تقسیم ہند ،عورت اور اردو فکشن

                انسان اشرف المخلوقات کی تاریخ میں روزِاول سے ہی مختلف واقعات وحادثات رونما ہوتے رہے ہیں اور یہ سفر تاحال مسلسل جاری ہے۔مسلم تاریخ میں حضرت آدم اور ہوا کا جنت سے زمین کا سفر ہو یا حضرت نوح کے دور کا سیلاب ہو،حضرت ہاجرہ کا حضرت اسماعیل کیلئے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کا سفر کرنا ہو،حضرت محمد ؐ کا عرب کو جہالت کے دور سے باہر نکالنا ہویا فاروق اعظم جیسے انصاف پسند اور بہادر خلیفہ کا اسلام میں داخل ہونا ہو۔ہر جگہ عورت کی غلطی نے مردوں کو دوڑ دھوپ کیلئے مجبور کیا ہے۔جدید دور میں انسانی تاریخ کا الم ناک واقعہ پہلی اور دوسری عالم گیر جنگیں ہیں جن کی وجہ سے درجنوں ممالک تباہ وبرباد ہوگئے مثلا! جاپان ،جرمنی  وغیرہ۔ہر ملک کے آزاد ہونے سے پہلے اس کے غلام ہونے کی داستان خود تاریخ کا ایک روشن باب نظر آتا ہے۔ہندوستان اور پاکستان جو اکیسویں صدی میں دنیا کے دو سو ممالک میں دو بڑی طاقتیں گردانی جاتی ہے۔حالانکہ خود کو طاقت ور کہلانے والی یہ دونوں جمہوری ریاستیں صدیوں تک انگریزوں،مغلوں،

افغانوںاور دیگرلوگوں کے غلام بنے بیٹھے تھے۔ صدیوں غلام رہنے کی اس عادت نے دونوں کو غلامی کی زنجیر کو ظاہری طور توڑا مگر باطنی طورپر دونوں آج بھی امریکہ،چین،روس،اسرائیل،برطانیہ،فرانس جیسی طاقتوں کے غلام ہیں۔

        حضرت آدم سے تاحال جتنے بھی واقعات وحادثات نظر آتے ہیں ان میں اگرچہ کسی جگہ حادثے کی ذمہ دار ایک عورت نظر آتی ہے مگر صحیح معنوں میں ہر فساد نے عورت کو خون کے آنسوں رونے پر مجبور کیا ہے۔ایسا اس لئے بھی ممکن ہوسکا ہے کیونکہ عورت صنفِ نازک کہلاتی ہے۔کمزور طبقہ میں شمار ہونا اور اپنے آپ کو دوسروں کے کرم پر چھوڑنا ہی اس کے زوال کا سبب بنا ہے۔ہر کوئی اس کو کمزور سمجھ کر اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔حالانکہ ہمارے سماج میں عورت کی مثال ایک بہادر اور نڈر مجاہد کے روپ میں بھی ملتی ہے جیسے رضیہ سلطانہ،جھانسی کی رانی،حضرت محل وغیرہ۔ہندوستان میں تقسیم ہند سے پہلے ہندومسلم سکھ عیسائی ایک سماج اور ایک مہذب معاشرے کی طرح رہتے تھے۔سب نے مل کر انگریزوں کے خلاف قدم سے قدم ملا کر نڈر ہوکرہتھیار اُٹھایا تھا، جس کی زندہ مثال ۱۸۵۷؁ء کی پہلی جنگ آزادی ہے۔مگر انگریزوں نے جس حکمت عملی سے ہندوستان پر دو سوسال حکومت کی تھی۔انہوں نے اسی ناپاک حکمت عملی سے ایک ہی ملک کے دو ٹکڑے کردئیے۔اگرچہ گورے ۱۹۴۷؁ء میں ہمارا ملک چھوڑ کر چلے گئے مگر تاحال ہندوستان اور پاکستان پر نفسیاتی طور پر ان کی حکومت جاری ہے۔انگریزوں کی اسی ’’Divide and Rule‘‘حکمت عملی کو ہندوستا ن اور پاکستان نہ اُس وقت سمجھ پائے تھے اور نہ آج سمجھ پارہے ہیں۔بہرحال تاریخ کے اس الم ناک حادثے کو ایک طرف چھوڑ کر تقسیم ہند کے دوران ہوئے ظلم و بربریت کا جائزہ لیں تو اوراق کی ایک لامنتہا کتاب تیار ہوسکتی ہے۔اس واقعہ سے لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی،گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی،انسانی جان ومال تباہ کردی گئی،ہندومسلم فسادات پھوٹ پڑے،لوگوں نے انسانی کشت وخون کا بازار گرم کردیا۔یہ اس تقسیم کا ہی اثر تھا کہ جنگِ آزادی میں کندھے سے کندھے ملانے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے،انسانی رشتے تہس نہس ہوگئے،جن کو بہن ،بیٹی،ماں،بھابی کہا جاتا تھا ان کی عزت تار تار کردی گئی۔انسانی قتل وغارت کی ایک ایسی تاریخ رقم کردی گئی جس کی چھنٹیں تاحال تازہ دم ہے۔

        تقسیم ہند کے بعد ایک عورت پرجتنے مظالم کئے گئے ان کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔عورت مظلوم ہوتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے ان پر اتنا ظلم کیا گیا لیکن جھانسی کی رانی اور حضرت محل نے ایک مثال قائم کی تھی کہ جب عورت پر ظلم کیا جائے تو رونے کے بجائے تلوار کا سہارا لینا چائیے اور دشمن کا مقابلہ ڈٹ کرکرنا چائیے۔تقسیم ہند کا واقعہ ۱۹۴۷؁ء میں پیش آیا تھا۔تب سے لے کر آج تک ہمارے قلم کاروں نے اس حادثے کا نفسیاتی،

تنقیدی،تخلیقی،تاریخی،اقتصادی،معاشی،معاشرتی،سماجی،سیاسی،مذہبی،لسانی غرض ہر اعتبار سے جائزہ لیا ہے۔مگر کیا عورتوں پر صرف اس دن ظلم ہوا تھا۔اگر اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو ۱۹۴۷؁ء کے حادثے میں دونوں ملکوں میں کروڑوں روپے کی املاک کے نقصان کے ساتھ قتل،زنا،لوٹ مار،جائداد پر جبراً قبضہ،عورتوں سے جبراً شادی کرنا اور دیگر جرائم عام ہوگئے تھے۔ان فسادات میں عورتوں کی عزت تار تار کرنے کے پیچھے مذہبی نفرت اور علاقی رنجش تھی لیکن اکیسویں صدی کی دہلی،یوپی،بہار،ممبئی،بنگال،پنجاب،پونا،

حیدرآباد،راجستھان،ہریانہ،جموں،گجرات،پونا،گوا اور دیگر علاقوں میں کون سے فسادات چل رہے ہیں،کون سی جنگ ہے،کس سامراجی طاقت نے لوگوں کو یہ کرنے پر مجبور کیا ہے کہ روزانہ کسی نہ کسی ماں، بہن، بیٹی کی عزت تارتار کی جاتی ہے اور حکومت خاموش تماشائی بن کر افسوس اور مجرموں کیلئے سزا کے جھوٹے پاٹ روزانہ پڑھتے نظر آتے ہیں۔کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ تقسیم ہند کے ۷۰ سال بعد بھی ہماری خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ایک تحقیقی جائزے کے مطابق ہندوستان میں ہر گھنٹے میں چار سے زائد عصمت ریزیاں ہوتی ہیں۔کیا ہماری حکومت میں اس کو روکنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے یا وہ خود اس کام کو جاری رکھوانے میں ہی خوشی محسوس کرتے ہیں۔کیا ایسا ہونے کے بعد بھی ہم ایک مہذب قوم کہلانے کے لائق ہیں۔۱۹۴۷؁ء کے فسادات کے بارے میں ممتاز شیریںلکھتی ہیں:

’’فسادات ہندوستان اور پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا حادثہ ہیں۔ اس حادثے کا اثر ہماری تاریخی،سماجی اور معاشی زندگی پر پڑا۔‘‘        ۱؎

        ایک قلم کار کاذہن عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔وہ سماج میں پیش آنے والے واقعات کو اپنے قلم سے نہ صرف تاریخ کا حصہ بناتا ہے بلکہ اس کو ایک نئے اسلوب میں پیش کرکے عام انسانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔تخیل ہو یا محاکات دونوں کو استعمال میں لاکر قلم کار سماجی روایت،انسانی چال وچلن،آپسی رشتہ،میل ملاپ،لڑائی جھگڑا وغیرہ کی خوب ترجمانی کرتا ہے۔ٹھیک اسی طرح ہمارے قلم کاروں خاص کر اردو زبان میں لکھنے والوں نے تقسیم ہند کے ایک ایک حادثے کو قلم بند کیا ہے۔کچھ درد منددل رکھنے والے اہلِ قلم نے عورت پر کیے جانے والے مظالم کو اپنی شاعری،نالوں،افسانوں،مضامین،رپورتاژ،

یادیں وغیرہ میں پیش کرکے ان کو تاریخ کا ایک روشن مینا ر بنایا ہے۔ایسا کرنے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ ماضی کی یہ درد ناک یاد یںہمیشہ ہمارے دماغ میں رہیں اور ہم مستقبل میں پیش آنے والے اس قسم کے واقعات  کے دوران اپنے آپ کو نہ صرف قابو میں کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس درندگی سے پیچھے رکھیں۔مگر گجرات،مظفر پور،آسام،تری پورہ،یوپی،بہار،بنگال وغیرہ میں پیش آئے فسادات میں ۱۹۴۷؁ء کے خونی واقعات کا کوئی اثر نظر نہیں آیا کیونکہ غریبوں اور مظلوم کو اس وقت بھی بیدردی سے قتل کیا گیا اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

                اگر اردو ادب اور فسادات کے رشتے کی بات کریں تو فکر تونسوی کا رپورتاژ’’ چھٹا دریا‘‘

اپنے آپ میں ایک کرب نظر آتا ہے۔شاہد احمد دہلوی کا’’دلی کی بپتا‘‘ قدرت اللہ شہاب کا ’’یاخدا‘‘،اشفاق احمد کا’’ گڈریا‘‘،جمیلہ ہاشمی کا’’ جلاوطن‘‘،آصف فرخی کا’’ یادوں کی کہانی‘‘ عصمت چغتائی کا’’ جڑیں اورگرم ہوا‘‘نسیم حجازی کا ناول’’ خاک اور خون‘‘امریتا پریتم کاناول ’’پنجر‘‘سعادت حسن منٹو کا’’کھول دو‘‘کرشن چندر کا ’’ہم وحشی ہیں،جانور‘‘ بیدی کا’’لاجونتی‘‘ وغیرہ فکشن ہونے کے باوجود بھی ایک زندہ تاریخ نظر آتے ہیں۔اس کو ایک نئی اصطلاح میں تاریخی فکشن بھی کہہ سکتے ہیں۔تقسیم ہند کے حادثے کو ہر صنف سخن میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن ہم صرف افسانہ نگاری کے حوالے سے فسادات میں ایک عورت پر ہونے والے مظالم کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن کوشش یہ کی جائے گی کہ کوئی نئی بات سامنے آجائے۔

                تقسیم ہند کی ایک زندہ مثال سعادت حسن منٹو کے شاہکار افسانے ہیں۔ان کے کئی افسانوں میں فسادات کا موضوع چھیڑا گیا ہے۔انہوں نے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ فسادات میں ایک عورت پر ہوئے اتیاچار کی داستان  ایک گواہ کی طرح پیش کی ہے۔ان کے افسانہ محمودہ کی ہیروئن’’ محمودہ‘‘ جس کی شادی ایک شریف النفس انسان ’’جمیل ‘‘ سے ہوتی ہے۔گھر والے شادی کے بعد وطن واپس چلے جاتے ہیں اور شادی کے کچھ سال بعد جب جمیل کی نامردانگی کھل کر سامنے آتی ہے اور محمودہ اپنے جسم کا دھندہ کرنا شروع کرتی ہے۔اس ضمن میں امجد جاوید لکھتے ہیں:

’’محمودہ۔۔جس کا کوئی نہیں تھا۔اور تقسیم ہند نے جہاں زندگیو ں میں بڑے بڑے خلا بھر دئیے۔وہاں محمودہ ایک مرتبہ پھر کراچی کے ماحول میں ابھرتی ہے۔‘‘   ۲؎

منٹو نے فسادات پر افسانے لکھ کر انسان کے اندر کے وحشی انسان کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس ضمن میں ان کا افسانہ’’ موذیل،ٹھنڈا گوشت،کھول دو،ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ ان کے شاہکار افسانے کہے جاسکتے ہیں۔ان کا افسانہ’’کھول دو‘‘ دل دہلانے والا افسانہ ہے۔جب ایک مجبور باپ اپنی عزیز اور لخت جگر بیٹی کو فسادیوں کے پنجے سے بازیاب کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی جان بچانے کی خاطر اس کو اسپتال میں بھرتی کیا جاتا ہے جہاں ڈاکٹر کسی سے کھڑکی کے بارے میں کہتا ہے کھول دو۔لفظ کھول دو کا سننا تھا کہ لڑکی نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے باپ کے سامنے اپنا شلوار کھول دیا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لڑکی کے ساتھ فسادیوں نے کیسا بھیانک ظلم وجبر کیا ہوگا۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جہاں ایک پاگل ’’بشن سنگھ‘‘ کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے مگر ضمنی طور پر اس کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ بشن سنگھ کی بیٹی ،بیوی اور بہن پر کیا تاثرات پڑے ہوں گے جب ان کا قریبی رشتہ دار فسادات کی وجہ سے پاگل ہوگیا ہے۔

        حیات اللہ انصاری کے افسانے’’ ماں بیٹا،شکر گزار آنکھیں‘‘ اس خونی حادثے کا کرب پیش کرنے میں کامیاب افسانے کہلاتے ہیں۔ان کے افسانے’’شکر گزار آنکھیں‘‘ کی دلہن جب فسادیوں کے ہاتھ لگ جاتی ہے تو دلہن ان سے التجا کرتی ہے کہ اسے اس کے شوہر کے سامنے باعصمت قتل کیا جائے ،تاکہ اس کے شوہر کو اطمینان رہے کہ اس کی بیوی نے باعصمت حالت میں موت کو گلے لگایا ہے۔ان کی التجا قبول ہوتی ہے اور یوں’’شکر گزار آنکھیں‘‘ فسادیوں کا شکریہ ادا کرتی نظر آتی ہیں۔یہ افسانہ انسان کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کرتا ہے۔یہ صرف ایک دلہن کی کہانی نہیں بلکہ فسادات کے دور میں ہونے والی شادیوں کی داستان نظر آتی ہے۔

                قدرت اللہ شہاب کے افسانوں کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ انہوں نے عورت کے المیہ کو ابھارنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔اردو افسانوں میں عورت کا کردارخصوصاً تقسیم ہند کے بعد خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔کیونکہ عورت ہر جگہ اور ہر دور میں مرد کی ہوس پرستی کا شکار ہوتی ہے۔شہاب کا شاہکار افسانہ’’ یاخدا‘‘ اس کی زندہ مثال ہے۔یہاں ’’شمشاد ‘‘فسادات میں ایک اکیلی اور خوبصورت لڑکی کی تمام تر مجبوریاں بیان کرتی ہے۔اس ضمن میں انور سدید لکھتے ہیں:

’’ شمشاد فسادات کے ظلم سہتے سہتے آخرکار ارض موعود میں پہنچ جاتی ہے۔لیکن یہاں نئے مظالم اس کی راہ دیکھ رہے ہیں اور وہ ایک دفعہ پھر ستم کا شکار بنادی جاتی ہے۔‘‘            ۳؎

’’یاخدا ‘‘۱۹۴۷؁ء کے فسادات پر لکھا گیا سب سے دلدوز اور پُر اثر افسانہ ہے۔اس افسانے کی تاثیر اتنی بھیانک نظر آتی ہے کہ فسادات کے جرم کی انتہا یہ تھی کہ ’’دلشاد‘‘ پر مکمل بے حسی طاری ہوجاتی ہے اور عصمت کے لُٹ جانے کا احساس ہی ان کے اندر زائل ہوجاتا ہے۔اس کی روح مرجاتی ہے۔اس ضمن میں ممتاز شیریں کہتی ہیں:ـ

’’ یاخدا صرف دلشاد کی ٹریجڈی نہ رہی بلکہ ہزاروں لاکھوں عورتوں کی ٹریجڈی بن گئی۔‘‘              ۴؎

          کرشن چندر نے فسادات کے موضوع پر جو اہم افسانے قلم بند کئے ہیں ان میں’’آزادی سے پہلے،پشاور ایکسپریس،جانور،دوسری موت،ہم وحشی ہیں‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔فسادات میں ہوئے ظلم کے بارے میں کرشن چندر لکھتے ہیں:

’’ یہ طوفان بہت دور سے آج سے ایک سوسال دور پیچھے سے آیا تھا۔یہ طوفان غدر سے شروع ہوا اور پندرہ اگست کو سارے ہندوستان میں پھیل گیا۔انسانی تاریخ کے اس طوفان نے ہر ہندوستانی گھر کی چولیں ہلادیں اور کہیں نہ کہیں اس کی روح میں،اس کے جسم ،اس کے ذہن میں،اس کے آداب ،اس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی انقلاب ضرور پیدا کردیا۔یہ بڑا بھاری طوفان تھا جو صدیوں کے بعد ہی انسانی زندگی میں آتا ہے۔‘‘   ۵؎

        راجندر سنگھ بیدی نے بھی اپنے افسانوں میں فساد زدہ کرداروں کی ذہنی الجھنوں اور نفسیاتی کوائف کو پیش کیا ہے۔اگرچہ انہوں نے اس موضوع پر بہت کم لکھا ہے مگر جتنا بھی لکھا ہے جاندار اور شاندار لکھا ہے۔ان کے شاہکار افسانہ’’لاجونتی‘‘ کی اردو دنیا میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ہے۔اس میں بیدی نے’’لاجونتی‘‘ کو اپنے شوہر سے دوبارہ ملنے اور اس کی ذہنی اور جذباتی زندگی کی کشمکش کو بیان کیا ہے۔باقر مہدی کا یہ دعویٰ کہ:

’’ لاجونتی ایک گہرا نفسیاتی تجزیہ ہے جو جذبات سے ہٹ کر ایک فن کارانہ ضبط کے تحت لکھا گیا ہے۔‘‘     ۶؎

        احمد ندیم قاسمی نے فسادات پر’’میں انساں ہوں،چڑیل،پرمیشور سنگھ‘‘ جیسے اہم افسانے لکھے ہیں۔انہوں نے فسادات پر لکھ کر غیر جانب داری سے کام لیا ہے۔وہ اس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ اچھے بُرے لوگ معاشرے کے تمام طبقوں میں ہوتے ہیں اور کوئی بھی قوم بہ حیثیت مجموعی ساری کی ساری ظالم یا مظلوم نہیں ہوتی۔ افسانہ چڑیل میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’ اور پھر ہندوستان میں تمہارا امرتسر ،راولپنڈی اور ملتان بھی توہیں،جہاں صرف اس لئے عورتوں کی آبرو ریزی کی جارہی ہے کہ ان کے ماتھے پر نیلی سی بندیاں ہے اور جہاں بچوں کو۔۔۔۔‘‘       ۷؎

 بلونت سنگھ بھی ایک کامیاب افسانہ نگارتصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہر موضوع کی طرح فسادات پر بھی اہم افسانے تحریر کئے ہیں۔ان کے افسانے’’ لمحے،ایک معمولی لڑکی،نیلا پتھر‘‘ ان کے زندہ شاہکار ہیں۔عصمت چغتائی نے جنسی موضوعات کے علاوہ فسادات پر بھی بہترین مضامین قلم بند کئے ہیں۔ان کا افسانہ’’ جڑیں‘‘ اس ضمن میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔اشفاق احمد نے اپنے افسانے ’’ سنگ دل، اورگڈریا‘‘ میں فسادات کو موضوع بناکر ایک نئے رنگ میں چھیڑا ہے۔’’سنگ دل ‘‘ میں پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے ایک مغویہ کی سنگ دلی اور ہندوستان کی ’’پمی‘‘ کی ہمدردی کو ایک دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔مغویہ ہندوستان میں پھنسی لڑکیوں کو بازیاب کرنے میں کوئی پہل نہیں کرتا ہے اور خوب صورت لڑکیوں کو دیکھ کر ہوس کا شکاری بن جاتا ہے۔جب ’’پمی‘‘اس کی ناپاک حرکتیں دیکھتی ہے تو وہ خود خصوصاً اُس لڑکی کی بازیابی کیلئے کمر کستی ہے جس کے لئے پاکستان سے والدین کا خط آتا ہے۔یہ افسانہ حقیقت پر مبنی ہے اور آجکل بھی فسادات کے ایام میں کچھ

 لوگ یہی غلط راہ اپناتے ہیں۔’’سنگ دل‘‘ کے برعکس اشفاق احمد کا افسانہ’’گڈریا‘‘ ایک منفرد افسانہ ہے جس کا موضوع بھی فسادات ہی ہے۔اس میں ایک ہندو لڑکے کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔وہ مسلم ثقافت سے اتنا لگائو رکھتا ہے کہ خود مسلم نوجوان بھی ایسی عقیدت سے محرورم نظر آتے ہیں۔اس کردار کے ذریعے اشفاق احمد یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستان ثقافتی اعتبار سے اتنا بھی منقسم نہیں تھا،جس کا تاثر سیاست دانوں نے دیا تھا اور جس کی بنا پر تقسیم ملک کو ناگزیر جانا گیا تھا۔

                ان افسانہ نگاروں کے علاوہ بھی متعدد افسانہ نگار ایسے تھے جنہوں نے اس اہم موضوع پر قلم اُٹھایا ہے۔ان میں سہیل عظیم آبادی کا’’ اندھیرے میں ایک کرن‘‘،اختر اورینوی کا’’آج کل آج‘‘،کشمیری لال ذاکر کا’’ تخلیق‘‘،اوپندرناتھ اشک کا’’ٹیبل لیمپ‘‘،ہاجرہ مسرور کا’’ اُمت مرحوم‘‘ ،خواجہ احمد عباس کا’’سردارجی،میں کون ہوں؟،انتقام‘‘عزیز احمد کا ’’کالی رات‘‘، خدیجہ مستور کا افسانہ’’ مینو لے چلا بابلا‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ فسادات کے موضوع پر تاریخی افسانوں کی ایک بڑی تعداد ملتی ہے۔ ترقی پسند تحریک کے بعد تقسیم ہند نے ہی افسانہ نگاروں کو غذا فراہم کی تھی اور انہوں نے دل کھول کر اس موضوع پر نہ صرف لکھا بلکہ ایک تحریک کی طرح اس موضوع کوتاریخ کا حصّہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ان افسانوں میں ہمارے افسانہ نگار فسادات میں ایک عورت پر ہوئے ظلم کی داستان پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

        فسادات پر لکھے ان افسانوں میں عورت چاہے ماں ہویا بیٹی،بہو ہو یا بیوی تمام رشتوں کو ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی گئی۔گویا تقسیم ہند کے دوران فسادات میں دونوں فریقین نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کمزور طبقے کو مٹی میں ملانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔فسادات پر لکھنے کا ایک خاص مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ہم ان سے کچھ سیکھے مگر اکیسویں صدی میں بھی ایسے ہی فسادات کا رونما ہونا انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ فسادات کب کے زیادہ بھیانک ہیں ۔پرانے دور کے یا جدید دور کے۔فسادات اور عورت کے رشتہ پر ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے۔اردو افسانوں میں فسادات اور فسادات میں ہوئے عورتوں پر مظالم کی داستان نہ صرف پُر درد بلکہ انسان کو سوبار سوچنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ہمارے ادب نوازوں کا اس موضوع  پر زیادہ سے زیادہ لکھنے اور اس موضوع پر کئے گئے کام کوترتیب دینے میں پہل کرنا چاہیے۔فسادات اردو ادب میں ایک زرخیز موضوع مانا جا تا ہے اور آگے بھی اس موضوع پر لکھنے کی کافی گنجائش ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہمارا ملک فسادات سے پاک و صاف ہوجائے اور ہمارا مستقبل ایک روشن اور کامران ہو، ایسا ہم دعا گو ہیں۔

                                حوالہ جات

(۱)اردو افسانہ،سجان کور بالی،فاصلاتی نظام تعلیم کشمیر یونیورسٹی،۲۰۱۰؁ئ،ص:۷۱)

(۲)منٹو کے نسوانی کردار،امجد جاوید،علم وعرفان پبلشرز لاہور،مئی ۲۰۰۴؁ئ،ص:۶۴)

(۳)اردو افسانے کی کروٹیں،ڈاکٹر انور سدید،مکتبہ عالیہ لاہور،۱۹۹۱؁ئ،ص:۱۲۹)

(۴)اردو افسانے کی کروٹیں،ڈاکٹر انور سدید،مکتبہ عالیہ لاہور،۱۹۹۱؁ئ،ص:۱۳۰)

(۵)کرشن چندر،اردو ویکی پیڈیا

 (۶)اردو افسانہ،سجان کور بالی،فاصلاتی نظام تعلیم کشمیر یونیورسٹی،۲۰۱۰؁ئ،ص:۷۲)

(۷)افسانہ چڑیل،کرشن چندر،

                        ٭٭٭٭٭٭٭

                        MOHD YASEEN GANIE

 MOBILE: 7006108572

EMAIL:MYGANIE123@GMAIL.COM

——————————————————————-

 

 

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.