محبِ اُردو و محبِ وطن : جگن ناتھ آزادؔ

  اُ ردو ادب میں جگن ناتھ آزاد ؔکا نام محتاجِ تعارف نہیں ۔ وہ ماہر اقبالیات کے ساتھ ساتھ، محقق، سوانح نگار،خاکہ نگار، سفرنامہ نگار کی حیثیتوں سے متعارف ہیں ۔ شاعری میں انہوں نے غزلیں ، نظمیں ، مرثیے غرض مختلف اصناف میں طبع آ زمائی کی۔ ماہر اقبالیات کے زمرے میں ان کا نام ہمیشہ سرفہرست رہے گا۔ انھوں نے علامہ کے فکر و فن کے مختلف پہلوؤں  پر تقریبا َ دس بارہ کتا بیں لکھ ڈالی۔ جہاں انہوں نے بچوں کے لیے ’’ا قبال کی کہانی‘‘ لکھی، وہیں محبانِ اقبال کے لیے کئی جلدوں پر معرکتہ الآرا کتاب ’’رودادِ اقبال ‘‘اور’’ اقبال اور مغربی مفکرین ‘‘مہیا رکھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ظ انصاری نے انہیں اقبال کا انسایکلوپیڈیا کہا ہے۔ اقبال سے لگاؤ اُنہیں وراثت ہی سے ملا۔ ان کے والد تلوک چند محروم (نامور شاعر) اقبال کے زبردست مداح تھے۔ اس کی مثال ان کی نظم ’’سلام وپیام ‘‘ جو انہوں نے اقبال کے نام لکھی۔اس خاندان پر میر انیس کا یہ مصرعہ کچھ اس طرح منطبق ہوتا ہے:

      دوسری پشت ہے اقبال کی مداحی میں

     جگن نا تھ آزاد کی بے لوث عقیدت نہ صرف اقبال ؔسے بلکہ ان کے آباواجداد کے مسکن یعنی کشمیر سے بھی جذباتی حد تک تھی۔ اقبالؔ کو ایک عظیم مفکر و دانشور اور شاعر کے طور پر روشناس کرانے میں ان کا بھی اہم حصّہ رہا ہے۔ یہی وجہ رہی کہ ان کی پہچان اُردو کے طالب علموں کے نزدیک ماہر اقبال کے بطور ہوئی، بحیثیت شاعر اردو کا ایک بہت بڑا طبقہ ان کی خدمات سے متعارف نہیں ہے حالانکہ شاعری میں ان کے نو مجموعے چھپ چکے ہیں ۔ جن کے نام با لترتیب طبل و علم، بیکراں ، ستاروں سے ذروں تک، وطن میں اجنبی، نوائے پریشان، بوئے رسیدہ، گہوارہ علم و ہنر وغیرہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ دو شعری انتخاب بھی منظر عام پر آچکے ہیں ۔ ان کے تخلیقی صلاحیتوں اور شاعرانہ ذوق پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر مغنی تبسم رقمطراز ہیں :

’’ جگن ناتھ آزاد ہمارے عہد کے ممتاز شاعروں میں ہیں ۔ انہوں نے اپنی طرف اہل ذوق کو متوجہ کرتے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے مغربی ادب کا سہارا لے کر الٹی سیدھی قلا بازیاں نہیں کھائی بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور خلاقانہ قوت سے اردو کے شعری سرمائے میں اہم اضافہ کیا۔ ‘‘

      جگن ناتھ آزاد اقبال کی متاثر کن شخصیت کے اسیر تھے۔ انہوں نے ہر پہلوئوں میں ا قبالؔ کو اپنا رہبر مانا ہے۔ ان کے سیاسی خیالات، حب الوطنی، انسان دوستی، غرض ہر اعتبار سے وہ ان کے مطیع رہے ہیں ۔ ان کے کلام میں اقبال کا رنگ صاف جھلکتا ہے مثال کے طور پر ان کی نظم ’’اے وادی گریز‘‘ لیجئے یہ اقبال کی نظم ’’اے وادی لولاب‘‘ کے طرز پر ہے۔اس کا ایک بند ملا حظہ کیجئے:

      ہر صبح دھوپ اترتی ہے جب کوہسارسے

      بھرتی ہے تیر ا منہ گہر آبدار سے

      اے خطہ جمیل و حسین و نشاط خیز

      اے وادی گریز

      اُردو ایک ہمہ گیر زبان ہے۔اس کا دامن ہر طرح کے لسانی اور تمدنی پھولوں سے کھلا ہے۔ اُردو زبان کے بارے میں یہ تاثر پھیلا یا جا رہا ہے کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ اس دعویٰ میں کوئی تاریخی صداقت نہیں ہے۔بلکہ اس زبان کی جڑیں عوام میں ہے اور صدیوں کا سفر طے کرکے آج ہم تک پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے درمیان موجودہے۔اس زبان کو تنہا کرنے کاکوئی بھی حربہ اس سمت کارگر نہیں ہوسکتاکیونکہ اس کو سینے سے لگانے والے جگن ناتھ آزاد جیسے لوگ ہمیشہ ر ہے ہیں ۔ اُردو زبان سے ان کو بے انتہا محبت تھی۔ اس زبان کی شیرینی سے وہ ہمیشہ مٹھاس محسوس کرتے رہے۔ نہ صرف اس زبان کو گلے لگایا بلکہ اس کو اپنی صلاحیتوں سے پروان بھی چڑھایا۔ غیر مسلم شعرا کے دلوں میں ۱ُردو کے تئیں جو محبت ہے ان میں جگن ناتھ آزاد کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ۔ ان کی شاعری گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے جو اصل میں اردو کی تہذیب اور کلچر ہے۔ حالات کی وجہ سے اس زبان کو جو نقصان پہنچا اس نے ان کے وجود کو بھی صدمہ پہنچایا۔ اس کا اظہار ان کے کلام میں وقتاً فوقتاً ہوا ہے۔ نظم ’’اُردو‘‘ کا پہلا بند ملا حظہ ہو:ــ

  میری زبان پہ آج ہے اپنی زبان کی بات

      ظاہر میں نغمہ ہے یہ، بباطن فغاں کی بات                         کچھ غیر کی ہے کچھ ستم دوستاں کی بات

  سوزدروں کی بات ہے، درد نہاں کی بات

  دل کے الم کی بات ہے، اردو کا ذکر ہے

      اپنے چمن کے پھول کی خوشبو کا ذکر ہے

     اس زبان کی عظمت اور رفعت کو محدود دائرے سے نکال کر اس کی عالمگیریت کا نظریہ پیش کیا۔ ہر زمانے میں اس زبان نے جو کارنامے دکھائے،جو محبت اور بھائی چارگی کے جوت جگائے اسے روشناس کرانے والوں میں جگن ناتھ آزاد ہمیشہ یاد رہیں گے۔ نظم ’’ اُردو‘‘ میں اسی طرح اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

      اے ذوق جستجو کی تمنائے خوب تر

      کئے گئے ترے احسان ہند پر

      جب حرمت وطن پہ تھی انگریز کی نظر

     اس وقت بھی رہی تو مقاصد سے باخبر

     منزل اس سلیقے سے تو نے بتا دیا

     رستے پر حریت کے وطن کو لگا دیا

جس دور میں اُنھوں نے یہ پیغام دیا وہ انتشار اور بے یقینی سے پُر تھا۔ لیکن حبِ وطنی کے اس پیغام میں کسی مخصوص مذہب کی اجارہ داری نہیں رہی۔بلکہ ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں اپنے حصے کا کردار بحسنِ خوبی نبھایا۔جگن ناتھ آزاد نے کسی مذہب یا عقیدے کو مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کو اس با ت کا اندازہ تھا کہ اگر یہ اسلوب اختیار کیا گیا تو اس میں تعصب کی بُو ضرور اپنے وقت پر اپنا زہریلا اثر چھوڑے گی۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہی ادب زندہ و جاوید ہو جاتا ہے جو کسی بندش کا ا سیرنہ ہو۔اس پہلوسے دیکھاجائے تو ان کی شخصیت میں حد درجہ وسعت تھی۔ وہ ہمیشہ ذات پات، فرقہ پرستی سے بیزار رہے۔ وہ انسان کو انسانیت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اور ہر انسان کو قابل احترام سمجھتے تھے۔ ہندو و مسلم اتحاد کو مضبوط اور پائیدار بنانے میں ان کی شاعری مثل راہ ہے:

      ہندو کوئی یاں کوئی مسلمان نظر آیا

      حسرت رہی جس کی نہ وہ انسان نظر آیا

     نہ فریب دے مجھے دہر کانہ مجھے طلسم حرم دکھا

         میں پرے ہوں دیر و حرم سے اب مجھے شوق دیر حرم نہیں

     آزاد جیسے شعرا نے محبت کے چراغ ہندو مسلمان، سکھ عیسائی کیا بلکہ تمام اُردو دان طبقہ کے ذہنوں میں روشنی اور اسی سے ان کی یادوں کے دیے جلوہ افروز ہوئے ہیں اور اسی سے اُرد و زبان و تہذیب معطر ہے۔وطن سے بے لوث محبت کا اظہار ان کے جملہ کلام میں موجزن ہیں ۔ البتہ نظم ’’دیار غیر میں ‘‘ میں انہیں اس کی کچھ اور ہی کیفیت سامنے آئی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی پہچان کو اپنے وطن سے منسوب رکھا ہے چنانچہ اسی کا اظہار نظم کے ابتدائیہ میں اس طرح کرتے ہیں :

     میرے وطن تیری مٹھی میرا حوالہ ہے

     اسی حوالے سے دنیا نے مجھ کو پہچانا

     تیرا کرم کہ حقیقت بنا دیا تونے

     بیاض دہر میں ورنہ میں تھا اک افسانہ

     وطن کی مٹی ان کے لیے وہ انمول خزانہ ہے جس کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے، یہی مٹی چمن کے پھولوں کا آشیانہ بنتی ہیں اور رنگ بہ رنگ پھول اس کے دامن میں وجود پاکر دیکھنے والوں کا دل لبھاتی ہے اور اس طرح وطن کی ہواؤں  کو مشک دار بنا دیتی ہیں ۔ ان کا پیغام ہے کہ وطن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کا ذکر ورد ِزبان ہونا چاہئے۔ اپنی اصلیت پر قائم رہنا ان کا پیغام ہے۔

      ترے حدوں سے جہاں جہاں گیا

      تری ہی پاک زمین کا سفر بن کے گیا

      یہی نہیں کہ فقط تیرا نام تھا لب پر

     گیا جہاں بھی میں ترا ضمیر بن کے گیا

     اپنی تہذیب کو وراثت اور اپنے اسلاف کو روشن مینار کہہ کر ان کی پاکیزہ حیات کو تاریخ میں روشنی کے ضامن قرار دے کر ان کے احسانات یاد دلائے:

     کہ تو ہے دید کی بینائی روشنی کا امین

         کہ جن سے نور کی دنیا رہی حیات مری

     کہ تو ہے نانک و چستی کا فیضان منظر

         بگڑے دور میں جن سے بنی ہے بات مری

     وطن کی محبت کے اظہار میں جو بھی مبالغہ آرائی کی جا سکتی تھی اس کا اظہار اس نظم میں ہوا ہے۔ یہ ان کی وطن کی والہانہ محبت ہی کا اثر تھا کہ ایسے پرُتاثیر جملے ان کی زبان سے ادا ہوئے:

      مگر عزیز وطن مجھ کو جسم و جاں سے عزیز

     ہر اک یقین سے عزیز اور ہر گمان سے عزیز

     وطن کی ابتری نے ان کے دل کو مجروح کر رکھا اسی گھٹن کی پکار کا اظہار نظم ’’ دیار غیر میں ‘‘ ہوا ہے۔ وطنیت اور انسانیت ان کے یہاں ساتھ ساتھ چلتی ہے:

      اِدھر تو ناز رہا مجھ کو تجھ پہ اور اُدھر

                 بشر کے ہاتھ سے بہتا رہا بشر کا لہو

     ان تلخ یادوں کو وہ بلائے بھی نہ بھول جاتے ہیں ۔جس چیز کی محبت ہوتی ہے اس کا ہر ہر ذرہ انسان کو بھاتا ہے چاہے وہ چیز بد صورت کیوں نہ ہو۔ یہ دیکھنے والوں کی نظر بینی پر منحصر ہوتا ہے کہ نظر کہی محدودیت کا شکار تو نہیں ہوئی۔ وطن کے جوش بہاراں اور جوش نمو کی ٹھنڈک آج بھی ان کے ذہن کو معطر کرتی ہے اور اس کے حسین مناظر آج بھی اس کے دل و دماغ کو پُر سکون اور پُر کیف بنا دیتی ہیں ۔

     نہ پوچھ حال وہاں کے حسین مناظر کا

      ہر اک منظر رنگین تھا جیسے عالم ہُو

     اسی رنگ میں وہ ہر ایک کو رنگنا چاہتے ہیں ۔ یہی ان کی آرزو و تمنا ہے جس میں حوصلہ، غیرت، ہر چیزکو قربان کر دینے کا جذبہ اور آگے بڑھنے کے عزائم ملتے ہیں ۔

      میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں سر اٹھا کے چلوں

      ہر اک بشر کی نظر سے نظر ملا کے چلوں

      نہ سر جھکا کے چلوں اور نہ منہ چُھپا کے چلوں

     جب اس نظم میں شاعر اپنے آپ کو بیاض دہر کا افسانہ کہتا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی خودی پر جمود آچکا تھا۔ وہ اپنے آپ سے بے خود تھا، وطن نے اسے جگایا اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ یہ تاثیر وطن کی محبت ہی پیدا کر سکتا ہے،ذرہ نم ہو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔نظم میں جذبات نگاری عروج پر ہے ایسا لگ رہا ہے:

     دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

  اس نظم میں دریا کی سی روانی، محبت کی فراوانی بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں یہ نظم وطن کے تئیں اُن کی جذباتی و روحانی رُوداد ہے۔ یہ وطنیت اقبالیات کا ہی فیضان ہے۔ وطن ان کے یہاں ایک ایسا زندہ وجود ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے اور جس کی ناشادمانی پر شکوہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ شکوہ اس انداز سے کرتے ہیں جس میں ، عاجزی، انکساری اور ندامت ٹپکتی ہے۔ جس میں ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت کا عنصر پایا جاتا ہے۔

     میں تجھ پہ فخر بھی کرتا ہوں ، ناز بھی لیکن

     میں تیرا شکوہ سرا بھی ہوں تجھ سے نام بھی

     نظم میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں چاشنی، تراوٹ اور دلکشی نکھرتی ہے۔ یہ نظم آٹھ نو بندوں پر مشتمل ہے۔ آزاد نظم کے زمرے میں آتی ہے لیکن آزاد نظم کی بے ترتیبی اور بکھراؤ نے نظم کے حسن میں اضافہ کیا۔ یہ اپنا پیغام پہنچانے کا ایک انداز ہو سکتا ہے بقول حکیم منظور:

     مجھ کو لفظوں میں چھپنے کی عادت نہیں

     مرے دل پہ زباں کی حکومت نہیں

      اس نظم میں ان کے ذہنی دریچوں میں جو کچھ بھی آیا اس کو انہو ں  نے کسی شعری پیرایہ کا محتاج نہیں سمجھا۔ یہ ان کا شاعرانہ کمال ہے جس میں ان کا مافی الضمیرکھل کر سامنے آیا ہے:

      میں ہر جگہ تیری عظمت کے گیت گاتا رہا

      جہاں گیا تری داستاں سناتا رہا

      کہیں ترا مرا پیرایہ بیاں کہیں نثر

      میں ہر طرف سے تری جھلکیاں دکھاتا رہا

      الغرض جگن ناتھ آزاد کے کلام میں جہاں متنوع مو ضوعات ملتے ہیں وہیں وطنیت اور اُردو کے تییٔں  جذبات بھی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ فگن ہوئے ہیں ۔الگ الگ پیرایوں میں اُنہوں نے وطن سے محبت کرنے کا درس دیا ہے۔وطنیت ان کے کلام کوکسی محدودیت کا شکار نہیں ہونے دیتا بلکہ ان کے کلام میں آفاقیت کا جوہر اسی میں مضمر ہے۔

             بلال احمد ڈار

            ریسرچ اسکالر مانو حیدر آباد

             7006566968

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.