قاضی عبدالستارکے تاریخی ناول:ایک تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر احمد خان

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو ، ذاکر حسین دہلی کالج، دہلی یونیورسٹی، دہلی

ادارتی نوٹ: اردو کے معروف فکشن نگار قاضی عبدالستار کا 29 اکتوبر 2018 کو مختصر علالت کے بعد دہلی میں انتقال ہوگیا۔ وہ اردو ادب میں اپنے تاریخی ناولوں صلاح الدین ایوبی، داراشکوہ اور غالب کی وجہ سے یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی پیدائش 8 فروری 1933 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے جاگیردارانہ نظام کے زوال کو قریب سے دیکھا تھا۔ ان کے افسانوں میں جاگیردارانہ زوال کی روداد پڑھنے کو ملتی ہے۔ مالکن اور پیتل کا گھنٹہ افسانے اسی طلبقے کے زوال کی داستان ہے۔ ان کی وفات پر اردو ریسرچ جرنل ذاکر حسین دہلی کالج کے استاد ڈاکٹر احمد خان کے اس تحقیقی مضمون کو خراج عقیدت کے طور پیش کررہا ہے۔امید کہ قارئین پسند فرمائیں گے۔ ڈاکٹر عزیر (مدیر)

قاضی عبدالستار

قاضی عبدالستار دورجدید کے صف اول کے ناول نگار ہیں۔ انہوں نے اردو ناول کو نئی وسعت اور نئی جہت سے روشناس کرایا۔قاضی صاحب کے قلم میں ماضی کی تابناک یادوں اور کھوئے ہوئے ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی حیرت انگیز قوت ہے۔ان کے ناولوں میں فن کی پختگی، فکر کی گہرائی اور خطیبانہ اسلوب کا حسین امتزاج ملتا ہے اور واقعات بیانی میں منطقی ربط اورپلاٹ میں چستی اور گٹھائوپن پایا جاتا ہے۔قاضی صاحب کا ایک منفرد اسٹائل، لب ولہجہ اور انداز بیان ہے۔ ان کے تمام ناول اپنی خصوصیات کی بناپر ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور زبان وبیان کی سطح پرانفرادیت کے حامل ہیں ۔جب وہ زوال پذیر جاگیر دارانہ نظام کو اپنا موضوع بناتے ہیں تو ان کا قلم نوحہ گری شروع کردیتا ہے اور جب مغلیہ عہد کو زیر بحث لاتے ہیں تو شہنشاہی جاہ وجلال ان کے اسلوب میںنمایاں ہو جاتا اور جب صلاح الدین ایوبی اورخالد بن ولید کی بات کرتے ہیں تو عرب تہذیب اپنی آن بان اور شان وشوکت کے ساتھ منظر عام پر آجاتی ہے۔قاضی صاحب کے تاریخی ناول تہذیب اور عہد کے اعتبار سے قدرے مختلف ہیں، لیکن ناول کے مرکزی کردار اتنے معروف ہیں کہ مصنف کے لئے تخیل سے کام لینے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔قاضی صاحب کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے اپنے الفاظ کی جادوگری، تہذیب کے نفسیاتی تجزیے اور تاریخی شعور کی بدولت اپنے ناولوں کو شہرت کی بلندی تک پہنچادیا ہے۔

قاضی عبدالستار کا اصل میدان تاریخی ناول نگاری ہے۔قاضی عبدالستار کو آزادی کے بعد تاریخی ناول نگاروں کا امام کہنا غلط نہ ہوگا۔انہوں نے اردو ادب میںتاریخی ناول نگاری کی روایت کو دوبارہ زندہ کیااور تاریخی ناول کو ایک نئی جہت دی ۔قاضی صاحب نے جس قدر اپنے ناولوں میں تہذیبی تاریخ کو زندہ کیا ہے یہ ان کے تاریخی شعور کاہی نتیجہ ہے۔ قاضی صاحب نے اپنے تاریخی ناولوں میں تاریخ اور ناول دونوں کا حق بخوبی ادا کیا ہے۔ انہوں نے نہ تو تاریخی حقائق سے چھیڑ چھاڑ کی ہے اور نہ ہی افسانویت کے گل بوٹے کھلانے سے گریز کیا ہے۔ زبان کی نیرنگی، تاریخی شعور، تہذیب کی عکاسی اور موضوعات میں تنوع وغیرہ کچھ ایسے عناصر ہیں، جن کی بدولت قاضی صاحب اپنے پیشروئوں اور معاصرین دونوں میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔

قاضی عبدالستارجیسا تاریخی ناول نگار اردو ادب کے لیے باعثِ افتخار ہے۔قاضی صاحب نے تاریخی ناول لکھتے وقت ایسے دور یا ایسے کردار کا انتخاب نہیں کیا جو تاریخ کے دھند لکے میں لپٹے ہوں بلکہ قد آور اور تاریخ کو نئے باب عطا کرنے والی شخصیات کو منتخب کیا جنہوں نے قوم کو ہی نہیں تاریخ کو بھی متاثر کیا۔ قاضی عبدالستارنے اپنے تاریخی ناولوں میں تاریخی حقائق اور عصری زندگی کو خاص اہمیت دی ہے ۔ان کے تاریخی ناولوں کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے جس عہد کو موضوع بنایا ہے اس کی جیتی جاگتی تصویر کو نمایاںکر دیا ہے۔قاضی صاحب کے تاریخی ناولوں میں ماضی کی بازگشت نظر آتی ہے۔ انھوں نے اپنے ڈرامائی اور افسانوی طرز تخاطب سے اپنے ناولوں کو اتنا دلچسپ بنادیا ہے کہ قاری ان کے بیان کے سحر میں گرفتار ہوجاتا ہے اور اپنے شاندار ماضی کی چمک دمک میں کھوجاتا ہے۔دراصل قاضی صاحب کے تاریخی ناولوں کا شمار اردو کے عظیم ناولوں میں ہوتا ہے۔

داراشکوہ

داراشکوہ، قاضی عبدالستار کا ایک شاہکار ناول ہے۔اس ناول میں مغل شہزادے اور ولی عہد داراشکوہ کی سیاسی زندگی کے عروج وزوال کا احاطہ کیا گیاہے۔ دارا شکوہ، مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا بڑا بیٹا اورنگ زیب کا بھائی تھا۔ناول کا آغازمہین پور خلافت‘‘ اور داراشکوہ کو شاہ بلند اقبال اور ولی عہد کے خطاب کے اعلان سے ہوتا ہے۔ناول کے ابتدائی حصے میں دارا کے تخت زرنگا رپر جلوہ افروز ہونے اور ہندوئوں کے محصولات معاف کرانے کا ذکر ہے۔ناول کے اگلے حصے میں قندھار کی مہم سے متعلق حالات اور واقعات کی پیش کش ہے۔ وزیر سعید اللہ کی اطلاع پر کہ ایران کے بادشاہ نے معاہدہ توڑکر قندھار پر قبضہ کرلیا ہے۔ شاہجہاں، دارا کی قیادت میں ایک عظیم فوج کے ساتھ قندھار پر چڑھائی کرتا ہے لیکن اسے ناکامی ملتی ہے۔

دارا کی قندھار سے واپسی پر شاہ جہاں کی برہمی،وزیر سعداللہ کا انتقال، شاہ جہاں کی علالت ،دارا کا تخت زرنگار پر قدم رکھنے کی خبر اور اورنگ زیب کے جاسوسوں کی جانب سے دارا کے خلاف عوام میں بدگمانی پیدا کرنے کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ناول کے اگلے حصے میں چنار کے قلعے پر شجاع الدولہ کی فتح، صولت بیگ کے بیٹے حشمت بیگ کی ہزاروں سواروں کے ساتھ دارا الخلافت میں موجودگی، شہزادہ شجاع کی بغاوت اور اس کے ذریعے راج محل میں تاج پہننے اور اپنے نام کا خطبہ اور سکے جاری کرنے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ناول کے بقیہ حصے میں شاہجہاں کے ذریعے اورنگ زیب کی سرکوبی کا فیصلہ صادر کرنا، دھرمت کی جنگ میں اورنگ زیب اور مراد کی مشتر کہ فوجی کا روائی کے ہاتھوں شاہی لشکر کی شکست ،ہندوستان کی تاریخ میں اہم موڑ رکھنے والی شاموگڑھ کی جنگ میں شاہی لشکر کی بری طرح شکست اور اورنگ زیب کے تخت پر جلوہ افروز ہونے کا بیان ملتا ہے۔ناول کا آخری حصہ، میدان جنگ سے دارا کے فرار ہونے ، اس کی گرفتاری اور اسے قتل کیے جانے پر مبنی ہے۔

قاضی عبدالستار نے’ داراشکوہ‘ جیسا ناول لکھ کر مغلیہ سلطنت کی زریں تاریخ کو ادب میں زندہ و جاوید بنادیا ہے۔یہ ناول داراشکوہ کے سیاسی عروج وزوال کو پیش کرتا ہے۔ناول میں حصول اقتدار کے لیے چاروں بیٹوں کے مابین رسہ کشی، دارا کے ساتھ شاہ جہاں کی جانب داری اور اورنگ زیب کی اپنی حکمت عملی کے ذریعہ مغلیہ تخت وتاج پر قابض ہونے جیسے تمام ترحقائق ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ دارا شکوہ کو موضوع بحث بنا کر مغلیہ عہد کو قاضی صاحب نے ناول میں ایک مشترکہ تہذیب کو پیش کیا ہے۔قاضی صاحب نے دارا کے کردار کو حق پرست، مشتر کہ تہذیب کا ترجمان، اکبرا عظم کاجانشین اور شعرو ادب کے معمارکے طور پر پیش کیا ہے۔بقول قاضی صاحب:

’’ساموگڑھ کے سینے میں وہ میزان نصب ہوئی جس کے ایک پلڑے میں روایت تھی اور دوسرے میں دل، ایک طرف سیاست تھی دوسری طرف محبت، ایک طرف فلسفۂ حکمت تو دوسری طرف شعرو ادب اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طرف تلوار تھی اور دوسری طرف قلم۔‘‘ (داراشکوہ ،ص۔۱۴۶)

دارا اپنی آزاد خیالی اور وسیع النظری کی وجہ سے تاریخ کا ایک اہم اور انوکھا کردار ہے۔ اگر دارا، ہندوستان کی حکومت پر قابض ہونے میں کامیاب ہوجاتا تو ممکن ہے کہ ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ دارا کو ہندو پرست کہنا مناسب نہیں ہے کیونکہ دارا مذہبی رواداری پر یقین رکھتا تھا اور یہ بھی کہنا کہ اورنگ زیب ایک کٹّر پرست مسلم تھا، یہ بھی درست نہ ہوگا۔یہ دونوں تخت کے حصول کے لیے سیاسی پینترے چل رہے تھے۔ ہندوستان کی تاریخ میں ساموگڑھ کی لڑائی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ اس جنگ نے اس مشترکہ تہذیب کو کافی ضرب پہنچایا جو عہداکبر میں پروان چڑھی تھی۔ مصنف کی یہ دلیل قرین قیاس ہے کہ یہ جنگ نہ صرف تخت وتاج کے حصول کے لیے لڑی گئی تھی بلکہ یہ دونظریوں کی جنگ بھی تھی:

’’ساموگڑھ کی لڑائی شاہجہاں کے دوبیٹوں کے مابین تخت وتاج کے حصول ہی کے لیے نہیں لڑی گئی بلکہ یہ دونظریوں کی جنگ تھی۔جس کا فیصلہ ساموگڑھ کے صفحہ تلوار کی نوک سے لکھا گیا۔سیاسی، تہذیبی اور عسکری نقطۂ نظر سے یہ جنگ ہندوستان کی اہم ترین جنگوں میں سے ایک تھی۔ ساموگڑھ نے یہی نہیں کیا کہ ہندستان کا تاج دارا سے چھین کر اورنگزیب کے سرپر رکھ دیا۔ بلکہ مغل تاریخ کے زریں باب پر مہرلگادی جسے اکبر کا عہد کہا جاتا ہے۔‘‘  (داراشکوہ،ص۔۹۰۔۱۸۹)

اگرچہ سیاسی میدان میں اورنگ زیب اور دارا کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ سامو گڑھ کے میدان میں تقریباً دونوں افواج کی تعداد برابر تھی۔لیکن حکمت عملی اور فوجی اعتبار سے دارا، اورنگ زیب کے سامنے ٹک نہ سکا۔ لہٰذا یہ جنگ سیاسی وعسکری قیادت اور جنگی حکمت عملی کی بنیاد پر لڑی گئی تھی جس میں اورنگ زیب کی فتح ہوئی اور دارا کوشکست کا سامنا ہوا۔کیونکہ دارا ان خوبیوں سے بہت دورتھا جن میں اورنگ زیب بلند وبالا ویکتا تھا۔لیکن دارا کی مذہبی رواداری اور مشترکہ تہذیب کی نمائند گی اور دارا پر ملحد ہونے کے الزام اور کٹرپرست قوتوں کو اس کے خلاف بھڑکا نے کی سازشوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اورنگ زیب ،اپنی سیاسی و عسکری بصیرت اور توسیع پسندی کی بدولت مغل سلطنت پر قابض ہو نے میں کامیاب رہا، جس کی اپنی ایک تابناک وراثت رہی ہے، جسے اکبرکی مذہبی وفکری روداری حاصل رہی تو جہانگیر و شاہ جہانی تہذیب و ثقافت کی مرحمت بھی نصیب ہوئی۔دارا اسی تہذیبی وراثت کا ایک امین تھا جس نے اکبری روایت کو قائم کرنے کی سعی کی لیکن اسے ناکامی ملی اور اس سرائے فانی کو الوداع کہنے پر مجبور ہونا پڑا۔قاضی عبدالستار نے دارا کے نظریہ فکر اور آداب واطوار کے مدنظر اسے ایک تہذیب اور ایک کلچر کا نمائندہ قراردیا ہے:

’’اس مقبرے کی گود میں صرف ایک ایسا شہنشاہ آرام فرمانہیں جس کی اولاد نے ہندوستان کی تاریخ میں ایک سنہری جلد کا اضافہ کیا، بلکہ وہ داراشکوہ بھی سورہا ہے جو ایک تہذیب، ایک تمدن، ایک کلچر، کوزندہ کرنے اٹھا تھا مگر تقدیر نے اس کے ہاتھ سے قلم چھین لیا اور تاریخ نے اس کے اور اق پرسیاہی پھیردی۔‘‘  (داراشکوہ،ص۱۵)

مختصر یہ کہ ناول داراشکوہ، اردو کے تاریخی ناولوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔قاضی عبدالستار کے اسلوب کا کمال یہ ہے کہ اردو ناول نگاری میں ایسا اسلوب مشکل سے ہی دیکھنے کومل سکتا ہے۔مصنف کی خوبی یہ ہے کہ وہ موضوع اورعہد کے مطابق طرز اسلوب اختیار کرتے ہیں۔انھوں نے جس ماحول کو پیش کیا ہے، اسے زندہ وجاوید بنادیا ہے اور جس منظر کو ابھارا ہے اس میں جان ڈال دی ہے۔ زیر بحث ناول داراشکوہ میں جو فضا سازی کی گئی ہے اور عظمت رفتہ اور کھوئے ہوئے ماحول کی جس طرح جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے یہ قاضی صاحب کا فن ہے۔فنّی اعتبار سے یہ ناول انتہائی بلندیوں کو چھوتا ہے قاضی صاحب نے دارا شکوہ میں تشبیہات اور استعارات کا جو منظرنامہ پیش کیا ہے۔وہ اردو ناول نگاری میں ناپیدہے۔ دارا شکوہ میں جنگی حکمت عملی اور اس کا انداز بیان اور میدان جنگ میں شاہی افواج کا صف آرا ہونا، گھوڑوں اور ہاتھیوں کا اژدہا م، سپہ سالاروں کا افواج میں جوش پیداکرنااور میدان کا رزار، محلاتی سازشیں ،نظام معاشرت اور طرز سیاست وغیرہ کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے۔جس سے قاضی عبدالستار کے تاریخی شعور اور تاریخی بصیرت کی بہترین نمائندگی ہوتی ہے۔

صلاح الدین ایوبی

ناول ’صلاح الدین ایوبی‘ (۱۹۶۴ئ) مسلم فاتح ومجاہد صلاح الدین ایوبی کے دور کی اسلامی تاریخ اورصلیبی جنگ وجدال کا احاطہ کرتا ہے۔ناول کا آغاز دوسری صلیبی جنگ سے ہوتا ہے اور تیسری صلیبی جنگ، جو صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں لڑی جاتی ہے، کااحاطہ کرتے ہوئے یہ ناول صلاح الدین کے انتقال پر اپنے اختیام کو پہنچتا ہے۔ صلاح الدین ایوبی کے والد نجم الدین کا خاندانی تعلق مشرقی آذربا ئیجان کے گائوں’’ دوین‘‘۱۴؎  کے قبیلہ’’ہذائیہ‘‘ کی ایک شاخ’’روادیہ‘‘ سے تھا۔ یہ قبیلہ کردوں کا تھا جو آج بھی عراق،شام، ترکی اور ایران میں مقیم ہے۔صلاح الدین کے دادا شادیٔ ایران کے سلجوقی دور میں اپنے دوبیٹوں نجم الدین اور اسدالدین شیر کوہ کے ہمراہ بغداد میں قدم رنجہ ہوئے اور دریائے دجلہ کے کناے’’تکریت‘‘ میں اقامت اختیار کرلی۔ابتدا میں شادی’’تکریت‘‘ کے قلعہ کے حاکم رہے۔شادی کے انتقال کے بعد تکریت کے قلعے میں نجم الدین ایوب اس منصب پر فائز ہوئے۔۱۱۳۸ء میں تکریت کے قلعہ میں نجم الدین کے بیٹے یوسف جو بعد میں صلاح الدین ایوبی کے نام سے مشہور ہوئے، کی ولادت ہوئی۔سلجوقی وزیر سے تعلقات ناساز ہونے کی پاداش میں اس خاندان کو قلعہ چھوڑنے کا حکم ملا۔اس طرح نجم الدین ایوب موصل کے فرماں روا اور اپنے رفیق عمادالدین کے حاکمین میں شریک ہوگیا۔ دوسری صلیبی جنگ ۴۹۔۱۱۴۷ء کے دوران صلاح الدین ایوبی نوسال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ ’’بعلک‘‘ میں مقیم تھا۔لیکن تاریخ میں اس وقت صلاح الدین سے متعلق کوئی ذکر نہیں ملتا۔ صلاح الدین اپنے والد کے ساتھ ۱۱۴۵ء تا۱۱۶۴ء دمشق میں واقع نورالدین کے دربار سے منسلک رہا۔اگرچہ اس عہد میں بھی صلاح الدین کے متعلق تاریخ کے اور اق خاموش ہیں۔ صلاح الدین کا نام پہلی بار تاریخ میں اس وقت آیا جب وہ اپنے چچا اسدالدین شیر کوہ کے ہمراہ نورالدین زنگی کے حکم سے مصر کی مہم پرروانہ ہوا۔شیر کوہ کی یہ مہم کامیاب رہی۔ ۱۱۶۹ء میں شیرکوہ کے انتقال کے بعد مصر کی وزارت کا عہدہ صلاح الدین ایوبی کو’’ملک الناصر‘‘ کے خطاب کے ساتھ حاصل ہوا۔صلاح الدین نے ۱۱۷۰ء میں فلسطین پر حملہ کرکے رملہ اور عسقلان کو اپنے قبضے میں لے لیا۔۱۱۷۱ء میں فاطمی خلیفہ عاضد کے انتقال کے بعد صلاح الدین مصر کا فرماں روابن گیا۔ ۱۱۷۵ء میں عباسی خلیفہ نے اسے خلعت فاخرہ کے ساتھ سلطان کی سند سے نوازا۔ وقت کے ساتھ ساتھ صلاح الدین کے مقبوضات میں اضافہ ہوتا رہا۔۱۱۸۲ء تک آتے آتے صلاح الدین کو ’’سلطان المسلمین الاسلام‘‘ کے خطاب سے جانا جانے لگا۔ دریں اثنا سلطان نے عیسائیوں کے ایک متحدہ محاذ جس میں بیت المقدس کا بادشاہ گائی آف لوسگنان، کرک کا ریجنالہ، لمبریہ کا ریمنڈ اور ٹیمپلروں کا سردار ریڈفورڈ شامل تھے، کوشکست دی۔۱۱۸۷ء میں حطین کی اس فیصلہ کن جنگ نے عیسائیوں کی کمرتوڑدی۔ صلاح الدین مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا بادشاہ بن چکا تھا۔ فتح بیت المقدس نے دنیائے عیسائیت میں کہرام برپا کردیا۔ صور کے بادشاہ ولیم نے بیت المقدس کی بازیابی کے لیے تیسری صلیبی جنگ(۹۲۔۱۱۸۹ئ) کا اعلان کردیا۔ اس نے ایک مسیحی محاذ کی تشکیل دی جس میں جرمنی کے بادشاہ فریڈرک باربروسہ، انگلستان کے بادشاہ رچرڈ شیردل اور فرانس کے بادشاہ فلپ اگسٹس شریک ہوئے۔ لیکن شکست درشکست نے صلیبیوں کے حوصلے پست کردیے۔۲نومبر ۱۱۹۲ء میں اس شرط پر صلح ہوئی کہ فریقین اپنے اپنے علاقوں پر قابض رہیںگے۔۳۰مارچ ۱۱۹۳ء کو دمشق میں سلطان کی موت ہوگئی۔

عہد ایوبی کا دمشق دنیا کا اہم ترین سیاسی،تجارتی اور علمی مرکز تھا۔لیکن دمشق سے باہر کی صورت حال تشویشناک تھی۔ عیسائی فاتحین جہاں بھی مسلم علاقے کو فتح کرتے وہاں ظلم وتشد دکاقہر برپا کر دیتے، بازاروں کو لوٹتے، گھروں کو نذرآتش کرتے اور عورتوں کو عیاشی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ تیسری صلیبی جنگ کے اس دور میں یوروپی نائیٹ سرزمین ِعرب کو میدانِ کا رزار بنائے ہوئے تھے۔ مسلم حکمراں گروہ بندی اور عیاشیوں میں مصروف تھے۔ کسی بھی بادشاہ میں یہ قوت نہیں تھی کہ وہ مغرب کی صلیبی یلغار کی سرزنش کرسکے لیکن صرف دمشق ہی ایوبی پرچم کی چھائوں میں محفوظ تھا۔ جو صلیبی طوفان کو اپنی طاقت اور بلندیِ کردار کی بدولت روکے رہا۔

ناول کا آغازدوسری صلیبی جنگ کے پس منظر میں ہوتا ہے۔ متوقع صلیبی یلغار سے نہ صرف اہل دمشق بلکہ دمشق کے گورنرنجم الدین ایوب بھی پُرتشویش تھے۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ انہیں صلیبی قوت کا صحیح اندازہ نہیں تھا۔ اس موقع پر جواں سال صلاح الدین ایوبی جواپنے باپ کے ہمراہ تھا، صلیبی نقل وحرکت اور طاقت سے روبرو ہونے کا قصد کرتا ہے۔وہ اپنے دوست اور دمشق کے پادری کے بیٹے قحطان کے ساتھ بھیس بدل کر صلیبی فوج میں داخل ہوجاتا ہے۔صلاح الدین، جب دریائے زوفشاں کے ساحل اور جبل لیبنان کی وادی میں داخل ہوتا ہے تو اسے پہلے مسلم عورتوں کے ایک دستے کا سامنا ہوتا ہے۔صلاح الدین کو صلیبی تلوار کے سائے میں فرانس کی ملکہ ایلینور کی بارگاہ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔سخت پوچھ گچھ پر وہ اپنا نام جون بتاتا ہے۔

 ملکہ،جون (صلاح الدین) کی باتوں اور ذہانت سے بہت متاثر ہوئی۔ اس طرح صلاح الدین فرانس کی ملکہ ایلینور کے حفاظتی دستے میں شامل ہوگیا۔صلاح الدین، دھیرے دھیرے ملکہ کے بہت قریب آجاتا ہے۔ایک روزشکار کے موقع پر ملکہ کا ’’نقرہ‘‘ نامی گھوڑا بے قابو ہوجاتا ہے۔صلاح الدین جواں مردی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے بحفاظت گھوڑے سے اتارلیتا ہے اور جب ملکہ ایک شیر کے نرغے میں آجاتی ہے تو صلاح الدین اپنی جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ ملکہ یہیں سے اس کے دام الفت میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ شہنشاہ فرانس لوئی کو جب اس واقعے کی خبر ملتی ہے تو وہ صلاح الدین کو نائٹ کے اعزاز سے نوازتا ہے۔صلاح الدین اب جون سے جون دی نائٹ بن جاتا ہے۔

صلاح الدین نے جب صلیبی لشکر کے خیمے میں شام وعراق کی سرحد کی مظلوم مسلمان عورتوں کی بے حرمتی اور مردوں پر ظلم وستم کو دیکھا تو اس کی روح کانپ اٹھی۔لیکن وہ بے بس اور مجبور تھا کیونکہ وہ دشمنوں کے لشکر میں بھیس بدل کر مقیم تھا۔ ملکہ نے جب شام کے مضافات اور بعلبک کو تاخت وتاراج کرنے کے بعد دمشق پر شب خون مارنے کا منصوبہ بنایا تو صلاح الدین نے اس کی اطلاع اہل دمشق کو پہنچادی۔پچاس ہزار بکترپوش صلیبی سواروں نے جب رات کو دمشق پر حملہ کیا تو مسلمانوں کی مستعدی اور بہادری نے عیسائیوں کے حوصلے پست کردیے اور ساتھ ہی صلاح الدین نے ملکہ کو ایسے مشورے دیے کہ عیسائی فوج کشت وخون میں ڈوب گئی۔

صلاح الدین،ملکہ کے ساتھ ایک روز شکار پر جاتا ہے۔دریں اثنادونوں شاہ سلجوقی کی ویران رسدگاہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ملکہ رسد گاہ کی بائولی میں غسل کرنے لگتی ہے اس دوران صلاح الدین وضو کرکے نماز پڑھنے لگتا ہے۔ملکہ غسل سے فارغ ہوکر جب اندرونی حصے میں محراب کا رخ کرتی ہے تو وہ صلاح الدین کو نماز میں مشغول دیکھتی ہے۔ملکہ کی باز پرس پر صلاح الدین اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرلیتا ہے۔ ملکہ خود کو اس کی زوجیت میں دیتے ہوئے اسے اپنی ذاتی ریاست اینٹک کا تاجدار بننے کی دعوت دیتی ہے لیکن صلاح الدین اپنے قوم ومذہب کی ذمہ داریوں پر قائم رہتے ہوئے،اس کی قربت سے انکار کردیتا ہے۔جب کونریڈکو اس دوران یہ شبہ ہوجاتا ہے کہ دمشق میں صلیبیوں کی ناکامی کا اصل سبب جون دی نائٹ (صلاح الدین) ہی ہے تو ملکہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے صلیبی لشکر سے چلے جانے کا مشورہ دیتی ہے۔

صلاح الدین دمشق واپس ہونے کے بعد راہب کی شکل اختیار کرتا ہے اور ان بستیوں کی طرف روانہ ہوجاتا ہے جہاں عیسائی فاتحین مسلمانوں کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنائے ہوئے تھے۔صلاح الدین شابک ریجنالڈ کے کرک، عسقلان اور ببت المقدس میں مسلمانوں کی تباہی وبربادی کو دیکھتے ہوئے اور عیسائیوں کی قوتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے مصر پہنچتا ہے۔جہاں اسے نورالدین زنگی اور اپنے چچا اسدالدین شیر کو ہ کے انتقال کے بعد فاطمی خلافت کی وزارت ملتی ہے۔اس دوران صلاح الدین کو اپنی طاقت کومجتمع کرنے اور مقبوضات میں توسیع کرنے کا بہتر موقع ملا۔

صلاح الدین ایک صلح پسند انسان تھا۔لیکن وہ عیسائیوں کی صلح شکنی سے عاجز آچکا تھا۔ ریجنالڈ کی جارحیت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ اس نے ۱۱۸۶ء میں پانچویں مرتبہ صلح شکنی کرکے حاجیوں کے ایک قافلے کو لوٹ لیا۔نتیجتاً سلطان فوجی انتظامات کو درست کرکے معر کہ حطین میں اتر آیا اور میدان جنگ میں صلیبی افواج کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔جنگ حطین میں بیت المقدس فتح ہوا، جس سے عیسائیوں کے حوصلے بری طرح پست ہوگئے۔لیکن مسیحی طاقت بہت جلد متحد ہونے لگی۔متحدہ صلیبی افواج نے عکہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔صلیبی محاذ میں ایلینور کابیٹا’’رچرڈ‘‘ بھی شامل تھا۔ جو صلاح الدین کے بھائی ’’العادل‘‘ سے اپنی بہن ’’جین‘‘ کا نکاح کرکے بیت المقدس کو آزاد کرانا چاہتا تھا۔لیکن صلاح الدین اس پر راضی نہیں ہوا۔وہ العادل کا بھیس بدل کر رچرڈ کے پاس گیا۔جہاں فوجی امور سے لے کر ایلینور اور جین تک کی باتیں ہوئیں۔جین بھی کنیز کا روپ اختیار کرکے اس موقع پر موجود تھی۔ناول میں رچرڈ کے ساتھ صلاح الدین کی ہمدردی دکھائی گئی ہے۔ یافاکی جنگ میں رچرڈ کا گھوڑا جب زخمی ہوگیا تو صلاح الدین نے اسے ایک گھوڑا تحفہ میں دیا۔دریں اثناجین گرفتار ہوکر صلاح الدین کی بارگاہ میں پیش ہوئی لیکن اس نے رچرڈ کی سرزنش کرتے ہوئے اسے جین کو واپس کردیا۔

تیسری صلیبی جنگ کا اختتام بھی عیسائیوں کی ناکامی سے ہوا اور بیت المقدس کو بھی آزاد ریاست بنانے میں ناکام رہے ۔صلح کے بعد رچرڈ خالی ہاتھ انگلستان واپس ہوگیا۔لیکن اس کے بھائی جون نے تخت شاہی پر قبضہ کرکے رچرڈ کو قید کر لیا۔اس بدلی ہوئی صورت حال میں ملکہ ایلینور نے صلاح الدین سے مدد طلب کی۔اس نے قحطان کے ذریعے صلاح الدین کے نام ایک خط روانہ کیا جس میں پرانی یادوں کا واسطہ دے کر انگلستان پر یلغار کرکے رچرڈ کے تخت وتاج کو بحال کرنے کی گزارش کی گئی تھی۔ سلطان کی مجلس شوریٰ بھی مغرب کی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے یورپ پر حملہ کرنے کے لیے راضی تھی۔ لیکن صلاح الدین ایوبی اپنی ہوس ناک محبت اور جہاں کشانی پر دین کی سرفرازی و سربلندی کو قربان کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں ہوا اور یہ دین کا مسلح سپاہی کچھ عرصے بعد ہی اس سرائے فانی کو خیرباد کہہ کرابدی زندگی سے ہمکنار ہوگیا۔صلاح الدین کے انتقال کے بعد اس کی ذاتی ملکیت میں صرف سات درہم تھے اور حطین کی جنگ کا وہ خون آلودہ کفن تھا جو تدفین میں کام آیا۔

قاضی عبدالستار، ماضی کو حال کے پس منظر میں پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ ناول میں ایک مقام پر عسقلان میں آباد مظلوم مسلمانوں پر مسیحی ظلم وستم کی داستان بیان کررہے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی کا ہندستان فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے۔صلاح الدین ایک راہب کا بھیس بدل کر عسقلان میں موجود ہے، جہاں مسلمان اقلیت میںہیں۔وہاں فرقہ وارانہ فساداس وقت بھڑک اٹھتا ہے،جب ایک شخص(جو یقینا اکثریتی طبقہ کا تھا) بائبل کے کچھ اور اق گلی کے چوراہوں میں بکھیرتے ہوئے چھلا واہوجاتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے مسیحی نوجوانوں کی ایک بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔جن کی آنکھوں میں فرقہ وارانہ جنون تڑپنے لگتا ہے۔مجمع میں سے چیخ کرایک شخص نے کہا:

’’کسی مسلمان نے ہمارے بائبل کو پھاڑ کر جو توں سے مسل دیا ہے۔ عین گرجے کے سامنے مقدس دین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ سارے شہر کے مسلمانوں کی ایک منظم سازش ہے۔۔۔تو پھران کے ہاتھ پائوں کاٹ کر پھینک کیوں نہیں دیتے۔۔۔پھر بکترپوش سواروں نے نیزوں میں مشعلیں باندھیں اور مکانات پھنکنے لگے۔جس طرح چھتے سے مکھیاں نکلتی ہیں بوڑھے جوان، بچے اور عورتیں نکلنے لگیں۔۔۔پھر ان پر بہادر شہسواروں اور نامی گرامی ٹائٹوں کی پیاسی تلواریں برسنے لگیں اور دم کے دم میں جامع عسقلان تک تمام کوچے اس خون سے جو پانی سے بھی سستا ہے، غسل کرنے لگے۔‘‘   (صلاح الدین ایوبی،ص۔۶۳۔۶۲)

ناول کے عنوان سے واضح ہے کہ ناول کا مرکزی کردار صلاح الدین ایوبی ہے۔صلاح الدین ایک مذہبی انسان تھا۔ عدل، اخوت اور صوم وصلوٰات اس کی شرشت میں شامل تھی۔ وہ علماو فضلا کو بہت پسند کرتا تھا۔وہ روزہ نماز کے ساتھ تہجد کا بھی پابند تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ دین اسلام کا سپاہی تھا۔ جس کے تلوار کی گھن گرج اور ایمانی قوت سے دنیائے مسیحیت خوف زدہ رہتی تھی۔ ناول کا دوسرا اہم کردار فرانس کی ملکہ ایلینو رہے۔ یہ ایک امیرزادی ہے جو اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی پابندی میں قید نہیں رہتی۔یہ فرانس کے شاہ لوئی ہفتم کی بیوی ہے۔ سردار آرک سے اس کے ناجائز تعلقات ہیں اور وہ صلاح الدین کی جواں مردی اور بہادری پر عاشق ہے۔ جب اسے یہ علم ہوجاتا ہے کہ اس کاباڈی گارڈ کوئی اور نہیں بلکہ صلاح الدین ایوبی ہے تو وہ اسے مسیحیت قبول کرکے اپنی ذاتی ریاست’’اینٹک‘‘ کا فرماں روا بننے کی دعوت دیتی ہے ۔صلاح الدین کے انکار پر وہ برہم نہیں ہوتی بلکہ اسے صحیح سلامت دمشق واپس جانے کانہ صرف مشورہ دیتی ہے بلکہ اس کام میں اس کی مدد بھی کرتی ہے۔

قاضی صاحب کا یہ ناول ایک مخصوص تہذیب وتمدن اور زبان کا عکاس ہے۔انہوں نے جن واقعات، کردار، مناظر اور ماحول کو پیش کیا ہے وہ سبھی اپنے زمان ومکان سے موافقت رکھتے ہیں۔قاضی صاحب نے ناول میں اخلاق، انسانیت، محبت،شجاعت اور جنگی صفات کے پس منظر میں صلاح الدین ایوبی کو اسلامی ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے اور وہ اس عمل میں پوری طرح کامیاب بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے اس ناول میں تکنیکی سطح پر کئی تجربے کیے ہیں۔ان میں شعور کی رو، فلیش بیک، بیانیہ اور خطوط کی تکنیک قابل ذکر ہیں۔ناول کی ابتدا میں ہی ملکہ ایلینور کے خط ملنے کے بعد کہانی فلیش بیک میں چلی جاتی ہے اور اکتالیس سال قبل ملکہ اور صلاح الدین کے مابین کے رشتے کی ایک ایک پرتیں کھلنے لگتی ہیں۔قاضی صاحب نے شعور کی روکی تکنیک کے ذریعے صلاح الدین ایوبی اور عصری طرز معاشرت کا بہترین فکری ونفسیاتی تجزیہ کیا ہے۔ ناول کا بیشتر حصہ مذکورہ تکنیک میں بیان کیا گیا ہے۔

قاضی عبدالستار نے بلاشبہ ناول میں تاریخ سے انصاف کیا ہے۔لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ ناول لکھ رہے تھے،تاریخ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ناول میں بہت سے مواقع پر افسانویت کا رنگ غالب ہے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے تاریخی حقائق کی پاسداری کے ساتھ ساتھ فکشن کے اصولوں اور چاشنی کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ناول میں ملکہ ایلینور اور صلاح الدین کی عشقیہ داستان کو کافی طول وعرض کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔فرانس کے شاہ لوئی اور ملکہ کے مابین طلاق کا سبب صلاح الدین کے عشق کو ہی بتایا گیا ہے اور بالواسطہ طور پریہ اشارہ دیا گیا ہے کہ جب صلاح الدین ملکہ ایلینور کے بیٹے رچرڈ سے ملتا ہے تو لگتا ہے کہ رچرڈ اس کا اپنا بیٹا ہے۔میدان جنگ میں رچرڈ کو صلاح الدین کے ذریعے گھوڑے پیش کرنا، یہ سب اس کے تئیں صلاح الدین کی ہمدردی کو ظاہر کرتا ہے۔جب کہ سچائی یہ ہے کہ ایلینور اور صلاح الدین کا عشق ایک فرانسیسی افسانوی داستان ہے جس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۱۱۳۸ء میں صلاح الدین کی پیدائش پر مورخین متفق الرائے ہیں۔دوسری صلیبی جنگ کا عرصہ (۴۹۔۱۱۴۶ئ) پر محیط ہے۔لہٰذااس وقت صلاح الدین محض نو سے گیا رہ سال کا تھا۔ جب کہ ناول میں ایک جاسوس کی شکل میں صلیبی افواج میں صلاح الدین کا نہ صرف شامل ہونا دکھایا گیا ہے بلکہ وہ ملکہ ایلینور کا باڈی گارڈ، منظور نظر اور محبوب بھی ہے۔ جس کا ذکر تاریخ میں کہیں نہیں ملتا ۔دوسری طرف صلاح الدین کو شاہ لوئی کے ذریعے نائٹ کے خطاب سے نواز نا بھی ایک مغربی داستان ہے۔لیکن قاضی صاحب کا کمال ہے کہ انہوںنے فرانسیسی داستان کو بنیاد بنا کر ایلینور اور صلاح الدین کے عشق کو فکشن کے نور سے منور کردیا ہے۔ناول میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ملکہ ایلینور یورپ پر یلغار کرنے کے لیے قحطان کے ذریعے صلاح الدین کو ایک خط بھیجتی ہے۔ اس واقعہ کا بھی تاریخ سے کوئی رشتہ نہیں ہے اور ملکہ کے اس خط کو صلاح الدین کے تلوار کی میان میں رکھ کر دفن کرنا بھی تاریخی شواہد سے بعید ہے۔ غرض یہ کہ ناول میں بعض مقام پر تاریخی حقائق سے چھیڑچھاڑ ملتی ہے لیکن وہاں مصنف کا مقصد تاریخ کو مسخ کرنا نہیں ہے بلکہ وہ ناول میں افسانویت کا رنگ وروغن پیدا کرنا  ہے۔

یہ ناول مسلم فاتح ومجاہد کے دور کی اسلامی خلافت کے عروج اور صلیبی جنگوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس ناول میں ایک خاص دور کی عرب تاریخ وتہذیب، اس عہد کے رہن سہن اور آداب واطوار، محلاتی سازشیں اور تاریخ کا رخ موڑ دینے والے دردناک لمحات وغیرہ کی پیشکش ہے۔ اس ناول میں ایسا معنی خیز اور ڈرامائی انداز تخاطب اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے طرزبیان کا سحر قاری کے ذہن پر دیر پارہتا ہے:

’’بادل جب برستا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ اس کی بوندوں سے عدن کی سیپیوں میں موتی جنم پائیںگے یا دمشق کے نرکل میں زہر پروان چڑھے گا۔ وہ برستا اس لئے ہے کہ برسنا اس کی فطرت ہے۔‘‘ (صلاح الدین ایوبی،ص۔۱۱۰)

’’کاغذ کا وہ پرزہ جو یورپ کی تاریخ میں ایک نیاباب کھولنے کے لئے دمشق آیا تھا، لاعلم قدموں کے نیچے کچل کرمرگیا۔ جیسے قومیں تاریخ کے قدموں سے کچل کر مرجاتی ہیں۔‘‘  (صلاح الدین ایوبی،ص۔۱۹۲)

قاضی عبدالستار کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس کمی کو پوری کی ہے جسے تاریخی ناولوں میں شدت سے محسوس کی جارہی تھی، یعنی انسانی تعلقات کے ذریعے ناول میں افسانویت پیدا کرنا۔ متذکرہ ناول میں ملکہ ایلینور اور’’صلاح الدین ایوبی‘‘ کے تعلقات ،مردوزن کے بے محابابیان نے فضا آفرینی اور جذباتی نگار خانہ کا سماں پیدا کردیا ہے۔ایلینور اور سلطان کے مابین گرم جوش تعلقات کی عکاسی ذیل کے اقتباس میں موجود ہے:

’’ملکہ اس کے سیاہ ریشمی بالوں میں اپنی انگلیاں پھیر نے لگی اور وہ اس لذت کو دوام عطا کرنے کے لیے عمر بھر شیروں سے زخمی ہونے کی دعائیں مانگنے لگا۔‘‘  (صلاح الدین ایوبی،ص۔۲۵)

’’مشرق کے افسانوں کی عاشق ملکہ طلوع ہوتے ہوئے مشرق کے سب سے بڑے سلطان کی بے پناہ دلکشی سے مسحور ہوچکی تھی،اس نے ہاتھ بڑھایا اور ملکہ ٹوٹ کر اس کے آغوش میں آگئی۔‘‘  (صلاح الدین ایوبی، ص۔۲۷)

قاضی عبدالستار نے ڈرامائی انداز تخاطب کو فن عروج تک پہنچا دیا ہے۔ انھوں نے جس بصیرت کے ساتھ لمحۂ وصال کا بیان کیا ہے اسی بصیرت کے ساتھ ہجر کی کیفیت کی ترجمانی بھی کی ہے۔ جب ایلینور پر سلطان کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے، تو وہ اس سے قبل کہ اوروں پر یہ راز افشاہوجائے،سلطان کو واپس ہوجانے کا مشورہ دیتی ہے، ان دونوں کے بیچ ہوئی طویل گفتگو کو اردو کے ڈرامائی ادب کا شاہکار کہا جاسکتا ہے:

’’ہاں ہماری دعا ہے کہ تم صحیح سلامت دمشق پہنچ جائو اور کسی آہو چشم غازی بنت عمم سے شادی کر ،لڑکے پیدا کرو اور بوڑھے ہوجائو اور قصر دمشق کے خنک دالانوں میں مودب بیٹھے ہوئے پوتوں،نواسوں سے جب دوسری صلیبی لڑائی میں اپنے کارنامے بیان کرو تو تمہاری آواز رندھ جائے، تمہاری آنکھیں بھیگ جائیں اور تم طلائی کام سے مزین آستینوں سے آنسو پونچھ کر اٹھ جائو اور شہتوت کی چھائوں اور گلاب کی جھاڑیوں کی آڑ میں بچھی ہوئی سنگ سماق کی کرسی پر بیٹھ کر روتے رہو، اور جب تمہارے بے گناہ خادم نارگیلی اور نبیزے لے کر حاضر ہوں تو تم ان پر برس پڑو اور تمہاری تنہائی کی حفاظت پر زریں کمر خواجہ سراہلالی تلواریں علم کرکے کھڑی ہوجائیں۔‘‘  ( صلاح الدین ایوبی،ص۔۴۶)

مصنف جس عہد یا تاریخ کو اپنا موضوع بناتا ہے اور جن مسائل کی ترجمانی کرتا ہے اس کے اس عمل میں اس کے اپنے عہد کے فکری اور جذباتی تقاضے کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ مصنف کا اپنا عہد اس سوال کا جواب دینے میں مدد کرتا ہے کہ اس نے کسی مخصوص دورکا انتخاب کیوں کیا۔بظاہر’’صلاح الدین ایوبی‘‘ دمشق کے سیاسی،تاریخی اور تہذیبی فضا اور صلیبی جنگ وجدل کا ترجمان ہے،لیکن اس معرکہ آرائی میں عصر حاضر کے فکری تقاضے بھی پنہاں ہیں، اس ناول میں ایک جگہ بڑے پادری اپنی قوم سے خطاب کرتا ہے، جسے ہم کسی بھی ملک میں سابق حکمرانوں کے طور پر رہنے والے اقلیتی مسلمانوں کے خلاف فکری عمل کا عکاس بھی کہہ سکتے ہیں:

’’ہم کو یاد رکھنا چاہئے کہ یروشلم کی مسیحی سلطنت کی آدھی آبادی اب بھی مسلمان ہے، اور یہ وہ مسلمان ہیں جن کے اجداد نے یہاں صدیوں تک حکومت کی ہے۔۔۔اگران کے ذہن سے ان کے شاندار ماضی کو فراموش نہ کیا گیا تو یادرکھوکہ پڑوسی مسلمان حکومتوں کی مددپاکر یہ تمہیں بحریہ روم میں غرق کردیںگے۔۔۔بچی کچھی آبادی کو اپنی حقیر خدمت میں قبول کرکے ان کی خوداعتماعی کو اس حدتک کچل دینا چاہئے کہ وہ اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ ہوجائیں۔‘‘  (صلاح الدین ایوبی،ص۔۶۳)

قاضی عبدالستار نے تاریخی حقائق سے منہ نہیں موڑا ہے بلکہ ان حقائق کی روشنی میںموجودہ صورت حال کو ٹٹولنے کی کوشش کی ہے، جودونوں ادوار میں یکساں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے صلاح الدین ایوبی کے عہد اور صلیبی جنگ کے پس پردہ موجود عہد میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے پیدا شدہ اثرات کی بہترین عکاسی کی ہے۔ ناول میں مذکورہ عہد کی المنا کی کو دیکھ کردل کانپ اٹھتا ہے کہ کس قدر محکوم قوم، حکمراں طبقے کی وحشیانہ یلغار سے مجروح ہوجاتی ہے اور امن وآشتی کے لیے کس حدتک گرجاتی ہے۔اس صورت حال کا قہرزمانہ قدیم ہی میں نہیں زمانۂ حال میں بھی برپا ہے:

’’قرآن مجید کی قسم میری گھر میں ایک بیٹی ہے جسے میں نے مقدس باپ کی خدمت کے لئے بھیج دیا ہے، یہ تو اس دن سے روئے جاتا ہے، جس دن سے اس کا باپ آقا کے بیٹے کے سچے خادم سے گستاخی کے جرم میں قتل ہوا ہے یہ یوں بھی میرے پاس رہتا ہے، آپ سکینہ کے ساتھ آرام کریں۔‘‘  (صلاح الدین ایوبی،ص۔۴۹)

’’ایک کمسن لڑکی حریرکی چادر پرستر پوشی کی تہمت لگائے کھڑی تھی۔کمرمیں بندھی ہوئی رسی ایک دلال کے ہاتھ میں تھی، اور وہ ننگی آواز میں چلارہا تھا۔ صاحبان ہارون الرشید کے بغداد کا سورج ہے ۔صاحبان یہ وہ چیز ہے جس پر سوسودربانوں کی تلواریں پہرہ دیا کرتی ہیں۔۔۔صاحبان یہ قاہرہ کے امیرالمومنین کا لخت جگر ہے۔۔۔اور صاحبان اس کے دام ہیں پانچ دینار۔۔۔پانچ دینار۔‘‘(صلاح الدین ایوبی،ص۔۸۵)

متذکرہ بالاصورت حال دمشق کے باہر کی ہے،جہاں عیسائی فاتحین مسلم آبادی پر دل دہلادینے والے مظالم ڈھار ہے تھے۔مکانوں اور بازاروں کولوٹ لیتے اور جلاڈالتے تھے، خوبصورت عورتوں اور لڑکیوں کو اپنی عیاشی کے لیے قید کرلیتے تھے۔ مصنف جب یہ حالات بیان کرتا ہے تو لگتا ہے کہ وہ اپنے عہد کا مرثبہ یا شہر آشوب لکھ رہا ہے۔مختصر یہ کہ صلاح الدین ایوبی، صلیبی جنگ وجدال کے زمانے کا ایک حسین مرقع ہے۔ یہ ناول اپنے عہد کی نہ صرف تاریخ اور طرز معاشرت کی جیتی جاگتی تصویر ہے بلکہ اسلامی فاتح ومحا فظ دین صلاح الدین ایوبی کے طرز فکر اور عملی زندگی کا آئینہ بھی ہے۔

غالب

ناول ’غالب‘ (۱۹۸۶ئ) عظیم شاعر اور مغلیہ تہذیب وتمدن کے پروردہ مرزا غالبؔ کے حالات زندگی، قسمت کی ستم ظریفی، مالی تنگی اور تہذیبی واخلاقی زوال کا موثر احاطہ کرتا ہے۔ قاضی صاحب کی فن کاری یہ ہے کہ انہوں نے مذکورہ عہد کے نشیب وفراز کا تجزیہ مرزا غالب کی نظرسے کیا ہے۔مغلیہ سلطنت نے سینکڑوں برس سے جس تہذیب وثقافت کو اپنے خون جگر سے سینچا تھا، اب وہ مغربی نظام کی آمد کے بعد روبہ زوال تھی۔ درخشاں تہذیب سسک رہی تھی، اخلاقی قدریں پستی کی طرف مائل تھیں۔سیاسی جاہ وجلال فرنگیوں کے گھروں کی لونڈی ہو چکا تھا۔غرضیکہ مغلیہ عہد کا سماج اب اقدار کی ہر سطح پر زوال آمادہ تھا۔ مذکورہ ناول میں مغلیہ سلطنت کے زوال، مرزا غالب کے معاشقے، ان کی شاعری، ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے خوں ریز واقعات اور انگریزوں کی حکمرانی وغیرہ کی عکاسی کی گئی ہے۔غالب،جو مغلیہ تہذیب وتمدن کا پروردہ اور تباہی ِدہلی کا چشم دیدگواہ ہے،ماضی اور حال کے لرزہ خیز اور عبرت ناک حادثات کا احتساب کرتا ہے۔غالب کے حال کی بیزاری،ماضی میں پناہ لیتی ہے اور فلیش بیک کے ذریعے ناول کا پلاٹ اختتام کو پہنچتا ہے۔’غالب‘ کے پلاٹ کو چار ابواب میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے میں دلی کی تباہی، رنگون میں قید بہادرشاہ ظفر کی وفات، غالب کا انتظارِ مرگ، اور فلیش بیک کی شکل میں غالب اور چغتائی بیگم کی ملاقات اور ولی عہد کے خلد آشیاں ہونے کا تذکرہ ہے۔دوسرے باب میں غالب فلیش بیک کے ذریعے اپنی زندگی کی پرتیں کھولتے ہیں،جہاں سے ایک توانا اور نوجوان غالب صفحۂ قرطاس پر آتا ہے، اور ترک بیگم کے ساتھ اس کے معاشقے کی داستان ظہور پذیر ہوتی ہے۔ترک بیگم کی بدنامی اور خودکشی کے بعد غالب پر آلام کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔عین وقت پر چغتائی بیگم ٹوٹے ہوئے غالب کا سہارا بنتی ہے۔ اس طرح پلاٹ کا دوسرا باب واقعاتی ترتیب کے اعتبار سے پہلے باب میں ضم ہوجاتا ہے۔تیسرے باب کا آغازاکبر شاہ ثانی کی وفات اور بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی سے ہوتا ہے جس کا کینوس ۱۸۵۷ء کے انقلاب سے قبل تک پھیلا ہوا ہے جس میں غالب اور ہم عصر شعرا کی چشمک بھی نمایاں ہے۔ چوتھے باب میں ۱۸۵۷ء کے انقلاب سے قبل کی صورتِ حال کا بیان ہے۔ جس میں غالب اور ہم عصر شعرا کی چشمک بھی نمایاں ہے۔علاوہ ازیں ۱۸۵۷ء کے ناکام انقلاب کی پیش کش کی گئی ہے۔ جسے انگریز غدر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔غدر کے بعد انگریزوں کا ہندستان پر تسلط، سکھوں کی مدد سے انگریزوں کا دہلی والوں سے شدید انتقام،ہندوستانیوں میں حاکم اور محکوم کے نظریات اور حالات سے سمجھوتا کرنے کا تصورابھر کر سامنے آتا ہے۔

غالب اس ناول کا ہیرو ہے،جس کی شخصیت کے دورخ ابھر کرسامنے آتے ہیں۔ اول وہ جو انتہائی دور اندیش،حکیمانہ نگاہ کا مالک اور بلند پائے کا شاعر ہے۔دوم وہ ایک حسن پرست، مئے نوش، عیش پرست، بے حس،بے عمل اور خود غرض انسان ہے۔ جس کے یہاں محبت ودردمندی کا نہ تو احترام ہے اور نہ ہی تغیر پذیر سیاسی ومعاشرتی حالات سے کوئی تعلق نظر آتا ہے۔ناول کا بیشتر حصہ غالب کے معاشقے، مئے نوشی اور مالی تنگی پر مبنی ہے۔قاضی صاحب نے غالب کو ترک بیگم نامی ایک بیوہ سے عشق فرماتے ہوئے دکھایا ہے۔اس ناول سے قبل منٹوجیسے صاحب قلم نے ایک کہانی لکھی تھی جس پر مرزا غالب نام کی فلم بنی۔اس فلم میں منٹو نے غالب کو ایک ڈومنی کے ساتھ عشق کرتے دکھایا ہے۔اس کی تاریخی صداقت پر قاضی صاحب کا سخت اعتراض ہے۔ بقول قاضی عبدالستار:

’’غالب مغل تہذیب کا فرزندجلیل ہے جس کے آستینوں سے اس تھکے ہوئے زرنگار کلچر کا پسینہ بہہ رہا ہے، جو شاعر ہے، نثر نگار ہے، شرابی ہے، جواری ہے، گنہہ گارہے، صوفی ہے، موحد ہے، شیعہ ہے، سنی ہے، کافر ہے، عالم ہے، ہنسوڑ ہے، نواب ہے،عاشق ہے، خود غرض ہے۔۔۔ وہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اپنے ہم چشموں کی صحبت میں ایک ڈومنی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر نہیں آسکتا کہ یہ اس کی تہذیب کی شریعت کا سب سے بڑا کفر ہے۔‘‘  (غالب،قاضی عبدالستار،ص۔۸)

قاضی صاحب نے ترک بیگم کا کردار پیش کرکے ناول میں افسانوی ہیجان پیدا کردیا ہے۔ترک بیگم کا تعلق ایک رئیس خاندان سے تھا۔ وہ آغاسرورجان کے بڑے بیٹے تیمور جان مرہٹہ فوج کے ایرانی رسالہ دار کی منکوحہ تھی۔جوالور کی لڑائی میں مارے گئے۔تب سے ترک بیگم بیوگی کی زندگی بسر کرنے لگیں۔کمسن ترک بیگم ایک شاعرہ تھیں،جواپنے اشعار کی تصحیح کرانے مر زاغالب کے پاس آتی تھیں۔اسی رسم وراہ میں غالب کا معاشقہ پروان چڑھا۔ اس کی پیش کش کافی دلچسپ اور حقیقی معلوم ہوتی ہے اگرچہ اس کردار کے حقیقی ہونے میں قاضی صاحب کوکوئی شک نہیں ہے۔ناول میں ترک بیگم کے کردار کو شدت سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ترک بیگم رئوسا طبقے کے رکھ رکھائو کے ساتھ منظر عام پر آتی ہے۔ ترک بیگم کے کردار میں کہیں بے بسی نظر آتی ہے تو کہیں افسردگی، کہیں سراسیمگی تو کہیں جاہ وجمال، علاوہ اس کے راہ عشق میں قربان ہونے کا جذبہ ہے تو بدنامی کے عتاب کی وحشت بھی ہے۔غالب ایک موقع پر ترک بیگم سے شادی کی تجویز رکھتے ہیں تو وہ جواب دیتی ہے جس میں ایک عورت کی بے بسی اور طبقاتی طرز زندگی کی نمایاں ترجمانی ملتی ہے۔ ترک بیگم کے تئیں غالب کی چاہت عجیب وغریب تھی۔ انہوں نے ترک بیگم سے تنہائی میں ملنے کا ارادہ کیا۔ درشن سنگھ جیسے دوست کی مدد سے یہ موقع آگرہ میں نصیب ہوا۔ اس دوران غالب کے شب وروز کچھ اس طرح گزرے جو صدیوں پر بھاری تھے۔ ترک بیگم اپنے خاندان کی عزت کے لیے بہت فکر مندہوئی کہ کہیں یہ راز لوگوں کے درمیان افشانہ ہوجائے۔غالب نے اس کے قہرباراند یشوں پر اعتماد اور تسلی کی کلغی کردی۔ حواس کے بحال ہوتے ہی ارمانوں کے دیے جل اٹھے۔خیالوں کی دنیا آباد ہوگئی اور پھر سسکتی آرزوئیں ہمیشہ کے لیے بے نیام ہوگئیں:

’’دولا نبی چوڑی مضبوط بانہوں نے ساری سموچی بیگم کو سمیٹ کر اٹھا لیا اور سارے بدن پر بوسوں کی اتنی بارش ہوئی کہ وہ نڈھال ہوگئیں۔‘‘  (غالب،ص۔۵۱)

قاضی صاحب نے غالب اور ترک بیگم کے جسمانی رشتے کو خوب پروان چڑھایا۔ آگرہ میں قیام کے دوران غالب کو جو موقع نصیب ہوا،وہ اس کے پل پل کو نچوڑ لینا چاہتے تھے۔ ترک بیگم بھی اپنے حسن وجمال کی نعمتیں نچھاور کررہی تھیں۔ انجام سے بے خبر نابغۂ روزگار محو پرواز تھے کہ جدائی مقدر بن گئی اور ایسی جدائی جس کا وصال کم از کم دنیائے فانی میں ممکن نہ ہوسکا۔غالبؔ کو جب یہ اطلاع ملی کہ ترک بیگم نے اس حقیر دنیا سے منہ پھیر لیا ہے، انہیں اپنا وجود اجنبی لگنے لگا۔ ترک بیگم کی موت کا غالبؔ پر بہت گہرا اثر ہوا، کیوں کہ وہ اس انجام کا ذمہ دار خود کو مانتے تھے۔دل فگار غالبؔ لاکھ کوششوں کے باوجود اس اذیت سے برآور نہیں ہوپارہا تھا کہ چغتائی بیگم مرہم بن کر رونماہوگئیں۔غالبؔ کا اب نہ صرف وقت حسب معمول پر آگیا بلکہ قدیم رنگ وروغن سے آزادہو کر چغتائی بیگم کے حسن الفت میں پناہ لی۔ چغتائی بیگم نے غالب ؔکی خوب مسیحائی کی اور رگ رگ میں پیوست ان کی محرومی کو بے اثر کردیا۔غالب نے جب چغتائی بیگم سے کہا کہ ان کے خانۂ دل کے کسی گوشے میں اس کا نام بھی کندہ ہے تو وہ حیرت واستعجاب کے ساتھ شکوہ گوہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے غالبؔ پراپنی عناتیوں کا دریا بہادیا:

’’اس نے ہاتھ بڑھا کر چغتائی بیگم کو توڑلیا۔۔۔۔۔ایک اکیلی شراب کی بیچاری خوشبوان کی تیز خوشبوئوں کے نیچے کچل کر رہ گئی۔ دامن پر گلستا ںکے گلستاں کھل گئے۔ باہوں میں کہکشاں کی کہکشاں چرمراکررہ گئی۔‘‘  (غالب،ص۔۱۱۷)

ناول میں چغتائی بیگم کا کردار انتہائی توانا، خوددار، غمگسار اور جذبۂ ایثار وقربانی سے معمور فرد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ چغتائی بیگم،غالب کی نہ صرف عزت کرتی ہے بلکہ وہ مغلیہ جاہ وجلال کو غالب کے عشق پر قربان کردیتی ہے۔ وہ رقص سلطانی جس کے دیدار کے لیے رئوسا، امرااور مغل چشم وچراغ ہمیشہ منت کش رہے مگر انہیں یہ حسین موقع کبھی نصیب نہیں ہوا لیکن غالبؔ دربار چغتائی کی ہر نعمت سے فیض یاب رہے۔قاضی صاحب نے ذیل کے اقتباس میں رقص سلطانی کو کچھ یوں قلم بند کیا ہے:

’’پردہ اٹھا تو سارے حجاب اٹھ چکے تھے، سارے نقاب گرچکے تھے۔ قدآدم شعلہ ٔبدن پر کسی لباس کا کوئی فانوس نہ تھا۔ سرخ رنگ نے بدن پر ایک خیالی محرم ڈال دی تھی اور برگ انجیرباندھ دیا تھا۔ رنگ کے علاوہ پورے جسم پر اگر کچھ تھا تو گھنگھرو جو اس کی نگاہ کے لمس سے کنمنا نے لگے چھنکنے لگے۔۔۔اس کی آواز غنا کے سواجو کچھ تھا ہیچ تھا اس جلوۂ عریاں کے علاوہ جو کچھ تھا عدم تھا۔‘‘۳۳؎

(غالب،ص۔۱۶۵)

چغتائی بیگم ایک رنڈی کی بیٹی تھی لیکن اس کے اندر ایک مغل شہزادے کا خون دوڑ رہا تھا۔اس کے طرز زندگی اور افکار واقوال میں پختگی اور خود اعتمادی اسی خون کی بدولت تھی۔ چغتائی بیگم کی ماں قتلق جان نے اپنے نکاح کو شہرت اس لیے نہیں دی کہ دنیا کے سامنے مغل شہزادے کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ شہزادے کو ایسے طنزکا سامنا نہیں کرنا پڑے کہ مغل کی منکوحہ فلاں کی گود میں بیٹھی ہے یا پھر مغل کا باورچی خانہ ایک رنڈی کے گھنگھروئوں کی جھنکار پر آباد ہے۔ بلکہ اس نے نکاح کے بعد گمنامی کی زندگی کو ترجیح دی۔ ایک طوائف کے لیے کسی مغل شہنشاہ کے ذریعے شادی کے پیغام کو ٹھکرانا آسان بات نہیں،چغتائی بیگم کے لیے ایسا اس لیے ممکن ہوسکا کہ اس کی رگ وپے میں وہی جبروت وجلال موجزن تھا جو مغلوں کے لیے باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔

ناول میں غالب کے معاشقے کے علاوہ جس پہلو کو اہمیت دی گئی ہے وہ ہے غالب کے مالی تنگی اور یکے بعد دیگر ے دل آزار مصائب سے ان کا دوچار ہونا۔غالب شراب اور کباب کے بہت شوقین تھے۔ اگرچہ پیسے نہیں ہوتے تھے پھر بھی وہ قرض لے کر پیتے تھے۔ جب غالب اپنے خسرنواب الٰہی بخش خاں والی لوہارو وفیروز پور جھر کہ کے پاس اپنے پنشن کی بابت تشریف لے گئے محل میں قدم رکھتے ہی اطلاع ملی کہ سرکار بیمار ہیں۔صورت حال یہ تھی کہ غالبؔ جس مقصد سے آئے تھے اس کا پورا ہونا دور ملاقات کی صورت بھی معدوم نظر آئی۔پھر بھی نوشے میاں نے عیادت کی غرض سے محل کی سیڑھیوں پرقدم ہی رکھا تھا کہ نواب زادے شمس الدین خاں،غالبؔ پر برس پڑے۔غالبؔ نواب زادے کے اس سلوک سے شرمسار ہوگئے۔صورت حال یہ تھی کہ وہ اپنوں کے بیچ بھی گراں بارہوگئے تھے۔ آخرکار نواب الٰہی بخش بیماری کی تاب نہیں لاسکے اورانھوں نے ہمیشہ کے لیے  دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔غالبؔ کی گھریلوتنگ دستی ویسی کی ویسی ہی بنی رہی بلکہ اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ناچار ہوکر بیوی نے ایک خط لکھ کر اپنے چچا نواب احمد بخش کے پاس روانہ کیا۔لوہاروپہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ دلی کے ریزیڈنٹ مٹکاف صاحب بہادر بھرت پور کے فوجی انتظام میں مصروف ہیں جہاں نواب احمد بخش،ریزیڈنٹ کی خاطر داری میں مبتلا ہیں۔ لیکن نواب نے ریزیڈنٹ سے غالب کی ملاقات کرانے کی زحمت نہیں کی۔آخرکار غالبؔ نے کلکتہ کا تاریخی سفر کیا۔دوران سفر غالب لکھنؤ، الہ آباد اور بنارس میں مقیم ہوئے۔قاضی صاحب نے غالب کے دوران اقامت اودھ کی تہذیب وتمدن کا بہترین خاکہ کھینچا ہے۔ کلکتہ پہنچ کر غالب نے پہلی بار سمندر دیکھا، انگریزی قوت کے اصل راز سے روشناس ہوئے اور ان پر یہ احساس قوی غالب ہوا کہ:

’’کلکتہ ایک شہر نہیں ایک حاکم ہے،جو پورے ہندوستان پر حکومت کررہا ہے، فورٹ ولیم کالج نظم ونثر کے نئے میزان نصب کررہا ہے۔۔۔حکومت کی مشین کے پرزے ڈھال رہا ہے اور قلم بنارہا ہے۔ہماری پوری تاریخ تلوار پر بھروسے کی کہانی ہے۔۔۔قلم کی غلامی کی کہانی ہے۔ہم کو یہ یادرہا کہ تلوار کی کاٹ صرف جسم تک محدود ہے۔یہ بھول گئے اور بھول کیا گیے یہ معلوم ہی کب تھا کہ قلم کی مارنسلوں اور پشتوں تک کی حدود سے گزرجاتی ہے۔‘‘  (غالب،ص۔۱۰۹)

                قاضی صاحب نے مذکورہ عہد کے مشاعروں کا بھی ذکر کیا ہے۔شعرائے کرام کے درمیان شاعرانہ چشمک کو بھی بے باکی سے اجاگر کیا ہے۔ دربار سے وابستہ شعراجب غالب کی تضحیک کرتے تو وہ اپنے معترضین کی اپنے جملوں کی دھار سے خوب خاطر کرتے تھے:

’’مغل جو توں کی خاک چاٹنے والے، مرہٹوں کے گھوڑے ٹہلانے والے اور انگریزوں کے سور چرانے والے ہمارے فن شریف کے منہ آتے ہیں۔‘‘  (غالب،ص۔۱۳۰)

’’کمال صدقہ مانگتا ہے۔میرے حاسدوں نے مجھ پر جو تہمتیں باندھی ہیں، جو الزامات لگائے ہیں اور بدنامی ورسوائی کا جو سامان کیا ہے وہ میرے کمال کا صدقہ ہے۔میری شہرت کی زکوٰۃ ہے۔‘‘  (غالب،ص۔۱۳۷)

’’گالی۔۔۔ہم شاہان قلم کا وہ مزاج ہے جو کم نام اور گمنام اور گمنام پیشہ ورحرف نویس ہمارے حضور میں گذارتے ہیں۔خدا کی قسم گالیاں ہمارے حاسدوں کی بیٹیاں ہیں جو ہمارے تصرف میں رہتی ہیں۔۔۔عزیزو گلاب کی خوشبوپر کوے تقریریں کرتے ہیں۔ہرزمانے میں چمگادڑوں نے جگنوئوں پر تنقید کی ہے۔جگنوئوں نے آفتابوں کی روشنی پر تنقیص لکھی ہے۔بوڑھی عورتوں نے سوت کی اٹی پر یوسفوں کا سودا کیا ہے۔ ہمیشہ سے ہوتا آتا ہے یہ ہمیشہ ہوتا رہے گا۔(غالب،ص۔۵۶۔۲۵۵)

قاضی صاحب نے ناول میں جن نکات کا احاطہ کیا ہے ان میں سب سے اہم مغلیہ سلطنت کا سیاسی،تہذیبی،فکری،اخلاقی اور معاشرتی زوال ہے۔جیسا کہ اورپرذکر کیا جاچکا ہے کہ قاضی صاحب نے مذکورہ عہد کو غالب کے نقطۂ نظر سے دیکھا، پرکھا اور پیش کیا ہے۔اگرچہ عصری تجزیے میں بعض اوقات قاضی صاحب خود خطیب نظر آتے ہیں۔دہلی کی تباہی کے بیان میں قاضی صاحب نے ان تاریخی نکات کا بھی احاطہ کیا ہے جن کی بدولت دہلی روبہ زوال ہوئی۔مغلیہ سلطنت کی وہ تابناک تاریخ وتہذیب جسے اکبر نے اپنی فہم وفراست اور عمل پیہم سے سینچا تھا، اور نگ زیب کی وفات کے بعد بے یارو مددگار ہوگئی۔نااہل اور عیش پسند شہزادوں نے مغلیہ جبروت کو طوائفوں کے گھنگھروئوں کی نذرکردیا۔ نادرشاہ کے حملے نے اس زوال آمادہ تہدیب کو پوری طرح بے نقاب کردیا۔ تخت نشینوں کی نااہلی،بداعمال وزیروں کی نمک حرامی اور بدکردار امیروں کی غداری نے مغل تخت وتاج کو انگریزوں کے سرپرمزین کردیا۔

قاضی عبدالستار نے ۱۸۵۷ء کے انقلاب کو اس ناول میں خصوصی اہمیت دی ہے۔انہوں نے اس عظیم تاریخی سانحے کو نہ صرف حقائق کی روشنی میں بلکہ اسے مرزا غالب کی نظر سے بھی دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ کئی مقام پرقاضی صاحب اور غالب کے افکارو نظریات آپس میں شیرو شکرہوگئے ہیں۔ذیل کا ایک جملہ ہی اس انقلاب کو غدر کے ضمن میں لاکھڑا کردیتا ہے۔غالب بھی انگریزوں کی طرح ہی اس انقلاب کو ایک غدر تصور کرتے تھے۔ ان کے مطابق میرٹھ کی چھائونی سے وہ آندھی اٹھی کہ دلی بے چراغ ہوگئی۔ غالبؔ اس تاریخی واقعے کو محض ایک وقتی ابال سمجھتے تھے۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ باغیوں میں وہ قوت نہیں جو انگریزی سامراج کا مقابلہ کرسکیں اور مغل شہنشاہوں میں بھی یہ قوت نہیں کہ وہ باغیوں کی مضبوط قیادت کرسکیں۔غالب کے مطابق اس سانحے کے انجام کی واقفیت کے لیے کسی تاریخی بصیرت کی ضرورت نہیں بلکہ عام شخص کے لئے بھی قابل قیاس ہے:

’’بیاسی سال کا بڈھا نہ شیردکن ٹیپو سلطان ہے نہ گھاگھ پیشوا۔پھران کا جو حشر ہوا انھیں جاننے کے لیے کسی تاریخی بصیرت کی ضرورت ہے؟‘‘  (غالب،ص۔۱۸۹)

قاضی صاحب نے باغیوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ان باغیوں نے انقلاب کے نام پر لوٹ پاٹ شروع کردی، انگریزوں کی تلاش میں جگہ بہ جگہ اور عام گھروں میں تلاشی لیتے اور جو قیمتی سامان ہاتھ لگتا، اسے اٹھالے جاتے۔یہاں تک کہ عورتوں کی عصمت بھی ان سے محفوظ نہیں رہی:

’’فرنگیوں کو ڈھونڈھنے کے بہانے گھروں میں گھس آتے ہیں جو ہاتھ لگتا ہے لوٹ لے جاتے ہیں۔۔۔جتنی نامی گرامی ناچنے والیاں تھیں قلعے میں اٹھوالی گئیں۔اچھی صورت والیوں کے یہاں پوربیوں کے پڑائو پڑے ہیں۔‘‘  (غالب،ص۔۹۶۔۱۹۵)

ناول میں غالبؔ کو مغلیہ حکومت کا کھلا معترض دکھا یا گیا ہے۔غالب کا یہ ماننا تھا کہ برسوں سے جوقوم حکومت کرتی آرہی ہے اب اس میں قوت اور فراست باقی نہیں رہی کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کرسکے۔کسی قوم کے زوال میں حکمراں طبقے کی نااہلی،بدعملی اور پست کرداری کا بڑا رول ہوتا ہے اور اس زوال کو فروغ دینے میں قوم کے غداروں اور چاپلوسوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی:

’’اب یہ قوم جس کا نام مسلمان ہے حکومت کے قابل نہیں رہی۔پوری انسانیت کے ساتھ ظلم ہوجائے گا اگر اس قوم کو حکومت سونپ دی گئی۔جس قوم کے حاکم حکم بیچنے لگیں،عالم علم فروخت کرنے لگیں اور منصف ذاتی منفعت کے ترازو پر فیصلے تولنے لگیں،اس کا مقدر ہے غلامی، اس کا نصیب ہے محکومی۔‘‘   (غالب،ص۔۲۲۰)

پھروہ ہولناک وقت آگیا جس کے فقط احساس سے روح تڑپ اٹھتی ہے یعنی عام لوگوں پر انگریزوں کا قہر۔دہلی پر انگریزوں کا قابض ہونا یقینی تھا لیکن مغلیہ سلطنت کے غداروں نے اس کام کو اور آسان بنادیا۔انگریزوں کا دہلی پر قبضہ ہونا تھا کہ چاروں طرف بدامنی پھیل گئی۔گاجرمولی کی طرح لوگ قتل کیے جانے لگے۔سڑکوں پر عام لوگوں کو پھانسی دی گئی،چاروں طرف افراتفری کا عالم تھا یہاں تک کہ عورتیں بھی محفوظ نہیں تھیں:

’’فیض بازار میں عورتوں کی اجتماعی آبروریزی کی خبروں نے شریفوں کو بے حواس کردیا ہے اور اکثر گھرانوں کے مردوں نے اپنے ہاتھ سے اپنی عورتوں کو قتل کرکے کنویں میں ڈال دیا ہے۔‘‘  (غالب،ص۔۲۳۰ )

’’تھانے سے باہر نکل کر نگاہ اٹھائی تو نگاہ روپڑی۔ڈیوڑھیاں ٹوٹی ہوئی، حویلیاں پھوٹی ہوئی، بازار لٹے ہوئے، راستے اجڑے ہوئے،مکان پھنکے ہوئے۔وہ شاہجہاں آباد کے محلوں سے نہیں خراب آباد کے قبرستانوں سے گزررہا تھا۔‘‘(غالب،ص۔۲۳۹)

غالب کی زندگی سے وابستہ ان تاریخی واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کی اپنی ایک تاریخی اہمیت ہے۔شراب پینا، جواکھیلنا، بالا خانے پر جانا، پنشن کی خاطر کلکتہ کا سفر کرنا، تین ماہ کی قید اور توہین ذات کا مقدمہ کرنا وغیرہ ایسے واقعات ہیں جن سے غالب کے طرززندگی پر خاطر خواہ روشنی پڑتی ہے۔

قاضی عبدالستار ایک صاحب طرز ادیب ہیں۔ان کے بیشتر ناول اور افسانے، اسلوب کے مختلف سانچوں میں ڈھل کر منظر عام پر آتے ہیں۔ناول ’غالب‘ بھی اسلوب کا ایک ایسا سانچہ ہے جو اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔اس ناول میں تخلیقی نثر کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں۔ذیل کے چند اقتباسات میں ان کے بیان کی نیرنگی، ادراک کی جودت،زبان کی شائستگی اور سحرزدہ طرز تحریر کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے:

’’قلم ہمارا کھلونا ہے۔۔۔جس سے ہم اپنے دکھ کو بہلاتے ہیں لیکن تلوار ہماری وراثت بھی ہے اور آبرو بھی۔‘‘

(غالب،ص۔۳۴)

’’رقص کو ناپسند کرنے والا شاعر نہیں ہوسکتا اس لیے کہ رقص موسیقی کے پیٹ سے پیدا ہوا اور موسیقی کے بطن سے شاعری نے جنم لیاہے۔‘‘  (غالب،ص۔۱۳۱)

’’زندہ قومیں اپنے عروج کے لئے افراد کی لاشوں سے زینہ بنالیتی ہیں۔‘‘(غالب،ص۔۱۸۹)

قاضی عبدالستار کو منظر نگاری میں جو عظمت،ثروت اور مقام حاصل ہے۔ سازونادرہی ایسے ادیب ہوںگے جنہیں اس صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے منظر نگاری میں لفظوں سے جو گل بوٹے کھلائے ہیں، بیان کی ندرت سے جو رفعت پیدا کی ہے، یہ انہیں کا حصہ ہے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے اکثرناولوں کا آغاز ایک جاذب،دلچسپ اور پرکشش پیرائے میں تصویر کشی کے ساتھ کرتے ہیں، جس پر محاکات کا گمان ہوتا ہے:

’’جہاں آباد کے خط آسمانی پر شاہجہانی مسجد اپنے میناروں کے عظیم ہاتھ بلند کئے وہ دعامانگ رہی تھی جس پر قبولیت کے تمام دروازے بند ہوچکے تھے۔ مغرب کے نیلے آسمان کی پہنائیوں میں سرخ سورج ایک لہولہان تمدن کی طرح ڈوب چکا تھا۔محلسرائوں کے مرغولوں پر کھڑی ہوئی چھتریوں پر بھولے بھٹکے کبوتر اتررہے تھے جیسے بدنصیب قوموں پر ان کے مسیحااترتے ہیں۔‘‘۵۵؎

(غالب،ص۔۱۲)

قاضی صاحب نے پیکرتراشی میں بھی اپنی زبان دانی کا خوب مظاہرہ کیا ہے۔ترک بیگم ہو یا چغتائی بیگم، جب وہ پیکرتراشی پر آمادہ ہوئے تو انہیں نظروں کے سامنے زندہ لاکر کھڑا کردیا اور جب معاصرمعاشرے کی تصویر کشی کرنی چاہی تو اسے نیرنگی الفاظ کی رنگ آمیزی سے منورکردیا۔موصوف نے ذیل کے اقتباس میں مغل شہنشاہ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ مغلیہ جبروت واضح طور پر بے بس اور بے اثر نظر آتی ہے:

’’سامنے چاندی کے تخت پر ایک بوڑھاہڈیوں کی مالا کسی مقتول بادشاہ کا اترا ہوا تاج پہنے کبڑوں کی طرح بیٹھا تھا اور وہ ایوان جلیل جس کا شمار عجائبات عالم میں ہوا کرتا تھا اس طرح اجڑا کھڑا تھا جیسے کسی ساحر کے طلسم نے کسی شہنشاہ کو برہنہ کردیا ہو۔‘‘

(غالب،ص۔۱۷۰)

قاضی صاحب کے اسلوب بیان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں تشبیہات واستعارات کا برمحل اور موثر استعمال ملتا ہے۔ انہیں محاوراتی زبان کی پیش کش میں بھی دسترس حاصل ہے۔ وہ جس تہذیب کو موضوع بحث بناتے ہیں،اس کی مخصوص زبان اور محاورات کی موزونیت کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ذیل کے اقتباسات سے، تشبیہاتی ،استعاراتی و محاوراتی زبان کے استعمال میں ان کی مہارت دیکھیے:

’’بیگم نے۔۔۔انگڑائی لی تو جیسے کائنات کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔آنکھیں کھولیں تو بڑے بڑے بیضاوی ہونٹوں پر سیاہ ہیرے کی پتلیاں تڑپنے لگیں۔‘‘(غالب،ص۔۶۳)

’’رات بدنصیبی کی طرح دبے پائوں آئی اور چھاگئی۔‘‘(غالب،ص۔۷۲)

متذکرہ ناول کاپلاٹ گوکہ غالب اور ان کے حالات زندگی کے اردو دگھومتا ہے لیکن ساتھ ہی اس عہد کی سیاسی وسماجی اتار چڑھائو بھی نظروں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ناول میں غالب سے متعلق پوری تفصیل پیش کردی گئی،کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ ناول غالب پر تاریخی حیثیت سے نہیں بلکہ سوانحی حیثیت سے لکھا گیا ہے ایسی صورت میں ہم اسے سوانحی ناول کہہ سکتے ہیں، لیکن اس کے پلاٹ میں اتنی گنجائش ہے کہ اسے تاریخی ناولوں کی فہرست میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔

خالدبن ولید

خالد بن ولید کا تعلق قریش خاندان سے تھا۔ ان کی کنیت ابوسلیمان تھی اور خالد سیف اللہ کے نام سے مقبول تھے۔ وہ جب میدان جنگ میں اترتے تو دشمنوں کے پیر ان کے نام کی ہیبت سے ہی لڑکھڑانے لگتے تھے۔ دشمنوں میں یہ قول عام تھا کہ خالد کو خدا کی جانب سے تلوار عطاہوئی ہے۔رسول اکرم رشتے میں ان کے خالو تھے۔آنحضرت نے جب اہل قریش کو خدا کی اطاعت کرنے اور بتوں کو پوجنے سے باز آنے کی ہدایت دی تو وہ حضور کے دشمن ہوگئے اور ان کی مخالفت شروع کردی۔اس وقت دشمن کی صف میں خالدبن ولید بھی شریک تھے۔ وہ جنگ احد میں اسلام دشمن افواج میں پیش پیش تھے جنہوں نے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کرکے بہت نقصان پہنچایاتھا لیکن بہت جلد ہی وہ خدا اور خدا کے رسول پر ایمان لے آئے۔اگرچہ ان کے والد نے اسلام قبول نہیں کیا اور آخروقت تک اسلام دشمنی پر قائم رہے۔خالدؓ کے اسلام قبول کرنے پر حضور کو بہت خوشی ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ خالد اہل قریش میں ایک بااثر شخص تھے۔ لہٰذا تبلیغ اسلام میں خالد کی قوت، ثروت اور حشمت سے کافی مددملی۔حضرت خالدؓ کے اسلام قبول کرنے سے اہل قریش میں کافی تشویش پیدا ہوئی۔ابوسفیان نے یہ خبر ملتے ہی خالدؓ سے رجوع کیا اور سچائی دریافت کی۔خالد نے جذبۂ ایمانی کے ساتھ قبول کیا کہ وہ حضور کے حامی ہیں اور اب وہ اسلام کی صف میں کھڑے ہیں، اس پر ابوسفیان نے خالد پر تلوار تان لی لیکن لوگوں کے بیچ بچائوسے معاملے پر قابو پالیا گیا۔

حضور کے بعدِوصال عرب کے کچھ قبائل نے اسلام سے منحرف ہوکر بغاوت کا پرچم بلند کردیا۔ اس وقت خلافت ابوبکرصدیق کے ہاتھوں میں تھی۔خلیفۂ وقت نے خالدؓ کو اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری سپرد کی۔جنھوں نے اسلام دشمن باغیوں کو بری طرح کچل دیا۔ حضرت ابوبکرؓ کے انتقال کے بعد خلافت کی ذمہ داری حضرت عمرؓ کو ملی۔جنہوں نے خالدؓ کو اسلامی سپہ سالاری سے معزول کردیا۔ حضرت خالدؓ کی وفات ۲۱ھ مطابق ۶۴۲ء میں ہوئی۔ان کا مقبرہ حمص میں ہے جہاں لوگ اب بھی ہزاروں کی تعداد میں زیارت اور فاتحہ پڑھنے کے لیے جاتے ہیں۔خالدؓ کو بسترعلالت پر مرگ ناگہانی کا بہت افسوس تھا۔وہ میدان جنگ میں اسلام کی تبلیغ واشاعت میں شہید ہونا چاہتے تھے۔

یہ ناول حضور کے وصال اور حضرت خالدؓ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل کے واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ناول کا آغاز حضورِ اکرم کے بعد قبائلی سرکشی اور ان پرسیف اللہ کی فتحیابی کے پس منظر میں ہوتا ہے۔ خالدؓ جنگ یمامہ میں طلیحہ، سجاع اور مسلیمہ جیسے جھوٹے نبیوں اور رسولوں کو میدان کا رراز میں دھول چٹاکر یمامہ کی وادیوں میں خیمہ زن تھے کہ دربار خلافت سے خالد کو عراق کی سپہ سالاری کا فرمان ملا۔یہ خبر ملتے ہی پورا لشکر مبارک باد کی تکرار سے گونج اٹھا۔

جبال ابن ثابت (ایک بدو)کے ذریعے کہانی فلیش بیک میں جاتی ہے اور جنگ موتہ اپنے لائو لشکر کے ساتھ منظر عام پر آجاتی ہے۔بدو ،خالدؓ کو یاددلاتا ہے کہ اے بنی مخزوم کے بادشاہ زادے تجھ پر میرا ایک قرض ہے۔جب تو موتہ کی لڑائی میں غنیم کے گھیرے میں مصروف جنگ تھا تو تیری آٹھویں تلوارٹوٹ گئی اور دشمنوں کے نیزے لپکنے لگے۔اس وقت میں نے چیخ کر کہا اے بنی مخزوم کے بادشاہ تلوار سنبھال۔بادشاہ کا نام سنتے ہی دشمنوں کے ہاتھوں میں سکتہ آگیا۔ اور تونے میری یمنی تلوار جو تیرے ہاتھ کی نویں تلوار تھی، سنبھالیا اور دشمنوں کے پیرا کھڑگئے۔اس موقع پر ضرار کی آواز بلند ہوئی:

’’ایک لاکھ دشمنوں میں ہماری تین ہزار تلواریں اس طرح تیررہی تھیں جیسے رومی نیل کے پانیوں پر چراغوں کا تیوہار منا رہے ہوں۔‘‘ (خالدبن ولید،قاضی عبدالستار،ص۔۲۰)

خالدؓ نے جبال بن ثابت سے کہا کہ توسچ کہتا ہے۔تیراحق مجھ پر برحق ہے۔قطار میں کھڑے گھوڑوں میں چار گھوڑے پسند کرلے اور ایک گھوڑے پر جتنی تلواریں لے جاسکتا ہے لے جا۔ بدووہاں سے خوش وخرم اپنی منزل کی جانب واپس ہوجاتا ہے۔یہ واقعہ خالدؓ کی شخصیت کا خاکہ بھی پیش کرتا ہے۔

پلاٹ کے اگلے حصے میں خالدؓ اور ان کے لشکر کا عراق میں نوشیرواں عادل کی سلطنت کبریٰ کے صوبے کبیر پرنزول ہوتاہے۔یہ خبر ملتے ہی شہنشاہ نے اپنے مشہور سپہ سا لار ہرمزؔ کو جو عراق کا گورنرتھا، ستر ہزار رافواج کے ساتھ خالدؓ کے راستے پر چڑھادیا۔حضیر کے مقام پر خالدؓ کے پہنچنے سے قبل ہی ہر مزنے وہاں پہنچ کر اپنی فوج کے ساتھ پانی پر قبضہ کرلیا اور تمام بلند مقامات پر مورچے جمالیے۔پانی پر دشمنوں کا قبضہ دیکھ کر لشکر اسلام میں بے چینی پیدا ہوگئی۔صورت حال کو بھاپنتے ہوئے خالدؓ نے اپنے لشکر سے خطاب کیا۔ خالد کا خطاب ختم ہوتے ہی پورے لشکرمیں جوش وخروش کی لہر دوڑ گئی۔نوجوانوں کے سینوں میں ابلتا ہوا جوش ان کے چہرے سے چھلکنے لگا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے لشکر اسلام پر خدائی رحمت نازل ہوئی۔موسلادھار بارش کے پانی سے نشیب میں جھیل بن گیا۔ خدا کی رحمت نے ہرمز کے ناپاک ارادوں پر پانی پھیردیا۔ جب دونوں فوجیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں تو ہر مزنے خالدؓ سے مبار زِطلبی کی۔خالدؓاور ہرمزکا آمنا سامنا ہوا۔ اس تگ ودو میں ہرمز کاسر جسم سے الگ ہوگیا۔ ایرانی لشکر کو اس جنگ میں شکست نصیب ہوئی۔

حضیر کی فتح کے بعد اسلامی لشکر نائب رسول اللہ کے حکم سے ابلہ کی جانب گامزن ہوا۔دوسری جانب ایرانی فوج قارن کی کمان میں مزار کی طرف بڑھ رہی تھی۔وہ وقت آگیا جب قارن،قباد اور انوشجان کی قیادت میں ایران کی شاہی فوج مجتمع ہو کر خالدؓ کے سامنے آکھڑی ہوئی۔لیکن خالدؓ کی کمان میں اسلامی لشکر نے دشمنوں کے پیراکھاڑدیے۔مزار کی  جنگ نے ایران کی عسکری طاقت کی کمزوری کو اجاگر کردیا۔ شہنشاہ نے اس ہولناک تباہی کے بعد اندر زغرنام کے بوڑھے جنرل کے ہاتھوں میں شاہی افواج کی کمان سونپ دی۔لیکن اس کا بھی انجام حسبِ تو قع ہوا اور اس نے شرم سے خود کشی کرلی۔

ایران کی شاہی فوج جاپان کی قیادت میں الیس میں مجتمع ہوئی اور عیسائی عرب عبدالا سود عجلی کی کمان میں تھے۔عجلی نے جاپان سے یہ درخواست کی کہ دونوں فوجیں یکجا ہو کر لشکر اسلام پر حملہ کریں۔لیکن جاپان صرف دماغی جنگ لڑنے پر قائم رہا۔ نتیجتاً ہزاروں لاشوں کے نذرانے کے ساتھ الیس جنرل خالدؓ کے قدموں میں پڑارحم وکرم کا خواستگا رتھا۔ اس طرح خالد نے امفیشیا،قصر البیض،قصر العدسین،جیرہ جیسی ریا ستوں کو جو پرچم اسلام کے دائرے سے باہر تھیں، یکے بعد دیگرے فتح کرلیا۔ الحیرہ سے عہد نامہ پر وستخط ہوتے ہی قرب وجوار خصوصاً باروسمافلا لیچ، ہزین، تستر، روزستان اور ہرمزجیسے مشہور مقامات کے امرا اپنے علاقوں کے لیے عہد نامے وصول کرنے لگے۔اس طرح سے عراق میں سیف اللہ نے ایک سلطنت قائم کرلی۔اگرچہ جگہ بہ جگہ انہیں مقامی بغاوت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔خالدؓ کی فتح کا سلسلہ جاری رہا۔عین التمر کا قلعہ جو ایک شہر تھا اور اپنے اندر بیس ہزار کی آبادی سمیٹے ہوئے تھا، سیف اللہ کی شمشیر کی تاب نہ لاسکا۔اس یلغار کی شدت تین سوکوس پر واقع دومتہ الجندل پر بھی محسوس کی گئی۔دھیرے دھیرے الا بلہ سے الفراض تک پورا عراق سیف اللہ کے زیرنگو ںہوگیا۔اسی دوران سیف اللہ نے حج بیت اللہ کا ارادہ کیا۔حج کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی جنرل نے ہزاروں میل دور کے محاذجنگ سے اٹھ کرحج ادا کی ہو اور کسی کوخبر ہونے سے قبل ہی مقام پر قائم ہوگیاہو۔

عراق کی فتح کے بعد، دربار خلافت سے حکم ہوا کہ سیف اللہ سلطنت شام کے مغرورسلطان ہر قل اعظم پر قہرالہٰی بن کر ٹوٹیں۔حکم نامہ موصول ہوتے ہی سیف اللہ آنا فانا تیار ہوئے اور انہوں نے شام کی مہم کو سرکرنے کے لیے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جس پر سیکڑوں سال کی تاریخ میں کسی شہنشاہ نے چڑھنے کی جرأت نہیں کی۔ یہ راستہ سیکڑوں کوس پر مشتمل تھا، جس میں صرف ایک مقام پر پانی ملنے کی امیدتھی اور آدھا راستہ اتنا تنگ تھا کہ ایک وقت میں صرف ایک سوار گزر سکتا تھا۔لیکن سیف اللہ نے خدا کا نام لے کر رافع نامی شخص کی رہبری میں یہ مشکل ترین مرحلہ طے کرلیا اور دشمنوں کو اپنے اس عمل سے حیرت واستعجاب میں ڈال دیا۔دیکھتے ہی دیکھتے سیف اللہ نے سویٰ کے بعد ارگ اور پھر تدمر، فریتین اور حوارین کو روندڈالا۔سلطان شام ہر قل اعظم نے ابھی قصدہی کیا تھا کہ وہ سیف اللہ کو منہ توڑ جواب دے لیکن مخبروں نے قصم کے ہاتھ سے نکل جانے کی خبردی۔سیف اللہ نے قصم کے بعد اس مقام پر اسلامی علم نسب کردیا جہاں غوطہ کا وسیع میدان دامن پھیلائے خالد کا منتظر تھا۔ جہاں سیف اللہ کی جاں سوز اور قہر بار یلغاروں کی بدولت ’’ثنیتہ العقاب‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔سیف اللہ نے مرج الاہط میں عیسائیوں کی تباہی کے بعد بصرہ کے دروازے پر دستک دی۔صلح کی آڑ میں لشکر اسلام کے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمام علاقے اور قبیلے جنہوں نے مزاحمت کا علم بلند کررکھا تھا، عساکر اسلام کے گھوڑوں نے انہیں کچل ڈالا۔پھر وہ وقت آگیا جب دریائے یرموک کا تاریخ ساز معرکہ شمشیر بند کیا جاسکے۔سیف اللہ نے لشکر اسلام کو چالیس دستوں میں تقسیم کیا اور ہر دستے پر ایک سپہ سالار تعینات کیا۔ہر ایک سپہ سالار کو حکم ہوا کہ وہ ہزار سپاہیوں کی کار کردگی کے لیے جوابدہ ہوگا۔سیف اللہ کی اس ترکیب نے پورے لشکر کو شیرو شکر کردیا جس سے جوش واتحاد اور جذبۂ جہاد کی صورت مستحکم ہوگئی:

’’صدیوں کی عربی عصبیت، قبیلائی رقابت اور خاندانی عداوت جس پر ظہور اسلام نے غلاف ڈال دیا تھا لیکن جو تحت الشعور میں ہی موجود تھی زندہ تھی اور نئے نئے بھیس بدلتی تھی اس تدبیر سے اس کا چراغ بجھ گیا۔یرموک کی تاریخ سازجنگ کی فتح کا رازاسی تدبیر میں پوشیدہ تھا۔‘‘  (خالدبن ولید،ص۔۸۹)

پھرعین میدان جنگ میں دربار خلافت سے امین الامت ابوعبیدہ بن الجراح کو پروانہ ملا جس میں خالد بن ولید سے لشکر اسلام کی قیادت چھین لینے اور ابو عبیدہ کو عساکر اسلام کا صدرسپہ سالار مقرر کیے جانے کا حکم تھا۔ امین الامت نے عاجزی کے ساتھ کہا کہ خدا گواہ ہے کہ میں نے اس منصب کی کبھی خواہش نہیں کی، تمام عساکر اسلام میں صرف تمہیں ہی حق پہنچتا ہے کہ اس قیادت عظمیٰ کی پاسداری کرو۔مجھے حکم تھا کہ تمہیں دوران جنگ ہی یہ خط پڑھنے پر مجبورکروں۔خالد کو سپہ سالار اسلام کے منصب سے جس طرح برطرف کیا گیا اور اس موقع پر انہوں نے جس صبروتحمل اور جذبۂ ایمانی کا ثبوت دیا تاریخ میں شاید ہی اس کی کوئی مثال ہو۔

سیف اللہ نے دریافت کیا کہ یاامین الامت میں لشکر اسلام کے کس بازوپرایک سپاہی کی طرح جنگ کروں۔ امین الامت یہ باتیں سن کر بے قرار ہوگئے اور کہا کہ تمھارے مقام کا تعین تو ختم المرسلین نے ہی کردیا ہے۔تم پہلے کی طرح ہی لشکر اسلام کی کمان سنبھالے رہو۔سیف اللہ کے اصرار پر امین الامت نے زوردار لہجے میں کہا کہ میں صدرسپہ سالارکی حیثیت سے تم کو حکم دیتا ہو ں کہ میرے نائب کی حیثیت سے سارے لشکر اسلام کی سپہ سالاری کرو۔ اس طرح سپہ سالار اسلام کے منصب سے برطرفی کے بعد بھی یرموک کی جنگ خالد کی کمان میں لڑی گئی اور لشکر اسلام کو فتح الفتوح نصیب ہوئی۔لیکن دربار خلافت کے اس فیصلے سے لشکر اسلام میں بے چینی پھیل گئی اور مجاہدین اسلام میں رنج وغم کا ماحول پیدا ہوگیا۔

سیف اللہ نے بدلی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے جہاد کا نعرہ دیا اور ایسی کسی بھی چنگاری کو جو بغاوت کو جنم دے سکتی تھی، جذبۂ ایمانی کے آب سے سیراب کردیا۔سیف اللہ نے پہلے دمشق کو اپنی تحویل میں لیا پھر فحل کو تباہ کرکے حمص کارخ کیا۔ دھیرے دھیرے حمص، حاضر، قنسرین، مرعش، الزہاجیسی صلیبی ریاستیں زیر ہوتی گئیں۔پھر سیف اللہ نے ہر قل کو شام سے باہر نکالنے کے لیے قدم بڑھایا اور امین الامت بیت المقدس کی جانب گامزن ہوئے۔بیت المقدس کی فتح نے دنیائے مسیحیت میں کہرام برپاکر دیا۔ہرقل کی نیند حرام ہوگئی۔لیکن وہ تازہ دم ہوکررومی فوجیوں کو متحد کرکے ایک اور فیصلہ کن یلغارکرنے کی تیاری کرنے لگا۔ دریں اثنا،سیف اللہ کی شہرت، جاہ وجلا اور اقبال کی بلندی سے حاسدوں کی تعداد بڑھنے لگی اور دربار فاروقی میں شکایات کے دفتر کھل گئے۔یہاں تک کہ ان کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لیے ان پربیت المال کا بے جا استعمال کرنے اور خائن ہونے کے الزامات عائد کردیئے گئے۔لہٰذا دربار خلافت سے امین الامت کو پروانہ ارسال کیا گیا۔حاکم شام کو حکم ہوا کہ تحقیقات کی جائے۔جرم ثابت ہونے پر خالد کو معزول کردیا جائے۔ پھر وہ ہولناک وقت آگیا جب سیف اللہ سے دمشق کی مسجد عظیم میں عائدالزام کی بابت بازپرس ہوئی۔ حضرت بلالؓ نے بھرے مجمع میں کہا کہ میں خلیفہ عمر فاروقی کے حکم سے خالد سے یہ سوال کرتا ہوں کہ انہوں نے اشعث بن قیس کو دس ہزار رقم کہاں سے دی تھی۔سیف اللہ حیرت اور استعجاب کی کیفیت میں خاموش رہے۔ ان کی خاموشی کو اقبال جرم سمجھ کر انہیں معزول کردیا گیا اور ایک فاتح اعظم کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی:

’’بلالؓ نے خالد کے سرسے وہ’’خود‘‘ اتارلیا جو محمدی علم کے سائے میں بوڑھاہوچکا تھا۔۔۔اور ان ہی کے عمامے سے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ ساری مسجد کھڑی ہوگئی۔کہیں سے آواز آئی ۔۔۔ہاتھ کھول دو۔‘‘کہیں ایسا نہ ہو کہ مسجد خون سے وضوکرنے لگے۔‘‘(خالدبن ولید،ص۔۱۶۹)

دربار خلافت کے اس فیصلے نے امت کو سکتے میں ڈال دیا۔ بنی مخزوم کے جیالے اور وہ سپاہیان اسلام،جنھوں نے فاتح اعظم سیف اللہ کے ہمراہ دشمنوں کو کشت وخون میں ڈبودیے،دربار خلافت کے اس اقدام سے بے چین ہواٹھے۔خالد بن ولید اس بدلی ہوئی صورت حال کے مضمرات سے بخوبی واقف تھے۔لہٰذا انہوں نے کسی بھی فتنے کو پروان چڑھنے سے قبل ہی بے اثر کردیا اور اپنے خواستگار سے خطاب کیا کہ میں نے اپنا یہ انجام خلیفہ عمر کے حکم کی تعمیل کی خاطر نہیں بلکہ امت رسول کے نظم ونسق اور تنظیم کے نام پر قبول کیا ہے۔پھر انہوں نے جوش ِشکوہ میں ابلتے ہوئے لشکر اسلام کو یہ انتباہ کیا کہ:

’’مدینے کی خلافت جو خدا کی عنایت اور تمہاری شجاعت کا انعام ہے۔خالد کی زندگی میں خانہ جنگی کا دوزخ نہیں بن سکتی۔‘‘۷۵؎

(خالدبن ولید،ص۔۱۷۰۔۱۶۹)

خالد بن ولید پر عائد کر دہ الزام نہ صرف لشکر اسلام میں بلکہ مدینے کی گلی کو چوں میں بھی موضوع بحث بن گیا۔بدلی ہوئی صورت حال ہولناک اندیشوں کی غمازی کرنے لگی۔لیکن اس دوران انہوں نے جس صبر وتحمل کا ثبوت دیا وہ قابل تحسین سے بھی بالاتر ہے۔ اس وقتی افراتفری کے عالم میں بہت سی اسلام دشمن طاقتوں نے سیف اللہ سے رجوع کیا اور جنگی تعاون کی پیش کش کی لیکن انہوں نے بڑی سے بڑی پیش کش ٹھکرادی۔موجودہ صورت حال کے پیش نظر دربار خلافت نے اہل اسلام کو یہ باور کرایا کہ خالد خیانت اور اسراف کے الزام میں معزول نہیں ہوئے بلکہ دنیائے اسلام ان پر حد سے زیادہ اعتماد کرنے لگی تھی جس کی اجازت مذہب اسلام نہیں دیتا۔لہٰذا انہیں معزول کرنا پڑا۔پھر حاکم شام امین الامت کو فرمان ملا کہ وہ خالد کو دارالخلافت روانہ کرنے کی تذبیریں کریں۔ عبدالرحمن بن خالد نے اس طلب نامے کو گرفتاری تصور کیا۔خالد نے جب یہ خبرسنی تو کہا کہ یہ حضرت عمرؓ کے ترکش کا آخری تیر ہے، جس کا مجھے پہلے سے ہی اندازہ تھا۔

خالدؓ،جس نے زائداز سو جنگیں لڑیں، اس پر خائن اور مسرف کا الزام عائد کیا گیا، اسے بھرے مجمع میں ذلیل کیا گیا،اس کے سرسے’’خود‘‘ اتارا گیا،عمامے سے اس کے دونوں ہاتھ باندھے گئے، پھر انہیں مدینہ طلب کیاگیا۔دربار خلافت کے اس رویے کے باوجود مجاہد ِ اسلام سیف اللہ خالد بن ولید نے کسی بھی فتنے کو پروان چڑھنے نہ دیا اور دنیائے اسلام کو خانہ جنگی سے بچالیا۔انہوں نے اس قسم کی پاسداری کی جو آقائے دوجہاں کی لحد مبارک پر کھائی تھی کہ تاعمران کے شانوں پر محمدی علم قائم رہے گا اور وہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت اسلام میں گزاردیں گے۔خالدؓوہ شخصیت اعظم ہیں جنہوں نے اپنے قول وفعل کی ہمیشہ پاسداری کی۔

                ناول ’’خالد بن ولید‘‘ میں جنگی معر کہ اورتاریخی فضا کے علاوہ کردار نگاری اور زبان وبیان کا بہترین نمونہ ملتا ہے۔قاضی عبدالستار نے خالدبن ولید کے کردار کو مختلف نقطۂ نظر سے منظر عام پر لانے کی سعی کی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔خالدؓ کا کردار ایک سخی،مخلص، بہادر،مجاہد، فاتح، متقی، جنگی تراکیب کا ما ہر ،حوصلہ مند، صوم وصلواۃ کا پابند، پیشوا، سپہ سالارا عظم،خطیب،امام وغیرہ کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آتا ہے۔

                خالد بن ولید نے جب تین سو کوس کا صحرائی فاصلہ دس راتوں میں طے کرکے دومتہ الجندل کے دروازے پر دستک دی تو ہر قل اعظم کے بازگزاروں کے ہوش اڑگئے۔ان میں سے ایک اکیدربن عبدالملک تھا جو سیف اللہ کے جاہ وجلال سے واقف تھا۔خالدؓ نہ صرف ایک فاتح اعظم تھے بلکہ وہ ایک ماہر منتظم بھی تھے، وہ جس علاقے کوفتح کرنے نکلتے تھے اس کے نظم ونسق پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔وہ مذہب اور نسل سے بالا ترہو کراپنی رعایا کی فلاح وبہبود کو یقینی بناتے تھے۔ ہزاروں کوس پر پھیلے ہوئے عراق کی فتح کے بعد انہوں نے جس خوبی سے وہاں نظم ونسق قائم کیا، وہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک بہترین نمونہ ہے۔

دمشق جب لشکر اسلام کے نرغے میں آگیا تو ماشاہ نے جوہر قل کا داماد اور دمشق کا گورنرتھا، انتہائی عیاری کے ساتھ امین الامت کے سامنے پہنچ کر تمام شرائط تسلیم کرلیے اور دمشق کو ان کی عمل داری میں سونپ دیا۔ اس اقدام کے ذریعے اس نے اپنی فوج کو قتل وخون سے محفوظ کرلیا۔رومی جنرل ماشاہ نے انتہائی چالاکی سے خالد کے ہاتھوں سے دمشق کی فتح چھین لی۔جب خالدؓ نے امین الامت پر ماشاہ کی عیاری کو بے نقاب کیا تو انہوں نے پشیمانی کے ساتھ اپنے جذبے کا اظہار کچھ اس طرح کیا:’’تم تنظیم کا وہ مینارۂ نور ہو جس سے امت قیامت تک روشنی حاصل کرتی رہے گی۔‘‘۸۰۸۰۔ایضاً،ص۔۱۳۲

                خالد  فنون جنگ کے ماہر تھے۔دشمن کی بڑی سے بڑی فوج کو چند ہزار مجاہدین اسلام کی برق رفتاری اور جاں بازی سے اس قدر گھیرتے کہ دشمنان اسلام میں ہل چل مچ جاتی اور ان کے سپاہی گاجراور مولی کی طرح تہہ تیغ کردیے جاتے۔میدان جنگ میں کئی ایسے مواقع آئے،جب خالد کی دوراندیشی، جنگی تنظیم اور دشمنوں کو حیرت زدہ کرنے والے فیصلے کی بدولت ہی لشکر اسلام کو فتح نصیب ہوئی۔

قاضی صاحب نے اپنے دیگر ناولوں کی طرح’خالد بن ولید‘ کو بھی لفظوں کے دروبست سے مزین اور بیان کی جادوگری سے آراستہ کیا ہے۔ ذیل کے اقتباسات میں ان کے طرز تخاطب کے جاہ وجلال، اسلوب کی بلند آہنگی اور خطیبانہ انداز بیان کو بھر پور محسوس کیا جاسکتا ہے:

’’مکہ کی تاریخ گواہ ہے کہ مخزوم کی اولاد سپہ سالاری کے لیے پیدا ہوتی ہے اور سپہ سالاری کرتے مرتی ہے۔‘‘

(خالدبن ولید،ص۔۲۲۵)

’’آبرومند باپ کے غیور بیٹے جب جوان ہوجاتے ہیں تو باپ کی عزت اور حرمت کی حفاظت میں شمشیروسنان ہوجاتے ہیں۔‘‘(خالدبن ولید،ص۔۲۱۶)

’’خوشامدیوں اور مصاحبوں نے جو قوموں کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہوتے ہیں میں نے ان کو باور کر ادیا کہ آپ کے نام کا خوف سیف اللہ پر غالب آچکا۔‘‘(خالدبن ولید،ص۔۱۴۸)

’’ وہ فتح نصیب آگیا جس کے گھوڑے کی نعل میں کسریٰ کے تاج کی کھونٹیاں جڑی ہیں۔ جس کے نام سے مدائن اس طرح کا نپتا ہے جیسے آندھی میں فرات کے کنارے نرکل۔‘‘(خالدبن ولید،ص۔۸۵)

قاضی صاحب کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے شروع سے آخرتک ناول میں تاریخی فضا کو قائم رکھا ہے۔ناول کو ایک پل کے لیے بھی بوجھل ہونے نہیں دیا ہے۔قاضی صاحب نے اسلام کی ابتدائی تاریخ کو جس پیرائے میں اور ڈرامائیت کے ساتھ پیش کیا ہے، یہ انہیں کاحصہ ہے۔موصوف نے خلیفہ ابو بکر صدیقؓ کے زمانے سے خلیفہ عمر فاروقؓ کے زمانے تک کی تاریخ اور خالدؓ کے جنگی معرکوں کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ مدینہ،مکہ،ایران،عراق،اور شام کی جیتی جاگتی تصویر سامنے آجاتی ہے۔قاضی صاحب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے تاریخی حقائق کو مجروح ہونے نہیں دیا ہے۔بلکہ انہوں نے اکثر تاریخی واقعات کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔

قاضی صاحب نے اپنے تاریخی ناولوں میں اپنی علمیت اور تخیل کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے مشاہدات، تجربات اور فنی صلاحیتوں کی مدد سے اپنے تاریخی ناولوں کو انتہائی جاذب،خوبصورت اور جاندار بنادیا ہے۔انہوں نے ایسے مقام پر جہاں تاریخ کے صفحات بہت روشن ہیں، وہاں حقائق کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا ہے لیکن جہاں تاریخ کے صفحے خاموش اور دھندلے ہیں وہاں تخیل کی پر کاری سے بھرپور کام لیا ہے۔قاضی صاحب نے تاریخ کے مقبول ومعروف کردار کو اپنا موضوع بنا کر ایسے ناقدین کی آراء کو رد کردیا ہے جو تاریخی ناول کے لیے روشن تاریخ کو عیب تصور کرتے ہیں۔قاضی صاحب کے یہاں نہ صرف تاریخ کی گہری بصیرت ملتی ہے بلکہ ان کے تاریخی ناولوں میں تحریر کر دہ ایک ایک جملہ تاریخ کی بھٹی میں تپ کر ناول کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ان کی خوبی یہ ہے کہ ان کا ہرتاریخی ناول نہ صرف مذکورہ عہد کی روح کو اپنے اندرسموئے ہوئے ہے بلکہ قاری کی دلچسپی کو پل بھر کے لیے بھی زائل نہیں ہونے دیتا ہے۔

مختصر یہ کہ قاضی صاحب نے اپنے تمام تاریخی ناول میں فنی اصولوں کا خصوصی خیال رکھا ہے۔ وہ کسی بھی پلاٹ کو ترتیب دینے سے قبل ایک مخصوص عہد کا انتخاب کرتے ہیں۔اس کے بعد کچھ ایسے کردار جمع کرتے ہیں جو تاریخی واقعات کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔قاضی صاحب تاریخی ناولوں میں دیگر کرداروں کے علاوہ ایک جاندار اور فعال کردار کوشامل کرنالازمی سمجھتے ہیں۔ایک ایسا کردار جسے تاریخ میں مرکزیت حاصل ہوجس نے تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کیا ہوا اور جس کی شناخت بہ آسانی ہوسکے۔ قاضی صاحب نے تاریخی ناول میں پیش کر دہ عہد کی زندگی کی ازسرنوتعمیر اور تاریخی فضا کو قائم رکھنے پر خصوصی زوردیا ہے انھوں نے ماضی کو حال کے آئینے میں دیکھنے کی موثر کوشش کی ہے۔

قاضی صاحب کی انفرایت ان کے تاریخی شعور میں پنہاں ہے۔وہ جس عہد کی تاریخی فضا کی بازتعمیر کرتے ہیں، جس عہد کی تاریخ اور تاریخی ماحول کو اپنا موضوع بناتے ہیں انہیں اس عہد کی مرقع کشی کرنے اور اس کی روح کی گہرائی تک پہنچنے کافن آتا ہے۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ جس زمانے کو پیش کرتے ہیں وہ زمانہ خوداپنی زبان بولتا ہے۔ان کے تاریخی ناولوں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں تاریخ بھی ہے اور فنکاری بھی۔قاضی صاحب نے بھی اپنے ناولوں میں تاریخ اور تخیل کی آمیزش سے بھر پور کام لیا ہے،انہوں نے اپنے ناولوں میں حقائق پر تخیل کا رنگ چڑھا کر اس طرح پیش کیا ہے کہ ان میں نہ تو تاریخیت مجروح ہوئی ہے اور نہ ہی تخیل متاثر ہوا ہے۔قاضی عبدالستارنے اپنے زور قلم سے پیش کروہ عہد کی اس طرح تصور کھینچا ہے کہ قاری خود کو اس عہد میں موجود پاتا ہے۔

قاضی صاحب کی تخلیقی صلاحیت قابل قدر ہے۔انہوں نے عام خیال اور عام صورت حال کو اپنے تخیل اور بیان کی جادوگری سے ایسے پیرائے میں ڈھال دیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی ایک منفر د اور اعلیٰ معیار کو پہنچ جاتی ہیں۔ قاضی صاحب جب کسی تہذیب ، معاشرے ا ورخاندان کی ترجمانی کرتے ہیں تو اس کے خارجی پہلوئوں کی پیشکش کے ساتھ اس کے داخلی احساسات وجذبات کا نفسیاتی تجزیہ بھی کرتے ہیں۔

قاضی صاحب کے پلاٹ خالص روایتی ہونے کے باوجود اپنے اندربے حدجاذبیت اور جامعیت رکھتے ہیں۔ ان کے پلاٹ میں تجسس،ہیجان اور امید وبیم کی ملی جلی کیفیت پائی جاتی ہے۔قاضی صاحب کے ناولوں میں واقعاتی ربط اور تنظیمی شعور کا بہتر مظاہرہ ملتا ہے۔ قاضی صاحب پلاٹ کے اختصار، ربط، ترتیب،تنظیم اورکسائو پر خصوصی توجہ دیتے ہیں ۔وہ اپنے ناولوں میں غیر ضروری اور ضمنی واقعات کا سہارا نہیں لیتے۔بلکہ وہ مرکزی قصے میں ہی بیان کی ندرت اور واقعاتی ربط کی ہم آہنگی سے ایک ایسی فضا تیار کردیتے ہیں کہ قاری ایک پل کے لیے بھی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا ہے۔

قاضی صاحب کے کردار متحرک اور ارتقاپذیر ہیں ان میں ندرت اور تنوع کی بہتات ہے۔ قاضی صاحب کا یہ کمال ہے کہ جب وہ کسی کردار کو اپنا موضوع بناتے ہیں تو اس کی روح میں اترجاتے ہیں اور اس کے داخلی اور خارجی افکار واعمال کا گہرائی وگیرائی کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں۔ان کے کردارانہ صرف اپنی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ وہ ایک تہذیب اور طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

قاضی صاحب کے طرزبیان کو اردو ادب میں اسلوب جلیل کی حیثیت حاصل ہے ان کی ہر تخلیق اپنے موضوع اور اسلوب کی بناپر شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔قاری جب ان کے ناولوں کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اسلوب کی جاذبیت میں ڈوب جاتا ہے اور وہ ایک ایک جملے کو بار بار پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ قاضی صاحب کی یہ خوبی ہے کہ وہ موضوع کی مناسبت سے اپنے اسلوب کا تعین کرتے ہیں۔ان کے تمام ترناول موضوعات اور اسلوب کے اعتبار سے بہت مختلف ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قاضی صاحب کو جس قدر ادبی زبان پر عبور حاصل ہے اسی قدر دیہاتی بولیوں پر بھی دسترس ہے۔قاضی صاحب کا اسلوب، خطیبانہ طرز تخاطب، انانیت پسندی اور بیان کی جادوگری سے آراستہ ہے۔

قاضی صاحب کے ناول اپنے موضوع اور خصوصیات کی بناپر ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور زبان وبیان کی سطح پر منفرد مقام رکھتے ہیں۔جب وہ زوال پذیر جاگیردارانہ نظام کو موضوع بناتے ہیں تو ان کا قلم نوحہ گری شروع کردیتا ہے۔ جب مغلیہ عہد کو زیر بحث لاتے ہیں تو شہنشاہی جاہ وجلال ان کے اسلوب میں نمایاں ہوجاتا ہے اور جب صلاح الدین ایوبی اور خالدبن ولید کی بات کرتے ہیں تو عرب تہذیب اپنی آن بان اور شان وشوکت کے ساتھ منظر عام پر آجاتی ہے۔قاضی صاحب کے تاریخی ناول تہذیب اور عہد کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ان کے ناولوں کے مرکزی کردار اتنے معروف ہیں کہ موصوف کو تخیل سے کام لینے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے لیکن قاضی صاحب کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے اپنے الفاظ کی جادوگری،تہذیبی تجزیے اور تاریخی شعور کی بدولت اپنے ناولوں کو شہرت کی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔

٭٭٭

نوٹ: اردو ریسرچ نرل کی تحریروں کو بغیر اجازت شائع کرنا قانونا جرم ہے۔

Dr. Ahmad Khan

Assistant Professor, Dept. of Urdu, Zakir Husain Delhi College

Email: ahmadk71@yahoo.co.in

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.