سنیما کی تاریخ پر ایک نظر

انیسویں صدی کو سائنسی ایجادات کی صدی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس صدی میں دنیا نے بہت سی اہم ایجادات کا مشاہدہ کیا۔ سینما ٹوگراف (ـ(Cinemetograph جسے اختصار کے پیش نظر عرف عام میں سینما(Cinema) کہا جاتا اس سلسلے کی ایک خوبصورت کڑی ہے ۔ سنیما کا ایجاد کسی جادوئی کرشمہ سے کم نہ تھا جس نے بے جان تصویروں کو زندہ کردیا اور بے زبان کرداروں کو قوت گویائی سے نوازا۔ زندگی کے اہم پہلوؤں کو چلتی پھرتی تصویروں میں قید کرنے کا تجربہ یقینا بہت دلچسپ اور انوکھاتھا۔اس خوبصورت ایجاد کا سہرا فرانس کے لومئیر بردرس ( Brothers Lumiere ) کو جاتا ہے ۔ اُگست لومئیر(Auguste Lumiere)اور لوئس (Louis Lumiere) نامی دو بھائیوں نے۱۸۹۵ء میں سنیما ماٹوگراف مشین کا ایجاد کرکے سنیما میں اپنی اولیت درج کرائی۔ حالانکہ لومئیر بھائیوں سے قبل امریکہ کے تھامس ایڈیسن نے۱۸۹۱ء میں کنٹو گراف (Kinetograph) مشین کا ایجاد کر لیا تھا لیکن بعض تکنیکی خامیوں کی وجہ سے اس مشین کو سنیما کی تاریخ میں اولیت کا درجہ نہیں مل سکا۔ بہر حال اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ سنیما کے موجد لومئیر بردرس ہیں جنھوں نے سب سے پہلے چلتی پھرتی تصویروں کوسینماٹوگراف مشین کے ذریعہ پردے پر عوام کے سامنے پیش کیا ۔ لیکن سینما کے ایجادکو کسی ایک شخص یا عہدکے سے خاص کر کے دیکھنا تاریخ کے ساتھ یقینا ناانصافی ہوگی۔ آج جس شکل میںسینما ہم تک پہنچا ہے اس میں کئی لوگوں اور کئی صدیوں کی کوششوں اور تجربوں کا عمل دخل رہا ہے۔

سنیماٹو گرافی دراصل فوٹوگرافی کی توسیعی شکل ہے ۔ لہذا سنیما کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لئے فوٹوگرافی کی ایجاد اور اس کے ارتقائی مراحل کو سمجھنا ضروری ہے۔ فوٹوگرافی کی حیرت انگیز خوبیوں کو دیکھتے ہوئےDiscoveries and Inventions of Ninteenth Cetury کے مصنف روبرٹ رولج (Robert Routledge) نے اسے انیسویں صدی کا سب سے خوبصورت ، مقبول اور لائق تحسین ایجاد قرار دیا ہے۔

“No other of our ninetieth century inventions is at once so beautiful, so precious, so popular, so appreciated as photography”  (1)

ترجمہ:

’’انیسویں صدی کی جملہ انکشافات میں محض فوٹوگرافی ہی بیک وقت سب سے زیادہ خوبصورت، بیش قیمت،مقبول اور قابل تعریف ایجاد ہے۔ ‘‘

 فوٹوگرافی کی تاریخ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ایجاد میں بھی کئی صدیوں اور کئی لوگوں کی کوششوں کا عمل دخل رہا ہے۔ متعدد تجربات اور مراحل سے گزر کر یہ نایاب ایجاد ہم تک پہونچی ہے۔ بعض مورّخین کا خیال ہے کہ فوٹوگرافی کی ایجاد میں اسلامی عہد کے مشہور سانئسداںابو علی حسن ابن الہیثم نے پہل کی تھی۔ مغربی دنیا میں الہیزن (Alhazen)کے نام سے معروف ابن الہیثم نے بصریات (Optics)کا بڑی باریکی سے مطالعہ کیا ہے اور اس بابت متعدد نظریات بھی پیش کئے ہیںجو آج تک بصریات سے متعلق کئی سائنسی نظریوں میں بنیاد مانے جاتے ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے’’کتاب المناظر‘‘ نام سے ایک اہم تصنیف بھی کی ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ”Book of Optics”کے نام سے موجود ہے جو سترہویں صدی تک مغرب کی یونیورسٹیوں میں شامل نصاب رہی او ر کئی سائنسی تجربات میں اس سے مدد بھی لی گئی۔ ابن الہیثم نے بصریات سے متعلق اپنے نظریات پر تجربہ کرتے ہوئے پہلے باریک سوراخ والا کیمرہ (Pinhole Camera) تیار کیااور بعد میں اس کی خامیوں کو مزید دور کرتے ہوئے تاریک کیمرہ (Camera Obscura) بنایا ۔جسے عربی میں بیت المظلم کہا جاتا ہے۔ یہ لکڑی یا دھات سے باکس نما بنایا جاتا ہے جس کا اندوری حصہ مکمل تاریک اور باہری حصہ پر ایک چھوٹا سوراخ ہوتا ہے جو بیر ونی مناظر کو سوراخ دار خانے میں موجود سیاہ پردے پر منعکس کرتا ہے۔ ابن الہیثم کی اس ایجاد کو فوٹوگرافی یا سینماٹوگرافی کا پہلا نمونہ تصور کیا جاتا ہے ۔ بعض لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ کسی تاریک خانے میں ایک باریک سوراخ یا مدخل کے ذریعہ بیرونی مناظر کو اندورنی سیاہ پردے یا حصے پر منعکس کرنے کا تصور ارسطو(Aristotle) کے یہاں بھی موجود تھا جیسا کہ اقلیدس (Euclid) نے تقریباً ۳۰۰ سال قبل از مسیح میں لکھی گئی اپنی کتاب ”Euclid’s Optics” میں تذکرہ کیا ہے کہ ارسطو  نے سورج گرہن کے وقت اس کی ہلال (Crescent)جیسی شباہت کو درخت کی پتیوں کے ذریعہ زمین پر منعکس ہوتے ہوئے مشاہدہ کیاتھا۔ اس قسم کے تصورات خود اقلیدس اور ارسطو سے قبل پانچویں صدی قبل از مسیح میںچین کے قدیم فلسفی موزی (Mozi)کے یہاں بھی موجود تھے اس کے علاوہ چوتھی صدی عیسوی میںاسکندریہ( مصر)کے مشہور فلسفی تھیون (Theon) اور چھٹی صدی عیسوی میں مشہور بازنطینی فلسفی انتھیمیس(Anthemius) کے یہاں بھی اس قسم کے تصورات ملتے ہیں۔ نویں صدی عیسوی میں عرب کے مشہور فلسفی ابویوسف یعقوب ابن اسحق الصباح الکندی(Alkindus) نے بھی اس نظریے پراپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مگر ان تمام لوگوں میں سے کسی نے بھی اس نظریے کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ ابن الہییثم وہ پہلا شخص ہے جس نے اس نظریے کو بہت ہی واضح انداز میں پیش کیا اور ساتھ ہی اس کا عملی تجربہ بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگPinhole Camera  یا  Camera Obscuraکو ابن الہیثم (Alhazen)کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

تاریک کیمرہ (ـCamera Obscura) سے محض عارضی تصویر دیکھی جا سکتی تھی اس سے مستقل تصویر بنانا اب تک دریافت نہیں ہو پایا تھا۔ دسویں صدی سے لیکر پندرہویں صدی تک عام مشاہدہ یا سورج گرہن کو براہ راست دیکھنے کے نقصان سے بچنے کے لئے اس کیمرے کو استعمال میں لایا جاتا رہا۔ سولہویں صدی میں اٹلی کے سائنسداںجیام بٹیسٹاڈیلاپورٹا (Giambattista della Porta) نے اس کیمرہ پر مزید تحقیق کی اور مشورہ دیا کہ فنکار (Artist) اس کیمرہ کے عکس کو کاغذ پر ابھار کر نقاشی (Painting) میںمدد لے سکتے ہیں۔ چنانچہ سولہویں صدی سے لیکر اٹھارویں صدی تک تاریک کیمرہ نقاشوں کے لئے ایک معاون آلے کی طرح کام کرتا رہا اور آخر کار وہ دن بھی آ یا جب ہنرمندوں نے اس آلہ سے مستقل تصویر نکالنے کا ہنر ڈھونڈ نکالا۔ اٹھارہویں صدی میں بہت سے سائنسداں اس کیمرے سے پردے پر منعکس ہونے والی تصویروں کو دائمی شکل دینے میںکوشاں تھے ۔آخر کار ایک دوسرے کی دریافت اور تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اس پہیلی کو سلجھانے میں کامیابی حاصل کی۔غالباً ۱۹۷۲ء میں جرمنی کے ایک سائنسداں ڈاکٹر جان سولزے (Johann Schulze) نے ایک دن اتفاقاًسلور نائٹریٹ( Silver Nitrate)اور کھڑیا مٹی کی آمیزش سے تیار شدہ مجموعے پر یہ مشاہدہ کیا کہ سورج کی روشنی پڑنے سے اس مجموعے کا رنگ آہستہ آہستہ کالا پڑ جاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اس مشاہدے پر کئی بار تجربہ کیا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ سلور نائٹریٹ اور کھڑیا مٹی کے تیار شدہ مجموعے پر سورج کی روشنی اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سولزے کی اس دریافت کو بنیاد بنا کر مغربی ممالک میں متعدد تجربے کئے گئے۔ ان سائنسدانوں میں انگلینڈ کے تھامس ویجوڈ(Thomas Wedgwood)بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنے ساتھی کیمیا داں (ـChamist) ہمفری ڈیوی (Humphry Davy) کے ساتھ مل کر اس فارمولے پر عمل کرتے ہوئے کیمرے کی تصویر کو دائمی شکل دینے کی پوری کوشش کی۔ اس کوشش میں ان دونوں کو بہت حد تک کامیابی بھی ملی مگر اس میں ایک خامی یہ تھی کہ تصویر پر جیسی ہی سورج کی روشنی پڑتی اس پر سیاہ داغ پڑ جاتے تھے۔فرانس کا جوز ف نائسفورنپسے(Joseph Nicephore Niepce) وہ پہلا شخص ہے جس نے تصویر کو دائمی شکل دینے میں پہلی بار کامیابی حاصل کی۔اس کے لئے نپسے نے جس طریقہ کار کا استعمال کیا اسے ہیلیوگرافی (Heliography)کہتے ہیں۔ ۱۸۲۶ء میں جوزف نے فرانس کے ایک آرٹسٹ لوئس دگیر (Louis Daguerre) کے ساتھ مل کر اس طریقہ کار کو اوربہتر بنانے کی کوششوں میں جٹ گیا مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جوزف کی اسی دوران وفات ہوگئی۔ جوزف کے گزرجانے کے بعد لوئس دگیرنے اس طریقہ کار کو مزید عمدہ بنانے کا عمل جاری رکھا اور آخرکار ۱۸۳۹ء میں پیتل (Copper) اور سلور کی پلیٹ کے ساتھ آیوڈین ویپر (Iodine Vapor)کا استعمال کرکے جوزف کی دریافت میں بہترین اضافہ کیا ۔دگیر کے اس طریقہ کار کو دگیرٹائپ (daguerreo type)سے جانا جاتا ہے ۔اسی دوران برطانیہ میں ایک اور کھوج سامنے آئی جہاں ۱۸۴۱ء میں ہنری فوکس تالبوت (Henry Fox Talbot) نے ایک اور نیا طریقہ کار ڈھونڈ نکالا اور انھوں نے اسے اپنے نام پیٹنٹ بھی کرا لیا۔ ہنری تالبوت کی یہ کھوج کیلوٹائپ(calotype)کہلاتی ہے جسے آج کل ان کی نام کی طرف منسوب کرکے Tabotypeکہا جاتا ہے۔ دگیر (Daguerre) اور تالبوت (Talbot) کا طریقہ کار تصویرکشی کے اعتبار سے بالکل الٹ تھا۔ دگیر کا طریقہ مثبت (Positive)تصویر منعکس کرتا تھا جس کی کاپی بنانا ممکن نہیں تھا کیونکہ کاپی بنانے کی صورت میں تصویر الٹی ہوجاتی جبکہ تالبوت کا طریقہ منفی (Negative)تصویر نکالتا تھا جس کی متعدد کاپیاں بنائی جا سکتی تھیں کیونکہ کاپی میں وہ تصویر بالکل سیدھی ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ کہ دگیر کا طریقہ دیرپا ثابت نہ ہو سکا جبکہ تالبوت کا نگیٹو (Negative) تصویر کشی کا طریقہ آج بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔

مذکورہ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ فوٹوگرافی محض ایک شخص کا کارنامہ نہیں بلکہ جوزف، دگیر اور تالبوت جیسی کئی اہم شخصیات کی مسلسل کوششو ں اور تجربوں کا نتیجہ تھی۔ فوٹوگرافی کے باقاعدہ آغاز کے بعد لوگوں نے متحرک تصویروں کو کیمرے میں قید کرنے کے طریقوں پر غور کرنا شروع کیا۔ اور اس کوشش کے نتیجے میں سینماٹوگرافی (Cinematography)کا ایجاد ہوا۔نیز اس کا آغاز بھی کئی تجربات اور مشاہدات سے گزر کر ہم تک پہنچا ہے ۔ میجک لینٹرن (Magic Lantern)سے لیکر موجودہ سینما تک دریافت اورتجربے کی بے شمارکہانیاں تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ لہذا اس ایجاد کو کسی ایک وقت یا کسی ایک شخض کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا حقیقت سے آنکھ موند لینے کے برابر ہے۔کیونکہ اس کی ایجاد میں کئی لوگوں کی مسلسل کوشش شامل رہی ہے ۔ جیسا کہ سینما کی تاریخ پر لکھی گئی مشہور کتا ب The Oxford History of World Cinemaاس بات کا ذکرکیا گیا ہے:

“The history of cinema did not begin with a ‘big bang’. No single event whether Edison’s patented invention of the Kinetoscope in 1891 or the Lumiere brothers’ first projection of films to a paying audience in 1895 can be held to separate a nebulous pre-cinema from cinema proper. Rather there is a continuum which begins with early experiments and devices aimed at presenting images in sequence.” (2)

ترجمہ :

’’سینما کی تاریخ محض ایک’بڑے جھٹکے‘ میں شروع نہیں ہوئی۔ خواہ ۱۸۹۱ء میںایڈیسن کا ایجاد کردہ کنٹوسکوپ ہو یا ۱۸۹۵ء میں لومیئر بردرس کی پہلی فلم نمائش، کسی بھی ایک واقعے کو سینما کا باقاعدہ موجب نہیں مانا جاسکتاہے۔بلکہ یہ ایک سلسلہ ہے جس کی شروعات تصویروں کو تسلسل کے ساتھ پیش کرنے کے مقصد سے ابتدائی تجربات اور آلات سے ہوئی۔‘‘

 فوٹوگرافی کے ایجاد سے ہی متحرک تصویروں کو کیمرے میں قید کرنے کی کوشش شروع ہوگئی تھی۔کئی سائنسدانوں نے اس ضمن میں طرح طرح کے تجرباب بھی کئے۔ جون ؍ ۱۸۷۳ء میں ایڈوڈ مائی برج(Eadweard Muybridge) نامی شخص نے ۲۴ کیمروں کے مدد سے ایک دوڑتے گھوڑے کو فلمانے کی کوشش کی تھی نیز اس کے ٹھیک نو سال بعد فرانس کے سائنس داںایٹین جولس میری (Étienne-Jules Marey) نے ۱۸۸۲ء میں Chronophotographic Gun بنائی جو ایک سکنڈ کے اندر بارہ فریم تصویریں نکالنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اس ضمن میں تھامس ایلوا ایڈیسن (Thomas Alva Edison) کا کارنامہ سب سے اہم ہے ۔ ۱۸۹۱ء میں تھامس نے کنٹوگراف (Kinetograph) مشین ایجاد کی اور اسے اپنے نام پیٹنٹ بھی کرالیا۔اس مشین میں۳۵ ملی میٹر چوڑی سیلولائڈ کی ٹرانس پیرنٹ (Transparent)رِیل کا استعمال کرکے متحرک تصویروں کو ریکارڈ کیا جاتا تھا ۔ یقینا یہ ایک بڑی دریافت تھی ۔لیکن اس کے اندر ایک خامی یہ تھی کہ اس سے بیک وقت صرف ایک ہی شخص متحرک تصویروں وہ دیکھ سکتا تھا۔ اس کے چند سالوں بعد ۱۸۹۵ء میں فرانس کے لومئیر بھائیوں نے سنیماٹوگراف (ـCinematograph) مشین ایجاد کرکے سنیماکے باب میں کمال حاصل کر لیا۔ سنیماٹوگراف کی خوبی یہ تھی کہ اس سے نہ صرف متحرک تصویریں ریکارڈ کی جا سکتیں تھیں بلکہ پردے پر لوگوں کے سامنے اس کی نمائش بھی کی جا سکتی تھی۔ غالباً اسی وجہ سے لوگ لومئیر برردز کو سینما کو موجد مانتے ہیں۔۲۸؍ دسمبر۱۸۹۵ء کی شام پیرس کے’گرانڈکیفے‘ہال میں لومئیربھائیوں نے اپنی پہلی نمائش رکھی ۔ اس نمائش میں کل دس مختصر فلمیں شامل تھیں جس میں اسٹیشن پر رکتی ٹرین ، سمندر میں اٹھتی لہریں، کھیلتے کھاتے بچے اور اس جیسے کئی دلچسپ مناظر دکھائے گئے ۔ناظرین کے لئے پردے پر اصل زندگی کی نقل دیکھنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ اس حیرت انگیز کارنامے کو دیکھنے کے لئے پیرس شہرکے لوگوں کا ہجوم امڈ پڑا۔ نیز بہت ہی مختصر مدت میں سنیما پیرس کی گلیوں سے نکل کر دنیا کے ہر گوشے میں پھیل گیا۔ خود ہمار ے ملک ہندوستان میں لومئیر کے فلموں کی نمائش کی پیرس کی نمائش کے محض چھ ماہ بعد ۷؍ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمبئی کے واٹسن ہوٹل میں کی گئی۔

٭٭٭

حوالہ:

(1 )Discoveries and Inventions of Ninteenth Cetury, Writer:Robert Routledge, Publisher: GeorgeRoutledge and sons, Year: 1901, Page: 607

(2)The Oxfor History of Word Cinema, Edited by : Geoffrey Newell-Smith, Pubisher: Oxford University Press, Neyork, USA, Year: 1996, Page: 6

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.