عصمت چغتائی نسائی ادب اور  باغیانہ سماجی حقیقت پسندی کی علمبردار

        بیسویں صدی میں عالمی سطح پراعلیٰ معیارکا ایسا ادب پیدا ہوا جونوآبادیاتی، محکومی، نسلی تفریق، سیاسی جبر، طبقاتی استحصال، جنسی نابرابری یا طبقہ نسواں کے ساتھ زبردستی، توہم پرستی یا تہذیبی امورمیں غیرعقلی اورغیرسائنسی رویوں کے خلاف تحریکوں یا پھرقومی آزادی کی اجتماعی کوششوں سے جڑا ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ شیطان اپنا کام بھی کرتا رہتا ہے لہٰذا آج بھی چاروں طرف چاہے وہ مزدورہوں یا طبقہ نسواں، دلت ہوں یا قبائلی، غریب ہوں یا اقلیت ہرجگہ اور ہرسطح پراعلیٰ سماج کے لوگ ادنیٰ پر، طاقتورملک کمزورملک پراپنی ظالمانہ کاروایوں کے ذریعہ انسانیت کا خون کررہا ہے۔

                انسانی سرگرمیوں اوران کے خیالات وجذبات کوبیان کرنے کے ذرائع میں فنون لطیفہ ایک اچھا اورموثرذریعہ رہا ہے لہٰذا موسیقی، مصوری، تھیٹر اورشعروادب تمام اصناف  بالخصوص اردو افسانہ میں اس کی اعلیٰ مثالیں عالمی پیمانے پرموجودہیں۔

                اردو افسانے میں سب سے توانا روایت پریم چند کی ہے۔جس نے براہ راست اردو اور بالواسطہ اردو افسانہ نگاروں کو متاثر کیا۔اس سے انحراف’’انگارے‘‘ کی اشاعت سے ہوتا ہے۔’’انگارے کے افسانوں میں سماج کے مروجہ نظام اخلاق اور سماجی رویوںکے خلاف بغاوت کااعلان تھا۔   انگارے کے افسانے نئی نسل کے جذبات کے ترجمان تھے۔یوں تو تمام طرح کی نا انصافیوں کے خلاف اعلان تھا۔مگر اس گروہ میںایک خاتون افسانہ نگاربھی شامل تھیںڈاکٹر رشید جہان۔ رشید جہاں نے خاص طور سے عورت کے سماجی حالت کو اپنے افسانوں میں پیش کیا۔مرد اور عورت کے لئے جو الگ الگ ضابطہ اخلاق تھے اس کی مخالفت کی۔آزادی نسواں اور تعلیم کی حمایت کی۔مردوں کے برابر اسکی حیثیت پر زور دیا۔رشید جہاں نے اردو افسانے میںبغاوت کی جو آواز اٹھائی تھی۔اس کا سب سے زیادہ اثر عصمت چغتائی نے قبول کیا۔اپنی آپ بیتی میں عصمت یوں رقمطراز ہیں:

                ’’ جو رشید آپا سے مل چکے ہیں انہیں اچھی طرح جانتے ہیں اگر وہ میری کہانیوں کی ہیروئن سے ملیںتو دونوں جڑوا بہنیں نظر آئیں گی کیوں کہ انجانے طور پر میں نے رشید آپا کو ہی اٹھا کر افسانوں کے طاقچے میں بٹھا دیا کہ میرے تصور کی دنیا کی ہیروئن صرف وہی ہو سکتی تھیں، مگر جب غور سے اپنی کہانیوں کے بارے میں سوچتی ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے صرف ان کی بے باکی اور صاف گوئی کو گرفت میں لیا ہے۔ ان کی بھرپور ادبی شخصیت میرے قابو میں نہ آئی۔ مجھے روتی بسورتی حرام کے بچے جنتی ماتم کرتی نسوانیت سے ہمیشہ سے نفرت تھی۔کواہ مخواہ کی وفا اور وہ جملہ خوبیاں جو مشرقی عورت کا زیور سمجھی جاتی ہیںمجھے لعنت معلوم ہوتی ہیں ‘‘۔

                سلمی صدیقی کی مطابق عصمت کو جن لفظوں سے نفرت ہے اس میں ایک شوہر پرست بیوی ہے۔شاید اسی لفظ سے دشمنی کا ہی ایک بڑا سبب تھا کہ شاہد لطیف سے شادی کے بعد صرف کچھ مدت تک عصمت نے اپنی تحریروں م پر عصمت شاہد لطیف لکھا۔اس کے بعد پھر سے عصمت چغتائی لکھنا شروع کر دیا۔

                نقاد کا ادب میں کیا رول ہے؟ اس کے بارے میں ان کی رائے ہے کہ نقاد کسی بھی طرح تخلیقی عمل میں معاون ثابت نہیں ہوتا بلکہ اکثر تنقید نگار تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو تخلیقی عمل میں ناکامیاب رہے اور ڈاکٹر کرکے کسی یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے اور دوسروں کے عیب نکالنے لگے۔

                عصمت کا کنٹریبیوشن یہ ہے کہ انہوں نے رقت انگیز بیان سے اردو افسانے کے نکالااور حالات کے خلاف بغاوت کرنے کی راہ دکھائی اور انہوں نے عورت کی زندگی اور اس کے مسائل بالخصوص جنسی اور نفسیاتی موضوعات کو جرأت مندی اور بے باکی سے پیش کرنے کی طرح ڈالی۔جیسا کہ قرۃالعین حیدر نے کہا ہے کہ’’ عصمت چغتائی نے اردو افسانوں اور ناولوں میںجرأت و بے باکی ایک نئی مثال قائم کی۔ ان کی شعلہ بار تحریروں نے ان لکھنے والیوں کو پس پشت ڈال دیا جن کا اندازرومانی تھا اور جو دبے دبے الفاظ میں اپنی بات کہتی تھیں۔ ادب میں ان کی جگہ باغیانہ سماجی حقیقت پسندی نے لے لی۔  قرۃالعین حیدر کے اس بیان کے نتیجہ میں کہہ سکتے ہیں کہ عہد حاضر کی لکھنے والیوںمیں بیباکی کی روح پھونک لی۔

                عصمت سے اسلام آباد کے نیشنل سینٹر میں جب یہ سوال کیا گیاکہ آپ کا نظریہ حیات یا نظریہ فن کیا ہے۔تو انہوں نے جوابا جو کچھ کہا اس کو سامنے رکھ کر ان کی تحریروں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تبھی ہم انکی تحریروں کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں ان کا جواب تھا کہ میرا نظریۂ فن تو یہی ہے کہ میں اپنے معاشرہ میں ہونے والے ایسے تمام واقعات کو اپنی تخلیقات کا موضوع بناؤں جن میں استحصالی طبقہ کسی بھی انسان بالخصوص عورتوں پر ظلم روا رکھتا ہو۔ اور نا محسوس طریقہ سے مذہب یا ریت رواج کا ساہارا لے کر ان کا استحصال کرتا ہو۔

                عصمت کی تحریروں میں جو بغاوت کے سر سنائی پڑتے ہیںوہ یوں ہی نہیں ۔بلکہ ان کی خانگی زندگی اور پھر آس پاس کے ماحول کی محرومیوں سے ابھرا تھا۔عصمت چغتائی اپنے والدین کی دسویں اولاد تھیں۔عصمت کو اپنی یتیمی کا احساس، گھر میںبچوں کی بہتات، ممتا سے محرومی اور بڑی بہنوںکے رعب اور دبدبے نے انہیں نا فران، ضدی اورایک حد تک بے درد بنا دیا۔

                عصمت جس ماحول میںپروان چڑھیں اس ماحول سے پیدا ہونیوالی جھنجھلاہٹ اور باغیانہ پن کا انداز نخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ضد اور بغاوت کی جڑیں محرومیوںمیں پنپتی ہیںاور عسمت کی پوری زندگی اس سچائی کی آئینہ دار ہے۔۔وہ لکھتی ہیں:

                ’’شرم وحیا جو عام طور پر درمیانہ طبقہ کی لازمی صفت سمجھی جاتی ہے۔ پنپ نہ سکی چھوٹی سی عمر سے دوپٹہ اوڑھنا، جھک کر سلام کرنا، شادی بیاہ کے ذکرپر شرمانے کی عادت، بھائیوں نے چھیڑ چھاڑ کر پڑنے ہی نا دی‘‘۔عصمت گھر کے کاموں سے کوسوںدور بھاگتی تھیں، وہ لکھتی ہیں:’’ابا نے بلا کر مجھ سے پوچھا تم کھانا پکانا کیوں نہیں سیکھتیں۔ میں نے کہا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ میں تو اسکول جاؤں گی اور اگر نہیں بھیجوگے تو بھاگ کر عیسائی بن جاؤں گی‘‘۔لکھنؤ کالج میں داخلہ لینے کے لئے عصمت کو چار روز بھوک ہڑتال کرنی پڑی تھی۔ تب اس ضدی بیٹی کے آگے باپ نے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔

                عصمت نے گھر آنگن پھر سماج میں عورت کاجو سسکتا روپ دیکھا وہ انتہائی مظلوم، دردناک اور غیر مہذب تھا۔جس کا ذمہ دار وہ مرد اساس سماج کو مانتی ہیں۔عصمت کے افسانوں میں جو بلند آہنگی اور طمطراقی ہے وہ اس روئیے کا رد عمل ہے جس میں عورت کا مقام، گھریلو عورت کے حالات، اس کی جنسی گھٹن، استحصال اور پھر ان حقائق سے پردہ پوشی کے لئے مذہب اور پھر تہذیب کا سہارا لیا جاتا ہے۔

                عصمت اپنے عہد کے فنکاروں میں ان معنوں میںممتاز نظر آتی ہیںکہ جس سماج میں خواتین اپنے نام تک شائع کرانے میں خوفزدہ رہتی تھیںاسی دور میں ایک مسلم گھرانے کی دوشیزہ ہونے کے باوجود مردو ںکی جنسی کجروی اور عورتوں کے جذباتی گھٹن کو موضوع بناتی ہیں۔ اس لحاظ سے ’’دو ہاتھ‘‘، ’’لحاف‘‘ اور’’چوتھی کا جوڑا‘‘ میں انکے فنکاری کے جوہر دیکھے جا سکتے ہیں۔

                عصمت کے افسانوں پر بحث کرتے ہوئے ’’لحاف‘‘سب سے پہلے زیر بحث آتا ہے۔ جس کے آخری جملے کہـ’ کوئی مجھے لاکھ روپیہ بھی دے، تو بھی میں کبھی نہیں بتاؤں گی‘‘ کے باوجود سب کچھ ببانگ دہل بتلا دیا ہے اور وہ بھی مفت میں۔اس افسانے پر ان پر فحاشی کا مقدمہ بھی چلا مگر با عزت بری ہوئیں۔۱۹۴۰کی دہائی میںعورتوں کی ہم جنسی پرایک مسلم دوشیزہ کا یوں قلم اٹھاناعام بات نہیں بلکہ ایک بڑا باغیانہ قدم ہے۔

                عصمت نے بے پناہ طنزیہ اندازنگارش سے کام لیا ہے۔کرشن چندر  چوٹیں کے دیباچہ میں لکھتے ہیں

                ’’مرد اساس معاشرہ جواپنی مکروح عفونت کو جسے وہ روحانیت کی خوشبوئیں لگا کرچھپانا چاہتا ہے اسی جنسی بھوک کو عصمت نے جگہ جگہ اپنے افسانوں میںعریاں کیا ہے اور جسے یہ سماج جھوٹی شرافت اور جذباتیت کی تہوں کے نیچے چھپا کررکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے جگہ جگہ سماج کی اس مکاری اور آبلہ فریبی کو بے نقاب کیا ہے۔اور ایک ایسی بے پناہطنزیہ انداز نگارش سے کام لیا ہے جو برمے کی طرح چھیدتی چلی جاتی ہے۔دوزخی میں خود عصمت نے اس طرز نگارش پر روشنی ڈالی ہے‘‘۔۔’’دنیا بدل گئی ہے خیالات بدل گئے ہیں، ہم لوگ بد زبان ہیںاور منہ پھٹ۔ ہم دل دکھتا ہے تو رو دیتے ہیں۔۔۔ہم جو کچھ لکھتے ہیںدانت دانت پیس پیس کر لکھتے ہیں۔اپنے پوشیدہ دکھوں،کچلے ہوئے جذبات زہر بنا کر اگلتے ہیں۔

                ’’دو ہاتھ‘‘ بھی عصمت کا شاہکار افسانہ ہے۔جس میں ایک عورت کی کوکھ سے ایک نا جائز اولاد جنم لیتی ہے۔مگر لاکھ لعن طعن کے باوجود اس کا شوہر یہ کہ کر اس بچے کو اپنا لیتا ہے کہ وہ بڑھاپے کا سہارا ثابت ہوگا۔نچلے طبقے کی غربت اور اس سے پیدا ہونے والی بے حسی کی یہ سنگین صورت حال سماجی نظام کی دھجیاںاڑاتا ہے۔غربت کے مارے رام اوتار کے مردہ ضمیر کی یہ کہانی طنز سے بھری ہوئی ہے۔مثلاً ’’یہ ہاتھ حرامی نہیں نہ حلالی یہ تو بس جیتے جاگتے ہاتھ ہیں جو دنیا کے چہرے سے غلاظت دھو رہے ہیں‘‘۔

                اس بچے کے ان معصوم دو ہاتھوںکو وہ اپنی قسمت کا تبرک سمجھ کر نا صرف اسے قبول کرتا ہے بلکہ اس کے لئے کپڑے اور تحفے بھی لے جاتا ہے۔

                ایک اہم افسانہ’’چوتھی کا جوڑا‘‘۔اس میں نچلے مسلم گھرانوں کی داخلی تصویر ہے جہاں تنگدستی کی بنا جوان بیٹی کا کوئی ارمان پورا نہیں ہوتا ہے۔اس کہانی کا کردارکبریاپنی ڈھلتی جوانی کے ساتھ گھر کی چار دیواری کے اندر اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹ کر اجینے کا سلیقہ سیکھ گئی تھی۔لیکن شادی اس لئے کرنا چاہتی تھی کہ اس کی ماں کا  بوجھ ہلکا ہو۔ وہ تنگدستی، غربت اور وقت پرعلاج نہ ہونے کے سبب دق کے جان لیوا عارضے میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ کبری کے کردار کا مکمل تعارف اسکی چھوٹی بہن حمیدہ کچھ اس انداز سے کرواتی ہے۔’’کیا میری آپا مرد کی بھوکی ہے؟ نہیں وہ بھوک کے احساس سے پہلے سہم چکی ہے۔مرد کا تصور اس کے ذہن میںایک امنگ بن کرنہیں ابھرا بلکہ روٹی کپڑے کا سوال بن کر ابھرا۔‘‘

حمیدہ کی ہی زبانی عصمت نے اس ذہنیت پر چوٹ کی ہے۔

’سوئٹر دیکھ کرراحت نے اپنی ایک ابرو شرارت سے اوپر تان کر کہا’’کیا یہ سوئٹر آپ نے بنا ہے‘‘

’’نہیں تو‘‘ ’’ تو بھئی ہم نہیں پہنیں کے‘‘

                ’’ میرا جی چاہا کہ اس کا منہ نوچ لوں۔ کمینے مٹی کے تورے، یہ سوئٹر ان ہاتھوں نے بنا ہے جو جیتے جوگتے غلام ہیں۔اس کے ایک ایک پھندے میں کسی نصیبوں جلی کے ارمانوںکی گردنیں پھنسی ہوئی ہیں۔ یہ ان ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جو پنگوڑے جھلانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ان کو تھام لو گدھے کہیں کے اور یہ دو پتوار بڑے سے بڑے طوفان کے تھپیڑوں سے تمہاری زندگی کی ناؤکو بچا کر پار لگا دیں گے۔ یہ ستار نا بجا سکیں گے۔ منی پور اور بھارت ناٹیم نا دکھا سکیں گے ۔ انہیں پیانوں پر رقص کرنا نہیں سکھایا گیا۔ انہیں پھولوں سے کھیلنا نصیب نہیں ہوا۔ مگر یہ ہاتھ تمھارے جسم پر چربی چڑھانے کے لئے صبح سے شام تک سلائی کرتے ہیں۔صابن اور سوڈے میں ڈبکیاں لگاتے ہیں۔چولہے کی آنچ سہتے ہیں۔ تمہاری غلاظتیں دھوتے ہیں تاکہ تم اجلے چٹے بگلا بھگتی کا ڈھونگ رچائے رہو۔محنت نے ان میں زخم ڈال دئے ہیں۔ ان میں کبھی چوڑیاں نہیں کھنکیں۔ انہیں کبھی کسی نے پیار سے نہیں تھاما‘‘۔

                ’’گیندا‘‘ بھی ایک غریب بیوہ کی کہانی ہے جو ایک شریف گھرانے کی نا جائز اولاد پیدا کرتی ہے تو متوسط طبقے کا سماج اسے بے عزت کرتا ہے لیکن مرد پر کوئی تنقید نہیں کرتا،عصمت کی بے چینی اس وقت احتجاج کا روپ دھارن کر لیتا ہے جب سماج کی ساری نفرت اس غریب کے حصے میں آتی ہیں۔ملاحظہ ہو۔

’’اے ہے وہ تو مارے ڈالتا تھا، بڑی آفتیں اٹھیں‘‘۔’’ میں نے فورا اسے دہلی چلتا کیا۔ پڑھنے والا بچہ! یہ نیچ ذات کمینیاں شریفوں کو یوں ہی۔

                ’’بچھوپھوپھی‘‘میں بادشاہی بیگم کا شوہرایک مہترانی سے تعلق قائم کر لیتا ہے تو رد عمل کے طور پر بھری جوانی میںشوہر سے کنارہ کشی اختیار لیتی ہے۔احتجاج اور بغاوت کی یہ عمدہ مثال ہے۔عصمت کی تمام زندگی حق کے لئے لڑائی لڑتے ہوئے گذری۔ بچپن سے ہی احتجاج کی آواز بلند کرنے والی عصمت نے کبھی ہار نہیں مانی۔ بچھو پھوپھی کا کردار تو سراپا احتجاج ہے۔وہ اپنے شوہر جس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہے مرحوم یا مرنے والا کہہ کر مخاطب کرتی ہے۔سماج سے زیادہ وہ خود کو تکالیف دیتی ہے مگر خود کو حالات کے حوالے نہیں کرتی۔

                ’’ گھر والی‘‘ کی لاجو کا مرزا جیسے نام نہاد شرفاء ہمیشہ اس کا استحصال کرنے کا موقہ ڈونڈھتے رہتے ہیں۔’’ ننھی کی نانی‘‘  غریبی اور بے کسی کی ماری ہوئی عورت کی کہانی ہے۔ یہاں صرف ننھی کی نانی ہی مظلوم نہیں ہے بلکہ ننھی جسکی عمر صرف آٹھ یا دس سال ہے بوڑھے ڈپٹی صاحب کے جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہے۔

                ہمیں عصمت کی تحریریں دعوت فکر دیتی ہیں کہ کچھ عرصے اپنے نام کے آگے شاہد لطیف لکھنے کے بعداچانک کیوں کاٹ دیا۔عظیم بیگ چغتائی پر ’’دوزخی‘‘ والا مضمون کیوں تحریر کیا۔اس نے لحاف جیسی کہانی کیوں لکھی اور بچپن میں احتجاجا کئی روز تک بھوک ہڑتال کیوں کی۔وہیں دوسری طرف محمد حسن کے خیالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی تحریروں کی قدرو قیمت ایک دوسرے زاوئے سے متعین کی جا سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ مزاحمت اور احتجاج کے بطن سے ہی ادب جنم لیتا ہے مگر احتجاج اور مزاحمت کی لے اتنی اونچی نہ ہو کہ گوش ادب پر گراں گذرے۔

۔۔۔

ڈاکٹر قمر الحسن

شعبئہ اردو ،ستیہ وتی کالج

دہلی یونی ورسٹی

9136142610

qamarulhasan43@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.