رومانوی تحریک  اوراردو ناول

ڈاکٹر سعید احمد

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، عالیہ یونی ورسٹی، کلکتہ

انگریزی زبان میں رومانٹک یا رومانوی لفظ کا استعمال پہلے  پہل سترھویں صدی عیسوی میں ایچ مور نے  کیا اور یہ لفظ رومانوی قصوں (Romances) کے  لیے  استعمال ہوتا تھا یعنی ایسے  قصے،  کہانیوں کے  لیے  جو غیر حقیقی اور محض تخیل کی پیداوار ہوں۔  پروفیسر محمد حسن صاحب کا ماننا ہے  کہ ادبیات کے  سلسلے  میں سب سے  پہلے  اس لفظ کا استعمال 1781ء میں وارٹن اور ہرڈ نے  کیا،  بعدہٗ گوئٹے  اور شلر وغیرہ نے  انیسویں صدی کے  آغاز میں استعمال کرنا شروع کیا۔ دھیرے  دھیرے  مغربی ادب میں رومانیت نے  ایک ادبی تحریک کی صورت اختیار کرلی اور ادب کے  ساتھ ساتھ اس نے  فنون لطیفہ کے  تمام شعبوں کو متاثر کیا۔

ادب کی تاریخ کے  مطالعہ سے  یہ بات صاف ہوجاتی ہے،  کسی بھی تحریک یا رجحان کے  وجود میں آنے  میں اس عہد کے  سیاسی اور سماجی تغیرات کا اہم رول ہوتا ہے  اور یہ بھی حقیقت ہے  کہ تحریک سے  قبل رجحان کے  آثار نمایاں ہونے  لگتے  ہیں۔

بنیادی طور پر رومانوی تحریک کا آغاز فرانس سے  ہوتا ہے،  فرانسیسی ادیب روسو (1712-1888) Jen Jaques Rouseau) غالباً پہلا انسان ہے  جس نے  اس تعلق سے  اپنے  خیالات کی وضاحت کرتے  ہوئے  کہا کہ ’’انسان آزاد پیدا ہوا ہے  مگر جہاں دیکھو پا بہ زنجیر ہے۔‘‘ 1؎

روسو کے  اس قول کو پروفیسر محمد حسن نے  رومانیت کا مطلع قرار دیاہے  اور یوسف حسین خاں کے  بقول ’’رومانی خیالات کی تخم ریزی روسو نے  کی۔‘‘ 2؎

روسو کے  اس جملے  سے  اس کی انقلابی فکر کا اندازہ ہوتا ہے،  روسو اس عہد میں فرد کی آزادی کاپیغام دے  کر یہ بتانا چاہتا تھا کہ کلاسیکیت کے  زیراثر جومختلف اصول و ضوابط نافذ کردیے  گئے  ہیں۔  اس سے  انسان کی آزاد خیالی پر بندش لگ گئی ہے۔ انسان آزاد پیدا ہونے  کے  باوجود سماجی بندشوں میں جکڑا ہوا ہے،  ذہن و دماغ پر پابندی کے  ساتھ زندگی اور ادب پر بھی پابندی عاید ہوگئی ہے۔ رومانیت،  کلاسیکیت کے  سخت اصولوں کے  خلاف رد عمل تھا۔  فرانسیسی ادب میں رومانیت کا موجد روسو قرار پایا۔

’’فرانسیسی ادب کی تاریخ میں روسو نے  رومانیت کی بنیاد ڈالی۔ اس کے  یہاں وہ سب عناصر موجود تھے۔ جو بعد میں رومانیت کی خصوصیت سمجھے  گئے  یعنی انفرادیت پسندی،  آزادی،  فطرت اور انسان سے  محبت اور جذبے  کی قدر افزائی۔‘‘ 3؎

انقلاب فرانس کو یوروپ کی تاریخ میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے  اس انقلاب کی وجہ سے  معاشرے  میں تبدیلی آئی اور کلاسیکیت کے  اصول و ضوابط مانڈ پڑ گئے۔اس انقلاب نے  ایک نئے  معاشرے  کو جنم دیا،  کلاسکیت کا ہیرو والٹیر تھا،  اس نے  کلاسیکیت پر زور دیا،  لیکن روسو نے  اس کے  خیالات کو انسانیت کے  خلاف بتایا ہے۔ محمد ہادی حسین کا ماننا ہے  کہ رومانیت اور کلاسیکیت میں موازنہ کرنا غلط ہے  انھوں نے  لکھا ہے  کہ کلاسیکیت اور رومانیت میں کوئی تضاد نہیں ہے،  اس ضمن میں ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’کلاسیکیت فن کی صحت کا نام ہے  یعنی مزاجوں کے  توازن کا نام،  کلاسکیت جن عناصر کو مجتمع کرتی ہے  ان میں ایک عنصر رومانیت بھی ہوتا ہے  ایک دوسرا عنصر جو اس کا مخالف ہے  واقعیت ہے۔ اگر کوئی تضاد ہے  تو رومانیت اور واقعیت میں ہے … رومانیت خارجی تجربوں سے  روگردانی اور اندرونی تجربوں میں انہماک کا نام ہے  وہ ادراکات پر تخیل کو ترجیح دیتی ہے۔‘‘ 4؎

جمیل جالبی کا کہنا ہے  کہ روسو نے  کھل کر کلاسکیت کی مخالفت کی ہے  کیونکہ وہ اس بات پر زور دیتا ہے  کہ فرد اور اس کی زندگی کا مطالعہ بے  حد ضروری ہے  اس لیے  اس نے  (Back To nature) کا نظریہ پیش کیا ہے  جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس سے  عیاں ہوتا ہے :

’’روسو نے  اس بات پر زور دیا کہ انسانوں کے  بارے  میں صحیح رائے  قائم کرنے  کے  لیے  فرد اور اس کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ فطری انسان کا مطالعہ دراصل خود انسان کی ذات کا مطالعہ ہے۔ روسو نے  تہذیب کے  مقابلے  میں ’’نیچر‘‘ کو ترجیح دی۔ اس کا نعرہ تھا  ’’نیچر کی طرف واپسی‘‘ (Back to Nature) یہ سب تصورات کلاسیکیت کے  خلاف تھے،  روسو کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ نیچر کے  نام پر تہذیب نے  انسان کو بناوٹی زندگی کے  سانچے  میں ڈھال دیا ہے  اس لیے  اب نیا انسان نیچر سے  قریب رہ کر آزادی و مساوات کے  اصول پر کاربند ہوسکتا ہے۔ یہ تصورات دبے  ہوئے  عوام کی آواز تھے۔ معاشرے  پر ان کا گہرا اثر پڑا اور فکر کے  تمام طریقے  ان تصورات کے  ساتھ بدلنے  لگے  شعر و ادب میں کلاسیکل اصول ترک کردئیے  گئے۔‘‘ 5؎

اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے  کہ کلاسیکی اور نوکلاسیکی دور میں عام آدمی کی زندگی کی عکاسی نہیں کی گئی جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس کے  بہت سے  اصول و ضوابط تھے۔ جس کا پابند رہ کر ادیب کے  لیے  عام آدمی کی زندگی کی ترجمانی ناممکن سی چیز بن گئی تھی۔ لہٰذا اٹھارویں صدی کے  نصف آخر میں رومانیت ایک طرح کے  ردِّعمل کے  طور پر ظہور پذیر ہوئی جس نے  کلاسیکیت کے  ان فرسودہ اور جامد ضوابط کو توڑنے  کا کام کیا جس کا سہرا روسو کے  سر بندھتا ہے  اور انیسویں صدی آتے  آتے  پورے  یوروپ میں اس کے  اثرات واضح طور پر سامنے  آگئے،  کلاسیکیت اور نوکلاسیکیت کے  عہد کو پوپ کا عہد بھی کہا جاتا ہے۔ روسو  اٹھارویں صدی کے  آغاز میں پیدا ہوا اور اسی عہد کے  دو دیگر عظیم دانشور ان (Drydan)،  ڈرائیڈن،  اور پوپ (Pope) کے  نام بھی انگریزی ادب کی تاریخ میں اہمیت کے  حامل ہیں گو کہ زمانی اعتبار سے  روسو ان دونوں دانشوروں سے  پیچھے  ہے۔ تاہم اس کی وجہ سے  عام آدمی کی حیثیت اجاگر ہوئی اور ان کے  جذبات و احساسات و تصورات ادب میں جگہ پانے  کے  مستحق ہوگئے۔ روسو کے  ناول نول ایلوالیس “Novelle Helaise” کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ اس ناول کے  تعلق سے  یوسف حسین خاں لکھتے  ہیں کہ:

’’تخیل کے  ذریعہ اس میں جذبہ حقیقت آغوش در آغوش ہے۔‘‘

روسو نے  یورپ کے  ہر شعبۂ حیات کو متاثر کیا اور اس وقت کے  ادیبوں پراس کے  مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ بقول اسکاٹ جیمس:

’’انقلاب فرانس اور ادبی رومانوی تحریک ایک ہی ذہنی خمیر کے  پیداوار تھے۔‘‘ 6؎

انگریزی ادب میں رومانیت کے  ارتقاء کے  تعلق سے  ڈاکٹر عبدالودود لکھتے  ہیں کہ:

’’انگریزی مصنّفین نے  کلاسیکیت اور رومانیت کا فرق بھی واضح کیا ہے۔ کلاسیکی مصنّفین فلسفیانہ رجحان رکھتے  تھے۔ لاطینی ادبیات کی روایات انھیں زیادہ عزیز تھیں۔  رومانی مصنّفین کے  یہاں ایک تصوراتی فضا ہے۔ یہ فطرت کے  عاشق تھے،  یہ مناظر فطرت کی جمالیات اور روحانی اقدار کے  دلدادہ تھے،  تلاش حسن کو ان لوگوں نے  حقیقت قرار دیا انھیں وادیاں ،  اور دیہاتوں کا پرسکون ماحول،  جہاں تنہائی اور گوشہ نشینی اختیار کی جاسکے  پسند تھا ان تمام فن کارو ں  کے  یہاں انفرادیت نظر آتی ہے۔ انھوں نے  انفرادی مدعا کو پیش نظر رکھا۔‘‘ 7؎

رومانوی تحریک کو مغرب میں ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے  اور یورپ میں اس تحریک سے  ادب اور سماج میں بڑے  پیمانے  پر تبدیل آئی ہے۔ سوال یہ ہے  کہکیا رومانوی تحریک کے  اثرات اردو ادب پر پائے  جاتے  ہیں  ؟ کیا ہمارے  ادیبوں نے  مغربی رومانوی ادیبوں کے  افکار و نظریات سے  استفادہ کیا ہے  اور اگر استفادہ کیا ہے  تو اس کی نوعیت کیا ہے  اور اردو میں رومانوی تحریک کے  وجود میں آنے  کاسرچشمہ کیا ہے ؟ اس طرح کے  متعدد سوالات ہیں جو ایک حساس قاری کے  ذہن میں آتے  ہیں اور حیران کرتے  رہتے  ہیں۔  پروفیسر محمد حسن نے  اپنی کتاب ’’اردو ادب میں رومانوی تحریک‘‘ میں مندرجہ بالا سوالات کا جواب دلچسپ انداز میں دیا ہے۔ انھو ں  نے  لکھا ہے  :

’’اگر ہم رومانویت کو محض ایک مخصوص ضابطہ سمجھنے  کی بجائے  اسے  ایک زاویہ نظر سمجھتے  ہیں تو ہمارے  سامنے  غور و فکر کے  نئے  راستے  کھلتے  ہیں اردو ادب میں ایک کلاسیکی روایت کا وجود رہا ہے  بلاواسطہ یہاں کی پرداختہ نہ سہی لیکن ہندوستان میں ادبی ورثے  کی روح بنی رہی ہے  اردو شاعری میں غزل اور اس کے  مختلف ادوار کو لیجیے  غزل کے  بارے  میں جو جامد اور واضح ضابطہ لکھنؤ کے  دبستان نے  اختیار کیا تھا اس کی گرفت یقینا بہت سخت تھی۔ ناسخ،  رشک اور وزیر کا لکھنؤ گویا چوبیں قدروں کا دبستان ہے  جہاں شاعری اور حسن کو اصول و ضابطے  میں ڈھالا جارہا تھا۔ نثر مرزا رجب علی بیگ سرور کا فسانہ عجائب،  قدیم داستانیں ،  ان کی مسجع اور مرصع عبارت بھی قاعدے  اور اصول سے  خالی نہ تھی۔ ’دریائے  لطافت‘ سے  لے  کر ’انشائے  سرور‘ تک کافی لمبا عرصہ لیکن اس عرصے  میں گویا بے  روح اصول پرستی اپنی منزلیں طے  کررہی تھی… اس ضابطہ بندی کے  خلاف حالی کا مقدمہ شعر و شاعری پہلا پرزور احتجاج ہے۔‘‘ 8؎

اس حقیقت سے  انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یوروپ میں جس طرح رومانوی تحریک کلاسیکیت کے  ردعمل کے  طور پر وجود میں آئی اردو ادب میں اس طرح کے  کسی باضابطہ ردعمل کا واضحثبوت نہیں ہے۔ انور سدید کا خیال  ہے  کہ علی گڑھ تحریک کے  ردعمل میں رومانوی تحریک وجود میں آئی اور انھوں نے  اپنے  اس بات کے  ثبوت میں لکھا ہے  کہ سرسید کی زندگی میں ہی ان کی عقلیت پسندی کے  خلاف اس دور کے  ادبا محمد حسین آزاد،  ناصر علی دہلوی اور عبدالحلیم شرر کے  یہاں رومانی ردِّعمل شروع ہوگیا تھا۔ اس کا بین ثبوت مخزن کی تحریک ہے۔ ہمارے  خیال میں اردو نثر و نظم کے  قدیم فن پاروں میں نوطرزِ مرصع،  دریائے  لطافت اور لکھنوی شاعری میں جو کچھ اصول و ضوابط موجود تھے،  لیکن یہاں یوروپ کی کلاسیکیت کی کلی طور پر مثال دینا درست نہیں ہے،  البتہ اس بات پر اتفاق ہے  کہ یہاں روایت کی پاسداری پر زور دیا گیا تھا اور الطاف حسین حالی نے  پہلی بار اردو ادب میں اس روایت کی پاسداری پر احتجاج کیا ہے  اور انھوں نے  مغربی ومشرقی نظریات کا مشترکہ طور پر استفادہ کرنے  کی کوشش کی ہے۔ یہاں ہم مغربی رومانوی تحریک کے  اثرات کے  ابتدائی نقوش کو کھینچ تان کر پیش کرسکتے  ہیں نیز رومانوی تحریک کے  اردو ادب پر اثرات کے  تعلق سے  پروفیسر محمد حسن کی اس بات سے  بھی اتفاق کیا جاسکتا ہے  کہ اس کا واضح نمونہ ٹیگور،  علامہ اقبال اور ابوالکلام آزاد کے  یہاں ملتا ہے :

’’ٹیگور،  اقبال اور ابوالکلام آزاد کی رومانوی انفرادیت نے  اس عہد کو ایک نیا ذہن عطا کیا ہمارے  نوجوان جو انگریزی تعلیم اور مغربی تہذیب کی چمک دمک سے  مسحور ہورہے  تھے  یکایک ایشیا کی عظمت اور اپنی شخصیت کی متاع کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے  مغرب سے  تہذیب کی نئی شمعیں لیں ،  شخصیت کا نیا تصور لیا،  جذبات اور تخیل کے  نئے  سانچے  لیے  اور ان کی روشنی میں ایشیا کی بازیافت کی کوشش کی قیصر و کسریٰ قیس و لبنیٰ،  سلمیٰ و امرؤالقیس،  کا ایشیا،  اس کوشش نے  ان کے  ذہنوں میں حسن کا ایک نیا احساس بیدار کیا۔ شخصیت اور انفرادیت کا ایک نیا تصور آراستہ کیا اور جلد ہی ہمارا ادب سائنس اور حکمت سے  نکل کر جاذب نظر شخصیت اور حسن پرست کرداروں کا ذریعہ اظہار بن گیا۔‘‘ 9؎

اس عہد کے  شعرا اور ادباء نے  مغرب کی جمال پرستی اور رومانیت سے  غیرمعمولی طور پر استفادہ کیا ہے۔ اردو نثر میں رومانیت کے  ابتدائی نقوش شرر،  شبلی اور ناصر علی کی تصانیف میں مل جاتے  ہیں ،  لیکن جس ادیب کے  یہاں باقاعدہ طور پر رومانیت کی چھاپ ہے  ان میں ایک اہم نام سجاد حیدر یلدرم کا ہے۔ پروفیسر محمد حسن نے  بجا فرمایا ہے  کہ انھوں نے ’’اردو میں رومانوی تحریک کا باقاعدہ ایک اسلوب کی طرح آغاز کیا۔‘‘

اردو میں رومانوی تحریک کی باگ ڈور سنبھالنے  میں یلدرم کے  معاصرین میں مہدی افادی،  سلطان حیدر جوش اور مجنوں گورکھپوری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

بیسویں صدی کے  ربع اوّل میں اردو ناول کے  لیے  ایک نیا رجحان نئی پرانی قدروں کی کشمکش سے  وجود میں آیا۔ یہ ایک طرح سے  اصلاحی اور معاشرتی ناول کے  ردِّ عمل میں وجود میں آیا۔ اردو ناول پر جمالیاتی اور رومانوی تحریک کے  اثرات نمایاں ہیں۔  ان اثرات کے  زیراثر بہت سے  ناول لکھے  گئے،  ان تمام ناولو ں  میں کرداروں کے  نفسیاتی تجزیہ کے  ساتھ ساتھ ان کی داخلی اور خارجی زندگی کی کشمکش کو جذباتی اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ ان ناولوں میں فرد کے  جذبات و تخیلات اور احساسات کا خیال رکھا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے  ابتدائی ناول نگاروں میں ،  مرزا محمد سعید کے  ناول خواب ہستی،  یاسمین،  نیاز فتح پوری کے  ناول ’شہاب کی سرگزشت،  شاعر کا انجام۔ کشن پرشاد کول کے  ناول شاما میں رومانوی تحریک کے  نظریات کا عکس نمایاں ہے۔ ان ناولوں میں شدید جذباتیت،  باغیانہ شعور،  آزادی کی خواہش،  تخیل پروازی اور فطرت پرستی پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یوسف سرمست نے  اس دور کے  رومانی ناولوں کے  تعلق سے  لکھا ہے  کہ:

’’اصل میں اس وقت کی دنیا بدلنے  کی کوشش ہر ایک اپنے  اپنے  طور پر کررہا تھا،  بعض حقائق کو دیکھ کر ان کو پیش کرکے  اس دنیا کو بدلنے  کی کوشش کررہے  تھے  بعض صرف تخیل اور خیال کے  زور پر ایک نئی دنیا کی تعمیر کررہے  تھے  اصل میں رومانوی تحریک کے  اکثر ادیب دوسرے  ممالک کے  بہتر حالات اور نئے  خیالات کو دیکھنے  میں ایسے  منہمک تھے  کہ ان کی نظر اپنے  سیاسی اور سماجی حقائق سے  بڑی حد تک بیگانہ ہوگئی۔‘‘ 10؎

اس دور میں حقیقت پسندانہ ناول بھی لکھے  گئے  اور یہ ناول نگار اپنے  پیش روؤں سے  کسی حد تک متاثر بھی تھے،  راشدالخیری کے  علاوہ اس دور میں خواتین ناول نگاروں کی شمولیت ہوئی۔ ان ناول نگاروں میں صغریٰ ہمایوں ،  نظرسجاد حیدر وغیرہ کا نام اہم ہے  اور بہت سے  ناول نگاروں نے  بیسویں صدی کے  ربع اوّل کے  بعد بھی نذیر احمد اور راشدالخیری کے  زیراثر ناول لکھے،  اس عہد میں رومانی ناول لکھنے  پر زیادہ توجہ دی گئی۔ علی عباس حسینی کا رومانی ناول سرسید احمد پاشا یا خاف  کی پری 1919 میں شائع ہوا۔ اس ناول میں یوسف سرمست کے  مطابق رومانیت ملتی ہے  لیکن یہ رومانیت نیاز فتح پوری اور کشن پرساد کے  ناولوں سے  قدرے  مختلف ہے۔ مرزا محمد سعید کے  ناول،  خواب ہستی (1900)،  اور یاسمین (1908) میں بھرپور رومانیت پائی جاتی ہے۔ خواب ہستی کا مرکزی کردار ایک رومانی اور آزاد خیال کردار ہے۔ وہ حساس اور جذباتی تعلیم یافتہ نوجوان ہے،  وہ ہرموضوع پر بحث و مباحثہ پر قدرت رکھتے  ہوئے  اپنی ایک رائے  رکھتا ہے۔وہ حسن پرستی اور جمالیت کا خوگر بھی ہے  اور وہ مذہب کے  تحت اصولوں اور پابندیوں کا منکر بھی ہے۔ علی عباس حسینی نے  اس کردار کے  تعلق سے  لکھا ہے:

’’کرداروں میں عثمان خاص طور سے  قابل توجہ ہے۔ وہ اردو ناول کا سب سے  زیادہ تعلیم یافتہ اور شائستہ ہیرو ہے  کہنے  کو تو فسانہ خورشیدی کے  ہیرو کے  پاس اس سے  کہیں زیادہ ڈگریاں  ہیں ،  اور ربط ضبط کے  مرزا کمال ہر کمال سے  مرصع ہیں لیکن ان کی گفتگو میں نہ علمیت ہے،  نہ ادب اور آرٹ سے  واقفیت،  خواب ہستی کے  مصنف نے  عثمان کے  کردار میں وہ علمی خصوصیات نمایاں کردی ہیں جو خود ان میں جوانی میں رہی ہوں گی،  اس نے  سماجی ادبی،  اور مذہبی مباحث پر جس طرح اظہارِ خیال کیا ہے  وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہی کرسکتا ہے۔‘‘ 11؎

مرزا محمد سعید نے  اپنے  دوسرے  ناول یاسمین میں انسانی نفسیات کا مطالعہ بہت خوبی سے  کیا ہے۔ اس ناول میں انسان کے  لاشعور میں چھپی ہوئی خواہشات کو اجاگر کرنے  کی کوشش کی گئی ہے  اس کے  ناول کے  مرکزی کردار اختر کی جبلی خواہشات پر ایک طرح سے  اس کے  والد نے  قدغن لگا دی تھی اس کو راہِ راست پر لانے  کے  لیے  اس کی مرضی کے  بغیر صفیہ سے  شادی کروانا چاہتے  تھے  جب کہ اختریاسمین کے  عشق میں مبتلا ہے،  لیکن شادی ہونے  کے  باوجود اختر یاسمین سے  محبت کرتا ہے۔ اختر کی یہ اپنے  والد کے  خلاف بغاوت ہے۔اختر کی یہ بغاوت لاشعوری طور پر تھی،  باپ کے  کہنے  پر اختر نے  صفیہ سے  شادی کرلی اور آخر میں اختر سے  یاسمین نفرت کرنے  لگتی ہے۔

’’لیکن جب اختر پھول چندر کو صرف ملامت کرتا ہے  تو یاسمین کو بڑی مایوسی ہوتی ہے  وہ اختر کے  تحمل کو بزدلی سمجھتی ہے  اور اس سے  نفرت کرنے  لگتی ہے  یاسمین کی یہ بیوفائی اور اس کے  کردار کے  اس پہلو کو دکھا کر مرزا سعید کوئی وعظ و نصیحت نہیں کرتے  بلکہ قاری کو یہ سوچنے  پر مجبور کرتے  ہیں کہ یاسمین کی اس بے  راہ روی کا باعث کیا ہے  ناول کا یہ ہی فکری پہلو ہوتا ہے۔‘‘ 12؎

مرزا محمد سعید کے  دونوں ناولوں پر رومانوی تحریک کے  اثرات واضح ہیں لیکن ان کے  ناولوں میں رومانوی تحریک کی وہ چھاپ نہیں ملتی ہے  جو ہم کو کشن پرساد کول اور نیاز فتح پوری کے  ناولوں میں دکھائی دیتی ہے۔ اس عہد کے  اکثر ناولوں میں سماجی و مذہبی قدروں کے  خلاف ایک احتجاجی رویہ پایا جاتا ہے۔ جو بہت دھیمہ ہے  اس دور کے  ناول نگارفرد کے  احساسات و تجربات اور جذبات کو اس کی ذہنی کشمکش اور کرب میں مبتلا کرکے  پیش کرتے  ہیں۔  ’لیلیٰ کے  خطوط‘ اور ’مجنوں کی ڈائری‘ فیاض علی کے  ناول ’شمیم‘ اور ’انور‘ کے  مطالعہ سے  اس تلخ حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ ’مجنوں کی ڈائری‘ میں مجنوں ایک آزاد خیال انسان ہے  جو مذہب و سماج کے  اصولوں کی پرواہ نہیں کرتا ہے۔ وہ بھی ’شہاب کی سرگزشت‘ ناول کے  مرکزی کردار شہاب کی طرح عشق کرنا چاہتا ہے۔ مجنوں کا نظریہ یہ ہے  کہ نکاح عشق کو فنا کردیتا ہے۔ یوسف سرمست نے  لیلیٰ کے  کردار سے  مجنوں کو بہتر کردار تسلیم کیا ہے۔ اس کردار کی خوبی یہ ہے  کہ وہ اپنے  دور کے  حالات کا جائزہ لے  کر اس نتیجے  پر پہنچتا ہے  کہ مذہب،  علم،  عقل سے  سکون حاصل کرنا ناممکن ہے۔ یہی  اس کردار کی انفرادیت ہے۔ قاضی عبدالغفار کے  دونوں ناولوں میں جذبات کا جو بہاؤ ہے  وہ رومانوی ناولوں میں ان کی انفرادیت کا ضامن ہے۔ ان کے  ناول کے  کرداروں کا احتجاجی رویہ سماج،  مذہب،  سیاست کے  اصول و ضوابط سے  بھرپور ہے،  پروفیسر محمد حسن ان کے  رومانوی ناولوں کے  متعلق رقمطراز ہیں  :

’’عبدالغفار کے  ہاں رومانوی طرزِ نگارش کا تمام تر سرمایہ اپنے  پورے  شباب پر ملتا ہے۔ ان میں جذباتی وفور ہے  اور خوبصورت اور شدید تاثرات ہیں زندگی سے  بیزاری اور بغاوت ہے  رومانوی سرمستی اور رنگینی ہے  لیکن ان کے  اختتامیہ حصوں میں بڑا توازن اور عقلیت ملتی ہے  اور یہ اس دور کی رومانویت پر ایک اضافے  سے  کم نہیں۔ ‘‘ 13؎

مجنوں گورکھپوری اس دور کے  اہم فکشن نگار ہیں۔  رومانوی تحریک کے  اثرات ان کی تخلیقات پر واضح ہیں۔  مجنوں گورکھپوری کے  تعلق سے  عام ناقدین ادب کی رائے  یہ ہے  کہ انھوں نے  صرف افسانے  لکھے  ہیں اور انھوں نے  خود بھی اسے  افسانہ کہا ہے،  ان کے  افسانوں کے  تعلق سے  یوسف سرمست کا کہنا ہے  کہ یہ ناول ہیں اور ان میں ناول کے  فنی لوازم موجود ہیں۔

مجنوں گورکھپوری نے  اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے  کہ انھوں نے  ہارڈی کے  سات ناولوں کو اردو  میں ڈھالنے  کی کوشش کی ہے،  اس ثبوت کی بنا پر یوسف سرمست کا ماننا ہے  کہ سوگوار شباب کا سراب،  بازگشت،  گردش،  صیدزبوں اور سرنوشت میں ناول کے  فنی لوازم میں موجود ہیں:

’’یہ بات بھی اس بات کا بین ثبوت ہے  کہ مجنوں کی یہ تمام کتابیں صرف ناول ہی کہلائی جاسکتی ہیں انھیں کسی طرح بھی مختصر کہانی یا افسانہ نہیں کہا جاسکتا۔ مجنوں نے  اپنے  تمام مختصر ناول 1924 اور 1932کے  دوران لکھے  تھے … مجنوں کی ناول نگاری کی اصلی اہمیت بھی اسی بات پر منحصر ہے  کہ ان کے  ناول اس دور کی ناول نگاری کے  اور اس دور کے  اہم رجحانات کی پوری پوری نمائندگی کرتے  ہیں۔  ان کے  ناولوں کے  کردار مروجہ اخلاقی اور مذہبی پابندیوں میں جکڑے  ہوئے  نہیں ہیں۔ ‘‘ 14؎

مجنوں گورکھپوری کے  ناول سوگوار شباب میں رومانیت کے  تمام اوصاف موجود ہیں۔  اس میں جذبات کی فراوانی بھی ہے  اور کلاسیکیت کے  توازن اور میانہ روی کے  برعکس انتہا پسندی بھی،  اس لیے  اس ناول کو رومانی ناول کے  زمرے  میں لایا جاسکتا ہے۔ رومانوی تحریک سے  متاثر ہونے  والے  ناول نگاروں میں فیاض علی اور ل۔ احمد کو بھی اہمیت دی جاسکتی ہے۔ فیاض علی کے  دو ناول شمیم 1924 اور انور 1937کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے  دوسرے  ناول انور کے  تعلق سے  ناقدین ادب کی رائے  یہ ہے  کہ یہ ناول ان تمام تقاضوں کو کسی حد تک پورا کرتا ہے  جو ایک رومانوی ناول کی خصوصیت ہے  اور فنی نقطۂ نظر سے  ان کے  اولین ناول شمیم سے  قدرے  بہتر ہے۔ لیکن یہ ناول ایسے  دور میں لکھا گیا جب ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس ہوچکی تھی۔ فیاض علی کا کمال یہ ہے  کہ اس دور میں بھی رومانوی ناول لکھ کر اردو دنیا میں شہرت حاصل کی ہے  اور اس ناول کا مرکزی کردار انور غیرمعمولی کردار ہے۔ علاوہ ازیں ان کے  دیگر کردار،  ممتاز،  کشور سلطانہ اور مہ جبیں قاری کے  ذہن پر گہرے  نقوش ثبت کرتے  ہیں۔  ان کے  کرداروں کے  تعلق سے  علی عباس حسینی نے  لکھا ہے  کہ:

’’انور،  ایک تخیلی دنیا پیش کرتا ہے  اور اس لیے  وہ محض رومانی ہے۔ ظاہری خوبیوں سے  آراستہ۔ لیکن اندر سے  بالکل کھوکھلا،  بیجان،  … مہ جبین پھر بھی اس سے  اچھی ہے  وہ سربازار حسن فروشی کی دوکان لگائے  بیٹھی ہے۔ قتالہ عالم مشہور ہے  بڑے  بڑے  اس کی چوکھٹ پر ناک رگڑتے  ہیں لیکن وہ سنگ دل کسی طرح نہیں پسیجتی،  وہ صرف انور کی بن کر رہنا چاہتی ہے  اور بالآخر اس کے  بچانے  میں اپنی جان دے  دیتی ہے۔‘‘ 15؎

ل احمد کا ناول ’فسانۂ محبت‘ رومانوی ناول کے  سلسلے  کی ایک کڑی ہے۔ اس ناول کے  بارے  میں یہ بات کہی جاتی ہے  کہ انگریزی ناول سے  ماخوذ ہونے  کے  باوجود اس کی پوری فضا و پس منظر ہندوستان ہی ہے  اور اس ناول کا مرکزی کردار جمال اور اس کی بیوی ہے۔

ایک طرح سے  اس ناول میں ازدواجی زندگی کی نفسیات،  ذہنی کرب اور تصادم کو نہایت چابکدستی سے  پیش کیا گیا ہے۔ اس ناول میں بھی مذہبی عقائد اور سماج کے  اصول و ضوابط سے  بیزاری کا عکس نمایاں ہے۔ رومانوی تحریک کے  زیراثر لکھنے  والے  اردو ناول نگاروں میں ایک نام عباس حسین ہوش کا بھی ہے  ان کے  ناول ’ربط ضبط میں  ‘ ایک رومانی ناول کا مجموعی تاثر موجود ہے۔ علاوہ ازیں اس دور میں بہت سے  ناول نگار موجود ہیں جن کے  یہاں رومانوی تحریک کے  اثرات پائے  جاتے  ہیں۔

حواشی:

(1)           بحوالہ محمد حسن: اردو ادب میں رومانوی تحریک،  تنویر پریس لکھنؤ،  بار اوّل،  1955،  ص 12

(2)           علی جاوید (مرتب): کلاسیکیت اور رومانویت،  عفیف پرنٹرس دہلی 1999،  ص 109

(3)           ڈاکٹر یوسف حسین خاں  : فرانسیسی ادب انجمن ترقی اردو (ہند) علی گڑھ،  1962،  ص 208

(4)           محمد ہادی حسین: مغربی شعریات،  مجلس ترقی ادب کلب روڈ لاہور،  طبع اول 1968،  ص …

(5)           علی جاوید (مرتب):  کلاسیکیت اور رومانویت، پرنٹرس دہلی،  1999،  ص 95

(6)           ڈاکٹر عبدالودود :اردو نثر میں ادب لطیف،  نسیم بک ڈپو لاٹوش روڈ،  لکھنؤ،  1980،  ص 30

(7)           ایضاً،  ص 31

(8)           محمد حسن: اردو ادب میں رومانوی تحریک،  تنویر پریس لکھنؤ،  1955،  ص 19-20

(9)           ایضاً،  ص 32

(10)         ڈاکٹر یوسف سرمست: بیسویں صدی میں اردو ناول،  ترقی اردو بیورو،  دہلی،  ص 161

(11)        علی عباس حسینی: اردو ناول کی تاریخ اور تنقید، ایجوکیشنل بک ہاؤس،  علی گڑھ،  ص 312-313

(12)         یوسف سرمست: بیسویں صدی اردو ناول،  ترقی اردو بیورو،  نئی دہلی،  ص 159

(13)         محمد حسن: اردو ادب میں رومانوی تحریک،  تنویر پریس لکھنؤ بار اوّل،  1955،  ص 56

(14)         یوسف سرمست: بیسویں صدی میں اردو ناول،  ترقی اردو بیورو،  نئی دہلی 278-279

(15)         علی عباس حسینی: اردو ناول کی تاریخ اور تنقید،  ایجوکیشنل بک ہاؤس،  علی گڑھ 1789،  ص 226-227

Dr. Sayeed Ahmad

Assistant Professor

Department of Urdu

Aliah University

17, Gorachand Road

Kolkata – 700 014

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.