تحریک سر سید کا سیاسی ومعاشرتی پس منظر

سر سید احمد خاں کا شمار ان جینیس با بصیرت اور یگانہ روزگار شخصیات میں ہے جو صفحۂ ہستی پر کبھی کبھی نمودار ہوتی ہیں اور نامساعد حالات اور ناسازگار ماحول کے باوجود اپنی ندرت فکر و عمل سے زمانے کے دھارے کا رخ موڑ دیتی ہے۔ اسلام اور مسلمان جب کبھی اندونی خطروں یا بیرونی حملوں سے دوچار ہوتے ہیں تو ان سے مدافعت اور اسلام کی حمایت کے لئے ایسی برگزیدہ شخصیتیں پیدا ہوتی ہیں جو موقع پر حالات کے لحایظ سے اپنی عقل کے مطابق اسلام کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی نے مسلمانوں کی سیاسی طاقت کا بتدریج انحطاط دیکھا۔ جیسے جیسے دوسری قومیں طاقت پکڑتی جاتی تھیں مسلمانوں کے ہاتھ سے طاقت نکلتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ ۱۸۵۷ئ؁ کے غدر کے بعد تو ایسا معلوم ہوا کہ ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ ان کا سارا بھرم سیاسی طاقت کے سہارے پر تھا۔ وہ ختم ہوئی تو سب کچھ ختم ہو گیا۔ مسلمانوں کی ساری خوش حالی بلکہ تمام تر زندگی سیاسی اقتدار اور جاگیردارانہ نظام سے وابستہ تھی۔ سیاسی طاقت کے ہاتھ سے نکلتے ہی ان کا کوئی سہارا نہ رہا۔ عہدے، جاگیریں، روزگار، اقتدار سب کچھ چھن گیا۔

اب مسلمان برطانوی دور تسلط میں زوال و پستی اور غربت و افلاس میں زندگی بسر کر رہے تھے اور غدر نے مسلمانوں کی رہی سہی کمر بھی توڑ کر رکھ دی تھی۔ نیز مسلمان معاشی و اقتصادی بدحالی اور تعلیمی پسماندگی کے شکار تھے۔ اس وقت معمار قوم سر سید نے محسوس کیا کہ مسلمان جدید اور سائنسی علوم و فنون حاصل کرکے ہی با عزت اور با وقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن مصلحت اسی میں تھی کہ گھر میں بیٹھے رہو کیوں کہ حالات نازک اور خراب تھے۔ لیکن وہ اولو العزم انسان نامساعد حالات کے سامنے سپر ڈاسنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اور عزم مسمّم کرتا ہے کہ اپنی قوم کو ذلت و نکبت سے نکالنے میں اپنی زندگی کے آخری لمحات صرف کر دیگا۔ چنانچہ خود کہتے ہیں:

’’غدر کے بعد مجھ کو نہ اپنا گھر لٹنے کا رنج تھانہ مال و اسباب کے تلف ہو نے کاجو کچھ رنج تھا اپنی قوم کی بربادی کا۔ آ پ یقین کیجئے کہ اس غم نے مجھے بوڑھا کردیا۔اور میرے بال سفید کر دیئے یہ خیال پیدا ہوا کہ نہایت نامردی اور بے مروّتی کی بات ہے کہ اپنی قوم کو اس تباہی کی حالت میں چھوڑ کر کسی گوشۂ عافیت میں جا بیٹھوں۔ میں نےہجرت کا اردا ترک کیا اور قوم کی بھلائی کے لئے جدو جہد کی راہ اختیار کی میرے غم خوار مجھ کو اس سے منع کرتے تھے لیکن میرا دل ان سے یہ کہتا تھا :

حریف کاوش مژکاں جو ریزم

نہ ناصح بد ست آوررگ جانی ونشتر را تماشہ کن ۔

پھر میں نے اپنے دل سے پوچھا کہ قوم کو اس زمانے کی ضرورت کے موافق تعلیم دینا اور یورپ کے علوم کا ان میں جاری کرنا کیا اسلام کے برخلاف ہے؟ مجھے جواب ملا نہیں۔‘‘

سر سید دل کے اس جواب پر اپنی زندگی کا رخ متعین کرنے لگے چنانچہ سب سے پہلے سر سید نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کے غیض و غضب اور اس کی نفرت کا اصل سبب محض غلط فہمی ہے ۔ انگریزوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ بغاوت در اصل اس لئے ہے کہ پھر سے مغل حکومت قائم کرنے اور انگریزوں کو یہاں سے نکالنے کے لئے مسلمانوں کی ایک زبردست سازش کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ سر سید نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کا تہیہ کر لیا۔ اور جب انکا تبادلہ مرادآباد ہوا تو انہوںنے اس کے کچھ دنوں بعد بغاوت کے خاص وجوہات پر ایک کتاب ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ لکھی۔ ۱۸۵۹ئ؁میں انہوں نے اس کی پانچ سو جلدیں طبع کرائی جن میں سے چند جلدیں اپنے پاس رکھی ایک جلد حکومت کو پیش کی اور باقی تمام جلدیں انگلستان بھیج دی۔ سر سید نے بڑی جرأت کے ساتھ حکومت کو اس بغاوت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے مثالیں دے کر ثابت کیا کہ حکومت عوام کے جذبات کا صحیح اندازہ نہیں کر سکی۔

سر سید نے عیسائی مبلغوں کی ان کارروائیوں کی طرف اشارہ کیا انہوں نے ہندوستانیوں کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا کر دی تھیں۔ اور انہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل تھی۔ اس کتاب نے انگرزوں کی آنکھیں کھول دیں اور انگریزوں نے غلط اثر لینے کے بجائے ان میں سے بہت سی تجویزوں کو منظور بھی کر لیا۔ اور انہیں تجویزوں کی بنیاد پر بعد کی بہت سی اصلاحات کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کتاب نے سر سید تحریک کو تقویت دی اور ساتھ ہی اس غلط فہمی کو بھی دور کر دیا کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں مغل حکومت دوبارہ قائم کر نے کی سازش کی تھی۔ اس طرح اس کتاب سے مسلمانوں کے بارے میں انگریزوں کی بد گمانی اور ان کا غم و غصہ بھی ختم ہوا اور سرسید نے حکومت کا اعتماد بھی حاصل کر لیا۔ اس طرح سر سید مسلمانوں کی معاشرتی اور تہذیبی زندگی میں بھی اصلاح اور پسماندگی سے نجات دلانے کی پوری کوشش کی۔ چنانچہ ۱۸۶۳ء میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی ۔ اور اس سوسائٹی کے ذریعہ انہوں عوام کے خیالات میں تبدیلی لانا چاہی اور نئے خیالات کی روشنی سے تنگ نظری ، تعصب اور ذہنی جمود کو دور کیا اس سوسائٹی کا مقصد مغربی علوم و فنون سے واقفیت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنے علمی ورثے کی حفاظت اور اپنے کار ناموں سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا تھا۔ خود سر سید اعلان کرتے ہیں کہ :

’’ہنر ،فن اور علم ایسی عمدہ چیزیں ہیں کہ ان میں ہر ایک چیز کو نہایت اعلی درجہ تک حاصل کرنا چاہئے۔ ایک متعصب انسان ان تمام دلچسپ اور مفید باتوں سے جو نئی نئی تحقیقات اور نئے نئے علوم سے حاصل ہوتی ہیں محض جاہل او ر ناواقف رہتا ہے۔  اس کی عقل اور اس کے دماغ کی کوت محض بے کار ہو جاتی ہے ۔ اور تربیت و شائستگی          تہذیب وانسانیت کا مطلق نشان نہیں پایا جاتا۔‘‘

باالفاظ دیگر اس سوسائٹی کا مقصد ان علوم و فنون کی کتابوں کا جن کو انگریزی زبان یا یورپ کی کسی اور زبان میں ہونے کے سبب ہندوستانی نہیں سمجھ سکتے ایسی زبانوں میں ترجمہ کرنا جو ہندوستانیوں کے عام استعمال میں ہوں ۔اور ایشیاء کے قدیم مصنفوں کی کمیاب اور نفیس کتابوں کی تلاش کرکے بہم پہنچانا اور چھاپنا تھا۔ سوسائٹی کے قیام کے دو سال بعد سر سید نے ’’اخبار ، سائنٹفک سوسائٹی ‘‘ یا ’’انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ کے عنوان سے ایک ہفت روزہ اخبار کی اشاعت کا آغاز کیا۔ انہوں نے پریس کی آزادی کو اپنا مقصد بنایا ۔ اس جریدے نے ملکی رائے عامّہ کی تربیت میں اہم خدمات انجام دیں۔ اور بڑے مفید اور اہم مضامین اور لیکچر شائع کئے ۔ ان کے علاوہ بھی اور کئی کتابیں اور رسائل جاری کئے اور اپنی سیاسی بصیرت سے سر سید نے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے پر اکسایا اور اپنی پوری توجہ اس پر صرف کر دی کیوںکہ ان کا خلال تھا کہ ہندوستانیوں کو کسی آرگنائزیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ضرورت ہے تو صرف تعلیم کی ۔ اور یہ بات آج کے حالات پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے۔

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.