راجندر سنگھ بیدی کی فنکارانہ جہت۔۔افسانہ ’’لاجونتی ‘‘ کے خصوصی حوالے سے

 راجندر سنگھ بیدی کانام اردو فکشن کے صف اول کے فن کاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اگر چہ اپنے ہم عصروں سے نسبتاً کم لکھا لیکن اس پایہ کا لکھا کہ اردو فکشن کی تاریخ مرتب کرنے والا کوئی بھی سنجیدہ مورخ و محقق ان کے نام و کام سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ انھوں نے سعادت حسن منٹو اور کرشن چند ر کی طرح قلم برداشتہ نہیں لکھا بلکہ نہایت ہی محتاط انداز میں لکھا جس وجہ سے ان کے یہاں مقدار کے بجائے معیار کو دیکھا جاسکتاہے۔ منٹو نے انہیں ایک بار کہا تھا کہ’تمہاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو، لکھنے سے پہلے سوچتے ہو، لکھتے وقت سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد سوچتے ہو‘‘ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بیدی آہستہ آہستہ سوچ سمجھ کر لکھتے تھے۔اگرچہ بیدی کے مقابلے میں منٹو اور کرشن چندر بہت جلدتوجہ کا مرکز بنے اور اس کی وجہ بقولِ نارنگ منٹو کی جنسیت اور کرشن چندر کی رومانیت تھی لیکن اس کے باوجود بیدی کی فنی عظمت ہر دَور میں برقرار رہی ہے۔انہوں نے ہمیشہ فن پر توجہ دیتے ہوئے ادبی وقار اور اعلیٰ معیار کو مقدم سمجھا۔ وہ ایسی کہانیاں لکھنے کے قائل نہیں تھے جنہیں ہر نتھو خیرا سمجھ جائے بلکہ وہ قارئین کے چہروں پر ناسمجھی اور ایمانداری کی علامت کو فن کی معراج تسلیم کرتے تھے۔ بیدی کو صنفِ افسانہ سے اچھی خاصی واقفیت تھی۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ افسانہ کس کو کہتے ہیں ، یہ کیسے لکھا جاتا ہے اور اس کے فنی لوازمات کیا ہیں ؟چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں :

’’ افسانے اور شعر میں کوئی فرق نہیں ۔ ہے تو صرف اتنا کہ شعر چھوٹی بحر میں ہوتا ہے اور افسانہ ایک ایسی لمبی اور مسلسل بحر میں جو افسانے کے شروع سے لے کر آخر تک چلتی ہے۔ مبتدی اس بات کو نہیں جانتا اور افسانے کو بہ حیثیت فن شعر سے زیادہ سہل سمجھتا ہے ………یہ بات طے ہے کہ افسانے کا فن زیادہ ریاضت اور ڈسپلن مانگتا ہے۔ آخر اتنی لمبی اور مسلسل بحر سے نبرد آزما ہونے کے لیے بہت سی صلاحیتیں اور قوتیں تو چاہییں ہی۔ باقی کی اصناف ادب، جن میں ناول بھی شامل ہے، کی طرف جزواً جزواً توجہ دی جاسکتی ہے لیکن افسانے میں جزو کُل کو ایک ساتھ رکھ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کا ہر اوّل اور آخری دستہ مل کر نہ بڑھیں تو یہ جنگ جیتی نہیں جاسکتی‘‘ ( اردو افسانہ : روایت اور مسائل، ص ۳۱۔ ۳۲ )

 راجندر سنگھ بیدی نے اردو کے افسانوی ادب کووسعت بخشتے ہوئے جو مجموعہ جات تفویض کیے ہیں اُن میں ’’ دانہ و دام ‘‘( ۱۹۳۶ء )، ’’ گرہن ‘‘( ۱۹۴۲ء )، ’’ کھوکھ جلی ‘‘ ( ۱۹۴۹ء )، ’’ اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ ( ۱۹۶۵ء )، ’’ ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘ ( ۱۹۷۴ء ) اور ’’ مکتی بودھ ‘‘ ( ۱۹۸۲ء ) شامل ہیں ۔ان سبھی مجوعہ جات کے مشتملات کے مطالعے سے مشاہدے میں یہ بات آتی ہے راجندر سنگھ بیدی کا اصل موضوع گھریلو زندگی کی چھوٹی چھوٹی مسرتیں اور دکھ درد ہیں ۔ وہ انسانی نفسیات سے اپنی واقفیت کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے نہایت ہی کامیابی کے ساتھ کہانی کا تانا بانا بنتے نظر آتے ہیں ۔ آل احمد سرور نے اسی لیے کہا ہے کہ :

’’ بیدی کہانی لکھتے ہیں ۔ نہ سیاست بگھارتے ہیں ، نہ فلسفہ چھانٹتے ہیں ، نہ شاعری کرتے ہیں ، نہ موری کے کیڑے گنتے ہیں ۔ عام زندگی، عام لوگ، عام رشتے ان کے افسانوں کے موضوع ہیں مگر ان میں وہ ایسی طاقت اور توانائی، زندگی اور تابندگی، معنویت اور انفرادیت بھر دیتے ہیں کہ ذہن میں روشنی ہوجاتی ہے۔ ان کے یہاں اسطور سازی اور جنس کی واقعی اہمیت ہے مگر اس سے زیادہ اہمیت زندگی کے وژن کی ہے۔ ‘‘

اس طرح راجندر سنگھ بیدی افسانہ لکھنے کے لیے اپنا موادسماجی زندگی ہی سے حاصل کرتے ہیں اور سماجی بد حالی کو صداقت اور فنی خلوص کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے بظاہر چھوٹے چھوٹے واقعات کو کو لے کر کہانی کا تانا بانا بنتے ہیں اور سماجی زندگی، ظلم وتشدد، اخلاقی اقدار کی پامالی، بد دیانتی، نفس پرستی اور حرص و ہوس، معمولی اور غریب لوگوں کی سیدھی سادی زندگی، متعدد گھریلو مسائل اور سماجی زندگی کے متنوع حالات و کیفیات کو لے کر خوبصورتی کے ساتھ افسانے کو تحریر کرتے ہیں ۔ راجندر سنگھ بیدی نے جیسا کہ ذکر ہوا کہ اپنے معاصرین کے مقابلے میں کم لکھا۔ اپنے افسانوی سفر میں انھوں نے کم و بیش ۶۳ کہانیاں یادگار چھوڑی ہیں ۔ گرم کوٹ، اپنے دکھ مجھے دے دو، کوکھ جلی، لاجونتی، صرف ایک سگریٹ،متھن، بھولا، پان شاپ، گرہن اور ایک باپ بکاؤ ہے جیسی کہانیاں ان فنی عظمت کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں ۔

 افسانہ ’’ لاجونتی ‘‘ کا سنِ تحریر ۱۹۵۱ء ہے اور یہ مجموعہ ’’ اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ میں شامل ہے، جو ۱۹۶۵ء میں پہلی بار منصہ شہود پر آیا۔ بیدی نے جو کچھ لکھا، وہ انتخاب ہے ہی، پھر بھی اگر ان کی چند مشہور ترین کہانیوں کا سخت ترین انتخاب مقصود ہو تو اس میں یقینا ’’ لاجونتی ‘‘ کو بھی جگہ ملے گی کہ فنی خصوصیات سے متصف یہ کہانی تقسمِ ملک کے سانحے اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ سماجی صورتِ حال کے کئی پہلوؤں کی نہ صرف نقاب کشائی کرتی ہے بلکہ صنف ِ نازک جس سفاکانہ ماحول کی بھینٹ چڑھ گئی، اس ماحول کے تشکیلی عناصر کی پردہ دری بھی کرتی ہے۔ یہ تقسیم کے سانحے کی شکار ایک مغویہ عورت کی کہانی ہے جس میں بیدی نے عورت کی نفسیات، جذبات اور احساسات کے ساتھ ساتھ مذہبی منافرت، تنگ نظری اورظاہر داری کو پیش کیا ہے۔افسانے کا آغاز پنجابی گیت کے ایک ٹکڑے سے ہوتا ہے، جوکہانی میں پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے:

’ ’ ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے ‘‘

 یعنی ( یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ری ہاتھ بھی لگاؤ تو کملا جاتے ہیں )۔

 آگے جب قاری افسانے کا مطالعہ کرتا ہے، تو کہانی کی پیشانی پر کنندہ اس پنجابی گیت کی معنویت آشکار ہوجاتی ہے۔ بلاشبہ راجندر سنگھ بیدی غضب کا مشاہدہ رکھتے ہیں اور ان کے قلم سے ایسی کہانیاں نکلتی ہیں جو بظاہر چھوٹے چھوٹے گھریلو واقعات پر مبنی ہوتی ہیں لیکن ان کی تہہ میں بہ یک وقت فن کارکی سماجی،معاشی، سیاسی اور نفسیاتی بصیرتیں زیریں لہر کی طر ح کارفرما ہوتی ہیں ۔ پسماندہ طبقے کی عورتوں کی گٹھن اور جنسی محرومیوں پر بیدی نے کامیاب افسانے لکھے ہیں ، اگر چہ ان کے معاصرین نے بھی اس موضوع پر کہانیاں لکھی ہیں لیکن بیدی کی مہارت بقول خالد اشرف عورتوں کے باطن میں پہنچنے اور اُن کی داخلی دنیاؤں کے اسرار کو منکشف کرنے پر مبنی ہے۔ کہانی ’’ لاجونتی ‘‘ کا موضوع بھی تقسیمِ ملک کے وحشیانہ واقعات ہیں ۔ بٹوارے کے بعد جب لوگ خون کی ہولی کے روح فرسا مناظر سے اوب گئے، تو ان میں سے کئی لوگ ایسے بھی تھے جن کے اجسام نہیں بل کہ روح اور دل زخمی تھے۔ ایک طبقے نے( ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر، جن کے دل زخمی تھے) متحد ہوکر ’’ پھر بساؤ ‘‘ کمیٹی تشکیل دی۔ جس کے تحت ’’ کاروبار میں بساؤ ‘‘، ’’ زمین پر بساؤ ‘‘، ’’ گھر میں بساؤ ‘‘ اور ’’ دل میں بساؤ ‘‘ جیسے پروگرام شروع کر دیے گئے۔ موخر الذکر پروگرام مغویہ عورتوں ( جو تقسیم ملک کے دوران اغوا ہوچکی تھیں ) کو دل سے عزت و احترام دینے کے لیے شروع کردیا گیا تھا اور اس کو عملی جامہ پہنا نے کے لیے نارائن بابا کے مندر کے پاس ’’ ملّا شکور‘‘ نامی محلے میں ایک کمیٹی قائم ہوگئی جس کا سیکریٹری سندر لال منتخب ہوگیا جس کے بارے میں معتبر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ جانفشانی سے اس لیے کام کرے گا کہ اس کی اپنی بیوی بھی ایک مغویہ عورت ہے۔ سندر لال بابو، رسالو اور نیکی رام جب ’’ ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے ‘‘ گاتے، تو لاجو ( لاجونتی ) کی یاد سندرلال کو جھنجھوڑ دیتی اور وہ خیالات کے ایک اتھاہ سمندر میں ڈوب جاتا کہ نہ جانے لاجو کہاں اور کیسے ہوگی، وہ واپس آئے گی بھی یا نہیں …………۔ عرصہ گزرگیا، سندر لال نے لاجو کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا تھا اور لوک سیوا میں منہمک تھا لیکن جب بھی وہ مذکورہ گیت سنتا تھا تو اسے یہ خیال آتا تھا کہ آخر انسان کا دل لاجونتی کے پودے کی طرح نازک ہوتا ہے جو ذرا سی چھون سے کملا جاتا ہے، ایک وہ خود ہے جو لاجو ( لاجونتی ) سے بدسلوکی حتیٰ کہ انتہائی بدسلوکی کرتا تھا اورایک لاجو تھی، جو یہ سب سہ رہی تھی اور طرہ یہ کہ لاجو کا شکوہ گلہ سندر لال کی معمولی سی مسکراہٹ کی نذر ہوتا تھا کیوں کہ وہ سب کچھ ایسے بھلا دیتی تھی جیسے اس کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہی نہ ہو۔ پربھات پھیری کے دوران سندر لال کو لاجو پر جب اپنی کی ہوئی ظلم و زیادتی یاد آتی ہے، تو وہ اُس کے دل پر پہاڑ ٹوٹ پڑتا تھا اور وہ سوچتا کہ کاش اُسے لاجو ایک بار مل جاتی، تو وہ اسے سچ مچ دل میں بسا لے گا اور لوگوں پر اس حقیقت کو آشکار کرے گا کہ ان مغویہ عورتوں کے اغوا ہونے اور پھر فسادیوں کی ہوسناکیوں کی بھینٹ چڑھنے میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے اور جو سماج ایسا سمجھتا ہے وہ بالکل گلا سڑا سماج ہے۔ ’’ دل میں بساؤ ‘‘ پروگرام کے تحت محلہ ملا شکور کی کمیٹی نے کئی پربھات پھیریاں نکالیں لیکن کئی لوگ ان کی آواز اور مطالبات کو پروپیگنڈہ سمجھتے تھے۔ بہر حال ایک وقت ایسا آیا جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اغوا شدہ عورتوں کا تبادلہ ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے مغویہ عورتوں کو اپنے اپنے گھر لے لیا لیکن ان میں کچھ بدنصیب ایسی بھی تھیں جن کو ماں باپ،شوہر، بھائیوں اور بہنوں نے پہچاننے سے اس لیے انکار کردیا کہ وہ اجنبی مردوں کے ساتھ رہ کر لوٹیں تھیں ۔ لاجونتی مغویہ عورتوں کے اس قافلے میں نہیں آئی تھی۔ ایک دن لال چند سندر لال کو اس بات کی بدھائی دیتا ہے کہ اس نے لاجو کو واگہ کی سرحد پر دیکھا۔ سندر لال امرتسر جانے کی تیاری کرنے لگا لیکن اتنے میں لاجو کے آنے کی خبر ملی۔ وہ چوکی کلاں ( جہاں پر مغویہ عورتوں کا تبادلہ ہورہا تھا ) پہنچا اور لاجو کو خوف کے جذبے سے کانپتے ہوئے پایا۔ لاجو اس لیے کانپ رہی تھی کیوں کہ سندر لال اُس کے ساتھ پہلے ہی بدسلوکی کرتا آیا ہے اور آج جب کہ وہ ایک قصور وار ٹھہری ہے کہ اجنبی مرد کے ساتھ رہ کر آئی ہے، نہ جانے سندر لال کیا کیا گل کھلائے گا۔ سندر لال کو دھچکا سا لگتا ہے کہ اس نے لاجو کے بارے میں جو سوچ رکھا تھا، وہ سب غلط تھا۔ لاجو کا رنگ نکھر گیا تھا، وہ قدرے تن درست نظر آرہی تھی اور پاکستان میں خوش رہی تھی۔ کئی سوالات نے سندر لال کو پریشان کردیا لیکن اس کے باوجود اثباتی مردانگی کا ثبوت دیتے ہوئے انھوں لاجو کو اپنے گھر کی اور لیا جب کہ اس دوران کئی لوگ کہہ رہے تھے کہ ’’ ہم نہیں لیتے مسلمران( مسلمان ) کی جھوٹی عورت ……‘‘

 سندر لال جس کمیٹی کا سیکریٹری تھا اس کے پروگرام ’’ دل میں بساؤ ‘‘ کو اس نے قول و فعل دونوں اعتبار سے نبھایا اور جو لوگ اس کی باتوں کو پرپیگنڈہ یا جذباتیت سے پر سمجھتے تھے، وہ سندرلال کے قول و فعل کی ہم آہنگی سے متاثر ہونا شروع ہوگئے۔ ’’ سندرلالنے لاجو کی سورن مورتی کو اپنے دل میں استھاپت کر لیا تھا اور خود دروازے پر بیٹھا اس کی حفاظت کرنے لگا تھا ‘‘ اور لاجو بھی سندرلال کے اس غیر متوقع اچھے سلوک کو دیکھ کر حیران بھی ہوگئی اور اس سے خوش بھی۔ سندرلال کو اپنی سابقہ غلطیوں پر پچھتاوا ہورہا تھا اور اب وہ لاجونتی کو لاجو کہہ کر نہیں بلکہ ’’ دیوی ‘‘ کہہ کر پکارنے لگا۔ یہ وہی لاجو تھی جو سندرلال کے جبر تشدد کا نشانہ بنتی تھی اور آج سندرلال ہی اسے دیوی کا درجہ دیتا ہے۔ لاجو جب مغویہ کی حیثیت سے بربریت کی داستان سنانا چاہتی ہے تو سندرلال یہ کہہ کر ٹال دیتا ہے کہ:

 ’’ جانے دو بیتی باتیں ! اس میں تمھارا کیا قصور ہے۔ اس میں قصور ہے ہمارے سماج کا جو تجھ ایسی دیویوں کو اپنے ہاں عزت کی جگہ نہیں دیتا۔ وہ تمھاری ہانی نہیں کرتا اپنی کرتا ہے۔ ‘‘

  سندرلال کے اچھے سلوک نے لاجو کو شک میں ڈال دیا کیوں کہ وہ سندرلال کی وہی پرانی لاجو بن کر رہنا چاہتی تھی جو ’’ گاجر سے لڑ پڑتی اور مولی سے مان جاتی ‘‘ لیکن سندرلال اب بالکل بدل گیا تھا، اس کے رویے میں تبدیلی آچکی تھی اور وہ لاجو کو دیوی کا سا سمان دینا چاہتا تھا۔ افسانے کا اختتام ان سطور سے ہوتا ہے :

’’ لاجونتی کوئی کانچ کی چیز ہے جو چھوتے ہی ٹوٹ جائے گی اور لاجو آئینے میں اپنے سراپا کی طرف دیکھتی اور آخر اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتی ہے پر لاجو نہیں ہو سکتی۔ وہ بس گئی، پر اجڑ گئی … سندرلال کے پاس اس کے آنسو دیکھنے کے لیے آنکھیں تھیں اور نہ آہیں سننے کے لیے کان ! … پربھات پھیریاں نکلتی رہیں اور محلہ ملّا شکور کا سدھارک رسالو اور نیکی رام کے ساتھ مل کر اسی آواز میں گاتا رہا

’’ ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے ‘‘

 اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ افسانہ ’’ لاجونتی ‘‘ تقسیمِ ملک کے پس منظر میں لکھا گیاہے۔ اس کی مرکزی کردار پنجاب کے ایک دیہات کی رہنے والی لاجو ہے جسے فرقہ پرستوں نے اغوا کرکے آلودہ کردیا تھا۔ یہاں اعلیٰ طبقے کو پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ سندر لال اور لاجونتی، رسالو اور نیکی رام جیسے کردار گھریلو اور معمولی ہیں ۔ صنف ِ افسانہ کے فنی لوازمات کی رو سے اگر افسانہ ’’ لاجونتی ‘‘ کو دیکھیں تو یہ ایک کامیاب کہانی نظر آتی ہے کہ یہ کردار،مکالمہ، منظر نگاری اور وحدتِ تاثر جیسے افسانے کے عناصر ترکیبی کا پاس و لحاظ رکھتی نظر آتی ہے۔ بیدی نے انسان کو فرقوں میں منقسم نہیں کیا بلکہ پورے خلوص کے ساتھ ہندوستانی معاشرے کو اپنی کہانیوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں :

 ’’ میں ہندوستانی تہذیب اور عقائد کو پیش کرنے کے لیے اساطیری عناصر پیش کرتا ہوں ۔ ان کے دیوی دیوتا، ان کے مندر مسجد، ان کو SYMBOLبناتا ہوں ……میں اپنی ذات میں نہ صرف ہندوستانی ہوں بلکہ ہندوستان ہوں ‘‘

کردار نگاری کا فن بیدی کو خوب آتا ہے۔ بابو، رسالو، نیکی رام، لاجو، سندرلال اور لال چند جیسے کردار ماورائی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے بل کہ سامنے کے معمولی کردار معلوم ہوتے ہیں جن کی نفسیاتی، ذہنی اور روحانی گھٹن کو بیدی کامیابی کے ساتھ قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر برج پریمی نے درست لکھا ہے کہ :

 ’’ بیدی کے یہاں کردار نگاری کا فن سلجھا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے اکثر اوقات وہ پلاٹ کی سکیم پر زور نہیں دیتے۔ ان کا سارا زور کردار کو ابھارنے پر صرف ہوتا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے واقعات کو جوڑتے ہیں اور ان سے تاثر کی وحدت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وحدت کا کلی تاثر کردار کی بھر پور تصویر کی شکل میں سامنے آجاتا ہے اور کہانی ختم ہونے کے بعد صرف کردار کا گہرا تاثر قاری کے ذہن پر بیٹھ جاتا ہے۔ ‘‘

کہا جاسکتا ہے کہ راجندر سنگھ بیدی کرداروں کی رُوح میں جھانک کر ان کے کردار کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ غم وغصے اور خوشی و طرب کی کیفیات کرداروں کے چہروں سے عیاں کرنے اور ان کی حرکات و سکنات کو حقائق سے مملو کرنے میں بیدی کامیاب نظر آتے ہیں ۔ سندر لال کے سخت ترین روپ اور اس کے مہربان روپ، لاجو کی مظلومی و مجبوری نیز دونوں لاجواور سندرلال کی ذہنی اور روحانی گھٹن کو جس طرح سے راجندر سنگھ بیدی نے اس کہانی میں پیش کیا ہے وہ بلا شبہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ سندر لال کی نرمی اور سختی دونوں لاجو پر قیامت بپا کرتی ہیں ۔ کیوں سندرلال کا بہیمانہ برتاؤ جہاں اس کا جسمانی استحصال کرتا تھا وہیں سندرلال کا حد سے زیادہ نرم پڑنا اور اُسے ’’ لاجو‘‘ کی بجائے ’’ دیوی‘‘ کہنا بھی اُسے روحانی سطح پر جھنجھوڑدیتاہے کیوں کہ وہ ’’ دیوی ‘‘ نہیں بل کہ پہلے کی طرح ’’ لاجو ‘‘ بننا چاہتی ہے، جو اذیتیں اور تکلیفیں سہہ کر پل بھر میں سب کچھ بھلا دیتی تھی اور سندرلال کی باہوں میں سماجاتی تھی، لیکن اُسے یہ معلوم ہے کہ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتی ہے لیکن ’’ لاجو‘‘ نہیں ہوسکتی۔ لاجو مجبور ہے اور چاہ کر بھی وہ ’’ لاجو‘‘ کا روپ دھار نہیں سکتی۔ سندرلال اسے ’’ دیوی ‘‘ کا درجہ کیوں دے دیتا ہے؟ :

’’ اس سوال کا جواب نہایت مشکل ہے کہ وہ اس کو زدو کوب کرنے کے بجائے اس کی پرستش کیوں کرنے لگتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ایک طرف وہ ’’ دل میں بساؤ تحریک ‘‘ کا عہدہ دار ہونے کے ناطے ایک قسم کا سماجی وقار حاصل کر چکا تھا، دوسری طرف اس کو شاید لاجو جیسی عورت دستیاب نہیں تھی۔ تاہم لاجو کو سندر لال کا یہ مہربان روپ نہایت اجنبی محسوس ہوتا ہے، کیوں کہ اس کا کلچر، اس کا ماحول، اس کی تربیت اور اس کا ماضی شوہر کو صرف ایک حاکم کے طور پر پیش کرتے آئے تھے۔ ‘‘ (برصغیر میں اردو افسانہ، از خالد اشرف،ص ۳۳)

 مکالمہ نگاری میں بھی بیدی احتیاط سے کام لیتے ہیں ۔ وہ طویل جملوں سے کہانی کو قاری کے لیے بوجھل نہیں بناتے بل کہ چھوٹے چھوٹے مکالموں اور فقروں سے کہانی کو آگے بڑھانے کا سلیقہ رکھتے ہیں ۔ ان کے مکالمے نہ صرف کردار کے جذبات کی عکاسی کرتے محسوس ہوتے ہیں بلکہ معنی خیز اور فکر انگیز بھی ہو تے ہیں ۔ افسانے کے آغاز و اختتام پر پنجابی گیت کا یہ مصرعہ ( ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے… ) کہانی کے موضوع اور کرداروں کی ذہنی و نفسیاتی اور جسمانی گھٹن سے ہم آہنگ ہے۔ اگر چہ اس افسانے میں مکالمہ نگاری سے زیادہ کام نہ لے کربیانیہ انداز کو اپنایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کرداروں کے مابین جو باتیں ہوئی ہیں ، بیدی نے ان کو مناسب و موزوں الفاظ میں لپیٹ کر اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کی مکالمہ نگاری کی داد دینی پڑتی ہے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو :

 ایک دفعہ سندرلال نے لاجونتی کے ’سیاہ دنوں ‘ کے بارے میں صرف اتنا سا پوچھا تھا

’’ کون تھا وہ؟ ‘‘

 لاجونتی نے نگاہیں نیچی کرتے ہوئے کہا … ’’ جمّاں ‘‘

 ’’ لاجونتی نے پھر آنکھیں نیچی کرلیں اور سندرلال نے پوچھا

 ’’ اچھا سلوک کرتا تھا وہ ؟‘‘

 ’’ ہاں ‘‘

’’ مارتا تو نہیں تھا ‘‘

 لاجونتی نے اپنا سر سندرلال کی چھاتی پر سرکاتے ہوئے کہا … ’’ نہیں ‘‘ اور پھر بولی ’’ وہ مارتا نہیں تھا، پر مجھے اس سے زیادہ ڈر آتا تھا۔ تم مجھے مارتے بھی تھے پر میں تم سے ڈرتی نہیں تھی … اب تو نہ مارو گے ؟‘‘

 سندرلال کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور اس نے بڑی ندامت اور بڑے تاسف سے کہا … ’’ نہیں دیوی! اب نہیں … نہیں ماروں گا … ‘‘

بیدی کے مکالمے ان کے کرداروں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں جو کہ کامیاب فن کاری کی ضمانت ہے۔ پوری کہانی کو پڑھ کر قاری سندرلال اور لاجونتی کی اندرونی گھٹن کو بخوبی محسوس کرتا ہے کہ کہانی کار بیدی کو انسانی نفسیات کا ادراک ہے اور وہ سلیقے کے ساتھ کہانی کی بنت کے دوران اس کا استعمال کرتے ہیں ۔لاجونتی اگرچہ ایک مختصر کہانی ہے اور لاجونتی اور سندرلال کے گرد گھومتی نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فقط زن و شوہر کے مجروح رشتے کی ہی عکاس نہیں بلکہ سماجی معنویت سے بھرپور کہانی ہے۔یہ جہاں تقسیم ملک کے خونین سانحے کو درشاتی ہے وہیں ایسے لوگوں پر طنز بھی کرتی ہے جو مغویہ عورتوں کو داغ دار سمجھ کر ان سے لاتعلقی اختیار کرنے کے درپے نظر آتے ہیں ، اس حقیقت سے انحراف کرکے کہ اغوا ہونے اور پھر ظلم و بربریت کا شکار ہونے میں اس صنف ِ نازک کا کیا قصور تھا؟۔ غرض راجندرسنگھ بیدی کی کہانیاں سماجی معنویت سے پر ہیں ، اسی لیے آل احمد سرو ر لکھتے ہیں :

’’ بیدی کے یہاں فرد کی نفسیات کا ہی بے مثل بیان نہیں ، ان کے یہاں سماجی معنویت بھی ہے، گو وہ سماجی معنویت پر لمبی چوڑی تقریریں نہیں کرتے۔ تلوار کا وہ وار بھرپور ہوتا ہے جو کر جائے کام اپنا لیکن نظر نہ آئے ‘‘ ( بحوالہ اردو افسانہ : روایت اور مسائل، ص ۳۸۶)

افسانہ’’ لاجونتی ‘‘ میں دیومالائی اور اساطیری حوالے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ’ مندر میں نارائن بابا کا رامائن کی کتھائیں سنانا،حکایت دھوبی کی جو دھوبن کو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیتا ہے کہ وہ رام چندر نہیں جو اتنے سال تک راون کے ساتھ رہ آنے پر بھی سیتا کو بسا لے گا وغیرہ ‘ جیسے دیو مالائی حوالے اور اساطیرو روایات اس کہانی کی معنویت و تاثیر میں اضافے کی ضامن ہیں ۔ وارث علوی کے مطابق :

’’ اساطیری عناصر بیدی کے یہاں آرٹ کی سجاوٹ کی خاطر نہیں آئے ……………اساطیر بیدی کے یہاں تشبیہوں اور استعاروں کی ضرورت پوری نہیں کرتے بلکہ اساطیر اور استعارے اُن کے یہاں زندگی سے آتے ہیں جو ہندوستانی عوام فطرت کی بانہوں اور تہذیب کی فضاؤں میں انگنت صدیوں سے جیتے چلے آتے ہیں ۔ اس لیے زندگی کا دھارا ہے جو ان کے افسانوں میں زیرِ زمین آب کی طرح بہتا رہتا ہے اور اس کی نمی سے افسانے میں اساطیر استعاروں اور تشبیہوں کے پھول کھلتے ہیں ‘‘

 بیدی کے ہاں منظر نگاری اور جزئیات نگاری کی بھی عمدہ مثالیں ملتی ہیں ۔ لاجونتی کے علاوہ ان کی دیگر کہانیاں بھی اس وصف سے مملو ہیں ۔ لاجونتی کا پس منظر پنجاب ہے کہ ظلم و زیادتی کی متاثرہ لاجو پنجاب کے مسماندہ اور مرادنہ تحکم والے دیہات سے تعلق رکھتی ہے۔ سندرلال بابو، رسالو اور نیکی رام کا پنجابی گیت ( ہتھ لائیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے ) کاوِرد کرنا، مندر میں نارائن بابا کا رامائن کی کتھائیں سنانا، سندر لال کا امرتسر جانے کی تیاری کرنا، پربھات پھیریاں نکالنا، واگہ سرحد پر لال چند کا لاجو کو دیکھنا، رام چند رجی اور سیتا کا تذکرہ، نارائن بابا کا آسمان کی طرف دیکھنا، مہندر سنگھ زندہ باد، سوہن لال زندہ باد کے نعروں کا گونجنا، لاجونتی کا دیوی کے درجے کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھنا اور لاجو بننے کی تمنا کرناوغیر ہ وغیرہ فقط افسانوی فقرے نہیں بلکہ ان کی تہہ میں درد کسک، امید و بیم، عزت و عصمت، لوٹ مار، بوہیمیت اور دیگر کئی طرح کے مناظر اور تفاصیل سرائیت کیے ہوئے ہیں ۔

 جہاں تک بیدی کی زبان کا تعلق ہے ان پر اس ضمن میں سخت اعتراضات کیے گئے کہ ان کے ہاں ہندی، انگریزی، سنسکرت اور فارسی کے ثقیل الفاظ کا استعمال ملتا ہے نیز شاعرانہ انداز ان کی کہانیوں کو مجروح کردیتا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کو اس بات کا احساس تھا اور انہوں نے اس ضمن میں توجہ بھی کی لیکن حقیقت یہ ہے وہ کرداروں اور کہانیوں کی فضا یا ماحول کو زبان کے ذریعے سے ہی شعوری طور پر ہم آہنگ کرتے ہیں :

 ۱۔ … آج ہماری سیتا نردوش گھر سے نکال دی گئی ہے … سیتا … لاجونتی … اور سندر لال بابو نے رونا شروع کردیا۔

 ۲۔ ’’ بدھائی ہو سندرلال ‘‘

 سندرلال نے میٹھا گڑ چلم میں رکھتے ہوئے کہا … ’’ کس بات کی بدھائی لال چند؟ ‘‘

 ’’ میں نے لاجو بھابی کو دیکھا ہے۔‘‘

 سندرلال کے ہاتھ سے چلم گر گئی اور میٹھا تمباکو فرش پر گرگیا … ’’ کہاں دیکھا ہے ؟‘‘ اس نے لال چند کو کندھوں سے پکڑتے ہوئے پوچھا اور جلد جواب نہ پانے پر جھنجھوڑ دیا۔

 راجندرسنگھ بیدی نے تشبیہات، استعارات،علامتوں ، فکر انگیز اور معنی خیز جملوں سے حسب ضرورت کام لے کر نہ صرف اپنی کہانیوں کو دل چسپ بنایا ہے بلکہ جاذبیت بھی بخشی ہے۔ وارث علوی کے مطابق :

’ ’ بیدی کا اسلوب شاعرانہ نہیں ۔ اس میں وہ غنائیت اور نغمگی نہیں جو کرشن چندر کے اسلوب کو اتنی دلکش بنا دیتی ہے۔ اس اسلوب میں وہ روانی بھی نہیں جو منٹو کے یہاں نظر آتی ہے ………استعاروں ، تشبیہوں اور لفظی پیکروں سے ان کی زبان میں ایک ایسی حاضراتی کیفیت اور احساسات کو جگانے والا تاثر پیدا ہوجاتا ہے جو شاعری کا عمل خاص ہے۔ ‘‘ ( بحوالہ ’’ اردو دنیا ‘‘ ستمبر ۲۰۱۵ ء، ص ۲۹ )

 مختصراً کہا جاسکتا ہے کہ راجندر سنگھ بیدی اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہے۔ انھوں نے اپنے قلم کی جولانیوں سے اردو کے افسانوی ادب کے سرمایے میں قابلِ قدر اضافے کیے ہیں ۔لاجونتی ان کا ایک مشہور افسانہ ہے جو ان کی فنی عظمت پر دال ہے۔

ریسرچ اسکالر

شعبہ اردو، کشمیر یونیورسٹی

حضرت بل، سرینگر ۱۹۰۰۰۶

Phone No = 9622543998

Gmail = dartowseef7@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.