اُردو میں غزلِ مسلسل کی روایت اور فن

عربی قصیدے نے زمانہء جاہلیت میںعروج و اِرتقا کی منزلیں طے کی تھیں۔ اسی ایک صنفِ سخن پر ساری عربی شاعری مشتمل تھی۔ پھر اِسلام کی ابتدا ہوئی اور اسلامی اقدارِ حیات کی اِشاعت و مقبولیت نے اِس قبائلی عصبیت کو محو کر دیا جو جاہلیت کے محرکات میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ غالباََ اِسی باعث خلافت ِ راشدہ کے دور میںعربی شاعری اِس جوش و خروش سے محروم رہی جو زمانہ قبلِ اِسلام میں اِس کی سب سے بڑی خصوصیت تھی ۔ بنی اُمیہ کے عہد میں اِس بدویانہ زندگی کی قدروں نے ایک دفعہ پھر اپنا رنگ جما لیا اور عربی قصیدے میں دوبارہ وہی آن بان پیدا ہوگئی۔

     یہی وہ قصیدہ ہے جو عربوں کے ساتھ ایران پہنچا اور یہاں اس نے غزل کو جنم دیا۔ ایرانیوں نے قصیدے کی تشبیب کو قصیدے سے الگ کر کے غزل کا پیکر تیار کیا، یہی نہیں دوسری اصنافِ سخن، مثلاً مثنوی، مسمط، دوبیتی، رباعی اور قطعہ کو بھی اپنایا۔ مگر ایرانی شعرا نے غزل پر ہی اپنی بیش تر قوتیں صرف کیں چناں چہ فارسی شاعری کی اصل ترقی غزل کے نشوونما اور اِرتقا سے جڑی ہوئی ہے۔ یوں ایرانی شاعری کی تمام اَصناف نہ صرف اپنی ترقی بلکہ وجود و بقا کے لیے غزل ہی کی مرہونِ منت رہی ہیں۔

     فارسی غزل کا اِرتقا عباسیوں کے عہد میں اِسلامی تہذیب و تمدن اور اِسلامی فن و ثقافت کے اِرتقا کے ساتھ اپنے عروج کو پہنچا اور یہی عروج یافتہ اور فروغ یافتہ غزل وہ تناور درخت تھا جس کی قلم ہندستان میں لاکر لگائی گئی۔

     لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہر زبان کی شاعری اپنے ابتدائی دور میں جو بالعموم کئی کئی صدیوں کے طویل زمانے سے عبارت ہوتا ہے ، ایک طفلانہ اور معصومانہ سادگی کے سوا کوئی دوسری اَعلیٰ اَدبی خصوصیات اپنے اندر پیدا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ مگر فارسی شاعری کے گراں بہا عطیے کی بنا پر اُردو شاعری کا یہ اِبتدائی دورِ طفولیت بہت ہی مختصر ہوگیا۔ اُردو شاعری کوا پنے سفر کے سب سے پہلے مرحلے پر ہی ایسے بھرپور اور مکمل زادِ راہ کا میسر آجانا ہی ایسا امتیاز ہے جو کسی دوسری زبان کے حصے میں نہیں آیا۔ خود فارسی نے جو پختگی اور رچاؤ کم سے کم سات آٹھ صدیوں میں پیدا کیا تھا وہ اُردو شاعری نے زیادہ سے زیادہ دو صدیوں میں حاصل کرلیا۔

     بہ قول ’’گل ِ رعنا‘‘ کے مصنف عبدالسلام ندوی’’اُردو شاعری کی اِبتدا فارسی شاعری کی اِنتہا سے جاملی ہے۔‘‘ خود ہندستان میں ایسے لوگ موجود تھے جو عربی اور فارسی کی روایت پر عبور رکھتے تھے۔ صنف ِ غزل جو اِیران کی شاعری سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچی تھی ایک زندہ صنف تھی اور زندگی کے امکانات سے بھرپور تھی، پھر کہنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے نہ صرف اُس کی زندگی کو برقرار رکھا بلکہ اُس کو نئے مقامات اور نئی منزلوں سے گزار، ایک غیر ملکی اور اَجنبی صنف ِ سخن کو پوری طرح اپنا لیا اور اپنے ذوقِ شعر اور احساسِ  حسُن کے ساتھ اُسے پورے طور پر ہم آہنگ کرلیا۔ ہم نے اِیرانی شاعروں کی آواز میں اپنی آواز کا اِضافہ کیا، قدیم اور کلاسیکی اِستعاروں اور علامتوں کو رسمی و روایتی مضامین کے علاوہ اپنے مخصوص احساسات، تصورات اور تجربات کے اِظہار کا ذریعہ بنایا۔ اِیرانی تغزل کے نغموں میں نئی گونجیں، نئی تانیں، نئی گہرائیاں اور نئی تہیں پیدا کیں، نئے کس بل سے مسلح کیا اور نئے رنگ و آہنگ سے آراستہ کیا۔ مختصر یہ کہ ہم نے ایک قدیم اور روایتی صنف ِ سخن کو بڑی حد تک اپنے ماحول، اپنے حالات، اپنی ذہنیت اور اپنے مزاج کا ترجمان بنایا۔ چناں چہ صنف ِ غزل ہمارے ہاتھوں پہنچنے تک متعدد اَدوار اور بے شمار تغیرات سے گزری ہے۔

     ہر زبان اِبتداً بول چال کے کام میں لائی گئی۔ شروع ہی سے کسی زبان میں کتابیں نہیں لکھی گئیں بلکہ پہلے پہلے اِس میں جملے، فقرے، اقوال اور کہاوتیں ملتی ہیں پھر لوگ اِس میں شعر کہنے لگتے ہیں اور کتابیں تیار ہونے لگتی ہیں۔ شمالی ہندستان کے صوفیوں، فقیروں اور درویشوں کے یہاں تیرہویں اور چودہویں صدی عیسوی میں ایسے جملے اور بول بھی ملتے ہیں جن کو اُردو کہہ سکتے ہیں مگر جس کو ہم شعر و اَدب کہتے ہیں اس کا سلسلہ دکن سے شروع ہوا۔ دکن کا سارا علاقہ شمالی ہند سے الگ تھلگ رہا ہے جبکہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ  دکن میں اُردو عام لوگوں سے ہوتی ہوئی راج دربار میں پہنچ گئی اور بادشاہ تک اِس میں شاعری کرنے لگے۔

     بہمنی سلطنت ٹوٹ پھوٹ کر پانچ حصوں میں بٹ گئی۔ سب میں الگ الگ بادشاہ ہونے لگے، گجرات بھی آزاد ہوگیا۔ دکنی سلطنتوں میں گولکنڈہ اور بیجاپور قریب قریب دو سو برس تک قائم رہے۔ یہاں کیا بادشاہ، کیا اَمیر، کیا خواص کیا عوام سب اِسی اُردو کے عاشق تھے۔ یہاں اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر عام لوگوں کو اس زبان کی ضرورت نہ ہوتی اور وہ اِس زبان کو اِستعمال نہ کرتے تو بادشاہوں کی سرپرستی یا دلچسپی سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوسکتا تھا۔ دکن میں اُردو کی اِتنی تیزی سے ترقی ہوئی کہ یہاں سولہویں صدی اور سترہویں صدی میں ہم کو کئی شاعروں اورکتابوں کے نام ملتے ہیں۔ گولکنڈہ کی قطب شاہی سلطنت کو دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ محمد قلی قطب شاہ جو بادشاہِ وقت تھا جس نے شہر ِ حیدرآباد بسایا اور بہت سی یادگار عمارتیں بنوائیں خود بھی اُردو کا بہت بڑا شاعر تھا جس کو اُردو کے پہلے صاحب ِ دیوان شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ دور وہ دور ہے جبکہ شمالی ہند میں مغل شہنشاہ اکبر اَعظم کی حکومت قائم ہے۔

     یہی حال بیجاپور کا تھا، گولکنڈے میں قطب شاہی خاندان تھا تو بیجاپور میں عادل شاہی۔ یہاں بھی اُردو کا بول بالا تھا۔ یہاں کے سلاطین میں اِبراہیم عادل شاہ ثانی بھی ایک پرُگو شاعر گزرا ہے۔ اس نے بھی ملی جلی زبانوں میں گیتوں بھری لاجواب کتاب لکھی جس کا نام ’’کتابِ نورس‘‘ ہے۔ یہاں کے بادشاہوں نے نہ صرف خود شاعری کی بلکہ شاعروں کی سرپرستی بھی کی، عادل شاہی زمانے کے مشہور شعراء  نصرتی، ہاشمی اور رستمی کا کلام پڑھنے سے اِس بات کا اَندازہ ہوتا ہے کہ اُس دور میں اُفق ِ شاعری کتنا روشن اور جگمگاتا تھا۔

     یہ دونوں سلطنتیں اُردو کی زبردست سرپرستی کررہی تھیں کہ مغل بادشاہ اورنگ زیب نے ۱۶۸۶ء  اور  ۱۶۸۷ء میں اِن پر قبضہ کرلیا اور بہت دنوں تک آزاد رہنے کے بعد دکن کی ریاستیں پھر دِلی کے ماتحت ہوگئیں۔ یہاں سے دکن کی تاریخ کا نیا باب شروع ہوتا ہے۔ شعر وشاعری کا چرچا ختم نہیں ہوا مگر حالات بدل گئے،  دکن نے شمالی ہند پر اَپنا اَثر ڈالا اور شمالی ہند کی زبان نے دکن کو بہت کچھ دیا۔ اِس عمل اور ردِ عمل سے لسانی اور شعری و ادبی نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔

     دکن کی ریاستیں مغل حکومت کا ایک حصہ بن گئیں، اُس وقت بھی جو لوگ شاعری کررہے تھے اُنھوں نے شاعری کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔ اِس بات کو پھر ایک بار یاد دلایا جاتا ہے کہ شاعری صرف بادشاہوں اور درباروں کی وجہ سے زندہ نہیں رہی اُسے عام لوگ زندہ رکھے ہیں۔ شمالی ہند میں بول چال کی زبان تو اُردو تھی مگر اِس میں شاعری بہت کم ہوتی تھی۔ جب یہاں کے شاعروں نے دکن کی اُردو شاعری کو دیکھا تو اُنھوں نے بھی فارسی چھوڑ کر اُردو ہی میں شعر کہنا شروع کیا۔

     مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے آخری زمانے میں دکن کے سب سے مشہور شاعر ولیؔ دکنی کا نام بہت اہم ہے۔ ان کو اُردو شاعری کا ’’باوا آدم‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ وہ تھے تو اورنگ آباد کے مگر رہے کبھی اورنگ آباد تو کبھی برہان پور میں، کبھی سورت میں تو کبھی دلی میں۔ اس طرح وہ شاعری کے چراغ ہر جگہ روشن کرتے رہے۔ اُنھوں نے مثنویاں، رباعیاں اور نظمیں بھی کہی ہیں لیکن ان کا کمال غزلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کئی شعر تو اِتنے صاف اور سادہ ہیں کہ آج کے معلوم ہوتے ہیں۔ ولیؔ جب دِلی آئے تو اُن کے کلام سے متاثر ہو کر دِلی کے شعراء  اُردو میں شعر کہنے لگے اور شاعری کا چرچہ عام ہوگیا۔ ولیؔ کے بعد سراجؔ اورنگ آبادی اور داؤدؔ اورنگ آبادی جیسے شاعر پیدا ہوئے جو مرثیے، مثنویاں، نظمیں اور غزلیں وغیرہ لکھتے رہے۔

     دِلّی میں جب شعر و اَدب کا سلسلہ شروع ہوا تو جو شاعر فارسی میں لکھتے تھے انھوں نے بھی اُردو میں شعر کہنے شروع کیے۔ ابھی اٹھارہویں صدی کی پہلی چوتھائی بھی ختم نہ ہوئی تھی کہ اُردو میں اچھی خاصی شاعری شروع ہوگئی۔ خان آرزوؔ، فطرتؔ، مظہر جانِ جاناںؔ، فائزؔ، حاتمؔ، آبروؔ اور ناجیؔ جیسے مشہور شاعر اِسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

     پھر وہ زمانہ آیا کہ دِلی کی مغل حکومت کا چراغ ٹمٹمانے لگا۔ بادشاہ کمزور تھے، ایک کے بعد دوسرے کو تخت پر بٹھایا جارہا تھا۔ بدامنی کی حالت تھی، نادر شاہ کا حملہ، مرہٹوں، روہیلوں اور سکھوں کا زور بڑھنے لگا جو دور کے علاقے تھے وہاں کے صوبہ دار  اور حاکم خود مختار ہوگئے۔ ایسے حالات میں کسی بھی زبان کا اَدب فروغ نہیں پاتا مگر پھر بھی اُردو شاعری کے قریب قریب سو سال کے اِس دور میں جسے اُردو شاعری کا سنہری زمانہ کہہ سکتے ہیں (اگر دکن کے زمانہء شاعری کو بھی شامل کرلیں تو اب اُردو شاعری کی عمر تین سو سال کے قریب قریب پہنچ گئی تھی)۔ ۱۷۵۰ء کے بعد جن بڑے بڑے شاعروںکے نام ہم کو ملتے ہیں ان میں خواجہ میر دردؔ، میر تقی میرؔ، میر محمد سوزؔؔ، یقینؔ، مرزامحمد رفیع سوداؔ، عبدالحی تاباںؔ، قیام الدین قائمؔ چاندپوری، فغاںؔ، ممنون اور میرضاحکؔ وغیرہ شامل ہیں۔

     جب دِلی رہنے کے قابل نہیں رہی تو اُن شعرا میں سے متعدد نے فرخ آباد اور تانڈہ کے نوابوں کے یہاں چلے گئے جہاں اُن کی بہت عزت ہوئی۔ اودھ کی حکومت بھی قائم ہوچکی تھی۔ لکھنو میں نواب شجاع الدولہ، پھر ان کی جگہ آصف الدولہ نے شعر و ادب کی سرپرستی کی۔ بہیترے شعراء  دلی چھوڑ کر اَودھ کی طرف چلے گئے لیکن اِن سب شاعروں کو دِلی ہی کا سمجھا جاتا ہے۔ ابھی سوداؔ اور میرؔ کا زمانہ ختم نہیں ہوا تھا کہ لکھنو کے افق پر نئے ستارے نمودار ہوئے جن میں زیادہ مشہور غلام ہمدانی مصحفیؔ، امانؔ، جراتؔ اور انشائؔ ہیں۔ گو ان سب کی شاعری دِلی میں شروع ہوچکی تھی جب لکھنو پہنچے تو یہاں کی دنیا دِلی سے مختلف معلوم ہوئی۔ یہاں نئی حکومت کی امنگ تھی، رنگ رلیاں تھیں، عیش تھا، میلے ٹھیلے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ شاعری میں چھیڑ چھاڑ شروع ہوگئی۔ مختصر یہ کہ جب دِلی کی بساط الٹی تو اودھ میں نئی بساط جمی اور شعر و شاعری سے یہاں نہ صرف دربار بلکہ عام لوگوں نے بھی دلچسپی لی۔ اس طرح لکھنو کا اپنا الگ طرز شاعری بن گیا جسے ہم دبستانِ لکھنو کی شاعری کہتے ہیں۔ لکھنو بھی اُردو شعر و اَدب کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ یہاں غزل گوئی میں اہم نام شیخ امام بخش ناسخؔ اور حیدر علی آتشؔ کے ہیں اور پھر ان کے شاگردوں میں رشکؔ، منیرؔ شکوہ آبادی، وزیرؔ، رِندؔ، خلیلؔ، نسیمؔ وغیرہ نے اپنے اساتذہ کے رنگ کو چمکایا۔

     اُردو شعر و اَدب کی ترقی کے سلسلے میں پہلے دکن، پھر دِلی کے بعد لکھنو میں اگر زیادہ پیش رفت ہوئی تو دیگر جگہوں پر خاموشی نہیں چھائی بلکہ وقت کے بدل جانے سے کبھی ایک جگہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی، کبھی دوسری جگہ کو، سلسلہ کہیں نہیں ٹوٹا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جگہ جگہ بادشاہوں، اَمیروں یا نوابوں کے دربار لگتے تھے، جیسے دِلی، لکھنو کے علاوہ فرخ آباد، تانڈہ، رام پور، پٹنہ، حیدرآباد وغیرہ۔ یہاں سے شاعروں کو وظیفے ملتے تھے، اُن کی عزت کی جاتی تھی۔ لیکن ۱۸۵۷ء کے پچیس تیس سال پہلے دِلی میں پھر بہار آئی۔ اُس وقت یہاں سیکڑوں شاعر پیدا ہوئے۔ ذوقؔ، حکیم مومن خان مومنؔ، مرزا اَسد اللہ خاں غالبؔ، بہادر شاہ ظفرؔ، نواب محمد مصطفی خاں شیفتہؔ اپنے اپنے رنگ کے اُستاد تھے۔ یہ عجب اِتفاق ہے کہ جب مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھنے والا تھا اُس وقت دِلی میں بڑے بڑے عالم اور شاعر جمع تھے اور اُنھیں کے دم سے دِلی کا یہ آخری دور یادگار بن گیا تھا۔ حالاں کہ جو حالات پیدا ہوگئے تھے اور حکومت میں جو کمزوری آگئی تھی اسے روکنے کی طاقت کسی میں نہیں تھی، یہ پیش ِ منظر ہے جس میں حالیؔ اور اُن کی شاعری اور مقدمہ شعر و شاعری کی گونج سنائی دیتی ہے۔

     حالیؔ نے غزل کو نئے موضوعات اور نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ اِس کوشش میں غزل کے لیے کوئی شئے، موضوع یا رجحان ممنوع نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ غزل نئی اَشیا اور موضوعات کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے مخصوص رمزیہ انداز کو بروئے کار لاتی ہے جو کسی اور صنف ِ شعر کے مزاج کو نہیں اپناتی۔ حالیؔ کو بھی غزل کے اِس مزاج کا علم تھا ۔ لیکن اِصلاح کے ایک واضح مقصد کے زیر  اثر جب حالیؔ نے غزل میں نئے مضامین کو داخل کرنا شروع کیا تو غزل کے مزاج کو ملحوظ نہ رکھ سکے اور اُن کے ہاں غزل اور نظم کا فرق مدھم پڑگیا۔ چناں چہ یہی ہوا کہ خود حالیؔ کی مسلسل غزلیں نظموں کی صورت اختیار کر گئیں۔ غزل کے اشعار کی مخصوص انفرادیت ختم ہوگئی۔ حالیؔ کی اِس مسلسل غزل کو پڑھنے سے اَندازہ ہوگا  :

اَئے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا

جس گھر سے سر اُٹھایا اُس کو بٹھا کے چھوڑا

اَبرار تجھ سے ترساں اَحرار تجھ سے لرزاں

جو زد پہ تیری آیا اُس کو گرا کے چھوڑا

راجوں کے راج چھینے شاہوں کے تاج چھینے

گردن کشوں کو اکثر نیچا دکھا کے چھوڑا

کیا منعموں کی دولت کیا زاہدوں کا تقویٰ

جو گنج تو نے تاکا اُس کو لٹا کے چھوڑا

جس رہ گذر میں بیٹھا تو غولِ راہ بن کر

صنعاں سے رستہ رو کو رستہ بھلا کے چھوڑا

فرہادِ کوہکن کی لی تو نے جان شیریں

اور قیس عامری کو مجنوں بنا کے چھوڑا

یعقوبؑ سے بشر کو دی تو نے ناصبوری

یوسفؑ سے پارسا پر بہتاں لگا کے چھوڑا

عقل و خرد نے تجھ کو کچھ چپقلش جہاں کی

عقل و خرد کا تو نے خاکا اُڑا کے چھوڑا

علم و اَدب رہے ہیں دلبر ترے ہمیشہ

ہر معرکہ میں تو نے اُن کو ڈلا کے چھوڑا

اَفسانہ تیرا رنگیں روداد تیری دلکش

شعر و سخن کو تو نے جادو بنا کے چھوڑا

اِک دست ِ رس سے تیری حالیؔ بچا ہوا تھا

اُس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا

                                                         (  حالی  ؔ)

     یہ اَشعار غزل کی ہیئت کے تابع ضرور ہیں لیکن مزاجاً غزل کے اشعار سے بہت مختلف ہیں۔ بلکہ ایسی غزلوں پر اگر کوئی عنوان چسپاں کر دیا جائے تو اِنھیں بڑی آسانی سے نظم کے زمرے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ غزل کے افق کو وسیع کرنے اور نئے موضوعات کو غزل میں داخل کرنے کی یہ کاوش اِس لحاظ سے تو قابل تعریف ہے کہ اس نے غزل کے جدید آہنگ کے لیے راہ ہموار کی۔

     ۱۸۵۷ء کے بعد انگریزی تہذیب نے ایک لہر سی دوڑائی، یہ بڑی کشمکش کا دور تھا۔ انقلابی قومی رجحانات، مذہبی میلانات اور علم و اَدب کے رجحانات بھی اس انقلاب میں شامل تھے۔ یہاں تک کہ  قومی رہنما  اور  رہبر بھی اس تحریک سے متاثر  ہوئے ۔ حالیؔ ، شبلی ؔ،  وحید الدین سلیم ، اسماعیلؔ میرٹھی،  محمد حسین آزادؔ ،  اکبرؔ الہ آبادی ،  اقبالؔ ،  ظفر علیؔخاں ،  چکبستؔ، داغؔ، حسرتؔ، فانیؔ، یگانہؔ، اَصغرؔ  جیسے شعراء نے اَدبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ حالیؔ نے جب غزل کی اِصلاح کی اُن کے معاصرین میں بھی مثلاً  اِسماعیل میرٹھی ،  محمد حسین آزاد ،  وحید الدین سلیم پانی پتی کے ہاں غزلِ مسلسل لکھنے کا رجحان عام تھا۔ اِن شعراء کی غزلوں کے چند  اَشعار ملاحظہ ہوں:

اک تیشۂ فولاد ہے اک پارۂ بلور

ہوگا کسی دلبر کا دل ایسا نہ تن ایسا

سایہ سے نظر کے بھی بگڑتا ہے ترا رنگ

پھولوں نے بھی پایا نہیں نازک بدن ایسا

ہونٹوں سے ابلتا ہے تر چشمہ ء کوثر

حورانِ جناں نے بھی نہ پایا دہن ایسا

                                                                       (وحیدالدین سلیم)

تعریف اُس خدا کی جس نے جہاں بنایا

کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

پاؤں تلے بچھایا کیا خوب فرشِ خاکی

اور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوشنما اگائے

پہناں کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

                                                                       (اسماعیل میرٹھی)

شاخ گل تک جو ذرا بار ہے پاتی بلبل

پھولوں جامے میں نہیں اپنے سماتی بلبل

ہائے تو باغ میں خالی نہیں گاتی بلبل

اور صبا گل سے ہے گل چھرے اڑاتی بلبل

ہے یہ افسانہ ء غم کس کو سناتی بلبل

دھوم سے فصلِ بہار اب کے ہے آتی بلبل

                                               (محمد حسین آزاد)

     حالیؔ کے دور کی غزل کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ انھوں نے غزل کو عجمی اثرات سے ایک حد تک آزاد کرنے کی کوشش کی۔ دراصل غدر کے بعد جب انگریزی حکومت باقاعدہ طور پر قائم ہوئی تو ردِ عمل کے طور پر قومی احساس کو تحریک ملی اور اخبارات ہی کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں نے بھی ملی اور قومی جذبات کا عام طور سے اظہار کیا۔ شعر کو ایرانی اثرات سے باہر نکال کر خالص ہندوستانی فضا کی عکاسی کے لیے استعمال کرنے کی یہ ساری تحریک اسی جذبے کا نتیجہ تھی۔

     ۱۸۵۷ء کے بعد کی غزل نئے روپ میں نیا لباس پہن کر محفل کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی۔ اس شاعری میں رسمی خیالات کم ہوتے گئے۔ اس میں سچائی کے ساتھ دل کی باتیں لکھی جانے لگیں۔ اب اقبالؔ، شادؔ، حسرتؔ، صفیؔ، سیمابؔ، اصغرؔ، فانیؔ، عزیزؔ، ثاقبؔ، جگرؔ، اثرؔ، یگانہؔ اور فراقؔ  وغیرہ نے اس میں نئی روح پھونکی۔ ۱۹۳۶ء میں ملک کی حالت کچھ اور بدلی اور ترقی پسند مصنفین کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم ہوئی۔ اردو شاعری بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہی جیسے حفیظؔ جالندھری، فراقؔ گورکھپوری، جوشؔ، اخترؔ شیرانی، جمیلؔ مظہری، ساغرؔ نظامی، آنندؔ نرائن ملا وغیرہ ان سب پر وقت کے اثرات کی مہریں دیکھی جاسکتی ہیں۔

     ان شعرا کے بعد شعرا کی ایک نئی نسل پیدا ہوئی جو زندگی کی الجھنوں، سیاسی اور معاشی جھگڑوں، آزادی حاصل کرنے اور ساری دنیا کے لوگوں کو خوش حال بنانے کے خوابوں کا ذکر زیادہ کرتی تھی۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں فیضؔ، مجازؔ، آزادؔ، جذبیؔ، احمد ندیم قاسمی، سردار جعفریؔ، کیفیؔ اعظمی، مجروحؔ، مخدومؔ، جاں نثارؔ اختر، وجدؔ، شمیمؔ کرہانی، ساحرؔ، وحید اخترؔ، باقر مہدیؔ، راہیؔ، ابن انشائؔ، ن۔م۔راشد، میراں جی، خلیل الرحمن اعظمی قابل ذکر ہیں۔ یہ سارے شعرا اپنے کلام میں سماجی شعور کا پتہ دیتے تھے اور اپنی ساری قوت انسان کی بھلائی پر صرف کر دینا چاہتے تھے کہ فن کو نقصان نہ پہنچے۔

     یہاں اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ غزل سے بڑھتی ہوئی محبت کے باوجود غزل پر دو مرتبہ شدید تنقید کی گئی۔ ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ میں حالی نے غزل میں اصلاح کی ضرورت پر بات کی تھی۔ دوسری مرتبہ ترقی پسند تحریک نے غزل کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے غزل کی اصل روح کو سمجھنے میں لاپرواہی برتی تھی۔ غزل کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ اس کی ریزہ کاری، مربوط اور مسلسل خیالات کی ادائی سے قاصر ہے۔

     دوسرا اعتراض یہ ہے کہ غزل جاگیرداری تہذیب کی علامت ہے اور اس نے ایک خاص طبقے کی معاشرت سے توانائی اور حرارت حاصل کی اور موضوعات اخذ کیے ہیں۔ احتشام حسین نے ایک دوسرے ہی سیاق و سباق میں غزل پر تبصرہ کرتے ہوئے بڑے ہی پرُ لطف انداز میں لکھاتھا۔

           ’’غزل اپنے مزاج کے اعتبار سے اونچے مہذب طبقے کی چیز ہے، اس میں عام انسان نہیں آتے۔‘‘

      (اعتبارِ نظر، ص: ۱۰۶)

     غزل پر دونوں اعتراضات بے بنیاد تھے کیوں کہ اس صنف نے ہر دور میں عام انسان کے تجربات و احساسات کی ترجمانی کی تھی اور اپنی ریزہ کاری کے باوجود اعلیٰ ترین خیالات اور تصورات کو پیش کرنے کی اہلیت کا اظہار کیا تھا۔ غزل کا ایک بھرپور شعری زندگی کا نصاب ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علائم اور استعارے ہمہ گیری اور رنگا رنگی کے حامل ہیں۔ ترقی پسند شعرا میں مجروح سلطان پوری نے ’’وفاداری بشرط استواری‘‘ کے جذبے کے تحت غزل سے اپنا تعلق ہمیشہ قائم رکھا لیکن عام طور پر ترقی پسند شعرا نظم کی طرف مائل تھے۔ بھیمڑی کی آل انڈیا ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس میں ڈاکٹر عبدالعلیم نے یہ تجویز پیش کی تھی ’’غزل اب نئے رجحانات اور نئے موضوعات کا ساتھ نہیں دے سکتی اس لیے ہمارے شعرا غزل کہنے میں وقت برباد نہ کریں۔‘‘ یہ تجویز منظور بھی ہوگئی تھی لیکن مجروح نے اس سے اختلاف کیا۔ اس صورت حال کے بارے میں اپنے ایک شعر میں طنز کرتے ہیں:

ستم کہ تیغ قلم دیں اسی کو ائے مجروح

غزل کو قتل کرے نغمے کا شکار کرے

     غزل کی غیر معمولی  ترسیلی قوت، اس کے علائم کی جامعیت و لچک داری کا یہ کردار ہر عہد کے مزاج  اور منقلب ہوتے ہوئے رجحانات سے ہم  آہنگ رہا۔ یہی اس کے  وجود کا جواز ہے جس کی طرف جذباتیت  اور ہر قدم کو رَد کرنے کے رجحانات نے زیادہ توجہ کی اِجازت نہیں دی۔

     چناں چہ ہزار مخالفتوں کے باوجود غزل کا قافلہ رواں دواں رہا اور آج بھی غزل نے خود کو نئے حالات اور زمانے کے مد و جزر سے ہم کنار کرلیا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے بعد جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے دور میں بھی غزل کا وہی بانکپن ہے جو کہ تھا۔

     غزل کہنے کو غزل ہے لیکن ہر دور میں اور ہر زمانے میں غزل، غزل رہتے ہوئے بھی داخلی اور خارجی طور پر مختلف تجربات اور تبدیلیوں کا شکار رہی ہے یہ کچھ ایسی وسعت، لچک اور منفرد مزاج کی حامل ہے کہ ہر شاعر کی ذہنی سطح کے مطابق اس میں تبدیلی عمل میں آتی رہی ہے۔ غزل کبھی عورتوں کی باتیں یا عورتوں سے باتیں کرنے کے مفہوم کی حامل رہی ہو لیکن جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا نئے حالات و حوادث کا سامنا ہوا، معاشرتی اور تہذیبی ارتقا عمل میں آتا رہا، فکر وفن کے نئے چراغ روشن ہوتے رہے۔ غزل میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں مگر یہ تبدیلیاں خارجی کم اور داخلی زیادہ رہیں۔ یہاں تک کہ غزل اب عورتوں سے باتیں کرنے یا عورتوں کی باتیں کرنے کی بجائے خود بات کرنے کا ہنر قرار پایا۔ زمانے کے نشیب و فراز کے باوجود ایک مدت تک قافیہ اور ردیف کی پابندی، مطلع و مقطع کی قدغن، ایجاز و اختصار اور اشاریت و ایمائیت کی پابندی تو رہی لیکن اس میں بہ تدریج تبدیلیاں بھی آتی رہیں۔ یہ بات خاطر ملحوظ رہے کہ قلی اور ولی کی غزل بھی غزل ہے، ناصر کاظمی اور شاذ تمکنت کی غزل بھی غزل ہی کہی جائے گی۔ جب کہ ولی دکنی سے لے کر آج مغنی تبسم تک بھی غزل، مسلسل سفر میں ہے اور زمانے کے سرد و گرم اور اونچ نیچ کا شکار ہوتی رہی ہے۔ قلی اور ولی کی غزل میں بھی کہیں کہیں اس دور کی زندگی اور زمانے کی باتیں، حالات کی چیر دستی اور ظلم و استحصال کے خلاف فرد کا احتجاج ملتا ہے لیکن آج کی غزل، غزل ہوتے ہوئے بھی قطعی بدلی ہوئی اور جداگانہ غزل ہے، جس کا سلسلہ ہم کہہ لیں کہ حالی سے شروع ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ تبدیلی اتنی مدھم اور آہستہ آہستہ عمل میں آئی ہے کہ اس کو آسانی سے گرفت میں لایا نہیں جاسکتا۔ چوں کہ زمانہ بدل رہا ہے، ہم بدل رہے ہیں، زندگی بدل رہی ہے لہذاب ادب میں بھی رد وبدل ضروری ہے۔ اس لیے کہ ادب ہماری زندگی کا عکاس اور ترجمان ہے، تصویر، تفسیر اور تعبیر بھی۔

     غزل کی اہم ترین خصوصیت اس کی رنگا رنگی ہے۔ غزل عام طور پر متنوع اور مختلف الموضوع اشعار پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ جو غزل کو گلدستے سے تشبیہ دی گئی ہے اس کا باعث یہی ہے کہ گلدستہ ایک وحدت ہوتے ہوئے بھی کئی مختلف رنگوں، مختلف خوشبوؤں بلکہ مختلف موسموں کے پھولوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر پھول گلدستے کا جز ہوتے ہوئے بھی اپنی انفرادیت کا حامل ہوتا ہے۔ غزل بھی بہ اعتبار صنف ایک اکائی ہوتے ہوئے مختلف موضوعات اور مختلف مفاہیم و مطالب کے اشعار کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ہم جسے عام طور پر غزل کہتے ہیں اس کا ہر شعر ایک الگ دنیائے معنی کا حامل ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مطلع میں شاعر نے ہجر کی بات کہی ہو لیکن وہ دوسرے شعر میں وصل کی بات کہے گا، تیسرے میں گردش روزگار، چوتھے میں اخلاق و کردار اور پانچویں میں کچھ اور اسی طرح یہ سلسلہ مقطع تک چلتا رہتا ہے۔ غزل کے اس کردار کی وجہ سے الزام لگانے والوں نے غزل پر منتشر خیالی کا الزام لگایا اس کو وحشی صنف سخن قرار دیا اور قابل گردن زنی بھی۔ غزل پر یہ الزامات اپنی جگہ لیکن کیا کیا جائے کہ اسی انتشار اور ریزہ خیالی ہی میں غزل حسن اور اس کی خوبصورتی مضمر ہے۔ جس طرح گلدستہ مختلف پھولوں کا مجموعہ ہونے کے باوصف اپنا حسن رکھتا ہے، اس طرح غزل کا حسن بھی اس میں ہے کہ اس کا ہر شعر اپنے طور پر مختلف المعنی ہونے کے باوجود مجموعی طور پر غزل کا شعر ہے۔ قلی قطب شاہ سے لے کر عصر حاضر کے کسی بھی شاعر کے کلام کا جائزہ لے لیں ہم اسی کیفیت سے دوچار ہوں گے۔

     ہماری شاعری کی دیگر اصناف خصوصاً نظم بہت زیادہ تبدیلیوں اور تغیرات سے دوچار رہیں۔ کیسی کیسی تبدیلیاں نہیں آئیں آزادنظم، معریٰ نظم، نثری نظم، پھر وہ اصناف جو ہم نے بیرونی زبانوں سے اپنائیں یعنی  ہائیکو،  ترائیلے، سانیٹ وغیرہ۔ یہ صحیح ہے کہ غزل میں بھی آزاد  اور نثری غزلیں ملتی ہیں۔ لیکن تکلف برطرف ان کی حیثیت محض چلتے چلاتے تجربے یا آنی و فانی فیشن کی طرح ہے۔ نہ تو آزاد غزل کو ہمارے ہاں کسی مستقل اور معتبر صنف کی حیثیت حاصل ہوسکی ہے  اور نہ  نثری  غزلوں نے کوئی وقار و اعتبار  پایا۔ لیکن غزل کے ان  مختلف Shades  میں  ایک  Shade  ایسا بھی ہے جس کو بہت کم ہی سہی مگر ابتدا سے ہمارے کلاسیکی غزل گو شاعروں نے بھی اختیار کیا اور یہShade شاذ ہی سہی آج بھی ہمارے شعری سرمائے میں کہیں نہ کہیں مل جاتا ہے اور غزل کا یہ Shade غزلِ مسلسل شکل میںہے ۔

     غزل جیسا کہ یہ حقیقت واضح ہے مختلف المضامین اور مختلف المزاج اشعار کا مجموعہ ہوتی ہے۔ یہ خواہ پانچ اشعار پر مشتمل ہو یا اس سے زیادہ پندرہ یا اکیس اشعار پر، غزل میں ہر شعر اپنی جگہ وحدت کا حامل اور ایک اکائی ہوتا ہے۔ ہمارے شاعروں نے کچھ ایسے ہی انداز سے غزل سے اپنے رویے کو برقرار رکھا اور لگ بھگ ہر ایک نے اسی قرینے سے غزل گوئی کا کاروبار جاری رکھا۔ ہمارے ہاں مثنویاں، مرثیے اور قصیدے وغیرہ لکھے گئے جن میں ایک ہی موضوع پر تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال کیا گیا۔ دیگر موضوعات پر بھی تھوڑی بہت نظمیں ملتی ہیں لیکن بہ وجوہ نظم گوئی کا فیشن عام نہیں تھا۔ غزل گوئی ہی زیادہ تھی اور غزل گو بھی لیکن ایسے میں جب شاعروں نے ایک ہی موضوع پر اظہار خیال کرنا چاہا اور نظم نگاری سے اجتناب برتا تو ان کے لیے اور کوئی راہ نہیں تھی سوائے غزلِ مسلسل کے۔ چناں چہ کم کم ہی سہی غزلِ مسلسل کہی جانے لگی۔ اس کا مطلب یہ نا لیا جائے کہ ہمارے شاعر نظم گوئی کے عادی نہیں تھے کیوں کہ دیگر اصناف سخن میں طبع آزمائی جار ی تھی۔ لیکن شعرا اپنی غزل مزاجی کی وجہ سے اپنے خیالات کا اظہار غزلِ مسلسل میں کرنے کے لیے مجبور تھے۔

     غزلِ مسلسل بنیادی طور پر کوئی نئی چیز نہیں۔ اس کا داخلی اور خارجی ڈھانچہ عام غزل سے مماثلت رکھتا ہے۔ وہی مطلع، وہی بحر اور وہی زمین، مقطع، قافیے اور ردیف کی پابندی بھی وہی لیکن چوں کہ شاعر اپنے مافی الضمیر کو صرف دو مصرعوں میں ادا کرنے سے متشفی نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنے خیالات کو  اسی بحر  اسی زمین  اور  انہی قافیے  اور  ردیف کے ذریعے ظاہر کرتا جاتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاعر نے نظم کا پیرایہ کیوں اختیار نہیں کیا  اور غزلِ مسلسل کو جو ایک طرح نظم ہی ہے  غزل کہنے پر کیوں مصرہے۔ اس کا جواب نہایت سادہ اور آسان ہے۔ غزل ہمارے انفرادی مزاج اور معاشرے میں ایسی رچ بس گئی ہے اور شاعروں کی یہ اتنی عزیز ترین صنف ہے کہ وہ اس سے اپنے رشتے کو منقطع کرنا نہیں چاہتے۔ غزلِ مسلسل کو آپ ایک طرح نظم کہہ لیں لیکن یہ غزل ہی ہے۔

     ہمارے ہاں مختلف اصحابِ تنقید نے غزلِ مسلسل کی ہیئت اور نوعیت پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ جن کا ماحصل یہ ہے کہ غزلیں بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں مسلسل اور غیر مسلسل۔ ان اصحاب کا کہنا یہ ہے کہ مسلسل غزل وہ ہے جس کے سب اشعار سلسلہ بہ سلسلہ ایک دوسرے سے مربوط و منسلک ہوں۔ اس خصوص میں کہا جاسکتا ہے کہ ان اشعار کو قطعہ بند کیوں نہ کہا جائے۔ کیوں کہ جب شاعر اپنے مافی الضمیر کو اختصار کے ساتھ دو مصرعوں میں پیش نہیں کرتا بلکہ اسے پھیلا کر دو یا دو سے زیادہ اشعار میں پیش کرتا ہے تو ان مسلسل اشعار کو قطعہ کہا جاتا ہے اور مجموعی طور پر یہ اشعار قطعہ بند کہے جاتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے یہ قطعہ بند اشعار عام غزلوں کی طرح جداگانہ مفہوم کے حامل نہ ہوں گے بلکہ ہر شعر ایک دوسرے سے یوں ملا ہوا ہوگا جیسے کسی زنجیر کی کڑیاں۔

     ہمارے ناقدین نے غزلِ غیر مسلسل کی تعریف یوں کی ہے کہ اس کا ہر شعر جداگانہ مضمون کا حامل اور ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہو۔ گویا ایسی غزل کے اشعار پنے مفہوم و مطلب کی ادائی کے لیے ایک دوسرے کے محتاج نہ ہوں، ہمارے ہاں غزلِ غیر مسلسل کی اس تعریف کو مجموعی طور پر قبول تو کرلیا گیا ہے لیکن غزلِ غیر مسلسل کے سلسلے میں دوسرے مکتب خیال کے زاویۂ نگاہ سے غزل کو چار قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے:

     اوّل تو وہ غزلِ مسلسل ہے جس میں تسلسل کی بنیاد محض تکرارِ مضمون پر ہو۔ یعنی اس میںا ِرتباط یا تسلسل صرف اُس زاویے سے ہو کہ اُس غزل کے تمام اشعار کا موضوع ایک ہی ہو یا مختلف اشعار میں ایک مفہوم کو مختلف پیرایوں میں ظاہر کیا جائے۔

     دوسری قسم وہ غزلِ مسلسل ہے جس میں نہ صرف خیال کا تسلسل ہو بلکہ ارتقا خیال بھی پایا جائے۔ گویا خیال کا سلسلہ آنے والے ہر شعر میں آگے بڑھتا رہے اور آخری شعر تک یہ وسعت پاتا اور پھیلتا جائے کہ ساری غزل ایک موضوع کے اشعار کی حامل ہو۔ ایسی غزلیں بیانیہ انداز کی حامل ہوتی ہیں۔

     اس مکتب خیال نے غزل کی تیسری قسم ایسی غزلِ مسلسل کو قرار دیا ہے جس میں عام غزلوں کی طرح ہر شعر علاحدہ مضمون کا حامل ہو۔ غزل کی یہ وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے غزل بدنام بھی ہوئی اور کہنے والوں نے ایسی غزل کو پراگندی فکر، ذہنی انتشار اور ریزہ خیالی کی شاعری قراردیا۔

     غزل کی چوتھی قسم اس طرزِ فکر کے نزدیک وہ غزلِ غیر مسلسل ہے جس میں ظاہری و خارجی ربط و تسلسل کے فقدان کے  باوجود ایک جذباتی یک رنگی اور ایک کیفیاتی وحدت پائی جائے۔ ایسی  غزلیں  اپنی مخصوص  تخیلی فضاء  کے باعث  بے ربطی فکر کے  احساس کو قطعی ختم کردیتی ہیں۔ اَختر انصاری نے اس خصوص میں خاصی وضاحت کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

     ’’قدما کے اصول کی رو سے غزل دو قسم کی ہوسکتی ہے، مسلس اور غیر مسلسل، مسلسل غزل وہ ہے جس کے سب اشعار سلسلہ بہ سلسلہ ایک دوسرے سے مربوط ہوں، نہ یہ کہ ہر شعر مختلف اور جداگانہ مفہوم کا حامل ہو۔ غزلِ غیر مسلسل اس کو کہیں گے جس کا ہر شعر ایک جداگانہ مضمون کا حامل اور بجائے خود ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہو۔ دوسرے الفاظ میں اس کے مختلف اشعار مفہوم و مطلب کی تکمیل کے لیے ایک دوسرے کے محتاج نہ ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزل کی اس تقسیم کو ہمیشہ بلا چوں و چرا تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن اگر غائر نظر سے دیکھا جائے تو غزل کو دو نہیں چار قسموں پر مشتمل خیال کیا جاسکتا ہے اور اس طرح:

(الف)       وہ غزلِ مسلسل جس میں تسلسل کی بنیاد محض تکرار مضمون ہو یعنی اس میں ربط و تسلسل صر ف اس معنی میں پایا جائے کہ تمام اشعار ایک ہی مفہوم سے متعلق ہوں، یا یہ کہ مختلف اشعار میں ایک ہی مفہوم کو مختلف پیرایوں میں پیش کیا جائے۔

(ب)                     وہ غزلِ مسلسل جس میں نہ صرف تسلسلِ خیال بلکہ ارتقائے خیال بھی پایا جائے۔ یعنی اس میں سلسلۂ خیالِ شعر کے ساتھ آگے بڑھے اور آخری شعر تک اسی طرح پھیلتا اور وسعت اختیار کرتا چلا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس نوع کی غزل روائی یا بیانیہ انداز کا مجموعۂ اشعار ہوگی۔

(ج)                      وہ غزلِ غیر مسلسل یعنی عام نہج و اسلوب والی غزل جس کے ہر شعر میں ایک جداگانہ مضمون ہوتا ہے اور اسی خصوصیت کی بنا پر معترضین غزل، غزل کی شاعری کو پراگندگی فکر، ذہنی انتشار اور ریزہ خیالی کی شاعری قرار دیتے ہیں۔

(د)                        وہ غزلِ غیر مسلسل جس میں ظاہری و خارجی ربط و تسلسل کے فقدان کے باوجود ایک جذباتی یک رنگی ایک کیفیاتی وحدت ضرور پائی جاتی ہے جو غزل کے تمام اشعار کو ایک مخصوص موڈ اور ایک مخصوص تخیلی فضا کے زیر اثر لا کر بے ربطی فکر کے احساس کو بالکل ختم کر دیتی ہے۔‘‘

 (غزل اور غزل کی تعلیم۔ مصنف اختر انصاری، ص: ۶۶۔۶۷،

ناشر ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، دوسرا ایڈیشن، ۱۹۸۹ء)

غزلِ مسلسل کے بارے میں کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ غزلِ غیر مسلسل سے اتنی زیادہ مختلف اور بدلی ہوئی ہے کہ اس کو قطعی ایک علاحدہ صنف سخن قرار دینا چاہیے۔ یہ ادعا محل منظر ہے کیوں کہ یہ بنیادی طور پر غزل ہی ہوتی ہے اپنی ہیئت کے اعتبار سے اور فنی زاویے سے بھی اور تو اور ابتدا سے آج تک جن شاعروں نے غزلِ مسلسل کہی ہے انھوں نے بھی ایسی غزل کو غزلِ مسلسل کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا ہے۔ غزل کی ابتدائی تاریخ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ غزل بنیادی طور پر عربی قصیدے کا ایک جزو تھی جس کو عشقیہ تشبیب یا تمہید کا درجہ حاصل رہا۔ تشبیب یا تمہید ہوتے ہوئے بھی یہ قصیدے کا جزو رہی جس میں ایک ہی خیال کو خواہ اس میں محبوب کا سراپا ہو، کوئی خوبصورت منظر کا بیان ہو یا کوئی عشقیہ واردات کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسے محسن ؔکاکوروی کے قصیدۂ لامیہ سے تشبیب کی مثال پیش کی جاتی ہے:

’’سمتِ کاشی سے چلا جانب ِ متھرا بادل

برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل

گھر میں اشنان کریں سروقدانِ گوکل

جا کے جمنا پہ نہانا بھی ہے اک طول امل

خبر اڑتی ہوئی آئی ہے مہابن میں ابھی

کہ چلے آتے ہیں تیرتھ کو ہوا میں بادل

کالے کوسوں سے نظر آتی ہیں گھٹائیں کالی

ہند کیا ساری خدائی میں بتوں کا ہے عمل

جانب قبلہ ہوئی ہے یورش ابر سیاہ

کہیں پھر کعبہ میں قبضہ نہ کریں لات و ہبل

دھر کا ترسا بچہ ہے برق لیے جل میں آگ

ابر چوٹی کا برہمن ہے لیے آگ میں جل

ابر پنجاب تلاطم میں ہے اعلیٰ ناظم

برق بنگالہ ء ظلمت میں گورنر جنرل

نہ کھلا آٹھ پہر میں کبھی دو چار گھڑی

پندرہ روز ہوئے پانی کو منگل منگل

دیکھیے ہوتے ہیں سری کرشن کے کیوں کر درشن

سینۂ تنگ میں دل گوپیوں کا ہے ہیکل

راکھیاں لے کے سلونوں کی برہمن نکلیں

تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی پل

اب کی میلا تھا ہنڈولے کا بھی گرداب بلا

نہ بچا کوئی محافہ نہ کوئی رتھ نہ بہل

ڈوبنے جاتے ہیں گنگا میں بنارس والے

نوجوانوں کا سنیچر ہے یہ بڑھوا منگل

تہ و بالا کیے دیتے ہیں ہوا کے جھونکے

بیڑے بھادوں کے نکلتے ہیں بھیرے گنگا جل

کبھی ڈوبی کبھی اچھلی مہ نو کی کشتی

بحر اخضر میں تلاطم سے پڑی ہے ہلچل

قمریاں کہتی ہیں طوبیٰ سے مزاجِ عالی

لالۂ باغ سے ہندوے فلک کھیم کسل

شب و یجور اندھیرے میں ہے بادل کے نہاں

لیلیٰ محمل میں ہے ڈالے ہوئے منھ پر آنچل

شاہد کفر ہے مکھڑے سے اٹھائے گھونگھٹ

چشم کافر میں لگائے ہوئے کافر کاجل‘‘

 (گلدستۂ حضرت محسن کاکوروی۔ مرتبہ شیخ اللہ بخش گنائی لاہوری، ص: ۳۵۔۳۶،        اشاعت ۱۳۴۲ھ، ناشر شیخ جان محمد اللہ بخش تاجران کتب لاہور، بار اول)

یہ اعزاز اُن فارسی شعرا کو ہی جاتا ہے جنھوں نے قصیدے کی تشبیب و تمہید کو قصیدے سے الگ کر کے ایک مستقل صنف کی حیثیت دی۔ لہذا یہ کہنا چاہیے کہ غزلِ مسلسل ہی کا نام ہے۔ جس میں بعد ازاں نہ جانے کن اسباب کے تحت منتشر الخیالی راہ پاگئی کہ پوری غزل ایک وحدت قرار دیے جانے کی بجائے ہر شعر کی دنیا الگ ہوگئی اور ہر شعر ایک اکائی قرار پایا۔ اگر ہم اردو غزل کے ابتدائی نمونوں کا جائزہ لیں تو یہ بات آسانی سے ظاہر ہوگی کہ ابتدا میں غزلیں دراصل تشبیب کی حیثیت ہی رکھتی تھی جن کو آج کی اصطلاح میں غزلِ مسلسل کہہ لیجیے۔ محمد قلی قطب شاہ کی غزلیں ایسی ہی ہیں جن کو خواہ کوئی عنوان دے دیا گیا ہو لیکن یہ ہیں تو تشبیب ہی جس میں محبوب کا سراپا کھینچا گیا ہے۔ آپ انھیں غزلِ مسلسل کہنے میں تکلف نہیں کریں گے۔ غزلِ مسلسل میں جب تسلسل پیدا ہوتا ہے وہ اگر دیکھا جائے تو دو زاویوں سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اول تو یہ کہ جذبے یا کیفیت کی وحدت ہو کہ شاعر نے اس جذبہ و کیفیت کے باعث اپنی غزل میں ایک مخصوص تسلسلِ خیال پیدا کیا۔ دوسری صورت وہ ہے کہ شاعر اپنے مافی الضمیر کو غزل کی ہیئت میں پیش کرتا ہے یہ بہ ظاہر غزل تو ہوتی ہے جس میں ردیف، قافیے وغیرہ کی پابندی بھی کی جاتی ہے لیکن ان اشعار کو کوئی ایک عنوان دے دیا جائے تو نظم بن جاتی ہے۔ عام غزل میں اشعار کی کچھ ایسی خاص ترتیب ضروری نہیں سوائے اس کے کہ مطلع اور مقطع اپنی جگہ پر ہوں۔ اس سے قطع نظر آٹھواں یا نواں شعر چوتھا ہو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ غزلِ غیر مسلسل کا ڈھانچہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے، جب کہ غزلِ مسلسل کی بنیاد نظم کی طرح بڑی حد تک اشعار کی مخصوص ترتیب پر ہوتی ہے۔ جس طرح نظم میں ہم اشعار یا مصرعوں کی ترتیب بدل نہیں سکتے اسی طرح غزلِ مسلسل میں بھی اشعار کی ترتیب بدل دینا ممکن نہیں (اگر ایسا ہو تو یہ غزل کا خون کرنا ہوگا) لیکن غزلِ غیر مسلسل میں شاعر کو پوری آزادی ہے۔ وہ جس طرح چاہے غزل کے اشعار پیش کرے، مطلع کے بعد آٹھواں شعر اس کے بعد چوتھا یا جیسے جیسے اشعا اسے یاد آتے جائیں وہ پیش کرتا جائے، اس میں ترتیب ضروری نہیں۔ بنیادی طور پر غزلِ مسلسل اور غزلِ غیر مسلسل کا یہی اصل امتیاز ہے۔

     غزلِ مسلسل کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ جب یہ ایک طرح سے نظم سے مماثلت رکھتی ہے تو پھر بہ طورعلاحدہ اکائی کے اس کی کیا ضرورت ہے اس لیے کہ نظم اور غزلِ مسلسل میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ موضوع ایک ہوتا ہے اشعار کی ترتیب بدلی نہیں جاسکتی، تسلسلِ خیال بھی ایک طرح سے ضروری ہے بلکہ نقطۂ عروج بھی۔ ان میں فرق اگر ہوتا ہے تو یہ کہ نظم کو کوئی عنوان دیا جاتا ہے اور غزلِ مسلسل کسی عنوان کے بغیر ہوتی ہے اور اگر اس کو بھی کوئی عنوان دے دیا جائے تو یہ بھی نظم کہلائے گی۔ غزلِ مسلسل کو انفرادی اور جداگانہ اکائی قرار دینے والے کہیں گے کہ غزلِ مسلسل اور نظم میں خواہ کتنی ہی مماثلتیں پائی جائیں غزلِ مسلسل اس لیے ایک جداگانہ اور امتیازی صنف ہے کہ اس میں غزل کے جو آداب اور فنی نکات ہیں ان کی پابندی کی جاتی ہے۔ مطلع اور مقطع بلکہ حسن مطلع بھی اپنی جگہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اشعار کی تعداد اور اسلوب اور ڈکشن بھی بتا دیتا ہے کہ میں نظم نہیں غزلِ مسلسل ہوں۔ یہ دراصل غزل گو شاعروں کے موڈ کا اپنے انداز اور زاویے سے اظہار ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شاعر نظم نہیں کہتا اور غیر ارادی طورپر اس نے غزلِ مسلسل کہہ دی ہے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ غزلِ مسلسل کا شاعر یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غزل کہہ رہا ہے اور ایک ہی موضوع پر اشعار وارد ہو رہے ہیں وہ غزلِ مسلسل کہتا جاتا ہے ۔ اس میں یہ صحیح ہے کہ نظم کی کیفیت اور تسلسل جیسی چیز ہوتی ہے۔ اگر ذرا غور کریں تو علانیہ نظم اور غزلِ مسلسل ایک جیسے ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مختلف نظر آئیں گے۔ اس طرح غزلِ مسلسل غزل ہوتے ہوئے بھی ایک جداگانہ صنف کہی جانے کے لائق ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں آزاد غزل اور نثری غزل بلکہ ماہیہ غزل بھی لکھی جانے لگی ہے، غزلِ مسلسل بھی اسی طرح اپنی ایک علاحدہ شناخت رکھتی ہے۔ یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ اردو میں پچھلی پانچ چھ دہائیوں سے آزاد غزل لکھی جانے لگی ہے، دوچار دہائیوں سے نثری غزل اور اب ماہیہ غزلیں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن آج تک نہ تو آزاد غزل ہی اپنا کوئی تشخص پیدا کرسکی ہے اور نہ نثری اور نہ ماہیہ غزل کو کوئی مرتبت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے برعکس غزلِ مسلسل آج سے نہیں اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کے دور سے کہی جاتی ہے اور ہمارے اس دور تک کم و بیش ہر شاعر نے غزلِ مسلسل کہی ہے۔ جو اس امر کا ثبوت ہے کہ غزلِ مسلسل ایک علاحدہ اور نظم سے قطعی جدا باوقار صنف ہے۔ اس خصوص میں غزل کے بارے میں جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں انتشار خیالی پائی جاتی ہے ان کے لیے بھی جواب ہے کہ غزلِ مسلسل ہوتے ہوئے بھی پراگندگی اور انتشار خیالی سے نہایت دور اور اپنے تمام اشعار میں ایک معنوی ربط کی حامل ہوتی ہے اور تو اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض نظمیں بھی اگر ان کے عنوان کو ہٹا دیا جائے تو وہ غزلِ مسلسل کی تعریف پر پوری اترتی ہیں بلکہ غزلِ مسلسل کہی جاسکتی ہیں۔

     ہیئت اور تکنیک کے اعتبار سے ظاہری طور پر غزلِ مسلسل کوئی نئی چیز نہیں۔ اس کا ڈھانچہ اور رنگ و روغن وہی ہے جو غزل کا ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ اگر ہم ان زاویوں سے مطالعہ کریں تو غزلِ مسلسل کوئی اجنبی اور تعجب کی چیز دکھائی نہیں دے گی بلکہ یہ بھی غزل کے قبیلے کی بلکہ غزل کی سگی بہن محسوس ہوگی۔ مطلع، حسن مطلع، ردیف و قافیہ اور مقطع ہی نہیں غزل کی جو زبان ہوتی ہے جس میں ہم تشبیہات و استعارات، محاورات و تلمیحات اور اشارات و کنایات سے کام لیتے ہیں۔ غزلِ غیر مسلسل کی طرح غزلِ مسلسل میں بھی ان ہی سے آب آتی ہے۔ نظموں میں کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اور سب کچھ ہو مگر شعریت نہیں ہوتی۔ تغزل تو تلاش کرنے سے بھی بیش تر نظموں میں نہیں ملتا۔ اس لیے ہم غزلِ مسلسل کو نظم سے جدا کرتے ہیں۔ غزلِ مسلسل کو اس لیے بھی نظم سے جدا کرتے ہیں کہ اس میں غزلِ غیر مسلسل کی طرح شعریت بھی ہوتی ہے، سرشاری بھی اور تغزل بھی جو غزل کی جان کہے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک موضوعاتی سطح کا تعلق ہے غزلِ مسلسل میں ایک موضوع ضرور ہوتا ہے لیکن شاعر کا رویہ نظم گو شاعر کے مقابلے میں بدلا ہوا کیوں کہ اس کو بہر کیف غزل کے فنی رموز و آداب کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ ہم لاکھ کہہ لیں کہ غزلِ مسلسل نظم ہوتی ہے لیکن غزلِ مسلسل کہنے والا شاعر نظم کے آداب و اطوار سے دور غزل کی دنیا ہی میں سانس لیتا اور غزل گوشاعر کے شیوہ و شعار سے اپنے آپ کو دور نہیں پاتا۔ وہ غزلِ مسلسل کہتے ہوئے بھی غزل کی دنیا میں زیست کرتا اور انہی راہوں پر آگے بڑھتا ہے جن پر غزلِ غیر مسلسل کے بھی نقش قدم ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ غزلِ مسلسل میں داخلی ارتباط بھی ہوتا ہے۔ معنوی تسلسل بھی اور مفہوم کا ارتقا بھی، جن سے غزلِ غیر مسلسل عاری ہوتی ہے اور قطعی بات تو یہ کہ غزلِ مسلسل نظم جیسی ہونے کے باوجود غزل کی تقریباً تمام خوبیوں سے متصف ہوتی ہے جس میں تغزل کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ غزلِ مسلسل پر اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ اس میں غزل کی خوبیاں اتنی نہیں پائی جاتیں اور جس طرح ہم غزل کے اشعار سے بے تکلفی برتتے ہیں اور غزل کے اشعار یاد رہتے اور زندگی کے ہر موڑ اور موقع پر یاد آتے اور برمحل چسپاں ہوتے ہیں، غزلِ مسلسل کے اشعار میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی۔ یہ بات قابل غور ضرور ہے لیکن قابل قبول اس لیے نہیں کہ محمد قلی قطب شاہ سے لے کر آج تک جتنی بھی غزلِ مسلسل لکھی گئی ہیں ان کے بیش تر اشعار ایسے ہیں جو ہماری نوک زباں پر ہیں اور مختلف موقعوں پر ان کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ یہاں غزلِ مسلسل کے تعلق سے ایک بات یہ ضرور ہے کہ ٹھیٹ غزل گو شاعروں کی بجائے ہمارے نظم گو شاعر داخلی اور خارجی طور پر ایک لَے اور ایک انداز میں نظم کہنے کا عادی ہوتا ہے اور اگر وہ اپنی بات کو غزل کے پیرائے میں کہنا چاہے تو ظاہر ہے غزلِ غیر مسلسل میں اپنی بات کہاں کہہ پائے گا۔ اس کو تو اپنے مزاج کی وجہ سے غیر ارادی طور ہی پر غزلِ مسلسل کے سانچے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں بہ طور مثال کئی شاعروں کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ محمد قلی قطب شاہ نظم مزاج شاعر ہے چناں چہ اس نے غزلیں بھی کہیں تو بیش تر غزلیں نظم کی صورت یعنی غزلِ مسلسل ہوگئی ہیں۔ کلیاتِ محمد قلی قطب شاہ کے مطالعے سے اس کا اندازہ ہوگا۔  اسی طرح عصر حاضر کے اہم ترین شاعر علامہ اقبالؔ بھی بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔ ان کے کلام خصوصاً بالِ جبرئیل کی غزلوں کا جائزہ لیں تو کئی غزلیں غزلِ مسلسل کی تعریف میں آئیں گی۔ مثلاً یہ غزلیں جن کے مطلعے ہیں:

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا!

کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا!

فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ

فقر ہے میروں کا میر فقر ہے شاہوں کا شاہ

     یہی حال کئی نظم گو شاعروں کے ہاں بھی پایا جاتا ہے جنھوں نے غزلیں تو لکھی ہیں لیکن ہیئت اور تکنیک کے اعتبار سے وہ غزلِ مسلسل کہلانے کی مستحق ہوگئی ہیں۔

     ہمارے شاعر خواہ وہ غزل گو ہوں کہ نہیں، بنیادی طور پر غزل مزاج ضرور ہیں اور غزل کی ہیئت اور تکنیک پر وہ کچھ اتنی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کے کسی فنی پہلو سے بھی ان کے ہاں گریز نہیں پایا جاتا۔ غزل گو شاعر تو غزل کی تکنیک سے انحراف کرنا چاہیں بھی توشاید انحراف نہ کرسکیں۔ اس لیے کہ ان کی شخصیت جس فضا اور ماحول میں پروان چڑھی ہے اس میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ غزل کی اساس کو نظر انداز کیا جائے۔ ایسے غزل گو شاعر غزلِ غیر مسلسل سے انحراف کر بھی لیں اور کسی ایک موضوع پر اپنے خیالات ظاہر کرنا چاہیں تو ان کی دوڑ غزلِ مسلسل سے آگے ممکن نہیں۔ وہ شاید ایسا کر بھی نہ سکیں۔ اس لیے کہ غزل کی روایات، اس کا مزاج اور اس کا کردار ان شاعروں کے ذہن و دل میں ایسے رچے بسے ہیں کہ وہ غزل کی لکشمن ریکھا کو پار بھی نہیں کرسکتے۔ نظم کی بات اور ہے۔ غزل میں تو آپ غزلِ غیر مسلسل اور غزلِ مسلسل کی ہیئتیں ہی اپنے سامنے رکھتے ہیں۔ (یہ اور بات ہے کہ اب تو آزاد غزل اور نثری غزل بھی لکھی جارہی ہے) برخلاف اس کے نظم گو شاعر کے سامنے کئی راہیں وا اور کئی وسعتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ نظم، نظم آزاد، نظم معرا، طویل نظم، مختصر نظم، مثنوی اور ایسی ہی دیگر ہیئتوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرسکتا ہے۔ ایک اور بات یہ کہ نظم میں خیالات کا تسلسل اور ارتکاز خیال بنیادی طورپر ضروری ہے۔ شاعر کتنا بھی انحراف کرے نظم کہتے ہوئے وہ ان فنی پابندیوں سے احتراز نہیں کرسکتا۔ جب کہ غزل گو شاعر ان تحدیدات کا پابند نہیں ہوتا۔

     غزلِ مسلسل کی ہیئت ایک اور زاویے سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اس میں شاعر فنی طورپر غزل کہتے ہوئے غزل ہی کہنے پر مجبور ہے۔ انحراف اور گریز کے باوصف وہ غزل کے چوکٹھے سے فرار نہیں ہوسکتا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے کلاسیکل شاعروں ہی نے نہیں ایک عرصے تک ہمارے تقریباً تمام شاعروں نے غزل ہی میں طبع آزمائی کی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ کلاسیکل شاعری کا بڑا  اور قابلِ فخر سرمایہ غزل پر مشتمل ہے، نظم پر نہیں۔ ولیؔ، سراجؔ،  میرؔ،  مصحفیؔ، غالبؔ، ناسخؔ، مومنؔ،  ظفرؔ،  ذوقؔ، اِنشائؔ،  شیفتہؔ، میر مہدی مجروحؔ، شاہ نصیرؔ یہ سارے شاعر غزل گو شاعر ہیں اورا پنی غزلیات کی وجہ ہی سے اردو شاعری میں ان کا نام جگمگاتا ہے۔ انھوں نے اور اصناف میں بھی تھوڑی بہت طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کا وقار اور اعتبار ان کی غزل ہی کے باعث ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ غزل کی ہیئت ان کے اَعصاب پر سوار رہی ہے۔

                 غزل کی ہیئت پر اعتراض کرنے والو ںنے طرح طرح کی باتیں کی ہیں۔ اس کو وحشی صنف سخن بھی قرار دیا گیا۔ گردن زدنی بھی سمجھا گیا اور ریزہ خیالی اور پریشان خیالی کا مظہر بھی۔ جوش ملیح آبادی نے بھی صنف غزل کی مخالفت کی ہے۔ اس کے بارے میں ڈاکٹر عبادت بریلوی کہتے ہیں:

     ’’جوش صاحب نے صنف غزل کی جو مخالفت کی ہے وہ ہماری زندگی کے ایک عام باغیانہ رجحان کا نتیجہ بھی ہے، جس کے زیر اثر ماضی کی ہر چیز کو لایعنی سمجھ لیا گیا ہے۔ جوش صاحب کے نزدیک بھی غزل ایک ایسی ہی صنف سخن ہے۔ جوش صاحب کی مخالفت میں یہ جذبہ شامل ضرور ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی ان کی اس مخالفت کا محرک ہوا ہے کہ غزل کی صنف شاعری کو تقلید اور نقالی کی سرحدوں میں داخل کر دیتی ہے۔ اس میں شاعر قافیہ پیمائی کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں شاعری کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہوتا۔ اسی لیے ان کے خیال میں ایسی صنف کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘

]غزل اور مطالعہ غزل۔ مصنف ڈاکٹر عبادت بریلوی، ص: ۱۴،  ناشر انجمن ترقی اردو، پاکستان، سنہ اشاعت ستمبر ۱۹۵۵ء  [

     جوش نے بنیادی طور پر غزل میں قافیہ پیمائی کو نشانہ بنایا ہے یہ کہ غلط ہے کہ قافیہ پیمائی کے نتیجے میں شاعری کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ اعتراض تو نظم کی ہیئت پر بھی کیا جاسکتا ہے اور تو اور خود جوش کے یہاں بھی کئی نظمیں الفاظ کی دھما چوکڑی کے سوائے اور کچھ بھی نہیں۔ ایک طرف قافیہ پیمائی بھی غزلوں کی طرح نظموں کے کردار کو بھی مجروح کر دیتی ہے تو دوسری طرف ہمارے شاعروں کی سیکڑوں غزلیں ایسی ہیں جن میں قافیہ پیمائی حسن بن کر نکھرتی ہے۔ غزلِ غیر مسلسل ہو کہ غزلِ مسلسل ان دونوں پر قافیہ پیمائی وغیرہ کے تعلق سے جوش کے یہ اعتراضات رد ہو جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جوش نے غزل کی ہیئت کو کم اور موضوعات کو زیادہ نشانہ بنایا ہے۔ اپنی ایک نظم میں وہ کہتے ہیں:

رنگ و بو و نمک نور و ضیا کچھ بھی نہیں
چند نرم و گرم غزلوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ان غزل گویوں کا ہے معشوق ایسا نازنیں
نام جس کا دفتر مردم شماری میں نہیں

یہ فقط رسمی مقلد وامق و فرہاد کے
مر رہے ہیں آج تک معشوق پر اجداد کے

ان کی سیرت ہے انوکھی ان کی غیرت ہے عجیب
گڑ نہیں جاتے حیا سے یہ اب وجد کے رقیب

آج تک غالب ہے ان پر وہ رقیب روسیاہ
کرچکا ہے زندگی جو میر، مومن کی تباہ

پائی ہے ترکے میں ان لوگوں نے ہر لَے ہر صدا
ان کے لب پر بھی وہی ہے جو ولی کے لب پر تھا

ان کی حالت وہ ہے جیسے کوئی بزدل خواب سے
’’چور آیا‘‘، ’’چور آیا‘‘ کہہ رہا ہو چونک کے

ان کے دل میں شعر کی روشن ہو کس صورت سے آگ
قافیے کے ہاتھ میں رہتی ہے جن لوگوں کی باگ

 (غزل اور مطالعہ غزل۔ مصنف ڈاکٹر عبادت بریلوی، ص: ۱۵، ناشر انجمن ترقی اردو، پاکستان، سنہ اشاعت ستمبر ۱۹۵۵ئ)

     ظاہر ہے موضوعات کے تعلق سے غزل پر اعتراضات ایک حد تک درست سہی لیکن ایسے اعتراضات توبے شمار مثنویوں، قصائد، قطعات اور کئی نظموں پر عائد کیے جاسکتے ہیں۔

     غزل پر اعتراض کرنے والوں میں کلیم الدین احمد کا نام بھی نمایاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزل انتشار خیال کی مظہر ہوتی ہے اور ہر شعر الگ الگ موضوع پر ہونے کی وجہ سے غزل پڑھنے سے کوئی مجموعی تاثر پیدا نہیں ہوتا۔ کلیم الدین احمد نے لکھا ہے:

          ’’غزل میں صوری حسن کالعدم ہے اور صورت کا احساس ایک دھوکا ہے ۔۔۔ وہ حسن صورت جو نظم، افسانہ، ڈراما وغیرہ کی لازمی صنفی خصوصیت ہے، غزل میں موجود نہیں۔ غزل کے ہر شعر میں کسی مخصوص جذبے یا خیال کا اظہار مدنظر ہوتا ہے۔ سارے احساسات و تصورات مرتب و مرکب ہو کر ایک نقش کامل کی شکل میں جلوہ گر نہیں ہوتے۔ فنی نقص کی وجہ سے ہر احساس یا خیال اور اس کا وجود، اس کا اظہار کافی سمجھا جاتا ہے۔ یہی اس کے نیم وحشی ہونے کی دلیل ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی کا احتمال ہے جسے رفع کر دینا مناسب ہے۔ یہ بات تو ثابت ہوچکی کہ غزل ایک نیم وحشی صنف سخن ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر غزل گو شاعر بھی نیم وحشی ہے۔ ممکن ہے کہ غزل گو شاعر نے اپنے جذبات کی ترتیب و تہذیب کی ہو اور وہ جذباتی و دماغی توازن کا حامل ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مہذب ہو لیکن جب وہ صنف غزل میں اس کے مخصوص اوصاف کو قائم رکھتے ہوئے طبع آزما ہوگا تو نتیجہ ایک نیم وحشی کارنامہ ہوگا۔ غزل اس الزام سے اسی وقت بری ہوگی جب یہ غزل باقی نہ رہے اور نظم کی صورت اختیار کرلے۔‘‘

]غزل اور مطالعہ غزل۔ مصنف ڈاکٹر عبادت بریلوی، ص: ۱۵،

ناشر انجمن ترقی اردو، پاکستان، سنہ اشاعت ستمبر ۱۹۵۵ئ[

     غزل کے ہر شعر میں جداگانہ موضوع اور انتشار خیال کی بات کے سلسلے میں یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ یہ اعتراضات تو غزلِ غیر مسلسل پر درست ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غزلِ مسلسل ان اعتراضات کی زدد میں نہیں آتی۔ غزلِ مسلسل اور غزلِ غیر مسلسل کی ہیئت ایک دوسرے سے کتنی ہی مماثل اور یکساں ہو۔ بہرکیف غزلِ مسلسل میں موضوع کی یکسانیت اور خیال کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ جب یہ بات طے ہے کہ غزلِ مسلسل میں انتشار خیالی اور پریشان فکری نہیں ہے۔ یقینا اس کو نہ تو وحشی صنف قرار دینا چاہیے اور نہ یہ قابلِ گردن زدنی ہوسکتی ہے۔ کلیم الدین احمد نے غالباً اس زاویے سے غزلِ مسلسل کا مطالعہ نہیں کیا۔ انھوں نے عمومی طور پر غزل کا جائزہ تو لیا اور اس کے بارے میں برا بھلا بہت کچھ کہا۔ لیکن لگتا ہے ان کے پیش نظر صرف غزلِ غیرمسلسل رہی اور غزلِ مسلسل کو انھوں نے غالباً اِرادتاً یا غیر اِرادتاً نظر انداز کر دیا۔ غزلِ مسلسل، غزل ہوتے ہوئے بھی ہیئت اور تکنیک کے اعتبار سے غزلِ غیر مسلسل سے یکسر مختلف ہے۔ جیسا کہ واضح ہوچکا ہے مطلع، مقطع، ردیف اور قافیے وغیرہ کی مماثلت کے باوجود غزلِ مسلسل کا پیمانہ غزلِ غیر مسلسل کے پیمانے سے بہ غایت جدا ہے۔ غزلِ مسلسل کا مطالعہ کرنے والوں کو ان نکات سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ ہیئت اور تکنیک کا جہاں تک تعلق ہے غزلِ مسلسل اپنا اَعتبار رکھتی ہی ہے۔ لیکن اپنے موضوع کے زاویے سے یہ غزل ہوتے ہوئے بھی غزل نہیں کہی جاسکتی۔ اِسی طرح موضوع کی یکسانیت اور خیال کے تسلسل کے باوصف یہ نظم سے مماثل ہوتے ہوئے بھی نظم نہیں بلکہ یہ غزلِ مسلسل ہے اور صرف غزلِ مسلسل۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر جعفر جری

چیئرپرسن بورڈ آف اِسٹڈیز ، شعبہ ء اُردو ،

ساتاواہنا یونیورسٹی ، کریم نگر ۔ 505001

( موبائیل نمبر 9848269929 )

dr_jaferjari@yahoo.co.in

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.