پریم چند کے ناولوں کا تجزیاتی مطالعہ

    پریم چند کے ناولوں کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پریم چند کا ذہنی سفر انیسویں صدی عیسوی کی آخری دہائی سے شروع ہوکر بیسویں صدی کی چوتھی دہائی کے وسط میں ختم ہوتا ہے۔یہ سفر تقریباً نصف صدی پر محیط ہے۔اس نصف صدی میں ہندوستان کی قومی وسیاسی اور اقتصادی زندگی میں زبردست انقلاب رونما ہوا ہے اور متضاد حالات وکیفیات کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ رہا ہے۔ایک طرف مغرب سے آنے والی روشنی ہندوستانی عوام کے ذہنوں کو حیراں کررہی تھی مثلاً مغربی پریس مشنریاں،جدید تعلیم،سائینس اور ٹیکنالوجی وغیرہ نے ہندوستانی تعلیم یافتہ طبقے کو اپنی طرف کھینچنا شروع کردیا تھا اور اُن پر ایک ایسی کیفیت طاری تھی جس کو وہ اس سحر زندگی کے عالم میں مغربی تہذیب وتمدن کو اپنا رہے تھے۔تعلیم یافتہ طبقے کو اپنے قدیم تہذیبی، ثقافتی،تعلیمی،اقتصادی اور سیاسی نظریات پامال وفرسودہ نظر آرہے تھے۔اُن کی انتہا پسندی تقلید مغرب کی صورت میں ذہنوں میں مسلط ہونے لگی تھی۔اُن کے نزدیک مغرب کی ہر چیز اچھی اور مشرق کی ہر چیز بُری تھی۔اگر چہ وہ اپنی زندگی کو مغربی زندگی کے مطابق ڈھالناچاہتے تھے لیکن ساتھ ہی وہ اس تذبذب میں بھی تھے کہ کہیں یہ ہمارے لیے وبال جان نہ بن جائے۔اس لیے اس جذبے کو لے کر متعدد مصلحین اُٹھ کھڑے ہوئے اور اس زمانے میں کئی اصلاحی انجمنیں وجود میں آ ئیںجس سے ہندوستانی تعلیم یافتہ طبقہ مغربی تعلیم سے اُکتا گیا اور اسے ذہنی غلامی کی زنجیر سمجھنے لگا۔ان نوجوانوں نے مغرب سے بیزار ہو کر منظم اور کبھی غیر منظم طریقے پر بغاوت کا علم بلند کیا۔

     ۱۸۵۷ئ؁ کی بغاوت نے جہاں ہندوستانی عوام کو جسمانی طور پر مجروح کیا تھا لیکن خیالات میں بغاوت کی گونج روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔’’انڈین نیشنل کانگرس‘‘نے جہاں ایک نیا وجود حاصل کرکے ملکی زندگی کے وقار کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنا شرع کردی تھی لیکن اُ س دور کی کانگرس میں بھی مختلف نظریات کے لوگ موجود تھے ایک وہ لوگ جو ملک کی ترقی واصلاح کے لیے نرمی کے ساتھ بات کہنا چاہتے تھے ۔اُن کا خیال تھا کہ حاکموں کو مشتعل کرکے اُن سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔دوسری طرف وہ رہنما تھے جو ملکی زندگی میں آزادی لانے کے خیال سے باغیانہ جذبات رکھتے تھے اور اپنے خیالات کو سیاسی اعتبار سے پیش کرنا چاہتے تھے۔لیکن ان دونوں کے درمیان ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو ملک کی آزادی کے لیے عسکری طریقۂ کاراختیار کرنا چاہتا تھا اُن کا خیال تھا کہ انگریزوں نے ہمیں اپنی فوجوں کے بل پر شکست دی ہے اگر ہمارے پاس انگریزوں کے مقابلے میں مضبوط فوجیں تیار ہوجائیں تو ہم اُنھیں شکست دے سکتے ہیں۔اسی سیاسی کش مکش میں مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں داخل ہوئے جو جنوبی افریقہ میں عدم تشدد کے ہتھیاروں کا کامیاب تجربہ کرچکے تھے۔اُن کا خیال تھا کہ تشدد کے اسلحوں سے کوئی بھی جنگ فتح نہیں کی جاسکتی اور اگر فتح نصیب ہوئی بھی تو وقتی ہوگی۔ان کے آنے کے بعد ہندوستان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں مختلف پہلوؤںسے کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں کیونکہ مہاتما گاندھی نے اپنا دائرہ عمل شہر کے بجائے گاؤں کو بنایا تھا۔انھوں نے سائنسی اور مادی وسائل کا سہارا لینے کے بجائے روحانی اور مذہبی اقدار کو بنیادی اہمیت دی تھی جو ہندوستانی مزاج وکردار سے ہم آہنگ تھا۔مہاتما گاندھی کی سرگرمیوں سے ملکی آزادی کی تحریک شہروں سے نکل کر گاؤں میں پھیلتی چلی گئی۔

     پریم چند نے جب اپنا ادبی سفر شروع کیا تو اُس دور کا ہندوستان اصلاحی اور انقلابی سرگرمیوں میں سرگرداں ہونے کے باوجود متعدد طرح کے تضادات کا شکار تھا۔مشرق اور مغرب کے درمیان فیصلہ کرنا اُن کے لیے بہت کٹھن تھا کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرے اس معاشی بدحالی سے باہر نکالنے کے لیے پریم چند نے ادب کا سہارا لیا۔اس لیے اُن کے ناولوں کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ظلم کرنے والوں کے بجائے مظلوموں کا ساتھ دیا ،استحصال کرنے والوں کے بجائے استحصال کیے جانے والوں اور حاکم کے بجائے محکوم کے ساتھ اور خاص کر زمیندار اور کسان کی لڑائی میں پریم چند کسانوںکی رہمنا ئی کر تے نظر آتے ہیں جس کا بخوبی اندازہ اُن کے ناولوں سے لگایا جاسکتا ہے۔

     پریم چند کا پہلا ناول’’اسرار معابد‘‘ہے جو رسالہ’’آواز خلق‘‘میں ۸اکتوبر ۱۹۰۳ئ؁ میں شائع ہوا۔اس ناول کا موضوع سماجی اصلاحات سے متعلق بعض مسائل کو پیش کیا گیا تھا۔جس میں پریم چند نے مذہب کی کورانہ تقلید سے پیدا ہونے والے سماجی برائیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ناول میں عورتوں کے بعض مسائل،اُن کی بیوگی،چھوت چھات،قرض اور سود وغیرہ پر تبصرہ کیا ہے۔اس کے علاوہ پریم چند نے مندروں میں دھرم کے نام پر لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کے چہرے سے نقاب سرکائی ہے۔اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ پریم چند عورتوں کے مندروں میں جانے کے خلاف تھے کیونکہ وہاں کے ماحول میں تقدس اور روحانیت کے بجائے عیش کوشی کی جاتی ہے۔

     پریم چندکا دوسرا ناول’’ہم خرما وہم ثواب‘‘جو ۱۹۰۷ئ؁ میں ہندوستان پبلشنگ ہاؤس نے شائع کیا۔یہ ناول بھی اگرچہ ’’اسرار معابد‘‘کی طرح عورتوں کے مذہبی مقامات پر جانے اور وہاں گمراہ ہونے کے امکانات کو پیش کرتا ہے۔پریم چند کو ہندو معاشرت میں بیوگی سے پیدا ہونے والے مسائل کا شدت سے احساس تھا۔اس لیے انھوں نے جب دوسری شادی کی تو وہ بیوہ سے کی۔اس ناول میں پریما اور امرت رائے کے ذریعہ پریم چند نے بیوہ سے شادی کرنے کے اقدام کو ضروری قرار دیا ہے۔

     پریم چند کا تیسرا ناول’’روٹھی رانی‘‘۱۹۰۷ئ؁ میں شائع ہوا۔جس میں جاگیردارانہ نظام کے استحصالی رویے کو موضوع بنا یا گیا ہے ۔راجپوتوں کے جاگیرادارانہ نظام میں لڑکیوں کی حیثیت ایک گائے کی مانند تھی جو مالک کی مرضی کے مطابق اپنا سب کچھ قربان کردیتی تھی۔راجپوت راجا ایک ہی وقت میں کئی شادیاں کرتے تھے جس سے بیویوں کے درمیان رشک وحسد کی آگ جلتی رہتی تھی۔پریم چند نے اس کش مکش کو اس ناول میں بڑی چابکدستی سے پیش کیا ہے ۔دوسری طرف راجپوت راجاؤں اور اعلیٰ طبقے کے لوگوں میںطعش پسندی کے پہلوؤں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔راجپوتوں کے انتقامی رویے کو بھی اس ناول میں پیش کیا ہے۔پریم چند نے اس ناول کے ذریعے راجپوتوں کی بہادری ،ان کی آن بان،اپنی بات پر جان دینا اور قوم کے لیے ایثار وقربانی وغیرہ کے پہلوؤں کو پیش کرکے ہندوستانی عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر راجپوتوں کی طرح اُن کے اندر جذبہ خوداری بیدار ہوجائے تو ملک سے غیر ملکی حکمرانوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

     ناول’’جلوۂ ایثار‘‘۱۹۱۲ئ؁ میں لکھا گیا ۔یہ ناول کئی پہلوؤں سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اہمیت کا حامل ہے ۔ہندوستانی عوام لارڈ کرزن کی پالیسیوں سے بیزار ہوچکے تھے۔تقسیم بنگال کا مسلہ عوامی تحریک کی حیثیت حاصل کرتا جارہا تھا۔کانگرس عدم تعاون کی راہ پر گامزن تھی۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک بحران کی صورت تھی جو پہلی جنگ عظیم کی شکل میں رونما ہوا۔اس دور میں پریم چند پر آریہ سماجی اثرات حاوی نظر آتے ہیں۔اس کے علاوہ دیہی زندگی ،متوسط طبقے کے حالات،جہالت،فرسودہ رسم ورواج کی مخالفت جیسے مسائل ناول’’جلوۂ ایثار‘‘میں کھل کر سامنے آتے ہیں۔

     پریم چندکا پانچواں ناول’’بازار حسن‘‘۱۹۱۶ئ؁ میں لکھا گیا جس کا موضوع طوائفوں کی زندگی کو پیش کرنا ہے۔یہ پریم چند کا پہلا ضخیم ناول ہے جو ہندی میں’’سیواسدن‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔اردو میں پریم چند سے پہلے قاری سرفراز حسین کا ناول’’شاہد رعنا‘‘اور مرزا رسوا کا ’’امراؤ جان ادا‘‘نے اگرچہ طوائف کی زندگی پر روشنی ڈال چکے تھے اس وجہ سے پریم چند سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس ناول میں حقیقت نگاری کو زیادہ بہتر انداز میں پیش کیاہوگا۔ڈاکٹر مسیح الزماں’’امراؤ جان ادا‘‘اور’’بازار حسن‘‘کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:۔

’’پریم چند کے یہاں وقت کے گذرنے سے ہمیں یہ توقع تھی کہ حقیقت نگاری زیادہ کامیاب اور زندگی کی تصویر زیادہ سچی ہوگی لیکن پریم چند کے زہن پراُن کے اخلاق کا جذبہ اس قدر مسلط تھا اور اصلاح کی قوت اتنی حاوی تھی کہ آخر میں وہ اپنے کردار کو زندگی سے دور کردیتے ہیں۔‘‘   ۱؎

     اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پریم چند نے طوائف کی زندگی کے مسلے کو سر سری سے دیکھا اور سمجھا تھا اس لیے ’’بازار حسن‘‘کا مقصد طوائف کی زندگی سے زیادہ فحاشی کے سماج پر ہونے والے اثرات سے بچاؤ تھا۔

     پریم چند کا ناول’’گوشۂ عافیت‘‘۱۹۲۲ئ؁ میں شائع ہوا جو گاؤں کی سماجی زندگی میں افراد کے درمیان ٹکرائو سے پیدا شدہ کش مکش کی ترجمانی کرتا ہے ڈاکٹر قمر رئیس لکھتے ہیں:۔

’’گوشہ عافیت کا منوہر اور اس کا بیٹابلراج کسانوں کے اس طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں جو چپ چاپ ظلم سہنے کے بجائے مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے مرجانے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘   ۲؎

     یہ ناول مہا تما گاندھی کی تحریک سے متاثر ہوکر لکھا گیا تھا۔پریم شنکر گاندھیائی مزاج وکردار رکھتا ہے وہ زمیندار اور زمیندارانہ نظام کا مخالف ہے ۔وہ انگریزی نظام حکومت کو بھی خطا وار سمجھتا ہے اور انگریزی نظام حکومت کے استحصالی رویے پر بہتر انداز میں تنقید کرتا ہے۔حاجی پور اور لکھن پور کو پریم چند نے مثالی گاؤں کی طرح دیکھا تھا اُن کا یہ تصور بھی مہاتما گاندھی کا مرہون منت ہے ۔انھوں نے گاؤں کو بہتر بنانے پر بھی گاندھیائی نقطہ نظر پر زور دیا ہے۔گاؤں میںلائبریری کھولی جاتی ہے،اخبار آتے ہیں جس سے لوگوں کو مختلف مسائل کا علم ہوتا ہے۔ڈپٹی جوالا سنگھ سرکاری ملازم ہیں لیکن مہاتماگاندھی کی تحریک سے متاثر ہوکر تحریک عدم تعاون میں شامل ہوتے ہیں اور اپنے گلے سے غلامی کا طوق اُتار پھینکتے ہیں۔سید ایجاد حسین نام نہاد اتحاد کے حامی ہیں جو خود غرضی میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جھوٹے چندے وصول کرکے ہضم کرجاتے ہیں لیکن جب اُن پر گاندھیائی اثرات پڑتے ہیں تو اُن کی قلب ماہیت ہوجاتی ہے ۔اس ناول میں مہاتما گاندھی کے بنیادی تعلیم کے مسئلہ کو بہتر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

     ناول’’چوگان ہستی‘‘پریم چند کا نہایت ہی کامیاب ناول ہے جسے دارالا شاعت اردو نے ۱۹۲۴ئ؁ میں شائع کیا۔اردو کا کوئی دوسرا ناول اس کا جواب پیش نہیں کرسکتا۔پریم چند نے خود بھی اسے اپنا بہترین ناول قرار دیا ہے۔اس ناول کے ساتھ پریم چند کی تخلیقی اور فنکارانہ قوتیں نقطہ عروج کی طرف بڑھتی نظر آتی ہیں۔اس ناول میں صنعتی تہذیب سے پیدا ہونے والے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔پریم چند گاندھی کی طرح صنعتی تہذیب کے فروغ سے بے حد متفکر اور خوف زدہ تھے۔اُن کا خیال تھا کہ صنعتی ترقی سے ہندوستان کی مالی اور اقتصادی حالت میں سدھارلا نا ناممکن ہے کیونکہ ہندوستان کی عوام جو زیادہ تر گاؤں میں رہتے ہیں ،شہر اور دیہات کی کش مکش میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔پریم چند بھی شہری زندگی کو پسند نہیں کرتے تھے اُن کی خواہش تھی کہ اگر اُن کی مالی حالت بہتر ہوجاتی تو وہ گاؤں میں جاکر رہتے اس ناول کا مثالی کردار سورداس ہے جو گاندھیائی عدم تشدد کی علامت ہے۔

     ناول’’پردہ مجاز‘‘۱۹۳۴ئ؁ میں لاجپت رائے لاہور سے شائع ہوا جبکہ ہندی میں’’کایا کلپ‘‘کے نام سے ۱۹۲۶ئ؁ میں شائع ہوا۔جس کا موضوع اُس دور کی سیاسی اور سماجی مسائل کو پیش کرنا ہے۔ہندو مسلم کشیدگی،کسانوں اور زمینداروں کی باہمی کش مکش اور جاگیردارانہ نظام کی ہوس کاری کو اپنے خیالات کا موضوع بنایا ہے۔اُن کے خیالات کا معیار گاندھیائی ہے۔وہ ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد کے سخت مخالف نظر آتے ہیں لیکن روحانی طور پر مسلے کا حل تلاش کرتے ہیں ۔چکر دھر اس کا مثالی کردار ہے جو ظلم کی مخالفت کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دیتا ہے وہ مزدوروں کی ہمدردی کے لیے ہر وقت کوشاں نظر آتا ہے۔

     ’’نرملا‘‘گئودان کے بعد پریم چند کا بہترین ناول تصور کیا گیا ہے جو ۱۹۲۵ئ؁ میں ادارہ فروغ اردو نے شائع کیا۔جس میں عورتوں کی زندگی سے متعلق بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اُن کی بیوگی،بے جوڑ شادی اور جہیز سے پیدا ہونے والے مسائل جس کے نتیجے میں ایک پاکیزہ عورت بھی طوائف بن جاتی ہے۔سن رسیدہ منشی طوطا رام ایک کم سن لڑکی نرملا کی مجبوری کا فائدہ اُٹھا کر اُسے اپنی بیوی بنا لیتا ہے جو عمر میں اُس کے بچوں کے برابر ہے ۔جہیز کی لعنت کے شکار والدین جب اپنی لڑکیوں کو عمر رسیدہ شخص سے شادی کردیتے ہیں تو مستقبل کی پریشانیوں کا نقشہ اس ناول میں دیکھایا گیا ہے۔

     نا ول’’غبن‘‘جس میںاصلا حی نقطہ نظر سے معا شر تی اور سما جی زند گی کے بعض مسا ئل کا احا طہ کیا گیا ہے۔ یہ نا ول ۱۹۳۱ئ؁ میں سر سو تی پریس بنارس کے زیر اہتمام شائع ہوا۔اس ناول میں ہندوستانی معاشرے میں متوسط طبقے کے اقتصادی حالات کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ناول میں سماج کو دکھانے کے لیے ایسے رویے  اختیار کیے گئے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔اس ناول میں جالپا کاکردار ایک ادرش عورت کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے جو خوددار ہے اور اپنے شوہر کو بچانے کے لیے ہر طرح کے مصائیب کا سامنا کرتی ہے اس کے ساتھ روماناتھ کا کردار حقیقی اور ارضی ہونے کے ساتھ ساتھ جاندار بھی ہے۔پریم چند کا یہ ناول حقیقت نگاری اور فنی تکمیل کا ایک نیا معیار سامنے لاتا ہے۔

     ’’میدان عمل‘‘جس کا شمار پریم چند کے مقبول ترین ناولوں میں ہوتا ہے یہ ناول ۱۹۳۲ئ؁ میں مکتبہ جامع دہلی کے زیر اہتمام شائع کیا گیا۔اس ناول میں متوسط طبقے کے نوجوانوں،کاشتکاروں ،مزدوروں اور دوسرے تمام افراد کی قومی جدو جہد کو پورے فنکارانہ طریقے سے پیش کیا گیاہے۔یہ ناول تحریک آزادی کی تاریخ لکھنے والوں کے لیے ایک ادبی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔اس میں تحریک آزادی سے متعلق عوامی عمل اور رد عمل کی وہ سچی تصویر نظر آتی ہے جو صرف ایک بلند ترین ادیب ہی پیش کرسکتا ہے۔تکنیکی اعتبار سے بھی میدان عمل پریم چند کے گذشتہ ناولوں میں سے بہتر ہے اس ناول میں پریم چند ایک نئی منزل کی طرف گامزن نظر آتے ہیں ۔یہ منزل مثالیت پسندی سے حقیقت پسندی کی طرف ہے جو ’’گئودان‘‘میں نکھر کر سامنے آتی ہے۔

     پریم چند کا شاہکار ناول’’گئودان‘‘۱۹۳۲ئ؁ سے۱۹۳۵ئ؁ کے درمیانی عرصے میں لکھا گیا۔اور ۱۹۳۶ئ؁ میں سرسوتی پریس نے اسے شائع کیا۔جو پریم چند کو ابدیت عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔ناول’’گئودان‘‘پریم چند کی دیہاتی زندگی کے تمام عمر کے مطالعے کا نچوڑ ہے جو کسانوں کی بے بسی اور کسمپرسی کی کہانی ہے۔ہوری پریم چند کی تمناؤں کی محرومیوں کی علامت ہے جو صرف گائے کی تمنا لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔اردو اور ہندی کے بیشتر ناقدین نے گئودان کو نہ صرف پریم چند کا بلکہ اردو اور ہندی کا بہترین ناول قرار دیا ہے۔

     پریم چند کا آخری نامکمل ناول’’منگل سوتر‘‘ہے جو گاندھیائی خیالات سے بالکل الگ ہے اس ناول میں پریم چند نے ایک ادیب کو ہیرو بنایا ہے اور وہ ادیب پریم چند خود ہیں۔اس ناول کے چند صفحات جو ہندی میں شائع ہوئے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر یہ ناول مکمل صورت میں شائع ہوجاتا تو غالباً پریم چند کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بے حد شہرت ومقبولیت حاصل ہوتی۔

     مجموعی اعتبار سے پریم چند کے ناولوں کے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پریم چند نے اپنے ناولوں میںگاندھیائی نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر ہندوستانی عوام کی فلاح وبہبود کے لیے ہر وقت کوشاں رہے۔اردو ناول کی دنیا میں پریم چند ایک عہد کی حیثیت رکھتے ہیں انھوں نے اردو ادب کی خدمت میں پینتیس سال تک گراں قدر خدمات انجام دیں اس طرح اردو ناول نگاری میں پریم چند کا مقام اہمیت کا حامل ہے۔نواب رائے سے پریم چند تک کا سفر اور پھر پریم چندکی کامیابی اُن کی محنت ولگن کا ثمر ہے جو انھیں صدیوں تک امر رکھے گا۔پریم چند کی انفرادیت وعظمت وہ وقار رکھتی ہے جس کا جواب اردو ناول نگاری کی تاریخ میں ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔

                                         ٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.