اختر مسلمی اوران کی وابستگیاں

ڈاکٹر ابوشہیم خان

اسسٹنٹ پروفیسر،  شعبئہ اردو و فاسی

ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیو رسٹی،  ساگر، مددھیہ پردیش  470003،      shaheemjnu@gmail.com

   [  ـ مختصرتعارف۔۔۔۔ عبیداللہ معروف بہ ـاختر مسلمی کا آ بائی وطن  پر وانچل کا مشہور گائوں پھر یہا ضلع اعظم گڈ ھ اتر پر دیش تھا لیکن ان کے  والد نے  اسی ضلع کے  دوسرے  گائوں  مسلم پٹی میں  بغرض ملازمت سکونت اختیار کر لی تھی۔ ـاختر مسلمی اسی گائوں میں یکم جنوری 1928 کو پیدا ہوئے  اور ابتدائی تعلیم گائوں  کی دینی درس گاہ سے  حاصل کی۔اس کے  بعد مزید تعلیم کے  لیے  مشہور دینی درس گاہ مد ر ستہ الا صلاح سرائے  میر میں  داخلہ لیا  اور اپنی باقی ماندہ زندگی سرائے  میر کے  لیے  وقف کر دی25  جون 1989 کو اس دار فانی سے  رخصت ہوئے  اور سرائے  میر ہی ان کا دائمی مسکن ٹھہرا۔مر حوم کے  کلام کے  دو مجمو عے  ’’موج نسیم‘‘ اور ’’موج صبا ‘‘ ان کی زندگی میں  شائع ہوئے  اور 2013  میں  ان کے  غیر مطبو عہ کلام’’جام و سنداں ‘‘کو بھی شامل کر کے  ان کے  نواسے  اور جوا ہر لال نہرو یو نیور سٹی نئی دہلی کے  فارغ التحصیل فہیم احمد نے ان کی کلیات ’’کلیات  ـاختر مسلمی ‘‘ مرتب کی بڑ ھتی عوامی مقبو لیت کے  پیش نظر 2017 میں اس کلیات کا دوسرا ایڈ یشن بھی شائع کیا گیا۔ ]

      ’’ــکلیات  ـاختر مسلمی ‘‘  میں  ایسے  مقامات اکثر آتے  ہیں جہاں اختر مسلمی کا لہجہ مو عظانہ اور انداز صو فیانہ ہو تا ہے۔  وہ مشاہدہ حق کی گفتگو بھی بادہ و ساغر کے  توسط سے  کرتے  ہیں۔ اس لیے  ان کا شمار ایسے  شاعروں  میں  ہوتا ہے  جن کی زبان رندانہ اور مضمون عارفانہ ہو تا ہے۔ گر چہ ادب میں  پندو مو عظت کی یا کسی بھی مو ضوع کی حیثیت ثانوی ہو تی ہے  لیکن تخلیق کار کا تجربہ او ر اس کا خلاقانہ بیان غیر اہم کو بھی اہم بنا دیتا ہے۔اردو ادب کی شعری روایت میں  ایسے  بہت سے  صوفی شعراء ہیں  جنہوں  نے  صو فیانہ رموز و نکات کے  ساتھ ساتھ زمانے  کی عیاری،  عدم رواداری،  بے  حسی، منافقت، سطحیت،  مادہ پرستی، خود غرضی، بے  مروتی اور بے  ضمیری  جیسے  عام سماجی مسائل کو بھی اپنی شاعری کا مو ضوع بنا یا اور اپنے  شعری تجربوں  اور خلاقانہ بیان سے ان سماجی مسائل کے  ساتھ ساتھ کسی بھی  ہنگامی رد عمل احساس، اور فکر و جذ بے  کو بھی دوام بخشا۔ مخا لفین غزل اور حامیان نظم  ادب سے  معاشرتی  اصلاح،  ذ ہنی بیداری،  اجتماعی شعور اور دانشور نہ اظہار کی روایت کو فروغ دینے  کا جو کام لینا چا ہتے  تھے چند عاشقان غزل نے  بھی  ادب کے  اسی  افادی پہلو کو اپنا مطمح نظر بنا  یا۔ اسے  یوں  بھی کہہ سکتے  ہیں  کہ تخلیق کاروں  کی ایک بڑی تعداد حالی، عندلیب شادانی، جوش ملیح آبادی اور کلیم الدین احمد وغیرہ کی غزل پر تیار کردہ فرد جرم سے  اتفاق نہیں  رکھتی تھی اور نظم جدید اور ترقی پسند تحریک کے  بعض نکات  سے  شدید اختلاف کے  باعث  ا ن سے  با ظابطہ وابستگی کے  حق میں  بھی نہیں  تھی لیکن ان تحریکات کے  اصل منہج یعنی ادب کی افادیت کے  قائل اور شارح تھی۔  کلیات  ـاختر مسلمی کا بھی مطالعہ اسی تناظر میں  کیا جا سکتا ہے۔

  اختر مسلمی کی شخصیت اورشاعری کا خمیر جن عناصر کا مرکب ہے  ان میں  مختلف اور کبھی کبھی متضاد  رویوں  کے  متناسب امتزاج کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی لیے  ان کی شخصیت اورشاعری دونوں  غلو اور افراط و تفریط سے  پاک ہیں۔ ویسے  تو غلو کا شما ر تو حسن بیان کی  قدروں  میں  ہوتا ہے۔  کلام میں  مزید حسن و لطافت،  اثر اور مزید معنی پیدا کرنے  کا  ذریعہ ہو تا ہے  اور بیان کی سطح پر کسی بھی شاعر کے  لیے ان صنعتوں  سے  اغماز ممکن نہیں  ہے۔  اختر مسلمی بھی بیان کی سطح پر ان صنعتوں  سے  استفادہ کرتے  ہیں  لیکن خیال کی سطح پر وہ غلو اور افراط و تفریط سے  اپنے  کلام کو محفوظ رکھتے  ہیں  کیو ں  کہ شاعری ان کے  ہاں  لفظوں  کا گورکھ دھندا  یا وقت گذاری کے  لیے  دلچسپ کھیل نہیں  ہے  بلکہ ذوق جمال کی تسکین کے  ساتھ ساتھ صا لح اقدار کی تشریح و تبلیغ کا ایک مو ثرذر یعہ ہے۔  اختر مسلمی کا شناخت نامہ جن عناصر سے  ترکیب پاتا ہے  ان میں  خیال و جذبے  کی پاکی کے  علا وہ غم جانان اور غم دوراں کے  ساتھ تکلم اور ترنم کے  امتزاج کو نمایاں  حیثیت حاصل ہے۔ ان کے  ظاہر و باطن اور فکر و عمل دونوں  سطحوں  پرتوازن  ایک خاص محرک ہے۔  اختر مسلمی کے  ہاں  انتہا پسندی کسی بھی صورت میں جائز نہیں  ہے۔وہ کسی بھی چیز کے  بیان میں  حدود سے  تجاوز نہیں  کرتے۔یہ حدود خود ساختہ بھی ہیں  اور اقداری بھی۔اس لیے  کبھی کبھی یہ گمان گذرتا ہے  کہ ان کا تخئیلی عمل بھی شتر بے  مہار نہیں  ہے  بلکہ اس پر بھی اخلاق و اقدار کے  پہرے  ہیں۔ بہر حال اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں  ہے  کہ ان ہاں  فکر کی بلندی اور ادب کی بالا دستی نہیں  ہے۔ بقول ڈاکٹر  ناطق اعظمی

     ’’ اختر صاحب مزاج دان غزل ہیں، تغزل کی روح کے  محرم ہیں۔ ان کے  تئیں  غزل  ایک خاص  انداز بیان کا نام ہے۔وہ  صرف لب و رخسار، گل و بلبل، قد و گیسو کی بات نہیں  کرتے  بلکہ زندگی کے  تلخ اور ٹھوس حقائق کو بھی غزل  میں  سمونے  کی کامیاب کوشش کرتے  ہیں۔ حسن و ؑشق کی باتیں  ہوں  یا غم روزگار کا تذکرہ کہیں  بھی ٖ غزل کی روح مجروح نہیں  ہونے  دیتے۔ ان کے  یہاں  نہ تو شب  ہجرکا  ذکر جنسی تشنگی کا نوحہ بنتا ہے۔نہ زندگی  کے  مسائل انقلابی نعروں میں  تبدیل ہوتے  ہیں۔ ان کا اپنا ایک مخصوص انداز بیاں  ہے  جس میں  تغزل کی چاشنی غم روزگار کی تلخیوں  کو بھی شیریں  بنا دیتی ہے ‘‘

 اختر مسلمی بنیادی طور پر ٖغزل کے  شاعر ہیں لیکن ان کے  ہاں  غزلوں  کے  علاوہ حمد، نعت، منقبت، مناجات، سہرے  اور تہنیتی غزل نما نظمیں  بھی پائی جاتی ہیں  لیکن ان کی حیثیت ثانوی ہے۔ غزل ہی ان کی پہچان ہے۔ کیو ں  نہ ہو اختر مسلمی  نے  اس زمانے  کی سب سے  معتوب صنف سخن یعنی غزل کی آبیاری میں  اپنی پوری زندگی صرف کر دی۔ انھو ں  نے  اس زمانے  میں  غزل میں  طبع آزمائی شروع کی جب مشرقی شعر یات کی تقر یباً نو سو سالہ روایت  کے  قابل ذکر حصوں کو فرسودہ،  مشکوک ، نیم وحشی اور قابل گردن زدنی قرار دینے  کی کوشش کی جا رہی تھی۔  غزل پرحالی کا احتجاج اور نظم جدیدکی ترقی غزل جیسی سخت جان، پختہ، اوررچی ہوئی صنف کے  لیے  تو نشاتہ ثانیہ ثابت ہوئی اور فانی بدایونی، حسرت موہانی اور علامہ اقبال نے  غزل میں  ایک نئی معنو یت ایک نیا وزن اور ایک نئی بلاٖغت پیدا کرکے  غزل کو بیسویں  صدی کے  ذوق سے  قریب تر کر دیا اور اسے  ایک جنس گراں  مایہ کی حیثیت بخش دی۔ لیکن 1936 کے  آس پاس غزل پر پھر سے اعترا ضات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ کافی دیر پا اور چو طرفا ثابت ہوا۔ ایک طرح سے  اردو شاعری کی عام فضا پر غزل کا تسلط منقسم ہوگیا۔ اختر انصاری  اپنی کتاب ؛ غزل اور غزل کی تعلیمـــ  میں  لکھتے  ہیں  کہ

     ’’ اسی زمانے  میں  یہ مسئلہ بھی ترقی پسند نقادوں  کے  زیر غور رہا کہ آیا غزل ترقی  پسند شاعری کی صنف کی حیثیت سے  زندہ رہ سکتی ہے  یا نہیں۔ بعض نقادوں  کا خیال تھا کہ غزل اپنی بنیادی سرشت کے  لحاظ سے  ایک ایسی صنف ہے  جو فراری، رومانی اور انفرادی جذ بات ہی کی تر جمان بن سکتی ہے، اور جدید ترقی پسند خیالات اور رحجانات کی کسی طرح متحمل نہیں  ہو سکتی، بعض کی رائے  اس  کے  بر عکس تھی۔ اب غالباً  یہ تسلیم کیا جا چکا ہے  کہ غزل نظم کی دوسری اصناف کے  دوش بدوش سماجی زندگی کے  ٹھوس حقائق اور جدید ترقی پسند انہ، انقلابی اور عوامی رحجانات کی حامل بن سکتی ہے  اور اس میں نئے  ذہنی مطالبات سے  ہم آہنگ ہونے  کی پوری  صلاحیت ہے ‘‘

 اختر مسلمی کا ذوق شعر گوئی ان ہی سما جی و ادبی تاریخی سیاق میں  پروان چڑھتا ہے  اور وہ پوری زندگی سماجی اور مذ ہبی اقدا ر کی تعبیر و تشریح کو اپنے  شعری اظہار کا ذریعہ بناتے  ہیں  اور زوال پذیر معاشرہ کے  ہر اس اخلاقی مسئلے  پر اظہار خیال کرتے  ہیں  جن کا ازالہ ایک صالح اور صحت مند معاشرے  کے  لیے  از حد ضروری ہوتا ہے۔ شاعری  ان کے  لیے  ذریعہء عزت و جاہ اور معاش نہیں  بلکہ وجہ وجو د و بقا ہے

              اختر کہوں  نہ شعر تو دم گھٹ جائے  مرا

              وابستہ زندگی ہے  مری شاعری کے  ساتھ

 اختر مسلمی کی تقریباً پوری زندگی اپنے  آبائی ضلع اعظم گڈھ  اور اس کے  گردو نواح میں  گذری۔  اس خطے  کی عام سماجی چلن کے  بر خلاف وہ روزگار کے  لیے  بھی  اس مد ینتہ العلوم سے  کبھی باہرنہیں  نکلے۔ لہذا  ان کی ذہنی تربیت اور ذوق شعر گوئی کو ایک مخصوص رنگ دینے  میں  اس خطہ کی علمی اور مذہبی فضا کا بہت اہم رول ہے۔  ان کی کلیات میں  ایسے  اشعار لا تعداد ہیں  جن سے  ادب اور زندگی  کے  مابین رشتوں  کے  بارے  میں  ان کی رائے  اور اپروچ کا علم ہوتا ہے۔وہ اکثر یہ کہتے  ہو ئے  نظر آتے  ہیں  کہ

    کیا سنواریں  گے  یہ فنکار زمانے  کا چلن

ان کا کردار بھی سنورے  نہ اگر فن کی طرح

   مسند عیش پہ ہنسنا تو کوئی بات نہیں

سیکھ اے  دوست سر دار بھی خنداں  ہونا

 اختر مسلمی کی شاعری کا بنیادی حوالہ انسانی تہذیب خصو صاً مشرقی تہذیب ہے۔ وہ فکری سطح پر ہر اس نظر یہ کی حمایت کرتے  ہیں  جو بنی نو ع انسان کے  اشرف المخلو قات ہونے، اس کی عزت نفس کوہمیشہ مقدم رکھنے  اور ماد ی ترقی کے  بجائے  غیر ماد ی فلاح کے  مو قف کی وکالت کرتا ہو۔ان کے  یہاں  بہترین انسان وہ ہے  جوحق گو و بے  باک،  اصول پسند، عاقبت اندیش اور غیر مصلحت کوش ہو۔ ان کوعام انسانوں  میں  جب یہ اقداری خصا ئص نظر نہیں  آتی ہیں  تو ان کا لہجہ ترش اورانداز بیان جا رحانہ ہو جاتا ہے۔وہ کہتے  ہیں  کہ( متفرق اشعار)

  دیکھا اتر کے  دل میں  تو سب بے  ضمیر تھے

چہرے  لگائے  یوں  تو بہت پارسا ملے

  رہا اب اور کیا باقی زوال آدمیت میں

کہ طینت ہو گئی ہے  ما ئل تخریب انساں  کی

  بیداد کا ساماں  کرتا ہے  مائل بہ جفا ہو جاتا ہے

اظہار تمنا کرتے  ہی انسان خدا ہو جاتا ہے

  فریب کاریء انساں  سے  ڈر لگے  ہے  مجھے

پیام امن کے  عنواں  سے  ڈر لگے  ہے  مجھے

  جامہ آج کے  انسانوں  کا کیا پو چھو ہو کیسا ہے

خلق و مروت کے  تانے  ہیں بغض و حسد کے  بانے  ہیں

 آج کے  دور میں  نا ممکن ہے  دانے  ہوں  اور دام نہ ہو

طائر دل یہ خوش فہمی ہے  دام نہیں  ہیں  دانے  ہیں

  ہر طرف بغض و عداوت کی گھٹا چھائی ہے

  دہر میں  شمع محبت کو فروزاں  کر دیں

 ہے  اخوت کا اثر جن کے  دلوں  سے  مفقود

   ان درندہ صفت انسانوں  کو انساں  کر دیں

  کس قدر انو کھا ہے  شیوہ اہل دنیا کا

    میٹھی میٹھی باتوں  میں  تلخیاں  دبی رکھنا

اختر مسلمی کی شاعری میں  انسانوں  کے  اصل اور حقیقی مراتب کے  ساتھ ساتھ اس کی جبلت اور عملی رویوں  کے  بیان کوخاص اہمیت حاصل ہے۔محولہ بالا اشعار انسان کے  ظاہر و باطن، قول و فعل اور اصول و عمل کے  مابین تضاد اور فرق کی وضاحت کرتے  ہیں۔ انسان اپنے  حقیقی منصب سے  ہٹ کر کس قدر سازشی، خود غرض، فریبی، منافق، بے  ضمیر اور تخریب پرست ہو گیا ہے  اور یہ برائیاں  سماج میں  اس سطح تک سرایت  کر گئی ہیں  کہ عام انسان انھیں  برائیاں  سمجھتا بھی نہیں  ہے۔ یعنی  یہ برائیاں  قبیح اور قابل نفر عمل نہ ہو کر  ان کی حیثیت عام انسانی رویوں  اوروطیروں  کی ہو گئی ہے۔اختر مسلمی انسانوں  کے  اس طرح کے  منفی رویوں  اور اخلاقی زوال پر کڑھتے  ہیں  اور بار بار احساس دلاتے  ہیں  کہ وہ اپنے  اصل مقام و مرتبے  کو پہچانیں اور بنیادی انسانی اقدار کو اپنانے  اوراس کو عام کرنے  والے  بنیں کیو ں  کہ سود و زیاں  کا  احساس، طالع آزمائی، زود طلبی اور سہل پسندی سچے  عاشق کا وطیرہ نہیں  ہوتا ہے۔کلا سیکی غزل  کی طرح ان کا بھی محبوب ستم گر، جفا کوش اور بے  وفا تو ہے  لیکن وہ عاشق کی مجہو ل کیفیات کا بیان کرنے  کے  بجائے  اسے  ہمت اور حوصلہ دیتے  ہیں۔  محبوب  اور زمانے  سے ملے ہوئے  متاع غم کو لطف زندگی کے  لیے  ضروری سمجھتے  ہیں۔ وہ کسی بھی صورت میں  صبر و ایثار اور وضع داری سے  دست بردار نہیں  ہوتے  بلکہ وہ بھی  ایک سچے عاشق ہیں  جو

  ــــــ ’’  عشق کی صعو بتوں  اور دشواریوں  اور راہ محبت کے  شدائد اور آلام سے  کبھی آزردہ اور مضطرب نہیں  ہو تا۔ اس کو محبوب کی چشم قہر و عتاب میں لطف و عنایت اور اس کے  جور و ستم میں لذت و حلاوت ملتی ہے۔وہ اس کی پیہم جفائوں  کا آرزو مند رہتا ہے  اور زخم کھا کر  بھی مسکراتا ہے  اور اپنی زبان پر کوئی حرف شکایت اور کلمہء فریاد نہیں  لاتا۔آہ و فغاں  کو عشق کی تو ہین اور محبت کی رسوائی خیال کرتا ہے ‘‘

  مزید یہ کہ اختر مسلمی عظمت رفتہ پر آنسو بہاتے  ہیں اور اس کی بازیابی کی کوشش ہر فرد کے  لیے  ضروری سمجھتے  ہیں۔  وہ سماج پر تنقیدی نظر ڈالتے  ہیں  اور اس کی برائیوں  پر پردہ ڈالنے  کے  بجائے  اسے     آشکارہ کرتے  ہیں  تاکہ ایک صالح معاشرہ تشکیل پا سکے۔ وہ ایک ایسے  مثالی سماج کا خواب دیکھتے  ہیں  جہاں  اخوت و محبت، ایثار و خلوص کا دور دورہ ہو۔انسان ایک دوسرے  کے  زخموں  پر مرہم رکھنے  والے  ہوں۔ مو جودہ طرز معاشرت اور تہذ یب نو میں  انسان کے  اجتماعی شعور اور احساس کا شیرازہ جس طرح منتشر ہو گیا ہے  اور ہر فرد خود اپنی ذات میں  سمٹ کر رہ گیا ہے۔  ان کی زند گیوں  سے  اقدار جس طرح سے  بے  دخل ہو گئے  ہیں اختر مسلمی ان کا بین کرتے  ہیں  اور انسانوں  سے  اپنے  اصل کی طرف لوٹنے  اور مثالی سماج کے  اصولوں  پر کار بند ہونے  اور عظمت  رفتہ کی بازیابی کی کو شش کی تو قع کرتے  ہیں۔ سماج پر ان کی تنقید کسی مصلح کے  لا ئحہ عمل کا حصہ نہیں  ہے۔یعنی ان  کے  کلام کی حیثیت صرف پند و مو عظت کی نہیں  بلکہ غزل کی روایت کے  تسلسل کی ہے۔اختر مسلمی کی شاعری کا کلیہ یہ ہے  کہ وہ مو ضوع اور اندازبیان کو یکساں  اہمیت دیتے  ہیں۔ اور شاز ونادر ہی اس کلیہ سے  انحراف کرتے  ہیں۔ ان کی شاعری کے  خاطر بہ حصہ کا مطالعہ اس کلیے  کی رروشنی میں  کیا جا سکتا ہے۔لیکن سکہ بند ناقدین نے  ابھی تک اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں  دی ہے۔  کلیات اختر مسلمی کے  2013 میں  منظر عام پر آنے  کے  بعد  ان کی مقبو لیت اور شہرت کا دائرہ وسیع ہوا  اور علمی حلقوں  میں  ان کی شاعری خصو صاً غزل گوئی پر بات کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ظاہر ہے  اس کی وجہ اختر مسلمی کے  سچے  جذبات اور متنوع تجربات کے  ساتھ ساتھ غٖزل کی رسومیات کی پوری پابندی ہے  جو آ ج بھی ان کی معنویت کو برقرار رکھے  ہوئے  ہے۔ مثلاً تہذیب نو اور موجودہ طرز معاشرت پر ان کے  ظاہرکردہ خدشات روز بروز اور زیادہ صحیح ثابت ہو رہے  ہیں۔

  نہ جانے  حشر کا میداں  ہے  کہ دنیا ہے

   جسے  بھی دیکھئے  تنہا دکھائی دیتا ہے

   اندھیرے  لاکھ غنیمت ہیں  اس اجالے  سے

  جدید شمع فروزاں  سے  ڈر لگے  ہے  مجھے

  تہذ یب نو کے  لوگ وہ خوش پوش ہو گئے

   بار لباس سے  بھی سبکدوش ہو گئے

 کون رہتا ہے  مکانوں  میں  مکینوں  کی طرح

آدمی شہر میں  چلتے  ہیں  مشینوں  کی طرح

   ہر ایک چہرہ مجھے  سو گوار لگتا ہے

    میں  دیکھتا ہوں جسے  بے  قرار لگتا ہے

   یہ کیا کیا نئی تہذیب نے  کہ اب انساں

 خود اپنے  گھر میں  غریب الدیار لگتا ہے

  کسی کو فکر نہیں  زخمیوں  کے  مرہم کی

   جسے  بھی دیکھئے  نامہ نگار لگتا ہے

   اتار دے  گا نقاب اپنی انتخاب  کے  بعد

یہ شخص آج بڑا خاکسار لگتا ہے

  اختر مسلمی ایک مخلص اور سچے  محب وطن کی طرح تہذیب نو کے  منفی پہلوئوں  اور انجام کار کے  ساتھ ساتھ وطن کی صورت حال پر بھی بے  اطمئنا نی اور مختلف خدشات کا اظہار کرتے  ہیں۔ وہ وطن عزیز میں  ایسی فضا کے  تعمیر کے  خواہش مند ہیں  جس میں  تمام لوگ ہم آہنگی اور رواداری کے  ساتھ رہ سکیں  اور ملک کی اجتماعی ترقی کی کوشش کر سکیں۔ کسی کو کسی پر فو قیت حاصل نہ ہوسب کو مساوی حقوق اور یکساں  آزادی حاصل ہو۔ ملک کی آزادی اس کے  قیام اور اس کو خو ش حال بنانے  کی سب کی کو ششوں  کو بلا تفریق سراہا جائے  اور کسی طرح کے  تعصب کو روا نہ رکھا جائے۔اگر ایسا نہیں  کیا  گیا تو ملک میں  یگانگت کی فضا مکدر ہو گی۔عوام میں  بے  اطمئنانی اور بے  چینی پیدا ہو گی۔لاکھ قر با نیوں  کے  باوجود ملک کی تیرہ نصیبی کبھی ختم نہیں  ہو گی اور ملک کبھی بھی لالہ زار نہیں  ہو سکے  گا۔ وہ بار بار اس بات کا اعادہ کرتے  ہیں  کہ اگر ہم ملک و ملت کی ترقی اور بھلائی چاہتے  ہیں تو تمام اہل وطن ملک کی بہتری کے  لیے  پیش کی گئی قر بانیوں  کو تسلیم کریں اور ملکی اتحاد اور یگانگت کو اپنے  ذاتی مفاد پر تر جیح دیں۔ ان کی کلیات میں  ملک،  چمن، باغباں ، نشیمن، عند لیب، آشیانہ، گلستاں، گلشن جیسے  استعارے  بکثرت استعمال ہو ئے  ہیں۔ ان کے  کلام میں  ان استعاروں  کے  استعمال کی کثرت سے  اختر مسلمی کی ذہنی اور فکری منا سبتوں ،  سمت بند یوں اور قومی تر جیحات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مندرجہ ذیل متفرق اشعار اختر مسلمی کے  جذ بہ ایثار و قربانی کا ایک نمو نہ ہیں۔۔

   جو باہم عند لیبان چمن دست و گریباں  ہیں

   تو ایسی کشمکش میں فکر ہے  کس کو گلستاں  کی

   اب اس سے  بڑھ کے  ستم اور ہم پہ کیا ہو گا

  کہ ہم چمن کے  لیے  ہیں  چمن کسی کے  لیے

   چمن کی تیرہ نصیبی نہ مٹ سکی پھر بھی

  جلا چکا ہوں  نشیمن بھی روشنی کے  لیے

    اے  چمن والو ہمیں  سے  ہے  چمن کی زینت

کاٹ کر پھینک نہ دو ہم کو ببو لوں  کی طرح

    نہاں  ہے  خوئے  صیادی ہمارے  باغبانوں  میں

 عنادل  باغ کے  غافل نہ بیٹھیں  آشیانوں  میں

    بس اک احساس آزادی سے  دل ہے  مطمئن ورنہ

 قفس کا رنگ پیدا ہو گیا ہے  آشیانوں  میں

   چمن میں  ان کو وحشت ہے  ہماری ہم نشینی سے

  جنھیں  کل تک تھابے  حد انس ہم سے  قید خانوں  میں

   لالہ و گل سے  پو چھئے  سرو  و سمن سے  پوچھئے

  میری چمن نوازیاں  حسن چمن سے  پوچھئے

  کر گئیں  سر خرو اسے  کس کے  لہو کی سر خیاں

  یاد نہ ہو جو آپ کو خاک وطن سے  پوچھئے

  میری نوائے  حریت گونجی اسی فضا میں  تھی

   کوہ و دمن سے  پوچھئے  گنگ و جمن سے  پوچھئے

      تہذیب نو اور حب الوطنی کے  مو ضوعات پر ان خو بصو رت اشعار کے  بعد اختر مسلمی کی شاعری کے  جو نکات خاص تو جہ کے  طالب اور ان کے  تشخص کی تشکیل کا غالب عنصر ہیں  ان میں  اردوشاعری خصو صاً غزل کی رسو میات کی پوری پابندی، ان کی فکری وابستگیا ں  اور اسا تذہ شعراء کی اتباع کو خاص اہمیت حاصل ہے۔  جہاں  تک اردوشاعری خصو صاً غزل کی رسو میات کی پابندی کا سوال ہے  تو اختر مسلمی  اردو شعری روایت کا پورا احترام کرتے  ہیں۔ یہ احترام فکر،  زبان  اور انداز بیان کے  ساتھ اسلوب اور ہیئت کی سطح پر بھی ہے۔وہ کسی بھی سطح پر روایت سے  بغا وت کو بہتر نہیں  سمجھتے۔ وہ نئے،  غیر مانوس اور کم مستعمل لفظیات سے  مکمل احتراز کرتے  ہیں۔ سیدھے  سادے  تجربات کو بڑے  آسانی سے  عام فہم زبان میں  پیش کرتے  ہیں۔ ان کے  کلام میں  خیال اور بیان یا اسلوب کی سطح پر کوئی پیچیدگی نہیں  آتی ہے۔  تجربات چو ں  کہ عمومی نوعیت کے  ہوتے  ہیں  اس لیے  تجربات کے  نتائج اور ان کے  انداز پیش کش کے  با رے  میں  پیش گوئی ممکن ہو تی ہے  اور ان کے  ہاں  تجربات کو شعری پیکر میں  ڈھالنے  کی سطح پر تمام طرح کی تحیر زدگی اور ڈراما ئیت خارج از امکان ہے۔ اختر مسلمی مادہ پرستانہ رسو مات سے  گریز اور ملتوں  کے  نفاق کو ختم کر کے  انھیں  اجزائے  ایماں  بنانے  کے  قائل ہیں۔ شاعری ان کے  لیے  تفنن طبع کا ذریعہ نہیں بلکہ مقصد جلیلہ کے  حصول کی وکیل ہے۔یہ اپنی شاعری کے  ذریعہ قارئین تک خاص پیغام کی تر سیل چاہتے  ہیں  اور انھیں  اعلی مقام کا حوالہ دے  کر اپنے  اعمال کے  محاسبے  کی یاد دہانی کراتے  ہیں۔  اختر مسلمی کے  ہاں  فکری سطح پر ایک وحدت پائی جاتی ہے  اور یہ وحدت تسلسل بیانی کی متقاضی ہو تی ہے۔اس لیے  اختر مسلمی کے  یہاں  غزل مسلسل کی تعداد کافی ہے۔غز ل کا ہر شعر عموماً منفرد، خود مکتفی اور قا ئم بالذات ہوتا ہے  لیکن غزل مسلسل میں ہر شعر منفرد اور خود مکتفی نہیں  ہوتا بلکہ تمام اشعار سلسلہ بہ سلسلہ مربوط ہوتے  ہیں۔  اس تسلسل میں  کسی خیال کے  ساتھ ار تقاء خیال بھی پا یا جائے  گا  یا مختلف اشعار میں  کسی ایک مفہوم کومختلف انداز میں  پیش کیا جائے  گایعنی مفہوم ایک ہو گا لیکن پیرائے  بیان مختلف ہو گا۔ اختر مسلمی کسی ایک مفہوم کومختلف انداز میں  پیش کرنے  کا ہنر جانتے  ہیں۔

  اختر مسلمی کا ایک اورعمل جو انھیں  دوسرے  ہم عصر شعرا سے  منفرد کرتا ہے  وہ اسا تذہ شعراء کی قابل ستا ئش اتباع ہے۔ان کی کلیات میں  بہت سی غزلیں  ایسی ہیں  جو علامہ اقبال، اقبال عظیم، حفیظ بنارسی، نذیر بنارسی، حفیظ جونپوری اور حسرت جے  پوری وغیرہ جیسے  شعرا کی زمینوں  میں  کہی گئی ہیں۔ ایسی غزلوں  میں  اتباع صرف لفظیات، لب و لہجہ، ہیئت، بحر او ر ردیف و قافیہ کے  انتخاب کی سطح پر نہیں  ہے  بلکہ فکر کی سطح پر بھی ہے۔فکر و فن دونوں  سطحوں  پر وہ اسا تذہ سے  رجوع کرتے  ہیں  اور شعری روایات اور رسو میات کی اتباع کو شعر گوئی کے  لیے  ضروری سمجھتے  ہیں۔  پچھلے  صفحے  پر ان کی ایک غزل کے  چند اشعار درج ہیں :

    نہاں  ہے  خوئے  صیادی ہمارے  باغبانوں  میں

  عنادل  باغ کے  غافل نہ بیٹھیں  آشیانوں  میں

    بس اک احساس آزادی سے  دل ہے  مطمئن ورنہ

 قفس کا رنگ پیدا ہو گیا ہے  آشیانوں  میں

    خبر کیا تھی بہار گلستاں  یہ دن بھی آئے  گا

 ستائے  گی قفس کی یاد ہم کو آشیانوں  میں

    خدا کی شان اس پر آج ہے  الزام غداری

  ابھی کل تک جو تھا رسم وفا کے  راز دانوں  میں

 چمن میں  ان کو وحشت ہے  ہماری ہم نشینی سے

 جنھیں  کل تک تھابے  حد انس ہم سے  قید خانوں  میں

یہ غزل انھوں  نے  ایک طرحی مشاعرے  میں  پڑھی تھی۔مصرعہ طرح علامہ اقبال کی ایک بہت ہی مشہور نظم ’’ تصو یر درد‘‘کا مصرعہ’’عنادل  باغ کے  غافل نہ بیٹھیں  آشیانوں  میں ‘‘تھا۔ علامہ اقبال کی اس نظم کے  کئی اشعار زبان زد عام و خاص ہیں۔ ایک طرح سے  ان اشعار کی حیثیت ضرب المثل کی ہو گئی ہے۔نظم  ’’تصو یر درد‘‘کے  چند اشعار ملا حظہ ہوں۔

      نہیں  منت کش تاب شنیدن داستاں  میری

   خموشی گفتگو ہے  بے  زبانی ہے  زباں  میری

      چھپا کر آستیں  میں  بجلیاں  رکھی ہے  گردوں  نے

عنادل  باغ کے  غافل نہ بیٹھیں  آشیانوں  میں

      نا سمجھو گے  تو مٹ جائو گے  اے  ہندو ستاں  والو

 تمہاری داستاں  تک بھی نہ ہو گی داستا نوں  میں

علامہ اقبال کے  علاوہ اختر مسلمی کی زندگی دوسرے  شعرا سے  بھی کئی سطحوں  پر متاثر نظر آتی ہے۔کلیات اختر مسلمی میں  ایسی بے  شمار غزلیں  ہیں جہاں  پر اساتذہ کے  نقوش بڑی آسانی سے  نشان زد کیے  جاسکتے  ہیں۔ کچھ ایسے  ہی مقامات کی نشان دہی درج ذیل غزلوں  کے  توسط سے  کرنے  کی کوشش کی گئی ہے۔

  اختر مسلمی

     اعجاز نگا ہوں  کا دکھا میں  کیوں  نہیں  دیتے

  ہم عشق کے  ماروں  کو جلا کیوں  نہیں  دیتے

     ہنستے  ہیں  بہت اہل خرد اہل جنوں  پر

  پردہ رخ زیبا سے  اٹھا  کیوں  نہیں  دیتے

      منصب ہے  یہ ہم خاک نشینوں  کی بدولت

یہ تخت نشیں  ہم کو دعا  کیوں  نہیں  دیتے

 احمد فراز

     خاموش ہو کیوں  داد جفا کیوں  نہیں  دیتے

    بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں  نہیں  دیتے

     منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے

  مجرم ہیں  اگر ہم تو سزا کیوں  نہیں  دیتے

 حسرت جے  پوری

     جب پیار نہیں  ہے  تو بھلا کیوں  نہیں  دیتے

 خط کس کے  لیے  ر کھے  ہیں  جلا کیوں  نہیں  دیتے

      کس واسطے  لکھا ہے  ہتھیلی پہ مرا نام

 میں  حرف غلط ہوں  تو مٹا کیوں  نہیں  دیتے

  اقبال عظیم

  یہ جھو ٹے  خدا مل کر ڈبو دیں  گے  سفینہ

تم ہادی برحق کو صدا کیوں  نہیں  دیتے

   دیوار کا یہ عذر سنا جائے  گا کب تک

 دیوار اگر ہے  تو گرا کیوں  نہیں  دیتے

 حفیظ بنارسی

  کیا جرم ہمارا ہے  بتا کیوں  نہیں  دیتے

       مجرم ہیں  اگر ہم تو سزا کیوں  نہیں  دیتے

   کیوں  ہاتھ میں  لرزہ ہے  تمہیں  خوف ہے  کس کا

   ہم حرف غلط ہیں  تو مٹا کیوں  نہیں  دیتے

 اختر مسلمی

     نہ سمجھ سکی جو دنیا یہ زبان بے  زبانی

  ترا چہرہ خود کہے  گا مرے  قتل کی کہانی

    یہ عذاب آسمانی یہ عتاب نا گہانی

 ہیں  کہاں  سمجھنے  والے  مرے  آ نسوئو ں  کو پانی

    تجھے  ناز حسن پر ہے ، مجھے  ناز عشق پر ہے

 ترا حسن چند روزہ مرا عشق جاودانی

  نذیر بنارسی

   یہ عنا ئتیں  غضب کی یہ بلا کی مہر بانی

    میری خیریت بھی پو چھی کسی اور کی زبانی

   ترا حسن سو رہا تھا مری چھیڑ نے  جگا یا

    وہ نگاہ میں  نے  ڈالی کہ سنور گئی جوانی

   مری بے  زبان آنکھوں  سے  گرے  ہیں  چند قطرے

   وہ سمجھ سکیں  تو آنسو نہ سمجھ سکیں  تو پانی

  اختر مسلمی

    مصلحت پوش بہت کم سخنی ہو تی ہے

  کتنی معیوب دریدہ دہنی ہو تی ہے

   کم ہی پایا ہے  یہ شیرینی رہی ہو شیریں

   بیشتر تلخ ہی شیر یں  سخنی ہو تی ہے

   اس کی زلفوں  ہی پہ موقوف نہیں  ہے  اختر

  بیٹھ جاتا ہوں  جہاں  چھائوں  گھنی ہو تی ہے

  حفیظ جو نپوری

   بیٹھ جاتا ہوں  جہاں  چھائوں  گھنی ہو تی ہے

  ہائے  کیا چیز غریب الو طنی ہو تی ہے

   نہیں  مرتے  ہیں  تو ایذا نہیں  جھیلی جاتی

 اور مرتے  ہیں  تو پیما ں  شکنی ہو تی ہے

مندرجہ بالا اشعار کے  علاوہ کلیات اختر مسلمی میں  ایسی کئی غزلیں  مل جا ئیں  گی جن پر قدیم اور جدید شعراء کا راست  دیکھا جا سکتا ہے۔ان اشعار کے  مطالعے  سے  یہ بھی واضح ہو جاتا ہے  کہ اختر مسلمی  نے  یہ اثر صرف زبان  و بیان یا لفظیات کی حد تک قبول نہیں  کیا بلکہ شعری وسائل کو برتنے  میں  وہ اسا تذہ سے  زیادہ متاثر نظر آتے  ہیں۔ مجھے  ان کی وہ غزلیں  زیادہ رواں، خوش آہنگ اور پر از تغزل معلوم ہوتی ہیں جو اسا تذہ کی اتباع میں  کہی گئی ہیں۔ شعری وسائل کو برتنے  میں  اسا تذہ سے  استفادہ کے  علاوہ  اختر مسلمی کے  شناخت نامے  کا ایک اہم عنصر  ان کی فکری و سماجی وابستگیاں  ہیں۔ وہ کسی بھی تخلیق کے  دونوں  پہلو ئوں  ادبیت و افا دیت  کے  قائل ہیں۔ ان کے  نزدیک دونوں  پہلو ایک دوسرے  کا تکملہ ہیں۔ وہ ادب کے  ذریعہ ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کے  خوا ہاں  تو ہیں  لیکن ادبیت سے  سمجھو تہ کیے  بغیر۔منجملہ اختر مسلمی کے  بارے  میں  یہ بات کہی جا سکتی ہے  کہ ان کے  ظاہر و باطن، قول و فعل اور فکرو عمل میں  کوئی تضاد نہیں  ہے۔وہ ادب کے  کسی ایک پہلو کے  مطالعے  کے  قائل نہیں  بلکہ اس کی کلیت کے  حامی ہیں۔

حوالہ جات:

  کلیات اقبال (صدی ایڈیشن) ایجوکیشنل بک ہائوس، مسلم یونی ورسٹی مارکیٹ،  علی گڑھ

  ا ردو غزل :۔  یوسف حسین خاں۔ انجمن ترقی اردو ہند، علی گڑھ

   اردو غزل کے  پچاس سال :۔ عبد الا حد خان خلیل۔ نامی پریس لکھنؤ

   اردو شاعری پر ایک نظر :۔ کلیم الدین احمد۔ بک امپوریم سبزی باغ، پٹنہ

   غزل اور غزل کی تعلیم۔ اختر انصاری۔ قومی کو نسل برائے  فروغ اردو زبان  نئی دہلی

   غزل کی سر گزشت۔  اختر انصاری۔ ایجو کیشنل بک ہائوس، علی گڑھ

   جدید اردو شاعری۔عبادت بریلوی۔ایجو کیشنل بک ہائوس، علی گڑھ

   کلیات اختر مسلمی۔۔مرتب۔فہیم احمد۔وائز پبلیکیشنس جامعہ نگر نئی دہلی

   ایضاً 98,103,106

   ایضاً 109,123,168

   ایضاً  195, 214, 226

   ایضاً 258,298  250,

   ایضاً  302

٭٭٭

حب الوطنی کاترجمان ڈاکٹرکنول ڈبائیوی

ڈاکٹرمحمد فارو ق خان

کنول ڈبائیوی )پ ۱۹۲۰؁ء۔ م۱۹۹۴؁ء( اپنے  ننھال قصبہ بہجوئی ضلع مراد آبادمیں  پیدا ہوئے۔  ان کے  والد قصبہ ڈبائی ضلع بلند شہر کے  مشہور وکیل اورزمین دار تھے۔  کنول دس سال کے  تھے  کہ باپ کا سایہ سر سے  اٹھ گیا، والد کے  انتقال کے  بعد عزیزوں  نے  بہت پریشان کیا۔ اپنے  چچا کے  ساتھ عدالت ومقدمہ بازی کی اذیت سے  دوچار ہونا پڑا۔  کنول ڈبائیوی کے  اجداد شاہ جہاں  کے  عہد میں  ہندوستان آئے ، اور قاضی کے  عہدے  سے  نوازے  گئے۔  حکومت کی طرف سے  جاگیربھی ملی،  قصبہ ڈبائی میں  رہائس پزیر ہوئے۔ کنول کا خاندان ادبی وعلمی سرگرمیوں  کی وجہ سے  مشہور تھا۔

کنول کو بچپن سے  ہی کتابوں  سے  عشق تھا۔  کم عمری میں  ہی انھوں  نے  ہزاروں  کتابوں  کا مطالعہ کر لیاتھا۔  ان کا یہ جذبہ تاعمر قائم رہا۔۱۹۳۵؁ء سے  انھوں  نے  شاعری کی طرف توجہ کی اورتخلص ’انور ‘رکھا۔شاعری میں  اصلاح ڈبائی کے  مشہور استاد شاعر حکیم محمد اسماعیل ذبیح سے  لیتے  تھے۔  شاعری کے  علاوہ کنول کوافسانہ نگاری میں  بھی مہارت حاصل تھی۔  ۱۹۳۷؁ء میں  پہلا افسانہ ’نرالی دنیا ‘ کے  نام سے  لکھاتھا۔ ڈبائیوی کادل جذبہ حب الوطنی سے  شرشار تھا۔  یہی وجہ ہے  کہ ان کی شاعری اور افسانوں  میں  حب الوطنی کا جذبہ نمایا ہے۔

کنول ڈبائیوی نے  ۱۵ سال کی عمر میں  ہی قومی تحریکوں  میں  حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ نویں  کلاس میں  تھے  کہ اسکول کو خیر باد کہہ دیا،  اور جدوجہد آزادی میں  عملی طور پر شریک ہوگئے  جس کے  پاداش انھیں  لاہور اور دہلی جیل کی بچہ بارک میں  قیدوبند کی صعوبتیں  اٹھانی پڑیں۔  رہائی کے  بعد بھی انقلابی تحریکوں  میں  حصہ لیتے  رہے۔  بعد میں  انھوں  نے  اپنی تعلیم مکمل کی۔

کنول ڈبائیوی کا شمار وطن پرست اورجدوجہد آزادی میں  عملی حصہ لینے  والے  مقبول انقلابی شعرا میں  ہوتا ہے۔  ان کی شاعری حب الوطنی کے  جذبے  میں  ڈوبی ہوئی ہے۔  وہ ایک سچے  محب وطن تھے۔  پندرہ سال کی عمر سے  شاعری کرنے  کے  باوجود وہ گمنامی کی زندگی بسر کرتے  رہے۔  مشاعروں  میں  بہت کم شریک ہوتے  تھے ، شہرت کی تقریب سے  بھی وہ کتراتے  تھے۔فکر معاش اور بچوں  کی تعلیمی پریشانیوں  نے  انھیں  چین نہیں  لینے  دیا، یہی وجہ ہے  کہ ان کے  کلام کابڑا حصہ ضائع ہوگیا۔ ان کے  کلام کے  دو مجموعے  ’بساط زیست ‘’سوز وطن ‘کے  نام سے  شائع ہوچکے  ہیں۔ ان کے  کلام کو معاصرادباء وشعرا نے  سراہاہے۔مصنفین کی ان تحریروں  کو ’سوز وطن ‘کے  آخر میں  شامل کیا گیا ہے ، جس کے  مطالعہ سے  کنول کی شاعرانہ فکروفن کی بلندی کااندازہ ہوتاہے۔  کنول ڈبائیوی کی حب الوطنی اور ان کے  کلام کے  متعلق ڈاکٹر سلام سندیلوی ’بساط زیست ‘ کے  پیش لفظ میں  لکھتے  ہیں۔

’’کنول ڈبائیوی کو اپنے  وطن سے  محبت ہے۔  یہی وجہ ہے  کہ ان کی نظموں  کے  چلمن سے  حب الوطنی کی خوشبو چھن چھن کر نکلتی ہے۔  انھوں  نے  حب الوطنی کو اپنا مخصوص موضوع بنا لیا ہے۔۔ وہ تمام تر توجہ اسی موضوع کی طرف منعطف کرتے  ہیں۔  چوں  کہ وہ غریق حب وطن رہتے  ہیں  اسی سے  وہ خیالات کے  نادر اوراچھوتے  موتی حاصل کرنے  میں  کامیاب ہوجاتے  ہیں۔  ‘‘۱؂

حب الوطنی کے  جذبے  کااندازہ کنول کی نظموں  سے  لگایا جاسکتا ہے  مثال کے  لیے  نظم کا یہ بند ملاحظہ ہو۔

سپاہی کا نعرہ

نہ میں  طالب زینت کج کلاہی

نہ ہوں  خوگر عشرت قصر شاہی

کنول جانتے  ہیں  مجھے  مرغ وماہی

مجھے  چاہیے  ملک کی خیر خواہی

وطن میرا میں  ہوں  وطن کا سپاہی

ہر ایک قید دنیا سے  آزاد ہوں  میں

محبت کے  ایوان کی بنیاد ہوں  میں

عدو کے  لیے  ضرب فولاد ہوں  میں

یہ اہل دول دے  رہے  ہیں  گواہی

وطن میرا میں  ہوں  وطن کا سپاہی ۲؂

’بساط زیست ‘کی مقبولیت اوراحباب کے  اصرار پر کنول ڈبائیوی نے  بیس پچیس نظمیں  تھوڑی بہت ترمیم واضافے  کے  ساتھ اپنے  دوسرے  مجموعے  ’سوز وطن ‘ میں  بھی شامل کردیاہے۔  کنول اپنے  کلام میں  جذبہ حب الوطنی اورقومی یکجہتی جیسے  نظریات کوموضوع سخن بنانے  کی وجہ یوں  بیان کرتے  ہیں۔

’’میں  ’بساط زیست ‘میں  عرض کر چکا ہوں  کہ میری زندگی ہمیشہ جدوجہد کا مرکز رہی ہے  اور میرے  اندر جذبہ وطن آگ اور انگارے  کی طرح دہکتارہاہے  اگر میں  ملک میں  یک جہتی اور وطنی جذبہ کو ابھارنے  میں  تھوڑا بہت بھی کامیاب ہوگیا تو میں  ……سمجھ لوں  گا کہ مجھے  اس کی قیمت مل گئی۔ ‘‘۳؂

سوز وطن کو کنول نے  چار حصوں  میں  تقسیم کیاہے۔  پہلا عنوان ’میرا ہندوستان وطن ‘اس میں  انھوں  نے  ترانے  اور یک جہتی جیسی نظموں  کو شامل کیا ہے۔  ان کی نظموں  میں  حب الوطنی وآزادی کے  جذبے  کو بڑے  پرخلوص اندازمیں  بیان کیا گیا ہے۔ کنول کی نظموں  میں  قومی یک جہتی، اتحاد واتفاق کا درس پورے  طور پر نمایاں  ہے۔ مثال کے  لیے  ان کی نظموں  سے  کچھ بند پیش کیے  جاتے  ہیں۔

 درس محبت

یہ بات ہر اک فرد گلستاں  کو بتا دو

جیسے  بھی ہٹیں  راہ سے  کانٹوں  کو ہٹا دو

نفرت کے  ہر ایوان کو بنیاد سے  ڈھادو

الفت کے  نئے  پھول گلستاں  میں  کھلا دو

  اشجار محبت کے  ہر اک سمت لگا دو

تم ہند کو ایک مرکز تمثیل بنادو

جب جب بھی ہوئے  ہند میں  تفریق کے  ساماں

تبدیل خزاؤں  میں  ہوا دور بہاراں

نفرت بنی ہر ایک کی تذلیل کا عنواں

تفریق کی رسموں  کو زمانے  سے  مٹا دو

اشجار محبت کے  ہر اک سمت لگا دو

  تم ہند کواک مرکز تمثیل بنا دو ۴؂

میرا دیوتا

جنت کا ہوں  نہ طالب دولت نہ مدعا ہے

دل میں  وطن کی عظمت ہر چیز سے  سوا ہے

میرا وطن ہی مجھ کو اے  دوست میکدہ ہے

میخانہ وطن سے  اب جام مل گیا ہے

حب وطن کا نغمہ ہر سانس کی صدا ہے

خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

جی چاہتا ہے  میرا ہر اک کو حوصلہ دوں

مردہ طبیعتوں  کی پژمردگی مٹا دوں

ہندوستاں  میں  لاؤں  گذرا ہوا زمانہ

سویا ہوا مقدر اک بار پھر جگا دوں

 ہاں  اس طرح کا میں  نے  اک عزم تو کیا ہے

 خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے  ۵؂

میرا ہندوستان وطن

رشیوں  کا استھان وطن  ویروں  کا ایمان وطن

ولیوں  کا ارمان وطن  ہر ہندی کی جان وطن

 کل دنیا کی شان وطن

میرا ہندوستان وطن

ایک وطن ہے  ایک ہیں  ہم  اس میں  لیا ہے  سب نے  جنم

سب قومیں  مل کر باہم  دور کریں  بھارت کا الم

 ہے  ہم سب کی شان وطن

 میرا ہندوستان وطن ۶؂

ڈاکٹر سلام سندیلوی نے  ’سوز وطن‘ کے  پیش لفظ میں  کنول کے  شاعرانہ عظمت کااعتراف اس طرح کیاہے۔

’’اگرچہ کنول صاحب نے  مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے  مگر ان کا خاص موضوع حب الوطنی ہے۔ انھوں  نے  حب الوطنی پر کافی تعداد میں  نظمیں  کہی ہیں  میرا خیال ہے  کہ دور حاضر میں  اس قدر وطنی نظمیں  کسی شاعر نے  غالبا نہیں  کہی ہوں  گی۔ کنول ڈبائیوی نے  حب الوطنی کے  موضوع کو اپنا لیا ہے۔  اس لیے  ہم ان کو ایک قومی شاعر کہہ سکتے  ہیں۔  ‘‘۷؂

اس مجموعے  کادوسراحصہ ’’کاروان وطن ‘ہے  اس میں  انھوں  نے  واقعاتی اور اصلاحی نظموں  کو شامل کیا ہے۔  کنول ڈبائیوی ہندوستان کو غلامی سے  آزاد کرانا چاہتے  تھے۔انھیں  اندزاہ تھاکہ ملک وقوم کی ترقی آپسی اتحاد وبھائی چارہ میں  ہے۔  انھوں  نے  قوم کو بے  دار کرنے  کے  لیے  ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور عظمت رفتہ کو یاد دلانے  کی کوشش کی ہے۔ تاریخی وثقافتی اعتبار سے  بھی یہ نظمیں  اہم ہیں۔ مثال کے  لیے  نظموں  کے  کچھ حصے  پیش کیے  جاتے  ہیں۔

ڈکٹر قمر رئیس کنول ڈبائیوی کے  نظموں  کے  متعلق لکھتے  ہیں۔

’’ڈاکٹرکنول کی بیشتر نظمیں  بیانیہ ہیں  لیکن سپاٹ اور بے  رنگ نہیں۔  جذبہ کی صداقت سے  ان میں  روانی کیفیت اور شعریت پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے  مخاطب دانشور نہیں  عام قاری ہیں  اس لیے  بول چال کی سیدھی سادی زبان میں  ہی انھوں  نے  اپنے  تجربات بیان کیے  ہیں۔ بعض نظموں  میں  انھوں  نے  افسانوی اور ڈرامائی تدبیر سے  بھی فائدہ اٹھایاہے۔  امید ہے  کہ اہل نظر اور عام قاری ان کے  اس مجموعہ کی قدر کریں  گے  اوریہ مقبول ہوگا۔  ‘‘۸؂

وطن پرست

دشت میں  تھا حسین اک گلزار

چار سو چھارہی تھی اس میں  بہار

وہ چمن تھا بہ صورت جنت

دیکھ کر جس کو ملتی تھی راحت

بلبلیں  نغمہ سنج تھیں  ہر سو

ہر طرف کوئلوں  کی تھی کوکو

برگ شاداب پھول تھے  خوش رنگ

بج رہے  تھے  مسرتوں  کے  چنگ

عیش وآرام کے  حسیں  لمحے

 اس وطن کی زمیں  پر گزرے

آج اس پر پڑی مصیبت ہے

چار جانب بپا قیامت ہے

عیش میں  جب رہے  ہیں  ہم اس میں

ہم کو لازم نہیں  اسے  چھوڑے

چھوڑ کر ہم اسے  نہ جائیں  گے

جان رہ کر یہیں  گنوائیں  گے

یہ وفا کا کنول ؔاصول نہیں

 غیر کی خلد بھی قبول نہیں  ۹؂

اپنے  کوچہ میں  نہ پائی قبر کو دوگززمیں

(شاہ ظفر بستر مرگ پر )

آہ بستر پر پڑا ہے  ایک شاہ

نامور  تاجدار مغلیہ

ہے  نام ہے  اس کا ظفر

یوں  تو ہو جاتا ہے  بیماری میں  ہر دل بیقرار

آج اس کی زندگی کا ختم ہے  شاید سفر

 ضعف سے  بے  کار اس کے  سارے  اعضا ہوگئے

کل یہ کتنے  خوش نما آج یہ کیا ہوگئے

کہہ رہا تھا آہ رخصت اے  جہان آرزو

کہہ رہاتھا آہ رخصت گلستان آرزو

تم سے  رخصت ہورہا ہوں  آہ اے  اہل وطن

نقش پارینہ بنی ہے  داستان آرزو

 کیا تعجب ہے  کہ وہ اس غم میں  ہے  اندوہ گیں

 اپنے  کوچہ میں  نہ پائی قبر کو دوگز زمیں  ۱۰؂

تیسراحصہ ’پاسبان وطن ‘کے  نام سے  ہے۔ اس باب میں  رزمیہ نظمیں  شامل ہیں۔ کنول ڈبائیوی نے  وطن پرستی کے  جذبے  سے  مغلوب ہوکرملک وقوم کے  سپاہیوں  کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔  ان کی نظر میں  وطن عزیز سے  بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔  سوز وطن کی نظموں  اور کنول ڈبائیوی کے  متعلق دیریندر پرشاد سکسینہ بدایونی لکھتے  ہیں۔

’’……سوز وطن کی ہر نظم وطنی احساسات کا آئینہ ہے  جب کوئی محقق اردو کی قومی شاعری پر تحقیقی کام کرے  گا تو ڈاکٹر کنول ڈبائیوی کا ذکر کئے  بغیر اس کا مضمون نامکمل رہے  گا۔  ڈاکٹر کنول ڈبائیوی نے  اپنی ساری زندگی قومی شاعری کے  لیے  وقف کردی ہے  خدا ان کو قوم ووطن کی خدمت کے  لیے  زندہ اور سلامت رکھے۔ ‘‘۱۱؂

مثال کے  لیے  نظم سے  کچھ بند پیش کیے  جاتے  ہیں۔

فوجی جواں  ہمارا

خاک وطن کا ذرہ ہے  قصہ خواں  ہمارا

وابستہ ہے  اسی سے  سود وزیاں  ہمارا

یہ کہہ رہاہے  ہم سے  قومی نشاں  ہمارا  ہے

سیکڑوں  برس سے  یہ پاسباں  ہمارا

  جانباز صف شکن ہے  فوجی جواں  ہمارا

آزادی وطن نے  جب جب بھی ساتھ چھوڑا

قسمت نے  جب بھی رشتہ جبروستم کا جوڑا

ہمت سے  بڑھ کے  اس نے  قصر عدو کوتوڑا

یہ حال جاننا ہے  اے  آسماں  ہمارا

  جانباز صف شکن ہے  فوجی جواں  ہمارا

یہ ہے  دعا کنول کی اس کی ہے  یہ تمنا

پرچم رہے  ہمیشہ اس کا جہاں  میں  اونچا

فتح مبیں  عطا ہوا س کو ہمیشہ مولا

ہے  ملک جس کے  دم سے  دار الاماں  ہمارا

  جانبازصف شکن ہے  فوجی جواں  ہمارا ۱۲؂

چوتھا حصہ ’روداد وطن ‘ہے  اس میں  متفرق موضوعات پر ان کی لکھی ہوئی نظمیں  شامل ہیں۔ کنول کے  کلام کے  متعلق مبشر علی صدیقی لکھتے  ہیں۔

’’وہ بے  تکان کہتے  ہیں  ‘بہت کہتے  ہیں  اور اچھا کہتے  ہیں۔  وہ دوسرے  شعرا سے  متاثر ہوتے  ہیں۔  دونوں  چیزوں  میں  یعنی ہئیت یااسلوب میں  اور مواد میں۔  لہذاآپ کو کہیں  اقبال ؔجھانکتے  ہوئے  مل جائیں  گے  ‘کہیں  حالیؔ ‘کہیں  اکبرؔ‘کہیں  جوشؔ یافیض ؔیاسردارجعفریؔ یاجذبی ؔلیکن ان شعرا کے  اسلوب نے  کنول کو زیادہ متاثر کیا ہے۔  مواد زیادہ تر ان کا اپنا ہی ہے۔ اور اس قسم کے  بعض اشعار میں  واقعیت ((Realism زیادہ آگئی ہے۔ کیوں  کہ انھوں  نے  تجربہ کی کسوٹی پر ان باتوں  کو اچھی طرح پرکھ لیا ہے  جوبیان کی ہیں۔  ان کا شعری اسلوب بہت سلیس اور سادہ ہے  اور وہ رمزیت واشاریت سے  زیادہ کام نہیں  لیتے  جب کہ بعض نقادوں  کے  نزدیک شعر میں  رمزیت واشاریت ہی سب کچھ ہے۔ اور شاعری کی بات یوں  بھی اشاروں  وکنایوں  میں  بیان ہوتی ہے۔ لیکن سہل ممتنع بھی اپنی جگہ پر اہم ہے۔  ‘‘ ۱۳؂

اس باب کی نظموں  سے  کچھ بند ملاحظہ ہوں۔

دردونغمہ

سکون ڈھونڈ تا پھرتا ہوں  اجنبی کی طرح

میری ہنسی ہے  کنول غمزدہ کلی کی طرح

میں  غم کو پوجتاہوں  رسم آذری کی طرح

 شب حیات پہ چھایا ہوں  تیرگی کی طرح

شب فراق میں  تاروں  کی روشنی کی طرح

 مجھے  یہ زیست ملی پھیکی چاندنی کی طرح

مری حیات کو اک درد کے  سوا نہ ملا

 میرے  چمن میں  کوئی پھول بھی کھلا نہ ملا

مری حیات کی کشتی کو ناخدا نہ ملا

 کہیں  بھی میری محبت کو آسرا نہ ملا

مری حیات ہے  دنیا میں  اجنبی کی طرح

 مجھے  یہ زیست ملی پھیکی چاندنی کی طرح ۱۴؂

کنول ڈبائیوی ہندوستان میں  یک جہتی اور اتحاد کے  خوہاں  تھے۔ انھیں  احساس تھا کہ ملک کی خیر خواہی آپسی اتحاد واتفاق میں  ہے۔کنول ڈبائیوی نے  حب الوطنی کے  موضوعات کے  علاوہ تاریخی اور سماجی موضاعات پر بھی عمدہ نظمیں  لکھی ہیں۔

      ۱؂          بساط زیست :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۷: گنور ضلع بدایوں  یوپی ۱۹۷۰؁ء

۲؂  بساط زیست :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی : ص ۷۰:گنور ضلع بدایوں  یوپی ۱۹۷۰؁ء

۳؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص۲۱لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

      ۴؂         سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۴۳:لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴ء ؁

۵؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۴۸۔۴۹لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۶؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص۵۴۔۵۵ لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

      ۷؂         سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۱۸لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۸؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۸۲لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۹؂   سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۸۷۔۸۸لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۰؂ سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص۱۱۸۔۱۲۰لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۱؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۱۶۸لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۲؂ سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۲۰۰۔۲۰۱لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

ٍ  ۱۳؂        سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۲۱۴۔۲۱۵لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۴؂ سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۲۳۳۔۲۳۴لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

                   Mohd Farooque Khan

  M.S.Inter college Sikandarabad Bulandshahar U.P

       mob No.9359955642

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.