بنیادی تصورات کے اثرات کو لے کر یہ خیالات سامنے آئے کہ ترقی پسند ادب چونکہ عوامی جدوجہد یا سماجی ضرورتوں کوپورا کرنے کا ایک حصہ ہے اس لیے اس کی زبان عوام کی ذہنی سطح سے ہم آہنگ ہونی چاہیے

’’ جو ادب اس سطح سے بلند ہوکر رمزیت واشاریت کا پیرایہ اختیار کرے گا اس کی ترقی پسندی مشکوک ہوگی۔ رمزیت واشاریت ہیئت پرستی ہی کی شکل ہے اور اب یہ ان ادیبوں کامسلک سمجھی جاتی ہے جو انحطاط پذیر سرمایہ دارانہ نظام کا پروردہ ہیں’‘۶؎

 مارکس کے تصورات ترقی پسندوں کامنشور بن کر سامنے آئے ہیں۔جو یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ادب کو انفرادیت ‘ خود پسندی‘ بے جا طرف داری‘ اجنبیت پسندی‘ رقت پسندی‘ قدامت پرستی‘ تصور پرستی‘غیر عقلی وغیر حقیقی‘ رجعت پرستی او رنسلی وتعصبی روایات وتصورات سے نکل کر حقیقی ومعروضی اور تغیر پذیر انسانی سماج کی ترجمانی کرنی چاہیے او رسماج کے اس طبقہ کی حمایت کرنی چاہیے جو تغیر اور انقلاب کاموجب ہے اس لیے اس منشور یا حکم نامے کے مطابق شعر و ادب کی تصنیف کی جائے۔چنانچہ اسی منشور اور حکم نامے یا انہی خیالات کے پیش نظر پریم چند نے سب سے پہلے ترقی پسند ادیبوں کی پہلی ہند کانفرنس کے صدارتی خطبے میں  ہیئت پرمواد کی تقدیم اوراہمیت کو سامنے لاتے ہوئے یہ خیالات پیش کیے:

’’زبان ذریعہ ہے منزل نہیں۔ اب ہماری زبان نے وہ حیثیت اختیار کرلی ہے کہ ہم زبان سے گزر کر اس کے معنی کی طرف بھی متوجہ ہوں، اور اس پر غور کریں کہ جس منشا سے یہ تعمیر شروع کی گئی تھی وہ کیوں کر پورا ہو۔ وہی زبان جس  میں ابتداً ء باغ وبہار اور بیتال پچیسی کی تصنیف معراج کمال تھی اب اس قابل ہوگئی ہے کہ علم وحکمت کے مسائل بھی ادا کرے‘‘ ۷؎

’’ہ میں  حسن کامعیار بدلنا ہوگا…….( پہلے) آرٹ نام تھا محدود صورت پرستی کا‘الفاظ کی ترکیبوں کا ‘ خیالات کی بندشوں کا‘ زندگی کا کوئی آئیڈیل نہیں ‘ زندگی کاکوئی اونچا مقصد نہیں’‘۷؎

’’ہماری کسوٹی پروہ ادب کھرا اُترے گا جس  میں تفکر ہو آزادی کا جذبہ ہو‘ حسن کا جوہر ہو‘ تعمیر کی روح ہو‘ زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو جو ہم  میں حرکت ‘ ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے‘ سلائے نہیں کیونکہ اب زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی‘‘ ۹؎

آرٹ کو افادیت کے میزان پر تولنے کے پیش نظر پریم چند کے یہ سارے خیالات اصل میں مواد وموضوع کی اہمیت کو لے کر ہی سامنے آئے۔

اصل میں ترقی پسند ادبی تحریک یا ادب میں  عالم گیر سطح پر پھیلی مارکسی تنقید کے ہاں مواد وموضوع کے براہ راست یا ادبی نقطہ نظر سے کوئی اہمیت نہیں تھی یا ہیئت سے زیادہ مواد و موضوع ہی کی تقدیم اوراہمیت کو سامنے لانا مقصود نہیں تھا۔بلکہ اس تحریک سے جڑے مارکس کے بنیادی مادی تصورات زندگی‘ سماج ‘ حقیقت اورفطرت سے جڑے جن تقاضوں یا جن دعوی کو لے کر سامنے آئے تھے ان تقاضوں کی یہ ناگزیر یت یا ضرورت Necesityتھی کہ اد ب میں  مواد وموضوع ہی کی اہمیت کو لازمی قرار دیا جائے اس لیے اس تحریک سے جڑے بعض ناقدین نے اگرچہ مواد او رہیئت دونوں کی اہمیت یادونوں کے ناگزیر وصل کولازمی قرار دیا یا ادب میں فنی وادبی پہلو کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جتنی مواد وموضوع کو لیکن مجموعی حیثیت سے اس تحریک پر مواد و موضوع ہی کی اہمیت غالب رہی بلکہ اس تحریک کے اولین منشور کے تحت معاشی بدحالی‘ یعنی بھوک‘ افلاس‘سماجی پستی اورغلامی کے استحصال کوختم کرنے کا جو مقصد سامنے آیاتھا اس نے اس تحریک کی ادبی جہت میں سیاسی پہلو کو زیادہ ہوا دے کرادبی وفنی قدروں کو بہت حد تک دبا دیا اور ساتھ ہی جب جماعتی نصب العین یا اس کے منشور یا حکم نامے کے مطابق شعر وادب کی تصنیف کرنے پر زور دیا گیا یا ادب میں  انفرادیت کے بجائے اجتماعی خیالات کی ترجمانی کرنے کی تاکید کی گئی تو اسلوب‘انداز بیان یاہیئتی پہلو کے بجائے مواد و موضوع ہی اہم قرار پائے۔ چنانچہ یہ سب تصورات مارکسی تقاضوں کے پیش نظر سامنے آئے تھے اس لیے اس سلسلے میں  کئی ناقدین کے خیالات تضاد کاشکار رہے اورکئی ترقی پسند ناقدین میں  مواد اور ہیئت کی تقدیم وتاخیر کے پیش نظرکافی اختلافات بھی سامنے آئے۔

۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎تنقیدی دبستان‘ سلیم اختر‘ بُک کار پوریشن دہلی۔ ص۱۸۱

۲؎ مارکسی فلسفہ‘ اشتراکیت اور اردو ادب ‘ وہاب اشرفی ‘ ایجو کیشنل بُک ہاوس دہلی۔ص ۱۲۶

۳؎ ایضََا۔۔۔۔۔۔ص۱۲۶

۴؎ ایضََا۔۔۔۔۔۔ص۱۲۷

۵ ؎ تنقیدی جائزے‘سید احتشام حسین ‘حیات پبلشر ز لکھنو۔ ۳۳

۶؎اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک‘خلیل الرحمان اعظمی‘ایجوکیشنل بک ہاوس ‘علی گڑھ۔ ص ۳۸۷

۷؎ اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک ‘خلیل الرحمان اعظمی ‘ایجوکیشنل بک ہاوس عبی گڑھ۔ ص۴۲

۸؎ ایضََا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ص۴۳

۹؎ ایضََا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ص۴۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ممتحنہ اختر

 پی ایچ۔ڈی ریسرچ سکالر

 کشمیر یونیورسٹی‘سرینگر

 فون نمبر۔9906439542

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.