قدرت اللہ شہاب اور ان کی کتاب شہاب نامہ

’’شہاب نامہ‘‘قدرت اللہ شہاب کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔قدرت اللہ شہاب کا شمار ان عظیم افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کار ہائے نمایاں انجام دیے۔انھوں نے ادب اور بیوروکریسی کی شاہراہوں پر ایسے تا دیر قائم رہنے والے نقوش چھوڑے ہیں جو تازہ واردان کے لیے ہر زمانے میں چراغِ راہ کا کام دیں گے۔انھوں نے اپنے طرز عمل سے نہ صرف نئی نسل کو متاثر کیا بلکہ اپنے عہد کے روایتی اور فرسودہ نظام کو بدلنے اور اسے ایک نئی اور پائیدار سمت عطا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔وہ ان لوگوں میں سے تھے جو’’زہر ِہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکے قند‘‘۔ان کی شخصیت عجز و انکسار ی،صبر واستقلال،جرأت مندی،فرض شناسی،حب الوطنی،ادب نوازی،دیانت داری،انسان دوستی،سادگی اور تصوّف کا ایک ایسا خوبصورت مرقع تھی جس کے ہر رنگ میں سو رنگ پنہاں تھے۔یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی کہ اپنے وقت کے بڑے بڑے سرکاری عہدوں اور حکومت کے ایوانوں میں اعزازی منصبوں پر متمکن رہنے کے باوجود ان کی ذات کے حصار میں خودنمائی و خود ستائی اور منافقت و ریاکاری جیسے انسانیت مخالف عناصر کو کبھی بھی سر اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔انھوں نے آسمان کی بلندیوں کو چھوا لیکن پائوں ہمیشہ زمین پر رکھے۔زند گی کے دونو ں موسم دیکھے۔خزاں کا بھی اور بہار کا بھی۔لیکن ان کے مزاج میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔وہ ہر مقام سے کامیابی اور سلامت روی کے ساتھ گزرے۔کسی کے آگے جھکے نہ کسی کو اپنے آگے جھکنے دیا۔ایک بے مثال بیو رو کریٹ ہونے کے با وجود عام لوگوں میں زندگی بسر کی۔ان کی رفاقت کو اپنی خوش بختی سے تعبیر کیا۔ان کے دکھ درد کا مداوا کیا۔کبھی مسیحا بن کر تو کبھی اپنی ذات اور اپنے منصب کو جو کھم میں ڈال کر۔انھیں انسان کی عظمت کا احساس بھی تھااور اس کی قدروں کا پاس بھی۔وہ اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے وقف کر دینے کا ہنر جانتے تھے اور اس عمل کی عظمتوں سے بہ خوبی واقف بھی تھے۔وہ تمام عمر بیو رو کریٹ بن کر نہیں ایک عام انسان بن کر رہے۔یہی ان کا کمال ہے اور اسی میں ان کی شخصیت کا رازبھی پوشیدہ ہے۔ انھوں نے بیوروکریسی کی دنیا میں ایک ایسی روایت قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔وہ شروع سے ایک ایسے راستے پر گامزن رہے جو ہر جانب سے بلندی و خوش حالی کی جانب جاتا تھا اور بعد میں آنے والوں کے لیے بھی ترقّی و عروج کا ضامن تھا۔

قدرت اللہ شہاب یکم جنوری ۱۹۲۰ میں گلگت میں پیدا ہوئے۔انھوں نے پرنس آف ویلیز کالج جموں سے ۱۹۳۷ میں بی۔ایس۔سی کیا۔اس کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج،لاہور سے انگلش میں ایم۔اے کیا۔۱۹۴۰ میں آئی۔سی۔ایس کا امتحان پاس کیا۔ان کو ریاست جموں و کشمیر کا پہلامسلم آئی۔سی۔ایس افسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انھوں نے تقسیم ہند سے قبل ہندستان کے مختلف اضلاع میں آئی۔ سی۔ایس افسر کے طور پر اپنے سرکاری فرائض انجام دیے۔۱۹۴۷کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان چلے گئے۔پاکستان میں وہ سکریٹری جنرل آزاد کشمیر،ڈپٹی سکریٹری وزارت آزاد کشمیر،ڈپٹی کمشنر ضلع جھنگ،ڈأریکٹر انڈسٹریزحکومت پنجاب،سکریٹری گورنر جنرل آف پاکستان ملک غلام محمد،سکریٹری گورنر جنرل آف پاکستان میجر جنرل اسکندر مرزا،سکریٹری صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان،سکریٹری اطلاعات حکومت پاکستان،سکریٹری وزارت تعلیم حکومت پاکستان،سکریٹری جنرل پاکستان رأٹرز گلڈ(دو بار)۔۔۔ جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔اس کے علاوہ انھوں نے ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور یونیسکو ایگزیکٹو بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ۔ایک بھر پور اور مصروف زندگی گزارنے کے بعد اس مر د ِ حق شناس نے۲۴جولائی ۱۹۸۶ کو داعئی اجل کو لبیک کہا۔

اردو ادب کی تاریخ میں قدرت اللہ شہاب کا اہم مقام ہے۔انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا۔ان کا پہلا افسانہ ۱۹۳۸میں ’’چندراوتی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔یہ وہ زمانہ تھا جب اردو افسانے کے افق پر سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر،عصمت چغتائی،قرۃالعین حیدر،مرزا ادیب اورممتاز مفتی جیسے افسانہ نگار ستاروں کی مانندروشن تھے۔قدرت اللہ شہاب کی ادبی زندگی اگرچہ ایک طویل عرصے پر محیط ہے لیکن سرکاری فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہنے کی وجہ سے انھوں نے اپنے معاصرین کے مقابلے میں بہت کم لکھا مگر جو کچھ بھی لکھا وہ فکری و فنی اور موضوعاتی اعتبار سے بلند معیار کاحامل ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے نثری سرمائے میں بھی گراں قدر اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا فسادات کے موضوع پرمبنی ایک طویل اور شاہ کار ناولٹ’’یاخدا‘‘۱۹۴۸ میں شائع ہوا۔اس کے بعد ان کے تین افسانوی مجموعے ’’نفسانے‘‘،’’ماں جی‘‘اور ’’سرخ فیتہ‘‘ شائع ہوئے۔یہ تینوں افسانوی مجموعے ان کی زندگی میں کئی بار شائع ہوئے لیکن جو تصنیف ان کی شہرت وعظمت کا باعث بنی اور جس نے انھیں جاوداں کر دیا وہ ان کی وفات کے ایک سال بعد ۱۹۸۷میں سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور (پاکستان)کی جانب سے ’’شہاب نامہ‘‘ کے روپ میں شائع ہوئی۔قدرت اللہ شہاب کی وفات سے پہلے ’’شہاب نامہ‘‘ کے ابتدائی چند ابواب ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘،’’اردو ڈائجسٹ‘‘،’’’معاصر‘‘،’’دستاویز‘‘،’’نیا دور‘‘اور ’’تخلیقی ادب‘‘جیسے مختلف ادبی رسائل وجرائد میں شائع ہوچکے تھے۔۱۹۸۷میں کتابی صورت میں شائع ہونے کے بعد اس کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ ایک ہی سال میں اس کتاب کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ ۱۹۸۷ سے لے کر اب تک اس آپ بیتی کے بیسیوں ایڈیشن بر صغیر ہند و پاک کے مختلف اشاعتی اداروں سے شائع ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

’’شہاب نامہ‘‘ ایک اہم اور دلچسپ آپ بیتی ہے۔اردو خودنوشت سوانح عمری کی تاریخ میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔اس کی اہمیت مختلف حوالوں سے ہے۔یہ نہ صرف اردو کے غیر افسانوی ادب کا شاہ کار نثری پارہ ہے بلکہ اپنے عہد کاایک اہم سیاسی وتاریخی مرقع بھی ہے۔یہ ایک ایسی دستاویز ہے جس میں بیسویں صدی کے تمام اہم سیاسی و تاریخی انقلابات کو الفاظ کے کیمرے میں قید کیا گیاہے اور نسل انسانی پر ا ن انقلابات کے کیا اثرات مرتب ہوئے اس کی بھی مکمل تصویر کشی کی گئی ہے۔یہ ان تمام حالات و واقعات کی چشم دید داستان ہے جو بیسویں صدی میں بر صغیر کے گبرومسلمان پر قہر بن کر پھوٹ پڑے۔یہ مصنف کی زندگی کے شب وروز کے حالات وواقعات کی ایک دلچسپ کہانی بھی ہے اور ان کے عہد کی ایک تلخ داستان بھی۔اس کے اوراق معلومات افزا بھی ہیں اور درد آمیز بھی۔اس کے صفحات تقسیم ہند کے دوران کے ان وحشت ناک اور خون ریز فسادات کی تصویر کشی سے بھرے پڑے ہیں جنہوں نے روئے زمین پر انسانیت کو ہمیشہ کے لیے شرمسار کر کے چھوڑا۔اس کے مطالعہ سے ۱۹۴۷سے قبل کے ہندوستان کی سیاسی وسماجی صورت ِحال کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔اس میں ایک طرف حصول پاکستان کے سلسلے میں کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین سیاسی رسہ کشی کا عالمانہ تجزیہ کیا گیاہے وہیں دوسری طرف قیام پاکستان کے بعد اس کی ابتدائی مشکلات اوروہاں کے سیاست دانوں کے بارے میں دلچسپ معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں ۔اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر اور اس کی تاریخ پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔غرض اس کتاب میں مختلف موضوعات کو احاطہ تحریر میں لیا گیا ہے۔لیکن قدرت اللہ شہاب نے ان تمام موضوعات کو آپ بیتی کی ہئیت میں اپنی ذات کے وسیلے سے بیان کیا ہے اوریہی اس خودنوشت سوانح عمری کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

شہاب نامہ کا آغاز ’’اقبال جرم‘‘سے ہوتا ہے۔یہ کتاب کا ابتدائیہ ہے جس میں قدرت اللہ شہاب نے اپنی آپ بیتی کے حوالے سے چند اہم معلوما ت بہم پہنچائی ہیں اور اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ ’’شہاب نامہ‘‘ کا بنیادی مقصد بت شکنی یا بت تراشی کے بجائے ان واقعات،مشاہدات اورتجربات کی روئیداد کو بے کم و کاست بیان کرنا ہے جنہوں نے انھیں متاثر کیا۔قدرت اللہ شہاب اپنے اس دعویٰ پر پورا ترتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پوری خودنوشت میں کہیں بھی اس بات کا شائبہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی بت شکنی یا بت تراشی کر رہے ہیں ۔ان کی تحریر شخصیت پرستی کے اثرات سے پاک ہے۔انھوں نے حالات و واقعات کو ان کے صحیح تناظر میں سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔اس کوشش میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔انھوں نے دوسروں کے بارے میں اپنی آرا کا بے باک اظہار کیا ہے۔اس میں نہ کسی مصلحت اندیشی کو دخل حاصل ہے اور نہ مبالغہ آرائی کو۔

قدرت اللہ شہاب نے اپنی خودنوشت سوانح عمری کا باقاعدہ آغاز اپنے بچپن کی حسین یادوں سے کیا ہے۔انھوں نے آپ بیتی کے ابتدائی ابواب میں اپنے بچپن کی زندگی کو الفاظ کے خوبصورت سانچے میں ڈھال کراس طرح بیان کیا ہے کہ ان کا بچپن خوبصورت بھی معلوم ہوتا ہے اور عام بچوں سے مختلف بھی۔اس میں ایسے نقوش دیکھنے کو ملتے ہیں جو ان کی آنے والی زندگی کا پتہ دیتے ہیں ۔اس میں سطحیت اور قناعت پسندی کے بجائے ارتقا کے عنا صر نمایاں ہیں اور ایک اونچی پرواز بھرنے کا جذبہ بھی موجزن ہے۔ یہ بچپن شرارتوں ،شوخیوں ،بے باکیوں ،نادانیوں اور رومان بھرے جذبات سے بھی عبارت ہے۔

قدرت اللہ شہاب کا بچپن جموں شہر کے اسکولوں اور وہاں کے گلی کوچوں میں اپنے بچپن کے ہم نوائوں کے ساتھ عیش وعشرت میں گزرا۔یہ وہ زمانہ تھا جب جموں وکشمیر ڈوگرہ حکمرانوں کے زیر نگیں تھااور ریاست کے مسلمانوں کے حالات ناگفتہ بہ تھے۔انھوں نے اپنے بچپن کے حوالے سے جو تفصیلات بہم پہنچائی ہیں اس سے ان کی نفسیات اور ان کے مزاج کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے نیزاس وقت کے جموں شہر کا نقشہ بھی اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ سامنے آتا ہے۔قدرت اللہ شہاب نے جموں شہر کے گلی کوچوں ، وہاں کے بازاروں نیز ان اسکولوں اورکالجوں جہاں انھوں نے تعلیم حاصل کی تھی،کا ذکر جس دلچسپ انداز میں کیا ہے وہ جموں سے ان کی گہری عقیدت اورمحبت کا مظہر ہے۔انھوں نے اس دور کی یادوں کو جن الفاظ کے ذریعے سے صفحۂ قرطاس پر اتارا ہے وہ محبت اور ہمدردی کے گہرے احساس میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ان الفاظ کے در وبست سے اپنائیت کی خوشبو دار بوندیں ٹپکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔ان میں شدت تاثیرکے ساتھ ساتھ ایک متاع بے بہا کے کھو جانے کا شدید رنج بھی ہے۔ان الفاظ کی تہوں میں جھانکنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ اعلا سرکاری دفتروں ،صدارتی محلوں ،سفارت خانوں اور مشرقی ومغربی ممالک کے سرکاری دوروں میں بسر کرنے کے باوجود جموں کی یادیں ان کے دامن دل سے ہمیشہ وابستہ رہیں اور یہ اسی گہری وابستگی کا نتیجہ ہے کہ جب انھوں نے زندگی کے آخری حصے میں اپنی عمر گذشتہ کی داستان کو الفاظ کا جامہ پہنانا شروع کیاتواس وقت بھی ان کے ذہن ودل کے نگار خانوں میں جموں شہر کا نقشہ اپنی اصل ہئیت میں محفوظ تھا۔

’’شہاب نامہ ‘‘ کے ابتدائی ابواب میں دو کہانیاں ایک ساتھ آگے بڑھتی ہیں ۔ایک کا تعلق مصنف کی نجی زندگی سے ہے اور دوسری اس وقت کے جموں وکشمیر کے سیاسی منظرنامے پر مشتمل ہے۔یہ دونوں کہانیاں دلچسپ بھی ہیں اور معلومات افزا بھی۔پہلی کہانی میں مصنف نے اپنے بچپن کے احوال وکوائف اورتعلیمی زندگی کے نشیب وفراز کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانی پس منظر کو بھی دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے نیز بچپن کی ایک ناکام محبت کی روداد کو بھی اپنی تمام تر کیفیات کے ساتھ صفحہ قرطاس پر اتارا ہے۔ اس کہانی میں مصنف نے اپنے والدمحمد عبداللہ کابھی ایک خوبصورت اور جاذب نظر خاکہ کھینچا ہے۔اس خاکہ کا ایک ایک لفظ اطاعت گذاری اور سعادت مندی کے جذبے سے معمور ہے۔اس کے مطالعے سے محمد عبداللہ کی زندگی اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر بھرپور روشنی پڑتی ہے۔ نیز اس وقت کے جموں وکشمیر کے سیاسی منظر نامے میں ان کے کردار کے حوالے سے بھی دلچسپ معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔اس خاکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد عبداللہ نے ایک امیر کبیرگھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے باوجود زندگی کے ابتدائی شب وروزمفلسی کی چھائوں میں انتہائی مشکل حالات میں گذارے۔لیکن اس کے باوجود انھوں نے تعلیم کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے سر سید احمد خاں کے زمانے میں علی گڑھ سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔قدرت اللہ شہاب کے بقول ان کا شماراس زمانے کے علی گڑھ کالج کے ذہین اور قابل طلبا میں ہوتا تھا۔سرسید احمد خاں کی وساطت سے ان کو آئی۔سی۔ایس کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے انگلستان جانے کا سرکاری وظیفہ بھی ملاتھا جسے انھوں نے اپنی والدہ کے اصرار پر واپس کردیاتھا۔کیوں کہ بقول قدرت اللہ شہاب:

’’اس زمانے کے توہمات میں سات سمندر پار کا سفر بلائے ناگہانی کے مترادف تھا۔چناچہ دادی اماں نے اپنے بیٹے کوولایت جانے سے منع کر دیا‘‘ ۱؎

علی گڑھ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے گلگت میں اپنی ملازمت کا آغاز کلرک کے عہدے سے کیا۔لیکن بہت جلد اپنی غیر معمولی ذہانت اور محنت کی بدولت ۱۹۱۲میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور میں گلگت کے گورنر مقرر ہوئے۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ کی وفات کے بعد ان کے فرزند مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں ۱۹۲۶میں ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔اس کے بعد جموں میں تاحیات مسلمانوں کی ایک فلاحی انجمن ’’انجمن اسلامیہ جموں ‘‘کے آنریری سکریٹری کے طور پرنہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں ۔قدرت اللہ شہاب کے تحریر کردہ حالات و واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے والد ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اعلا تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی تھے۔انھوں نے ایک بڑے سرکاری عہدے پر فائز رہنے کے باوجود سادہ زندگی بسر کی۔ان کو انگریزی زبان پر ایسی مکمل دسترس حاصل تھی کہ چودھری غلام عباس اور شیخ محمد عبداللہ جیسے اہم سیاسی رہنما اپنی تمام سیاسی وقانونی دستاویزات ان سے لکھواتے تھے۔ان کی زندگی اقبالؔکے عمل پیہم اور جہدِ مسلسل کے فلسفے کا عملی نمونہ تھی۔ انھوں نے زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنا مقام آپ پیدا کیاتھا۔ان کی شخصیت کی لہروں میں شور نہیں بلکہ ایک سکو ن اورٹھہرائو تھا۔قدرت اللہ شہاب نے ان کو ایک ایسے’’ دریا‘‘ سے تشبیہ دی ہے جو نہایت خاموشی سے زیر زمیں بہتا ہے۔ ان کے بارے میں پروفیسر فریدہ نذیر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے لکھتی ہیں :

’’زندگی کے امکانات کے تعاقب میں وہ بڑے اعتماد کے ساتھ کافی دور نکل گئے۔تعلیم،ملازمت اور سماجی میدان میں انھوں نے وہ کچھ حاصل کیاجو اس زمانے میں معدودے چند مسلمانوں ہی کو حاصل تھا‘‘۲؎

دوسری کہانی میں اس وقت کے جموں وکشمیر کے سیاسی منظرنامے اوراس وقت کی ریاست کی صورت حال کا عالمانہ تجزیہ کیا گیا ہے۔چودھری غلام عباس اور شیخ محمد عبداللہ کے دلچسپ خاکے کھینچے گئے ہیں ۔ڈوگرہ مہاراجائوں کی ناخواندگی،شدت پسندی،بد اخلاقی اور ریاست کے مسلمانوں کے ساتھ ان کے متعصبانہ رویّے کی سچی عکاسی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی پس ماندگی اور بے سر وسامانی کے ساتھ ساتھ ان کی سادگی،افلاس،ناداری اور مظلومیت کی داستان کو بھی بیان کیا گیا ہے۔لیکن اس داستان کو مورخ یا کہانی کار بن کر نہیں بلکہ ایک ہمدرد اور محسن بن کر بیان کیا گیا ہے۔اس کے مطالعے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس کہانی کا ایک ایک واقعہ خود مصنف کی ذات پر بیتا ہو۔اس میں اپنائیت کا ایک بے مثال جذبہ موجزن ہے۔ایک گہرا قرب ہے اور دل کو چھو لنیے والی تڑپ ہے۔اپنوں سے بچھڑنے کا غم ہے اور ان پر بیتے حالات کا شدید احساس ہے۔اس کا ایک ایک لفظ کشمیر اور مسلمانان کشمیر کی محبت سے سرشار ہے۔اس میں خارجی حالات و واقعات کی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ ان احساسات وجذبات نیز ان باطنی کیفیات کو بھی زبان دی گئی ہے جو کئی دہائیوں سے بیرونی ظلم و استبداد کے باعث اپنے اظہار سے قاصر تھیں ۔

قدرت اللہ شہاب نے چودھری غلام عباس اور شیخ محمد عبداللہ کا تذکرہ اس انداز میں کیا ہے کہ قاری کی آنکھوں کے سامنے ان دونوں سیاسی رہنمائوں کی زندگی کا اصل نقشہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے۔آپ بیتی کے جس حصے میں ان دو سیاسی رہنمائوں کی سیاسی زندگی کا تجزیہ کیا گیا ہے وہ دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کا بھی حامل ہے۔اس میں مصنف کا نقطہ نظر بھی جھلکتا ہے اور بعض ایسی معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں جو کسی اور ذرائع سے ممکن نہیں تھیں نیزجموں کشمیر کے مسلمانوں میں سیاسی وسماجی بیداری پیدا کرنے کے سلسلے میں ان دو سیاسی رہنمائوں نے جو کردار ادا کیا اس کے ایک ایک پہلو پر بھی تفصیل سے روشنی پڑتی ہے۔

قدرت اللہ شہاب نے چودھری غلام عباس اور شیخ محمد عبداللہ کے سیاسی کارناموں کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی نظریات پر بھی بڑے عالمانہ اور دانش ورانہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیاہے نیزان دونوں کا بڑا دلچسپ موازنہ بھی کیا ہے۔انھوں نے شیخ محمد عبداللہ کا جو خاکہ کھینچا ہے اس میں طنز کا عنصر نمایاں ہے۔ان کے نزدیک شیخ محمد عبداللہ کی سیاست پلاس ٹی سین کی ہم صفت تھی جسے ہندستان کے سیاسی رہنما جب چاہتے اپنی مرضی کا پتلا بنا لیتے تھے اور کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی کرسی ان کا واحد مقصد تھا جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حدتک جا سکتے تھے۔ ا نھوں نے شیخ محمد عبداللہ کو ’’قضیۂ کشمیر کا بنیاد گزار‘‘،’’پنڈت جواہر لال نہرو کا زر خرید غلام‘‘اور ’’سیاست کے میدان میں بے پیندے کا لوٹا ‘‘قرار دیا ہے۔

قدرت اللہ شہاب کو شیخ محمد عبداللہ کے مقابلے میں چودھری غلام عباس ایک عظیم سیاسی رہنما کے ساتھ ساتھ دیانت داری،انسان دوستی،سچائی،خلوص،صاف گوئی،راست بازی،اور دین داری کا بھی ایک خوبصورت مرقع نظر آتے ہیں ۔ انھوں نے چودھری غلام عباس کا ذکر بڑ ی عقیدت کے ساتھ کیا ہے۔ان کی نظر میں وہ ایک عبادت گزار اور قلندر صفت مومن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سچے مسلمان بھی تھے۔ان کی آنکھوں میں انہیں عقاب کی تیز نگاہی،دل میں جذبات کی طغیانی اور ظاہر وباطن میں ایسی یکسانیت نظر آتی ہے کہ وہ انہیں جھوٹ اور فریب پر مبنی سیاست کے مزاج کی ضد قرار دیتے ہیں ۔ انھوں نے ان کے گفتار وکردار کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی بصیرت کابھی ایسا بے لاگ نقشہ کھینچا ہے کہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کا عکس قاری کے ذہن ودل کے پردوں پر اپنے تمام خوبصورت رنگ بکھیر د یتاہے۔

جموں وکشمیر کا سیاسی و سماجی منظر نامہ پیش کرنے کے بعد قدرت اللہ شہاب نے’’چندراوتی‘‘ کے عنوان کے تحت گورنمنٹ ڈگری کالج لاہور کا ذکر کیا ہے جہاں سے انھوں نے ایم۔اے کیا تھا۔انھوں نے کالج کے زمانے کی اپنی دو سالہ زندگی کے بارے میں جو معلومات بہم پہنچائی ہیں اس کی مدد سے اس زمانے کے گورنمنٹ ڈگری کالج لاہور کا ایک دھندلا سا نقش آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے لیکن قدرت اللہ شہاب کے دل کے معاملات اپنی تمام تر کیفیات کے ساتھ الفاظ کے خوبصورت قالب میں اس طرح ڈھل گئے ہیں کہ قاری کا ذہن و دل اس سے لطف و انبساط حاصل کرتا ہے لیکن کہانی کا المیہ پن اس پر دکھ کی ایسی کیفیت بھی طاری کردیتا ہے کہ اسے محبت کے اس انجام پر رونا آتا ہے۔

اس باب کا مرکزی موضوع قدرت اللہ شہاب اور چندراوتی کی عشقیہ داستان ہے۔چندرا وتی ایک ہندو لڑکی تھی جس کے عشق میں قدرت اللہ شہاب مبتلا ہوگئے تھے۔وہ لیڈی میکلیکن کالج میں پڑھتی تھی۔ دونوں کی پہلی ملاقات پنجاب پبلک لائبریری،لاہور میں ایک ڈرامائی انداز میں ہوئی تھی۔اس کے بعد ملاقاتوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو دھیرے دھیرے عشق کے گہرے رشتے میں تبدیل ہوگیا۔لیکن یہ عشق ابھی پروان ہی چڑھ رہا تھا کہ اس پر اداسی کے سائے لہرانے لگے۔چندراوتی اچانک ٹی۔بی جیسی بیماری کا شکار ہوئی اور کچھ ہی دنوں میں قدرت اللہ شہاب کو غم ہجر کے دائمی درد سے ہمکنار کر کے دنیائے فانی سے کوچ کر گئی۔

قدرت اللہ شہاب نے چندراوتی کے حوالے سے جو معلومات بہم پہنچائی ہے اس کی روشنی میں چندرا وتی کے مزاج اور اس کی نفسیات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک محنت کش اور ذہین لڑکی تھی۔اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔وہ سلائی کا کام کرتی تھی اور یہی اس کا ذریعہ معاش تھا جس سے وہ اپنے پڑھائی کے اخراجات پورا کرتی تھی۔قدرت اللہ شہاب نے چندرا وتی کا ایسا خوبصورت خاکہ کھینچا ہے کہ اس کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے:

’’چندراوتی واقعی سورن کنیا تھی۔وہ سپر ڈیشر سمشیر قسم کی لڑکیوں کی طرح حسین نہ تھی۔لیکن اس کے باوجود اس پر ہر وقت سپیدئہ سحر کا ہالہ چھایا رہتا تھا۔رنگت میں وہ سونے کی ڈلی تھی،اور جلد اس کی باریک مومی کاغذ تھی جس کے آر پار نگاہ جاتی بھی ہے اور نہیں بھی جاتی۔اس کی گردن میں چند باریک باریک نیلی رگوں کی بڑی خوش نماپچی کاری تھی۔اور جب وہ پانی پیتی تھی تو اس کے گلے سے گذرتا ہوا ایک ایک گھونٹ دور سے گنا جا سکتا تھا۔‘‘۳؎

قدرت اللہ شہاب نے چندرا وتی سے اپنے عشق کی داستان کو بڑے دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔انھوں نے اپنے دل کے معاملات کو اپنی تمام تر کیفیات کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر اتارا ہے۔ اس بیان میں نہ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے اور نہ خودنمائی و خودآرائی سے۔بقول احسان اکبر:

’’شہاب صاحب کا یہ ’’زندگی نامہ‘‘ان کے سفر حیات کی جو جھلکیاں دکھاتا ہے اس میں خودنمائی یا ’’سیلف ایگرنڈڈائزمنٹ‘‘سرے سے نہیں ہے۔۔۔چندراوتی جس پر وہ طالب علمی کے زمانے میں فدا ہوگئے تھے اس کے ساتھ مراسم کے ذکر میں کہیں اپنے ’مردانہ شادنزم‘کے تحت محبت کی کامیابیوں یا چندراوتی کو فتح کرلینے یا بقول غالب ’’مار رکھنے‘‘کی روداد درج نہیں کی۔اس سفر میں صرف اپنی یک طرفہ محبت کا اظہار ہے،چندراوتی کی پاکیزگی اور سادگی کا ذکر ہے، شہاب صاحب کے سر پر سوار عشق کا اعتراف ہے اور ان کے اندرونی طوفان اورجذباتی جوار بھاٹے کی تفصیل ہے۔گویا شہاب یہاں بطور ِعاشق بھی نمایاں ،ممتاز اور مختلف ہے۔‘‘۴؎

قدرت اللہ شہاب کو چندرا وتی سے والہانہ محبت تھی۔اس کی یادیں ان کے دامنِ دل سے ہمیشہ وابستہ رہیں ۔زندگی کے آخری حصے میں بھی انھوں نے جس طرح سے اپنے کالج کے زمانے کی محبت کے ایک ایک پہلو کانقشہ کھینچا ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس عشق میں کتنی گہرائی اور گیرائی تھی۔یہ عشق اپنے دونوں اطراف سے پاک جذبات سے عبارت تھا۔اس پر کسی حرص و ہوس،لالچ اورفریب کاشائبہ نہ تھا۔اس میں پانے سے زیادہ کچھ کھونے کا جذبہ موجزن تھا۔ اس کی حدیں مذہب و ملت اور رنگ و نسل سے بالاتر تھیں ۔اس کی فضائیں رومانویت سے معطر تھیں لیکن ان فضائوں میں انسانی دردمند ی اورایثار وہمدردی کے پر تاثیر نغموں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔

قدرت اللہ شہاب نے ’’شہاب نامہ‘‘ میں خارجی دنیاکے ساتھ ساتھ اپنی داخلی دنیا کی بھی تصویر کشی کی ہے۔انھوں نے اپنی زندگی کے ان واقعات کو بھی سچائی اور دیانت داری کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر اتارا ہے جن کو عام طور پر خودنوشت سوانح نگا ر مصلحتاً صیغۂ راز میں رکھتے ہیں یا اپنے گردو پیش کی سماجی اور تہذیبی قدروں کو مد ِنظر رکھ کر رمز و کنایہ کا سہارا لے کر بیان کرتے ہیں ۔لیکن قدرت اللہ شہاب نے اپنی زندگی کے ایسے نازک معاملات اور سر بستہ اسرار ورموز کوبے کم و کاست بیان کیا ہے۔ انھوں نے نہ رمز و کنایہ کا سہارا لیا ہے،نہ تشبیہات و استعارات کا اور نہ اپنے معیارو مرتبے کی پرواہ کی ہے جو عام طور پر ایسے واقعات کو بیان کرنے میں رکاوٹ حائل کرتا ہے۔

چندرا وتی سے اپنے عشق کی داستان کو بے کم وکاست شاملِ روداد کرنے سے ان عناصر کا نمایاں اظہار ہوتاہے جو اردو خودنوشت سوانح نگاری کی تاریخ میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک اچھے خودنوشت سوانح نگار کے لیے سیاسی و سماجی اور تہذیبی و اخلاقی اقدار کی بندشیں کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں ۔چناچہ اس سلسلے میں یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ قدرت اللہ شہاب نے چندرا وتی سے اپنے پاک جذباتی تعلقات کاذکر کر کے نہ صرف اپنی قلبی واردات اور اپنے باطنی اضطراب کا من وعن اظہار کیا ہے بلکہ خودنوشت کے فنی تقاضوں اور اس کے بنیادی اصولوں کا پاس بھی رکھا ہے۔

قدرت اللہ شہاب نے گورنمنٹ ڈگری کالج، لاہور سے ایم۔اے کر نے کے بعد ۱۹۴۰ میں آئی۔سی۔ایس کا امتحان پاس کرکے جموں و کشمیر کا پہلا مسلم آئی۔سی۔ایس افسر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔انھوں نے اس کا میابی کا ذ کراپنی آپ بیتی کے ایک مخصوص باب میں ’’ آئی۔سی۔ایس میں داخلہ ‘‘ کے عنوان کے تحت بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ اس باب کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جس میں انھوں نے سر گورڈن ایرے،سرعبدالرحمٰن اور ڈاکٹر سر رادھا کرشنن کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو آئی۔سی۔ایس انٹرویو بورڈ کے ممبر تھے۔ ڈاکٹر سر رادھا کرشنن کا ذکر بڑے طنزیہ انداز میں کیا ہے۔کیوں کہ بقول قدرت اللہ شہاب وہ ان کو تعصب کی بنیاد پر آئی۔سی۔ایس کے لیے ناموزوں سمجھتے تھے۔ البتہ سر عبدالرحمٰن کاذکر عقیدت کے ساتھ کیا ہے لیکن ان کے ذریعے سے اس دورکے مسلمانوں کی بے بسی اور مجبوریوں کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔اس میں ایک طرف برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ ان کی محبت اور ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے وہیں دوسری طرف انگریزوں اور ہندوئوں کی مسلم مخالف ذہنیت بھی فطری انداز میں بے نقاب ہوتی ہے۔

یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے اپنی اس کامیابی کو جس انداز میں بیان کیا ہے اس میں نہ تفاخرکا رنگ جھلکتا ہے اور نہ بلند آہنگی کی گونج سنائی دیتی ہے۔انھوں نے اپنے احساسات و جذبات کو جن الفاظ میں تحریر کیا ہے وہ عجز و انکساری کے گہرے احساس میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ان میں آسمان کی بلندیوں کو چھونے کے باوجود زمین سے جڑے رہنے کی فطری آرزوپنہاں ہے۔ تہذیبی و اخلاقی قدروں کا پاس ہے۔ اپنے آس پاس کے سادہ طبیعت اور خوش مزاج لوگوں سے کٹ جا نے کا ڈرہے۔اپنے بڑوں کی امیدوں پر پورا اترنے کی شدید لگن ہے۔ان کی آرزئوں اور امنگوں کا خیال ہے۔ان کے دیرینہ خوابوں کو تعبیر کا لباس پہنانے کی گہری تمناہے۔ایسے موقعوں پر اکثر انسان کے اندر احساس برتری کا جذبہ ٹھاٹھیں مارنا شروع کردیتا ہے لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے اور عجز و انکسار اس قدرغالب آجاتاہے کہ وہ اپنی ز بانی اپنی کامیابی کی خبر سنانے میں بھی عار محسوس کرتے ہیں ۔حالاں کہ یہ ایک ایسی کامیابی تھی جس کاحال تفاخر بھرے لہجے میں بیان کیا جا سکتا تھا۔

قدرت اللہ شہاب نے اپنی ملازمت کا باقاعدہ آغاز بھاگلپور،بہار کے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے کیا۔انھوں نے بھا گلپور میں اپنے قیام کے دوران کی روداد کو ’’بھاگلپور اور ہندو مسلم فسادات ‘‘ کے عنوان کے تحت بڑے دلچسپ انداز میں تحریر کیا ہے۔یہاں سے ان کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور ان کی خودنوشت سوانح عمری میں بھی ایک نیا موڑ آتا ہے۔یہی وہ مقام بھی ہے جہاں سے ’’شہاب نامہ‘‘ کی فضائوں پر سیاسی اور تاریخی عنصر کا گہرا رنگ بھی نمایاں ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے جیسا کہ پہلے ہی ذکر کیا گیا ۱۹۴۷سے پہلے ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں آئی۔سی۔ایس افسرکے طورپر اپنے سرکاری فرائض انجام دیے۔اس ضمن میں وہ اسسٹنٹ مجسٹریٹ،بھاگلپور(بہار)،سب ڈویژنل افسر،اورنگ آباد(بہار)،سب ڈویژنل افسر،سہسرام(بہار)،سب ڈویژنل ریلیف افسر،تملوک(بنگال)،سب کلکٹر،برہام پور(اڑیسہ)،انڈر سکریٹری ہوم اینڈفناس ڈیپارٹمنٹس،کٹک(اڑیسہ)جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ’’بھاگلپور اور ہندو مسلم فسادات ‘‘،’’ایس۔ڈی۔او‘‘،’’نندی گرام اور لارڈویول‘‘،’’بملا کماری کی بے چین روح‘‘،’’پاکستان کا مطلب کیا‘‘اور’’سادگی مسلم کی دیکھ‘‘شہاب نامہ کے ایسے ابواب ہیں جن میں قدرت اللہ شہاب نے اپنی زندگی کے اسی دور کا تذکرہ کیاہے۔انھوں نے ان ابواب میں اس دور کے اہم حالات و واقعات کے بارے میں بھی دلچسپ معلومات بہم پہنچائی ہیں ۔ ۹ دسمبر ۱۹۴۱ء تا ۲۲ستمبر ۱۹۴۷ کا یہ زمانہ اگرچہ کہ ایک طویل عرصے پر محیط نہیں ہے لیکن یہ فکری ارتقا کے حوالے سے قدرت اللہ شہاب کی زندگی کا ایک اہم دور ہے۔اسے نہ خودنوشت سوانح عمری کا ناقدنظر انداز کرسکتاہے اورنہ ادب کا قاری۔ آپ بیتی کایہ حصہ ان کی شخصیت سے دلچسپی رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ تاریخ کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے بھی ایک مستند حوالہ کی حیثیت رکھتاہے۔کیوں کہ ان ابواب میں قدرت اللہ شہاب نے ۱۹۴۷سے قبل کے ہندستان کی سیاسی و سماجی اور معاشرتی صورت حال کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔انھوں نے اس ضمن میں قحط بنگال کی تباہ کاریوں ،ہندستان کی تحریک آزادی،کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین سیاسی رسہ کشی، ہندو مسلم فسادات، تحریک پاکستان،محمد علی جناح کے سیاسی نظریات،لیاقت علی خاں کے بجٹ،مہاتما گاندھی،پنڈت جواہر لال نہرواورلارڈ مائونٹ بیٹن کے مابین تعلقات اور تقسیم ہند کے عمل پر اس کے اثرات کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ابتدائی مشکلات کا منظر نامہ بھی پیش کیا ہے۔اس کے علاوہ انگریزوں او ر ہندوئوں کے مابین تعلقات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔مسلمانوں کی بے بسی اور بے سروسامانی کا بھی تذکرہ کیا ہے۔غرض ’’شہاب نامہ‘‘ کے اس حصے میں اس وقت کے ہندوستان کا سیاسی و سماجی منظرنامہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آجاتاہے۔ لیکن اپنے عہد کی تصویر کشی کے اس عمل میں انھو ں نے کسی جذباتی رو میں بہنے کے بجائے حالات و واقعات کو ان کے صحیح تنا ظر میں سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

قدرت اللہ شہاب نے تقسیم ہند کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔انھوں نے حالات و واقعات کا بڑے عالمانہ اور دانش ورانہ انداز میں تجزیہ بھی کیا ہے۔ یہاں یہ بتادینا ضروری ہے کہ ہر انسان کی طرح ان کا بھی اپنا ایک نقطئہ نظر ہے اور جس کا انھیں حق بھی حاصل ہے۔یہ نقطئہ نظر ان کی تحریر پر ہر جگہ جاری وساری رہتا ہے۔لیکن مبہم انداز میں نہیں بلکہ اپنی واضح صورت میں ۔اس میں شک و شبہات اور تذبذب کے بجائے یقین محکم کا عنصر نمایاں ہے۔قدرت اللہ شہاب نظریٔہ پاکستان کے حامی تھے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ وہ اس کے بہت بڑے علمبردار تھے توکچھ غلط نہ ہوگا۔ چنانچہ اپنے اسی نقطئہ نظر کے تحت جب وہ ۱۹۴۷سے قبل کے ہندستان کے حالات و واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کا روشن اور تابناک مستقبل صرف پاکستان کے قیام میں مضمر ہے۔اس سلسلے میں وہ تمام صورتوں کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کے قیام کو برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی،سماجی،تہذیبی،مذہبی،معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی مسائل کا واحد اور دائمی حل قرار دیتے ہیں ۔بقول مسعود قریشی:

’’اس دور کی تصویر کشی تاثراتی اور تجریدی انداز میں اس چابکدستی سے کی گئی ہے کہ تحریک پاکستان اورمطالبۂ پاکستان کا پس منظر اور جواز ذہنوں پر کم اور دلوں پر زیادہ نقش ہوجاتا ہے۔شہاب نے اس بارے میں لیکچر بازی نہیں کی بلکہ حالات و واقعات کو زبان دے دی ہے اور وہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ بر صغیر میں مسلمانوں کی بقا کاپاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘‘۵؎

قدرت اللہ شہاب ۲۷اکتوبر ۱۹۵۴ء تا مئی ۱۹۶۲پاکستان کے ایوانِ صدر میں سربراہانِ مملکت کے سکریٹری کی حیثیت سے رہے۔اس دوران ان کو گورنر جنرل ملک غلام محمد،میجر جنرل اسکندر مرزااورصدر جنرل ایوب خان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ایوانِ صدر کے اندرونی ماحول کو بھی قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی خودنوشت سوانح عمری کے کئی ابواب کو اسی دور کے حالات و واقعات سے مزین کیا ہے۔ان ابواب میں ’’گورنر جنرل ملک غلام محمد‘‘،’’سکندر مرزا کا عروج و زوال‘‘،’’جنرل ایوب خان کی اٹھان‘‘،’’صدر ایوب:اصلاحات اور بیوروکریسی‘‘،’’صدر ایوب اور ادیب ‘‘،’’صدر ایوب اور صحافت‘‘،’’نیشنل پریس ٹرسٹ‘‘،’’ایوب خان اور معاشیات ‘‘،’’صدرایوب اور سیاست دان‘‘،’’صدر ایوب اور طلبا‘‘،’’صدر ایوب اور پاکستان کی خارجہ پالیسی‘‘اور’’صدر ایوب کا زوال‘‘ شامل ہیں ۔

ان ابواب میں قدرت اللہ شہاب نے زیادہ زور پاکستانی سیاست پر دیاہے جس کی وجہ سے بعض اہم مقامات پر ان کی اپنی ذات پیش منظر سے پس منظر میں چلی گئی ہے اور’’ شہاب نامہ‘‘ خودنوشت سوانح عمری کے فنی دائرے سے باہر نکل کر تاریخ کی حدود کی جانب تجاوز کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس عمل کو ہم بلا شبہ آپ بیتی کے اصول و قواعد کے تحت’’ شہاب نامہ‘‘ کی فنی خامی سے تعبیر کرسکتے ہیں لیکن آپ بیتی کے اس حصے کی سیاسی وتاریخی اہمیت کو جھٹلا نہیں سکتے کیوں کہ اس حصے میں پاکستانی سیاست کے ابتدائی چالیس برسوں کی تاریخ جس دلچسپ پیرائے میں سامنے آتی ہے اس کی نظیر اس موضوع سے متعلق کتابوں میں بھی ملنا مشکل ہے۔ان ابواب کے مطالعے سے گورنر جنرل ملک غلام محمد،میجر جنرل سکندر مرزااور صدر جنرل محمد ایوب خان کے بارے میں بہت مفید معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔قدرت اللہ شہاب نے پاکستان کے ان تینوں سربراہوں کا تذکرہ تفصیل سے کیا ہے اور ان کی شخصیتوں کا تجزیہ عالمانہ اور مدبّرانہ انداز میں اس طرح کیا ہے کہ ان کا اصل چہرہ سامنے آجاتاہے۔اس حصے کی اہمیت بہت زیادہ اس لیے بھی ہے کیوں کہ اس کی مدد سے پاکستانی سیاست کے حوالے سے ایسی تلخ باتیں سامنے آتی ہیں جو اس کتاب کے شائع ہونے سے پہلے صیغۂ راز میں تھیں ۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو ’’شہاب نامہ‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کو پاکستان کے ایوانِ اعلا کے اندر کے ماحو ل سے متعارف کراتی ہے اور اس کے سامنے ایسے راز کھول کر رکھ دیتی ہے جن تک اس کی رسائی ممکن نہ تھی۔یہ پاکستانی سیاست کے درپردہ رازوں کی سچی عکاس ہونے کے ساتھ ساتھ اس عہد میں پاکستان کے ایوانِ حکومت میں ہونے والی ان خفیہ سیاسی ریشہ دوانیوں کی بھی چشم دید داستان ہے جنہوں نے سیاسی،سماجی،معا شی اور دفاعی معاملات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے جغرافیہ پر بھی اپنے منفی اثرات مرتب کیے۔

قدرت اللہ شہاب نے ٹھوس حقائق اور معتبر حوالوں کی روشنی میں پاکستان کے ایوانِ اعلا کے اندر اور باہر کے سیاسی حالات کا تجزیہ اس انداز میں کیا ہے کہ اس دور کے پاکستان کی سیاسی صورتِ حال کا ایک ایک پہلو اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ سامنے آتا ہے۔انھوں نے حکمرانوں کے دلچسپ خاکے بھی کھینچے ہیں اور ان کے مزاج،کردار،عادات و اطوار،مذہبی عقائداور گھریلو ماحول کے ساتھ ساتھ ان کی عملی زندگی کے خوبصورت نقش بھی ابھارے ہیں نیز صحافت،سیاست،تعلیم،ادب،بیوروکریسی،معاشیات،خارجہ پالیسی اور عوام سے متعلق ان کے نظریات کو بھی مثالوں اور حوالوں کے ساتھ احاطۂ تحریر میں لیا ہے۔بقولِ مسعود قریشی:

’’یہ حصّہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔اس میں قاری پاکستان کے ایک اہم تشکیلی دور میں صاحبانِ اختیارِکل کو حاکموں کی حیثیت سے بھی دیکھتے ہیں اور انسانوں کی حیثیت سے بھی۔گورنر جنرل غلام محمد،صدر سکندر مرزااورصدر ایوب کی زندگی کی جو جھلکیاں شہاب نامہ میں ملتی ہیں وہ کسی مورخ کی تاریخ میں نہیں ملیں گی۔ان میں پس پردہ جھانکنے کا لطف بھی شامل ہے۔‘‘ ۶؎

 مسعود قریشی کی اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔قدرت اللہ شہاب پاکستان کے ایوانِ صدر میں کم وبیش آٹھ سال رہے لیکن اس دوران ان کا سب سے نمایاں پہلو یہ رہا کہ وہ شخصیت پرستی کے اسیر نہیں ہوئے۔انھوں نے گورنر جنرل ملک غلام محمد،میجر جنرل اسکندر مرزا اور صدر جنرل ایوب خان کو جیسا دیکھا ویسا ہی پیش کیا۔وہ نہ ان کے سیاسی نظریات کی تبلیغ کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے فیصلوں کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار بڑی بے باکی سے عالمانہ اور غیرجانبدارانہ انداز میں کیا ہے لیکن اپنی رائے میں اعتدال اور توازن بھی قائم رکھا ہے۔انھوں نے تصویر کا ایک ہی رخ دکھانے پر اکتفا نہیں کیا ہے۔وہ جہاں حکمرانوں کی خامیوں اور کوتاہیوں کا ذکر طنزیہ انداز میں کرتے ہیں وہاں ان کے اچھے کاموں کی فہرست کو بھی شامل روداد کرتے ہیں ۔یہ وہ عمل ہے جو قدرت اللہ شہاب کی غیر جانب داری کا عکاس ہے۔

قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں تقسیم ہند،کشمیر اور پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز کے حوالے سے جو حالات و واقعات تحریر کیے ہیں وہ اخباری رپورٹوں ،سنی سنائی باتوں یامحض کسی جذباتی و انسانی وابستگی کے بجائے آنکھوں دیکھے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ براہ راست مشاہدات پر مبنی ہیں ۔انھوں نے مذکورہ موضوعات سے متعلق ان تمام تاریخی حالات و واقعات کو جو شامل روداد کیے ہیں کو نہ صرف اپنی آنکھوں کے سامنے برپا ہوتے ہوئے دیکھا بلکہ خود ان کا شکار بھی ہوئے۔ وہ اس ماحول کی تصویر کشی کیے بغیر آ گے نہیں بڑھ سکتے تھے جس میں انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بسر کیااور نہ ہی ان لوگوں کا تذکرہ کیے بغیر اپنی آپ بیتی کے بہت سے حصوں کو تحریر کر پاتے جن کے ساتھ انھوں نے زندگی بسرکی۔یہی وجہ ہے کہ وہ بچپن کے احوال و کوائف کو اس عہد کے جموں وکشمیر کے حالات سے الگ کرکے بیان نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی اپنی ملازمت کو تقسیم ہند اور پاکستانی سیاست کے تذکرے کے بغیر احاطۂ تحریر میں لے سکتے تھے۔کیوں کہ وہ ان دونوں کا حصہ تھے۔لیکن ان کو یہ معلوم تھا کہ وہ کوئی تاریخ یا کسی کی سوانح عمری نہیں لکھ رہے ہیں ۔وہ خودنوشت سوانح عمری کے فن سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اس کے برتنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔انھیں اس بات کا بھی ادراک تھا کہ خودنوشت سوانح عمری میں مصنف کی ذات کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور اسی ادراک کے پیش نظر انھوں نے خود کواپنی آپ بیتی کے مرکزی دائرے میں رکھ کر اپنے عہد کے حالات و واقعات کے اہم نقوش ابھارے ہیں ۔

زبان و بیان کے حوالے سے ’’شہاب نامہ‘‘ایک بے مثال کار نامہ ہے۔ایسا کارنامہ جس کی نظیر ملنامشکل ہے۔ اس کا اسلوب بڑا دلچسپ اور دلکش ہے۔یہ ذہن و دل کو تھکا دینے کے بجائے ان کو تازگی اور لطف وانبساط بخشتا ہے۔اس کی موجوں میں تلاطم نہیں بلکہ ایک سکون اور ٹھہرأوہے۔یہ بہت سے عناصر کا امتزاج ہے۔اس میں شوخی بھی ہے اور شگفتگی بھی،طنز کی کاٹ بھی ہے اور ظرافت کا عنصر بھی،گہرائی بھی ہے اورگیرائی بھی،حقیقت بھی ہے اور افسانویت بھی،ایجاز بھی ہے اور اختصار بھی،روانی بھی ہے اور ٹھہرأوبھی، رومانویت بھی ہے اور تصوّف کا گہرارنگ بھی۔اس کی دیواروں کو مختلف رنگوں سے سجایاگیا ہے۔ان رنگوں میں خاکہ نگاری،منظر نگاری،سوانح نگاری،تاریخ نگاری،جزئیات نگاری،مکالمہ نگاری،کردار نگاری اورواقعات نگاری کے رنگ بھی شامل ہیں ۔لیکن ان رنگوں کا استعمال صر ف اسی حد تک کیا گیا ہے جہاں تک کہ یہ مرکزی رنگ کو نمایاں کرنے میں مددگار و معاون ثابت ہو سکتے تھے۔اس کی نثر میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک شاہ کار نثری پارے کی زینت ہوتی ہیں ۔

شہاب نامہ کی دنیا میں اگرچہ بہت وسعت ہے،گہرائی ہے،گیرائی ہے،موضوعات کا تنوع ہے،ضخامت ہے لیکن زبان ایسی دلکش ہے کہ پڑھنے والا اس کے سحر میں اس قدر ڈوب جاتا ہے کہ اسے کتاب کے اختتام تک اس وسعت،گہرائی،گیرائی،موضوعات کے تنوع اورضخامت کا کوئی احساس نہیں ہوتااور نہ ہی الفاظ،تشبیہات،استعارات اورمحاورات کے مناسب استعمال سے پیدا ہونے والی سحر خیزی اس کا احساس ہونے دیتی ہے۔اس کتاب کی زبان میں ایسی تاثیر ہے کہ قاری ایک عرصے تک اس کے اثر سے خود کو باہر نہیں نکال پاتا ہے اور وہ ان مناظر کی حسین تصویروں کی کشش اور جاذبیت میں بہت دیر تک ڈوبا رہتا ہے جو مصنف نے نہایت سلیقے سے اپنے الفاظ کے مختلف رنگو ں سے اس کے ذہن و دل کے پردوں پر نقش کی ہوتی ہیں ۔

’’شہاب نامہ ‘‘ میں داستانوں کا سا انداز بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔اس سلسلے میں ’’نائنٹی‘‘ کا کردار جس کے نام سے قدرت اللہ شہاب کو خط موصول ہوتے تھے اور ’’بملا کماری کی بے چین روح‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کیے گیے حالات و واقعات کو پیش کیا جاسکتا ہے جن میں نجی احوال و کوائف کو مافوق الفطری عناصر اور محیرالعقول واقعات کا لباس پہنا کر بیان کیا گیاہے۔آپ بیتی کے ان دونوں موضوعات کی فضاؤں پر داستانوں کا عکس چھایا ہوا ہے اوراس ضمن میں ایسے واقعات بیان کیے گیے ہیں جن کو ایک جذباتی انسان تو قبول کرسکتا ہے لیکن ایک ذی شعور انسان ان پر ایمان نہیں لا سکتا۔ایسے واقعات داستانوں میں اس سے بھی زیادہ پر اثر انداز میں بیان کیے جاسکتے ہیں لیکن آپ بیتی کی ہئیت اور اس کا فن اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ناقدین ِادب نے’’ شہاب نامہ‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے سب سے زیادہ اعتراض انہی واقعات پر کیا ہے۔بعض نے انہی واقعات کا حوالہ دے کر پوری آپ بیتی کو مشتبہ قرار دیا ہے جو ایک غیر مناسب رویّہ ہے۔

قدرت اللہ شہاب نے’’ شہاب نامہ‘‘ میں ایسی تحریریں بھی شامل کی ہیں جن کو آپ بیتی میں شامل کرنے کا نہ تو کوئی جوازبنتا تھا اور نہ ہی اس کے امکانات موجود تھے۔یہ وہ تحریریں ہیں جو ان کی مشہور تخلیقات پر اردو کے نامور ادیبوں اور ناقدین نے لکھی ہیں ۔خاص طور پر ان کے دوافسانوں ’’یا خدا‘‘ اور ’’ماں جی‘‘ پر۔ ان تحریروں میں ممتاز شیریں کے نام محمدحسن عسکری کا تحریرکردہ خط، ابوالفضل صدیقی کا مضمون’’یاخدااور اس کا دیباچہ‘‘ اظہر سہیل کا ’’نظرے خوش گزرے‘‘، افسانہ ’’ماں جی‘‘ پر مرزا ادیب کا تبصرہ ’’ماں جی اردوادب کا ایک زندہ کا رنامہ ‘‘ اوراپنی بیوی ڈاکٹر عفت شہاب کی وفات پر سیارہ ڈائجسٹ میں کرنل اظہر کی شائع کر دہ تحریر ’’ڈاکٹر عفت شہاب ایک نوحہ۔ ایک تاثر‘‘ شامل ہیں ۔موخرالذکر مضمون کو چھوڑ کردوسری سبھی تخلیقات ان کی ادبی زندگی سے متعلق ہیں اور یہ ــ’’شہاب نامہ‘‘کے شائع ہونے سے پہلے منظر عام پر آچکی تھیں ۔اس عمل کے پیچھے محض ا پنی ادبی اہمیت جتلانے اور خود کو ایک حساس اور بڑا ادیب منوانے کی شعوری کوشش کار فرما نظر آتی ہے۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ’’یاخدا‘‘اور ’’ماں جی‘‘ قدرت اللہ شہاب کے دو شاہ کار افسانے ہیں ۔ایک طویل اور ایک مختصر۔ ’’یا خدا ‘‘ کو بعض ناقدین نے فسادات کے موضوع پر لکھے گیے افسانوں کا بادشاہ بھی قرار دیا ہے۔قدرت اللہ شہاب نے اگر ان دو افسانوں کے علاوہ کوئی اور افسانہ نہیں لکھا ہوتا تب بھی انہیں اردو افسانے کی دنیا میں ایک اچھے افسانہ نگار کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جاتا۔ ’’شہاب نامہ ‘‘ کے شائع ہونے سے پہلے انہیں اردو کے ایک اچھے افسانہ نگار کی حیثیت سے تسلیم کیا جا چکا تھا اوراردو ادب کی دنیا میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔ ان کی ادبی خدمات اظہر من الشمس تھی۔آ پ بیتی میں ان کو بہ طور ادیب خود کو منوانے کی ضرورت نہ تھی۔ ان کی اس کوشش نے آپ بیتی کے حسن کو مجروح اور اس کی ضخامت میں بے جا اضافہ کرکے خودنمائی کا ایک ایسا ہلکا سا تاثر ابھاراہے جسے اس صنف کے فن کی رو سے غیر مناسب قرار دیا جا سکتا ہے۔

ان چند خامیوں سے قطع نظر ’’شہاب نامہ‘‘ ایک اہم اوردلچسپ خودنوشت سوانح عمری ہے۔ اس کے مطالعے سے جہاں قدرت اللہ شہاب کی زندگی کے تمام اہم پہلوئوں پر تفصیل سے روشنی پڑتی ہے وہیں ان کے عہد کامنظر نامہ بھی اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔یہ اردو ادب کاایک ایسامتن ہے جس کی اہمیت ہر زمانے میں رہے گی۔ اسے آج بھی اسی شوق کے ساتھ پڑھا جاتا ہے جس طرح اشاعت کے پہلے دنوں میں پڑھا جاتا تھا۔ہر چند کہ اس کتاب کے مواد اور قدرت اللہ شہاب کے نظریات کی مخالفت میں بہت کچھ لکھا بھی گیا لیکن اس کے باوجود اس کی مقبولیت میں کبھی بھی کمی نہ آئی۔اردو خودنوشت سوانح نگاری کی تاریخ میں موضوعات کے تنوع کے لحاظ سے اس نوع کی خود نوشتیں اگرچہ نایاب تو نہیں لیکن کم یاب ضرور ہیں ۔

حواشی:

 ۱ : شہاب نامہ، قدرت اللہ شہاب،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،دہلی،۲۰۱۳،ص ۱۰۷

۲ : فرزندِ کشمیر قدرت اللہ شہاب :حیات وخدمات، مرتبہ،ڈاکٹر جو ہر ْقدوسی،کشمیر بک فائونڈیشن، سری نگر، ۲۰۱۲،ص ۲۲

۳ : شہاب نامہ، قدرت اللہ شہاب،ا یجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،دہلی،۲۰۱۳،ص ۱۲۲

۴ : ذکر ِ شہاب، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، پاکستان،۲۰۱۱،ص ۱۳۵

 ۵ : ایضاً،ص ۱۱۲

۶ : ایضاً،ص۱۱۳

QUDRAT ULLAH SHAHAB AUR UN KI KTAB:

    ”SHAHAB NAMA”

 Bilal Ahmed Tantray

 Department of Urdu

 Jamia Millia Islamia

  New Delhi 110025

  Bilalahmed8130@gmail.com

  Ph No: 8130686467

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.