جدیدیت کا رجحان اور تصوّف کی واپسی

صابر شبیربڈگامی

ریسرچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونی ورسٹی

Email:darshabir36037@gmail.com

فون نمبر:9596101499

      ۱۹۶۰ کے  آس پاس ایک نیا ادبی رجحان سامنے  آیا جسے  جدیدیت سے  موسوم کیا گیا۔اس نئے  رجحان کا خمیر وجودیت سے  تیار ہوا تھا۔گویا ’’جدیدیت‘‘،  وجودیت کے  بطن سے  ہی نکلی۔ترقی پسند تحریک نے  مادیت، مقصدیت، اجتماعیت اور خارجیت پر غیر معمولی زور دیا۔فرد معاشرہ کاتابع ہو کر رہ گیا، وہ محض مشین کا ایک پرزہ تھا اس کے  ذاتی جذبات اور خیالات کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ  ۱۹۶۰ئ؁  کے  آتے  آتے  ادباء و شعراء میں وجودیت، فردیت، انفرادیت اور وجدان کی اہمیت کا احساس پیدا ہونے  لگا۔بیسویں صدی کے  وہ تمام فلسفے  جو جدیدیت کے  خم و پیچ کو سمجھانے  میں  معاون ہوسکتے  ہیں ، قطعیت سے  عاری ہیں کیونکہ اس صدی کا انسان اپنے  وجود کے  معمے  کوسائنس اور ٹکنالوجی کی معجزہ کار ترقی کے  باوجود حل نہیں کرسکا ہے۔ بقول شمیم حنفی:

    ’’انسان مختلف عضوتیوں کا ایک کُل بھی ہے  اور اپنی ذات میں اسرارورموز سے  معمور ایک ایسی دنیا بھی جس کی حدوں کا سراغ نہیں  ملتا۔اسے  اپنی جستجو بھی ہے  اور وہ اپنے  آپ سے  خائف بھی ہے۔وہ لذت کا جویا بھی ہے  اور لذت کے  احساس سے  خود کو عاری بھی کرتا جا رہا ہے۔وہ اپنے  آپ میں ایک پیچیدہ، متضاد اور ناقابلِ فہم مظہر بن گیا ہے۔بیسویں صدی کی فکر کے  تمام مکاتب اپنے  اپنے  طور پر اس معمے  کو سمجھنے  اور سلجھانے  میں منہمک ہیں۔ کوئی اس کے  باطن کا غواص ہے۔کوئی اس کی مادی ضرورتوں یا سماجی مسائل کے  آئینے  میں اس کے  اصل کو سمجھنے  کا دعویٰ کرتا ہے۔اس کے  ذہنی، جذباتی، نسلی اور تہذیبی روابط یا مذہب، سائنس، فن اور تاریخ کی طرف اس کے  رویوں کی روشنی میں بھی اس کی حقیقت تک رسائی کی جدوجہد جاری ہے۔اس کی الجھنیں ذاتی بھی ہیں اور اجتماعی بھی۔اس لئے  کوئی بھی مکتب ِ فکر اس کے  ہر مسئلے  یا الجھن کو سلجھانے  کی ضمانت نہیں لیتا۔‘‘  ۱؎

    جدیدیت میں کسی نظریہ کی پابندی نہیں ہوتی ہے۔آزادی اس کا کلیدی عنصر ہے۔ اس میں کسی فرد کے  اپنے ’’وجود‘‘  کی اہمیت سب سے  مقدم ہے۔جب ایک انسان کا وجود ہی باقی نہیں رہے  گا تو سماجی شعور، اجتماعیت اور مقصدیت وغیرہ بے  معنی ہیں۔  غرض جدیدیت کا تعلق اجتماعیت سے  نہیں بلکہ فرد کی فردیت تک ہی محدود ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے  کہ فرد جماعت سے  اپنا ایک الگ وجود رکھتا ہے۔وہ جماعت کے  اصولوں کا پابند نہیں۔

     جدیدیت کی داخلیت حقیقی وجود کا ادراک کرتی ہے۔قیاسی وجود کا نہیں۔ اس میں وجدان کی کارفرمائی ضروری ہے  لیکن وجدان کا تعلق رومانی شعراء کے  تخیل سے  نہیں۔ جدیدیت پسند شعراء و ادباء رومانی شاعروں کی طرح اپنے  تخیل کی مدد سے  کسی نئی دنیا کی تخلیق نہیں کرتے  ہیں بلکہ ان کے  وجدان کی رسائی محض عرفانِ ذات تک ہے۔یہ حقیقت مسلّم ہے  کہ جدیدیت کے  اثباتِ ذات کا مفہوم تصوّف کے  عرفانِ وجود سے  بالکل مختلف ہے  لیکن دونوں صورتوں میں فرد کی شخصیت کو ہی توجہ کا مرکز بنایا جاتا ہے۔اور انسان کو احترامِ آدمیت کا سبق بھی پڑھایا جاتا ہے۔اپنے  آپ کو پہچاننے  سے  مراد یہ ہے  کہ وہ اپنی اہمیت کو سمجھے، اُسے  فقط مٹی کا پتلا نہیں گردانا جاسکتا بلکہ اس کے  تصرف میں کائنات کے  اشیاء کو تسخیر کرنے  کا ہنر موجود ہے۔بس فرد کو چاہئے  اپنے  وجود کے  ہونے  کا ثبوت فراہم کرے۔علامہ اقبالؒ کے  بقول:

         تو شب آفریدی چراغ آفریدم

         سفال آفریدی ایاغ آفریدم

       من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم

       من آنم کہ از زہر نو شینہ سازم

   (تو نے  رات بنائی تو میں نے  چراغ بنا لیا۔تو نے  مٹی بنائی اور میں نے  پیالی بنا لی۔میں وہ ہوں جس نے  پتھر سا آئینہ بنایا، میں وہ ہوں جس نے  زہر سے  تریاق بنالی۔)

    تصوّف میں انسان اپنی ذات کی سطح سے  بلند ہو کر اپنی روحانی طاقت کو اتنا بڑھا لیتا ہے  کہ اسے  حقیقت کا عرفان حاصل ہوتا ہے  اور وہ خود کو پہچان کر خدا کو پہچان لیتا ہے۔تصوّف میں جو  ’’  تصوّرِ انسان ‘‘ملتا ہے، اس بارے  میں پروفیسر محمد حسن لکھتے  ہیں  :

  ’’انسان کا منصب یہ ہے  کہ وہ رضائے  خداوندی کو خلیفتہ اللہ فی الارض کی حیثیت سے  پورا کرے  اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے  کہ جب وہ اپنے  آپ کو پہچانے۔یہ سمجھے  کہ اس کی خودی حق ہے، اس کا عرفان خدا کا عرفان ہے  اور خدا کے  عرفان کا طریقہ سوائے  اس کے  اور کچھ نہیں کہ اپنی خودی میں گم ہو کر اپنا عرفان حاصل کیا جائے۔‘‘ خودی عینِ خدا ہے  اس لئے  چاہے  یوں کہہ دیجیے  کہ سوائے  خدا کے  سب معدوم ہے  یا یہ کہہ دیجیے  کہ سوائے  خودی سب معدوم ہے ‘‘ اسی لئے  عظمتِ انسانی کے  جو زمرے  صوفیوں کے  ہاں ملتے  ہیں وہ کسی اور کے  ہاں نہیں ملتے۔‘‘ ۲؎

   انسان زمین پر خدا کا نائب اور خلیفہ ہے  اس لئے  صفاتِ خداوندی کا عکاس اور مظہر ہے۔اس کا رازداں اور امین ہے۔اکثر مفکرین اور صوفیا کی رائے  میں انسان اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے  باوجود اپنی خدادا صلاحیتوں اور قدرتِ تسخیر کی بدولت کائنات کی دیگر تمام مخلوقات سے  افضل و اعلیٰ ہے۔اسی لئے  خدائے  سخن میر تقی میرؔ آدمی کے  انسان ہونے  کو بہت مشکل کام سمجھتے  ہیں  :

    ؎  مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے  فلک برسوں

     تب خاک کے  پردے  سے  انسان نکلتے  ہیں

  بقولِ خواجہ میر دردؔ:

          ؎  تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

          دامن نچوڑ دیں تو فرشتے  وضو کریں

   جدید دور کا انسان خود اپنی زد پر ہے۔آپ ہی آپ اپنا ہدف ہے، زندگی کی جو سب سے  انمول شئے  داؤ پر لگی ہوئی ہے  وہ انسانیت ہے۔انسان کو فطرت سے  اتنا خطرہ نہیں جتنا اپنے  آپ سے  ہے۔ وہ اپنے  ذہن کا مقتول ہے  اور اپنی ذات کا خودقاتل بھی۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے  کہ زمان و مکان کے  اسرار تو روشن ہوتے  جارہے  ہیں مگر فرد اپنے  وجود سے  دور ہوتاجا رہا ہے۔ نفسیات کا علم اس کے  ذہنی اختلال و امراض کا سراغ تو لگا سکتا ہے  مگر اس کی ٹوٹی ہوئی شخصیت کو جوڑ نہیں سکتا۔خود غرضانہ قیادت، فوجی آمریت، استحصال اور سب سے  بڑھ کر مذہبی رجعت پسندی اور عصبیت کے  ہاتھوں انسانیت مکمل تباہی کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ عجیب المیہ ہے  کہ تمام مذاہب کا اتفاق صرف باہمی نفاق پر ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں  کہ سائنس نے  انسان کو فطرت کی غلامی سے  نجات دلائی ہے  اور طرح طرح کی مادی آسانیاں فراہم کی ہیں۔ سائنس کے  ذریعے  قحط، جہالت، غربت، خطرناک بیماریوں سے  بہ آسانی تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے  لیکن انسانی خود غرضی اور ہوس پرستی کے  نتیجے  میں سائنسی ارتقاء کے  بطن سے  تہذیبی انتشار نے  جنم لیا ہے  جس کی وجہ سے  انسانی سماج غیر متوازن ہے۔انسانیت تاریخ کے  سب سے  بڑے  انتشار کی راہ پر گامزن ہے۔جوہری توانائی انسانی فلاح وبہبود کے  بجائے  ہلاکت وبربادی کے  لئے  استعمال کی جا رہی ہے۔یہ رجحان روزبروز بڑھتا جا رہا ہے  اور دنیا تباہی کے  دہانے  پر پہنچ چکی ہے۔ہر طرف خوف ودہشت کی گٹھا چھائی ہوئی ہے۔زندگی waste Landکی مانند بن چکی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں  :

  ؎    ہم بھی اب گوشے  میں بیٹھے  مانگتے  ہیں یہ دعا

      جنگ سب لڑتے  رہیں اور کامراں کوئی نہ ہو

      یہ بھی کیا قربِ قیامت کی نشانی ہے  امامؔ

      رہنما ہی رہنماہوں کارواں کوئی نہ ہو

                  (مظہر امامؔ)

     کیسی محفل ہے  یہاں میں کس طرح سے  آگیا

      سب کے  سب خاموش بیٹھے  ہیں کوئی گویا نہیں

                   (  شہر یار  )

      زمین نے  مانگ لیا آسمان نے  چھین لیا

      ہمارے  پاس نہ اب جسم ہے  نہ سایا ہے    (  بشیر بدرؔ  )

       وقت اس طرح بدل ڈالے  گا چہرے  کے  نقوش

       اپنے  ہی عکس کو میں دیکھ کے  ڈر جاؤں گا   (شادابؔ رضی)

     جدیدیت کے  بنیاد گزار شمس الرحمٰن فاروقی کے  بقول:

    ؎   دنیا بہت  بڑی ہے  انسان مختصر ہے

      ساری ہوس کا حاصل، اے  جان مختصر ہے   ۳؎

    روشن خیالی کے  خواب نے  ہمیں اُن چیزوں سے  دور کیا جو ہمارے  وجود میں  شامل تھے۔ صنعتی تہذیب نے  ہر شئے  کو غیر مشخص(Depersonalised) کر دیاہے۔مشینوں کے  آلات نے  احساسِ مروّت کو کچل ڈالا، اس عمل نے  انسانی جذبوں اور قدروں کو بے  توقیر کر دیا۔مشینی ماحول نے  فرد کی انانیت اور اس کی تخلیقی وجمالیاتی اُپج پر بھی قدغن لگا دی یوں بحیثیت مجموعی وہ ایسا پرزہ بن کے  رہ گیا جو ایک یکساں میکانکی عمل کے  تحت حرکت کرنے  پر مجبور ہو۔یہ عمل  شخصی اور سماجی ہر دو سطحوں پر بکھراؤ کا باعث بنا۔جذبوں کے  مردہ ہوجانے  اور احساسات کے  کچل جانے  کی بدولت مادیت پرستی، منافقت اور دوغلے  پن ودوہرے  پن کے  مسائل پیدا ہوئے۔روایات و اقدار کی ٹوٹ پھوٹ اور معاشرتی زندگی کی شکست وریخت میں افراد بے  چہرہ  ہوگئے، شناخت مسخ ہوگئی اور ایک بڑی سطح پر گمشدگی کے  المیے  نے  جنم لیا۔فرد منتشر خیالی اور ذہنی آلائش میں مبتلا ہوتے  ہوئے  مخصمے  میں گرفتار ہوا۔بکھرتا وجود اسے  کہیں قرار نہیں لینے  دیتا۔اس کے  اندر اور باہر کی دنیا میں سازگار ہم آہنگی نہیں۔ وہ صحت مند شخصیت سے  محروم کٹی ہوئی پتنگ کی طرح بے  معنویت کی راہ پر بے  اختیار محوِ سفر ہے۔اس طرح انسان کی ذات معاشرے  میں  ایک مسئلہ(Problematic) بن چکی ہے  جہاں  سب سے  بڑاissue تشخص کی تلاش(Identity Crises)، جہاں کوئی قدر مستقل حیثیت نہیں رکھتی، مذہب مفروضہ بن گیا ہے  اور علم صارفیت(Consumerism) کی نظر ہوچکا ہے۔ فردکی زندگی اور عمل کی باگ ڈور اُن ہاتھوں میں ہے  جن سے  اس کا رشتہ اگر ہے  تو صرف کاروباری۔اس لئے  اپنی ہر فعلیت میں وہ ’’خود‘‘کو غائب پاتا ہے  اور ہر لمحہ اپنے  وجود کو ماحول سے  متصادم دیکھتا ہے۔ چنانچہ اس انتشار میں فرد کا وجود فطری طور پراُلجھن کا شکار ہوا ہے  اور خود فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے  کہ ہر چیز اپنے  اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ہستی کی اصل چونکہ عدم ہے، اس لئے  زندگی کا موت پر انجام پذیر ہونا ایک قدرتی عمل اور خودکار فعلیت کی آخری حد۔گویا زندگی انسان کی عادت ہے  اور موت اس کی مجبوری۔ غرض جدید یت کے  دور کی شاعری بھی اسی کشمکش میں سرگرداں ہے  کہ اس کی ذات کی گمشدگی کا معاملہ پھر سے  بحال ہواور یہ انسانِ کامل کے  درجے  پر فائز ہوجائے۔انسان کے  لئے  سب سے  اہم مسئلہ وقت کے  تناظر میں آپ اپنی حقیقت اور حیثیت کے  ادراک کا ہے۔یہی تلاش اسے  کبھی وقت کے  تسلسل کو ٹکڑے  ٹکڑے  کرکے  کسی ایک سے  خود کو مربوط کرنے  پر آمادہ کرتی ہے  کبھی وہ اس مسلسل اور نمو پذیر حقیقت کے  اولین اور آخری نقطے  کے  درمیان اپنی جگہ ڈھونڈتا ہے  اور اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنی منزل کا نشان کہاں ثبت کرے۔مراجعت، مستقبلیت، وجودیت اور تصوّف کے  متوازی میلانات موجودہ انسان کی اسی کشمکش کا پتہ دیتے  ہیں۔ شمیم حنفی لکھتے  ہیں  :

      ’’سائنس کی ترقی کے  ساتھ عقل نے  انسان کو موہوم عقائد کے  دلدل سے  نکالا تو انسان نے  عقل ہی کی پرستش شروع کر دی۔لیکن عقیدہ انسان کو جو نفسیاتی طاقت بہم پہنچاتا ہے  وہ عقل سے  ممکن نہ ہوا۔چنانچہ انسان کی الجھنیں برقرار رہیں۔ عقل کی اسی ناکامی کے  جواب میں جدیدیت نے  کبھی مذہب کی طرف قدم بڑھایا، کبھی جبلت کی اہمیت جتائی، کبھی اساطیر اور توہمات میں نئے  معنی ڈھونڈے، کبھی تاریخ کے  ایک نئے  تصور کی مدد سے ’’ ماضی کی حالیت‘‘ کا خاکہ تیار کیا۔‘‘  ۴؎

    جدیدیت میں اس گمشدگی کا معاملہ فرد کی ذات سے  شروع ہوتا ہے  اور گھر کی دہلیز، گلی، محلے، گاؤں ، شہر اور ملک سے  ہوتا ہوا کائناتی حدوں تک پھیل جاتا ہے۔ذات کے  گرداب میں اس گمشدگی کی ایک صورت باطن کی غواصی کی بدولت سامنے  آئی۔ باطن کی غواصی پہلے  بھی موجود تھی اور اُردو شعراء کے  ہاں صوفیانہ وارداتیں رقم کرنے  کی روایت موجود رہی ہے  لیکن یہ ایک باقاعدہ عمل تھا۔من میں جھانکنے  کے  لئے  پہلے  تربیت حاصل کی جاتی تھی۔مرشد سے  پلوباندھ کر خود کو مشقت کی بھٹی میں تپایا جاتا تھا۔تب کہیں جا کر کشف وکرامات کے  دفتر کھلتے  تھے۔جدیدیوں کی باطن میں غواصی باقاعدہ تربیت اور کسی روحانی سہارے  کے  بغیر تھی، چنانچہ اندر جھانکنے  پر اندھیرا نظر پڑا اور خود کی تلاش میں کھو جانے  او رگمشدہ ہوجانے  کا احساس تخلیقی عمل کا بھی حصہ بنا۔ ۱۹۵۵؁ء کے  بعد آدمی کو اپنی آدمیت یا وجود کے  تحفظ کا احساس جس قدر شدید ہے  اتناپہلے  کبھی بھی نہیں تھا۔وجود کے  گُم ہونے  کے  احساس کے  ساتھ ہی جدیدیت میں بے  چہرگی کی بات کی جانے  لگی۔

     بے  چہرگی کا احساس خارجی طور پر بھی ہوسکتا ہے  اور داخلی طور پر بھی۔خارجیت کے  حوالے  سے  جدید دورکا آدمی محسوس کرتا ہے  کہ وہ اپنے  اصل چہرے  کے  ساتھ لوگوں کے  سامنے  نہیں آسکتا ہے  اس کی ریاکاری ہی اسے  اداکاری پر مجبور کرتی ہے۔بقول تاج پیامی:

           ؎   دوستی سب سے  جو اے  تاج نبھاتا ہوگا

             اپنے  چہرے  پہ کئی چہرے  لگاتا ہوگا

   بقولِ ندا فاظلیؔ:

   ؎           ہر آدمی میں ہوتے  ہیں دس بیس آدمی

            جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

     اور داخلی طور پر بے  چہرگی کا مطلب یہ ہے  کہ انسان کو یہ احساس ہو کہ اس کی ذات بھیڑ میں  گُم ہوگئی ہے۔شکیب ؔجلالی اس نقطے  کو اپنی شاعری میں یوں سمجھاتے  ہیں  :

       ؎   جانا تھا کدھر اور چلے  جاتے  ہیں کس سمت

          بھٹکی ہوئی اس بھیڑ میں سب سوچ رہے  ہیں

   کوئی معاشرہ ہو یا بھیڑ یا ماحول وہ فرد کو اپنے  جیسا بنا دینا چاہتا ہے  گویا یہ ایسی جبری طاقتیں ہیں جو کسی بھی فرد سے  اصلی خوبی یعنی اس کی ذات یا فردیت چھین کر اسے  بے  چہرہ بنا دینا چاہتے  ہیں۔ اس سے  آزادیٔ انتخابِ عمل اور فیصلۂ حق ہڈپنے  کی کوشش کرتے  ہیں۔ یقینا جدیدیت کے  دور میں  ایک انسان کو ایسا محسوس ہونے  لگا کہ اس کا وجود یعنی ’’میں  ‘‘ بھیڑ میں گُم ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے  کہ جدیدیت پسند شعراء اپنی شاعری میں انسانی اقدار، فرد کی فردیت،  وجدان، داخلیت، عرفانِ ذات وغیرہ جیسے  وسیع و عریض موضوعات کو برتنے  کی سعی کرتے  ہیں جو کہ تصوّف کے  بھی بنیادی لوازمات میں سے  گردانے  جاتے  ہیں۔ انسانیت کی بکھرتی ہوئی صورتِ حال کو مدِنظر رکھ کر اس عہد کا فرد خصوصاً شاعر اپنی عافیت یا پناہ ابدی سکون کی طرف رجوع کرنے  میں ہی ڈھونڈتا ہے  اور جس سچائی کی تلاش(Search for ultimate reality) کے  لئے  وہ محوِ سفر ہے  اس کی منزل سوائے  تصوّف کے  کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہی وہ مرحلہ یا حالت ہے  جس میں انسانی وجود کو سکون میسر ہوسکتا ہے۔چونکہ جدیدیت کا خاصا بھی رہاہے  کہ یہ اُردو ادب میں ان موضوعات کو چھونے  کی کوشش کرتی ہے  جو تصوّف میں پہلے  سے  ہی موجزن ہیں۔ یہ اور بات ہے  کہ تصوّف کی ابتدا و انتہا ذاتِ خداوندی پر منحصر ہوتی ہے  جو کہ جدیدیت سے  مختلف ہے۔ اگرچہ جدیدیت انسان کے  شعور میں  پیوست ایک نئی مذہبیت کا سراغ ضرور لگاتی ہے  لیکن یہاں عبد اور معبود دونوں فرد کی ذات میں مدغم دکھائی دیتے  ہیں۔ پھر جدیدیت ادب(فن) کو روحوں کی فتح کاوسیلہ نہیں سمجھتی۔بلکہ انہیں بے  نقاب کرتی ہے  اور انسانی وجود کی مخفی سطحوں کو سامنے  لاتی ہے۔یہ سطحیں صنعتی معاشرے  اور مادی اقدار کی دھند میں چھپ گئی ہیں۔ اس کا کام ایک نئی حقیقت پسندی کی اس دھند سے  نکل کر لامحدود حقیقتوں  (Ultimate Reality)تک پہنچنا مقصود ہے۔اس طرح یہ انسان کے  پورے  وجود کا منظر نامہ مرتب کرتی ہے۔ فرد کی فردیت تک انسانی ذات کو Centralised کرنے  کی وجہ سے  جدیدیت کے  ماننے  والے  خدا کی وحدانیت کا سرے  سے  ہی انکار کرتے  ہیں اور پھر ذات کے  خول میں بند ہوکر زندگی کے  دوسرے  تقاضوں سے  منحرف ہوجاتیہیں  جس کی بنا پر ایک فردلایعنیت، تنہائی، اجنبیت، گمشدگی، بیگانگی، حزن وملال کا شکار ہوکر خودکشی کرنے  کی طرف قدم بڑھاتا ہے  اور زندگی سے  ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔اس انفرادیت زدگی نے  ان کو معاشرے  سے  الگ کر دیا ہے  اور ان کی تخلیقی سرگرمیوں کو انتہائی حد تک محدود۔بقولِ مہتاب حیدر نقوی:

      ؎      اَزل سے  یہی ’’دستور‘‘ دنیا کا رہا ہے

           جسے  جینا ہے  وہ مرنے  پہ اکسایا گیا ہے

    گوپی چند نارنگ کے  مطابق:

     ’’دراصل اجنبیتAlienation یعنی لایعنیت اور لغویت کے  معنی فلسفے  کی خوش آئند(Euphemistic) شکل ہے۔ادب میں داخلیت اور باطنی منظرنامے  کی اہمیت سے  انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن جدیدیت میں شکستِ ذات اور لایعنیت کی لے  اس قدر بڑھائی گئی کہ ایک غیر صحت مند داخلیت کی تکرار ہونے  لگی۔زندگی کے  فقط منفی پہلو پر زور دیے  جانا اتنا ہی ٖ غلط ہے، جتنا فقط رجائی پہلو کا راگ الاپتے  رہنا۔‘‘  ۵؎

    اس میں دورائے  نہیں کہ جدیدیت منفیت کا شکار ہوئی لیکن اس کی مایوسی ایک نئی امید کی  جستجو، اس کا اضطراب ایک نئے  سکون کی تلاش اور سائنسی عقلیت یا صنعتی ترقی کی طرف سے  اس کی بے  اطمینانی ایک نئی وجودی اور روحانی(تصوّف) شعور کی ضرورت کا بلاواسطہ طور پر احساس دلاتی ہے۔ وہ رجائی اس لئے  نہیں کہ اسے  انسانی صورت ِ حال کی خرابیوں کا سچاشعور ہے۔

   جدید شعرا نے  فردکے  وجود کی بگڑتی ہوئی حالت جو ایک المیہ سے  کم نہیں ، اسے  اپنی شاعری کے  ذریعے  پیش کرنے  کی کوشش کی ہے  اور انفرادی و اجتماعی سطح پر انسان کی بے  توقیری، بے  چہرگی اور گمشدگی کی متنوع صورتوں کو اُجاگر کیا ہے۔اس ضمن میں چنداشعار ملاحظہ فرمائیں  :

       میں بھی اب تو میں نہیں جیسے

       یہ مجھ کو کیا وہم ہوگیا ہے       (ناصر کاظمی  ؔ)

    عصری حسیت اور وجود کے  بارے  میں ساقی فاروقی کا یہ شعر:

    ؎     میرے  احساس میں آگ بھری ہے  کس نے

      رقص کرتا ہے  مرے  سانس میں شعلہ کس کا

  یہاں ساقی فاروقی کی ایک خوبصورت نظم ’’خالی بورے  میں  زخمی بلا‘‘بھی پیشِ خدمت ہے  جس میں انہوں نے  تنہائی کی زہر آلود فضا کو فنی چابکدستی کے  ساتھ بیان کیا ہے :

    ؎       جان محمد خان

          سفر آسان نہیں

        دھان کے  اس خالی بورے  میں

          جان الجھتی ہے

       پٹسن کی مضبوط سلاخیں دل میں گڑی ہیں

        اور آنکھوں کے  زرد کٹوروں میں

      چاند کے  سکے  چھن چھن گرتے  ہیں

       اور بدن میں رات پھلتی جاتی ہے

         آج تمہاری ننگی پیٹھ پر

        آگ جلائے  کون

       انگارے  دہکائے  کون

      جدوجہد کے  خونیں پھول کھلائے  کون

       میرے  شعلہ گر پنجوں میں جان نہیں

       آج سفر آسان نہیں

      تھوڑی دیر میں یہ پگٖڈنڈی

      ٹوٹ کے  اک گندے  تالاب میں گر جائے  گی

     میں اپنے  تابوت کی تنہائی سے  لپٹ کر

         سو جاؤں گا

        پانی پانی ہوجاؤں گا

       اور تمہیں آگے  جانا۔۔۔۔

     اک گہری نیند میں چلتے  جانا ہے

      اور تمہیں اس نظر نہ آنے  والے  بورے

      اپنے  خالی بورے  کی پہچان نہیں

       جان محمد سفر آسان نہیں

     افہام و تفہیم کے  حوالے  سے  ساقی فاروقی کی یہ نظم بعنوانِ ’’ خالی بورے  میں زخمی بلا‘‘ قاری کو پوری طرح سے  اپنی گرفت میں لے  لیتی ہے۔نظم کے  ابتدائی حصّے  میں ہی یہ بات باور کرائی جاتی ہے  کہ ’’سفر آسان نہیں  ‘‘ ہے  کیونکہ اپنے  ’’وجود ‘‘یا روح کو اس مٹی کے  ڈھانچے  میں بسانا، نہایت مشکل کام ہے۔جسم کے  ڈھانچے  کو ’’ دھان کے  اس خالی بورے ‘‘ سے  تعبیر کیا گیا ہے  جس میں سے  جان اُلجھتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے  کہ ’’جان محمد خان‘‘ کا فرضی نام گڑھ کر شاعر آخر بار بارکس سے  مخاطب ہوتا ہے۔آنکھوں کے  زرد کٹوروں میں چاند کے  سکے  کا چھن چھن گرنا، بدن میں رات پھیل جانے  کی باتیں ، ننگی پیٹھ پر آگ جلانا اور انگارے  دہکانا، جدوجہد کے  خونیں پھول کھلانا، تھوڑی دیر میں  پگڈنڈی کا ٹوٹ کر اک گندے  تالاب میں گر جانا اور پھر اپنے  تابوت کی تنہائی سے  لپٹ کر سو جانا، ایسے  مکالمے  ہیں جن پر خود کلامی کا نقش جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اگر یہ کہا جائے  تو غلط نہ ہوگا کہ شاعر علامتی معنوں میں  ’’جان محمد خان‘‘ کو ڈھال بنا کر اپنے  آپ یعنی ’’وجود‘‘ جس کی حیثیت ’’خالی بورے  میں زخمی بلا‘‘ کے  سوائے  کچھ بھی نہیں ، سے  گویا ہوئے  ہیں کہ ’’آج سفر آسان نہیں  ‘‘ ہے، ان کے  شعلہ گر پنجوں میں اب جان باقی نہیں رہی۔وہ پوری طرح سے  ٹوٹ چکے  ہیں۔ ٹھیک ہے  ان کی ذات آگے  جانے  کی متلاشی ہے  لیکن آگے  جانے  کی خواہش فقط گہری نیند میں چلتے  جانا ہے  اس کے  بنیادی وجوہات شاعر یہ بتاتے  ہیں کہ ایک تو انہیں اپنی ہی پہچان نہیں اور دوسرا سفر بہت کٹھن ہے۔

   کمار پاشی کا یہ شعر:

   ؎     بلا رہی ہے  بہت دور کی صدا کب تک

         میں اپنے  ہونے  کے  ڈر میں ہوں مبتلا کب سے

     بقولِ تاج پیامی:

    ؎      جدید دور ہے  انتشار کا دور

       وہ شاعری میں بھی اب انتشار مانگے  ہے

     جدید شاعری میں جو قنوطیت اور زندگی کی بے  معنویت بڑھ گئی تھی اس کی بنیادی وجہ خداپرایقان کے  فقدان کی بدولت ہے۔جب عقائد ٹوٹنے  لگیں ، نظریے  معدوم ہوجائیں اور رشتوں ناطوں میں کوئی کشش نہ رہے  تو لغویت و قنوطیت، منفیت کے  عناصر بیدار ہوجاتے  ہیں۔ نئے  زمانے  میں سائنسی و مادی ارتقاء نے  تشکیک کا جو بیچ بویا اس نے  ہر سطح پر تخریبیت کو ہوا دی۔نئے  ذہن نے  جدیدیت کے  جوش میں زندگی کے  منضبط دائروں کو توڑ کرآزاد فضاؤں میں سانس لینے  کو ترجیع دی لیکن یہ آزادی کوئی مثبت نتائج پیدا نہ کرسکی۔نئی شاعری اس انسان کے  تجربوں سے  نمودارہوئی جو خدا کے  بغیراپنی حقیقت، حقوق اور مناصب کو سمجھنے  پر مجبور ہے ، جو سکون چاہتا ہے  لیکن کسی ہادی ٔ برحق کی رہنمائی کے  بغیر، جو زندگی کی لذتوں سے  فیضیاب ہونا چاہتا ہے  لیکن کسی نظریے  یا روحانی قدر میں ایقان کے  بغیر اورجو اپنے  وجود کو سر کرنا چاہتا ہے  لیکن آداب ِ خداوندی سیکھے  بغیر۔نصب العین کی عدمِ موجودگی اور عقیدے (تصوّف) سے  دوری نے  شخصیت کی نامیاتی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔

     قوموں کی بقاء و سلامتی باہمی اتفاق اور امن و مساوات پر منحصر ہوتی ہے۔اگر کسی قوم کی بنیادیں امن و چین کے  بجائے  جبروتشدد اور ظلم و بربریت پر استوار ہوں تو ایسی اقوام کا وجود و ماہیت صفحۂ ہستی سے  مٹ کر تاریخ کے  گُمشدہ اوراق کا حصّہ بن جاتا ہے۔یہ صوفی بزرگ ہی تھے  جنہوں نے  اپنی انتھک کاوشوں اور بے  لوث قربانیوں سے  ہر زوال پزیر قوم کو راہِ راست پر لانے  کی کوشش کی اور صحیح اسلامی اقدار کو روا رکھا۔انہوں نے  امن و محبت،  سلامتی کی تبلیغ کی اور اپنے  قول و عمل سے  شر انگیزی کو دور کرنے  میں بھی کامیاب ہوئے۔وہ لوگ جو دراصل حقیقی صوفیاء کہلائے، انہوں نے  معاشرے  میں  امن و امان کے  قیام او ربھائی چارے  کے  فروغ کے  لئے  ہمہ وقت جہد وجہد کرکے  اپنا دل تقویٰ و طہارت سے  آراستہ کیا۔اقبالؒ  حقیقی صوفیاء کی عظمت کا اعتراف کرنے  میں  کچھ اس انداز سے  گویا ہوئے  ہیں  :

   ؎    جلا سکتی ہے  شمعِ کُشتہ کو موجِ نفس ان کی

      الٰہی!کیا چُھپا ہوتا ہے  اہلِ دل کے  سینوں میں

      تمنّا ہو دردِ دل کی تو کر خدمت فقیروں کی

      نہیں ملتا  یہ گوہر بادشاہوں کے  خزینوں میں

       نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو

       یدِ بیضا لیے  بیٹھے  ہیں اپنی آستینوں میں

      ترستی ہے  نگاہِ نارسا جس کے  نظارے  کو

       وہ رونق انجمن کی ہے  انہی خلوت گزینوں میں   ۶؎

     تاریخ گواہ ہے  کہ قیام امنِ عالم کے  لئے  صوفیاء کا کردار اپنی مثال آپ رہا ہے۔آج کون اس بات سے  انکار کر سکتا ہے  کہ دور دراز ممالک میں اگر قلب ونظر کے  سومنات کسی نے  فتح کئے  تو وہ یہی اصحابِ صوفیاء تھے، یہی وہ نفوس تھے  کہ جنہوں نے  وعظ و تلقین ہی سے  نہیں بلکہ انسان دوستی کے  طور طریقوں یا رویوں سے  دلوں کی دنیا کو مسخر کیا۔یہ وہ کام ہے  جس کے  لئے  جسمانی طاقت کی نہیں بلکہ روحانی قوت اور مصمم ارادے  کی ضرورت ہوتی ہے۔گویا صوفیائے  کرام نے  تیغ و سناں کی بجائے  زبان کی مٹھاس اور کردار کی آشفتگی کو اپنا ہتھیار بنایااور لوگوں کے  اجسام کے  برعکس دلوں اور روحوں پر اپنا تسلط قائم کیا۔اخلاق کی حلاوت تلوار کی تیز دھار سے  بھی بڑھ کر کارگر ثابت ہوتی ہے  انہوں نے  اسی کو پیشِ نظر رکھ کر رشدو ہدایت کا کام بخوبی انجام دیا یہی وجہ ہے  کہ لوگ جوق در جوق ان کے  حلقۂ عقیدت میں شامل ہوئے۔اقبالؒ نے  اپنی شعر و شاعری میں صوفیاء کے  ان ہی اخلاقی اوصاف کو بارہا سراہا ہے :

   ؎     نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

       وہ سپر کی تیغ بازی یہ نگہ کی تیغ بازی

     جدیدیت کا رجحان اگرچہ ساختیاتی تبدیلیوں سے  متعلق تھا لیکن ترقی پسندوں کی مخالفت میں اس نے  خارجیت اور اجتماعیت کی بھی نفی کی اور اُردو ادب میں داخلیت اور شخصی حوالوں کو زیادہ اہم سمجھا۔اس حوالے  سے  تصوّف سے  بھی استفادہ کیا گیا لیکن زیادہ تر وجودی نظریات ہی رہنما بنے۔نتیجتاً ہوا یہ کہ جدید اُردو شاعری فکری طور پر انسان کی بے  بسی اور زندگی کی بے  معنویت کا نوحہ بن گئی۔زیست کی مثبت قدروں اور انقلابی رویوں کی طرف کم توجہ رہی او رسماجی زندگی کے  خارجی حوالے  بھی ادبی افق سے  رفتہ رفتہ غائب ہوگئے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یہ صورتِ حال زیادہ شدت اختیار کئے  رہی۔جدیدیوں کی خامی فقط یہی ہے  کہ یہ لوگ نہ تو  تصوّف کو پوری طرح سے  اپنا سکے  اور نہ ہی انہوں نے  خدا کی لازوال ہستی کا اقرار کیا جس کی بنا پر ان حضرات نے  زندگی سے  فرار اختیار کرلیا۔اس رجحان کے  ماننے  والوں پر جون ایلیا ؔ کا یہ شعر صادر آتا ہے :

    ؎    مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے  کی نہ تھی

       مجھ میں کھویا رہا خدا میرا

     آج کے  پرآشوب دور میں اگر دیکھا جائے  تو انسانیت پھر امن و سکوں کی تلاش میں سرگرداں حیران اور پریشان ہے۔زمین بنی آدم کے  خون سے  رنگین ہوچکی ہے۔نفرتوں اور عداوتوں کا نہ تھمنے  والا سلسلہ رواں دواں ہے، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، دن دہاڑے  عزت و آبرو نیلام ہوتی ہے۔جاہ و ثروت کی خاطر انسانی اقدار روندی جارہی ہیں۔ عورتوں کی عصمت ریزی ابھی بھی نقطۂ عروج پر ہے۔ہند سے  عرب تک، وسطی ایشیا سے  یورپ تک، جاپان سے  امریکہ تک انسان ظلم و بربریت، فرقہ واریت، دہشت گردی، انتہا پسندی اور تنگ نظری کی آگ میں جل رہا ہے۔ظلم کی چکی میں پستا ہوا انسان پھر کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہے، ذات پات کے  جھگڑوں میں لہو لہان زندگی آج پھر صوفیا سے  امن کی خیرات طلب کر رہی ہے۔امنِ عالم کے  لئے  پھر اس تصوّف کی ضرورت ہے  جس سے  کائنات میں  محبت، اخوت، اخلاق اور روحانیت کو روا رکھ کر انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے  تاکہ دنیا  امن و سکون کی حقیقت سے  روشناس ہو۔اگر ہم زندگی میں نظم و ضبط، خوشی و مسرت اور ابدی سکون چاہتے  ہیں تو ہمارے  لئے  ضروری ہے  کہ ہم ماضی کی طرف مراجعت کریں اور دیرینہ روحانی و اخلاقی ضوابط و اقدار کی طرف لوٹے۔تصوّف کے  بغیرموجودہ انسان اس تمام ترقی کے  باوجود اپنی مکمل تباہی اور خاتمے  ہی کی طرف تیزی سے  بڑھ رہا ہے۔ زندگی کی تیز گامی اور وقت کی برق رفتاری میں ہم نے  تصوّف کو نظر انداز کر دیا ہے، اسے  پھر سے  اپنانا ہوگا تب جا کے  کئی اماں مل سکتی ہے۔اس کے  بغیر زندگی، معاشرہ اور فرد میں اعتدال و توازن کا رشتہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ انسان اس قدر بکھر چکاہے  کہ اس کے  لئے  اپنی ہی ذات راستے  کا پتھربن گئی ہے۔ وہ گناہ کرنے  میں زندگی کا سراغ تلاش کرتا ہے  اورگناہوں میں ملوث ہونے  میں  اپنی عافیت۔ وہ دوسروں کی پرستش کرنے  سے  بہت زیادہ تنگ آگیا ہے ،  سچائی اس کے  سامنے  ہزارہا روپ لیکرسامنے  آتی ہے ،  اب وہ ہردہلیزپر اپنی پیشانی نہیں جھکا سکتا۔یہی وجہ ہے  کہ وہ ہر نفی میں اثبات کے  پہلوڈھونڈنے  کی سعی کرتا ہے  کیونکہ فرد جب دوسروں کی مرضی ومنشا کے  مطابق ایک ’’  شئے ‘‘ کے  طور پر جینے  اور عمل کرنے  میں اپنی حقیقت کا غیاب دیکھتا ہے  تو انکار و احتجاج میں اپنی حقیقت کے  ادراک کی کوشش کرتا ہے۔اس مقصد کے  تحت وہ خود کو ہر ذہنی اور جذباتی سہارے  کے  فریب سے  نکالنے  کی جدوجہد بھی کرتا ہے :

     ؎    سنا ہے  زندہ ہوں حرص وہوس کا بندہ ہوں

        ہزار پہلے  محبت گزار میں بھی تھا

         مجھے  گناہ میں اپنا سراغ ملتا ہے

        وگرنہ پارسا و دیندار میں بھی تھا

         مجھے  عزیر تھا ہر ڈوبتا ہوا منظر

         غرض کہ ایک زوال آشکار میں بھی تھا

                     ( ساقیؔ فاروقی)

     جدیدیت جس نئی حقیقت پسندی سے  عبارت ہے  اس کی جہتیں مختلف حقیقی اور غیر حقیقی (لغوی معنوں میں  )طبیعی اور مابعدالطبیعاتی، مادی اور روحانی منطقوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جسمانی سطح پر غیر محفوظیت، بے  اطمینانی اور خوف کے  احساس نے  سائنسی عہد کے  انسان کو تصوّف اور مابعدالطبیعات پر پھر سے  نظر ڈالنے  کی دعوت دی ہے  چنانچہ باطنی زندگی کے  مظاہر کو اب وہ حقارت اور تمسخر کی نگاہ سے  نہیں دیکھتا اور نہ ہی تضحیک کا نشانہ بناتا ہے۔ اس کا باطن ہی اسے  اس کی انفرادیت اور وجود کی وحدت کا شعور دیتا ہے، نیز اسی سطح پر وہ فکر و عمل کے  تصادمات اور ذاتی و اجتماعی زندگی کے  تضادات کو محسوس کرتا ہے  اور اپنی کلّیت کی حقیقت کو پہچانتا ہے۔ یورپ  نے  تصوفّ سے  بھر پور استفادہ کیا اور پھر انسان جتنا تعقل پسند بنتا گیا اس نے  روحانیت سے  بھی فرار اختیارکیا۔لیکن دل کے  پاس بھی ایسی منطق ہوتی ہے  جسے  عقل نہیں سمجھ سکتی۔ بلیزپاسکل کا ماننا ہے :

“The heart has reason of its own which the reason does not understand.”  7

   بقول محمد حسن عسکری:

    ’’ازمنہ وسطی میں یورپ کے  عیسائیوں کے  پاس ظاہری علوم بھی تھے  اور باطنی بھی۔باطنی علم یا علمِ توحید ان لوگوں کے  یہاں ایسی مکمل صورت میں نہیں تھا، جیسے  ہمارے  یہاں تصوّف ہے۔مگر تھا ضرور۔اس بات کی صریح شہادتیں موجود ہیں کہ عیسائیوں نے  ا س علمِ توحید میں مسلمان صوفیاء سے  استفادہ کیا تھا۔مثلاً تیرہویں اور چودہویں صدی میں حضرت ابنِ عربی  ؒ کی تعلیمات یورپ کے  متصوفانہ حلقوں میں اتنی مقبول تھیں کہ کلیسا نے  انہیں اپنا حریف سمجھا اور ان پر پابندی لگا دی۔‘‘  ۸؎

  افتخار عارفؔ کا ایکخوبصورت شعر ہے :

  ؎    وہی چراغ بجھا جس کی لَو قیامت تھی

     اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

حواشی:

   ۱؎   ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘ شمیم حنفی، ص:۷۶۔۷۵، مطبع:قومی کونسل برائے  فروغ اُردو زبان، نئی دہلی، سنہ اشاعت:۲۰۰۵

  ۲؎   ’’ اُردو شاعری کا تہذیبی و فکری پس ِ منظر‘‘،  پروفیسر محمد حسن، ص:۲۵۱

 ۳؎  ’ ’  شبِ خون ‘‘ شمس الرحمٰن فاروقی ، شمارہ: ۱۹۹۲

  ۴؎   ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘ شمیم حنفی، ص:۲۰۸۔۲۰۷، مطبع:قومی کونسل برائے  فروغ اُردو زبان، نئی دہلی، سنہ اشاعت:۲۰۰۵

  ۵؎  ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، مقالہ’’جدیدیت اور مابعدجدیدیت‘‘ از ’’مابعد جدیدیت:نظری مباحث‘‘ناصر عباس نیّر، ص:۱۱۰، مطبع:حاجی حنیف اینڈ سنز پرنٹنگپریس لاہور، سنہ اشاعت، ۲۰۱۴

  ۶ ؎ ’’کلیاتِ اقبال‘‘(اُردو) مع فرہنگ، مرتب:عبدالحمید یزدانی، ص:۱۴۷، مطبع:کاک پرنٹرس، دہلی، ۲۰۰۱

  ۷؎  Blaise Pascal,”The thoughts of Blaise pascal(1669)

Translator:Charles kegan paul

  ۸ ؎  ’’جدیدیت‘‘، محمد حسن عسکری، ص:۳۴، مطبع:ادارۂ فروغ اسلام لاہور، سنہ اشاعت:۱۹۹۷

٭٭٭٭

صابر شبیربڈگامی

ریسرچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونی ورسٹی

Email:darshabir36037@gmail.com

فون نمبر:9596101499

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.