اپنی بات

ادبی رسالے کی اشاعت ایک صبر آزما کام  ہے۔ تین مہینے کب اور کیسے نکل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا۔ ایک شمارے کی اشاعت کے فورا بعد اگلے شمارے کی تیاری میں لگ جانا پڑتا ہے۔ اس پر مستزاد قارئین اور قلم کاروں کے فون۔ یہ ساری چیزیں ایک مکمل ٹیم کا تقاضا کرتی ہیں۔ لیکن اردو رسائل کے وسائل اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ چند ایک سرکاری سرپرستی میں نکلنے والے رسائل کو چھوڑ دیں تو اردو کے سبھی رسائل شخص واحد کی کاوشوں کا ثمرہ ہوتے ہیں۔ اردو ریسرچ جرنل بھی انہیں رسائل میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود یہ اللہ کا کرم ہے کہ ہمارے ساتھ کچھ مخلص دوستوں کی ٹیم ہے جو ہماری آواز پر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کردیتے ہیں۔ میں ان سبھی دوستوں کا شکرگزار ہوں۔

اس بارہویں شمارے کے ساتھ “اردو ریسرچ جرنل” نے چار سال مکمل کرلیے۔ ادبی رسالے جو عموماً”ادھر نکلے ادھر ڈوبے” کے مصداق ایک یا دو سال ہی میں بند ہوجایا کرتے ہیں، چار سال تک معیار سے سمجھوتہ کیے بغیرمسلسل اشاعت کسی معجزہ سے کم نہیں۔

اس شمارے میں ملک وبیرون ملک کے اہم قلمکاروں کے مقالے شامل ہیں۔ خاص طور پر ن م راشد کی شاعری پر ڈاکٹر شاہ عالم کا مقالہ، موجودہ طرز معاشرت اور ترجمہ پر ڈاکٹر ابوشہیم خان کا مقالہ لائق مطالعہ ہے۔ ترجمہ ڈاکٹر ابوشہیم خان کا خاص میدان ہے۔ اس کے نظری اور عملی مباحث پر ان کی نظر ہے۔ یہ مقالہ یقینا علم ترجمہ میں اہم اضافہ ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی طویل نظموں پر ایک مقالہ عابد خورشید کا، اور سوشل ورک پر ڈاکٹر محمد شاہد کا شامل اشاعت ہے۔اس کے علاوہ دیگر مقالہ نگاروں کے  اہم مقالے اس شمارے میں شائع کئے گئے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ یہ شمارہ بھی سابقہ شماروں کی طرح پسند کیا جائے گا۔ ہمیں آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔

والسلام

ڈاکٹر عزیر احمد

(ایڈیٹر)

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.