کرشن چندر کے افسانوں میں کشمیر اور کشمیریت

کرشن چندراپنے عہد کے ایک بہت بڑے فن کار تھے۔اردو کے افسانوی ادب میں جو نمایاں افسانہ نگار ہیں ان میں کرشن چندر کو بہت مقبولیت و شہرت حاصل رہی۔وہ زبردست خلاق ذہن رکھتے تھے۔انھوں نے تکنیک اور ہئیت کے بعض اچھے اور کامیاب تجربے کیے اسی بنا پر ان کا فن ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے۔اگرچہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اور ترقی پسند افسانہ نگاروں میں ان کا نام سب سے مقدم ہے لیکن بیک وقت وہ کہی زبانوں،کہی مقاموں اور کہی نظریات کے حامل تھے۔وہ زمان و مکان میں اسیر بھی ہیں اور ماؤرا بھی۔انسانی قدروں سے ان کا رشتہ اٹوٹ تھا ۔ان کو ہر انسان سے ہمدردی تھی،خواہ وہ کسی بھی ملک و قوم کا انسان ہو،ادنی ہو یا اعلی،امیر یا غریب،وہ ہر انسان کے لیے نیک تمنا رکھتے تھے اور اس کی خوشحالی اوربہتری کے خواہاں تھے۔انھیں ہمیشہ ایک حسین زندگی،حسین انسانیت اور حسین ماحول کا انتظار رہا۔ اسی وجہ سے ان کے فن کی اساس زمین و زندگی میں پیوست ہے۔
کرشن چندر کے ادبی سرمایے کامطالعہ اور تحقیق کرنے کے بعد ہر شخص بلا خوف یہ کہہ سکتا ہے کہ کرشن چندر زود نویس تھے۔ان کا قلم کبھی رکا نہیں، بس لکھتے ہی چلے گئے جس کی وجہ سے ان کی ہاں معیاری اور کم معیاری دونوں قسم کا بہت بڑا ادبی سرمایہ جمع ہوگیا،لیکن اس کا ایک کامیاب اور مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ کرشن چندر کی کہانیوں میں تنوع پیدا ہوا۔مختلف موضوعات،رنگا رنگ اسلوب اور مختلف نظریات ان کے افسانوں میں در آئے ۔ان کی کہانیوں میں رومانیت ،حقیقت نگاری،اشتراکیت ،انسان دوستی ،مظلوموں سے ہمدردی کچھ خاص موضوعات ہیں جن کا احاطہ ایک مضمون میں کسی بھی طرح ممکن نہیں ۔اس لیے یہاںمیں نے صرف ایک خاص اور اہم موضوع،’’کرشن چندر کے افسانوں میں کشمیر اور کشمیریت‘‘ ،کا انتخاب کیا ۔دراصل کرشن چندر کا بچپن اور زندگی کا بیشتر حصہ کشمیر میں گزرا۔جہاں وہ ایک طرف کشمیر کے قدرتی مناظر،حسین وادیوں،ہرے بھرے مرغزاروں،چشموں و آبشاروں اور پہاڑیوں،روح پرور فضاؤںکے گرویدہ تھے وہی دوسری طرف کشمیر کے عوام کی سادہ لوحی،مہمان نوازی،شرافت ،انسانیت سے بھی کافی متاثر تھے۔کرشن چندر کو کشمیر سے شروع سے لگاؤ تھا جو آخری دم تک رہا۔اس کی مثال ان کی وہ تخلیقات ہیں جس میں انھوں نے کشمیر کو موضوع بنایا۔کشمیر اور کشمیریت سے محبت اور دلچسپی اور اس کو اپنی تخلیقات میں زیر بحث لانے کے حوالے سے خود کرشن چندر نے متعدد مرتبہ اعتراف کیا ہے۔افسانوی مجموعہ’’کشمیر کی کہانیاں ‘‘کے دیباچہ میں کرشن چندر نے لکھا ہے :
’’ میرے بچپن کی حسین ترین یادیںاور جوانی کے بیشتر لمحے کشمیر سے وابستہ ہیں ۔میں کشمیر میں بہت گھوما ہوں،مہینوں کسانوں کے گھروں میں رہا ہوں۔ان کے ساتھ رہ کرمیں نے عام انسانوں کی خوشیاں اور ان کے غم دیکھے ہیں۔ان کی غریبی اور جہالت کو چکھا ہے۔ان کی اوہام پرستی کا بوجھ اٹھایا ہے،ان کی فراخ دلی اور ہم سائیگی کو محسوس کیا ہے۔فطرت سے انھیں شاعرانہ پیار ہے۔اس کے لطیف ترین لمس نے میری روح کو چھوا ہے اور یہاں مجھے اس کا اقرا ربھی کرنا ہے،کہ اگر میں یہ سب کچھ اتنے قریب سے نہیں دیکھتاتو شاید میں بہت عرصے تک انسان کی عظمت اور اس کی بلندی سے ناآشنارہتا۔ شاید میں کبھی افسانے نہ لکھتا۔شاید میرے دل میں اپنے وطن اور اس کے لوگووں کے لئے محبت اور وفا کا وہ جذبہ پیدا نہ ہوتا،جس کے بغیر انسان انسان نہیں بن سکتا۔‘‘ ۱؎
مذکورہ بالا اقتباس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کرشن چندر کشمیر میں رہ کر کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اور وہاں کے عوام کی شرافت،دیانت اور بے لوث محبت کواپنی زندگی کا بہترین دور تصور کرتے ہیں اور شعوری طور پر اپنے افسانوں میں کشمیر میں ایک خاص اہمیت دیتے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اولین دور کے افسانے زیادہ ترکشمیر سے متعلق ہے۔ان افسانوں کو نہ صرف مقبولیت حاصل ہوئی بلکہ انھوں نے کرشن چندر کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ اس موضوع پر زیادہ افسانے لکھ سکیں۔کرشن چندر کا پہلا افسانوی مجموعہ ’طلسم خیال ‘ہے،جس کا ایک اہم فسانہ’’ آنگی‘‘ ہے۔یہ خوبصورت افسانہ رومان کی خوشبو سے معطر ہے اور اپنی کردار نگاری اور فضا بندی کے لحاظ سے بہترین افسانہ ہے۔’’کشمیر کی کہانیاں ‘‘کا انتساب بھی آنگی کے نام ہے۔آنگی اس افسانے کا مرکزی کردار ہے جو ایک ان پڑھ،سیدھی سادھی اور معصوم دو شیزہ ہے اور جنگل کی چروائی ہے۔ایک نوجوان شہری جو تفریح اور تازہ و معطر ہوا کے لیے شہر کی گہما گہمی اور شور شرابے سے دور پہاڑی کی طرف جا تا ہے۔ اتفاق سے وہاں اس کی ملاقات آنگی سے ہوجاتی ہے۔نوجوان سیاح آنگی کی معصومیت،سادگی اور حسن سے متاثر ہوتا ہے اور دل ہی دل میںاسے چاہنے لگتا ہے۔اس کے بعد کہانی کار نے بہت ہی ہنر مندی سے کہانی کا رخ کشمیر کی پہاڑیوں اور وہاں کے قدرتی حسن کی طرف موڑ دیا۔مسافر یہاں پر سکون ہے اور اس کو شہر کے شور شرابے اور ہنگاموںکی نسبت گاؤں کا ماحول اچھا لگتا ہے:
’’یہاں کتنا سکون ہے۔امن،حسن،راحت،نیچے پکڈنڈیوں پر ندی کے کنارے آنگی کسی بے فکر ہرنی کی طرح قدم رکھتے ہوئے آرہی تھی۔کاندھے پر پتلی سی سونٹی تھی،لبوں پر ایک بے معنی ساگیت ،پاؤں ننگے تھے لیکن چال پر ایک خاموش موسیقیت کا شبہ ہوتا تھا۔مسافر نے اپنی کتاب بند کر دی۔آنگی کی طرف دیکھتے ہوئے سوچنے لگا،کاش وہ مصور ہوتا کتنی خوبصورت تصویر ہے،کتنا دلکش پس منظر،آنگی کے سڈول مگر مضبوط بازو،اس کی کمر کا متناسب خم،اچھا تو وہ ایک سنگ تراش ہی ہوتا۔دنیا میں کسی کی آرزوئیں پوری نہیں ہوتیںورنہ وہ ایک مجسمہ تیارکرتایونانی صنم گر بھی ششدر رہ جاتے۔‘‘ ۲؎
کرشن چندر کی یہ کہانی منظر نگاری کے درجہ کمال پر فائز ہے۔اس کہانی میں کرشن چندر نے کسی مقصد یا اصلاح کے بجائے کشمیر کے فطری حسن کو بے نقاب کیا ہے وہ بھی ایک ایسی غریب لڑکی جس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیںاور اس میں درجنوں پیوند لگے ہیں۔ اس افسانے میں کشمیر کی عورتوں کے حسن کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اس امر کا تذکرہ بھی موجود ہے کہ کشمیر کی عورتیں کس قدر محنت اور مشقت کرتی ہیں ،جہاں وہ فطری حسن کا پیکر ہیںوہاں وہ محنت ومشقت کا پیکر بھی ہیں۔ لیکن یہ افسانہ نگار کے زور قلم کا کمال ہے کہ انھوں نے آنگی کے کردار کو اس طرح پیش کیا ہے کہ نہ صرف آنگی سے ہم متاثر ہوتے ہیں بلکہ کشمیر کے قدرتی حسن کا گرویدہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوںکے تفریحی وسائل سے آگاہ ہوتے ہیں۔
کشمیرکے پس منظر میں تخلیق کیے گئے افسانوں میں کرشن چندر کا ایک اور افسانہ ’’ جنت اور جہنم ‘‘ اہم ہے،یہ افسانہ کئی پہلوؤں سے دلچسپی کا حامل ہے ۔اس کہانی میں کشمیر کی خوبصورت وادی اور فطرت کا تخلیق کردہ حسن اور اس دور کے سیاسی،سماجی اور معاشی حالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔افسانے کا پلاٹ سری نگر،سوپور اور کشمیر کے خوبصورت جھیل ولر اور مانسبل ہے۔زینی اس افسانے کا مرکزی کردار ہے جو ایک شکاری کی مالک ہے اور جسے وہ ڈونگا کہتی ہے۔ڈونگہ کشتی کے اندر بنا ہوا ایک چھوٹا سے گھر ہے جو کشمیر کی جھیلوں خصوصاً ولر جھیل میں ہیں ۔ملک بھرسے آنے والے سیاح زیادہ تر اسی ڈونگہ house boat میں قیام کرتے ہے اور کشمیر کی خوبصورتی اور ڈل کی ٹھنڈی اور معطر ہوا سے شادماں ہوجاتے ہیں۔صاحب بھی ایک سیاح ہے جو زینی کا ڈونگہ کرایہ پر لیتا ہے اور اپنے دوست و احباب کے ہمراہ سری نگر سے سوپور کی طرف روانہ ہوتا ہے۔سوپور پہنچنے کے بعد زینی کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کاشوہر مزدوری کے لیے پنجاب چلا گیا ہے ۔زینی بہت پریشان ہوتی ہے۔ صاحب زینی کی غربت کو دیکھ کر اسے ہمدردی جتاتا ہے اور اس کو کچھ روپیے بھی دیتا ہے۔موضوع کے لحاظ سے یہ ایک معمولی کہانی ہے لیکن اس کہانی کی خوبی یہ ہے کہ جہاں ایک طرف اس افسانے میں کشمیر کے جھیلوں ،اور ان میں چلنے والے شکاروں،ڈونگوں اور ہاوس بوٹ کاذکر ہوا ہے وہی دوسری طرف اس غریب طبقے کی غربت و افلاس کی ترجمانی ہوتی ہے جو اپنی ضروریات زندگی کے لیے دن رات کڑی محنت کرتے ہیں ۔یہ اس دور کا افسانہ ہے جب کشمیر میں ڈوگرہ راج کا جبری قبضہ تھا ۔اس دور میں کشمیری عوام کو حکومت ’بیگاری‘ پر لے جاتے تھے اور بغیر اجرت کے ان کو سالہاسال کام کرواتے تھے۔اس طرح افسانے کے نام ،کشمیر ااور کشمیری عوام کی زندگی میں مماثلت ہے۔کشمیر اپنے قدرتی مناظر ،جھیلوں اور دریاوؤں کی وجہ سے جنت نظیر ضرور ہے لیکن شخصی راج نے عوام کو غربت اور غلامی کی زنجیروں میں باندھ رکھا تھا،جس نے وادی کشمیر جنت بے نظیر کے عوام کی زندگی کو جہنم بنایا تھا۔یوں افسانے کا نام اس کے اندر بیان کی گئی کہانی سے مماثلت رکھتا ہے۔
’’بند والی‘‘ ایک اور افسانہ ہے جس میں کشمیر اور یہاں کے خوشگوار موسم کے ساتھ ساتھ حسن و عشق کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔افسانے کے تمام کردار جھیل ڈل اور اس کے کنارے پر موجود گھروں اور ہاوس بوٹ میں قیام پذیر ہے۔افسانے کا مرکزی کردار فیروز ہے جو اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ کشمیر آیا ہے۔افسانہ بند والی میں کرشن چندر نے افسانے کے کرداروں کے کشمیر آنے کا سبب نسوانی کردار کی بیماری بتایا ہے۔ان کو ڈاکٹر نے ہدایت دی ہے کہ بیمار کو ہوا کی تبدیلی کے کیے کشمیر مفید جگہ ثابت ہوگی اور انھیں راحت بھی ملے گی۔
’’میں اور میرے بڑے بھائی جان اور بھابھی جان پہلی دفعہ سری نگر آئے تھے۔ڈاکٹروں نے بھابھی جان کے خون کا دباوخطر ناک طور پر زیادہ بتایا تھااور گرمیوں میں کشمیر جانے کا مشورہ دیا تھا‘‘۳؎
کشمیر کا موسم خاص طور پر بہار اورگرمیوں کا موسم جس قدر خوشگوار ہوتا ہے۔اس کے بیان سے وہ تاثر قائم نہیں ہوتاجتنا اس موسم میں کشمیر میں قیام کرنے سے قائم ہوتا ہے اور مثل مشہور ہے کہ کشمیر کا موسم اور آب و ہوا مردوں میں بھی جان دوڑا دیتاہے تو ظاہر ہے کہ بیماروں کے لیے یہاں کا موسم اکسیر کا کام کرتا ہے۔
کشمیر کے موسم کے بعد اس افسانے کا دوسرا موضوع حسن ہے۔کشمیری لڑکی کی خوبصورتی کا بیان اور پھر کرشن چندر کا یہ بیان کہ’کشمیر کا حسن یوں بھی تو مشہور ہے‘اس تاثر میں اور زیادہ اضافہ کرتا ہے
’’ میں اس کا نام تک نہیں جانتا تھا۔ہر روز اس سے چھت پر سے دیکھتا تھااور ہر روز دھان کوٹنے میں مصروف پاتا،مگر اس مصروفیت کے باوجود بھی آنکھیں چار ہوجا یا کرتی تھیں۔کشمیری حسن یوں بھی توبہت مشہور ہے مگر اس لڑکی میںایسی عجیب دلکشی،بانکپن اور دل آویزی تھی کہ کچھ بیان ہی نہیں کر سکتا۔‘‘۴؎
’سڑک کے کنارے‘ کرشن چندر کا ایک اور افسانہ ہے جس میںمنظرنگاری کے ساتھ ساتھ ہندومسلم فسادات اور ان فسادات میں کشمیریوں کی دوسرے مذاہب کے لوگوں کے تئیں ہمدردی ،ان کے جانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے اپنی زندگیوں کو نچاور کرنے والی کشمیریت سے بھرپور کرداروں کو بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔کہانی میں دو واقعات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔یہ ایک خوبصورت افسانہ ہے جس میں کشمیر کے حسن کا تذکرہ بھی ہے اور کشمیرکی حسین نازنینوںکے حسن کا ذکر بھی ہے۔ہندو مسلم کلچر کا بیان بھی ہے اور ان کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارے کا حوالہ بھی ہے۔ کہانی کے آغاز میں کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کا ذکر اس طرح کیاگیا ہے:
’’میں سڑک کے کنارے کنارے چل رہاہوں اور جھیل ڈل کا نظارہ کر رہا ہوں۔میں بہت مدت کے بعد کشمیر آیا ہوں ۔لیکن ڈل مجھے اسی طرح خوبصورت اور جوان نظر آتی ہیں۔اس کے گہرے نیلے پانیوں میں مجھے شنکر آچاریہ کے مندر کا عکس لرز رہا ہے اور سرخ پردوں والے سبک خرا م شکارے پانی کی سطح کو چیرتے ہوئے نیلوفر کے پھولوں کے قریب سے گذرتے ہیں تو نیلوفر کے خوابیدہ پھولوں پرپانی کی پھواریں پڑ جاتی ہیںاور وہ چونک کے پانی کی سطح پر دوڑنے لگتے ہیں۔شکارے آگے بڑھ جاتے ہیںاور شکاروں میں بیٹھے ہوئے مرد وزن اور شکاروں کے ہانجیوں کا گیت ڈل جھیل کے اجلے اجلے پانیوں سے ابھرتا ہوا آرہا ہے۔

باغ نشاط کے گلو
شاد رہو جوان رہو
تم پر نثار جنتیں
روح افزا مسرتیں
رنگ بہار نکہتیں
مست نشے میں رات دن
خرم و شادماں رہو
باغ نشاط کے گلو! ۵؎
اس کہانی کا پہلا واقعہ پنجاب کے ہندو مسلم فسادات پر ہے ،جو ایک استانی زینب کی زبان سنایا گیا ہے۔مصنف اور زینب کی ملاقات ایک کنویں پر ہوتی ہے،جہاں زینب ایک اندھے لڑکے کی گائے کو پانی پلانے لے جاتی ہے۔بقول استانی زینب یہ لڑکا پیدائشی اندھا نہیں تھا بلکہ پنجاب کے فسادات میں اس کے سارے خاندان کا قتل عام کیا گیا اوراس لڑکے کو محض آنکھیں نکال کر چھوڑ دیا گیا۔اس سانحہ سے گاؤں کے مسلمان جذباتی ہوجاتے ہیں اور اس کا بدلہ لینے کے لیے اپنے گاؤں کے برہمنوں اور پنڈتوں پر حملہ کرتے ہیں۔زینب کا شوہر جو ایک اسکول ٹیچر ہوتا ہے مسلمانوں کے اس عمل سے ان سے ناراض ہوجاتا ہے اور اپنے گاؤں کے پنڈتوں اور مندروں کو بچانے کے لیے اپنی جان دیتا ہے ۔اس طرح زینب کا شوہر کشمیر یت کو زندہ رکھنے کے لیے اس باشعور طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو آج کے اس پر آشوب دور میں بھی کشمیریت کو برقرار رکھنے کے لیے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور مذہب و ملت کی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تما م مذاہب کے کشمیری باشندوں سے محبت و اخوت اور بھائی چارگی کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔
دوسرا واقعہ بھی فسادات سے پیدا ہونے والے مسائل پر ہے۔اس قصہ میں کشمیر کے مشہور علاقہ مٹن کا ذکر ہے۔مٹن ہندؤں کی اکثریت کا علاقہ ہے جہاں ان کا بہت بڑا تیرتھ ہے ۔یہاں دور دور سے یاتری آتے ہیںاور مٹن کے مندوروں اور چشموں کا درشن کرکے امرناتھ کی طرف چلے جاتے ہیں۔پنجاب میں برپا ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا اثر یہاں تک بھی پہنچ جاتا ہے اور مسلمان ہندوؤں کے مندروں پر حملہ کرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔لیکن مولوی صاحب اس منصوبے کی پرزور مخالفت کرتا ہے اور اسے گناہ عظیم سمجھ کر عوام کو اس سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔بعض جذباتی نوجوان مولوی صاحب کو بے غیرت اور ڈرپوک تصور کرتے ہیں اور اس کے خلاف ہوجاتے ہیں جس میں مولوی صاحب کا ایک ہاتھ بھی کٹ جاتا ہے۔مولوی پنڈتوں کے مندروں کو پچانے کے خاطر اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار تھا۔آخر کار مسلمان اپنا فیصلہ ترک کرتے ہیں۔ہندو ان کے اس رویے سے خوش ہوجاتے ہیںاورمولوی کی عظمت اور قربانی کے اعتراف میں چندہ جمع کرکے اس گاؤں میں ایک مسجد تعمیر کرتے ہیں۔اس افسانے کا پورا نچوڑ آخری چند جملوں میں ہیں:
’’میں سڑک کے کنارے کنارے جا رہاہوں۔یہ وہ میرا جانا پہچانا کشمیر نہیں ہے۔یہ نیا کشمیر ہے،زینب ،استاد جی کا کشمیر ،ملاجی کا کشمیر ،کشمیر کے بیٹے ڈل میںکھلے ہوئے نیلوفر کے پھول ہیںجو دھمک محسوس کرتے ہوئے چونک اٹھتے ہیںاور طوفان کی لہروں پر ڈھول رہے ہیںاور سنبھل سنبھل کر گرد و پیش کا جائزہ لے رہے ہیںاور سرخ پردوں والے شکارے تیزی سے پانی کی سطح کو چیرتے ہوئے نشاط باغ کی طرف بڑھ رہے ہیںاورہانجی چپو چلاتے ہوئے گارہیں۔
حسن و جمال کا کشمیر
دل کش،شوخ و دل پذیر
اپنا وطن ہے بے نظیر!
پیارے وطن کے دوستو
سرکش و کامران رہو
باغ نشاط کے گلو!!!!
شاد رہو جوان رہو!! ۶؎
مذکورہ بالا اقتباس میں کرشن چندر نے علامتی انداز میں کشمیر کی کشمیریت ،انسانیت اور بھائی چارے کا اظہار کیا ہے اور ان لوگوں کی تائید کی ہے جو کشمیر میں امن ،سلامتی اور محبت کا درس دے رہے ہیں۔اسی لیے افسانہ نگار کشمیر کو استاد جی ،اس کی بیوی زینب اور ملا جی سے منسوب کرتا ہے جو مذہب کی تفریق کے بغیر نہ صرف بھائی چارگی کا ثبوت پیش کرتے ہیں بلکہ اپنے ہمسایہ ہندوؤں کی عبادت گاہوں کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہوجاتے ہیں۔کرشن چندرنے اس افسانے میں کشمیر کی باہمی رواداری اور بھائی چارہ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے جس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔
’کشمیر کو سلام ‘ بھی کرشن چندر کے کشمیر پر لکھے ہوئے افسانوں میں سے ایک شاہکار افسانہ ہے۔اس افسانے کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے
’’ یہ بات کہ کشمیر جنت نظیر ہے مجھے اس وقت تک معلوم نہیں ہوئی جب تک میں اس جنت سے نکالا نہیں گیا ۔میرا مطلب یہ ہے کہ میںچونکہ بچپن ہی سے کشمیرمیں رہتا سہتا چلا آیا تھا۔اس لئے میرے لیے کشمیر کے مرغزاروں کی خوبصورتی،اس کی وادیواں کی دلکشی،اس کی جھیلوں کی رعنائی اور اس کے پہاڑوں کی پھبن اور موہنی کوئی اچھنبے کی بات نہیںتھی۔میں سمجھتا تھا شاید پوری دنیا میں اس طرح کی خوبصورتی ہوگی۔۔۔لیکن میں جب اعلی تعلیم کے لیے والدین کی مرضی سے کشمیر سے باہر گیا،اس وقت معلوم ہوا کتنا غلط سوچا کرتا تھا،جنت کی قدر جنت سے باہر نکل کر ہی معلوم ہوتی ہیں۔یہ بات نہ تھی کہ کشمیر سے باہر دنیاخوبصورت نہ تھی۔ساری دنیا حسین ہے،لیکن فطرت کی جورعنائی،نکھار اور رنگ میں نے کشمیر میں دیکھا،کہیں اور نہیں دیکھا۔میں نے اپنے دوستوں کو بھی دیکھاجو اپنے گاؤں کی املی کی جھاڑکا ذکر بھی اسی انداز سے کرتے ہیںجس انداز سے میں کشمیر کی گل پوش وادیوں کا ذکر کرتا ہوں۔شایدجنت کہیں انسان کے دل کے باہر نہیں وہ اس کے دل کے اندر ہے۔اگر ایسا ہے تب بھی مجھے یہ کہنے میں تامل نہیںکہ میرے دل کے اندر جو جنت ہے وہ کشمیر ہے۔‘‘ ۷؎
یہ افسانے کا ایک پہلو ہے جس میں کرشن چندر اپنے بچپن اور لڑکپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہے۔کشمیر نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کی سب سے خوبصورت جگہ ہے اور ہر سال یہاں لاکھوں سیاح سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں اور مصروفیات زندگی کی تھکان اور بوجھل پن سے جھٹکارا حاصل کرتے ہیں ۔یہ اس دور کا افسانہ ہیں جب کرشن اپنے وطن کشمیر کو آلام روزگار کی بنا پر چھوڑ چکے تھے لیکن وہ جہاں بھی گئے کشمیری کی یادیں ان کے ساتھ رہیں گویا کشمیر ان کی زندگی کا ایک خاص حصہ ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔اسی لیے ان کو وہ دن آج بھی یاد ہے جب انھوں نے پہلی بار جھیل ولر کو دیکھا تھا۔جھیل ولر میں ایک بڑی کشتی اور اس میں ملاح کی بیوی اور اس کی گود میں بچہ اور بچے کا کھلکھلاکر ہنسناآج بھی اس کو یاد ہے۔
افسانے کا دوسرا پہلو ہی اس افسانے کی جان ہے ۔اس افسانے میں کرشن چندر اگر ایک طرف کشمیر کے قدرتی مناظر اور جنت بے نظیر ہونے ثبوت فراہم کر رہے ہیں وہی دوسری جانب انھوں نے کشمیر کے سیاسی،سماجی اور اقتصادی حالات کا بیان بھی کیا ہے۔انھوں نے افسانے میں کشمیر میں ہونے والے وہ مناظر بھی پیش کیے ہیں ۔جنھوں نے اس جنت کو جہنم میں تبدیل کیا۔
’’میں نے اس زمانے میں اس جنت میں دوزخ کے دہکتے ہوئے انگارے دیکھے تھے،
تھے،نکہت و یاس کے مرقعے،افلاس کے بہیمانہ نقوش،حسن فردوس کی خرید و فروخت،میں جانتا تھایہ دہکتے ہوئے انگارے ایک روز بھڑک کر آتش فشاں جوالا مکھی بن جائینگے اور یہ لاوا دور دور تک کشمیر کے حسین مرغزاروں اور وادیوں میں پھیل جائے گااور وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا۔اور کشمیر کی وادی حسین و جمیل وادی خاک و خون میں لتھڑ گئی۔‘‘۸؎
مندرجہ بالا افسانوں کے علاوہ بھی دیگر متعدد افسانوں میںکرشن چندر نے کشمیر کا تذکرہ کیا ہے،یا کشمیر کے کسی مقام ،پہاڑی یا جھیل کا حوالہ آگیا ہے لیکن یہ افسانے کشمیر کے حوالے سے خاص طور پر قابل ذکر ہے جو مکمل طور پر کشمیر کا احاطہ کرتے ہیںیا کشمیر کے پس منظر میں تحریر کئے گئے ہیں۔ان افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعد کشمیری عوام کی مظلومیت کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم اتحا د واتفاق جسے کشمیریت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کی جھلکیاں واضح طور پر سامنے آجاتی ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ کرشن چندر کا مخصوص رومانوی انداز بھی ہے اور خوبصورت مناظر کا بیان بھی ۔افسانویت بھی ہے جو قاری کو افسانے کے آخری جملے تک پڑھنے پر مجبور کرتی ہے اور ہر افسانے کا اختتام ایک گہرے افسانے پر منتج ہوتا ہے۔
٭٭٭
حوالہ:
۱ ۔ کرشن چندر،پیش لفظ،کشمیر کی کہانیاں،الہ آبادپبلشنگ ہاوس ،۱۹۴۹ء ، ص ۹
۲۔کرشن چندر،آنگی،کشمیر کی کہانیاں،الہ آبادپبلشنگ ہاوس ،۱۹۴۹ء ، ص ۲۳
۳۔کرشن چندر،بند والی، مشمولہ نظارے، بک کارنر جہلم ، ۱۹۷۸، ص ۱۱۵
۴۔ایضاً، ص ۱۱۵
۵۔کرشن چندر،سڑک کے کنارے،کشمیر کی کہانیاں،الہ آبادپبلشنگ ہاوس ،۱۹۴۹ء ، ص ۲۰۷
۶۔ ایضاً، ص ۲۱۹
۷۔کرشن چندر،کشمیر کو سلام،کشمیر کی کہانیاں،الہ آبادپبلشنگ ہاوس ،۱۹۴۹ء ، ص ۱۹۹
۸۔ایضاً۔ ص۲۰۴

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طاہر محمود ڈار
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ
ای میل:tahir.rubani@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.