ادب ، آزادیٔ نسواں او ر سماج

سماج کسی ایک شخص یا کسی ایک خاندان کا نام نہیں بلکہ یہ کئی خاندان اورمعاشرے کے مختلف طبقات سے تشکیل پاتا ہے جس میں مختلف مذاہب اور اقوام کی شمولیت ہوتی ہے ۔چونکہ عورت بھی اسی سماج کا ایک لازمی عنصر ہے اوراس کی حیثیت صرف ایک عورت کی ہی نہیں  ہے بلکہ وہ ایک مصنفہ اور شاعرہ ،فلسفی،صحافی اور دیگر حیثیت کی مالک بھی ہے ۔وہ بھی ذہنی اعتبار سے مردوں سے کچھ کم نہیں ہیں ،اس لیے معاشرے کی بگاڑ اور اس کی اصلاح اور فلاح و بہبودکی ذمہ داری دونوں پر برابر عائد ہوتی ہے ۔معاشرے کی ذمہ داری سے جس طرح سے ایک مرد دست بردار نہیں ہو سکتا ہے با لکل اسی طرح ایک عورت بھی اس ذمہ داری سے خود کو الگ نہیں کر سکتی ہے ۔بلکہ بعض معاملوں اور موقعوں پر ان کی ذمہ داریاں کچھ زیادہ ہی ہو جاتی ہیں ۔اس لیے ان کی تھوڑی سی غفلت اور لا پرواہی پورے معاشرے کو زوال پزیر کر سکتی ہے ۔ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔بچے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز ماں کی گود سے کرتے ہیں اور بچپن میں اپنا زیادہ تروقت اپنی ماں کے ساتھ صرف کرتے ہیں ۔ اس لیے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے عورتوں کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہو جاتا ہے۔ماں دنیا کی واحد ایک ایسی شخصیت ہے جو اپنے بچوں کی بہتر طریقے سے تربیت کر کے ایک مہذب اور خوش حال خاندان کی تشکیل کرتی ہے ۔اسی مہذب خاندان سے ایک مہذب معاشرہ وجود میں آتا ہے۔اس مہذب معاشرے سے نکلنے والے بچے ہی ملک کے بہترین شہری بنتے ہیں ۔کسی بھی ملک یا سماج کا مستقبل کیسا ہوگا یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اس ملک یا سماج کی عورتیں کتنی تعلیم یافتہ ہیں ۔ چوں کہ ادب سماج کا آئینہ دارہوتاہے،ادیب اسی سماج کا ایک لازمی عنصر ہے ۔اس لیے وہ سماج میں ہونے والے واقعات و حادثات کو اپنے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے ۔ ادب سماج میں انسانی زندگی کے رنگا رنگ مظاہراور معنی خیزانسانی جذبات کا مرقع ہے۔ اس لیے اس کی ایک حیثیت سماجی دستا ویز کی بھی ہے۔ ادیب ہوں یا فلسفی یا مذہبی رہنما سبھی عورتوں کے بارے میں اپنے تجربے اور مشاہدے سے منفی و مثبت خیالات کا اظہار کرتے آئیں ہیں ۔ہندوپرانوں میں یہ کہا گیا ہے کہ شراب کی تین اقسام میں ایک عورت ہے جو سب سے زیادہ نشہ آور ہے ۔ زہر کی سات اقسام میں سے سب سے زیادہ زہریلی عورت کوکہا گیا ہے۔رومن میں عورتوں کی حیثیت صرف ایک جا ئید اد کی تھی ۔اُن کے یہاں شوہر اپنی بیوی کو قتل بھی کر سکتا ہے۔ اسلام سے قبل عرب میں عورت ذات سے نفرت کی جاتی تھی لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کر دیا جاتا تھا۔یونانی جو کہ علم کے معاملے میں دنیا میں سب آگے تھے باوجود اس کے وہ عورت کو شیطان مانتے تھے ۔ یونانیوں کا یہ خیال تھا کہ سانپ کے کاٹنے کا علاج تو ممکن ہو سکتا ہے لیکن عورت کے شر کا علاج نا ممکن ہے۔ سقراط کے نزدیک عورت ایک ایسا درخت ہے جودیکھنے میں تو خوبصورت ہے لیکن جب کوئی جاندداراس درخت کے پھل کو کھاتا ہے تو اس کی موت ہو جاتی ہے۔ روسو کے مطابق عورت صرف ایک کھلونا ہے دجال وقت کی راحت کا بچھونا ہے ۔ ایسے بہت سے فلسفی،مذہبی رہنما اور ادیب و شاعرگذرے ہیں جو عورتوں کے متعلق اس طرح کے منفی خیالات رکھتے تھے لیکن عورتوں کے بارے میں اچھے اور عظیم خیال رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔حضرت ِ شیخ سعدی عورت کو جواہرات کا خزانہ بتاتے ہیں ،تو حضرتِ عمر فاروقؓکا عورتوں کے متعلق قول ہے کہ نیک عورت سے بڑھ کردنیا میں کوئی نعمت نہیں ۔ روندر ناتھ ٹیگور کا خیال ہے کہ عورت جب تک زندہ رہتی ہے محبت اور ہمدردی کا سرچشمہ رہتی ہے۔ پوری دنیا میں عورتوں کی آزادی اور ان پرظلم وستم کا یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے ۔یہ مسئلہ زمانۂ قدیم سے مسلسل چلا آرہا ہے ۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سماج میں شروع سے ہی عورتوں کی نا قدری کی جاتی رہی ہے ۔ان کو روزِ ازل سے ہی چیز ِ دیگر است خیال کیا جا تا رہا ہے ۔آدم ؑکی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی حوا کی یہ بیٹی ہمیشہ سے استحصال کی شکار رہی ہے۔چاہے وہ سیتا ہوں یا ساوتری ،رادھا ہوں یا نیلم،زلیخا ہوں یا مریم ،فاطمہ ہوں یا عائشہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔سماج میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مرد اپنی بیویوں کو پیر کی جوتی سمجھتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی عورتیں ہمیشہ مردوں کے دکھ درد میں برابر کی شریک رہتی ہیں ۔وہ اپنے شوہرکو خدا کی عطا کی ہوئی سب سے بیش بہا قیمتی جوہر تسلیم کرتی ہیں ۔علاوہ ازیں ہر مذہب میں عورتوں کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے شوہر کا ادب و احترام کریں ۔ ہندو مذہب میں تو شوہر کو پتی پر میشور تک کہا گیا ہے اور عورتوں کو بھوگ کی وستو یعنی کی استعمال کرنے کی شئے سمجھا گیا ہے۔ ہندی کے مشہور اور معروف صوفی شاعرکبیر اور تلسی بھی عورتوں کو ذلیل و حقیر سمجھتے ہیں کبیر لکھتے ہیں کہ:

     کَبِرا تِن کی کون گَتی،نِت ناری کے سنگ

      یا تَن کی جھائیں پرے،کالا ہوت بھوجنگ

تشریح:۔کبیر کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی حالت رحم کے قابل ہوتی ہے جو ہر وقت عورتوں کی صحبت میں رہتے ہیں ۔ عورتوں کی پرچھائیں پڑنے سے تو سانپ بھی سیاہ ہو جاتا ہے تو آدمی کی کیا بساط ہے۔

     تلسی بھی کبیر سے کچھ کم نہیں نظر آتے ہیں ۔رامائن میں ایک جگہ ایک کردار سے عورتوں کے متعلق کہلواتے ہیں کہ:

     ڈُھول ،گَنوا ر ،شو در ،پَشُو ناری

      سَکَل تَاڑَنَا کے ادِھکاری

     عورتوں کے بارے میں ا س طرح کی باتیں کر نے والے صرف چند شاعر یا مصنف نہیں ہیں بلکہ ایسے بہتوں کی مثال دی جا سکتی ہے اور یہ باتیں صرف ہندی ادب میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی سبھی زبانوں کے ادب میں پائی جاتی ہیں ۔ہمارا اردو ادب بھی اس سے مشتسنیٰ نہیں ہے۔ اکبرؔالہ آبادی نے تو عورتوں کی جدید تعلیم کے خلاف ایک بغاوت ہی چھیڑ دی تھی ۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

بے پردہ کل جو آئیں نظرچند بی بیاں

اکبرؔ زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا    (اکبرؔ)

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا

     اس کے برعکس علامہ شبلیؔ اور مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے خواتین کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے پر زور دیا او ر حقوق نسواں کی پر زور حمایت بھی کی۔ شبلی تعلیم کے میدان میں جس طرح جدت پسند تھے اسی طرح انھوں نے عورت کو تعلیم یافتہ بنانے پر بھی زور دیا ۔شبلیؔ کی خواہش تھی کہ عورتیں سیاسی ،سماجی،تعلیمی اور قومی تحریکوں میں بھی برابر شر یک ہوں ۔وہ عورتوں کو گھر کی چہار دیواری میں قید دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ خواتین کی تعلیم اور تحریک نسواں کے متعلق زیادہ بات نہیں کر سکے کیونکہ ان پر بہت سی ایسی ذمہ داریاں تھیں جس سے وہ خود کو الگ نہیں کر سکے اور ہمارے علماے ٔ کرام بھی نہیں چاہتے تھے کہ شبلی تعلیم ِ نسواں اور ان کی آزادی کی بات کریں ۔ اگرچہ شبلی ؔ یوروپ نہیں گیے تھے، لیکن انھوں نے مصر ، روم اور شام کا سفر کیا تھا اور وہ عالمی سطح پر ہونے والی آزادی ِ نسواں کی تحریکات سے با خبر تھے۔اس لیے شبلیؔ نے اپنے سفرنامہ ’’روم ومصرو شام‘‘ میں ٹرکی کی عورتوں کے متعلق جو تاثرات بیان کیے ہیں ،اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحریک آزادیِ نسواں کے بارے میں ان کے کیا خیالات تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’عورتوں کی سوسائٹی اگرچہ مردوں سے الگ ہے اور کوئی عورت کسی غیر مرد سے بجزخاص حالتوں کے بات تک نہیں کرسکتی۔لباس با لکل یوروپین ہے لیکن جب باہر نکلتی ہیں تو نہایت ڈھیلا ڈھالا ریشمی گون پہن لیتی ہیں ۔جو گردن سے لے کر پاؤں  تک ہوتا ہے ۔بدن کی ہیئت تک معلوم نہیں ہوتی۔دونوں آنکھیں اور ناک کی جڑاور کسی قدر آنکھوں کے نیچے کی سطح کُھلتی ہے ۔یہ رومال باریک ململ کے ہوتے ہیں ۔کوئی شخص پاس سے آنکھ جما کر دیکھے تو چہرہ کا رنگ معلوم ہو سکتا ہے لیکن ایسی جرٔات کون کر سکتا ہے۔‘‘۱؎

       عو رتوں کی آزادی ان کی عظمت اوران کی اہمیت کی مدح سرائی بہت سے اردو شعرا نے اپنی شاعری میں دل کھول کر کی ہے ۔کچھ لوگوں نے تو اپنی نظم کا عنوان ہی ’’عورت‘‘ رکھ دیا ہے مثلاًکیفیؔ اعظمی،اخترؔ شیرانی،علی سردار جعفری علامہ اقبال وغیرہ۔ علامہ اقبالؔ کا خیال ہے کہ بغیر عورت کے یہ دنیا بے رنگی ہے۔ اس لیے اپنی نظم ’’عورت‘‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ:

     وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں  رنگ

     اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں

     شرف میں بڑھ کرثریا سے مشتِ خاک اس کی

      کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درِ مکنوں      !

     مکالماتِ فلا طوں  نہ لکھ سکی، لیکن

 اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِافلاطوں

     علی سردار جعفری اپنی ایک نظم ’’عورت‘‘میں عورت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

     یہ مانا محبت کی منزل ہے عورت                       تڑپتا مچلتا  ہوا دل ہے عورت

      پر اس کی زماں و مکاں اور بھی ہیں                      ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

اس سلسلے میں کیفی ؔ اعظمی کے شعر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔کیفی ؔ اعظمی لکھتے ہیں کہ:

     قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں

     تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک افشانی ہی نہیں

     تو حقیقت بھی ہے ،دلچسپ کہانی ہی نہیں تیری ہستی بھی ہے اِک چیز،جوانی ہی نہیں

تو  فلاطوں  و ارسطو ہے

تو  زہرا  پرویں

تیرے قبضے میں ہے گردوں ،تیری ٹھوکر میں زمیں

     اتنا سب کچھ لکھے جا تے رہنے کے باوجود بھی خواتین کی حالت میں کچھ خاص بہتری نہ ہو سکی۔ تاریخ گواہ ہے کہ عورتوں پر ظلم وستم کی یہ کہانی پوری دنیا میں ایک جیسی ہے ۔اس نازک اندام عورت کی حالت دور ِ قدیم میں بھی کچھ زیادہ بہتر نہ تھی اورنہ ہی آج اس کی حالت زیادہ بہتر ہے۔اُس وقت بھی ان پر طرح طرح کے مظالم کیے جاتے رہے ہیں ۔ ان کو زنجیروں میں رکھا گیا کیو نکہ ان کے نزدیک عورت ہوا ،پانی ،روشنی اور گھاس کی ماننداستعمال کی شئے تھی ، جسے ہر شخص اپنی ضرورت اور خواہش کے مطابق استعمال کر تا رہا۔ یورپ جیسے ترقی یافتہ اور روشن خیال ممالک میں بھی عورت مساوا ت کے حقوق سے محروم تھیں ۔ہمارے وطن عزیز ہندتان میں بھی نو زائدہ بچی کو زندہ ٹوکری میں رکھ کر دریا برد کر دیا جاتا تھا۔ستی رسم کے تحت بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ جلنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا تھا ۔ عورتوں کے متعلق یہ چند باتیں دیگر ممالک اور ان کی تہذیب کے متعلق ہیں لیکن عرب ممالک میں تو عورتوں سے ان کے جینے کے حق کو بھی چھین لیاگیا تھا۔وہاں بچیاں پیدا ہوتے ہی در گور کر دی جاتی تھیں ۔وہ عورتیں جو لڑکی کو جنم دیتی تھیں معلونہ کہلاتی تھیں ۔لیکن جب نبی کریمﷺ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تو یہ ساری برائیاں دھیرے دھیرے کر کے ختم ہو ئیں اور اسلام نے عورتوں کو وہ مقام عطا کیا جو کسی دوسرے مذاہب میں اس کو میسر نہیں ۔اسلام کے مطابق پوری دنیا سامان ِ زندگی ہے جس میں سب سے بہترین سامان پاکیزہ عورت ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کو اس کے تمام حقوق سے مالا مال کیا ۔ تمام مذاہب سے الگ ہٹ کر عورت کو نان و نفقہ بھی دیا ۔ایسے بہت سے حقوق جو خواتین کی بہتر زندگی کے لیے مفید اور کار آمد ہیں ،اسلام نے انھیں عطا کیا ہے ۔ یہاں ایک بات جو ہندو اور مسلم دونوں مذاہب میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ہندو اور اسلام دونوں مذاہب میں عورت کو ایک شئے سمجھا گیا ہے ،لیکن فرق یہ ہے کہ اسلام صرف ایک شئے ہی نہیں بلکہ پاکیزہ شئے تصور کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ نان و نفہ اور والدین کی جائیداد میں حصہ دار اور دیگر حقو ق بھی دیتا ہے ۔ اب ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بدھ اور جین مذاہب پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے،کیوں کہ یہ بھی بہت قدیم ہیں اور ان دونوں مذاہب کے ماننے وا لے بھی ہمارے ملک ہندستان کے شہری ہیں اور انھیں بھی مسلمانوں کی طرح اقلیت کا درجہ حاصل ہے۔جین مذہب دو شاخوں میں منقسم ہے۔اس کی ایک شاخ کو سیوتمبراور دوسری شاخ کودیگمبر کہتے ہیں ان دونوں شاخوں میں عورتوں کی عظمت اور ان کے وجودکے متعلق ایک رائے نہیں ہے۔دیگمبرشاخ سے عقیدت رکھنے والے عورتوں کو روحانی اعتبار سے کمتر تصور کرتے ہیں جبکہ سیوتمبرکے ماننے والوں کا خیال اس کے با لکل برعکس ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عورتیں روحانی اعتبار سے مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جین مذہب اس وقت وجودمیں آیا جب ہندو مذہب میں برہمنزم کا بول بالا تھا ۔برہمنوں نے ہندوؤں  کو ذات پات کی بنیاد پر مختلف طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔اس میں مرد اور عورتیں دونوں برہمنوں کے ظلم اور زیادتی کے شکارتھے ،لیکن مردوں کی بہ نسبت عورتوں پر ظلم کا تناسب زیادہ تھا ۔ خاص طور پر وہ عورتیں جو نچلے طبقے سے تعلق رکھتی تھیں وہ کچھ زیادہ ہی ان کی زود وکوب کا شکار تھیں ۔ان حالات سے جینی بھی اثر انداز تھے اور وہ اس طرح کے تلخ ماحول سے نکلنا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ برہمنوں کی اس کٹر سوچ سے معاشرے کو آزاد کرانے اور عورتوں کی فلاح و بہبود اور ان کی بقا کے لیے مسلسل کوشاں تھے۔ چنایچہ مہاویرنے عورتوں کے حقوق کی پامالی اور بد حالی پر آواز اُٹھائی اور انھیں اس پامالی سے آزاد کرانے کی کوشش بھی کی ۔اس کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ جین مذہب میں خیالات کی وسعت پیدا ہوئی اور عورتوں کے بنیادی حقوق پر بھی توجہ دی جانے لگی۔ انھیں تعلیم و تعلم کی طرف رجوع کیا گیا اور کچھ مذہبی اختیارات بھی دیئے گیے اور فنون ِ لطیفہ سے بھی ان کو منسلک ہونے کا موقع ملا۔ رقص و موسیقی اور شعر و شاعری میں بھی حصہ داری عطا ہوئی۔لہٰذااب انھیں کچھ آزادی میسرہوئی جس سے کہ وہ سماج میں مردوں کے شانہ بہ شانہ ایک معیاری زندگی بسر کر سکیں ۔ اس سلسلے میں پرو فیسر وہاب اشرفی آمنہ تحسین کی کتاب کے ایک اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’ جین مت عورتوں اور مردوں دونوں کی راہبانہ زندگی پر بہت زوردیتا ہے اور مذہبی تنظیمیں یعنی جو سنگھ ہوا کرتے تھے ، ان میں راہبوں اور راہباؤں  دونوں کی تعداد تقریباً مساوی ہوا کرتی تھی ۔اجتماعی زندگی میں عورت کا ایک اہم مقام دیا گیا ہے ۔ اسے قیادت کا مقام بھی حاصل ہے بہ حیثیت مجموعی مذہبی تعلیم اور رہبانیت کی عورتوں کو اجازت ہے اور انھیں موکش (نجات) حاصل کرنے کا پورا پورا حق دیا گیا ہے۔بعض فرقوں کا یہ خیال ہے کہ عورت چونکہ بعض جسمانی ،ذہنی نقائص اور مختلف کمزوریاں رکھتی ہے اسی لیے اسے نجات حاصل کرنے کے لیے مرد کی حیثیت سے دوبارہ جنم لینا پڑتا ہے لیکن جین مت کے عقیدے کے مطابق کسی کو بھی موجودہ جنم میں ہی نجات حاصل نہیں ہوتی اس لیے ممکن ہے کہ عورت دوسرے جنم میں مرد کی حیثیت سے پیدا ہو ۔یہی وجہ ہے کہ جین مت میں اس خیال کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔

     اکثر مذاہب میں عورتوں کو ترغیب دینے والی اور شہوت بھڑکانے والی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے ۔اسے مکار ،دھوکے باز ،دوگلی،نا قابلِ اعتماد اور سازشی قرار دیا جاتا ہے۔ایسا تصور جین مت کے پاس بھی رہا ہے تاہم اس کا مقصد یہ رہا ہے کہ راہبوں کو خبر کیا جائے کہ وہ عورت سے دور رہیں تاکہ ان کے خیالات اور عمل متاثر نہ ہونے پائے اور پوری طرح پاکیزہ رہے ۔جین مت میں کثیر زوجگی ممنوع ہے۔بیوہ کو دوسری شادی کی اجازت نہیں ہے۔اس کے صبر و تحمل کی قدر کی جاتی ہے ،اس پر سادہ زندگی گذارنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔شوہر کے مرنے کے بعد وہ اس کی جائیداد کی مالک ہو سکتی ہے ۔ وہ راہبہ بھی بن سکتی ہے ۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو خاندان میں اہم مقام حاصل ہے جبکہ عورتوں پر خاندان کی زائد ذمہ داریوں کا بوجھ بھی عاید ہے ۔‘‘ ۲؎

     بدھ مذب کا وجود بھی جین کی طرح برہمنزم کے رد ِ عمل کے طور پر ہوا ۔ اس عہد میں بھی برہمنزم اپنے عروج پر تھا ۔ برہمنزم کی بد عنوانیوں اور زیادتیوں نے نچلے طبقے کے لوگوں کی زندگی کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی چمار اور اس قسم کی دوسری عورتیں ذلت کی زندگی گذارنے پر مجبور تھیں ۔ اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے حالات بھی بہتر نہیں تھے۔ منو اسمرتی کے قوانین نے نچلے طبقوں کے لیے نہ تو دنیا میں کوئی جگہ دی اور نہ ہی دین میں ۔اس قوانین کے تحت نچلے طبقے کے لوگوں کو نہ تو مندر میں جانے کی اجازت تھی اور نہ ہی پاکیزہ اور مقدس کتابوں کو پڑھنے کا حق تھا ۔ جو آج بھی بدستورجاری ہے ۔ برہمنوں کے نزدیک نچلی ذاتیوں کا کام صرف خدمت کرنا اور ان کے ہر حکم کی تعمیل کرنا تھا۔ بدھ مذہب نے مساوات کا پیغام دیا ۔اس مذہب کے تحت ہر انسان کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت برابری کا مقام دیا گیا ۔عورتیں بھی عبادت گاہوں میں جا سکتی تھیں اور بھکشونی بھی بن سکتی تھیں بلکہ بزرگ اور معمر عورت بھکشونی اتنی محترم سمجھی جاتی تھیں کہ کم عمر کے بھکشو اس کے آگے اپنا سرجھکا سکتے تھے۔گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں پر عورت اور مرد میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نچلے طبقے کے لوگوں کو اس مذہب میں اپنے لیے راحت اور اطمینان کے مواقع دکھائی دیئے ۔اس لیے یہ لوگ بڑی تیزی سے ہندو مذہب ترک کر کے بدھ مذہب کو اختیار کرنے لگے ۔یہ عمل برہمنوں کو نا گوار لگا ۔ اس لیے انھوں نے اس کو قابو کرنے کی بھر پورکوشش کی ، باوجود اس کے جو اثرات بدھ مذہب میں ظاہر ہوئے وہ قابلِ تعریف تھے ۔اس سلسلے میں وہاب اشرفی یوں رقم طراز ہیں :

’’یہاں یہ امر صاف تھا کہ عورتیں مردوں کے شانہ بہ شانہ ہر طرح کی تعلیم حاصل کر سکتی تھیں اس حد تک کہ تفریق گویا عملاً ختم ہو چکی تھی یہ اور بات ہے کہ ہندو دھرم نے تفریق کو اپنے قابو میں رکھا تھا۔اس لیے یہ صورت عام نہیں ہو سکتی تھی ۔بدھ مت میں بہت سی ایسی تحریکیں ابھری تھیں جنہیں اصلاحی کہہ سکتے ہیں ۔ عورتیں ان تحریکوں میں حصہ لے سکتی تھیں لہٰذا ان کے لیے رہبر بننا بھی مشکل نہ تھا وہ بن سکتی تھیں ۔‘‘ ۳؎

      یہاں پر یہ عرض کردینا ضروری معلوم ہوتاہے کہ میرامقصد کسی بھی مذہب کی اچھائی یا برائی کا شمار کرنا نہیں ہے۔مقصد صرف یہ ہے کہ تمام مذاہب میں عورتوں کا میعار اورمقام کیا ہے ۔کیا آج بھی ان کے حالات میں کسی طرح کا کوئی سدھار ہوا یا نہیں اور ان کی آزادی اور مساوات ِحقوق کا یہ نعرہ کہاں تک کامیاب ہوا ۔ کیااس نعرہ سے ان کی تمام پریشانیاں حل ہو رہی ہیں یاو ہ بھی سیاست کی زد میں آگیا ہے ۔جب ہم موجودہ ادب اور سماج کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس مہذب دنیا میں عورتوں کی توہین ،اس کی ذلالت اور استحصال کے انتہائی شرمناک مناظر اور ظلم و ستم کی ایسی وحشت ناک اور دل کو دہلا دینے والے واقعات اور کہانیاں نظر آتی ہیں جنھیں کوئی بھی مہذب اور باشعورانسان سننے کی تاب نہیں لا سکتا ہے ۔ انسانی زندگی کی ترقی کے ہر مراحل پر عورتیں ظلم و زیادتی کا شکار رہی ہیں اس سلسلے میں وہاب اشرفی لکھتے ہیں کہ:

          ’’انسانی تاریخ کی مختلف منزلوں میں عورت برابر مردوں کی شہوانیت کا مرکز بنتی رہی ہے ۔اس کی تمام خوبیاں ۔دلکشیاں اور اس کا سارا جسمانی حُسن ایک صاحبِ نظر کے لیے مردوں کے اس تصورِ عورت نے خود عرصہ دراز تک عورت کو اپنی اصل، روح اور حقیقت کو پہچاننے کا موقع نہیں دیا۔دورانِ مباشرت وہ ممکن ہے،تلذّذچاہتی رہی ہو ،لیکن اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو سپردگی کے غلاف میں سمٹے دیکھا۔کبھی کبھی تاریخ میں چند غیر معمولی شخصیتیں اگر دکھائی دیتی ہیں تو وہ بھی زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر فعالیت کا شکار نظتر آتی ہیں ۔عورت کو اپنی جنسی تشنگی کی تکمیل کا ذریعہ سمجھنا حق ِآدم تصور کیا گیا ہے مگر انیسویں اور بیسویں صدی نے جہاں ذہن کے بہت سے جالوں کو صاف کر کے علم کی روشنی پھیلائی ،وہاں یہ احساس بھی جاگا کہ عورت بھی مرد کی طرح پہلے انسان ہے۔ اس کی خواہشات ہیں ، اس کے پاس بھی محبت کرنے والا ایک دل ہے ۔تمنّاوں اور حسرتوں کی دنیا ہے ۔وہ بھی عقلی اعتبار سے مردوں کے برابرہے ،وہ بھی ایک تخلیقی ذہن کی مالک ہے ۔اس کی تخّیلات کی دنیا بھی بلند پرواز ہے،اور وہ بھی جنسی لذّتوں سے ہمکنار ہو نے کی جبلّتوں سے محروم نہیں اور دوران ِ مباشر ت وہ صرف سپردگی کی ایک متحرک دیوی نہیں بلکہ اس میں بھی فعالیت کے جوہر ہیں جنہیں وہ اپنی خواہشات اور جذبات کی جدا گانہ نوعیت کے اعتبار سے دکھا سکتی ہے۔‘‘ ۴؎

      موجودہ دور سائنس اور ٹکنالوجی کا دور ہے ۔آج دنیا بہت ترقی کر گئی ہے اس کے ساتھ ہی ہمارا ملک ہندستان بھی پہلے سے کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ سائنس کی مختلف ایجادات نے جہاں ایک طرف ہمیں تمام طرح کی آسائش فراہم کی ہے وہیں دوسری طرف ہماری اخلاقی اور تہذیبی قدریں بھی پامال ہوئیں ہیں ۔ موبائل اور ٹیلی ویژن کی وجہ سے فصلیں وقت سے پہلے پک کر تیار ہونے لگیں ہیں ۔ وحشت و درندگی عام ہوتی جا رہی ہے، عریانیت و فحاشی ایک فیشن کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ان تمام سائنسی ترقیات سے ہمارا ملک ہندستان بھی اچھوتا نہیں ہے ۔آج ہمارا ملک ہر شعبے میں اپنی ایک پہچان بنا چکا ہے لیکن اس کے باوجود غریبی اور مفلسی اپنا پاؤں  پھیلائے ہوئے ہے اور آزادی کے ستّر سال بیت جانے کے باوجود بھی ملک میں پسماندہ طبقے اور خواتین کے حالات نا گفتہ ہیں ۔ قریب کے دو تین عرصہ میں یہ حالات اور بھی بد ترین ہو گیے ہیں ۔ اور خاص طور سے نچلے طبقے کی عورتیں آج بھی زبوحالی کی زندگی بسر کررہی ہیں ۔ اگر ہندستانی سطح پر خواتین کی حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کی آج بھی ان کی حالات پورے ملک میں تقریباً ایک جیسی ہے۔ آج بھی ان پر ظلم و ستم کی وارداتیں دل کو دہلا دینے والی ہوتی ہی ہیں ۔خواتین پر ظلم و ستم کی یہ کہانیاں بہ دستور جاری ہیں اور روز بہ روز اس کا تناسب بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ آج بھی عورت ذات پر مختلف طرح کے مظالم ہو رہے ہیں ۔کبھی محبت میں ناکام مرد انہیں تیزاب کا شکار بناتا ہے ،کبھی یہ طلاق ثلاثہ جیسے مردوں کے حقوق کا شکار ہوتی ہیں تو کبھی لڑکی کے نام پر انھیں ماں کے شکم میں ہی مار دیا جاتا ہے ۔آج بھی دیوداسی کی شکل میں ان کی بہت بڑی تعداد ملک میں موجودہے جہاں پر ان کا استحصال کیا جاتا ہے ۔آج بھی ملک میں قریب چوبیس لاکھ ایسی عورتیں ہیں جو شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی اپنے شوہروں سے الگ ہیں ۔جن میں تقریباً بیس لاکھ ہماری ہندو بہنیں ہیں ، دو لاکھ مسلم اور قریب نبے ہزار کرشچین خواتین ہیں ،لیکن ان عورتوں کی کوئی بات ملک میں نہیں ہوتی ہے ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آج بھی خواتین صرف سیاست کی ڈھال بنی ہوئی ہیں ۔اگر خواتین کے حقوق اور ان کی حیثیت کی بات ہوتو بلا تفریق ملک کی سبھی خواتین کی بات ہونی چاہیئے ۔ کسی ایک طبقے کی خواتین کا مثلا اُٹھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عورتیں آج بھی سیاست کا شکار ہو رہی ہیں کیوں کہ اس طرح کے چنے ہوئے مدعے اُٹھانے سے عورتوں کے مسائل تو حل نہیں ہو پاتے لیکن وہ لوگ جو اس مدعے کو سماج میں لوگوں کے سامنے لاتے ہیں ، ان کی سماج میں خواتین کے حمایت میں لڑنے والے کے طورپرایک حیثیت ضرو ر قائم ہو جاتی ہے ۔ کبھی یہ آزادی اور برابری کے حقوق کے نام پرلو اِن رِلیشن شپ کا شکار ہو کر اپنی عصمت کا سودا کر لیتی ہیں ۔کبھی یہ بے جا رسم ورواج کا شکار ہو جاتی ہیں ،کبھی یہ جہیز نہ لانے کی پاداش میں نذر آتش کر دی جاتی ہیں ۔اگر مجھے کہنے کی اجازت ہو تو میں عرض کر دوں کہ عورتوں کے تمام مسائل کی جڑجہیز، اس کا تعلیم یافتہ نہ ہونا اورسیاسی زندگی میں خواتین کے تناسب اوران کی نمائندگی کی کمی ہے ۔اس کے علاوہ زچہ بچہ صحت کی ناکافی دیکھ بھال،خواتین کی دن بدن بڑھتی آبرو ریزی ،جنسی غلامی،جیل میں خواتین کا علاج،انصاف کے نظام میں موروثیت وغیرہ۔ یہ وہ مسائل ہیں جو ملک کے سبھی مذاہب اور ذات کی عورتوں میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں ۔ ان مسائل سے متعلق اردو میں بہت سے ناول اور افسانے تخلیق کیے گیے ہیں ۔مثلاًـــبازار حسن ،گئودان، کفن،نرملا،وغیرہ۔ یہ سبھی تخلیقات منشی پریم چند کی ہیں ۔بازار حسن کاموضوع ظاہری طور پر طوائف کی زندگی ہے لیکن پریم چند نے اس کے پردے میں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی بے بس اور بے سہارا عورتوں کے مسائل کو پیش کیا ہے اور ان مسائل کے حل کی سعی بھی کی ہے۔ نرملا کا موضوع ہی جہیز کی لعنت ہے۔ جہیز جیسی بیماری کی وجہ سے سماج میں بے جوڑ شادی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔جس کا سب سے زیادہ اثر عورتوں پر پڑتا ہے۔ گئودان اور کفن میں بھی عورتوں کے کردار سماج کے ظلم و زیادتی کے شکار ہیں ۔پریم چند کے علاوہ راشدالخیری اور کئی دیگر خواتین ناول نگاروں نے جہیز کے موضوع پرناول تحریر کیے ہیں ،لیکن طوالت کے باعث ان سبھی کا ذکر غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو زمانے سے چلے آرہے ہیں اور ان پر مسلسل لکھا بھی جا رہا ہے، اس کے باوجود بھی اس مسائل کی طرف نہ ہی ہماری سیاسی جماعتیں دھیان دیتی ہیں اور نہ ہی عورتوں کی وہ تنظیمیں جو ٹی ۔ وی ۔چینلوں پر زور زور سے چلاّکرخواتین کے حقوق اور ان کی آزادی کی بات کرتی ہیں ۔ ہمارے سیاست دانوں کو یہ پتہ ہے کہ اگر ہم سیاسی حق اور تناسب کی بات کریں گے تو ہمیں برسوں سے پڑے ۳۳فیصدی پارلیہ منٹ کے خواتین ریزرویشن کودینا ہو گا ۔اگر ان کی صحت کے متعلق بات ہوگی توانھیں ہسپتال اور دیگر سہولیات فراہم کرنی ہوگی، نوکری کی بات کریں گے تو بجٹ کا انتظام کرنا ہوگا۔اس لیے وہ غیر ضروری مسائل میں عوام کو اُلجھائے رکھنے میں اپنی بہتری اور برتری سمجھتے ہیں ۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج بھی ہمارے ملک میں خواتین پر مختلف طرح کے ظلم و ستم ہو رہے ہیں ۔

     آج کے اس جدید دور میں سماج میں خواتین کی کیا حیثیت ہے اور کیا ہونی چاہیے یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ اس چمکتے دمکتے دور میں خواتین کو بظاہر اتنا بلند کر دیا گیا ہے کہ قدیم زمانے کی ذلت بھری زندگی اسے محض خیال نظر آنے لگی ہے ۔آج انھیں معاشرے کے ہر شعبہ میں اشتراک کا حق حاصل ہے۔ اس لیے بے جا مواقع فراہم ہوتے ہی وہ اپنی تمام حد بندیوں کو توڑ کر بہت آگے نکل جانا چاہتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انجان راہوں میں اندھا دندھ اِدھراُدھر بھٹک رہی ہیں ۔آج تمام طرح کی آزادی پا لینے کے باوجود بھی وہ اپنے حقوق اور سکون کی زندگی سے محروم ہیں ۔آج آزادیٔ نسواں کے نام پر اور اس پُرفریب نعروں کے پیچھے مردوں کی لذت نظر اور فردوس گوش بننے کے لیے خود نکل آئی ہیں ۔دفتروں ،کلبوں ،بازاروں ،کچہریوں ،بینکوں گویاملازمت کے ہر شعبہ میں ان کی اچھی خاصی نمائندگی ہے اس کے باوجود بھی آج ان پر ظلم و تعدی کا دور دورہ ہے۔عصمت کے لٹیرے در بدر پھر رہے ہیں ،کسی بہو بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عورت اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے اپنے فرائض سے غافل ہو گئی ہیں ۔اس نے اپنی ذمہ داریوں سے منھ پھیر لیا ہے ۔جس کے نتیجے میں یہ انسانوں کی شکل میں گھومنے پھرنے والے حیوان اپنی جنسی لذت کی تلاش میں گلی کوچوں ،بازاروں اور مختلف جگہوں پر نظر آ جاتے ہیں ۔ان حیوانوں نے دنیا کے سکھ و چین کو غارت کر دیا ہے ۔جب کہ آج کا یہ انسان پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ اور تہذیب سے آراستہ ہے، باوجود اس کے اپنی ذہنی فطرت اور وحشی پن کو تبدیل نہیں کر سکا ہے ۔آج کا انسان مال و دولت کے ڈھیر پر بیٹھا ہے مگر اخلاقی اعتبار سے غریب ہے ۔امن و شرافت کا حامی ہے مگر آدمیت و شرافت سے محروم ہے ۔یہ عروج و کمال کاتو دعوہ کرتا ہے مگر پستیوں کی طرف گرتا جا رہا ہے۔یہ علم و عمل کا تضاد اکیسویں صدی کی اس تہذیب کی پیشانی پر ایک بد نما داغ ہے اوریہ تمام چیزیں محض عورت کی دین ہیں ۔آج یہ انسانیت اور سماج کے لیے ایک خطرے کا نشان ہے اور اس خطرے کو نطر انداز کرنا معاشرے کو زوال کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔معاشرے کو زوال سے بچانے اور ایک صحت مند معاشرے کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھیں ۔اپنی بے حسی کو زندگی بخشیں اور ساتھ ہی انسانیت کے جو بنیادی تقاضے ہیں اس کی پاسداری بھی کریں ۔اور آخر میں علامہ اقبالؔکے اس شعر سے میں اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ:

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریز ہ کا ری ہے

حواشی:

(۱) بحوالہ۔ ادب خواتین اور سماج۔ڈاکٹر صادقہ ذکی،لبرٹی آرٹ پریس (پروپرائٹرز:مکتبہ جامعہ لمٹیڈ) پٹودی ہاؤس دریا گنج ۔ نئی دلّی،جون ۱۹۹۶ء

(۱)بحوالہ ۔ عالمی تحریک ِ نسائیت :مضمرات و ممکنات(نیا ایڈیشن)، وہاب اشرفی ،ایجو کیشنل پبلشیگ ہاؤس ،دہلی ۔۶،سن ِ اشاعت،۲۰۱۲ء ،ص: ۵۰-۵۱

(۲)عالمی تحریک ِ نسائیت :مضمرات و ممکنات(نیا ایڈیشن)، وہاب اشرفی ،ایجو کیشنل پبلشیگ ہاؤس ،دہلی ۔۶،سن ِ اشاعت،۲۰۱۲ ،ص: ۵۳

(۳)عالمی تحریک ِ نسائیت :مضمرات و ممکنات(نیا ایڈیشن)، وہاب اشرفی ،ایجو کیشنل پبلشیگ ہاؤس ،دہلی ۔۶،سن ِ اشاعت ۲۰۱۲ء  ،ص:۹۵-۹۶

Rafiuddin

Research scholar

Department of urdu

University of Delhi

Email.id :rafiuddin0312@gmail.com

Mob:-9953714065

pin code:-110007

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.