امیر اللہ خاں شاہینؔ میرٹھی کی ادبی خدمات:ایک اجمالی جائزہ

     سیاسی ،معاشی،صنعتی ،علمی و ادبی اعتبار سے صوبۂ اتر پردیش کاسب سے مردم خیزعلاقہ مغربی اتر پر دیش ہے اور اسی مغربی علاقہ کا تاریخی اور قدیم ضلع میرٹھ ہے۔ہڈپہ اور موہن جودڑو کے آثار قدیمہ سے لے کر راماین اور مہابھارت تک کی قدیم تاریخ کو یہ ضلع اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔اسی سر زمین سے1857 میں اُٹھنے والی انقلاب کی چنگاری نے ہندوستان بھر میں شعلوں کی شکل اختیار کی۔آخر کار90سال بعد1947میں ہمارا ملک جابرانگریز حکمرانوں کے چنگل سے آزاد ہوا۔میرٹھ شہر میں علم و عرفان،شعر و ادب کی شمعیں ہمیشہ روشن رہیں ۔اُردو ادب کی تاریخ کو فروغ دینے میں اس شہر کی ادبی و علمی خدمات کا اعتراف دانشورانِ ادب نے ہمیشہ کیا ۔ماہر غالبیات مالک رام نے تقسیم وطن کے بعد کے علمی ،ادبی،لسانی اور سیاسی حالات اوردبستانِ میرٹھ پر اس کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے تحریر کیا:

’’میرٹھ کسی زمانے میں علمی پہلو سے خاصا مشہور رہا ہے۔اسماعیل میرٹھی اکیلے بیسیوں پر بھاری ہیں ۔اُردو شاعری کی اصلاحی تحریک میں ان کا حصہ کسی سے کم نہیں ہے،لیکن تقسیم ملک کے بعد اُردو کا رواج روز بہ روز کم ہوتا جا رہا ہے،میرٹھ بھی اس سے نہیں بچا ۔‘‘

(میرٹھ کی ادبی خدمات،محمد مشتاق شارقؔ،ناشر ایم ایس اخلاق،کوٹلہ میرٹھ2014،صفحہ 32)

اُردو ادب کے طالب علم جانتے ہیں کہ اس شہر میں جعفر زٹلی سے لے کر شوکت سبز واری،جمیل جالبی ،انتظار حسین،ساغر نظامی،اختر الایمان جیسی با وقارمایہ ناز اُردو ہستیوں نے اپنی علمی تشنگی کو پورا کیا اوراسی شہر کی دیگر نابغۂ روز گار شخصیات نے بھی اپنے علم و فن سے بھی اُردو ادب کو مالا مال کیا۔مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کے مکاتیب کی اشاعتِ اوّل کا سہرا بھی سر زمین ِمیرٹھ کے سر ہے۔مرزا غالبؔ اپنے عزیز شاگر نواب شیفتہ ؔ سے ملنے تین مرتبہ میرٹھ تشریف لائے۔مرزا غالبؔ کے قاطع برہان کے جواب میں مرزا رحیمؔ بیگ میرٹھی نے شاطع برہان لکھی۔مرزا غالبؔ کے علاوہ میر تقی میرؔ اور مرزا مظہرؔ جان جاناں کی آمد بھی میرٹھ میں ثابت ہو چکی ہے۔اگر میں دبستان ِمیرٹھ میں پیدا ہونے والے اور اس شہر کو اپنا مسکن ثانی بنانے والے شاعروں کے نام تحریر کروں تو یہ ادبی کہکشاں طوالت اختیار کر لے گی،لیکن مولوی اسما عیلؔ میرٹھی اور حامد اللہ افسرؔ میرٹھی کے نام کے بغیر اُردو شاعری کی تاریخ ادھوری مانی جائے گی۔یہاں میرا موضوع اس کی اجازت قطعی نہیں دیتاکہ میں اُن شاعروں کے نام تحریر کروں جن کا اس مضمون سے کوئی تعلق نہیں ۔اس وقت میرا موضوع سر زمینِ میرٹھ کی قد آورادبی و علمی شخصیت ،اُردو لسانیات میں اپنا منفرد مقام و مرتبہ رکھنے والے سابق صدر شعبۂ اُردو ،میرٹھ کالج میرٹھ ،مرحوم امیر اللہ خاں شاہینؔ میرٹھی کی ادبی ، لسانی،تحقیقی و تنقیدی خدمات کو منظر عام پر لانا ہے۔امیر اللہ خاں شاہین ؔجیسے بلند پایہ ادیب ،شاعر،افسانہ نگار،صحافی،معتبر ناقد ،نامور محقق ،مقرریکتا،سب سے بڑھ کر ماہر لسانیات اورپارکھ اسلوبیات سر زمینِ میرٹھ میں خصوصاً اور اُردو دنیا میں عموماً اُنگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ۔موصوف میں قوتِ اظہار کی زبر دست صلاحیت تھی،کسی بھی موضوع پر بے تکان بولتے تھے ،ایسا محسوس ہوتا تھا کہ موصوف کے اندرعلم کا ایک سمندر ہے جو اپنے شباب پر آنے کے بعد ٹھاٹھے مار رہا ہے۔لسانیات ان کا خاص موضوع اور محبوب ترین مشغلہ تھا۔اس خشک مضمون کو وہ طلبا کو اس شگفتگی ،سائستگی اور عالمانہ اندازاور انہماک سے پڑھاتے تھے کہ ہر طالب علم ان کا لیکچر سنتے وقت ہمہ تن گوش ہو جاتا تھا۔موصوف نہایت عالمانہ انداز میں لسانیاتی بحث کے دوران یہ نکتہ طلبا کے سامنے ضرور پیش کرتے تھے کہ اُردو زبان کنِ کنِ مراحل سے گزر کر کھڑی بولی کے بطن سے پیدا ہوئی اور میرٹھ کے قرب و جوار کی ٹیٹھ بولی کے اثرات اس پر سب سے زیادہ کیسے مرتب ہوئے۔ڈاکٹرامیر اللہ خاں شاہینؔ نے لسانیات کے موضوع پر ’’جدید اُردو لسانیات‘‘کے عنوان سے با قاعدہ 112صفحات پر مشتمل ایک کتاب تصنیف کی ۔اس کتاب کے پیش گفتار میں پروفیسر گوپی چند نارنگ نے امیر اللہ خاں شاہینؔ کے لسانیاتی پہلوؤں  پر بحث کے علاوہ میرٹھ شہر سے ان کے والہانہ محبت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا:

’’ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین زمانۂ طالب علمی ہی سے دُھن کے پکے اور لگن کے سچے تھے۔اکثر باتوں میں مجھ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔لسانیات کا چسکا انھیں دلّی یونی ورسٹی میں میری کلاس سے لگا ہر لیکچر کو غور سے سنتے اور قلم بند کرتے ،جو کتابیں بتائی جاتیں انھیں لائبریری میں جاکر کھوجتے اور پڑھتے تھے۔ایسا ذوق و شوق بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ایم ۔اے اُردو کے بعد میں نے انھیں لسانیات میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کرنے کی طرف مائل کیا،ان کا داخلہ بھی ہو گیا لیکن اسی زمانے میں میں وسکانس یونی ورسٹی چلا گیا ۔اِنھیں دنوں میسور کے سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز نے پٹیالہ میں اپنا ریجنل کالج قائم کیا تو اِس میں شعبۂ اُردو بھی کھولا گیا۔ڈاکٹر پٹنائک سے کہہ کر اس میں میں نے شاہین صاحب کا تقرر کرا دیا لیکن انھیں دنوں میرٹھ کالج میں اُردو کی بحالی کے لیے شاہین صاحب نے تن تنہا تگ و دو شروع کر دی تھی اور ان کی کوششوں سے کامیابی کے آثار نظر آنے لگے تھے۔اسی لیے شاہین صاحب نے پٹیالہ پر میرٹھ کو ترجیح دی اور پھر یہیں پر ترقی کی تمام منزلیں طے کیں ۔میں بس کے سفر سے بہت گھبراتا ہوں لیکن شاہین صاحب کے اصرار پر جب جب میرٹھ جانا ہوتا وہ گھر پر ضرور لے جاتے اور اُن کی خوشی کا عجیب عالم ہوتا۔اس کارخانۂ قدرت کا اُصول ہے کہ جن کی یہاں ضرورت ہوتی ہے اکثر اُن کی وہاں بھی ضرورت ہوتی ہے۔لوگ تو آتے جاتے رہیں گے لیکن افسوس دوسرا شاہین نہ ہوگا۔‘‘

(جدید اُردو لسانیات،امیر اللہ خاں شاہین،اشاعت سوم1991،ناشر بیگم عثمانی شاہین وکاس پوری میرٹھ،صفحہ3تا4)

     پروفیسر گوپی چند نارنگ کے بعد ڈاکٹر ابن کنول نے بھی ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین کی لسانیاتی تحقیق و تنقید کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور تحریر کیا کہ اُردولسانیات کے موضوع پر چند معتبر کتابوں میں ان کی کتاب کا شمار ضرور کیا جائے گا۔کیوں کہ اس کتاب میں دہلی،لکھنؤ کے علاوہ دوسرے ادبی علاقائی مراکزاور علمی گہواروں پر بھی لسانیاتی گفتگو کی گئی ہے۔در اصل ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔنے ایسے مشکل ترین موضوعات پر کام کیا جن سے ناقدین اور محققین اکثر بچ کرصاف نکل جاتے ہیں ۔ڈاکٹر ابن کنول، امیر اللہ خاں شاہینؔ کی ادبی و لسانی کاوشوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’عجیب بات ہے کہ جن موضوعات کو محقق اور نقاد اس لیے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ان کی طرف توجہ دینا خود کو امتحان میں ڈالنا ہے ۔ڈاکٹر شاہین نے انھیں موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اس کی ایک مثال اُن کی کتاب ’’اُردو اسالیب نثر ‘‘ہے تو دوسری کتاب’’جدید اُردو لسانیات‘ ہے ۔اُردو میں لسانیات پر لکھی گئی معتبر کتابیں چند ہی ہیں ۔ڈاکٹر شاہین کی کتاب ان میں ایک اہم اضافہ ہے،اگر چہ ڈاکٹر شاہین نے یہ دعوا نہیں کیا تھا کہ وہ ماہر لسانیات ہیں لیکن ان کی یہ کتاب ظاہر کرتی ہے کہ انھیں کس قدر اس موضوع سے دل چسپی تھی اور انھوں نے کس محنت اور لگن سے تمام موضوعات پر لسانیات کا مطالعہ کیا ہے۔ڈاکٹر شاہین نے اس کتاب میں صرف اُردو زبان کی ابتدا کے سلسلے میں ہی بحث نہیں کی ہے بل کہ زبان اور زبان کی ابتدا کے بارے میں جو نظر یات پیش کیے گئے ہیں اور ہند یورپی اور ہند آریائی زبانوں اور ان کی درجہ بندی پر روشنی ڈالی ہے ۔ڈاکٹر شاہین کی اس کتاب کی اہمیت اس لیے اور بڑھ جاتی ہے کہ اس میں شمالی ہند میں دہلی ،لکھنؤ کی اصلاح زبان کی تحریکوں پر بھی گفتگو کی ہے اور اُردو میں علی گڑھ تحریک کی خدمات ،اُردو اور ہندی کا رشتہ اور اُردو رسمِ خط جیسے موضوعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔‘‘

(امیر اللہ شاہین شخصیت اور فن،جلال انجم،ناشر ادارہ سہ ماہی ملاقات،میرٹھ1996،صفحہ143)

      امیر اللہ بالمعروف امیر اللہ خاں شاہینؔ کی تاریخ پیدایش 15جون1939بہ مقام سوامی پاڑہ، میرٹھ ہے۔ان کے والد بشیر اللہ خاں میرٹھ کے با وقار علمی و مذہبی انسان تھے۔امیر اللہ خاں شاہینؔ نے اپنی تعلیم کا آغاز میرٹھ سے ہی کیا۔موصوف نے1953میں ہائی اسکول،1955میں انٹر(گورنمنٹ انٹر کالج ،میرٹھ)،1957میں بی۔اے اور1959میں میرٹھ کالج میرٹھ سے ایم۔اےEconomicsمیں امتیازی نمبرات سے پاس کیا( غور طلب رہے کہ میرٹھ کالج میرٹھ کا 1965تک آگرہ یونی ورسٹی سے الحاق تھا)امیر اللہ خاں شاہینؔ نے1967میں دہلی یونی ورسٹی سے ایم۔اے اُردو امتیازی نمبرات سے پاس کیا۔دہلی یو نی ورسٹی سے ہی انھوں نے 1971میں ڈپلومہ ان مخطوطہ شناسی اور ڈپلومہ ان لسانیات کی اسناد حاصل کیں ۔1971میں دہلی یونی ورسٹی سے امیر اللہ خاں شاہینؔ نے پروفیسر قمر رئیس کی زیر نگرانی پی۔ایچ ۔ڈی کا مقالہ بہ عنوان’’اُردو اسالیب نثر‘‘ سپردِ قلم کیا۔اپنے قیامِ دہلی کے دوران انھوں نے جماعت اسلامی کے ہفتہ واری انگریزی اخبار ’’ریڈینس‘‘میں جز وقتی طور پر کام کیا ۔انھوں نے اپنی تدریسی زندگی کا با قاعدہ آغاز1972 سے میرٹھ کالج میں اُردو لکچر ر کے عہدے سے کیا۔ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔنے ترقی کے زینے چڑھتے ہوئے 1974سے اپنی وفات 28دسمبر1989تک میرٹھ کالج میرٹھ کے صدر شعبۂ اُرد و بھی رہے۔اِن کے دور صدارت میں میرٹھ کالج کے شعبۂ اُردو کی خاص بات یہ رہی کہ عالمی شہرت یافتہ شاعرڈاکٹر بشیر بدر ؔ اور ماہر نثر نگارڈاکٹر خالد حسین خاں نے بھی موصوف کے ساتھ کا م کیا۔مرحوم امیر اللہ خاں شاہینؔ نے میرٹھ کالج کے شعبۂ اُردو میں آزادی کے بعد ایم ۔اے کلاسیز کا از سر نو اجرا کرایا اس کام کے لیے انھوں نے انتھک کا وشیں کیں ۔مخالفین اُردو نے ان کی کاوشوں کی شدید نکتہ چینی کی۔آخر کا ر شاہین صاحب اپنے مشن میں کامیاب ہوئے۔ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔنے اس دار فانی میں صرف 50برس چھ مہینے اور 16دن گزارے۔اس مختصر مدت میں امیر اللہ خاں شاہینؔ نے اُردو ادب میں خاص طور پر لسانیات کے باب میں اپنی علاحدہ شناخت قائم کی۔اس دوران موصوف نے اپنی علمی و ادبی جولانیاں دکھاتے ہوئے مختلف کتابیں تصنیف و تالیف کیں ۔ان کتابوں میں ’’جدید اُردو لسانیات‘‘،’’اُردو اسلایب نثر،تاریخ و تجزیہ ‘‘،’’فن سوانح نگاری‘‘،’’سیر المصنفین‘‘(مرتب)،’’تخلیق و تنقید ‘‘،’’انتخاب اقبال‘‘(مرتب)،’’کلیات دلمیرؔ ‘‘(مرتب)،’’سچلؔ سر مست‘‘(ترجمہ)کے علاوہ ان کی دو کتابیں ’’اقبال شخصیت اور فن‘‘اور’’ارباب نثر اُردو‘‘بھی منظر عام پر آنا باقی ہیں ۔ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہینؔ کی رحلت پر نور تقی نورؔ میرٹھی نے ایک پر درد نظم تخلیق کی جسے میں قارئین کے سامنے پیش کررہا ہوں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مرحوم شاہین صاحب اپنے دوستوں میں کس قدر مقبول تھے؛

وہ نورِ حکمت و دانش وہ مخزن افکار

وہ ایک موجۂ گُل ریز نکہت گُل بار

جو ارتعاش میں آئے نظر سے بات کرے

دیارِ علم کی ہر رہ گذر سے بات کرے

ادب کے موسمِ دیوانہ گر سے بات کرے

شبِ خیال میں شمس و قمر سے بات کرے

جمالِ خوشبوئے دیوار و در سے بات کرے

جو لفظ و معنی لعل و گوہر سے بات کرے

یہ قبل شام ہی کیوں آفتاب ڈوب گیا؟

اُداس بیٹھے ہیں سب انتظار میں اُس کے

وہ ایک ہم دم دیرینہ وہ اک شریک حیات

وہ نونہال وہ یعنی دل و نظر کے چراغ

وہ گھر نیا نیا شائستہ خانۂ تہذیب

مسودے وہ رسالے کتابیں تصویریں

سبھی سوالی ہیں لیکن کوئی جواب نہیں

ہر ایک شور کا انجام کیا خموشی ہے؟

     ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔکسی بھی موضوع پر قلم اٹھانے سے قبل اس کا کئی برسوں تک عرق ریزی سے عمیق اور گہرائی او ر گیرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے تب کہیں خشک سے خشک موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرتے۔’’اسالیب نثر ‘‘اُردو ادب میں ایک اچھوتا اور منفرد موضوع ہے ۔ناقدین ادب نے اُردو کے نثری اسالیب کی جانب بہت کم ہی توجہ مبذول کی ہے۔لیکن ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔنے با قاعدہ ’’اُردو اسالیب نثر،تاریخ و تجزیہ‘‘(گیارہویں صدی سے بیسویں صدی تک)کا عالمانہ اور تحقیقی و تنقیدی انداز میں محاکمہ تقریباً15برسوں کی جاں کاہی اور مسلسل محنت کے بعد کیا۔اس کتاب میں موصوف نے اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ اُردوادب میں شاعری کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا لیکن اُردو نثری اسالیب پر مصنفین نے بے توجہی کا اظہار کیا۔در اصل نثری اسلوب کا مطالعہ کئی زاویوں سے کیا جاتا ہے۔مغرب میں تو اسلوب) (styleکو ایک علاحدہ صنف قراردینے کے ساتھ اسے با قاعدہ نظریہ تسلیم کیا جا چکا ہے لیکن ہندوستان میں خاص طور پر اُردو ادب میں اسے مغرب کے زیر اثر قبول کیا گیا۔اسلوب کے بارے میں ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہینؔ نے اپنی کتاب ’’اُردو اسالیب نثر‘‘میں نئے مباحث کا آغاز کیا۔در اصل یہ کتاب گذشتہ دس صدیوں کے نثر نگاروں کے نثری کارناموں کا احاطہ کرتی ہے ۔شاہین صاحب نے اس کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا۔ڈاکٹر امیر اللہ خاشاہین ؔکے اسلوب کی بنیادی صفت توازن،استدلال اور وضاحت کے عناصر ثلاثہ سے عبارت ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے ذوقِ علم اور مطالعہ سے جو نتائج اخذ کرتے ہیں اسے تحقیقی و تنقیدی میزان میں ناپ تول کر ہی اسے قارئین ادب کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔مزید برآں  شاہین صاحب اپنے دیگر ہم عصر اصحاب قلم کے برخلاف کوئی رسمی جملہ سپرد قلم نہیں کرتے یا کوئی گھسی پٹی ،رٹی رٹائی یا فرسودہ خیالات کا اظہار نہیں کرتے بل کہ وہ تنقیدی ذہن سے سوچ کر اپنے فطری انداز نگارش کے وسیلے سے اسے صفحۂ قرطاس پر بیان کر دیتے ہیں ۔اس لیے وہ اپنے فکر و نظر،تحقیقی ذوق اور مخصوص شگفتہ و دل نشیں اسلوب نگارش کی بدولت گذشتہ صدی کے نقادوں میں دور سے پہچانے جا سکتے ہیں ۔ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہینؔ نے اسلوب کی سادگی،متانت ،رنگینی، روانی،روز مرہ محاورات،عام فہم و مغلق الفاظ پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی کتاب’’اسالیب نثر اُردو‘‘ میں لکھا:

’’اس مقالے میں ان الفاظ اور اصطلاحات کی بھی پڑتال کی گئی ہے جو اسلوب کے تجزیے کے لیے استعمال میں آتے رہے ہیں اور جو بار بار کے اعادے و تکرار سے اصول و کلیات کے درجے میں داخل ہو گئے ہیں ۔مثلاً سادگی،رنگینی،روانی،محاورہ،روز مرہ،عام فہم،مشکل و مغلق وغیرہ کو ان کے جدا گانہ سیاق و سباق ،اور ان کے حقیقی پس منظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے۔مثلاً سادگی کو ہی لیجیے۔سر سید اور حالیؔ کی سادگی مختلف ہے اسی طرح شررؔ اور شبلیؔکی رنگینی اور رومان دو جدا گانہ نوعتیں رکھتے ہیں ۔ان میں سے کسی کو مردہ روایت کے طور پر اختیار نہیں کیا گیا بل کہ انھیں زندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس جائزے میں معروضی نقطۂ نظر اپنانے کی کوشش میں بنیادی اصول یہ برتا گیا ہے کہ الفاظ اور الفاظ کے تعلق،الفاظ اور خیال کے باہمی رشتے،الفاظ ،خیال اور جمالیات کے باہمی اختلاط اور اختلاف کی نشان  دہی کر کے ایک نثر پارے کی صحیح صحیح قدر و قیمت کا تعین کیا جائے۔اس کوشش میں مجھے کیا کامیابی ملی ہے اس کافیصلہ اربابِ نظر کے سر ہے۔‘‘

(اُردو اسالیب نثر تاریخ و تجزیہ،امیر اللہ خاں شاہین،امیر نشاں سوامی پاڑہ ،میرٹھ،اشاعت ثانی1985،صفحہ12تا13)

     پروفیسر قمر رئیس نے ،ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین کے وقیع کارنامے ’’اُردو اسالیب نثر ‘‘کی اشاعت پربہ صمیم قلب خیر مقدم کیا۔انھوں نے کتاب پر ’’پیش نامے‘‘کے تحت اپنے تاثرات اور خیالات کا اظہار کیا۔پروفیسر قمر رئیس نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے منفر د ہے۔کیوں کہ اس موضوع پراربابِ حل و عقد نے اب تک بہت کم ہی توجہ مبذول کی ہے۔ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ اُردو ادب میں نثر کے مقابلے شاعری کی تنقید و تفہیم کے زیادہ اصول و معیار متعین کر لیے گئے ہیں اس لیے نثر ی کارناموں کے مطالعہ اور تجزیے کا حوصلہ کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔پروفیسر قمر رئیس نے اس پیش نامے میں ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہینؔ کی بار بار ستائش اور تعریف و توصیف کی۔میں اس پیش نامے کا ایک پیرا گراف قارئین ادب کی نذر کر رہا ہوں تاکہ قارئین خود اندازہ لگا سکیں کہ امیر اللہ خاں شاہین نے ’’اُردو اسالیب نثر‘‘لکھ کر اُردو نثر نگاری کے باب میں کیا کار ہائے نمایاں کیا ہے:

’’اُردو نثر کے ارتقا اور اس کے اسالیب بیان پر جو چند وقیع اور کار آمد کتابیں موجود ہیں ان میں محمد یحییٰ تنہاؔ اور حامد حسن قادری کی تصانیف کو اولیت اور شرف قبولیت حاصل ہے انھوں نے پہلی مرتبہ اُردو کے نثری سرمایہ کی اہمیت اور نثری اسالیب کی رنگا رنگی کا احساس دلایا لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ کتابیں ترتیب کے اعتبار سے تاریخ سے زیادہ ترتذکرہ معلوم ہوتی ہیں ۔ان کے مقابلے میں ڈاکٹر محی الدین قادری زورؔ اور پروفیسر رفیعہ سلطانہ کی تصانیف مختصر ہونے کے با وجود نثر کے طلبا کو زیادہ وقیع اور مستند معلومات فراہم کرتی ہیں ،با وجود یہ کہ ان کی بھی کچھ محرومیاں اور مجبوریاں ہیں ۔ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین کو ان حقائق کا بڑی شدت سے احساس ہے اس اسی لیے جہاں انھوں نے اپنی کتاب میں ان تمام اساتذہ کے افکار و آرا سے استفادہ کیا ہے وہیں انھوں نے اس بات کی بڑی پوری کوشش کی ہے کہ اُردو نثر کے اسالیب کو جو مرقع وہ تیار کر رہے ہیں وہ ہر اعتبارسے جامع و محیط اور ممتاز و منفرد ہو۔اُردو نثر کے وہ گوشے جو بوجہ ان بزرگوں کی تصانیف میں جگہ نہ پا سکے تھے،مگر اسالیب کے تدریجی ارتقا کو دکھانے کے لیے ان کھوئی ہوئی کڑیوں کو دکھانا ضروری تھا۔چناں چہ انھوں نے اپنی تحقیقی اور تاریخی بصیرت کو کام میں لا کر انھیں بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے،اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے جہاں سو سے اوپر مطبوعہ تصانیف سے مدد ملی وہیں کم و بیش 30قلمی نسخوں سے استفادہ کیا ہے۔‘‘

(اُردو اسالیب نثر تاریخ و تجزیہ،امیر اللہ خاں شاہین،امیر نشاں سوامی پاڑہ ،میرٹھ،اشاعت ثانی1985،صفحہ6)

     ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہینؔ کی تصنیف ’’تخلیق و تنقید ‘‘کی رنگا رنگی بھی قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔اس کتاب میں شاہین صاحب نے شاعروں کے تنقیدی مطالعے کو اپنے مخصوص لب و لہجے اورتحقیقی و تنقیدی زاویے سے پرکھنے کی سعی کی ۔موصوف نے ادبی غیر جانب داری کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔معاملہ چاہے بچوں کے ادب کا ہو یا اُردو غزل کا یا مولانا حالیؔاور مولانا شبلی ؔکی دیو قامت شخصیت کا۔موصوف نے اپنے تنقیدی نقطہ نظر پر حرف نہ آنے دیا۔’’تخلیق و تنقید‘‘میں شامل مضمون ’اپنے وطن کے نغمہ گر۔اسما عیل میرٹھی‘میں بچوں کی شاعری اور بچوں کے ذہنی ارتقا پر اظہار خیال کرتے ہوئے مرحوم شاہین صاحب رقم طراز ہیں :

’’بچوں کے ذہنی ارتقا اور فکری بلوغ کے لیے ایسے ادب پاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو کھیل ہی کھیل میں تقریباً ان جانے پن کے ساتھ معاشرتی پہلوؤں  کی وضاحت کریں انھیں ایک ذمہ دار شہری بنانے میں مدد گار ہوں ۔وہ اپنی انفرادی صلاحیتوں سے بہ خوبی واقف ہو جائیں ۔‘‘(تخلیق و تنقید۔صفحہ43)

اسی کتاب میں موصوف نے اُردو غزل کے بارے میں جو تجزیہ کیا وہ عام تجزیوں سے بالکل علاحدہ اور چونکا نے والا ہے۔لکھتے ہیں ۔موصوف نے اُردو غزل کو آرٹ کامعراج او ر مرصع سازی کی انتہا قرار دیا۔لکھتے ہیں :

’’غزل کا سارا آرٹ ،سارا کمال ہی اس کی رمزیت اور اشاریت ہے یعنی ایسے الفاظ جمع کیے جائیں اور مرصع کار کی طرح انھیں اس طرح پاس پاس بٹھایا جائے کہ پھر ان کا اِدھر اُدھر کرنا ممکن نہ ہ سکے۔‘‘(تخلیق و تنقید صفحہ58)

اُردو شاعری کی طرح نثر پر بھی اس کتاب میں انھوں نے خوب تجزیے کیے ہیں ۔ان کے تجزیے ٹھوس دلائل پر مبنی ہوتے ہیں ۔کتاب کی ورق گردانی کرتے وقت قارئین کے اذہان کو یہی باتیں مسحور کر دیتی ہیں ۔ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔ نے مولانا الطاف حسین حالیؔ اور علامہ شبلی ؔنعمانی کے اسالیب اور نثری رنگارنگی کی مفاہمت ،معنی و مطالب پر اپنے تاثرات کا اظہار مضمون’اُردو اسالیب نثر ایک نظر میں ‘‘ اس طرح کیا:

’’حالیؔ اُردو ادب کے مہاتما گاندھی ہیں ۔وہی ٹھنڈے دل و دماغ کی سیاست ،وہی دھیما دھیما گوارا اسلوب جو دیر میں اثر کرتا ہے۔مگر تا دیر قائم رہتا ہے۔آج خوش رنگ الفاظ کے سکّے شبلی ؔکے چلتے ہیں ۔مگر سادگی کا نقرئی جادو حالیؔ کا چڑھ رہا ہے۔فی الاصل حالیؔ اور شبلیؔ کے اسالیب میں مفاہمت کی ضرورت ہے۔‘‘(تخلیق و تنقید صفحہ105)

ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین کا مرتب کردہ دیوان ِ دلمیرؔ میرٹھی ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔منور خاں متخلص دلمیرؔ میرٹھی کے اس کلیات میں میرٹھ اور قرب و جوار میں بولی جانے والی کھڑی بولی میں کلا م کہا گیا ہے۔اس کلیات کے منظر عام پر آنے سے ایک بولی جسے ٹھیٹھ اور گنوار کہہ کر مسترد کر دیا جاتا تھا ،کی ادبی حیثیت متعین کی گئی۔بہادر شاہ ظفرؔ کے سامنے جب اس کلام کو پیش کیا گیا تو انھوں نے بھی کلام دلمیر ؔ سے خوب لطف اندوزی حاصل کی۔مولانا حالیؔ نے کلیات دلمیرؔ اور اس کی زبان، ادبی مقام اور مرتبے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :

’’ایک موزوں طبع آدمی کو جس کی مادری زبان شہری فصیح اُردو ہو،بگڑی ہوئی اُردو سیکھ لینا اور اس میں اشعار موزوں کرنا زیادہ دشوار نہیں مگر جو بات دشوار اور سخت دشوار ہے۔۔۔وہ یہ ہے کہ جو مضمون ایک گنوار زبان میں ادا کیا جائے اس کا پیرایۂ بیان بھی گنواروں کے محدود خیالات سے متجاوز نہ ہو ۔۔۔ اس دیوان میں یہی وہ چیز ہے جو دلمیرؔ کے اصلی اور قدرتی شاعر ہونے پر یہ آواز بلند گواہی دیتی ہے ‘‘

(مشمولہ :امیر اللہ شاہین شخصیت اور فن،مرتب جلال انجم،ادارہ سہ ماہی ملاقات میرٹھ1996،صفحہ127)

کلیات دلمیرؔ میرٹھی اس بات کا بھی غماز ہے کہ دیہاتی سماج کے اندر بھی بہ صلاحیت شعرا موجود ہیں جنھوں نے اپنے عہد اور معاشرے کے حالات کو شاعری کی شکل عطا کی۔یہ کلیات در اصل اُردو زبان کی اساس یعنی کھڑی بولی پر ہے۔اس کلیات کے مطالعے سے آپ کو بہ خوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اُردو کے آغاز و ارتقا میں میرٹھ کا کیا کردار رہا ہے ۔ اس کلیات کی ترتیب و تدوین اور اس کے گراں قدرعالمانہ مقدمے نے مرحوم شاہین صاحب کی لسانیاتی صلاحیتوں کوپروان چڑھایا۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کلیات موصوف کی زندگی میں شائع نہ ہو سکا ۔ڈاکٹر امیر اللہ شاہینؔ کی وفات کے بعدان کی شریک حیات بیگم عثمانی شاہین نے اپنے شوہر کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرتے ہوئے اسے شائع کیا۔

     ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین نے بہ اشتراک ساہتیہ اکادمی ،سندھی صوفی شاعر سچل ؔسر مست کے کلام کو ترجمہ کر 1992میں شائع کیا۔سچلؔ سر مست کا شعری سرمایہ چار زبانوں ،سندھی،سرائیکی،اُردو اور فارسی پر مشتمل ہے۔پروفیسر کلیان بی اڈوانی نے سچلؔ سر مست کی سوانح عمری کو تریب دیا تھا۔یہ ترجمہ ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔکی صوفیانہ کلام سے والہانہ محبت کا غماز ہے۔اس ترجمے کو پڑھ کر احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ ہے بل کہ قاری کو تالیف کا گمان ہوتا ہے ۔اس کتاب میں شاہین صاحب نے سچل ؔ سر مست کی مختصر و جامع سوانح و شخصیت کے علاوہ ان کے صوفیانہ گیت،کافی،اور جوگیانہ مجالس پر تحقیقی و تنقیدی نقطۂ نظر سے بحث کی ہے۔

     ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔنے محمد یحییٰ تنہاؔ میرٹھی کے نثر نگاروں پر لکھے گئے تذکرے’’سیر المصنفین‘‘کو تدوین کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد گراں قدر مربوط و مبسوط مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔اس مقدمے میں شاہین صاحب نے تحقیق و تدوین کا پورا حق ادا کیا۔جہاں بھی اپنے تذکرے میں تنہاؔ میرٹھی نے کوتاہی برتی اس کی گرفت موصوف نے کی۔مثال کے طور پر تنہاؔ میرٹھی نے سیر المصفین میں شاعروں کے اسما کو غلط تحریر کیا(میر کاظم علی جواں ؔ کو مرزاؔ،مرزا جان طپش کو طیشؔ،محمد خلیل خاں اشکؔ کو محمد خلیل الہہ خاں اشکؔ اور منشی بینی نرائن جہاں کا تخلص جہاں ؔ درج نہیں ہے)۔امیر اللہ خاں شاہین ؔنے اپنے مقدمے میں ان تمام امور پر سیر حاصل گفتگو کی۔در اصل یہ مقدمہ ان کی بالغ نظری اور پختہ نثر نگاری کے علاوہ وسیع مطالعے کی ضمانت ہے۔

     امیر اللہ خاں شاہینؔ کی سب سے پہلی کتاب’’فن سوانح نگاری‘‘ کے عنوان سے بازار میں آئی۔در اصل یہ کتاب اُردو طلبا کی علمی تشنگی اور ان کے سامنے بی۔اے، ایم۔اے کورس کے مکمل ہونے کے بعد کے خلاء کو پُر کرنا تھا۔اس کتاب میں زیادہ تر وہ مضامین شامل ہیں جو بی اے اور ایم اے کلاسیز میں پڑھائے جاتے ہیں ۔اس میں پہلا مضمون پروفیسر محمد مجیب کے ڈرامہ’’ خانہ جنگی ‘‘سے متعلق ہے۔دوسرا مضمون راجیندر سنگھ بیدی کے افسانوی مجموعے ’’دانہ و دوام ‘‘پر رقم کیا گیا ہے۔تیسرا مضمون ’’ناول کے عظیم کردار‘‘کے تحت لکھا گیا ہے۔اس مضمون میں اُردو ناول نگاروں کے شاہ کار ناولوں اور ان کے اہم کرداروں پر بحث ہے۔چوتھا مضمون ’’پرتھوی راج راسو کی ادبی اہمیت‘‘پر ہے۔پانچواں مضمون جون کی ٹی پلیٹس کی لغت نویسی کے حوالے سے ہے۔چھٹا مضمون دہلی یونی ورسٹی میں منعقد قومی اور وطنی شاعری کے سمینار کی روداد ہے۔اس کے بعد ادب کے چند مفروضے کے نام ایک ترجمہ شدہ مضمون شامل کتاب ہے۔اس کے بعد ’فن سوانح نگاری کے حوالے سے مضمون شامل ہے۔اس میں فن سوانح نگاری کے اصول و ضوابط پر مفصل بحث کی گئی ہے۔اس کے بعد دو مضامین نکات خطاطی کے حوالے سے لکھے گئے ہیں ۔اور کتاب کے آخر میں ناول ایک چادر میلی سی پر تبصرہ پیش کیا گیا ہے۔اس طرح پوری کتاب طلبا کی ذہنی اور ادبی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین ؔکی میرٹھ کالج کی زندگی اور ان کے پڑھانے کے انداز ،ساتھ ہی طلبا سے ان کے مراسم اور ان کی مجموعی ادبی خدمات کے بارے میں معین اختر نے جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ قابل تعریف او رلائق تحسین ہیں ۔لکھتے ہیں :

’’موصوف کے پڑھانے کا انداز بہت ہی پیارا اور انوکھا تھا،اپنے مضمون پر زبر دست عبور حاصل تھا۔ڈاکٹر علامہ اقبال آپ کے سب سے پسندیدہ شاعر تھے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ مرحوم نے طلبا میں ادبی ذوق بھی پیدا کرنے کی کوشش کی۔اس کے لیے سال میں ایک دو بار کالج میں ادبی اجتماعوں کا اہتمام کیا اور ادبی رسائل کے لیے طلبا سے مضمون لکھواتے رہے۔جہاں تک ان کی ادبی خدمات کا تعلق ہے وہ ہمہ جہتی ہے۔آپ نے ہمیشہ دوسرے کاموں میں ادبی کاموں کو ترجیح دی اسی کا نتیجہ یہ رہا کہ آپ نے کئی معیاری کتابیں لکھیں اور مشاہیر حضرات کی ان کتابوں کو مرتب کیا جو مدتوں سے دستیاب نہیں تھی۔‘‘

(امیر اللہ شاہین،جلال انجم،ادارہ سہ ماہی ملاقات میرٹھ،1996،صفحہ183)

المختصر!ڈاکٹرامیر اللہ خاں شاہین ؔنے زندگی بھرعلم و ادب کواپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایا۔انھوں نے ہمیشہ طلبا اور تشنگان علم و ادب  کی مدد کی۔جب تک موصوف حیات رہے میرٹھ کالج اور وطن عزیز کی اُردو سر گرمیوں کا محور ،مرکز اور گہوارہ بنے رہے۔مرحوم شاہین صاحب شاعری کا بھی مذاق رکھتے تھے۔اسی مناسبت سے شاہین ؔ تخلص اختیار کیا لیکن کبھی انھوں نے اپنے احباب پر اپنے شعری کمالات کو ظاہر نہیں کیا۔ہاں اتنا ضرور کیا جا سکتا ہے کہ ان کے متفرق اشعار کو یکجا کر کتابی شکل عطا کی جا سکتی ہے تاکہ ان کی شعری جہتوں کو منظر عام پر لایا جا سکے۔مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ سر زمین میرٹھ سے ایک سے بڑھ کر ایک لائق و فائق سخن ور اُٹھے جنھوں نے اپنے خونِ جگر سے سینچ کر اس بنجر زمین کو ایک خوب صور ت سر سبز اور شاداب باغ کی شکل عطا کی ۔ان سخن وروں کی کاوشوں کا ہی نتیجہ رہا کہ دوسرے شہروں کے ادبا و شعرا نے بھی اس سرزمین کو اپنا مسکن ثانی بنایااور اُردو ادب میں میرٹھ کا نام ہمیشہ کے لیے روشن کیا۔ بے شک آج ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہینؔ اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کی باتیں ،یادیں ،ملاقاتیں اورتخلیقات و تالیفات اُردو ادب کے پارکھوں کے ساتھ ساتھ طلبا کے لیے مشعل راہ سے کم نہیں ۔اُردو ادب میں جب جب دبستانِ میرٹھ کے نثر نگاروں اور لسانیات پر کام کرنے والوں کا تذکرہ لکھا جائے گا تب تب امیر اللہ خاں شاہینؔ میرٹھی کے علمی و ادبی کارناموں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔بقول انیس ؔ لکھنوی ؎

اولاد سے جیا تین چار پست

باقی سخن سے نام سخن ور کا رہ گیا

٭٭٭

ابراہیم افسر

وارڈ نمبر 1، مہپا چوراہا، سیول خاص، میرٹھ

MOB-9897012528

EMAIL-ibraheem.siwal@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.