تخمِ خوں: دلت مکالمہ پر ایک شاہ کار ناول 

صغیر رحمانی اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ،اگر چہ ۲۰۱۶ ء تک ان کاشما ر اکیسویںصدی کے نمائندہ اردو افسانہ نگاروں میں کیا جاتا تھا ۔مگر ’’تخم ِخوں ‘‘کی اشاعت کے بعد ان کا شماراس صدی کے نمائندہ ناول نگاروں میں بھی ہونے لگا ہے۔ انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز اردو کہانیوں سے کیا۔ مگرکسی اکیڈیمی یا کسی ادارے سے مالی معاونت نہ ملنے کی وجہ سے ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ پرانے گھر کا چاند‘‘اور پہلا ناول ’’اشیش‘‘ہندی زبان میں شائع ہوئے جو اردو ادب کے لئے بڑی بد نصیبی کی بات ہے۔ ابھی تک ان کا اردو میں ایک ناول تخم ِخوں (2016)اورتین افسانوی مجموعے شائع ہو ئے ہیں۔ جن کو اردو کے ناقدین نے خوب سراہاہے۔ ان کی ایک کہانی    ’’ واپسی سے پہلے‘‘ جوان کے افسانوی مجموعہ کا نام بھی ہے کے متعلق مشہور مارکسی ناقد محمد حسن لکھتے ہیں کہ’’ میں نے چالیس برسوں میں ایسی کوئی کہانی اردو میں نہیں پڑھی تھی‘‘۔ بہر کیف جہاں تک اُن کے اردوناول ’’تُخم ِخوں ‘‘کا تعلق ہے تو یہ ان کاپہلا ناول ہے اور اس میں دلت طبقے کے مسائل کو موضوع بنایا گیاہے ۔ لفظ ’’دلت ‘‘ سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس میں مظلوم طبقے کی زندگی کو پیش کیا گیاہے ۔کیوں کہ سنسکرت میں دلت کا مطلب ہی مظلوم کے ہے ۔دلتوں کو ہندو مذہب میںسب سے نچلا طبقہ تصور کیا جاتا ہے ۔یہ طبقہ ابتدا سے ہی مظلوم رہا ہے ۔اعلیٰ طبقے والوں (خاص کر برہمن قوم )نے ان کے ساتھ ا بتدا سے ہی امتیازی سلوک کیا ،ان پر ہمیشہ ظلم وستم ڈھائے اوران کو اپنا غلام تصور کیا ۔جب ضرورت پڑی تو ان کا استعمال کیاورنہ سماج میںان کی حیثیت نا کے برابر سمجھی ۔’’تخم خوں‘‘ ان ہی مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔اگر چہ یہ ناول بہار کے ببھن گاؤں کے دلتوں کے پس منظر میں لکھا گیا ہے مگرنمائندگی پورے ہندوستان کے دلتوں کی کرتا ہے کیوں کہ جب ہندوستان کے دوسرے خطوں میں رہنے والے دلتوں کے حالات کو دیکھتے ہیں توان کے حالات بھی ببھن گاؤں کے دلتوںاور اسی طبقے کے دسادھووں جیسے ہی  ہیں ۔ مصنف نے جس دیدہ ریزی سے بہار کے ببھن گاؤں کے دلتوں کے مسائل کو پیش کیا ہے ۔اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے پہلے نہایت قریب سے ان کی زندگی کامشاہدہ کیاہو گا،ان کی تکا لیف ،دکھ درد اور ان کے جذبات و احساسات کو سمجھاہو گا ،ان کے گھروں کے اندرونی حالات کو سمجھا ،ان کی معاشیا ت کا بہ غور مطالعہ کیا ہوگااوران کی نفسیات کو کھنگالاہوگا۔تب جا کے وہ اپنے ناول میں اس اندازسے تمام مسائل کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ورنہ تمام پہلوؤں کو اس طرح سمیٹ لینا آسان کام نہیں ہوتا جس طرح تخم خوںکے مصنف نے سمیٹ لیاہے۔ ’’تخم خوں‘‘ بہار کے ببھن گاؤں کے دلت اور دسادھ طبقے کی کس مپرسی کی بہترین عکاسی کرتا ہے جو چاروں سمت ظلم کے شکار ہوتے ہیں ایک طرف پنڈت لوگ ان کا خون چوستے ہیں تو دوسری طرف سرکاری حکمراں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بغاوت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔کہانی بہار کے ببھن گاؤں کے دلتوں کی ہے جن کو گورنمنٹ کی طرف سے غیر مزروعہ زمین کے کاغذات دئے جاتے ہیں جو جاگیردار طبقے کے قبضے میں ہوتی ہے ۔جس کو حاصل کرنے کے لئے وہ تمام سرکاری وغیر سرکاری دفاترکی خاک چھانتے ہیں مگر کوئی بھی سرکاری عہدیدار ان کو زمین دلانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا ۔جس کے نتیجے میں وہ ہتھیار اٹھا نے پر مجبور ہوجاتے ہیںکیوں کہ نہ کوئی دبنگ زمین چھوڑ تا ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری آفیسر ان کو زمین دلانے میں مدد کرتا ہے۔جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتاہے تو وہ اپنے مسلوب حقو ق کو زبردستی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔اس طرح وہ اب سامنتوں اور برہمنوں سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں ۔ان کی نظرسے بچنے کے خاطر وہ رات کی تاریکی میں حملہ کرنے کے گُرسیکھنے کے لئے جنگلوں میںجاتے ہیں ۔جوں ہی وہ جنگلوں میں جاتے ہیںتو یہاں ان کے عیال کو زندہ جلا دیا جاتا ہے اوران کے ٹولے کو نقشے سے ہی مٹادیا جاتا ہے۔وہ رات کے اندھیرے میںسون ندی کے جنگلوں میںہتھیار چلانے کی مہارت حاصل کرتے رہے اِدھر ان کے ٹولے کے گھر آگ کے شعلوں میں تبدیل ہوتے رہے ، اِدھر وہ اپنے جذبات کا اظہار بلند آواز میں کرتے رہے اُدھر ان کے ٹولے کی عورتیں زور زور سے چیختی پکارتی رہیں،اِدھر وہ ایک ایک گر سیکھتے گئے اُدھر ان کے گھر اورا فرادجلتے گئے ،اِدھر انھوں نے ٹریننگ مکمل کی اُدھر ان کے ٹولے کا کام مکمل کردیا گیا ۔اس طرح اس جد وجہد کا خمیازہ بھی دلت ٹولی اور دسادھ ٹولی کو ہی بھگتنا پڑتا ہے ۔ اس خونین واقعہ کو مصنف اس انداز سے بیان کرتے ہیں :  ۱؎’’ادھر سون ندی کے جنگلوں میں تربیت چل رہی تھی ،ادھر چمار ٹولی ،دسادھ ٹولی میں تربیت یافتہ وحشی پن ۔ایسا وحشی پن کہ انسانیت کراہ اٹھی تھی ،پھوٹ پھوٹ رو رہی تھی ،اپنے ہونے کا معنی تلاش کر رہی تھی ۔‘‘   مصنف نے بہار کے دلت اور دسادھ طبقے کے مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے رہن سہن ،بھائی چارہ اوراتحاد و اتفاق کی بھی بہترین عکاسی کی ہے ۔جس میں دلت اور دسادھ اپناثانی نہیں رکھتے ہیں ۔کیوں کہ وہ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں،ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے کام آتے ہیں ،باہمی اختلافات کو جنم نہیں لینے دیتے اورنہ ہی ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہیں۔اگر کبھی کسی بات پر اختلاف پیدا بھی ہوجائے تواس کو جلدی رفع کر لیتے ہیں ،ہر کام باہمی صلاح و مشورے سے کرتے ہیں اورجب اپنے حقوق کی خاطر اُٹھ کھڑے ہونے کی نوبت آتی ہے تو ہر کوئی لبیک کہتا ہے ،کوئی پیچھے نہیں رہتا بلکہ ہر کوئی جان نچھاور کرنے کے لئے آگے آگے دوڑتا ہے ۔ ایک واقعے کو یہاں پر بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے جس سے آپ کو پتا چل جائے گاکہ وہ کس طرح اپنے باہمی مسائل کو حل کر لیتے ہیں ۔ جب داروغہ کرانتی کرنے والوں کی تلاش میں چمار ٹولی اور دسادھ ٹولی کے لوگوں کو حد سے زیادہ تنگ کرنے لگتا ہے تو وہ اپنے سنگھٹن کے نمائندوں کو سرینڈر کرنے کی التجا کرتے ہیں۔مانجھی جو سنگھٹن کا نمائندہ ہوتا ہے جب اپنے گاؤں والوں کی بے بسی و لاچاری کو دیکھتا ہے تو وہ ان کی خاطر سرینڈر کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے ۔دیکھئے وہ کس طرح سرینڈر کرنے سے پہلے اپنے گاؤں والوں سے مخاطب ہوتا ہے :  ۲؎’’بھائیوں،سایدآپ لوگ ہمیں اوؤر سنگھٹن کو اپنا دسمن سمجھنے لگے ہیں ،اسی لیے آپ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم پولیس کے سامنے سلینڈر کردیں ۔ٹھیک ہے،جب آپ لوگ چاہتے ہیں تو ہم لوگ سلینڈر کردیں گے لیکن ایک بات ہم کہنا چاہیں گے کہ ہم نے اپنا گھر بار چھوڑا ،اپنے لیے نہیں ،آپ سب کے لیے ۔ہتھیار اٹھایا ،اپنے لیے نہیں ،آپ سب کے لیے۔اب جب آپ لوگ ہی نہیں چاہتے کہ ہم آپ کی لڑائی لڑیں ،تو ٹھیک                       ہے ،نہیں لڑیں گے ۔سلینڈر کر دیں گے لیکن اس سے پہلے جو لڑائی سروہوچکی ہے ،                             اسے انجام تک پہچانا ہوگا۔۔ ۔‘‘     مصنف نے جہاں دلت اور دسادھ طبقے کے تمام پہلوؤں کو پیش کیا ہے وہاں انھوں نے پنڈت لوگوں کی اصلیت کو بھی افشا کردیا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح پنڈت ظاہری طور پر دلتوں اور دسادھوں کو ہمدردی دکھاتے ہیں مگر اندرونی طور پر ان کا خون چوسنے میں لگے رہتے ہیں۔پنڈت کانا تیواری ناول کے اہم کرداروں میں سے ایک ہے۔جو ظاہر ی طور پر اپنی پنڈت قوم اور دلتوں کے لئے بھگوان کا دوسرا روپ ہوتاہے مگر اندورنی طور پر وہ مکار،فریبی ،حریص اور ظالم ہوتاہے ۔وہ اپنے فائدے کے لیے دلتوں سے ایسے کام کرواتاہے جو نہ صرف اس کے لیے گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ پنڈت کانا تیواری کو اپنی برادری سے خارج بھی کرواسکتے ہیںلیکن وہ اس انداز سے کرتا ہے کہ منافعہ بھی کھالیتاہے اور کسی کو پتا بھی نہیںچلنے دیتا ۔ یہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح بی ڈی او صاحب کو رشوت دے کر ٹینگر نام کے ایک دلت کو ہڈی ماس کا لائسنس دلواتا ہے تاکہ وہ حساب کتاب خود رکھ سکے اور منافع کو اپنی جیب میں ڈال سکے :  ۳؎ ’آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟‘بی ڈی او صاحب نے حیرت سے پنڈت جی کو دیکھا۔’اس لیے کہ میں وہ لائسنس لینا چاہتا ہوں ۔‘پنڈت جی نے سنجیدگی سے کہا ۔’اپنے کسی’ بنہار ‘کے لئے ؟‘  ’نہیں ، اپنے لیے۔‘’کیا؟‘ بی ڈی او صاحب کا منہ واہوگیا ۔’آپ؟ آپ یہ کام کریں گے ….ہڈیوں کا ؟‘’ہاں حاکم ،میں ہی کروں گا ۔آپ تو جانتے ہیں ،کھیتی باڑی میں اب جان نہیں رہی ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی کسان خود کشی کررہا ہے ۔روزی روٹی کے لیے کچھ تو سہارا ہونا چاہیے اور پھر اس یگ میں’ لکشمی ‘  ہی سب کچھ ہے ،لکشمی ۔‘’لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟اس کے لیے نچلی ذات کا سر ٹیفکٹ ہونا چاہیے ؟‘’نچلی ذات کا سرٹیفکٹ کون بناتا ہے ،آپ ہی نا ؟ کتنا لیتے ہیں ،سو روپے ؟چلئے میں پانچ سو دیتا ہوں ۔بنادیجئے میرا نچلی ذات کا سرٹیفکٹ …..ٹینگر رام کے نام سے ۔‘’لیکن صرف ذات کے سرٹیفکٹ سے کیا ہوگا ؟ لوگوں کو پتا چل ہی جائے گا کہ لائسنس آپ نے ہی لیا ہے ۔پھر آپ تو جانتے ہیں کہ کتنا بوال ہوگا ؟‘’کچھ نہیں ہو گا حاکم ۔آپ اطمینان رکھیے ۔ٹینگر میرا بنہار ہے ۔لائسنس اسی کے نام سے رہے گا اور لوگوں کی نظر وں اسے دیکھے گا چلائے گا بھی وہی ۔میرا سرو کار صرف …..‘   کردار نگاری کے اعتبار سے یہ ایک عمدہ اور کامیاب ناول ہے ۔ناول میں جتنے بھی کردار ہیں سب فعال اور متحرک نظر آتے ہیں خواہ وہ اعلیٰ طبقے کے ہوں یا نچلے طبقے کے ۔جس طرح مصنف نے ان کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کیاہے وہ قابل ستائش ہے۔ انھوں نے ناول میں اگر چہ اچھے خاصے کرداروں سے کام لیا مگر سب مقتضائے وقت کے مطابق کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کوئی بھی غیر ضروری کردار نظرنہیں آتا ہے ۔ انھوںنے ایک ماہر نفسیات کی طرح ان کی داخلی و خارجی کیفیات کو کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا ہے ۔ ان کی نفسیاتی اور ذہنی کشمکش ،ان کی مظلومیت اور ان کے تئیں جابرانہ اور آمرانہ رویہ ،مجبوری وناامیدی اور ان کے احساسات و جذبات کی ایسی عمدہ تصویر کشی کی ہے کہ بہار کے ببھن گاؤں یا اس کے دوسرے خطوں کا سارا ماحول ،آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ ناول میںدو طبقے کے کردارملتے ہیں اعلیٰ اور ادنیٰ ۔ ادنیٰ یعنی نچلے طبقے جس کے اہم کرداروں میں ٹینگر ،مانجھی ،اگھورن ،    سکھاڑی ،جئے رام ،بستگیا ،رام کشن ،جھگرو ،جھگرو بہو اور بی ڈی او صاحب جو دلت ہونے کے باوجود بھی ان کی کچھ مدد نہیں کرتا اور اعلیٰ طبقے کے اہم کرداروں میں پنڈت کانا تیواری،اس کا بیٹا من جی با با ،نو ل کشور، شرماجی اور داروغہ جو ان کا جینا حرام کردیتا ہے وغیرہ ۔ بلایتی کہانی کی مرکزی کردار ہے ۔جواگر چہ دلت طبقے کی ہوتی ہے مگر وفا شعار ،ہمدرد ،رحم دل ہونے کے ساتھ ساتھ سوجھ بوجھ اور گہری سوچ رکھنے والی عورت ہوتی ہے ۔زچگی کرانے کے فن میں ماہر ہوتی ہے۔ نہ صر ف دلت ٹولے کی عورتوں کی زچگی کراتی ہے بلکہ پنڈتانیوں کی بھی کراتی ہے مگر خود اولاد کے لیے تڑپتی ہے ۔شوہر کی کمزوری کی سزا اٹھاتی ہے مگر کبھی اس کو کمزوری کا احساس نہیں ہونے دیتی ۔اس کو جب پنڈت کانا تیواری کا بیٹا من جی بابا ہوس کا شکار بناتا ہے تو اس کو حمل ٹھہرجاتا ہے جس کو گرانے کے لیے پنڈت کانا تیواری حتی المقدور کوشش کرتاہے لیکن بلایتی جرأت مندی سے بچے کو بچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ اپنے آپ کو ماں کی صورت میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے احساسات ملا حظہ ہوں :  ۴؎’’اسے لگتا ،اس کے اندر ایک پوری دنیا سانس لے رہی ہے ۔کبھی کبھی اسے یوں بھی محسوس ہوتا کہ وہ باہر آکر اپنا وجود قائم کرنے کے لیے مچل رہا ہے ،اضطراب میں انگوٹھا چوس رہا ہے اور تب وہ اسے اوپر سے سہلانے لگتی ،تھپکی دینے لگتی ۔‘‘   ناول کا پلاٹ روایتی ہے۔ واقعات ترتیب وار قاری کے سامنے آتے ہیں اور قاری بنا کسی الجھن کا شکار ہوئے کرداروں کے ساتھ ذہنی سفر طے کرتا ہے ۔واقعات کا منطقی ربط قاری کو اِدھر اُدھر بھٹکنے نہیں دیتا البتہ ناول کے درمیان میں قاری کو کسی قدر اباؤ پن کا بھی احساس ہوتا ہے کیوں کہ درمیانی حصے میں مصنف تجسس کو اس طرح بر قرار نہ رکھ پائے جس طر ح ابتدا اور انتہا میںبرقر ار رکھا ۔ ناول میں منظر نگاری کے بھی کامیاب نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں مصنف کو منظر نگاری دکھانے کی نوبت آئی تو انھوں نے مناظر کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ مناظر پورے طور پر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور قاری کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے گویا وہ خود اس جگہ پرموجود ہے اور اپنی آنکھوں سے سارے منظر کو دیکھ رہا ہے۔ اس کا ایک نمونہ ملا حظہ فرمائیں :   ۵؎’’اندر بھی گہرا سناٹا پھیلا ہوا تھا ۔سیدھے ہاتھ کی طرف چھپروالے برآمدہ میں گائے ،بھنیس اور بیل کھونٹے سے بندھے ہوئے تھے ۔ان کے پیروں کی رگڑ سے ان کی گردن میں بندھی گھنٹیاں ٹنٹنا رہی تھیں ۔’نادوں‘کی دوسری طرف مٹی میں سنا ٹریکٹر سے جوتنے والا ہل رکھا ہوا تھا ۔ایک طرف ’بھوسی‘رکھنے کے دو بڑے ’کھوپ‘ ۔یہ سب کچھ پھاٹک کے بعد والے احاطے میں رکھے ہوئے تھے ۔احاطہ کے بعد زینہ اور اس کے بعد پکے کا بر آمدہ جس میں اناجوں سے بھری بوریوں کے چھلے اور تھر یسر کی مشین رکھی ہوئی تھی ۔درمیان میں موٹے ’پلوں‘ والا ’الکتر ا‘ چڑھا کالا کواڑ جس میں لوہے کی موٹی کنڈی لٹک رہی تھی ۔‘‘                جہاں تک بات ناول کے دوسرے اجزاء کی ہے ان کو بھی مصنف نے کامیابی سے برتا ہے خواہ وہ جذبات نگاری ہو یا جزئیات نگاری یا اسلوب نگاری ۔اسلوب نگاری جس پر ناول کی کامیابی کا زیادہ انحصار ہوتا ہے ، اس معاملے میں مصنف نے اپنی باریک بینی کا ثبوت دیا ہے۔ مشکل اور ثقیل الفاظ کے استعمال سے گریز کیا ہے ۔عام فہم اور سادہ زبان کا استعمال کیا ہے ۔جس سے قاری کو پڑھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی ہے ۔علاقائی مناسبت سے زبان کا استعمال کیا ہے جس سے وہاں کے ،رہن سہن ،اتحاد و اتفاق اور بھائی چارگی کا بھی آسانی سے پتا چلتا ہے ۔مندرجہ ذیل اقتباسات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مصنف نے کس طرح علاقائی مناسبت سے زبان و بیاں کا استعمال کیا ہے :  ۶؎’’کھیر، سماج میں دو ترح کے لوگ ہوتے ہیں ،اگڑے اوؤر پچھڑے ۔پچھڑوں کو ہمیسا دبایا جاتا رہا ہے ،ہمیسا سوسن (استحصال) کیا جاتا رہا ہے ۔سماج کی باگ ڈور ہمیسا اگڑوں کے ہاتھ میں رہی ہے ۔سماج میں جو اگڑی جات کے لوگ ہیں وہ آج بھی ہمیں انسان نہیں سمجھتے ۔ہماری اسل لڑائی برسوں سے چلی آرہی اسی سامنتی وچار (جاگردارانہ سوچ )سے ہے ۔اس سامنتی پرورتی (غاصبانہ رجحان ) سے ،جو ہمارے مان سمّان اورسوابھیمان (عزت و آبرو اور خود داری)اور ہمارے حک ادھیکار کو ڈستی رہی ہے۔بھائیوں ،یہ سمّان اور ادھیکار کی لڑائی ہے ۔وہ چاہتے ہیں کہ آج بھی ان کو دیکھ کر ہم چارپائی پر سے آٹھ جائیں،وہ چاہتے ہیں کہ آ ج بھی ان کو دیکھ کر ہم راستا بدل لیں۔وہ چاہتے ہیں کہ آج بھی وہ ہماری بہو بیٹیوں کی اجّت سے کھیلتے رہیں۔۔۔لیکن اب یہ نہیں ہوگا ۔گریبوں کی چیتنا جاگرت (بیدار ) ہو چکی ہے ۔وہ اپنے حک ادھیکار کو پہچاننے لگے ہیں ۔۔۔۔۔‘‘       تُخم خون کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کے بعد ایک بات سامنے آتی ہے کہ صغیر رحمانی کا یہ ناول ہر اعتبار سے خصوصاٌ فنی اور مو ضوعاتی اعتبار سے ایک کامیاب ناول ہے ۔ یہ ناول بہار کے ببھن گاؤں کی دلتوں اور دسادھوں کی بے کسی و لاچاری کا ترجمان ہے اورنہ صرف ان کے مسائل کو بیان کرتا ہے بلکہ سامنتوں اور برہمنوں کے اصلی چہرے سے بھی نقاب اُٹھاتا ہے جو بہ ظاہر بھگوان بنے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور اپنوں کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ناول کا مطالعہ کرنے کے بعد مصنف کی تخلیقی صلاحیت کی داد نہ دینا بے ایمانی بلکہ گستاخی ہوگی کیوں کہ وہ تمام چیزوں کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ مصنف کا پہلا ناول ہے مگر جس طرح انھوں نے اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے اس سے ان کو ایک کامیاب ناول نگار اور اس ناول کو ایک شاہ کار ناول قرار دینے میں کوئی تامل نہیں ہونا   چاہیے ۔

ارشد احمد کوچھے

ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو اور فارسی

ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی ساگر

موبائل نمبر   9826357617

 حواشی :

 (۱) تُخمِ خون،صغیر رحمانی ،ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاوس ،دہلی،2016، ص  ۳۵۰(۲)     ایضاً ،  ص  ۳۴۲(۳)    ایضاً ،  ص  ۶۸  ۶۹(۴)    ایضاً ،  ص    ۳۳۰ (۵)    ایضاً ،  ص     ۳۸  ( ۶)    ایضاً ،  ص   ۱۹۷، ۱۹۸

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.