آفاقی اقدار کا شاعر:خلیل الر حمن اعظمیؔ :نظم نگاری کے حوالے

خلیل الر حمن اعظمیؔ اُردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔انہوں نے کئی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ نظم نگاری، غرل گوئی ـ، ہجو گوئی، خاکہ نگاری اور تنقید نگاری وغیرہ۔لیکن شاعری اور تنقید نگاری سے اردو ادب میں  انھیں زیادہ شہرت ملی۔

اردو شاعری میں نئی سمت کی نشاندہی کرنے اور نئے تجربوں کی فضا ہموار کرنے والوں کی فہرست میں خاص طور پر خلیل الرحمن اعظمیؔ کا نام اولیت اور اہمیت کا حامل ہے۔آزادی کے بعد جدیدیت کے نام سے جو نیا ادبی رجحان سامنے آیا وہ اس رجحان کے نمائندہ شاعر ہیں۔میر ؔ کی بازیابی کا جو رجحان آزادی کے بعد پیدا ہوااس میں بھی ان کا بڑا دخل ہے۔

خلیل الرحمن اعظمیؔ کی شخصیت بڑی متنوع اور پہلو دارتھی۔وہ بے حد ذہین تھے یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ نئے امکانات کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔اعظمیؔ نے جس دور میں شاعری کی ابتدا کی وہ دور ترقی پسند تحریک کے عروج کا تھا۔اعظمی ؔکچھ عرصہ اس تحریک کے ساتھ وابستہ رہے لیکن جب یہ تحریک انتہا پسندی کا شکار ہو گئی تو انہوں نے اس تحریک سے علیحدگی اختیار کی۔اس کے بعد وہ جدیدیت کے ساتھ وابستہ ہو گئے جو آزادی کے بعد ایک نیا رجحان بن کر سامنے آیا تھا۔لیکن جب یہ رجحان بھی ترقی پسندی کی طرح انتہا پسندی کا شکار ہوا تو ان کے پاس اس رجحان سے کنارہ کشی کرنے کے سواکوئی چارہ نہ تھا۔گو کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کسی بھی تحریک یا رجحان کو اپنے پائوں کی زنجیر بننے نہیں دیااور کسی نظریہ یا تحریک سے وابستہ ہوئے بغیر ایک وسیع نقطہ نظر کو اپنایا اور اسی معروضی نقطہ نظر کو اپنا کر شاعری کرنے لگے۔بقول مظہر احمد:

’’کوئی بھی شاعر اپنے زمانے کے حالات اور سیاسی و ادبی رجحانات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتااور یہی خوبی اسے ایک بڑا شاعر بنانے  میں مدد دیتی ہے۔ہر شاعر اپنی آنکھ کھلی رکھتا ہے اور زمانے کے حالات اور ادبی نظریات سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔خلیل الرحمن اعظمی نے بھی اپنے زمانے کے حالات اور ادبی محرکات پر نظر رکھی۔ان سے متاثر ہوئے۔ان سے قریب آئے اور عہد بہ عہد مختلف نظریوں اور تحریکوں سے متاثر رہے۔‘‘

جدید اردو شاعری اور خلیل الرحمن اعظمی۔ص۳۰

خلیل الرحمن اعظمی طبیعتاً اچھائی کے شیدائی تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ انتہا پسندی چاہے وہ ادب میں ہو یا زندگی میں سودمند نہیں ہو سکتی۔لہذا جہاں کہیں اُن کاسابقہ ادب یا زندگی میں کسی خامی سے پڑاوہ اس سے دوری اختیار کرتے ہوئے نئے اور بہتر امکانا ت کی تلاش میں نکل پڑے۔نئے امکانا ت کی تلاش کا یہ عمل اعلی انسانی اور ادبی قدروں کی بازیافت اور تحفظ کے لئے تھا۔

نئے امکانات کی تلاش اعظمی کو میرؔ تک لے گئی اور انہوں نے کلاسیکی شاعری کا بغور مطالعہ کیا۔اعظمی چونکہ خود غم پسند تھے اور زندگی کی ناکامیوں اور نامرادیوں نے انھیں اور بھی اُداس بنایا دیاتھا۔اس لیے میرؔ کی قربت نے انھیں تقویت بخشی۔انہوں نے ماضی کے ادبی ورثے اور کلاسیکی روایات سے انحراف کرنے کے بجائے ان سے خاطر خواہ استفادہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری نئے دور کی شاعری ہونے کے باوجود کلاسیکی نظم و ضبط کی حامل ہے۔اس سلسلے میں ممتاز حسین رقم طراز ہیں:

’’انہوں نے میرؔ کے سوز و گداز سے فیض حاصل کیا ہے اور اسے ایک جدید رجحان کی حیثیت سے قبول کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ جدید رجحان اپنے ماحول کے غم کو اپنی ذات  میں سمونے کا ہے۔اس سے قنوطیت پیدا نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ کلام  میں تاثیر پیدا ہوتی ہے اور اپنا غم ایک یونیورسل جذبے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔‘‘

جدید اردو شاعری اورخلیل الرحمن اعظمی، ۱۹۸۹ء، ص ۶۲

خلیل الرحمن اعظمی نے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں  بھی۔تاہم بحیثیت نظم نگار وہ زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ غزلوں کے مقابلے میں  ان کی نظمیں  زیادہ پرکشش ہیں۔ وہ بظاہر داخلی احساسات اور جذبات کے شاعر ہیں اس لیے ان کا کلام ان کے قلبی واردات کا آئینہ دار ہے۔انہوں نے اپنی نظموں میں انفرادی جذبات کو سماجی معنویت بخشنے کی کوشش کی ہے اور عصری مسائل کو اپنے مخصوص نظریہ اور لب و لہجہ میں پیش کیا ہے۔

خلیل الرحمن اعظمیؔ کے کل تین مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ ان میں پہلے دو’کاغذی پیرہن ‘اور ’نیا عہد نامہ‘ ان کی حیات کے زمانے میں اورتیسرا ’زندگی زندگی‘ ان کی وفات کے بعدشائع ہوا۔جب ہم ان تینوں مجموعوں میں شامل نظموں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں  اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ اعظمی کا فن ان تینوں مجموعوں میں بتدریج ارتقاکی طرف گامزن ہے۔خیالات، جذبات اور احساسات کے بیان میں بتدریج پختگی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔غم والم اور افسردگی کا بیان بتدریج شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے اورپھر زبان و بیان کا لطف قاری پر اپنی گرفت مظبوط کرتا جاتا ہے اور اس طرح قاری ہر نظم کے اختتام پرفوراََ دوسری نظم کی طرف متوجہ ہو جاتاہے۔اس طرح اس کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے۔

خلیل الرحمن اعظمیؔ نے زندگی کا بھیا نک چہرہ دیکھا تھا۔وہ زندگی کے جن مشکل اور دشوار گذار مراحل سے گزرے تھے اور زندگی کی جن تلخ حقیقتوں کا سامنا کیا تھا ان کی شاعری میں بالعموم یہی موضوعات ملتے ہیں۔ انہوں نے زندگی کو جیسا پایا ویسا ہی اپنی نظموں میں پیش کیااور اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے واقعے کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے۔ ان واقعات میں بڑی صداقت ملتی ہے اور اسی صداقت کی وجہ سے ان کی نظموں میں اثر آفرینی اور سوز و گداذ پیدا ہوگیا ہے۔ اس طرح ان کی نظموں میں داخلیت کی لے تیز ہوتی محسوس ہوتی ہے۔

میں  چپ چاپ بیٹھا ہوں اس راہ گزر پر

یہی سوچتا ہوں کہ خط لانے والا

کہیں آج بھی کہہ نہ دے ’کچھ نہیں ہے‘

نظم: بہار کی واپسی، کاغذی پیرہن، آزاد کتاب گھر، دہلی ۱۹۵۵ء ص۹۰

خلیل الرحمن اعظمی کی نظمیں  ان کی شخصیت کی آئینہ دار ہیں۔ ان میں ان کی شخصیت کے نقوش ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ بقولِ اسلوب احمدانصاری:

’’اعظمی صاحب کی نظمیں  ان کی انفرادی روح کی داستان ہیں۔ یہ ایک خود نوشت سوانح حیات ہے، ایک آیئنہ ہے، جس میں ان کی شخصیت کے خد و خال آسانی سے پہچانے جا سکتے ہیں’‘۔

بحوالہ جدید اردو شاعری اور خلیل الرحمن اعظمی، ۱۹۸۹ء

خلیل الرحمن اعظمیؔ کی زندگی جد و جہد اور کشمکش سے تعبیر ہے۔ان کی پوری زندگی غموں، المیوں، ناکامیوں، محرومیوں، حسرتوں اور خواہشوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو ہر گام پر زندگی سے نبردآزما ہے لہذا ان کی نظموں کو اگر ان کی آپ بیتی اوران کی روح کی پکار کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔ایسی پکار جو سوز و گداز سے لبریز ہے۔ جس میں بچپن سے لے کر جوانی اور جوانی سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک کا کرب جھلکتا ہے اور اس بات کا اعتراف اپنے ایک شعر میں وہ اس طرح کرتے ہیں:

میرے اشعار میں قلب حزیں کی دھڑکن

میری نظموں میں میری روح کی دلدوز پکار

خلیل الرحمن اعظمیؔ کم عمری میں حصولِ تعلیم کے لئے گھر چھوڑ تے۔عہدِ شباب میں اپنی ضروریات کی تکمیل اور تلاشِ معاش کے سلسلے میں  شہروں اورقصبوں کی خاک چھا نتے ہیں۔جب زندگی کچھ بہتر ہوتی دکھائی دیتی ہے تو ایک جان لیوا بیماری (خونی سرطان) میں مبتلا ہو تے ہیں اور موت کو اپنے دروازے پر دستک دیتے سنتے ہیں۔یہ تمام واقعات مل کر ان میں ایک اضطرابی کیفیت، اُداسی، مایوسی اور منتشر خیالی پیدا کرتے ہیں۔ خلیل کہیں زندگی سے ناراض نظر آتے ہیں تو کہیں زمانے کی نا انصافیوں کا رونا روتے ہیں۔کبھی اپنے وطن کی یاد انہیں  مضمحل کرتی ہے تو کہیں وہ اپنے دوستوں و رشتہ داروں کے غم میں تڑپتے نظر آتے ہیں۔ کہیں ناکامیوں اور تنہائیوں پر پشیمان ہیں تو کہیں گھر بنانے کے آرزو مند نظر آتے ہیں۔ ان کی نظمیں  ان کے پاکیزہ جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ ان میں غم و افسردگی کا جو سایہ نظر آتا ہے اس کا تعلق نجی زندگی کے المیے کے ساتھ ساتھ پوری نسل کے المیے سے ہے۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

شمع جلتی ہے پر ایک رات میں جل جاتی ہے

یاں تو اک عمر اسی طرح سے چلتے گزری

کون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیر

اک نئے سانچے میں لہر روز ہی ڈھلتے گزری

نظم:آپ بیتی’کاغذی پیرہن‘ ص ۴۷

کیا کہوں مجھ کو کہاں لائی عمرِ رواں

آنکھ کھولی تو ہر سمت اندھیرے کا سماں

رینگتی اُونگتی مغموم سی اک راہ گذار

گرد آلام میں کھویا ہوا منزل کا نشاں

نظم:آپ بیتی’کاغذی پیرہن‘ ص۴۷

ٹوٹ کے رہ گئے بچپن کے سہانے سپنے

مجھ سے منہ پھیر لیا جیسے میری شوخی نے

میرے ہستے ہوئے چہرے پہ اُداسی چھائی

جیسے اک رات بھیانک میرے سر پر آئی

نظم:آپ بیتی’کاغذی پیرہن‘ ص۴۹

خوبصورت شام کہتی ہے کہ آئو اب چلیں

چل کے ان رستوں پہ ڈھونڈیں اپنی کچھ پرچھائیاں

کل جہاں چھوڑا تھا ہم نے رنگ و بو کا کارواں

چل کے پہچانیں کہ ان میں اپنی قبریں کون ہیں

نظم:شام’نیا عہد نامہ‘۔ص۱۱۱

اے غمِ آرزو میں بہت تھک گیا

مجھ کو دے دے وہی میری اپنی گلی

چھوٹا موٹا مگر خوبصورت سا گھر

گھر کے آنگن میں خوشبو سی پھیلی ہوئی

 نظم:سایہ دیوار، نیا عہد نامہ، ص۱۰۳

برسوں سے یہ بام و در جن پر

مہکی ہوئی صبح کے ہیں بوسے

یادوں کے یہی نگر کہ جن پر

سجتے ہیں یہ شام کے دھندلکے

یہ موڈ یہ رہ گذر کہ جن پر

لگتے ہیں اداسیوں کے میلے

ہیں میرے عزیز میرے ساتھی

نظم:نیا عہد نامہ، نیا عہد نامہ، ص۱۱۸

ان اشعار میں  غم اور افسردگی کے اظہار کی ایسی شدت ہے گویا شاعراس احساس سے دوچار ہے کہ وہ کبھی اس حالت سے نجات نہیں پائے گا اور نا ہی اسے اس حالت سے فرار کا کوئی سراغ نظر آتا ہے۔لہذا وہ پوری طرح زندگی سے بیزارہے۔ وہ اپنے بچپن کو یاد کرتا ہے۔ وہ حسین خیالات و جذبات، زندگی کو سر کرنے کے ارادے، منزلوں سے آگے بڑھنے کے حوصلے اسے یاد آتے ہیں۔ مگراب زندگی مانو اندھیروں کی بھینٹ چڑ گئی ہو۔حوصلوں کی پستی اور مایوسی زندگی کو جیسے اندھے غاروں میں دھکیل رہی ہو۔یہاں سماج میں پائی جانے والی نا آسودگی، کربناکی، مایوسی اور شکست خوردگی کا احساس جھلکتا ہے۔

خلیل الرحمن اعظمی ؔنے کم عمری میں حصولِ تعلیم کے لیے اپنے گھر کو خیر باد کہا تھا اور پھر وقت نے انھیں کبھی لوٹنے کی فرصت نہ دی لہذا ان کے دل میں اپنے گھر اور وطن سے دوری کا درد ہے۔ وہ اپنے وطن سے بے حد محبت کرتے ہیں اور اسے چھوڑنے کا انھیں رنج ہے۔گھر اور گھر سے جڑی ہر چیز کی یاد انھیں مضمحل کرتی ہے۔اس کا اظہار انہوں نے اسطرح کیا ہے ـ:

اب بھی دروازہ روز کھلتا ہے

راستہ میرا تک رہا ہے کوئی

میرے گھر کے اُداس منظر پر

کوئی شئے اب بھی مسکراتی ہے

میری ماں کے سفید آنچل کی

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں روتی ہیں

نظم یاد، کاغذی پیرہن، ص ۷

شاعر کا غم یہاں آکر ختم نہیں ہوتا۔انہیں صرف گھر اور وطن کی یاد ہی بے چین نہیں کرتی۔ انھیں صرف یہی غم نہیں کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں آئے بلکہ یہ بات انھیں مزید رنج پہنچاتی ہے کہ ان کا کوئی غم خوار اور مونث نہ نکلاجو ان کی تلاش میں نکلتااور اس غریب الوطنی سے نجات دلاتا۔نظم ’بن باس‘میں  وہ اپنے اس درد و کرب کا بیان اس طرح کرتے ہیں:

وہ گھڑی کون تھی جب مجھ کو ملا تھا بن باس

ایک جھونکا بھی ہوا کا نہ وطن سے آیا

نہ کوئی نکہتِ گل اور نہ کوئی موجِ نسیم

پھر کوئی ڈھونڈنے نہ مجھ کو چمن سے آیا

میں  وہ اک لعل ہوں جو بِک گیا بازاروں میں

پھر کوئی پوچھنے مجھ کو نہ یمن سے آیا

نظم:بن باس’نیا عہد نامہ‘۔ص۸۹

ان اشعار میں شاعر کے دل کی خلش صاف دکھائی دیتی ہے۔انہیں اپنے گھر سے بچھڑ نے کا غم رہ رہ کر تڑپاتا ہے اور ان کے دل میں اس لمحے کی کسک اب بھی موجود ہے جب وہ اپنے گھر سے نکلے تھے۔ اعظمیؔ نے اپنے عہد کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے عصری زندگی کے مسائل کو اپنی نظموں میں بڑی خوبصورتی سے سمونے کی کامیاب کوشش کی ہے اور جارحانہ لہجہ اختیار کرنے کے بجائے وہ دھیمے لہجے میں دل کی آگ باہر انڈیلتے ہیں۔

خلیل الرحمن کے یہاں غم اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب وہ اپنی تشنہ خواہشات اور ارمانوں کا ذکر کرتے ہیں کیوں کہ زندگی کی ان محرمیوں کی وجہ شاعر کی کوئی ذاتی کمزوری نہیں بلکہ ان خواہشات کو پورا کرنے میں زمانے کی ناسازگاریاں مانع ہوئی۔انہیں اس بات کا شدید غم ہے کہ اگر وقت اورحالات سازگار ثابت ہوئے ہوتے توان کے بہت سے خواب شرمندئہ تعبیر ہوتے۔انہیں زندگی کی ان ہی شدیدناکامیوں کا احساس ہے۔ انہوں نے بڑے مؤثر انداز میں ان احساسات و جذبات کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

 تجھ کو اے دوست دکھاوں کہ کہاں رہتا ہوں

یہ وہ گھر ہے کہ جو شاید کبھی ہو سکتا تھا گھر

تجھ کو شاید نہ نظر آئے مگر یہ سچ ہے

اس کے سینے میں پوشیدہ میرے لال و گوہر

یہ زمین اجڑی ہوئی، ٹوٹی ہوئی ہے دیوار

پر اسی کوکھ میں دھرتی کی ہے سرمایہ مرا

میں  جو اس وقت نظر آتا ہوں یہ میں نہیں ہوں

میری تصویر ہے دھندلا سا ہے یہ سایا میرا

اس میں ہے میری محبت کے وہ سارے ارمان

جن سے محروم رہا میرا یہ بیدار شباب

یاد ِ محبوب میں گائے وہ گیت اس میں

ان میں ہیں میرے وہ اشعار نہیں جن کا جواب

 نظم: میرا گھر میرا ویرانہ’کاغذی پیرہن‘ص۱۵

ان نظموں میں شاعر کا اندرونی کرب، زخمی احساس اور آرزو مندی کا جذبہ جھلکتا ہے اور حقیقت نگاری ارمان و حسرت میں  ڈھلتی ہوئی نظر آتی ہے۔

خلیل الرحمن اعظمی زندگی بھر محبت اور شفقت کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔لیکن یہ دونوں ہی چیزیں انھیں نصیب نہ ہوئی۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب وہ عشقیہ مضامین بیان کرتے ہیں تو ان کے جذبے کی توانائی بڑھ جاتی ہے، لہجے میں ایک مایوس کن نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔اس طرح ان کی عشقیہ نظموں میں  محرومی اور کم نصیبی کا شدید احساس ہوتا ہے۔اعظمیؔ دراصل غم کے شاعر ہیں۔ وہ فکر کو جذبے میں ڈالنے کا فن جانتے ہیں اور فکروفن دونوں کو صیح طور پر برتنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انہوں نے عشق میں ہمیشہ ناکامیوں سے کام لیا۔ جب وہ اپنی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں توان کے غم کی فضا مغموم معلوم ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں؎

یوں تو کہنے کی نہیں بات مگر کہتا ہوں

پیار کا نام کتابوں میں لکھا دیکھا ہے

جب کبھی ہاتھ بڑھایا ہے کسی کی جانب

فاصلہ اور بھی بڑھتا ہوا دیکھا ہے

بوند بھر دے نہ سکا کوئی محبت کی شراب

یوں تو مہ خانے کا مہ خانہ لٹا دیکھا ہے

نظم:بن واس’نیا عہد نامہ‘۔ص۹۴

آتے ہیں بہت سے آنے والے

کچھ اجنبی کچھ رفیق و ہمدم

لیکن کئی سال مجھ پہ گزرے

سننے کیلئے ترس گیا ہوں

دستک، کہ جواب بھی جانتی ہو

وہ نام جو میرا پیار کا ہے

نظم:رفتگاں ’نیا عہد نامہ‘۔ص۱۱۳

یہاں ان کے لہجے میں بلا کی اُداسی اور مایوسی پیدا ہو گئی ہے اوراس لہجے میں  پوری انسانیت کا دکھ درد سمٹ کر آیا ہے۔یہ شاعر کی ذاتی روداد ہوتے ہوئے بھی پورے نوعِ انسان کی روداد بن جاتی ہے۔

 شاعری کا مقصد محض اچھے اور منتخب الفاظ کا جال بننا ہی نہیں بلکہ شاعر کے تجربات کا اظہار ہے۔خلیل کے تجربات کا تعلق براہِ راست زندگی سے ہے لہذا ان کی نظموں میں تجربے کی گیرائی اور گہر ائی نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں مشکل و مبہم علامتیں نہیں ملتیں۔ وہ سہل پسند شاعر ہیں اور علامتوں کی بھول بھلیاں میں  جانے کے بجائے آسان زبان میں اپنے تجربات و مشاہدات کا اظہار کرتے ہیں۔اس بیان کیلئے اعظمیؔاکثرخود کلامی کی تکنیک اپناتے ہیں۔ سادہ مگر دلنشین اور موئثراسلوب کی وجہ سے ان کی نظموں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی معنویت میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔دیکھئے کتنی سادگی سے اپنے جذبات و احساسات کا بیان کیا ہے:

تم کو شاید نہ ہو یاد لیکن اسے

ساری باتیں تمہاری اب بھی یاد ہیں

اس کو وہ دن بھی ہے یاد جب تم کبھی

روتے رہتے تھے اٹھ اٹھ کے پچھلے پہر

مانگتے تھے خدا سے دعا موت کی

تم نے چھپ چھپ کے جتنے بھی لکھے ہیں خط

کہہ رہا ہے کہ سب مجھ کو معلوم ہے

نظم:اپنی تصویرسے’کاغذی پیرہن، ص ۱۰۵

تمہارا نام کیا ہے تم کہاں کے رہنے والے ہو

کچھ ایسا جان پڑتا ہے کہ پہلے بھی ملے ہیں ہم

رہے ہیں ساتھ یا اک دوسرے کو جانتے ہیں ہم

اگر تم ساتھ تھے تو تم بھی شاید دوست تھے میرے

مجھے یاد آیا دونوں ساتھ ہی کالج میں پڑھتے تھے

نظم:نیا جنم’کاغذی پیرہن، ص ۷۵

 ان اشعار میں گویا شاعر اپنی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔وہ اپنے آپ سے ہم کلام ہے۔ وہ اپنی کھوئی ہوئی ذات کامتلاشی نظر آتا ہے۔اس کشمکش میں اسے کچھ یاد نہیں آتا سوائے چند تلخ تجربوں اور بکھرے ہوئے خوابوں کے۔ان نظموں میں اندرونِ ذات کا بیان ہے لہذا ان میں داخلیت کی نمود ہے۔ یہ نظمیں  معنوی و فکری خوبیوں کے ساتھ ساتھ شاعرکی فنکارانہ بصیرت کا بھی پتا دیتی ہے۔

کسی بھی تخلیق پر تخلیق کار کی سیرت و شخصیت کا اثر پڑنا ناگزیر ہے۔خلیل الرحمن اعظمی کی نظموں پر ان کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کا اثر صاف طور پر دکھائی دیتا ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اعظمیؔ زندگی میں مختلف حادثات سے گزرے ہیں۔ وہ زندگی بھر ناکامیوں اور نامرادیوں سے جھوجتے رہے۔اس مسلسل جدو جہد نے ان میں صبر اور قناعت پسندی کی بہترین خصلت پیدا کرتی ہے۔ وہ طبیعتاََ بڑے سادہ دل، نیک اور خود دار انسان تھے۔انہوں نے کبھی مصلحتوں کی آڑ میں آکر اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا جس کی وجہ سے ان پر مصیبتوں کے پہاڑ بھی ٹوٹے ہیں لیکن انہوں نے ان تمام مصائب کا بڑے صبر و ضبط اور حوصلے کے ساتھ سامنا کیا ہے۔خلیل کی شخصیت کی ان خصوصیات کا عکس ان کی نظموں میں صاف طور دکھائی دیتا ہے:

مجھ کو یہ ضد ہے کہ میں سر نہ جھکائوں گا کبھی

مجھ کو اصرار کہ جینے کا سزا وار ہوں میں

مجھ کو یہ فخر کہ میں حق و صداقت کا امین

مجھ کو یہ زعم خود آگاہ ہوں خوددار ہوں میں

ایک اک موڈ پر آلام و مصائب کے پہاڑ

ایک اک گام پر آفات سے ٹکرایا ہوں

ایک اک زہر کو ہنس ہنس کے پیا ہے میں نے

ایک اک زخم کو چن چن کے اٹھا لایا ہوں

 نظم:بن باس’نیا عہد نامہ‘۔ص۹۱

اعظمیؔ تصنع و تکلف سے پاک ایک پُر خلوص شخصیت کے مالک تھے۔اسی لیے ان کی نظموں میں بھی بے ساختگی اور حقیقت پسندی کا احساس ہوتا ہے۔ان کے کلام میں دلکشی اور شگفتگی ہے۔اور ان میں دردو گدازسے لبریز شخصیت کا فنکارانہ اظہار ہے۔

 خلیل الرحمن اعظمیؔ نے جن موضوعات کو اپنی نظموں میں پیش کیاان کا مشاہدہ انہوں نے بذاتِ خود کیا ہے۔ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اگر چہ خارجی تھے لیکن اس کے باوجود ان کا تعلق ان کی داخلی زندگی کے ساتھ تھا۔انہوں نے عشق کی کشمکش اور معاشی دشواریوں کو بھی موضوعِ شعر بنایا۔لیکن ان کا اصل موضوع غمِ زندگی ہے۔انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور برتا۔زندگی اپنی تمام ترمشکلات کے باوجود ان کو عزیز ہے۔ان کو زندگی سے شکوہ ہے کہ زندگی نے انھیں رنج و غم اور ناکامیوں و حسرتوں کے سواکچھ نہ دیا۔اگر چہ ان کی نظمیں  زندگی کے غم سے مملو ہیں لیکن اس کے باوجود ان نظموں میں حوصلہ شکنی نہیں بلکہ ہر حالت میں زندگی کو گلے لگانے کا حوصلہ اوراس کی دشواریوں کو قبول کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ اعظمیؔ زندگی سے بے حد محبت کرتے ہیں۔زندگی ان کے نزدیک ایک مجاہدہ ہے۔ وہ غموں سے دور بھاگنے کے بجائے ان سے نبرد آزماہو کرزندگی جینے کاحوصلہ رکھتے ہیں۔ زندگی سے بیک وقت محبت اور شکوہ ان کی نظموں میں ایک حسین امتزاج پیدا کرتا ہے۔ علی حماد عباسی نے زندگی سے اس قدرمحبت و چاہت کو دیکھتے ہوئے انھیں زندگی کا بڑا عاشق و شیدائی کہا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

’’میں  خلیل کے بارے میں اتنا پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ خلیل سے بڑا زندگی کا عاشق اور شیدائی نہ کبھی پیدا ہوا ور نہ پیدا ہو گا۔صحت ہو چاہے بیماری، راہت ہو چاہے اذیت وہ ہر حالت میں زندگی پر اپنی جان نچھاور کرتا رہا۔‘‘

بحوالہ، ’جدید اردو شاعری اور خلیل الرحمن اعظمی‘ از۔ مظہر احمد۔ص۱۴۲

اس سلسلے میں خلیل الرحمن اعظمی کی نظمو ں سے چند مثالیں ملا حظہ ہوں۔

یوں تو مرنے کیلئے زہر سبھی پیتے ہیں

زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے

نظم:آپ بیتی’کاغذی پیرہن، ص۴۷

کتنے کچوکے کھا کھا کر بھی چپ رہنے کی عادت ڈالی

ہنستے ہنستے پی ڈالی ہے غم کے زہر کی ہر ہر پیالی

نظم:نذ رانے’کاغذی پیرہن، ص۸۷

اس خرابے میں پڑے ہیں جابجا مٹی کے ڈھیر

جس کی قسمت کو نہ راس آیا دنوں کا ہیر فیر

کتنی شامیں  میں نے رو رو کر گزاری ہیں یہاں

کر چکا ہوں بارہا آ کر یہاں پر خود کشی

یہ زمیں  میر لہو پی کر بھی ویسی ہی رہی

پھر کہیں یہ شام بھی جائے نہ اپنی رائیگاں

آج چل کر اپنے قدموں سے یہ قبریں روند دیں

شاید اب کی فصل میں اس خاک سے پودیاگیں

نظم:شام’نیا عہد نامہ‘۔ص۱۱

خلیل الرحمن ِاعظمی تمام عمر خوابوں کی وادیوں میں گھومتے رہے۔ان کی آرزئویں اور حسرتیں کبھی پوری نہ ہوئیں۔ ایک طرف ان کی خود آگاہی اور خودداری تھی تو دوسری طرف زمانے کی ناقدری، غمِ غربت، یادِ ماضی اور تابناک مستقبل کی خواہش۔زندگی کے یہی نشیب و فراز خلیل کو وہ درد مند لہجہ عطا کرتے ہیں جو قاری کے دل کی تاروں کو چھوتا ہے، اس کی روح پر گرفت کر کے اسے اسیر بنا لیتا ہے اور اس کے دل میں خلیل کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔یہی وہ خصوصیات ہیں جو خلیل کی نظموں میں آفاقیت پیدا کرتی ہیں اور یوں ان کی تخلیق تمام دنیا کی تخلیق بن جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میر رحمت اللہ

ریسرچ اسکالر یونیورسٹی آف حیدرآباد

فون نمبر: 9052482321

ای میل: meerrehmat.urdu@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.