آسٹریلیا میں اردو کی نگہت:ڈاکٹر نگہت نسیم

مہوش نور

ریسرچ اسکالر،  جواہرلعل نہرویونی ورسٹی،  نئی دہلی

Email: mahwashjnu10@gmail.com

اردوادب کی تاریخ کا گلشن رنگ برنگے  اور خوبصورت پھولوں سے  مزین اورآراستہ و پیراستہ ہے۔اس گلشن کی باغبانی صدیوں سے  مخلص باغباں کرتے  چلے  آرہے  ہیں ۔ اس گلشن کے  پودے، پھول، بوٹے  اور دوسرے  تمام عناصر جن سے  مل کر اس باغ کی تعمیر ہوتی ہے  اور اس گلشن میں جب کوئی نیا باغباں اپنی تمام تر صلاحیت کے  ساتھ داخل ہوتا ہے  تو اس کی آمد پر اہل گلشن خوش آمدید کہتے  ہیں۔ اس گلشن میں اس نئے  باغباں کو ایک عرصے  تک گلشن کی لطف اندوزی اور گلشن کی سیر کرنے  کی پوری طور پر آزادی ہوتی ہے۔اس گلشن میں قدم رکھنے  والا وہی شخص کامیاب ہوتا ہے  جو گلستاں کی آبیاری و باغبانی سلیقے  سے  کرتا ہے۔اس سلسلے  میں ڈاکٹر حدیث انصاری رقمطراز ہیں  :

’’اسے  ایک عرصے  تک چمن کی لطف اندوزی اور سیر گلستاں کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔سیر گلستاں تو آسان ہے  لیکن کوچہ گردی میں خاک آلود ہونا محال و مشکل!اس کوچہ گردی کے  غبار میں جو روپوش ہو گیا، وہ مفقود ہو گیا، اس میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے  جو اس کوچہ گردی میں سلیقے  سے  قدم رکھے  اور آبیاری اس ڈھنگ سے  کرے  کہ راہ کے  غبار بھی سبزہ زار و مرغ زار بن جائیں۔ اس ہزار شیوئہ ناز و ادا، شوخ پیکرِـ جمیل چمن کے  گیسوئوں کی مشاطگی کرنا کارِ طفلاں نہیں ہے  بلکہ ایسے  میں جبایک دانائے  اسرار، واقفِ حسن و ناز، ذکی الذہن کا ورود ہوتا ہے  تو دونوں ایک دوسرے  کو نئے  انداز اور حسن و ادا سے  مزین کرنے  کی بھر پور کوشش کرتے  ہیں۔ ‘‘(۱)

محولہ اقتباس کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے  ہیں کہ دنیائے  اردو ادب میں اسی اضافے  کو نئی طرز تحریر، نئی طرز روش اور نئے  انفرادی لب و لہجے  سے  تعبیر کرتے  ہیں  اور یہی انفرادیت جب ایک انوکھی ادا اور جدت و ندرت کے  رنگ میں رنگ جاتی ہے  تو اس دور کو پہچاننے  میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔اردو ادب اور شاعری کی تاریخ پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے  تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے  کہ اردو ادب اور شاعری کی تاریخ بھی کچھ اسی طرح کے  پھولو ں  سے  بنی ہوئی ہے۔ہر ایک صدی یا نصف صدی تغیر و تبدل سے  ہمکنار ہوئی ہے  اور یہ تبدیلیاں اردو ادب کے  حسن کو دو بالا کر تی ہیں ۔ ادب کے  میدان میں پریم چند اور منٹو تک کے  شاعری میں ولیؔ سے  غالبؔ تک کے  دور کا اگر جائزہ لیا جائے  تو اس مدت میں ان تمام اصناف کی آرائش و زیبائش جس خوبصورتی کے  ساتھ کی گئی ہے  اور جن جن خوبیوں کا اضافہ ہر عہد میں ہوا ہے  ان میں مخصوص ادیبوں اور شاعروں کا اپنا ایک انفرادی رنگ اور جدت طبع کی آمیزش نظر آتی ہے۔۱۸۵۷ء کے  بعد جو نیا عہد شروع ہوا تو ہندوستان کی آزادی کی کشاکش، ہندوستان کی آزادی کے  بعد، بین الاقوامی صورتوں کے  تبدل نے  زندگی کے  ہر شعبے  پر اپنے  دور رس اثرات مرتب کیے۔ان میں فنون لطیفہ بھی متاثر ہوئے۔اس عہد کا بھی اپنا ایک خاص رنگ و ڈھنگ ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے  تمام مشہور و معروف ادیب و شاعر اور پھر ان سے  گزر کر اردو کی نئی بستیوں میں بسنے  والے  تمام مشہور ادباء و شعراء جتنے  بھی اہل قلم اس مہکتی ہوئی گلشن کی وادی میں قدم رکھا سب نے  اپنے  فن کا کھل کر مظاہرہ کیا اور ہر ایک کی اپنی ایک الگ اور خاص پہچان ہے۔انہوں نے  اردو ادب کو جو کچھ عطا کیا وہ سب عظیم اضافے  کی حیثیت رکھتے  ہیں۔

ایسے  ہی نئے  دور میں اردو کی نئی بستیوں میں افق اردو پر درخشندہ ہونے  والا نیانام نگہت نسیم کا ہے۔یہ نیا نام کوئی غیر معروف نہیں ہے  کہ اس کا تعارف پیش کرنے  کے  لئے  کسی خاص لب و لہجے  کو اختیار کیا جائے ، یہ وہ نام ہے  جس نے  اردو کے  افسانوی ادب کی دنیا میں قدم رکھتے  ہی اپنے  عہد کے  دانشوروں اور نقادوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور ان کے  تخلیق کردہ افسانے  اردو ادب میں ایک قابل قدر اضافے  کی صورت میں  دیکھے  جانے  لگے۔نگہت نسیم کے  افسانے  اردو ادب کا وہ سر چشمہ ہیں جس میں جدید روایات کے  گنگ و جمن مدغم ہوتے  ہیں جووادی فکر و خیال کو سر سبز و شاداب کرتے  ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے  افسانے  جدید دور کے  تقاضوں سے  بھی ہم آہنگ ہوتے  ہیں ان کے  افسانے  کے  موضوعات اور ان کا انداز تحریر بالکل نیا اور منفرد ہے  ان کی کہانیوں کے  بیشتر لوازمات ایک نئے  زاویہ نظر اور فکری اظہار کے  ساتھ بیان ہوتے  ہیں اور ان کا یہی انداز انہیں اپنے  ہم عصر خواتین افسانہ نگاروں میں ممتاز اور منفرد فکرو فن کا مالک بناتا ہے۔

ولادت وخاندان:

نگہت نسیم ۳فروری۱۹۵۹ء میں شیخ پورہ، ضلع لاہور، پاکستان کے  ایک علمی و مذہبی خانوادے  میں پیدا ہوئیں۔ ہر انسان کی زندگی کا پہیہ اس کے  خاندان، احباب اور ماحول کے  گرد گھومتا ہے۔تعلقات اور رشتوں سے  متعلق جب ہم ان کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے  ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے  کہ ان کا شمار ان خوش بخت لوگوں میں ہوتا ہے  جنہیں خاندان کی عزت بھی ملی، جنہیں  احباب کی محبت بھی ملی، اور جن کے  خمیر میں ماحول کی خوشبو بھی عطر ریز رہی۔خلائق دو جہان نے  ان کے  لیے  بہترین والدین منتخب کیے  اور والدین کی دی ہوئی تعلیم و تربیت کو پروان چڑھانے  کے  لیے  پاکیزہ و مطہر ماحول عطا فر مایا اور یہ اسی ماحول کا اثر تھا جس میں قلم کی پاسداری کی ذمہ داری نگہت نسیم کے  علاوہ ان کی چھوٹی بہن دلشاد نسیم(ناول نگار(متاع جان)، افسانہ نگار، جیو ٹی وی کی متعدد ڈراموں کی رائٹر، پروڈکشن منیجر)کے  حصے  میں بھی آئی۔دلشاد ایک اچھی ڈرامہ نگار ہیں پر اس سے  اچھی افسانہ نگار ہیں۔ ان کے  گھر کا ماحول نہ تو بہت جدت پسند رہا اور نہ ہی رجعت پسند رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے  مالی اعتبار سے  بھی ہمیشہ اس قابل رکھا کہ اس خاندان کا شمار دینے  والے  ہاتھ میں ہی ہوا۔ نگہت نسیم کے  والد گرامی محمد نسیم اشرفی اور ان کی والدہ ماجدہ رقیہ بیگم دونوں ہی دینی سوچ کے  حامل اور درویش صفت انسان ہیں ۔ انہوں نے  اپنے  بچوں کو وہ دین دیا جو دنیا کی جائز اور حلال نعمتوں سے  بہرہ مند ہونے  کی اجازت دیتا ہے  اور تصنع، بناوٹ اور اصراف سے  منع کرتا ہے۔نگہت نسیم کی والدہ ماجدہ عام گھریلو خاتون ہیں لیکن ذاتی علم کی مناسبت سے  ایک مکمل یونیور سٹی ہیں ایسی یونیور سٹی جس کے  آٹھ کمروں میں آٹھ بہن بھائیوں نے  تعلیم و تہذیب کے  وہ سارے  امتحان پاس کیے  جس کے  بعد دنیا کا کوئی امتحان ان کو کڑا امتحان نہیں لگا۔نگہت کے  والد نے  اپنی زندگی کا کچھ حصہ سابقہ مشرقی پاکستان میں بھی گزارا جس کی بہت سی تلخ یادیں ان لوگوں کے  ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ نگہت نسیم کے  خاندان میں ننھیال، ددھیال دونوں طرف سے  کوئی نامور ادیب اورشاعر پیدا نہیں ہوا لیکن اس کے  باوجود گھر کا ماحول اس حد تک ادبی ضرور رہا کہ نگہت کی والدہ اپنے  بچوں کو کہانیاں سناتی تھیں  اور بہن بھائی مل کر رات گیے  تک بیت بازی کیا کرتے  تھے  بس اسی ماحول نے  نگہت نسیم اور دلشاد نسیم کو لکھاری بنا دیا۔

نگہت نسیم اظہار کے  قبیلے  سے  تعلق رکھتی ہیں۔ محبت کے  لیے  اظہار بہت ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے  اپنے  سوانحی مضمون میں جس طرح اپنے  پیاروں کی باتیں کی ہیں ان سے  محبت کا اظہار کیا ہے  وہ ان کی بہت سی خوبیوں میں سے  ایک اہم ترین خوبی ہے۔والدین کی انہیں پیاری بھری باتوں میں ان کے  بہن اور بھائیوں کا پیاربھی شامل ہے  اور ان کے  ساتھ گزارے  ہوئے  زندگی کے  خوبصورت لمحات آج بھی ان کے  ذہن میں محفوظ ہیں۔ مثلاً۔بھائیوں اور بہنوں کے  ساتھ PTV کے  مشاعرے  کو دیکھنا، شعراء کے  انداز میں اشعار پڑھنا، والدین کی نصیحت آمیز باتیں وغیرہ ان ساری باتوں کو نگہت نسیم دیا ر غیر میں رہ کر بھی نہیں بھول پائیں ہیں اور آج بھی نگہت ان خوبصورت یادوں کی خوشبو میں رچی بسی ہوئی ہیں۔

نگہت نسیم کے  آٹھ بہن بھائی ہیں جن کے  نام یہ ہیں  :

نگہت نسیم،  دلشاد نسیم،  نزہت نسیم،  شہزاد،  افضال، شاہد،  جاوید،  عاصم۔ بہن اور بھائیوں کی شادی ہو چکی ہے  اور اپنی ازدواجی  زندگی کے  گلستاں میں ایک کامیاب اور خوبصورت زندگی گزار رہے  ہیں۔ نگہت کو ’’شازیہ‘‘ (شہزاد) جسے  پیار سے  ’’پنکی‘‘ کہتے  ہیں جیسی نیک  اور ملنسار،  ’’روبینہ‘‘ (افضال) جیسی فیملی مائنڈ،  ’’نادیہ‘‘ (شاہد) جیسی خدمت گزار اور ’’عائشہ‘‘ (جاوید)،  ’’اسمارہ‘‘ (عاصم) جیسی محبت کرنے  والی بھابھیوں کا پیار ملا۔اس مادہ پرست دنیا میں جہاں رشتے  ناطے  اپنا فہم اور مرتبہ کھو چکے  ہیں وہاں یہ سب اکٹھے  رہتے  ہیں اور اپنے  بچوں میں وہی اقدار اور تہذیب منتقل کر رہے  ہیں جو کبھی ان کے  دادا جی نے  اپنے  چھ بیٹوں اور دو بیٹیوں میں منتقل کی تھی۔

تعلیم:

تعلیم و تربیت کی پہلی منزل ماں کی آغوش میں ہوتی ہے  لیکن دنیاوی تعلیم کے  لیے  تعلیمی اداروں ہی سے  مستفید ہونا ہوتا ہے۔نگہت نے  دینی اور روحانی تعلیم اپنی والدہ ماجدہ رقیہ بیگم اور والد گرامی محمد نسیم احمد اشرفی سے  حاصل کی۔دنیاوی تعلیم کے  اعتبار سے  نگہت نے  ابتدائی تعلیم کچھ ایسٹ پاکستان چاٹگام سے  لی اور کچھ کراچی سے۔نگہت نے  میٹرک کراچی میٹرو پولیٹن اسکول سے  کیا، ایف ایس سی اپوا کالج کراچی سے  کیا، پوسٹ گریجویشن کراچی سے  کیا، ایم بی بی ایس پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے  کیا، اے  ایم سی نیو سائوتھ ویلز بورڈ سے  کیا، ڈپلومہ ان سائیکو لوجی، آسٹریشیا بورڈ سے  کیا، ایم پی ایچ یو نیور سٹی آف نیو سائوتھ ویلز سے  کیا اور ایم ڈی سائیکا ٹری(زیر تکمیل)نیو سائوتھ ویلز انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری۔

شادی:

تعلیم کے  دوران ہی نگہت نسیم کی شادی ۱۲ ؍نومبر ۱۹۸۷ء میں ایک معزز اور اہل علم خاندان میں ہوگئی۔ان کے  شوہر کا نام آفتاب ہے۔ نگہت کے  شوہر کے  والد مرحوم غلام مصطفی بڑے  ہی صاحب علم دوست شخص تھے۔ وہ پاکستان میں اسٹیل مل کے  منیجر تھے۔انہوں نے  تعلیم بہت ہی محنت و مشقت سے  حاصل کی۔غلام مصطفی صاحب اپنے  نام کی نسبت سے  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں تھے۔وہ بہت ہی غریب پر ور انسان تھے۔انسانیت کی خدمت، مہمان نوازی، غریبوں کی مدد کرنا، انہیں ان کے  گھروں میں بسانا، ان کے  لیے  ملازمت کا بندوبست کرنا، ان کی زندگی کا معمول رہا جس کی گواہی وہ خاندان کے  خاندان دیتے  ہیں جنہیں مصطفی صاحب نے  گائوں سے  بلا کر شہر میں بسایا تھا۔ان سے  اپنی زمین جائیداد بانٹی تھی۔ان کے  لیے  اسٹیل کی مل میں نوکری کا انتظام کیا تھا۔ان کی ہر حال میں ہر ممکن حد تک جا کر مدد کی تھی۔آفتاب کی والدہ رشیدہ بیگم بہت ہی نازک، نرم دل کی مالک اور پیار لٹانے  والی ماں ہیں۔ انہوں نے  نگہت کو اپنے  گھر میں ایک بہو کا نہیں بلکہ ایک بیٹی کا درجہ دیا ہے۔

آفتاب کے  خاندان میں علمی ذوق و شوق اور حسن و اخلاق اعلیٰ درجے  کا ہے  اور آج بھی ان کے  ذہین و فطین اور ہونہار بچوں نے  علم کے  چراغ کو روشن کیے  ہوئے  ہیں۔ آفتاب نے  ماسکو یونیور سٹی سے  انجینئیرنگ میں ایم ایس کیا ہے۔آفتاب کو ادب سے  بھی بہت دلچسپی ہے۔آفتاب کے  بارے  میں نگہت بڑے  شوخ لہجے  میں لکھتی ہیں  :

’’خط کے  علاوہ کچھ نہیں لکھ سکتے  اور وہ بھی انگریزی میں۔ ڈرتی ہوں کہ اگر اردو میں لکھا تو ماضی، حال، مستقبل سب بے  حال ہو جائے  گا۔ہاں ادبی ذوق بے  حد نفیس ہے۔گھر کو لائبریری بنا رکھا ہے۔میرے  افسانوں پر دل کھول کر تبصرہ کرتے  ہیں ۔ یوں وہ میرے  بہترین دوست بھی ہیں اور قاری بھی۔‘‘(۶)

موصوف حسن صورت کے  ساتھ حسن سیرت کا بھی مجسمہ ہیں۔ آفتاب اپنی اہلیہ سے  بے  پناہ محبت کرتے  ہیں ا ن کے  تعلقات اپنی شریک حیات سے  نہ صرف مخلصانہ ہیں بلکہ ہزار جان سے  ان کے  والا و شیدا ہیں۔ ہر قدم اور ہر موڑ پر آفتاب نے  اپنی شریک حیات کا پورا پورا ساتھ دیا۔ادبی تخلیق کی ’’شب زندہ وادیوں ‘‘میں کبھی خلل نہیں ڈالا بلکہ ادبی تخلیق میں قوت و توانائی بن کر سائے  کی طرح رومانی تقویت بخش رہے  ہیں۔

اولاد:

نگہت کی ازدواجی زندگی نہایت خوبصورت و حسین، پر کیف و پر لطف ہے۔میاں  بیوی ایک دوسرے  پر پروانہ وار شیدا ہیں۔ اس والہانہ قلبی لگائو نے  محبت کے  گلشن میں خوبصورت پھول کھلائے۔ منیب، نجیب اور آمنہ محبت کی شاخ پر پھول بن کر کھل اٹھے۔نگہت کے  گلشن میں محبت کے  کھلے  ہوئے  یہ ننھے  پھول بڑے  سلیقہ مند اور خوش اخلاق ہیں۔ ۲۶؍نومبر ۱۹۹۴ء میں معاشیات کے  سلسلے  میں نگہت کو آسٹریلیا کی سکونت اختیار کرنی پڑی اور نگہت کی اس جدائی وطن کا یہ کرب ان کی کتاب میں شامل محترم احمد ندیم قاسمی کے  اس شعر سے  عیا ں  ہوتا ہے  اور اس شعر کی بنیاد پر ہی نگہت نے  اپنے  پہلے  افسانوی مجموعے  کا نام ’’گرد باد حیات‘‘رکھا ہے۔ملاحظہ ہو:

یہ جو گرد باد حیات ہے  کون  اس کی زد سے  بچا نہیں

مگر آج تک تیری یاد کو میں رکھوں سنبھال سنبھال کے

اللہ تعالیٰ کسی کا بھی کوئی نیک عمل ضائع نہیں ہونے  دیتا، جس طرح نگہت نسیم اپنے  والدین سے  بے  پناہ محبت کرتی ہیں ان کا احترام کرتی ہیں خدا نے  ان کو بھی ویسی ہی محبت و احترام کرنے  والی اولاد سے  نوازا ہے۔ مغربی ماحول میں رہ کر بھی ان کے  بچے  مذہب، مشرقی تہذیب و روایات کے  دلدادہ ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے  ہیں۔ مثال کے  طور پر کچھ سطریں پیش خدمت ہیں  :

’’سوچتی ہوں کہ آسٹریلیا کی ہجرت نے  میرے  بچوں سے  ان ’’خوبصورت یادوں  ‘‘ کو بھی ہجرت سکھادی ہے !!تب میرا بڑا بیٹا منیب بڑی محبت سے  کہتا ہے ’’ممی ہم جہاں کہیں بھی رہے  اپنے  کلچر اور مذہب سے  اس وقت تک دور نہیں ہو سکتے  جب تک کہ ہم خود نہ چاہیں ۔ ‘‘تو میں فخر سے  اسے  ایک نظر دیکھتی ہوں جو مجھ سے  قد میں اتنا بڑا ہے  کہ مجھے  سر اٹھا کر دیکھنا پڑتا ہے  اور پیارا اتنا ہے  کہ نظر جھکانی پڑتی ہے۔‘‘(۷)

یہ محبت اور عزت و احترام میں ڈوبی تحریر اس بات کی گواہ ہے  کہ نگہت نسیم نے  اپنے  ماں باپ سے  محبت اور ان کی فرمانبرداری کی زمین میں جو پھولدار اور پھلدار شجر لگائے  تھے  اس کے  پھول اور میٹھے  پھلوں سے  آج ان کی اولاد نے  ان کے  آنچل کو بھر دیا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کبھی کسی کی نیکی ضائع نہیں کرتا۔

ادبی زندگی کا آغاز:

نگہت نسیم جس گھرانے  کی چشم و چراغ ہیں وہ بہت ہی معزز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانہ ہے۔جس ماحول میں نگہت کی پرورش ہوئی وہ بہت حد تک دینی، علمی اور ادبی تھاا ور اسی ماحول کا اثر تھا کہ اس نے  نگہت کے  نازک ہاتھوں میں قلم تھما دی۔یوں تو ہر انسان کو خدا نے  تخلیقی قوت دی ہے  لیکن غالب اکثریت اپنی پوری طبعی حیات میں اسے  کبھی بھی اجاگر نہیں کر پاتے  لیکن نگہت نسیم کا شمار ان خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے  جنہیں تعلیم کے  ساتھ ساتھ ادب سے  لگائو اور قوت اظہار کی دولت اپنے  والدین کی آغوش سے  ملی اور اس تخلیقی عمل میں بیرونی ماحول سے  ہٹ کر زیادہ ان کے  گھر کا ماحول معاون بنا۔یہ بھائی بہن گھر میں صرف کتابوں ہی کی باتیں کرتے  تھے، ان کے  گھر میں تازہ خبر صرف کسی شاعر کا تازہ کلام ہوا کرتی تھی۔زخم نئے  ہوں یا پرانے  نشان تو چھوڑ ہی جاتے  ہیں ، وہ چاہے  دل پر رہ جائیں یا جسم پرایسٹ پاکستان میں جو سانحہ ہوا اس نے  نگہت کے  دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور پھر ان کتابوں کا اثر ایک سحر کی طرح قلم کو کاغذ تک لے  آیا۔علاوہ ازیں  ڈاکٹری کے  پیشے  نے  بھی غیر شعوری طور پر اس میں اہم رول اد کیا ہے  کہ معالج کے  طور پر ڈاکٹر کو کسی بھی مریض کو سرسری طور پر نہیں دیکھنا ہوتا ہے  بلکہ اکثر اوقات مریض کے  خاندانی پس منظرتک کوجاننا پڑتا ہے  یہی وہ جزئیات ہیں جو نگہت کے  قلمی سفر میں دوسرے  لکھنے  والوں کی نسبت زیادہ واضح طور پر نمایا ں  ہوئی ہے۔ اس کا ایک رخ یہ بھی ہے  کہ ایک ڈاکٹر  کے  طور پر اور خاص طور پر نفسیاتی مریضوں سے  نپٹتے  ہوئے  نہایت ذہنی دباؤ میں رہنا پڑتا ہے  اور بعض اوقات مریض تو تندرست ہو جاتا ہے  لیکن ڈاکٹر پر ذہنی دباؤ کبھی مہینوں اور کبھی برسوں برقرار رہتا ہے۔ایسے  میں اس ذہنی دباؤ سے  نجات کا بہترین ورد قلم کی رفاقت ہے  اور شاید اسی لیے  نگہت کے  بہت سے  افسانوں اور نظموں کے  پلاٹ اور کردار ماحول سمیت عمومی حوالے  سے  تخلیق کردہ نہیں بلکہ حقیقی ہوتے  ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے  کئی افسانوں میں کرداروں کے  نام بھی نہیں بدلے۔یوں اس رخ سے  نگہت کے  ڈاکٹری کے  پیشے  نے  نگہت کے  اظہار کی قوت میں اضافہ بھی کیا ہے  اور معاونت بھی کی ہے۔ایک بات اوریہ ہے  کہ اکثر ڈاکٹر بہت اچھے  مصور بھی ہوتے  ہیں۔ نگہت نسیم برش سے  کینوس پر تصویر بیشک نہیں بناتی ہیں لیکن قلم اور لفظوں سے  بنائی ان کی تصویریں اس اعتبار سے  پختہ رنگوں کی ہیں کہ قاری جلد نگہت کی سحر انگیز تحریروں کو فراموش نہیں کر سکتا۔نگہت نسیم نے  یوں تو اپنی پہلی کہانی آٹھ سال کی عمر میں لکھی تھی جو کہیں شائع تو نہ ہو سکی لیکن نگہت کی کلاس ٹیچر نے  انہیں بہت شاباشی دی اور ننھے  ہاتھوں سے  قلم پر گرفت مظبوط کرنے  کی ہدایت دی۔لیکن نگہت نسیم نے  ۱۹۷۴ء میں جب نویں جماعت میں کراچی میٹرو پولیٹن اسکول میں پڑھتی تھیں تو باقاعدہ لکھنے  کا آغاز کیا۔بارہ سال کی عمر میں ’’رشتوں کے  جال‘‘کے  نام سے  اپنا پہلا افسانہ لکھاجو ’’کرن‘‘ڈائجسٹ میں شائع ہوا اور پہلے  ہی افسانے  پر تین سو روپیے  کاا نعام حاصل کیا۔یہ ایک ایسا حوصلہ تھا جو ابھی تک ساتھ دے  رہا ہے۔اس کے  بعد مختلف ڈائجسٹ اور ادبی جریدوں کے  ساتھ ملکی اور غیر ملکی رسائل میں ان کی کہانیاں شائع ہوتی رہیں۔ نگہت نسیم نے  خواتین ڈائجسٹ، شعاع  ڈائجسٹ، حنا ڈائجسٹ اور جنگ کراچی میں لکھا، کرن ڈائجسٹ میں تو بہت ہی لکھا، پھر صرف پاکیزہ اور دوشیزہ کی ہو کر رہ گئیں۔ اپنے  کالج کے  زمانے  میں نگہت نسیم ادبی سیکشن کی انچارج تھیں اور دوستوں کے  ساتھ مل کر ’’صدف‘‘بھی نکالا۔اس دوران نگہت کو بڑی بڑی ادبی شخصیات اور شاعروں کو قریب سے  دیکھنے  اور ان سے  سیکھنے  کا موقع ملا لیکن نگہت اس تواتر اور توازن کو اس وقت برقرار نہ رکھ سکیں جب وہ مکمل طور پر ہاسپیٹل کی نذر ہوگئیں۔ شب و روز کی مصروفیتوں میں کہانیاں تو لکھتی رہیں لیکن ادارتی ذمہ داریاں نہیں نباہ سکیں ۔ کہانیوں کا یہ سفر اور آگے  بڑھا تو آئمہ کریم کی دعاؤں کو منظوم کرنا شروع کیا۔ اب تک نگہت نسیم کی تخلیقات جو کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں وہ یہ ہیں  :

۱۔گرد باد حیات(افسانوں کا مجموعہ)۲۰۰۴ء

۲۔مٹی کا سفر(افسانوں کا مجموعہ)۲۰۰۹ء

۳۔سفید جھیل(نظموں کا مجموعہ)۲۰۱۱ء

۴۔یہی دنیا ہے  یہیں کی باتیں  (کالمز کا مجموعہ)۲۰۱۱ء

۵۔خاک دان(افسانوں کا مجموعہ) زیر طبع

۶۔منظوم دعاؤں کا مجموعہ، زیر طبع

۷۔کالمز کا مجموعہ، زیر طبع

۸۔نظموں کا مجموعہ، زیر طبع

۹۔اہل بیت اظہار کی حیات مبارکہ، زیر طبع

نگہت نے  زندگی کو بہت قریب سے  جیتے  بھی دیکھا ہے  اور مرتے  بھی۔جب اس کی نبضیں ہاتھوں سے  پھسل جاتی ہیں تو نگہت پر اداسی کے  بادل چھا جاتے  ہیں اور وہ ہفتوں ، مہینوں اداس رہتی ہیں اور پھر ان کی یہی اداسی ان کی کہانیوں کی کیفیت بن جاتی ہے۔اطراف کی تلخ حقیقتیں جب نگہت کو بہت متاثر کرتی ہیں تو وہ ان کے  کرداروں میں مل جاتی ہیں۔ ان کا سفر مسلسل ان کی کہانیوں میں مٹی کی طرح سفر کرتا ہے  اور انہوں نے  اپنے  ارمان، اپنے  حوصلے، اپنی تھکن، اپنی شکستیں ، اپنی قربانیاں ، اپنی آہ و زاریاں سبھی کچھ ہمارے  سامنے  رکھ دی ہیں۔ نگہت کی بس ایک خواہش تھی کہ وہ دل و نظر کا سفر کریں اور ایک سوچ بن کر چھا جائیں کہ وہ اظہار کے  قبیلے  سے  ہیں۔ انہیں سر گوشیاں اچھی نہیں لگتی۔نگہت نے  اسی لیے  لکھا تا کہ وہ ہم سب کو بتا سکیں کہ وہ کیا بات تھی جس نے  ان کی روح کو دن رات بے  چین و بے  قرار رکھا کچھ اور سوچنے  ہی نہ دیا۔اس سلسلے  میں ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’یہ ان دنوں کی بات ہے  جب میں اپنی ٹریننگ(Training) کرنے  ”Old age Psychiatry”کے  یونٹ”Dementia”میں آئی تھی۔زندگی میں پہلی بار ان لوگوں کو قریب سے  دیکھا جو مجھے  سامنے  دیکھتے  ہوئے  بھی بار بار پوچھتے  تھے  کہ ’’تم کون ہو وہ مجھے  بھول جاتے  تھے  اور میں بھی راستے  بھول جایا کرتی ہوں۔ … اپنی دوست شاہین حبیب سے  کی ہوئی برسوں پرانی گفتگو بھی یاد آجاتی، جب وہ اپنی ماں کی باتیں آنسوؤں میں کیا کرتی تھی!کیسے  وہ بھی سب کے  سامنے  ہی سب کچھ بھول گئی تھی۔…لیکن مجھے  لکھنا پڑا کہ مریضوں کے  ساتھ ساتھ ان کے  ساتھ رہنے  والے  کتنا’’سفر‘‘کرتے  ہیں۔ ان کا کتنا بڑا نقصان ہو جاتا ہے  جو ساری عمر بھی پورا نہیں ہوتا۔کاش ہم انسان انسانوں سے  اپنا وقت بانٹ سکتے  کہ دلداری بھی تو نماز کی طرح ہوتی ہے  نا، جو وقت پر ادا نہ ہو تو قضا ہو جاتی ہے۔…مجھے  اپنی لکھی ہوئی کہانیوں کے  کرداروں میں چھپی خواہشیں نظر آتی ہیں۔ ان کی ان کہی باتیں اپنی طرف بلاتی ہیں۔ ایسے  جیسے  گہرا سمندر شور مچاتا ہے  پر سب ہی ساحل پر کھڑے  ہو کر اس کی آہ و پکار سنتے  ہیں لیکن اسے  ہمیشہ ہی سمندر کی عادت سمجھ کر ہنسی میں اڑا لیتے  ہیں۔ کتنے  ہی کم لوگ ہیں جنہیں سمندر اور انسانوں کی گہرائیاں نصیب تھیں۔ اب بھی سمندر میں چھ بلین کا خزانہ چھپا ہوا ہے  جس کا ادراک کسی کو بھی نہ تھا کہ وہ کہاں ہے۔اب انسان کے  اندر کتنے  بلین کا خزانہ چھپا تھا کس کو علم تھا!!شاید یہی جستجو مجھے  ان کے  ساتھ سفر کرا دیتی ہے، پھر میری دوستی پیار میں بدل جاتی ہے۔ان کے  دکھ سکھ میرے  ہو جاتے  ہیں۔ آپ جانتے  ہیں نا کہ سہنے  میں دھیمے  دھیمے  جلنا پڑتا ہے، سلگنا پڑتا ہے  اور پھر ہنس دینا پڑتا ہے۔عادتاً سمندر کی طرح پھر ساحل پر کھڑے  لوگ ہوں یا مد مقابل، سب ہی چھوڑ کر چل دیتے  ہیں واپس اپنے  اپنے  ٹھکانوں کی طرف، اس وقت اس پل میرے  اندر دکھ بولنے  لگتے  ہیں۔ انہیں دکھوں میں ایک اور دکھ مجھے  آج بھی بہت دکھی کرتا ہے۔جب میں نے  ’’مجبور سفر ہوں ‘‘لکھا تھا جس میں وہ کمبوڈین عورت اپنی تمام تر ناکامیوں اور محرومیوں کے  ساتھ خودکشی کر لیتی ہے۔وہ میری زندگی کا ایک مشکل ترین دن تھا اور میری توجہ صرف اپنے  پروگرام پر تھی جب ہاسپٹل سے  ’’جینی‘‘کا فون آیا تھا اور میں ساکت رہ گئی تھی۔اب اگر یاد کروں تو اس کمبوڈین عورت کے  ساتھ میرا ساتھ صرف دو گھنٹوں کا تھاجس میں ، میں نے  اس کی ہسٹری لی تھی اس کی فیملی سے  باتیں کی تھیں۔ اسے  ایڈمٹ کیا تھا۔اس سے  وعدہ کیا تھا کہ وہ اچھی ہو جائے  گی۔اب سوچوں تو لگتا ہے  جیسے  وہ ساری عمر کے  لیے  میرے  ساتھ رہنے  آگئی ہے۔ بیک گراؤنڈ میں ابھی بھی ایک گیت کے  بعد دوسرا گیت”On Air” جا رہا ہے  اور میری آنکھوں میں آنسو اسی تواتر سے  گر رہے  ہیں اور جینی کہہ رہی تھی کہ:”come on Doc.it is a part of out job.”

“Yes”میں صرف اسے  یہی کہہ پائی تھی۔ ریڈیو پروڈیوسر ’’پرکاش‘‘کہہ رہے  تھے  کہ آپ ڈاکٹروں کے  لیے  تو یہ عام سی بات ہے۔آپ پرو گرام کریں۔۔۔!میں نے  حیرت سے  انہیں دیکھا اور پوچھا کہ ’’کیا ڈاکٹر انسان نہیں ہوتے ؟ــ‘‘انہیں بھی چوٹ لگتی ہے۔ان کے  بھی دکھ ہوتے  ہیں۔ وہ بھی اپنی بات سنانا چاہتے  ہیں۔ میرا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ جنگیں وقت ضائع کرتی ہیں۔ اپنے  پیچھے  ان گنت دکھ چھوڑ جاتی ہیں ۔ وطن پرستی اور وطن چھیننے  میں فرق ہو تا ہے۔جنگ شروع اور ختم ہونے  کے  درمیان کیا ہوتا ہے  اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے  پر مجھے  وہ لکھنا ہے  جو اس کے  بعد ہو تا ہے۔‘‘(۹)

مشکل بہت تھا، وادیِ احساس کا سفر

زخموں پہ رکھ کے  پاؤں ، گزرنا پڑا اسے

(فضاؔابن فیضی)

مذکورہ بالااقتباس سے  اندازہ ہوتا ہے  کہ نگہت نسیم نے  عام انسانی زندگی میں رونما ہونے  والے  ہر چھوٹے  بڑے  مسائل کو اپنے  افسانے  کا موضوع بنا یا ہے۔انہوں نے  اپنی قلمی زندگی کو عام زندگی سے  کبھی جدا نہیں کیا بلکہ نگہت نے  ہر افسانے  میں زندگی لکھی ہے۔اس کے  علاوہ ان کی کہانیوں میں ماں کی ممتا اور اس کی محبت کی مسحور کن خوشبو بھی موجود ہے۔ماں کی ممتا اور ان کی محبتوں کی جو خوشبو ان کے  افسانے  میں موجود ہے  اس سلسلے  میں بقول نگہت نسیم کہ انہوں نے  اپنی پہلی کہانی اپنی ماں کے  گھٹنوں کو میز بنا کر لکھی تھی اور اسی کے  بعد سے  ان کی تمام کہانیوں میں ان کی ماں کی ایک انجانی سی خوبصورت خوشبو اور ایک معلوم سی ممتا موجود رہتی ہے  جو ہر کام بڑے  عام فہم اور آسان لفظوں میں سمجھا دیتی ہیں اور بڑی بہادری سے  راہ کی ہر تکلیف اٹھا لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے  کہ نگہت کی کہانیاں سب کو بڑی جانی پہچانی تو کبھی خود سے  ملتی جلتی لگتی ہیں۔

اخلاق و عادات اور معمولات زندگی :

نگہت نسیم ہر وقت بڑی سے  بڑی مصیبت میں بھی مسکرانے  والی وہ شخصیت ہیں جن سے  جتنا ملتے  جائیں وہ اتنا ہی افِشا ہوتی چلی جاتی ہیں۔ مخفی یا پوشیدہ رہنا شاید ان کے  مزاج میں ہی شامل نہیں  اور وہ اپنی زندگی کی طرح اپنی ادبی اور تخلیقی دنیا میں بھی بہت واضح اور آئینے  کی طرح بالکل صاف شفاف ہیں اور ان کے  اندر اور باہر کی یہی شفافیت ان کی نثری اور منظوم تخلیقات میں بھی موجود ہے  اور یہی ایک خوبی ایسی ہے  جو ان کی تمام دوسری خوبیوں پر غالب ہے۔ہونٹوں پر تبسم کی چمک بنائے  رکھنے  والی اس شخصیت کے  بارے  میں خالد مسعود لکھتے  ہیں  :

’’وہ ایسی خاتون ہے  جو زندگی میں کبھی بھی مسکراتی نہیں مسکراہٹ کی جگہ ہمیشہ قہقہ لگاتی ہے  اور قہقہ کی جگہ قہقہے …بعض دفع تو لگتا ہے  وہ آپ کی بات پر نہیں آپ پر ہنس رہی ہے۔میں نے  آج تک اسے  اداس نہیں دیکھا۔شاید جب وہ قہقہ نہیں لگا رہی ہوتی ہے  وہ اداسی کی کیفیت میں ہوتی ہو۔‘‘(۱۰)

نگہت نسیم ایک ہمہ صفت قسم کی خاتون ہیں جن کی شخصیت شاید ہشت پہلو سے  بھی زیادہ ہے  وہ ایک پڑھی لکھی پروفیشنل خاتون ہے  جنہوں نے  ایک لمبے  عرصے  سے  اپنے  ڈاکٹری کے  پیشہ، ادبی اور گھریلو زندگی میں ایک قابل مثال توازن اس خوبی سے  برقرار رکھا ہوا ہے  کہ کوئی بھی ایک شعبہ کسی دوسرے  شعبے  کی وجہ سے  نقصان میں نہیں ہے  بلکہ ایک دوسرے  سے  روشنی اور قوت حاصل کرتے  ہیں۔ وہ ایک عام ڈاکٹر ہونے  کے  ساتھ ساتھ ماہر سائیکالوجسٹ بھی ہیں اور اسی شاخ کو انہوں نے  اپنے  پروفیشن کے  طور پر اپنایا ہے  اور آج آسٹریلیا کی دارالسلطنت سڈنی میں ماہر سائیکالوجسٹ کے  طور پر کام کرتی ہیں اور نفسیات کے  ان تجربات کو اپنی تخلیقات میں بھی خوب استعمال کرتی ہیں۔

اس کے  علاوہ نگہت نسیم ایک افسانہ نگار ہیں۔ قلم اور تخلیق کے  حوالے  سے  ان کا پہلا عشق افسانہ ہے۔افسانے  کو نگہت نے  اپنا وقت دیا ہے، اپنی ذہنی طاقت دی ہے، اپنے  ہاتھوں کی جنبش دی ہے، اپنی آنکھوں کی روشنائی دی ہے  اور یہ افسانہ ان کے  بچپن سے  اس عمر تک ان کے  ساتھ پروان چڑھا ہے۔ بحیثیت افسانہ نگار نگہت نے  کسی لابی اور گروپ کی رکن نہ ہونے  کے  باوجود اپنی حیثیت اور مقام متعین کروا لیا ہے  اور اس کی ایک بڑی دلیل مرحوم احمد ندیم قاسمی کے  نوک قلم سے  نکلے  ہوئے  یہ الفاظ ہیں  :

’’ڈاکٹر نگہت نسیم کے  افسانوں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے  کہ وہ بظاہر معمولی سے  واقعے  یا کرداروں کے  اختلاف رائے  سے  افسانے  کا آغاز کرتی ہیں اور اس میں برجستہ مکالموں سے  سجاتی چلی جاتی ہیں۔ ‘‘(۱۲)

قلم اور تخلیق کے  حوالے  سے  ان کا دوسرا عشق شاعری ہے۔نگہت خود کہتی ہے  کہ مجھے  کبھی بذات خود نہ اس بات کا احساس ہوا اور نہ ہی ادراک کہ میں شعر کہہ سکتی ہوں اگر کبھی شعر کہنے  کو ان کا دل چاہا بھی تو یہ سوچ کر کہ یہ ان کا کام نہیں ہے  کہہ کر گرم پانی میں پاؤں ڈالا ہی نہیں۔ اس وقت نگہت کی افسانہ نگاری کی عمر تقریباً چالیس برس ہے  اور جبکہ شاعری کی عمر تقریباً دس برس ہے  لیکن یہ حقیقت ہے  کہ نگہت نسیم نے  ان دس برسوں میں چالیس برس کے  برابر شاعری کی ہے۔شعر کی طرف نگہت نسیم کا دھیان جناب صفدر ہمدانی صاحب نے  دلوایا۔انہوں نے  نگہت پر یہ بات افشا کی کہ ان کے  افسانوں میں بہت سے  پیرا گراف مکمل نظمیں ہیں۔ نگہت نے  جب اگست ۲۰۰۸ء میں ڈرتے  ڈرتے  پہلی مرتبہ اپنی چند نظمیں اور غزلیں ہمدانی صاحب کو سنائیں تو ان کو نگہت کی نظموں میں ایک الگ طرح کی خوشبو، طراوت اور تازگی محسوس ہوئی اور انہوں نے  اخبار کے  لیے  نگہت سے  نظم لکھنے  کا تقاضا کیا اور نگہت کو ہمدانی صاحب کے  تجزیے  کی صداقت کا یقین کرنا ہی پڑا جب ان کی پہلی ہی نظم’’بارش‘‘قارئین میں بہت مقبول ہوئی جس کو پڑھ کر سب سے  پہلے  ہمدانی صاحب نے  یہ کہا تھا کہ نگہت نسیم بنیادی طور پر نظم کی شاعرہ ہے۔

نگہت نسیم کے  شعری سفر کے  آغاز میں ہی ہمدانی صاحب نے  غزل کو ان کے  مزاج کے  خلاف بتایا اور یہ کہہ کر غزل لکھنے  سے  منع کر دیا کہ غزل لکھنے  والا شاعر تیسرے  آسمان تک اڑتا ہے  جب کہ نظم کی وسعت ساتویں آسمان کی سیر بھی کرواتی ہے۔نگہت نے  ہمدانی صاحب کی اس بات کو اپنے  ذہن سے  کبھی محو نہیں ہونے  دیا اور یوں ان کے  افسانے  کے  شاعرانہ انداز، ان کے  شاعرانہ مزاج نے  ان کی شاعری کو ایک نیا آسمان دیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ نگہت کے  استاد یہ بھی کہنے  لگے  کہ تمہاری نظموں میں اتنے  ہی افسانے  موجود ہوتے  ہیں جتنے  تمہارے  افسانوں میں نظمیں سانس لیتی ہیں۔

نگہت نسیم کی متنوع زندگی کا ایک نیا رخ صحافت اور کالم نگاری بھی ہے۔محترم جناب صفدر ہمدانی صاحب نے  نگہت نسیم کو کالم نگاری کی طرف راغب کیا۔کالم نگاری کی دنیا میں قدم رکھنے  کی روداد کو نگہت نسیم اپنے  کالمز کے  مجموعے  میں لکھتی ہیں کہ ایک دن ہمدانی صاحب (عالمی اخبار کے  مدیر)اخبار پر ہمیشہ کی طرح مصروف تھے  اور ساتھ ہی فون پر سویڈن میں کسی سے  محو گفتگو تھے  اور ہمدانی صاحب سے  انہیں کسی خبر کا ذکر کرنا تھا لیکن ان کے  پاس وقت نہیں تھا تو نگہت نے  یوں ہی کہہ دیا کہ ’’بس ایک میں ہی بیکار ہوں۔ ‘‘ہمدانی صاحب چونک گئے  انہوں نے  سب کام چھوڑ کر کہا کہ تم اسی موضوع پر کالم لکھو لیکن نگہت نے  کہا کہ میں نے  کالم کبھی نہیں لکھے۔ صفدر ہمدانی نے  کہا کہ میں یہیں بیٹھا ہوں اور تم لکھو۔اس طرح صفدر ہمدانی نے  نگہت کے  ہاتھ میں کالمی قلم پکڑا دی اور نگہت سے  مضبوط اور خوبصورت کالم لکھوائے۔انہیں کی شفقت تلے  نگہت نسیم ایک نومبر ۲۰۰۹ء سے  نیٹ کے  اردو کے  موقراخبار’’عالمی اخبار‘‘ میں نائب مدیر کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ نگہت نسیم اب تک ہر موضوع پر کالم لکھ چکی ہیں تاہم کالم میں تجربے  کے  طور پر منظوم کالم اورصوتی کالم کے  تجربے  بھی کیے  ہیں۔ کالموں کی پہلی کتاب’’یہی دنیا ہے  یہیں کی باتیں  ‘‘(۲۰۱۱ئ)شائع ہو چکی ہے  اور منتخب کالموں کی دوسری کتاب تیار ہے  جو جلد ہی اشاعت پذیر ہوگی۔علاوہ ازیں نگہت نسیم آسٹریلیا میں ریڈیو اور ٹی وی کے  پروگرام کرنے  کے  ساتھ ساتھ اسٹیج پر میزبانی بھی کرتی رہی ہیں۔

نگہت نسیم کی ادبی زندگی کی کامیابی میں ان کے  اپنے  انتہائی مہربان،  بردبار،  عزت اور پیار کرنے  والے  غمگسار، رفیق سفر محمد آفتاب کا بہت بڑا مگر خاموش تعاون موجود ہے  جس کے  لیے  وہ بلا شبہ قابل ستائش اور قابل مبارکباد ہیں کہ ہمارے  معاشرے  میں کوئی بھی شوہر اپنی بیوی کی اجازت کے  بغیر کچھ بھی کر سکتا ہے  لیکن کوئی بیوی اکثر اپنے  خاوند کی اجازت کے  بغیر شاید غزل اور نظم تو کجا نعت اور حمد بھی نہیں لکھ سکتی۔ریڈیو پروگرام ہو کہ کہانیاں لکھنا، T.V.کا اسکرپٹ ہو یا اسٹیج کی میزبانی، ہاسپٹل کے  (Overtime)After Hours  ہو یا کچن میں کھانا پکانا ہو ہر موڑ اور ہر جگہ پر آفتاب صاحب نے  اپنی بیوی کا ساتھ دیاہے۔اسی سلسلے  میں نگہت نسیم ایک بے  پناہ محبت کرنے  والی ماں ہیں۔ مجیب، منیب اور آمنہ ان کی دھڑکنیں ہیں اور ماں بچوں کا یہ رشتہ ایک مثال قلم کار کی طرح مثالی رشتہ ہے۔

نگہت نسیم ایک بہت اچھی دوست ہیں اور اس دور میں جب لفظ دوستی اپنی تمام تر عظمت اور اصلیت کھو چکا ہے  تو وہ صدیوں پہلے  کے  دوستوں  کی روح بن کر دوستیاں نبھاتی ہیں۔ نگہت نسیم کے  نزدیک دوستی جوہر حیات ہے  اور وہ خود اسی جوہر سے  تقویت دیتی رہتی ہیں۔

 نگہت نسیم اس احسان فراموشی کے  دور میں بھی اپنے  کسی بھی محسن کو فراموش نہیں کرتیں اور اپنے  ایسے  محسنوں کا ذکر صرف تحریری طور پر نہیں کرتیں بلکہ محفلوں میں حاضرین کی موجودگی میں بڑی نیاز مندی کے  ساتھ کرتی ہیں۔ ان کے  دوسرے  افسانوی مجموعے  میں شامل اگر ان کا تعارفی مضمون پڑھا جائے  تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے  کہ اس کے  تقریباً دو صفحات ایسے  ہی افراد کے  ناموں سے  بھرے  ہیں جن کے  احسانات کا ذکر نگہت نے  بڑی فراخ دلی سے  کیا ہے  جو بذات خود ایک احسان ہے۔نگہت نے  جس سے  بھی ایک لفظ سیکھا ہے  اسے  یاد رکھا ہے۔اس ضمن میں ان کے  والدین اور اہل خانہ سے  لے  کر معروف و مشہور افسانہ نگار جمیل صدیقی، محمد ادریس، محمود ریاض، محمود بابر فیصل، گل شیر بٹ، دلشاد نسیم(بہن)، زاہد منہاس(ریڈیو دوستی اور ٹی وی کا پروڈیوسر)، سید ظفر حسین(صدائے  وطن)، محبوب عالم، مسرت بانو، غزالہ رشید، صفدر ہمدانی(ریڈیو براڈ کاسٹر، غزل اور نظم گو شاعر، محقق، نڈر جر نلسٹ، افسانہ نگار، عالمی اخبار کے  مدیر اعلیٰ)اور نگہت کے  پبلشر محمد عابد وغیرہ ایسے  کتنے  ہی ناموں کی طویل فہرست ہے۔ احسان کا بدلہ احسان کے  مصداق خدا کو شاید اس کی یہی ایک ادا اتنی پسند آئی کہ اس نے  نگہت کو قلم کی سچائی اور الفاظ کی عظمت و عزت کی نگہبانی سپرد کی اوراس ذمہ داری کو نگہت نسیم ابھی تک نہایت ایمانداری اور اپنی پوری قابلیت و صلاحیت کے  ساتھ نبھا رہی ہیں ۔

حواشی:

۱۔فضاؔابن فیضی:شخصیت اور فن، ڈاکٹر حدیث انصاری، ص ۳۱

۲۔مٹی کا سفر، ڈاکٹر نگہت نسیم، ص ۲۱، ۲۰

۳۔ایضاً، ص ۲۲، ۲۱

۴۔ایضاً، ص ۲۲

۵۔یہی دنیا ہے  یہیں کی باتیں ، ڈاکٹر نگہت نسیم، ص ۳۴

۶۔گرد باد حیات، ڈاکٹر نگہت نسیم

۷۔مٹی کا سفر، ڈاکٹر نگہت نسیم، ص ۲۵، ۲۴

۸۔ایضاً، ص ۲۵

۹۔ایضاً، ص۳۱، ۳۰، ۲۸، ۲۷

۱۰۔خالد مسعود، مٹی کا سفر۔ تبصرہ،  www.aalmiakhbar.com

۱۱۔سفید جھیل، ڈاکٹر نگہت نسیم، ص۲۲

۱۲۔گرد باد حیات، ڈاکٹر نگہت نسیم

   ۱۳۔سفید جھیل، ڈاکٹر نگہت نسیم، ص ۱۷

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.