آزادی کے  بعد ہندوستان میں اردو نظم:ایک جائزہ

عبدالحلیم انصاری (محمد حلیم)

  گیسٹ لیکچرار،  شعبہء اردو، رانی گنج گرلس کالج

       شعبہء اردو، یونی ورسٹی آف بردوان

(مغربی بنگال)

Mob-9093949554

ہندوستان کی آزادی کے  ساتھ ساتھ تقسیم ہند کا سانحہ بھی ہوا اور اس کے  ساتھ فرقہ ورانہ فسادات کا خونیں سلسلہ بھی شروع ہوا جس نے  سماج کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ انسان انسان کا دشمن بن گیا۔ اقتدار کی بھوکی سیاست نے  اخلاق اور مذہب کے  تمام اصولوں کو طاق پر رکھ کر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیا۔ان تمام حالات نے  اردو ادب پر گہرے  اثرارت مرتب کئے۔اردو شاعری جو ابتک ترقی پسندی کے  ماتحت انسان کی عظمت کے  گیت گا رہی تھی۔یکجہتی اور ہم آہنگی کا پیغام دے  رہی تھی اس دلدوز سانحے  سے  متاثر ہوئے  بغیر نہیں رہ سکی۔ جس انقلاب کے  خواب اس نے  دیکھے  اور دکھائے  تھے، جس اجتماعیت کا راگ اس نے  الاپا تھا وہ سب آزادی کے  بطن سے  اٹھنے  والے  طوفان کی گرد میں کھو چکی تھی اور انسان مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہوگیا۔مغرب ومشرق میں دوسری جنگ عظیم کی تباہی کے  اثرات بھی پڑے  اور پوری دنیا میں انسان ایک روحانی بحران سے  دوچار ہوا۔ملک میں ترقی پسندی کی تحریک بھی آزادی کے  بعد کمزور پڑنے  لگی کیونکہ اس میں یکسانیت پیدا  ہونے  لگی۔

 آزادی کے  بعد اب انقلاب اور اجتماعی فلاح اور یکجہتی کے  نعرے  کھوکھلے  لگنے  لگے۔لہذا،  ایسی قومی اور عالمی صورت حال میں شاعروں کو کسی نئے  پیرایہء اظہار کی تلاش تھی۔وہ کسی تازہ ہوا کے  جھونکے  کے  منتظر تھے۔اسی دوران شاعروں کے  ایک گروہ نے  ’’ حلقہء ارباب ذوق  ‘‘کی بنیاد ڈالی جس کے  شعراء فکر وفن کی آزادی کے  حامی تھے۔وہ ترقی پسندوں کے  سیاسی منشور سے  آزادی کا اعلان کر رہے  تھے۔یہیں سے  اردو میں ترقی پسندی کے  خلاف بغاوت کا باقاعدہ آغاز ہوااور اردو شاعری میں نظموں کو فروغ حاصل ہوا۔’’ حلقہ ارباب ذوق ‘‘  نے  نظموں کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔اگرچہ ترقی پسند تحریک نے  بھی نظموں کو ہی اپنے  سماجی اور سیاسی پیغامات کی ترسیل کے  لئے  وسیلہ بنایا مگر انکے  یہاں پابند نظموں کو زیادہ تر اپنایا گیا اور اس کی ہئیت میں محدود تجربے  کئے  گئے۔کیونکہ وہ ہئیت میں تجربے  کو اپنے  مقصد کی تکمیل اور پیغام کی ترسیل میں رکاوٹ سمجھتے  تھے۔لہذا،  عقیل احمد صدیقی اپنی کتاب ’’ جدید اردو نظم نظریہ وعمل ‘‘ میں لکھتے  ہیں :

’’ ترقی پسند شاعروں کا ادبی نقطہ ء نظر مقصدی اور افادی تھا۔ اس لئے  ہئیت میں تجربے  کا مسئلہ انکے  لئے  ثانوی حیثیت رکھتا تھا۔ان کا مقصد اپنے  افکار کی تبلیغ اور اشاعت تھا۔ایسی صورت میں کسی نئی ہئیت کا تجربہ انکے  مقصد کی راہ میں حائل ہو سکتا تھا اس لئے  کہ اگر کوئی نامانوس ہئیت سامنے  آتی ہے  تو فطری طور پر نظم کا قاری ہئیتوں کی گتھیوں کو سلجھانے  میں لگ جاتا ہے  اور دراصل مقصد سے  دور ہو جاتا ہے۔اس طرح ایک لمبے  عرصے  تک قاری خود کو نئی ہئیت سے  متعارف میں صرف کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے  کہ ن۔م۔راشد، میرا جی، اور دوسرے  نظم نگاروں نے  آزاد نظمیں لکھیں اور ان پر ایک حلقہ سے  اعتراضات ہوئے  تو ترقی پسندادیبوں نے  اس تجربے  سے  اپنی براء ت کا اظہار کیا۔‘‘

      حلقہء ارباب ذوق کے  شعراء نے  نظم میں ہئیتی تجربے  کئے  اور آزاد نظم، معریٰ نظم، اور نثری نظموں کو اپنے  اظہار کا وسیلہ بنایا۔قیوم نظرؔ، یوسف ظفرؔ، نصیر احمد جامعی، میرؔاجی، ن۔م۔راشدؔ، مختار صدیقی، اور الطاف گوؔہر اس کے  سر گرم رکن تھے۔ میرا ؔجی کی شمولیت بعد میں ہوئی  اور انکی شمولیت سے  اس حلقے  کو تقویت حاصل ہوئی اور نظم کی صنف نے  فن کی بلندیوں کو چھوا۔ حلقے  نے  ہی سب سے  پہلے  اپنے  نظرئیے  کے  لئے  ’’ جدید ‘‘  اصطلاح استعمال کی اور اس حلقے  کے  بینرتلے  تخلیق ہونے  والی نظمیں جدید کہلائی۔

یہ تحریک اردو نظم کے  فروغ اور ارتقاء کے  لئے  بہت کار آمدثابت ہوئی۔اس دور میں کافی کامیاب نظمیں لکھی گئیں۔ میرا ؔجی، ن۔م۔راشدؔ، مختاؔر صدیقی، قیوم نظرؔ اور ضیاؔء جالندھری نے  نظموں میں طرح طرح کے  تجربے  کئے  اور ان میں سماجی مسائل کے  ساتھ ساتھ تہذیبی، مذہبی، اور سیاسی مسائل و موضوعات کو علامتوں اور استعاروں  کی مدد سے  نظم میں پیش کیا۔انہوں نے  جنسی موضوعات کو بھی نظموں میں پیش کیا۔خاص طور پر میرا جیؔ نے  جنسی موضوعات کو نظموں میں بخوبی برتااور سماجی بندھنوں اور مذہب کی بندشوں کے  خلاف اعلان بغاوت کیا۔ انہوں  نے  نظم ’’ ترغیب ‘‘ میں اس طرح اپنے  باغیانہ خیالات کا اظہار کیاہے۔

رسیلے  جرائم کی خوشبو/مرے  ذہن میں آرہی ہے / رسیلے  جرائم کی خوشبو

مجھے  حدِ ادراک سے  دور لے  جا رہی ہے  /جوانی کا خون ہے /بہاریں ہیں موسم زمیں پر

پسند آج مجھکو جنون ہے  /قوانین اخلاق کے  سارے  بند شکتہ نظر آرہے  ہیں

بہر حال، میر ا جی اور ن۔م۔ راشد کے  ساتھ ساتھ حلقہ ارباب ذوق کے  دیگر شعراء نے  زندگی کے  دوسرے  مسائل اور موضوعات کو ترجیح دی۔ان کے  یہاں عشق کا اعلیٰ و ارفع تصور ہے  اور ہجر و وصال کے  موضوعات بھی ہیں۔  میراجیؔ اور راشد ؔ نے  بھی انسان کی حقیقی آزادی کے  خواب دیکھے  اور اس خواب کی تعبیر انسانیت کی فتح کا جشن منایا مگر ان کا رویہ ترقی پسند شاعروں سے  مختلف ہے۔۔ان کی دو نظموں کے  ٹکڑے  پیش ہیں۔

اے  عشق ازل گیر و ابد تاب /میرے  بھی ہیں کچھ خواب /ہر سعی جگر دوز کے  حاصل کے  نئے  خواب

آدم کی ولادت کے  نئے  جشن پہ لہراتے  چلا چل کے  نئے  خواب   (نظم۔میرے  بھی ہیں کچھ خواب)

اژدھامِ انسان سے  فرد کی نوا آئی /ذات کی صدا آئی /  راہِ شوق میں جیسے  راہ رو کا خوں لپکے

اک نیا جنوں لپکے  /آدمی چمک اٹھے  /آدمی ہنسے  دیکھو/  شہر پھر بسے  دیکھو

  (نظم۔زندگی سے  ڈرتے  ہوئے )

حلقہ ارباب ذوق اردو میں جدیدت کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔اس نے  نظموں میں موضوعاتی، اسلوبیاتی اور ہئیتی سطح پر جو تجربے  کئے  ان تجربوں  نے  دیگر شعراء پر بھی اثر ڈالا اور حلقے  کے  باہر کے  شعراء نے  بھی نظموں میں ہئیتی اور موضوعاتی تجربے  کئے۔اخترالایمان ایسے  ہی شاعروں میں ہیں  جو باقاعدہ حلقہ ارباب ذوق میں شامل بھی تھے  مگرحلقے  کے  شعری نظریات کے  معتقد تھے۔اس طرح  ۱۹۵۵؁ سے  اردو شاعری خصوصاً نظموں میں جدیدت کا رنگ غالب آگیا۔جدیدیت کے  شعراء کا یہ یقین تھا کہ شاعر و ادیب کو کسی سیاسی منشور کا پابند نہیں ہونا چاہیئے  اور وہ اپنی فکر اور اپنے  تجربات کی بنا پر ہی اپنی شاعری میں ٖفرد اور کائنات کی صداقتوں کو پیش کرے۔

جدیدیت نے  اپنے  کھلے  پن اور آفا قی مزاج کی بدولت بہت جلد اردو شاعروں میں ا پنے  قدم جما لئے  اور شاعروں کا ایک بڑا طبقہ جدیدیت کے  نظرئیے  کے  تحت نظمیں کہنے  لگا۔اس دور میں نظم آزاد اور نظم معرا کو ہئیتی استحکام حاصل ہوااور شاعروں کا ایک کارواں جدید نظم کی طرف چل پڑا۔ان شاعروں میں منیرؔ نیازی، باقرؔمہدی، محمد علویؔ، کمارؔپاشی، عادلؔ منصوری، ندا فاضلیؔ، بشرؔ نواز، شہریاؔر، بلراج کوملؔ، منیب الرحمان اور خلیل الرحمان اعظمی کا نام قابل ذکر ہے۔ان شعراء نے  علا متی، استعارتی اور ایمائی طرز اظہار کو اپنایا اور اپنی نظموں میں تہہ داری اور حسن پیدا کیا۔انھوں نے  خاص طورپر مناظر فطرت اور کائنات کے  مظاہر کو استعاروں اور پیکروں کی تخلیق کے  لئے  استعمال کئے۔میراجی ؔ کی ایک نظم اس سلسلے  میں پیش ہے۔

ہوئیں نباتات اور آسمان پر/  ادھر سے  آتے  جاتے  ہوئے  چند بادل /یہ سب کچھ یہ ہر شئے

میرے  ہی گھرنے  میں آئی ہوئی  ہے /  زمانہ ہوں میرے  دم سے  /ان میں تسلسل کا جھولا رواں ہے

مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے  /یہ کیسے  کہوں کیونکہ مجھ میں فنا اور بقاء دونوں آکر ملے  ہیں

اخترالایمان بھی آزادی کے  بعد ابھر نے  والے  نظم گو شعراء میں اہم مقام رکھتے  ہیں۔ انہوں نے  اردو نظم کو نئی بلندیوں اور نئی جہتوں سے  آشنا کیا اور صنف نظم کو اعتبار و استحکام بخشا۔انکی شاعری میں ان کی زندگی کے  نشیب وفراز، محرومی، تنگدستی، اور مسائل کے  نہ ختم ہونے  والے  سلسلے  سے  بیزاری اور ان کے  ذہنی اضطراب کا عکس جا بجا ملتا ہے۔مگر وہ اپنی اس سخت جانی پر بھی حیرانی کا اظہار کرتے  ہیں جس کی وجہ سے  وہ ان پریشانیوں اور مسائل کے  بیچ بھی زندہ ہیں۔  جس کا  اظہار انکی نظم  ’’ایک لڑکا  ‘‘  سے  ہوتا ہے۔اس نظم کے  چند اشعار پیش ہے۔

یہ لڑکا پوچھتا ہے  جب، تو میں جھّلا کے  کہتا ہوں

وہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور، اضطراب آسا

جسے  تم پوچھتے  ہو، کب کا مر چکا، ظالم !

اسے  خود اپنے  ہاتھوں سے  کفن دے  کر فریبوں کا

اسی کی آرزوئوں کی لحد میں پھینک آیا ہوں

میں اس لڑکے  سے  کہتا ہوں ، وہ شعلہ مر چکا جس نے

کبھی چاہا تھا، اک خاشاک عالم پھونک ڈالے  گا

یہ لڑکا مسکراتا ہے، یہ آہستہ سے  کہتا ہے

یہ کذب و افترا ہے، جھوٹ ہے، دیکھو میں زندہ ہوں

      اردو نظموں کے  ارتقائی سفر میں فیض احمد فیضؔ کی نظم گوئی ایک اہم پڑائو ہے۔اگرچہ انہوں نے  ترقی پسند انہ خیالات کواپنی نظموں میں پیش کیا مگر ان کی نظموں کی فضا ترقی پسند نظموں سے  مختلف ہے۔اس میں رومانیت اور انقلاب کا امتزاج اور اس سے  نظموں میں لطافت اور نظاکت پیدا ہو گئی ہے۔اس میں وہ یکسانیت نہیں ہے  جو ترقی پسند نظموں میں عمومی طور پر پیدا ہو گئی تھی۔’’ مجھ سے  پہلی سی محبت  میرے  محبوب نہ مانگ  ‘‘ نے  اردو نظموں کو نیا اسلوب اور زاویہ عطا کیا جس کی تقلید دوسرے  شعراء نے  بھی کی۔

ان گنت صدیوں کے  تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم واطلس و کمخواب میں بُنوائے  ہوئے

جا بجا بجھتے  ہوئے  کوچہ وبازار میں جسم

خاک میں لتھڑے  ہوئے  خون میں نہلائے  ہوئے

جسم نکلے  ہوئے  امراض کے  تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے  ہوئے  ناسوروں سے

(’’ مجھ سے  پہلی سی محبت  میرے  محبوب نہ مانگ  ‘‘)

فیض ؔ نے  اپنی شاعری کی شروعات ترقی پسند ی کے  دور میں کی اور بہت سی قابلِ قدر اور یادگار نظمیں تخلیق کیں  مگر انہوں نے  جدیدیت کا دور بھی دیکھا اور مابعد جدیدت کا بھی۔اس لئے  ان کی نظموں میں تینوں ادوار کے  نشان ملتے  ہیں۔ آزادی کے  بعد کی ان کی ایک نظم کا ایک بندملاحظہ ہو۔

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدسحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحرتو نہیں جس کی آرزو لیکر

چلے  تھے  یار کہ مل جائے  گی کہیں نہ کہیں

فلک کے  دشت میں تاروں کی منزل

کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل

کہیں تو جا کے  رکے  گا سفینہء غم دل

       (صبح آزادی )

آزادی کے  بعد فیض ؔ کی نظموں میں لہجے  کا دھیما پن اور خود کلامی کی کیفیت نمایاں ہے  جو جدیدیت کی غماز ہے۔لہذا،  جدیدیت کے  دور میں لکھی ہوئی انکی ایک نظم  ’’ آج شب کوئی نہیں  ‘‘  کا ایک بند ملاحظہ ہو

آج شب دل کے  قریں  کوئی نہیں  /آنکھ سے  دور طلسمات کے  درواہیں کئی خواب در خواب محلات کے  درواہیں کئی /اور مکیں کوئی نہیں

یوسف ظفر بھی جدید اردو نظم کے  معماروں میں سے  ایک ہیں۔ انکی شعری کائنات زندگی کی تلخ حقیقتوں اور اقدار کی شکست وریخت پر محیط ہے۔انکے  لہجے  میں یاسیت کی جھلک بھی ملتی ہے۔وہ صنعتی دور کی مصنوعی تہذیب اور بغض اور کینہ سے  بھری ہوئی انسانی شخصیت سے  بیزاری کا اظہار کرتے  ہیں  اور ایک ایسے  معاشرے  کا خواب دیکھتے  ہیں جس میں انسان صالح قدروں کا امین ہو۔

قیوم نظر جدید اردو نظم کو فروغ دینے  میں آگے  آگے  رہے۔انکی شاعری بحرانی دور کی پیداوار ہے۔جب ہندوستانی معاشرے  میں اضطراب اور بے  چینی چھائی ہوئی تھی۔حالات ہنگامہ خیز تھے  اور زندگی کی رنگینیوں اور مسرتوں سے  لطف اندوز ہونے  کا موقع انسان کے  پاس نہیں تھا۔ انکی نظم ’’ یہ راتیں یہ دن  ‘‘ کے  چند مصرعے  ملاحظہ ہوں ۔

افق کندنی بادلوں کے  سمندر میں رادھا کو دھانپے  کنہیا/  یہ جوئے  طرب ناک کے  رنگ زائیدہ سحر شب کا چراغاں

جواں گوپیاں گرمئی جستجو، رنگ وبو سے  بھبھو کا/  غزل خواں پُر افشاں  /  بہت مطمئن پھر بھی نا مطمئن

مجید احمد جدید نظم کا ایک انتہائی معتبر نام ہے۔انہوں نے  لفظوں کے  استعمال میں نہایت سلیقہ اور رکھ رکھائو کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ اچھوتے  خیالات کو بالکل منفرد لب و لہجے  میں بیان کرنے  کا قائل ہیں۔ وہ فرسودہ خیالات کو نظموں اور غزلوں میں برتنے  سے  اجتناب کرتے  ہیں۔ اس لئے  انکی نظموں میں تازگی کا احساس ہوتا ہے۔  انہوں نے  اردو نظموں کو ایک نیا لہجہ اور نیا اسلوب دیا اور نظموں کو ذات اور کائنات کے  پوشیدہ گوشوں کا آئینہ بنادیا۔وہ زندگی کے  تلخ حقائق، جدید انسان کے  احساس زباں اور ظالم نظام کے  جبر تلے  پستے  ہوئے  عوام کے  درد و کرب کو اپنی نظموں میں پیش کرتے  ہیں۔ انکی نظم ’’ یہی دنیا ‘‘ کے  چند اشعار پیش ہیں جن سے  انکی نظمیہ شاعری کے  مزاج سے  آشنائی ہوتی ہے۔

عشق پیتا ہے  یہاں خوں نابہء دل کے  ایاغ

آنسوئوں کے  تیل سے  جلتا ہے  الفت کا چراغ

جس جگہ روٹی کے  ٹکڑے  کو ترستے  ہیں مدام

سیم و زر کے  دیوتائوں کے  سیہ قسمت غلام

جس جگہ حبّ وطن کے  جذبے  سے  ہوکر تپاں

سولی کی رسّی کو ہنس کر چومتے  ہیں نوجواں

جس جگہ انسان ہے  وہ پیکر بے  عقل و ہوش

نوچ کر کھاتے  ہیں جس کی ہڈیاں مذہب فروش

جس جگہ یوں جمع ہیں تہذیب کے  پروردگار

جس طرح سڑے  ہوئے  مُردار پر مُر دار خوار

باقر مہدی، منیب الرحمان، خلیل الرحمان اعظمی، شہریار اور زبیر رضوی کے  یہاں بھی نظموں کی ایک کائنات ملتی ہے۔ان کا لہجہ اور اور انکی فکری کائنات مختلف  ہوتے  ہوئے  بھی وہ اپنی نطموں میں اسی معاشرے  کے  دُکھ سُکھ اور محرومیوں اور مظلومیوں کی داستان سناتے  ہیں جس میں وہ سانس لیتے  ہیں۔ شہریار جدید صنعتی اور مشینی معاشرے  میں انسانوں کے  تہذیبی المیوں کو نظموں میں پیش کرتے  ہیں تو زبیر رضوی ماضی کی تہذیبی میراث کے  امین ہیں اور وہ گزشتہ عظمتوں کی بازیافت اپنی نظموں میں کرتے  ہیں ۔ انکی نظم  ’’ پرانی بات ہے ‘‘  میں داستانوی فضا ملتی ہے  جو قاری کو مسحور کر لیتی ہے۔علا وہ ازیں ان کے  نظموں میں انسانی رشتوں کی ناپائیداری،  انسانی زندگی کی بے  ثباتی اور حالات کی ستم ظریفی کی عکاسی بھی ملتی ہیں۔ بلراج کومل نے  اپنی نظموں میں ذاتی احساسات و جذبات کو موضوع بنایا ہے  اور لطیف اور نازک احساسات کو نظموں میں فلسفیانہ رنگ میں  پیش کیا ہے۔

بلراج کومل صرف اپنی ذات کی شکست وریخت سے  فکر مند نہیں ہیں بلکہ وہ پوری انسانیت کے  فلاح کے  لئے  فکر مند ہیں۔ وہ دنیا میں اپنے  بعد آنے  والے  انسانوں کے  متعلق فکر مند ہیں کیونکہ انہوں نے  جس دنیا اور جن حالات میں زندگی گزاری ہے  وہ صبر آزما اور امتحانوں سے  پُر ہے۔

پرانے  کاغذوں میں سے  /مجھے  آج اک تصویر ملی /کھیلتے  ہوئے  چار بچوں کی /ایک کے  ہاتھ میں

کوئی پیچیدہ سی مشین ہے  /دوسرے  کے  ہاتھ میں ضخیم کتاب /تیسرے  کے  ہاتھ میں گُل شگفتہ

اور چوتھے  کے  ہاتھ میں چمچماتا خنجر /چاروں معصوم میں چاروں ہم شکل /چاروں کو میں بار بار دیکھتا ہوں

اور پہچاننے  کی کوشش کرتا ہوں  /ا ن میں سے  کون سا بچہ  ؍ میرا بیٹا ہے

   ( نظم۔تصویر)

جدید نظموں کا جب ذکر آتا ہے  تو ذہن میں رونقؔ نعیم کا نام ضرور آتا ہے۔انہوں نے  اپنی شاعری کی ابتداء نظم گوئی سے  ہی کی اور ان کا فطری میلان نظموں ہی کی طرف تھا۔انہوں نے  کئی عمدہ نظمیں تخلیق کیں جن میں اساطیر اور اسلامی تاریخ سے  موضوعات اور کردار اخذ کئے  اور فطرت کے  اجزاء کو علامتوں اور استعاروں کے  طور پر استعمال کر کے  ایک انوکھی فضا نظموں میں پیش کی۔وہ فرد کی نفسیاتی پیچیدگیوں اور جنسی کشمکش کا اظہار بھی اپنی نظموں میں بخوبی کرتے  ہیں۔

چار سو ہے  طلسم ہوش ربا/  ہر نفس اک جہانِ دیگر ہے  /ہر قدم پر ہے  اک نیا ماتم /دمِ شمشیر سے  گزر تا ہوں

کیا وہ تعویذ مل نہیں سکتا/  باندھ کر جس کو اپنے  بازو پر /  میں نکل جائوں اس چھلاوے  سے

(نظم۔عمر وعیار)

لہذارونق ؔ نعیم کی شاعری کے  متعلق ان  کے  شعری مجموعہ ’’ اداس جنگل میں ‘‘ کے  کور پیج میں شمس الرحمٰن فاروقی صاحب لکھتے  ہیں  :

’’  وہ  (رونقؔ نعیم  )معاصر دنیا کے  ظاہری اور مانوس مظاہروں سے  آگے  جا کر دور کے  مظاہر و مناظر کی تلاش کر تے  ہیں۔ ان کی علامتیں اور ان کے  پیکر ِ مظاہر فطرت اور زمین کے  حوالوں سے  ترتیب پاتے  ہیں۔ ان کی واردات تجربے  اور ذہنی کیفیات میں داخلی تنوع ہے  لیکن وہ صرف داخلی وارداتوں کے  شاعر نہیں ہیں۔ ‘‘

شہناز ؔنبی بھی نئی نظموں کی ایک معتبر آواز ہیں۔ انکی نظموں میں عصری آگہی اور جدید دور کے  انسانوں کے  کرب اوربے  بسی اور صنعتی دور کی کھوکھلی اخلاقیات کا عکس ملتا ہے۔ان کی نظمیں  زندگی کی تلخ حقیقتوں کے  تا نے  بانے  سے  بُنے  ہوتے  ہیں جس میں جگ بیتی کا گمان ہوتا ہے۔ انکی نظم  ’’ جب میں مر جائوں ‘‘ اپنے  دور کی صداقتوں کا آئینہ ہے۔

جب میں مر جائو ں تو مجھے  رونا مت /اپنے  آنسو ان بچوں کے  لئے  بچا ئے  رکھنا/جو اسکول جاتے  ہوئے

کسی بم دھماکے  میں مارے  جائیں گے  /میری قبر کھدنے  تک /کہیں نہ کہیں ایک گھر لُٹ چکا ہوگا

کئی عورتیں بیوہ ہو چکی ہونگی /میرا گھر بنانے  سے  پہلے /  انہیں آباد ضرور کر دینا

نداؔ فاضلی بھی نظموں کے  ایک کامیاب شاعر ہیں۔ وہ معاشرتی اور سیاسی مسائل کو خوبصورتی سے  اپنی نظموں میں ڈھال دیتے  ہیں۔ انکے  یہاں اپنے  عہد کی بر ہنہ سچائیوں کا بیان بھی ہے  اور عشق کی معصوم بستی کی خوبصورت تصویر بھی ہے۔ان کی کچھ نظموں میں انکی ذاتی زندگی کی تلخیاں بھی بیان ہوئی ہیں مگر اس طرح کہ وہ آپ بیتی ہوتے  ہوئے  بھی جگ بیتی بن جاتی ہے۔

 میں  جس طرح سوچتا تھا /بستی اسی طرح سے  بدل رہی ہے  /یہ ایک ستارہ

جو میری آنکھوں میں دیر سے  جگمگا رہا ہے /  اسے  سمندر بلا رہا ہے

اشہرؔ ہاشمی، غیر بہرائچی، شفیق فاتمہ، جینت پرمار، پر تپال سنگھ بیتاب، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی وغیرہ بھی جدید نظم نگاروں کے  اہم نام ہیں۔  ان کے  یہاں بھی عصری شعور اور سماجی آگہی ملتی ہیں۔

عین رشید بھی اردو نظموں کا ایک اہم نام ہے۔انہوں نے  کئی خوبصورت نظمیں کہیں جن میں تاثیر، نغمگی اور گہرائی ہے۔ان کا بات کہنے  کا اپنا  سلیقہ ہے  اور انداز جداگانہ۔ وہ سماج میں رونما ہونے  والے  واقعات کو من و عن اپنی شاعری میں سمو دینے  کے  قائل ہیں لہذا،  زندگی کی تلخ حقیقتوں کو بھی دو ٹوک انداز میں پیش کر دیتے  ہیں اور کبھی علامتوں کا سہارا لیکر جہانِ دیگر کی دیگر کی صداقتوں کو بیان کر جاتے  ہیں۔ ان کی نظم نگا ری کا ایک نمونہ پیش خدمت ہے۔

شہر تو اس دریا کنارے  اپنے  گندے  پائوں پسارے  لیتا ہے

غلیظ بدکار بے  رحم

میں تیری دیوانہ کُن خواہشوں سے  بیزار ہوں

شہر ِ لوگ کہتے  ہیں کہ تو بدکار ہے

اور میں نے  اپنی آنکھوں سے  دیکھا ہے  سرِ شام تیری

رنگے  چہروں والی عورتیں لڑکھڑاتے  نوجوانوں کو نگل جاتی ہیں

رات گئے  جب تیرے  دانشور رکشے  لئے  خودکشی کرنے  جاتے  ہیں

تو خاموش رہتا ہے

  (نظم۔ ’’ شہر ‘‘ از عین رشید )

صلاح الدین پرویز نے  بھی جدیدنظموں میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ان کی نظموں کی مزاج اور اسکی ہئیت بالکل الگ ہے۔انکے  یہاں ہجرت ناسٹلجیا کے  موضوعات منفرد اسلوب اور ہئیت میں بیان ہوئے  ہیں۔  انکی نظموں میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی رنگین تصویریں ملتی ہیں۔ وہ اچھوتے  استعارے  اور علامتیں تراشتے  ہیں۔ روایتوں کا استعمال بھی وہ اپنی نظموں کی فضا سازی کے  لئے  کرتے  ہیں ۔

جدید اردو نظم نے  ابتک ساٹھ سال کا لمبا سفر طے  کر لیا ہے۔اس لمبے  سفر میں اس نے  ارتقائی منزلیں سر کیں ہیں اور ہئیت اور تکنیک کے  نئے  نئے  تجربوں سے  بھی گزری ہے۔ن۔م۔راشد نے  جدید نظم کو رواج ہی نہیں  دیا بلکہ اسے  فکری اور فنی وسعت اور ندرت سے  مقبول بنایا اور نظم گو شاعروں کا ایک قافلہ تیار کیا۔میرا جی، اختر الایمان، محمد علوی، باقر مہدی، خلیل الرحمان اعظمی، بلراج کومل اور درجنوں ممتاز شعراء نے  اسے  اپنے  اظہار کا وسیلہ بنا کر اسے  ہئیتی استحکام بخشا۔اس میں زندگی، کائنات اور ذات کے  مختلف گوشوں کی نقاب کشائی کی۔اس میں داخلی کیفیات اور احساسات کا بھی بیان ہے  اور خارجی عناصر اور واقعات کی تصویر کشی بھی۔اساطیر اور داستانوی عناصر کی کار فرمائی بھی ہے  اور مذہبی اور روحانی افکار و نظریات کی جلوہ نمائی بھی۔

کُل ملا کر جدید اردو نظموں نے  ہئیت کی جکڑ بندیوں سے  آزاد ہو کر موضوعات اور خیالات کی ایک وسیع دنیاآباد کی ہے  اور اپنے  قارئین کا ایک حلقہ پیدا کیاہے۔آزادی کے  بعد جدید نظموں کے  کئی انتخاب شائع ہوئے  ہیں جو اس کی اہمیت کی دلیل ہے۔مجموعی طور پر جدید نظموں نے  اردو شاعری کے  تنوع اور رنگینی میں اضافہ کیا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں نظم گویوں کی جو نئی کھیپ سامنے  آئی اس میں اظہار کے  نئے  پیرایوں اور فکر کی گہرایوں  اور گیرائیوں کے  نقوش جا بجا ملتے  ہیں  ان میں  جمال اویسی، پرویز، شہریار، عذرا پروین، صبا اکرام، شفق، طارق قمر، ترنم ریاض، راشد انور راشد وغیرہ کے  نام کااہم ہیں۔

Abdul Halim Ansari (Md.Halim)

Dept Of Urdu

Raniganj Girls’College (W.B)

Mob-9093949554

٭٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.