اپنی بات

اردو ریسرچ جرنل کا گیارہواں شمارہ پیش خدمت ہے اس شمارے میں ہم نے  کئی اہم موضوعات پر اردو کے اہم قلم کاروں کے مضامین کو  شائع کیا ہے۔  ہماری کوشش رہی ہے کہ جرنل کے معیار کو قائم رکھتے ہوئے مختلف موضوعات پر ماہرین فن  کے ساتھ ریسرچ اسکالرس کے مضامین بھی شامل کریں تاکہ نئی نسل کی تربیت ہوسکے،   یہی وجہ ہے کہ اس شمارے میں ڈاکٹر محمداسلم پرویز، ڈاکٹر محمد کاظم،  ڈاکٹر رفیق سندیلوی اور ڈاکٹر احمد امتیاز  وغیرہ کے ساتھ ریسرچ اسکالرس کی بھی ایک کہکشاں ملے گی۔

ڈاکٹر احسن فاروقی کو  ان کی   کتاب ‘تاریخ ادب انگریزی’ اور ‘اردو ناول کی تنقیدی تاریخ’ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے دو خوبصورت ناول بھی لکھے  ہیں “سنگ گراں “اور “سنگم”۔ پاکستان کے معروف شاعر اور تنقید نگار  ڈاکٹر رفیق سندیلوی نے  اپنے مقالہ  ” محمد احسن فاروقی کے ناولوں میں ہیرو کا تصور” میں احسن فاروقی کے انہی دو ناولوں کو موضوع بحث بنایا ہے۔  ڈاکٹر احمد امتیاز کا مقالہ “مصحفی کے شعری امتیاز” یقینی طور پر قارئین کو پسند آئے گا جس میں انہوں نے بہت ہی مختصر انداز میں مصحفی کے شعری امتیاز پر روشنی ڈالی ہے اور ان ناقدین کا رد کیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مصحفی کا کوئی رنگ ہی نہیں ہے۔
اس شمارے میں آپ ڈاکٹرمحمد  اسلم پرویز  کے قلم سے  ” قرآن، سائنس اور سائنسی مزاج۔ ماضی حال اور مستقبل” پڑھیں گے جس میں انہوں نے تاریخ کے حوالوں سے عہد ماضی میں مسلمانوں کی علم دوستی اور عہد حاضر  کے مسلمانوں کی علم سے دوری کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ یہ سب قرآنی تعلیمات کی دوری کا نتیجہ ہے۔  قران جس سائنسی مزاج کو اپنے ماننے والوں کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے مسلمان اس سے بہت دور ہیں۔ ڈاکٹر محمد کاظم نے اپنے مضمون میں داغ دہلوی کی زندگی کے اہم گوشوں پر داغ کے خطوط کے حوالے سے روشنی ڈالی ہے۔  غالب کے خطوط کو سامنے رکھ کر ان کی سوانح عمری تیار کی گئی ہے اسی طرح کی کوشش علامہ اقبال کی زندگی کے کچھ مخفی گوشوں کی گرہ کشائی کے لئے  بھی کی گئی ہے۔ ان مشاہیر نے اپنے خطوط میں اس دور کی ادبی اور سماجی سرگرمیوں کا  اظہار کیا ہے۔ ان خطوط کا ایک بڑا حصہ خود مکتوب نگار کی اپنی زندگی پر مشتمل ہوتا ہے۔  دہلی یونی ورسٹی کے سینئر استاد ڈاکٹر محمد کاظم نے داغ دہلوی کی زندگی کے احوال انہیں کے خطوط کی روشنی میں پیش کر کے واقعی ایک اہم کام کیا ہے۔

اس شمارے میں ایک اہم مضمون اردو غزل کے حوالے سے ڈاکٹر جعفر جری کا شامل ہے جس میں انہوں نے غزل مسلسل کے فن اور روایت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ہمارے یہاں غزل مسلسل پر بہت کم مواد ملتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ان کا یہ تفصیلی مقالہ اس کمی کو کسی  حد تک پورا کرے گا۔  ڈاکٹر محمد حسن کا مضمون بھی فنی نوعیت کا ہے جو لسانیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے یقیناً کارآمد ثابت ہوگا۔

اردو ترکی زبان کا لفظ ہے اس پر تقریبا سبھی متفق ہیں،  لیکن ہمارے یہاں اور ترکی زبانوں  کے باہمی رشتوں پر کام بہت کم ہوا ہے اس کی وجہ غالباًیہ رہی ہے کہ اردو اور ترکی دونوں زبانوں پر مہارت رکھنے والے بہت ہی کم ہیں۔ یہ کام کوئی ایسا شخص ہی کرسکتا ہے جس کو دونوں زبانیں آتی ہوں۔  تہران یونی ورسٹی کے شعبہ اردو کے طالب علم سلیمان زراع نے اس اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے جو واقعی لائق قدر ہے۔   ڈاکٹر ذکیہ رانی کا مقالہ “تحقیق وتنقید کا باہمی رشتہ” ریسرچ اسکالرس اور اردو ادب کے طالب علموں کے لئے ایک بیش بہا تحفہ ہے۔  اس شمارے میں ہماری فرمائش پر نوجوان محقق ڈاکٹر رفیق الاسلام نے  ” داستان’’طلسمِ حیرت‘‘؛مابعد الطبیعیاتی مطالعہ” کے عنوان پر ایک گرانقدر مقالہ ارسال کیا ہے۔  انہوں نے اردو داستانوں کے مابعد الطبعیاتی   مطالعہ پر بہت ہی اہم کام کیا ہے جو اردو میں اپنی نوعیت کا  منفرد کام ہے۔  اس کے علاوہ ڈاکٹر نسیم عباس احمر، ڈاکٹر دلپذیر وغیرہ کے مقالے اس شمارے کی زینت ہیں۔ اس شمارے میں کل 28 مقالے شامل ہیں ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ تعارف ممکن نہیں ہے۔ رسالہ پیش خدمت  ہے ملاحظہ فرمائیں۔

ڈاکٹر عزیر اسرائیل

(مدیر)

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.