اردو ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب وسماج اور قوم پرستی

                ہندوستان زمانۂ قدیم سے ہی اپنی رنگارنگ اورمتنوع تہذیب وثقافت کے لیے پوری دنیا کی توجہ کا مرکزرہا ہے۔ یہاں کی زمینی پیداوار اور جغرافیائی حالات، علم وادب اور تہذیب وثقافت، آب وہوا، مناظر فطرت وغیرہ دنیا کے لیے توجہ کا سبب رہے ہیں۔

     یوں تو ہندوستان میں مختلف رنگ ونسل کے لوگ بستے ہیں، جن کی زبان بھی ایک دورسرے سے مختلف ہے، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تہذیب وتمدن، زبان پوشاک اور دسترخوان تک بدل جاتے ہیں۔ ہندوستان کی یہی خصوصیت ہندوستان کو دیگرممالک سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے۔ اور شاید یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے ہم کثرت میں وحدت کی نشاندہی کرتے ہیں اوراپنی قدیم اور مستحکم رنگارنگ تہذیب وثقافت اور اخوت ورواداری کی بدولت ایک دھاگے میں بندھے ہوئے معلوم وہتے ہیں۔

     تہذیب سے کیا مراد ہے اور اس کے مطالعے میں کن عناصر پرتوجہ ضروری ہے اس سوال کا جواب دینے کے لیے پہلے ہمیں تہذیب کی جامع تعریف کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر عابد حسین اپنی کتاب ’’قومی تہذیب کا مسئلہ‘‘ میں تہذیب کی تعریف یوں کرتے ہیں:

ــــــ’’تہذیب نام ہے اقدار کے ہم آہنگ شعور کا جو ایک انسانی جماعت رکھتی ہے جسے وہ اپنے اجتماعی ادارت میں ایک معروضی شکل دیتی ہے، جسے افراد اپنے جذبات ورجحانات، اپنے سبھائو اور برتائو میں، اور ان تاثرات میں ظاہرکرتے ہیں جو وہ مادی اشیاء پرڈالتے ہیں۔‘‘

     یوں تونسل کی طرح کوئی تہذیب بھی بالکل خالص نہیں ہوتی ہے تاریخ کے موڑ اور اس کی کروٹیں، نئے میلانات اور رجحانات، نئی ٹیکنالوجی، ان سب کے اثرات پڑتے رہتے ہیں، پھربھی جغرافیائی بساط یعنی پہاڑوں، دریائوں، میدانوں، دشت وصحرائ، پہاڑوں کے دروں ان سب کے ذریعہ سے تہذیبی قدروں کی حدبندی ہوتی رہتی ہے۔ یہی جغرافیہ آب وہوا، موسموں، جنگلوں، لباس، اطوار، میلوں ٹھیلوں، تیوہاروںسب پر اثر ڈالتا ہے۔اسی طرح تہذیب کے حقیقی مفہوم میں عوام وخواص سبھی کے تہذیب ومعاشرے، رہن سہن، شادی بیاہ کے مراسم، موسموں، میلوں، تیوہاروں کے جشن، گیت،فنون لطیفہ سبھی کچھ شامل ہے۔

     جب کسی سماج میں مختلف مذاہب رائج ہوں تو تہذیبی اور ثقافتی اعتبارسے وہ سماج اتنا ہی متمول ، تہہ در تہہ پیچیدہ ہوتا ہے، کسی بھی سماج کا تہذیبی اور فکری سرمایہ اس کے ادب سے جھلکتا ہے۔ ہرزبان کا ادب اپنی دھرتی اور اس میں اتری ہوئی جڑوں کو کسی نہ کسی طرح سے ضروری پیش کرتا ہے۔ اور اس طرح ہرسماج کا تہذیبی اور تاریخی ورثہ ، اس کی انسانی قدریں، اس کا نصب العین، اس کی خواہشیں اور آرزوئیں حتی کہ اس سے قبل تاریخی میراث اور اساطیر بھی ادب کے تخلیقی عمل میں برسرپیکاررہتے ہیں۔ ہندوستانی سماج ایک پیچیدہ اور تہہ در تہہ سماج ہے۔ اردو زبان جو گیارہویں صدی کے بعد ہندوئوں اور مسلمانوں کے سابقے سے تاریخ کے فطری دبائو کی وجہ سے وجود میں آئی۔ محض ایک لسانی مفاہمے کا نام نہیں بلکہ غور سے مطالعہ کرنے پرپتہ چلتا ہے کہ ایک بہت زبردست تہذیبی مفاہمے کی ضرورت بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وسیع تر انسان دوستی پر مبنی ایک ہمہ گیر ملی جلی تہذیب کی تلقین بھی ہے۔

     اردو ڈراما انہیں تہذیبی اور معاشرتی اقدارکے زیراثر اپنے دور ابتدائی سے ہی پروان چڑھا ہے۔ اردو ادب میں ڈراما کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کا پودا کسی دوسرے ملک سے نہیں لایاگیا بلکہ اس نے ہندوستان ہی میں جنم لیا اور یہیں پرورش پائی۔

     اردوشاعری نے عربی وفارسی شعریات سے تو استفادہ کیا مگر جس وقت اردو ڈراما اپنے بال وپرنکال رہا تھا اس وقت عربی اور فارسی ڈرامے کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ فارسی ڈرامے کی ابتدا ناصرالدین قاچار کے ز مانے میں ہوئی جب انہوں نے 1873اور 1889کے درمیان یورپ کے تین اسفار کیے اور ڈرامے دیکھے۔ عربی میں ڈراما تو اس وقت بالکل مفقود تھا۔ عربی دنیا میں پہلی بار شعر میں ڈراما لکھنے والے لبنانی شیخ خلیل باز ہیں جنہوں نے 1876میں ’’المروۃ الوفا‘‘ کے نام سے ڈراما لکھا۔

( عبدالحق،مصرمیں عربی ڈراما کا نشو ونما، عصری ادب، دہلی، اکتوبر1980۔اپریل1981)

     یہ بات مسلم ہے کہ اردو ڈراما نے اپنے اصل کے اعتبارسے ہندوستانی ماحول میں پرورش پائی۔ یہ جن حالات میں پیداہوا ان حالات میں اس نے اپنے مزاج اور ضرورت کے مطابق سنسکرت ڈرامے سے بھی استفادہ کیا ہے گرچہ استفادہ براہ راست نہ سہی، آٹھویں صدی میں سنسکرت ڈراما پرزوال شروع ہوا ہے اور دسویں صدی آتے آتے سنسکرت ڈراما اسٹیج سے بالکل غائب ہوگیا۔ بھوبھوتی (780) آخری بڑا ڈراما نگار ہے۔اس وقت سنسکرت کی جگہ لوک ناٹکوں نے لے لی حالانکہ وہ پہلے سے موجود تھے۔ پراکرت ڈرامے سنسکرت ڈرامے سے پہلے سے موجود تھے اور عوام میں مقبول بھی تھے۔ مگر بدھ مذہب کے عروج کے زمانے ہی میں ان لوک ناٹکوںمیں اس قدر خرابیاں پیداہوئیں کہ اشوک نے ان مخرب الاخلاق پیش کشوں کو بندکرنے کا حکم دیا۔ بدھ مذہب کے زوال کے ساتھ ہی سوسائٹی کی حالت ناگفتہ بر ہوچکی تھی۔ چنانچہ اس کے اثرات سے پراکرت ڈراما بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ بھرت منی نے اپنا ناٹیہ شاستر انہیں حالات کے زیراثر ترتیب دیا تھا۔

     جیسا کہ پہلے کہاگیا کہ دسویں صدی میں سنسکرت ڈرامے کا زوال ہوا اس کے بعد پانچ سو سال تک تقریباً ڈرامے کا عہد تاریک سمجھاجاتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پانچ سو سالوںمیں ہندوستان کے نئے ڈراموں کے خدوخال تشکیل پائے۔ بھگتی تحریک اپنے عروج پر تھی تو اسی زمانے میں ایک نیا طبقہ چرن کے نام سے ابھرا۔ اس طبقے کو بھگتی تحریک سے اپنے رقص ڈرامے کے لیے نئے نئے موضوعات ملے اور سینکڑوں مندر تعمیر ہوئے۔ بھگتی تحریک کے زیراثر اندھراپردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر میں ہری کتھا یا کیرتن نے جنم لیا۔

     غور کیاجائے تو اردو ناٹک کا رشتہ ان عوامی عناصرمیں ملتا ہے جو بھرت کے ناٹیہ شاستر اور اس کے زمانے میں اور اس کے بعد لکھے جانے والے ناٹکوں کے زوال کے بعد انیسویں صدی میں واجد علی شاہی دور تک کے درمیانی وقفہ میں مختلف شکلوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اردو ڈراما نے اودھ اور اس کے قرب وجوار کی روایتوں کو اپنایا۔رام لیلا، راس لیلا، بھگت سوانگ اور سانگ سنگیت اور اس کے علاوہ بہت سے ڈرامے کے فارم تھے جو کہ مختلف علاقوں اور ماحول میں انپے خاص تہذیبی اور معاشرتی عوامل کی وجہ سے مختلف پیش کش اور طرزادا کی وجہ سے مقبول رہے۔

     انیسویں صدی میں جب اردو ڈراما پیداہوا تو گرچہ ان کی روایت تھوڑے بہت فرق کے ساتھ الگ الگ تھیں مگر کچھ باتیں ان میں مشترک تھیں جیسا کہ کہاگیا ہے مثلاً رقص وموسیقی کی اہمیت مکالموں کا کم سے کم ہونا، سادہ اسٹیج، سوتر دھار ودوغیرہ، ابتدا میں دیوتائوں کی حمد گایا جانا وغیرہ انہیں روایات نے اردو کے ابتدائی ڈراموں کو متاثر کیا۔ ’’رادھا کنہیا کا قصہ‘‘ واجد علی شاہ نے لکھ کر اسٹیج کرایا۔ ’’رادھا کنہیا کا قصہ‘‘کی بنیاد کرشن کی ایک راس پر ہے۔ رادھا جب کرشن سے بانسری بجانے کی فرمائش کرتی ہیں تو کرشن کہتے ہیں کہ بانسری گم ہوگئی ہے جس پر رادھا کو شک ہوتا ہے کہ شاید انہوں نے بانسری دوسری محبوبہ کو دے دی ہے اوروہ کرشن سے روٹھ جاتی ہیں۔ کرشن انہیں مناتے ہیں اور بانسری مل جاتی ہے۔ اور رادھا کا شک دور ہوجاتا ہے۔ ڈرامے کا آغاز ایک رقص سے ہوتا ہے جو رادھا کی سہیلیاں ناچتی ہیں اس کے بعد چارپنہارنیں پانی بھرتی ہوئی ایک ٹھمری گاتی ہیں۔ اس کے بعدچارمکھن والیاں ہوری گاتی ہیں۔ ہوری ختم ہونے کے بعد مکالمے شروع ہوتے ہیں اور قصے کا آغاز ہوتا ہے۔ درمیان میں رقص وموسیقی چلتی رہتی ہے۔ گفتگو بھائو بناکر رقص کے انداز میں ہوتی ہے پورے ڈرامے کی بنیاد اس طرح رقص وموسیقی پر ہے وہ اس کا رشتہ راس لیلا سے جوڑتی ہے۔

(آج کا کھتک نرت اور برج کی راج، رام نرائن اگروال، چھایا تٹ، لکھنؤ، جنوری تا مارچ، 1981،ص:3)

     اس بات سے قطع نظر کہ راجا کے دربار خود واجد علی شاہ کے یہاں کتھک نے کیسا روپ اختیارکیا اور اس میں کتنا حصہ ناٹیہ دھرمی تھا اور کتنا لوک دھرمی اس بات کو کہنا پڑیگاکہ واجد علی شاہ نے اس ہندوستانی رقص سے بھی اپنا ناٹک سجایا۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلا اردو ڈراما خالص ہندوستانی روایت پر لکھاگیا۔ واجد علی شاہ نے ہندوستانی روایت کو آگے بڑھایا اور مسلمانوں میں ناٹک کے فن کو پھیلا یا بھی  جس سے پہلی بار مسلمان اس فن کی طرف متوجہ ہوئے۔ واجد علی شاہ کے رہسیوںکی گونج جب لکھنؤ میں ہوئی تو امانت لکھنوی نے اپنی’’ اندرسبھا‘‘ لکھی۔ بعض لوگوں کو اس میں یوروپین او پیراکی جھلک دکھائی دیتی ہے مگریہ خیال محض بے بنیاد اور خیال آرائی پر مبنی ہے۔ حقیقت میں اس کی بنیاد بھگت اور راس لیلا کی روایت پر رکھی گئی ہے۔ جس میں رقص اور موسیقی کے اہمیت حاصل ہے اور خالص ہندوستانی روایت کے مطابق ہی اسٹیج کی جاتی ہے۔ اور چونکہ اندرسبھا نصف صدی تک ہندوستانی اسٹیج پر حکمرانی کرتی رہی اس لیے اردو ڈراما اس سے برابر متاثر ہوتا رہا۔اس لئے بعد میں بھی لکھے گئے ڈراموں میں اسی فارم اور تکنیک کو اپنایا گیا۔ امانت کی اندرسبھا کی غیر معمولی مقبولیت کی بناپر متعدد سبھائیں لکھی گئیں جن میں کم وبیش امانت ہی کی تقلید کی گئی تھی اس لیے ان کا بھی لوک ناٹک سے جڑا رہنا ضروری تھا۔

     ہم نے مطالعہ کیا ہے کہ اردو ڈراما کس طرح فنی اعتبارسے اور عقائد کے لحاظ سے ہندوستانی لوک ناٹک سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے سنسکرت ڈرامے کی روایت سے براہ راست نہ سہی مگر بعض فنی لوازم بالواسطہ طور پر قبول کیے ہیں۔ مثلاً سنسکرت ڈرامے اکثر کسی مذہبی تیوہار پر پیش کیے جاتے تھے اور یہ کسی نہ کسی دیوتا سے منسوب ہوتے تھے۔ اس لیے کسی نہ کسی دیوتا کی حمدوثنا لازمی تھی اور ڈرامے کی کامیابی کی دعاکی جاتی تھی یہ کام سوتردھار انجام دیتا تھا۔ ڈرامے کا اختتام مناجات (پرارتھنا اور آشیرواد) سے ہوتاتھا، اس حصہ کو بھرت کاویہ کہتے ہیں۔

     اردو نے سنسکرت ڈرامے کی روایت کو اپنے ابتدائی ڈراموں میں پوری طرح نبھایا ہے۔ اس طر اردو ڈراموں میں اکثر سنسکرت ڈرامے کے فن کی پیروی کی جاتی تھی۔ اور یہ سلسلہ ہمیں آغاحشر اور ان کے ہم عصروں تک برابر ملتا ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اردو ڈراما اپنے حالات اپنے کیرکٹر اور اپنی ثقافت کا احترام کرتے ہوئے سنسکرت اور لوک ناٹک سے جڑا ہواتھا۔ آغاحشر نے تاریخی، سماجی، اصلاحی اور ہرطرح کے ڈراموں کو اپنا موضوع سخن بنایا اور آخری دورمیں بالخصوص شراب، جہیز اور حسن بازاری کی لعنت کو پانے ڈراموں کا موضوع بنایا۔ امیرزادوں کی عیاشی اور ان سے منسلک طبقوں کا خوب مضحکہ اڑایا ہے۔ ’’دل کی پیاس‘‘ میںمغربی تہذیب کی کورانہ تقلید کی مذمت کی ہے۔ ’’آنکھ کا نشہ‘‘ میں شرابی اور رنڈی بازوں پر کراری چوٹ کی ہے۔ آغاحشر کو یہ فخر حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے ڈراموں میں سب سے پہلے انسانی زندگی کے بنیادی مسائل کو کامیابی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

     ’’ترکی حور‘‘ میں سماجی برائیوں کا کھلا ہوا اظہارملتا ہے۔ اس کے ایک کردار انور کپتان کے ذریعہ حب الوطنی اور قوم پرستی کے جذبات کو ابھارا گیا ہے۔ یہ پورا ڈراما سماج کا آئینہ دار ہے جس میں نشہ، جوا اور دیگربری عاتوں کا عبرت ناک انجام دکھایاگیا ہے۔

     آغا حشر اپنے آخری دورمیں ڈراموں میں کھل کر خالص مقامی رنگ کو شامل کیا ہے۔ اپنے ڈراموں میں ہندوستانی عناصر کی گہری چھاپ موجود ہے۔  مقامی تہذیب اور تمدن سے ان کا والہانہ لگائو اور مقامی رچائو انہیں ممتاز کرتا ہے۔

     جب پارسیوں نے اردو ڈرامے اسٹیج کرنا شروع کیے اور تھیٹر کو کاروباری شکل دی تو منافع کمانے کے لیے نئے طریقوں کو کام میں لانے کا سوچاجانے لگا۔ ایک بات اور قابل ذکرہے کہ جن صدیوں میں ہندوستان میں کلاسیکی (سنسکرت) ڈرامے کی ترقی رکی رہی اور اس طویل مدت میں صرف لوک ناٹک کی مختلف شکلیں ہی رائج رہیں اورناٹک کی روایت کو زندہ رکھے رہیں لوک ناٹک کی اس روایت میں قدیم کلاسیکی ناٹکوں کے اجزاء بھی شامل کر لیے گئے اور مذہبی دیومالائی، نیم مذہبی اور نیم تاریخی روایتیں بھی ان لوک ناٹکوں میں عوامی عناصر ہی کا حصہ بن کرشامل ہیں۔ جن کی ایک پختہ روایت اردو کے ڈراموں میں ہمیں نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر شاہدحسین کے مندرجہ ذیل بیان سے ہم ہندوستانی مشترکہ کلچر ومعاشرت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

’’ہم جنہیں مذہبی یا دیومالائی قصے کہتے ہیں وہ بھی دراصل اسی لوک روایت میں شامل ہوئے اور ناٹک کے اس دورمیں انہیں عوامی روایت ہی کا حصہ سمجھنا چاہیے اور اسے کسی ایک مذہبی روایت سے منسوب کرکے دیکھنا مناسب نہ ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ رام لیلا کی تیاری میں غیرہندوئوں اور خاص طورپر مسلمانوں کا بڑا حصہ رہا ہے ایک مدت تک شمالی ہندوستان میں رام لیلا کے لیے رائون اور اس کے ساتھیوں کیعلاوہ اور شبہیں تیار کرنے کا سارا کام مسلمان کاری گر ہی کرتے تھے اور اکثر رام لیلا میں اداکاری میں حصہ لیتے تھے۔‘‘

( شاہد حسین،عوامی روایت اور اردو ڈراما، حسنین پبلشر، نئی دہلی، ص:70)

     یہی صورت حال کرشن لیلا کی بھی ہے گوکہ رام اور کرشن دونوں ہندوئوں کے اوتار ہیں اور ان سے متعلق ساری روایتیں مذہبی ہیں مگرجب ان قصوں کو لوک ادب نے اپنالیا تو مذہب سے زیادہ روایت کا رنگ غالب آگیا یہی وجہ ہے کہ واجد علی شاہ نے رہس کو ا پنایا اور کرشن جی کے قصے کو لکھا اور اسے پیش کیا اور کروایا۔ ’’بزم سلیمانی‘‘ اور ’’ جشن پرستان‘‘ روایتی طرز کے ڈرامے ہیں اس کے بعد پارسی تھیٹر کے زیراثر بہت سے ڈرامے لکھے گئے جن میں تھوڑے ہی دنوں بعد تھیٹرباقاعدہ تجارت بن گیا اور پارسی تھیٹر نے ڈرامے اسٹیج کرکے پیسہ کمانے لگے جس کے لیے انھوں نے پلاٹ اور پیش کش اور اسٹیج کو نئے تجارتی تقاضوں کے مطابق ڈرامے کو ڈھالنا تھا۔ مگر ہندوستان میں جنگ آزادی کی لڑائی 1857کی پہلی جنگ آزادی لڑی اور ہاری جاچکی تھی۔ ہندوستان بالخصوص اودھ کی سماجی زندگی میں کچھ تبدیلیاں بھی آچکی تھیں۔ انگریزوں کے خلاف جو لڑائی لڑی گئی وہ ہندوئوں اور مسلمانوں نے مل کر لڑی تھی اردوادب بالخصوص ڈراما بھی انہیں عوامل کو سمیٹے اپنے کردار کو اداکررہا تھا۔ ’’تحریک آزادی میںاردو کا حصہ‘‘ میں معین عقیل لکھتے ہیں:

’’بعض ڈراوں میں محض سیاسی واقعات وحالات پیش کیے گئے ہیں اور بعض میں کھل کر برطانوی مظالم، سیاسی جبرواستبداد اور انگریزوں کی ریشہ دوانیوں کو دکھایا گیا ہے اور چندڈراموں میں آزادی کی اہمیت حصول آزادی کی ترغیب اور برطانوی حکومت سے نجات جیسے موضوعات اور خیالات بیان کیے گئے ہیں۔‘‘

(معین عقیل، تحریک آزادی میں اردو کا حصہ،ص:589)

     ’’فرنگی اور ہندوستانی طرز حکومت‘‘ سیاسی ڈراموں میں اردو کا پہلا ڈراماہے۔ یہ ڈراما 1857میں بمبئی میں اسٹیج کیاگیا۔ اس کے کافی عرصے بعد 1893میں امرائو علی لکھنوی نے ’’البرٹ بل‘‘ نام سے ایک ڈراما تخلیق کیا۔ اس ڈرامے میں ابتدا سے اخیر تک برطانوی حکومت کے مظالم ، جوروستم اور جبرواستبداد کو دکھایاگیا ہے۔ مولانا ظفرعلی خان نے ’’جنگ روس وجاپان‘‘ تصنیف کیا۔ اس کے بارے میں معین عقیل لکھتے ہیں:

’’یورپ کی آخری انیسویں صدی کی جنگی حکمت عملی کو ’’مرض جوع الارض‘‘ قرار دیا ہے۔ ظفر علی خان نے جاپانیوں کو قوم پرستی کے ذکر سے ہندوستانیوں کو سبیق حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس میں ایسے کردارپیش کیے گئے ہیں جو ہندوستانیوں کے لیے مثالی ہوسکتے ہیں۔ ضعیف بیوہ ماں کا محض اس خیال سے خودکشی کرنا کہ اس کے بعد اس کا لڑکا ماں کی خدمت کے بجائے ملک وقوم کی خدمت کرسکے۔ اور اس نوجوان کا دھیان صرف ملک وقوم کی خدمت کی طرف رہے گا۔‘‘

(معین عقیل، تحریک آزادی میں اردو کا حصہ، ص:590)

     اس دور کے بیشتر ڈراموں میں جنگ آزادی اور قومیت کے جذبے کو بیدار کئے گئے اور ہندومسلم اتحاد کے لیے اردو کے بہت سے ڈرامے تحریر کیے گئے مثلاً ’’قومی دلیر‘‘ اس ڈرامے سے ہندومسلم اتحاد ویگانگت کی جھلک ملتی ہے۔ اس ڈرامے کو اصغرنظامی نے تحریرکیا تھا۔ اس کے علاوہ عبداللطیف نے ’’ہماراگھر‘‘ لکھا۔ اس ڈراما کا مرکزی کردار ہندو ہونے کے باوجود مسلمانوں سے بے پایاں محبت کرتا ہے اور قومی یکجہتی اور یگانگت پر یقین رکھتا ہے وہ اپنا تمام سرمایہ سوراج اور خلافت فنڈ کو دے دیتا ہے۔ اس طرح عباس علی نے ’’لیڈی جونتی‘‘ اور ’’شاہی فرمان عرف دیش ایدیش‘‘ تخلیق کیے۔ محشر انبالوی کا ڈراما’’غریب ہندوستانی عرف انقلاب یعنی سودیشی تحریک‘‘ اور ریاض دہلوی نے ’’مسلم پجاری اور نصیر انبالوی نے ’’وطن‘‘ میں ہندومسلمانوں کے قومی وسیاسی مسائل حل کرنے کی کی کوشش کی ہے۔ دل لکھنوی کا ڈراما ’’تاج محل‘‘ ہندومسلم یگانگت اور یکجہتی پرمبنی ہے۔ شمس لکھنوی کے ڈرامے ’’مادروطن‘‘ اور ’’حب الوطن‘‘ میں حب الوطنی کے جذبات کو نمایاں کیاگیا ہے اور غلامی سے نجات کے لیے ہرہندوستانی ہندومسلمان کو ایک ساتھ جدوجہد کرنے کی تلقین کی ہے۔ محی الدین عزم کا ڈراما ’’دیش کی پکار‘‘ اہم ہے۔

     اظہر دہلوی کا ڈراما’’بیداری‘‘ میں آزادی کی تحریکوں کا پورا سیاسی تناظر پیش کیاگیا ہے۔ سردارجعفری کا ڈراما’’یہ خون کس کا ہے‘‘ میں ہندوستانیوں کی جدوجہد، شجاعت اور بہادری کو پیش کیا ہے۔ اس میں بھیم اور ارجن، اکبر اور ٹیپو، جھانسی کی رانی اور بھگت سنگھ کی روح ہے۔ ترقی پسندتحریک کے زیراثر ڈراموں کا ایک مجموعہ’’نئی تصویریں‘‘ سجاد ظہیر نے مرتب کیا ہے۔ ان میں ’’ہیلڈرک‘‘،’’مارشل تمونسکو‘‘ اور ’’لال جھنڈا‘‘ ہے۔

     اشتیاق حسین قریشی کا ڈراما ’’نقش آخر‘‘ جنگ آزادی 1857کے واقعات پرمبنی ہے۔ پروفیسرمحمدمجیب نے بھی بعض اہم ڈرامے پیش کیے ہیں جو 1857کے پس منظر پرلکھاگیا ہے 1957میں منظرعام پر آیا ۔

     اردو ڈرامے کی جو روایت واجد علی شاہ سے شروع ہوئی وہ امانت لکھنوی اور آغاحشر کا شمیری سے ہوتی ہوئی حبیب تنویر اورمحمد مجیب کے دورتک ہندوستانی تہذیب ومعاشرت اور قوم پرستی کے جذبے سے سرشارہے۔ اس کی جڑیں خالص ہندوستانی تہذیب واقدار میں پیوستہ ہیں۔ اردو کی دوسرے اصناف شعروادب کے برخلاف اس کی ساری روایتیں خالص ہندوستانی ماحول وآب وہوا کی دین تھیں۔ اس مختصر سے مقالے میں انہیں عناصر اور کارفرمائیوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے جو پوری ہندوستانی تہذیب کے گل وبوٹوں کو ڈرامے کے ذریعہ اظہار کا وسیلہ دے رہی تھیں اور قومی مزاج کی آئینہ داری کررہی تھیں۔

مراجع

(1)عوامی روایت اور اردو ڈراما، ڈاکٹر محمد شاہد حسین، حسنین پبلشرز، نئی دہلی، 1992

(2)اردو ڈراما کی تاریخ وتنقید، عشرت رحمانی،  ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،2009

(3)اردواور مشترکہ ہندوستانی تہذیب، کامل قریشی، اردو اکیڈمی، دہلی، 1987

(4)اردو ڈراما کی تنقید کا جائزہ، ابراہیم یوسف، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی،1994

(5)تحریک آزادی، اردو نثراور مسلم ادبائ، ڈاکٹر ضیاء رالرحمن صدیقی، راجستھان وقف بورڈ،1997

(6)تنقید احتساب اور تجزیہ، سیدہ جعفر ،O168,3:gxQ4،(دکنی اردومیں تہذیی یکجہتی)

(7)ادب اور قاری، سیدقمرصدیقی، مکتبہ صدف، مظفرپور،2013

(8)ہماراادبی اور تہذیی ورثہ، ڈاکٹر سیدرضا حیدر، (مرتبہ) ، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، 2008

(9)ہندوستانی میں سماجی اصلاح کی تحریکات اور ان کے اثرات، پروفیسرصدیق الرحمن قدوائی، مرتبہ، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، 2011

(10)اردو کہانی میں وطنیت اور اتحاد، ڈاکٹر عبدالرشید خان، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی،2011

(11)تنقیدی جائزے، سیداحتشام حسین، الہ آباد پبلشنگ ہائوس، الہ آباد،1951

(12)ہندوستانی سماج پر اسلامی اثر اور دوسرے مضامین، محمد مجیب، دلّی کتاب گھر، دہلی،2011

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر قمر الحسن

شعبئہ اردو ،ستیہ وتی کالج

(دہلی یونی ورسٹی)

9136142610

qamarulhasan43@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.