سر سیداحمد خاں اردو، ادب میں جدیدیت کا نقشِ اوّل

ارم صبا

  وفاقی اردو یونی ورسٹی برائے  فنون سائنس اور ٹیکنالوجی اسلام آباد،  پاکستان

سر سید احمد خاں مصلح قوم اور اردو ادب کے  عظیم محسن ہیں۔ سر سید کی سیاسی، سماجی اورمذہبی، تہذیبی اور تعلیمی کوششوں کے  نتیجے  میں اردو شعر و ادب کو ایک نئی جہت ملی۔اس نئی جہت کی تبلیغ و ترسیل اور تشہیر ادبی و تہذیبی رسائل کے  ذریعے  تندہی سے  کی گئی۔محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس، سائنٹفک سوسائٹی، ایم۔اے۔او کالج اور رسالہ تہذیب الاخلاق کے  علم برداروں نے  تخلیق اور تحریر و تصنیف کی سطح پر اردو زبان و ادب کو ترقی دی۔سر سید دورِ جدید کے  تقاضوں سے  آشنا تھے  وہ جانتے  تھے  کہ علومِ جدیدہ سے  واقفیت مسلمانانِ ہند کی اہم ضرورت ہے۔شعر و ادب میں بھی سر سید خیالی طوطا مینا کی کہانی اور عاشق و معشوق کے  قصے  بیان کرنے  کی بجائے  مقصدی اور تعمیری ادب کی تخلیق کے  قائل تھے۔اس مقصد کے  لئے  سرسید نے  اپنے  رفقا کو مغربی ادب سے  واقفیت کی طرف مائل کیا اور اردو ادب کو جدید تقاضوں کے  مطابق ڈھالنے  کی کوشش کی۔سر سید نے  علی گڑھ میں ایک کالج ہی قائم نہیں کیا بلکہ اس وقت کی علمی و ادبی سر گرمیوں کے  لیے  ایک حلقہ پیدا کیا۔ ملک کے  بہترین دماغ اس حلقے  میں شامل تھے۔تہذیب الاخلاق کی جاندار نثر، علمی و ثقافتی مسائل پر بحث مباحثے، مولوی نذیر احمد کا ناول اور لیکچروں کے  نمونے، حالی کی شاعری و تنقیدی بصیرت، محسن الملک، وقار الملک، چراغ علی، مولوی ذکاء اللہ کے  علمی و ادبی کارنامے، مخالفتوں کے  باوجود شبلی کے  شاہکار اور سب سے  بڑھ کر ترقی پذیر علمی و ادبی فضاجو ان سب بزرگوں کے  کارناموں سے  وجود میں آئی، یہ تمام باتیں  نمایاں کمالات کی حیثیت سے  سر سیداور تحریک علی گڑھ  کے  دفترِ عمل میں شمار ہوتی ہیں۔

  سر سید سے  قبل بھی اردو ادب کی اصناف نہ صرف مسلسل تبدیلی سے  دوچار دکھائی دیتی ہیں بلکہ ہر دور میں جدیدیت کا رجحان بھی نظر آتا ہے۔سر سید کی خصوصیت یہ ہے  کہ انہوں نے  خود بھی اور ان کی تحریک سے  وابستہ ان کے  رفقا نے  اردو ادب کو جدید مغربی اصناف سے  متعارف کروایا۔سر سید ہی کے  پلیٹ فارم سے  اردو میں سیرت نگاری، تاریخ نویسی، سوانح، ناول نگاری، مضمون نویسی اورادبی تنقیدکی ابتدا ہوئی اور شاعری اپنے  مروجہ دائرہ کار سے  باہر آئی۔اردو ادب پر سر سید کے  اثرات سے  انکار ممکن نہیں ۔ سر سید سے  قبل ہندوستان میں شاعری کو چھوڑ کر ادبیات کا دائرہ مذہب، تصوف، تاریخ اور تذکرہ نویسی تک محدود تھا۔

۱۸۵۷ء کے  بعد مسلمان ہر شعبہ زندگی میں زوال کا شکار تھے۔نئے  چیلنجز سے  نپٹنے  کے  لیے  ان کے  پاس کوئی حل موجود نہ تھا۔فارسی زبان کا مستقبل تاریک تھا اور اردو میں غزل گو شعراء کے  دواوین کے  علاوہ کوئی قابلِ ذکر لٹریچر موجود نہ تھا۔نثر میں گنتی کی چند کتابیں تھیں اور ابھی نثر میں  علمی مسائل پیش کرنے  کی صلاحیت نہیں آئی تھی۔قوم کی اصلاح کے  لیے  ضروری تھا کہ ایک نئی زبان تیار ہو جو نیا لٹریچر تیار کرے  جو شاندار ماضی کی تصویر مسلمانوں کو دکھانے  کے  ساتھ ساتھ موجودہ زبوں حالی میں ان کی ہمت افزائی کرے۔جدیدشاعری اور شاعرانہ تنقید کے  نئے  اصول وضع ہوں۔  جدید نثرلکھی جائے  جو زورِ انشاء دکھانے  کے  نہیں  بلکہ عام اور روزمرہ کے  مسائل و واقعات کا احاطہ کرے۔سرسید اور تحریک علی گڑھ نے  یہ فریضہ سنبھالا۔ اردو ادب کے  عناصرِ خمسہ میں سے  چار حالی، شبلی، نذیر احمد اور سر سید احمد خاں  تحریک علی گڑھ کے  روحِ رواں تھے۔ سرسید نے  اردو میں مضمون نگاری کی ابتدا کی  تو ڈپٹی نذیر احمد نے  ناول نگاری کی صنف کو متعارف کروایا۔حالی نے  سوانح نگاری سے  اردو ادب کا ناطہ جوڑااورمقدمہ شعر و شاعری کی صورت میں جدید تنقید کے  اصول وضع کیے۔شبلی نے  سیرت نگاری جیسی صنف کا تحفہ اردو ادب کو دیا۔حالی اور آزاد نے  جدید نظم میں نت نئے  تجربات کیے۔یہ زمانہ اردو ادب کا شاندار عہد ہے۔

سرسید احمد خاں  نے  نہ صرف اس مشکل وقت میں مسلمانوں کی ڈوبتی نیا کو سنبھالا دینے  کی کوشش کی بلکہ اس زوال پذیر قوم کی زبان کو غیر معمولی ترقی دے  کر اردو ادب کے  ارتقاء میں بھی حصہ لیااور اردو نثرکو اجتماعی مقاصد سے  روشناس کیا۔سر سید نے  اردو نثر کو سہل اور سلیس بنا کر عام اجتماعی زندگی کا ترجمان اور علمی مطالب کے  اظہار کا وسیلہ بنایا۔اس حقیقت سے  انکار ممکن نہیں کہ اس سے  قبل فورٹ ولیم کالج کے  ادباء نے  بھی اردو نثر کے  ارتقا میں اہم کردار ادا کیا اور اردو نثر کو الفاظ پرستی سے  نجات دلا کراس کو بے  تکلف اظہارِ خیال کا ذریعہ بنایا۔مگر اس بات سے  بھی انکار ممکن نہیں کہ فورٹ ولیم کالج کی نثر کی زبان تو سادہ تھی لیکن اس نثر کو صرف قصوں سے  سروکار تھا عام آدمی کی زندگی، اس کے  مسائل، اس کی اصلاح اس نثر کا موضوع نہ بن سکی۔مرزا غالب نے  بھی نثر کے  میدان میں طبع آزمائی کی اور سرسید کی نثر پر مرزا کے  اسلوب کے  اثرات دکھائی دیتے  ہیں۔ بقول سید عبداللہ:

مرزا غالب نے  نثرِ اردو کو خلوص کا راستہ دکھایا مگر علمی حقائق اور ٹھوس مسائلِ زندگی کی حد تک وہ بھی نہیں پہنچے۔البتہ ان کی نثر  نے  سر سید احمد خاں کی انشا ء کے  لیے  بیان و اظہار کا راستہ ضرور  صاف کیا چنانچہ اس کے  اسلوبِ تحریر پر مرزا غالب کے  اسلوب  کانمایاں اثر دکھائی دیتا ہے۔ خصوصًا مکالمہ نگاری میں  جس کے اچھے  اچھے  نمونے  غالب کی طرح سرسید کے  مضامین میں بھی دستیاب ہوتے  ہیں۔ (۱)

۱۸۵۷ء کے  بعد کے  حالات ہر گز اس قابل نہ تھے  کہ مسلمان ادب تخلیق کرنا تو دور کی  بات آزادی سے  سانس بھی لے  سکیں۔ ان حالات میں دیکھا جائے  تو ایک زوال پذیر قوم کی زبان میں ادب تخلیق کرنا اور اپنے  رفقا کو اس کام کی طرف مائل کرنا، کسی عام شخص کے  لیے  یہ مرحلہ طے  کرنا دورکی بات اس بارے  میں سوچنا بھی ناممکن تھا۔ یہ سر سید جیسی اولعزم شخصیت کا حوصلہ اور محنت کا نتیجہ ہے  تھاکہ انہوں نے  اس کڑے  وقت میں نہ صرف انگریزوں کے  دلوں سے  مسلمانوں کی نفرت ختم کرنے  کی کوششیں کیں بلکہ اپنے  رفقا کے  ساتھ مل کر ایسا ادب تخلیق کیا جس نے  ایک طرف تو اس کڑے  وقت میں مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور دوسری طرف اردو ادب کو ایسی بنیادیں مہیا کیں  کہ آئندہ آنے  والی نسلیں  اس پر مضبوط عمارت قائم کر سکیں۔  سر سید نے  اردو نثر کی حدود کو وسیع تر کر دیا۔سرسید اور ان کے  رفقا نے  اردو نثر کے  موضوعات کو وسعت دی وہ نثر جو اس سے  قبل مافوق الفطرت کہانیوں تک محدود تھی اس نثر کے  دامن نے  مذہب، تاریخ، سیاست اور تعلیم جیسے  موضوعات کو  جگہ دی۔سرسید اور ان کے  رفقا کے  طفیل اردو میں توضیحی، استدلالی اور وصفیہ نثر کے  علاوہ اعلی درجے  کی مقالہ نگاری، صحیفہ نگاری اور قصہ نویسی پیدا ہو کرپروان چڑھی۔(۲)

سرسید کے  زمانے  کے  حالات و واقعات کو دیکھتے  ہوئے  یہ توقع کرنا کہ اس دور میں اردو جیسی نو عمر زبان میں بے  عیب اور مکمل ادب تخلیق ہو گا، بے  محل اور بے  جا ہے۔اس دور میں تخلیق ہونے  والا ادب اپنی تمام تر کمزوریوں کے  باوجود آئندہ کے  لیے  ایک ایسی بنیاد ثابت ہوا جس پر ادب کی مضبوط عمارت آج قائم ہے۔ اردو میں سوانح نگاری کے  فن کو رواج دینے  کا سہرا حالی کے  سر ہے۔اردو میں باقاعدہ سوانح نگاری کا آغاز مغربی خیالات کا نتیجہ ہے۔اور اس کے  علم بردار حالی اور شبلی سر سید کی فوج کے  سپاہی ہیں۔ حالی کی لکھی ہوئی سوانح عمریوں میں جو روح کام کر رہی ہے  وہ سرسید ہی کی پیدا کردہ ہے۔(۳)حالی کوطویل عرصے  تک سرسید کی دوستی کا شرف حاصل رہالہذا ان کے  اسلوب ِ بیان پر سر سید کے  اثرات واضح ہیں۔  اردو میں اس صنف کی باقاعدہ داغ بیل سرسید کے  جدید خیالات کا نتیجہ تھی۔یہ دو مصنف (حالی اور شبلی)اپنی کمزوریوں کے  باوجود اردو سوانح نگاری کے  امام ہیں۔ (۴)

سرسید کا دور ادرو ادب کی ترقی کا ابتدائی زمانہ تھا۔اس دور میں کسی ترقی یافتہ اور مکمل صنفِ ادب کی توقع نہیں کی جاسکتی۔اردو کی ادبی تنقید بھی اس دور میں کسی حد تک ناپختہ تھی۔تا ہم کہا جا سکتا ہے  کہ یہ وہی زمانہ تھا جس میں فن کے  شعور اور اصولِ تنقیدکے  صحیح ادراک کا آغاز ہوا۔( ۵)سر سید نے  بذاتِ خود کوئی تنقیدی کتاب نہیں لکھی لیکن ان کے  خیالات نے  تنقیدی رجحان پر گہرا اثر ڈالا۔مقدمہ شعر و شاعری حالی کی اردو تنقید پر لکھی گئی کتاب ہے۔ اس کتاب میں شعر و ادب کی ماہیت کو سمجھنے  کی کوشش کی گئی ہے۔ مقدمہ شعر و شاعری  سر سید کے  خیالات کی تفصیلی تفسیر ہے۔(۶)سر سیدادب کے  جمالیاتی پہلو کی بجائے  ادب کو زندگی کے  مقاصد سے  جوڑتے  ہیں اور ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھتے  تھے  بلکہ وہ اس سے  قومی اور اجتماعی کام لینے  پر یقین رکھتے  تھے۔اس لیے  سر سید اردو کے  غالبا سب سے  پہلے  ترقی پسند ادیب اور نقاد تھے۔( ۷)حالی نے  فنِ تنقید پر انگریزی اور عربی سے  مواد لے  کر ایک جگہ جمع کیا جو بعد میں آنے  والے  ناقدین کے  لیے  شمع ہدایت ثابت ہوا۔حالی نے  اس کتاب کے  ذریعے  اردو شعر و ادب میں ایک نئی لہر پیدا کرنے  کی کوشش کی۔یہ سب سر سید کی صحبت کا ہی نتیجہ تھا :

سر سید کی تحریک اور ان کے  رسالہ’’تہذیب الاخلاق‘‘نے  اس ادبی انقلاب  میں اور بھی زیادہ تنقیدی تلخی اور تیزی کی کیفیت پیدا کر دی۔اور پرانے  رجحانات کے  خلاف بغاوت کا پیغام دیا۔کیوں کہ اس وقت ہمارے  ادب  میں تھک کر بیٹھ جانے  والی جو کیفیت تھی اور اس میں جو غلظ معیار قائم ہو  گئے  تھے  ان کا وجود ہماری سماجی زندگی کے  منافی تھا۔اس پس منظر میں حالی نے  مقدمہ شعر  و شاعری مرتب کیا۔ (۸)

سرسید اور ان کے  رفقا ء نے  ٹھوس علمی مسائل(مثلا ریاضی اور طیبعیات)کی طرف بھی توجہ دی جس کا نتیجہ یہ ہواکہ سر سید اور ان کے  جماعت کے  لوگوں نے  اردو کوجو علمی اعتبار سے  اس وقت تک ایک بے  مایہ زبان تھی تھوڑے  عرصے  میں  اسے  اعلی علمی جواہر ریزوں سے  مالا مال کر دیا۔مغربی علوم کی کتب کے  اردو زبان میں تراجم بھی سر سید کا ایک اہم کارنامہ ہے۔صحافت کے  میدان میں بھی سر سید کوکامیابی نصیب ہوئی۔اخبارات کی زبان عمدہ اور صاف ہوتی تھی۔بہت کم اخبارات ایسے  ہوں گے  جن میں ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی آ رٹیکل عمدہ سلیس عبارت میں کسی نہ کسی مضمون پر نہ لکھا جاتا ہو۔سر سید نے  صحافت کا رشتہ عام آدمی کی زندگی سے  جوڑنے  کی کوشش کی۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ اور تہذیب الاخلاق نے  صحافت میں علمی متانت، فکر و فلسفہ اور سیاست و معاشرت میں جدید تصورات کو جگہ دی۔ تہذیب الاخلاق کا پرچہ قوم کی اصلاح کے  لیے  نکالا اور اردو انشاء پردازی کو اس رتبے  پر پہنچا دیا جس سے  آگے  اب تک ایک قدم بڑھنا بھی ممکن نہیں۔ (۹)تہذیب الاخلاق نے  اردو نثر نگاری کے  لیے  سادہ اور سیدھا راستہ کھول دیا۔سر سید کے  اخبارات کے  زیرِ اثر صحافت میں ایک نئے  دور کا آغاز ہوا۔دوسرے  معاصر اخبارات نے  بھی قومی اور سیاسی رجحانات کو بے  خوفی سے  پیش کرنا شروع کیا۔(۱۰)اردو نثر میں مضمون نگاری کی ابتدا ء اورفروغ کا سہرا تہذیب الاخلاق اور سر سید کے  سر جاتا ہے۔اس سے  قبل سیاسی، معاشی، معاشرتی و سماجی مسائل پرسنجیدہ مضامین لکھنے  کا رواج نہ تھا۔سر سید خود اس حوالے  سے  لکھتے  ہیں  :

مضمون نگاری دوسری چیز ہے  جو آج تک اردو زبان میں نہ تھی۔ یہ اسی زمانے  میں پیدا ہوئی اور ابھی بچپن کی حالت میں ہے۔(۱۱)

سرسید نے  جہاں مذہبی، اخلاقی اور سیاسی موضوعات پر قلم اٹھایاوہاں تعلیم، سائنس، انگریزدوستی، مغربی تہذیب کی اچھائیاں اور عام مسلمانوں کے  حالات جیسے  موضوعات کو نظر انداز نہیں کیا۔ان مضامین نے  نہ صرف سر سید کی تحریک کے  مفادات کو آگے  بڑھایا بلکہ اردو نثر کا وقار بھی بلند کیا:

نئے  اسالیب کو متعارف کرانے  اورقابلِ قبول بنانے  میں سر سید اور  ان کے  رفقاکا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔بہ قول شبلی سرسید ہی کی  بدولت اردواس قابل ہوئی کہ عشق و عاشقی کے  دائروں سے  نکل کر ملکی، سیاسی، اخلاقی، تاریخی ہر قسم کے  مضامین  اس زورِ اثر  وسعت و جامعیت، سادگی وصفائی سے  اداکر سکتی ہے  کہ خود اس کے  استاد یعنی فارسی میں آج تک یہ بات نہیں۔ (۱۲)

جہاں تک شاعری کا تعلق ہے  تو سرسید سے  قبل کی اردو شاعری کے  موضوعات زیادہ تر عشق و محبت، گل و بلبل اور ہجر و وصال تک محدود تھے۔سرسید نے  اردو کی روایتی اصناف اور ان کے  موضوعات پر تنقید کرتے  ہوئے  اردو شاعری میں وقت کے  تقاضوں کے  مطابق نئی اصناف کو فروغ دینے  کی وکالت کی۔حالی و شبلی سر سید کی اس سوچ کو فروغ دینے  میں سر عمل نظر آئے۔سرسید کے  دور سے  پہلے  کی شاعری اس منظم اجتماعی اور معاشرتی احساس کی حامل نہیں تھی جو حالی و شبلی کی نظموں کا خاصہ ہے۔سر سید نے  ایک اصلاحی تحریک کے  ذریعے  ادب کی معاشرتی اور تہذیبی اہمیت کو سامنے  رکھ کراردو میں مقصدی شعر و ادب کی تخلیق کی ایسی روایت قائم کی کہ اردو شاعری حیات و کائنات کے  مسائل کی ترجمانی کے  قابل ہوگئی۔’’انجمنِ پنجاب‘‘کی نظم نگاری کی تحریک کو  سر سید کے  افادی نقطہ نظر نے  اور واضح کیا۔(۱۳)سرسید نے  اپنے  تصورات میں نیچر کو جو اہمیت دی ہے  اسی کے  اثرات انجمنِ پنجاب کی نیچرل شاعری پر نظر آتے  ہیں۔

شبلی کی قومی و سیاسی شاعری سر سید کی قومی روح کی تربیت یافتہ ہے۔شاعری کے  متعلق سر سیدکایہ خیال تھا کہ شاعری کے  خیالات خیالی نہ ہوں حقیقت سے  قریب ہوں ۔ خیالات کو اس صورت میں پیش کیا گیا ہو کہ خارج کی چیزیں بھی داخلی معلوم ہوں۔ (۱۴)انہی کے  خیالات کے  زیرِ اثر شاعری میں  سیاسی،  اخلاقی و سماجی مو ضوعات پر شعر کہنے  کا رجحان پیدا ہوا۔ انہوں نے  اپنے  رفقاء کو انگریزی شاعری سے  استفادے  کا مشورہ بھی دیااور شاعری میں سادگی، حقیقت اور پاکیزگی پر زور دیا۔سر سید نے  ہی حالی سے  مسدس کی فرمائش کی۔’’مسدس مدو جزرِ اسلام‘‘سر سید کے  خواب ِ شعر کی علمی تعبیر ہے۔(۱۵)ڈپٹی نذیر احمد نے  بھی سر سید کے  افکار کو وسعت دی اور مسائل کو قصہ کہانی کی صورت میں بیان کر کے  اردو ادب میں ناول نگاری کی بنیاد ڈالی۔

اردو ادب پر سر سید کے  اثرات سے  انکار ممکن نہیں۔ یہ اثرات اسلوبِ بیان پر بھی ہیں  موضوعات اور روحِ معانی پر بھی۔ سر سید اور ان کے  رفقاء نے  نہ صرف اردو زبان کو وسعت عطا کی بلکہ اس کے  موضوعات کا دائرہ بھی وسیع کیا۔سر سید سے  قبل کے  اردو سرمائے  پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے  اس سے  قبل کا اردو ادب کا دائرہ محدود اور دامن تنگ تھا۔سرسید کے  دور کی تصانیف بالخصوص سر سید ہی کی تصانیف کر اگر دیکھا جائے  تو مضامین اور موضوعات کا تنوع ہی نہیں انداز فکر بھی جدا اور نیا ہے۔اندازِ بیان اس سے  قبل کے  ادب سے  کس قدر مختلف ہے  اس بات سے  کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اس ادبی سرمائے  کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے  کہ یہ ادب ہر لحاظ سے اس سے  قبل کے  ادب سے  مختلف اور جدید ہے۔’’آثار الصنادید ‘‘میں  دہلی کی مشہور شخصیات، قدیم تاریخی عمارات اور مقامات کا حال بیان کیا گیا ہے۔پہلے  یہ کتاب قدیم عبارت میں مقفی عبارت میں تھی بعد ازاں سر سید نے  اسے  سلیس اردو میں لکھا۔’’اسباب بغاوتِ ہند ‘‘میں  ۱۸۵۷ء کے  حالات کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا اور قرآن مجید کی تفسیر کا بھی آغاز کیا لیکن عمر نے  وفا نہ کی۔اس کے  علاوہ کئی موضوعات پر کتب  اور مضامین جو تہذیب الاخلاق میں شائع ہوئے۔سر سید نے ’’مسافر ان ِ لندن‘‘ کے  نام سے  سفر نامہ بھی تحریر کیا۔

سر سید کے  مجموعی فکر و ادب کی عمارت جن بنیادوں پر قائم ہے  ان میں مادیت، اجتماعیت، عقلیت اور حقیقت نگاری شامل ہیں۔ ان کی مجموعی فکر و ادب کی عمارت انہی بنیادوں پر قائم ہے  اور یہی جدید رجحانات اردو ادب میں سر سید کا فیض سمجھے  جاتے  ہیں۔  ڈاکٹر سید عبداللہ سر سید کے  ادب کے  متعلق رقم طراز ہیں  :

’’سر سید کے  ادبی سرمائے  کو جو چیزیں مستقل حیثیت سے  امتیاز اور انفرادیت بخشتی ہیں ان کو مجموعی لحاظ سے  تین چار جملوں میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے  کہ ہمارے  ملک میں سر سید ہی وہ پہلے  شخص تھے  جنہوں نے فکر و ادب میں روایات کی تقلید سے  ہٹ کر آزادی رائے  اور  آزادی خیال کی رسم جاری کی اور ایک ایسے  مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی جس  کے  عقائد میں  عقل، نیچر، تہذیب اور مادی ترقی کو بنیادی خیثیت حاصل  ہے۔ کہنے  کو تو یہ چند معمولی الفاظ ہیں لیکن انہی چند سادہ لفظوں میں اس زمانے  کے  مشرق و مغرب کی اکثر و بیشتر ذہنی آویزشوں اور کشمکش کی طویل سرگزشتیں پوشیدہ ہیں۔ انہی چند الفاظ میں انیسویں اور بیسویں صدی کے ہندوستان کی سماجی اور ادبی تاریخ کے  بڑے  بڑے  عقیدوں اور بڑے بڑے  نعروں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ـ‘‘(۱۶)

سرسید نے  اردو ادب میں جدیدیت کا رجحان متعارف کروایا۔سر سید کے  فکری و ادبی رجحان سے  اس دور کا سارا ادب ہی متاثر ہوا۔جدیدیت کے  اسی رجحان سے  وہ انقلابی رجحانات پیدا ہوئے  جن پر بعد میں آنے  والے  ادب کی بنیادیں استوار ہوئیں۔ سر سید نے  ادب میں آزادانہ سوچنے  اوراور سائنسی نقطہ نظر سے  دیکھنے اور پرکھنے  کا میلان پیدا کیا۔انہوں نے  فکر و ادب میں جو راستہ اختیار کیااس کو نہ تو خالصتا رومانی کہا جا سکتا ہے  اور نہ خالصتا کلاسیکی۔سرسید مصلح تھے  انقلابی نہیں۔  ان کے  ادب میں حقیقت بہت زیادہ ہے  اور جذبات پر عقل کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔انہوں نے  ثابت کیا کہ ادب بے  کاروں کا مشغلہ نہیں بلکہ عین زندگی ہے۔

اردو میں مضمون نگاری (Essay Writting)کی ابتد اسر سید نے  ہی کی۔تہذیب الاخلاق میں لکھے  گئے  سر سید کے  مضامین بعد میں ترقی پا کر ادبی مضامین کی صورت میں متشکل ہوئے۔جدید مغربی خیالات کو قبول کرنے  کے  لئے  ذہنوں کو آمادہ کرنا سر سید کا سب سے  اہم کارنامہ ہے۔جدیدزمانہ میں کسی فردِ واحد نے  اردو ادب اور عام زندگی کو اتنا متاثر نہیں کیاجتنا تنہا سر سید نے۔(۱۷) اردوادب میں  سوانح عمری کا فن سرسید کی تحریک کی ہی عطا ہے۔حالی کی ادبی سوانح عمریاں اور شبلی کی سوانح عمریاں سر سید کی جدیدیت کا ہی نتیجہ ہیں۔ خود سر سید نے  آثار الصنادید(دوسرا ایڈیشن)،  آئینِ اکبری اورتزکِ جہانگیری کی ایڈیٹنگ میں مغربی اصولِ تحقیق سے  استفادہ کیا۔(۱۸)

سر سید نے  اپنے  رسالے  تہذیب الاخلاق کے  ذریعے  اردو زبان و ادب کی موثر خدمات سر انجام دیں۔ زبان کو نکھارنے  اور سنوارنے  کے  ساتھ ساتھانہوں نے  اردو ادب کی مختلف ا صناف کو وقت کے  جدید تقاضوں کے  زیرِ اثر مناسب تبدیل کیا اور نئی اصناف کو اردو میں متعارف و رائج بھی کروایا۔سر سید نے  اردو زبان کو بھی جدیدیت سے  روشناس کرایا۔ اردو میں انگریزی کے  الفاظ استمال کیے  کلاسیکی دور کی اردو زبان جس میں فارسی کے  الفاظ کی بھی کثرت تھی اس کی جگہ اب ادب میں سادگی ء زبان کی طرف توگہ دی جانے  لگی اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ادب چوں کہ عوام کے  لیے  تخلیق ہوتا ہے  تو زبان بھی وہ ہونی چاہیے  جسے  عوام آسامی سے  سمجھ سکیں۔ سرسید خود اس حوالے  سے  رقم طراز ہیں  :

جہاں تک ہم سے  ہو سکا ہم نے  اردو زبان کے  علم و ادب کی ترقی میں اپنے  ان ناچیز پرچوں کے  ذریعے  کوشش کی۔ مضمون کے  اد اکا ایک  سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کیا۔۔۔۔۔جہاں تک ہو سکا سادگی  عبارت کی طرف توجہ کی۔اس میں کوشش کی کہ جو کچھ لطف ہو وہ صرف مضمون کے  ادا میں ہوجو اپنے  دل میں ہو وہی دوسرے  کے  دل میں  پڑے  تا کہ دل سے  نکلے  اور دل میں بیٹھے۔(۱۹)

یہ بات کہنے  میں کوئی عار نہیں کہ بعد میں  (یعنی تیس کی دہائی میں  )ترقی پسند مصنفین کی صورت میں آنے  والے  ’’ادب برائے  زندگی‘‘کے  نظریے  کی ابتدائی داغ بیل سر سید نے  ہی استوار کی۔(۲۰)سر سید کی بہت بڑی ادبی خدمت یہ ہے  کہ انہوں نے  اردو ادب کو علمی و ادبی اعتبا ربخشا۔خصوصا اردو نثر کو انہوں نے  سنوارا اور پختہ رنگ و روپ بخش کرعلمی معیار عطا کیا اور اردو نثر ہر طرح کے  مضامین کے  اظہار پر قادر ہو گئی۔انہوں نے  اردو زبان کو سنجیدہ علمی خیالات کا ذریعہ بنایا۔ سرسید نے  اردو ادب کو مغرب پرستی یا مغربی علوم سے  استفادے  کی جو راہ دکھائی اس نے  قریب قریب پورے  ادب کو اپنی لپیٹ میں لے  لیا۔رومانوی ادیبوں کی مغرب پرستی اور اس کے  زیرِ اثر افسانہ نگاری اور انشا ء پردازی علی گڑھ تحریک کے  اثرات کا نتیجہ ہے  جس سے  ترقی پسند تحریک نے  بھی فائدہ اٹھایا۔(۲۱)

سرسید احمد خاں کا دور ایسا دور تھا کہ جب یورپی صنعتی انقلاب اور مغربی تہذیبیں ہندوستان پر اپنے  اثرات چھوڑ رہی تھیں۔ تمام تبدیلیوں کا اثر زبان و ادب پر بھی پڑا۔سر سید ہندوستان کی ایسی شخصیات میں سے  تھی جنہوں نے  انگریزوں کی سیاست کو بھانپ لیا تھا۔ وہ وقت کے  تقاضوں کو سمجھ رہے  تھے۔انہیں اس بات کا احساس ہو چکا تھا کہ اگر مسلمانوں نے  جدید میلانات اور جدیداقدارکو نہ اپنایا تو وہ زندگی کے  ہر شعبے  میں پیچھے  رہ جائیں گے۔سر سید نے  ادب کو زندگی کا ترجمان بنانے  کی طرف توجہ دی۔اس وقت کے  ادب میں یہ صلاحیت موجود نہ تھی کہ وہ زندگی کے  نت نئے  مسائل کا احاطہ کر سکے۔ سر سید نے  لندن سے  واپسی پر اسپیکٹیٹر اور ٹیٹلرکی طرز پر تہذیب الاخلاق کا اجراء کیا۔تہذیب الاخلاق کے  ذریعے  نہ صرف اردو صحافت کو فروغ ملا بلکہ اردو نثر کے  دامن میں وسعت آئی اور اردو ادب کا رجحان جدیدیت کی طرف ہوا۔سرسید نے  جنگِ آزادی کے  بعد اردو ادب کو ایک نئی زندگی عطا کی۔ ان کے  ہاں ادب کا گہرا شعور ملتا ہے۔فکر کی گہرائی اور وقت اورحالات پر کڑی نظراورہواوں کے  رخ کو دیکھتے  ہوئے  سر سید نے  جدیدیت کی جو حکمتِ عملی اختیار کی اس کے  اثرات ہمیں آج تک اردو صحافت اور اردو زبان و ادب پر دکھائی دیتے  ہیں۔  غرض کہا جا سکتا ہے  کہ سر سید کے  بغیر اردو ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ سر سید نے  ادیبوں کی ایک ایسی جماعت بھی بنائی جن کی جدت پسندی نے  اردو کو ہمہ جہت ترقی دی(۲۲)سر سید جدیدیت کے  علم برادر تھے۔تاریخ، سوانح نگاری، سیرت نگاری، شاعری اور نثر ہر ایک پر گہرے  اثرات مرتب کیے۔سر سید نے  جدید مغربی تقاضوں سے  آگہی رکھتے  ہوئے  ادب کو جدید خطوط پر استوار کیا اور ادب کو تنقیدِ حیات بنا دیا۔

حوالہ جات

۱۔  سید عبداللہ، ڈاکٹر، سر سید اور ان کے  نامور رفقاء کی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ، علی گڑھ، ایجوکیشنل

  بک ہاؤس، ۲۰۰۶ئ، ص۱۳

۲۔ ایضًا،       ص۱۳

۳۔ ایضًا،       ص۱۰۱

۴۔ احمد عبدالرحیم، ڈاکٹر، اردو نثر کا دہلوی دبستان، حیدر آباد، شالیمار پبلیکیشنز، ۱۹۷۵ء ص۴۷۰

۵۔ سید عبداللہ، ڈاکٹر، سر سید اور ان کے  نامور رفقاء کی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ، ص۲۰۰

۶۔ منظر اعظمی، ڈاکٹر، اردو ادب کے  ارتقا ء میں ادبی تحریکوں اور رجحانات کا حصّہ، لکھنو،

 اتر پردیش اردو اکادمی، ۱۹۹۶ئ، ص۲۱۸

۷۔ سید عبداللہ، ڈاکٹر، سر سید اور ان کے  نامور رفقاء کی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ، ص۲۰۲

۸۔ احمد عبدالرحیم، ڈاکٹر، اردو نثر کا دہلوی دبستان، ص۴۷۱

۹۔ شبلی نعمانی، مولانا، سرسید اور اردو لٹریچر، مشمولہ انتخابِ مضامینِ شبلی، نئی دہلی، مکتبہ جامعہ، ۲۰۱۱ئ، ص۳۴

۱۰۔            منظر اعظمی، ڈاکٹر، اردو ادب کے  ارتقا ء میں ادبی تحریکوں اور رجحانات کا حصّہ، ص۲۳۹

۱۱۔ محمد اسمعیل، مولانا، پانی پتی(مرتب)مقالاتِ سر سید، حصہ دہم، لاہور، مجلسِ ترقی ادب، ۱۹۹۳ئ، ص۱۱۵

۱۲۔            ساجد امجد، ڈاکٹر، اردو شاعری پر برصغیر کے  تہذیبی اثرات، لاہور، الوقار پبلی کیشنز، ۲۰۰۳، ص۳۸۶

۱۳۔           منظر اعظمی، ڈاکٹر، اردو ادب کے  ارتقا ء میں ادبی تحریکوں اور رجحانات کا حصّہ، ص۲۴۱

۱۴۔           ایضًا       ص۲۱۷

۱۵۔           ایضًا       ص ۲۱۸

۱۶۔            سید عبداللہ، ڈاکٹر، سر سید اور ان کے  نامور رفقاء کی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ، ص۲۷۱

۱۷۔           سید عبداللہ، ڈاکٹر، سر سید اور ان کے  نامور رفقاء کی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ، ص۳۰۵

۱۸۔           منظر اعظمی، ڈاکٹر، اردو ادب کے  ارتقا ء میں ادبی تحریکوں اور رجحانات کا حصّہ، ص۲۴۷

۱۹۔            محمد اسمعیل، مولانا، پانی پتی(مرتب)مقالاتِ سر سید، حصہ دہم۔ص۱۱۴

۲۰۔           افتخار عالم خان، پروفیسر، سرسید اور جدیدیت، دہلی، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، ۲۰۱۳ئ، ص۲۰۱

۲۱۔            منظر اعظمی، ڈاکٹر، اردو ادب کے  ارتقا ء میں ادبی تحریکوں اور رجحانات کا حصّہ، ص۲۵۰

۲۲۔           انور سدید، ڈاکٹر، اردو ادب کی مختصر تاریخ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۹۱ئ، ص۲۸۰

٭٭٭

ارم صبا

  وفاقی اردو یونی ورسٹی برائے  فنون سائنس اور ٹیکنالوجی اسلام آباد،  پاکستان

 

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.