تخلیقیت کی اہمیت و افادیت

ڈاکٹر میررحمت ﷲ

 لیکچرر ، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین، بارہمولہ،جموں و کشمیر

تخلیقیت کا مادہ ’خلق‘ ہے۔ خلق سے مراد ہے کسی چیز کو تخلیق کرنا، کسی چیز کو بنانا، کسی چیز کو پیدا کرنا، کسی چیز کو وجود میں لانا، کسی چیز کو جنم دینا۔انگریزی میں اس کے لیے “Create”کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ خلق سے ــتخلیق کا لفظ مشتق ہے۔تخلیق کے لیے انگریزی زبان میں “Creation”کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تخلیق کے معنی بھی خلق کے ہی ہیں یعنی ’پیدائش، آفرینش، پیدا کرنا، وجود میں لانا‘ہے۔ تخلیق سے ہی ’تخلیقیت‘ کا لفظ بنا ہے۔تخلیقت سے مراد ہے کسی چیز کے پیدا یا خلق کرنے کی صلاحیت۔ کسی چیز کو پیدا کرنے کی قوت، کسی چیز کو وجود میں لانے کی طاقت وغیرہ۔ انگریزی میں اس کے لیے “Creativity” کا لفظ مستعمل ہے۔ وکی پیڈیا میں تخلیقیت کی تعریف کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے:

“Creativity is a phenomenon whereby something new and somehow valubale is formed. The created item may be an idea, a scientific theory, a musical compostion, or a joke. or any invention, a literary work, or a painting.

 مطلب یہ کہ تخلیقیت سے مراد کوئی بھی نئی چیز یا نیا خیال ، کوئی سائنسی نظریہ، موسیقی کی کوئی نئی دھن یا طرز، کوئی ادبی کاوش، یا مصوری کو تخلیق کرنا ہے۔ گو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خلق، تخلیق اور تخلیقیت ‘ قریب المعنی الفاظ ہیں۔ ان سب میں پیدا کرنے، وجود میں لانے پر زور ہے۔ گو تخیلقیت ایک ایسی قوت ہے جس سے انسان نئی نئی ایجادات اور تخیلقات کو جنم دیتا ہے۔

تخلیق سے اور ایک لفظ ’’تخلیق کار‘ ‘بنا ہے جس کے معنی ہیں: ’پیدا کرنے والا‘، کوئی فن پارہ وجود میں لانے والا۔ تخلیق کار کے لیے انگریزی میں Creatorکا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی میں بھی اس کے معنی وہی ہے جو اردو یا دنیا کی دوسری زبانوں میں ہیں۔ یعنی a person or thing that brings something into existance۔

کائنات کا سب سے بڑا تخلیق کار خدا، اﷲ ،بغوان ،Godہے۔ پوری کائنات میں خدا کی بے شمار تخلیقات موجود ہے۔مختلف مذاہب کی مقدس اور الہامی کتابوں میں تخلیق کے بارے میں بہت سی آیات اور اشارے ملتے ہیں۔ قرآن شریف میں بھی تخلیق کے بارے میں بہت سی آیات موجود ہیں۔ـ’ خلق ‘کا لفظ قرآن شریف میں تکرار کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور پھراﷲ اپنی تخلیقی صلاحیت ہمیں ـ’کن فیکون‘ میں سمجھاتے ہیں۔ یعنی اﷲ کی تخلیقیت بہت ہی زبردست ہے۔ وہ جس چیز کو بننے کا حکم فرماتے ہیں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ کائنات کی تمام تخلیقات جیسے زمین، چاند، تارے، سمندر، پیڑ،آسمان، پہاڑ، جھیل، بادل، ہوا،جانور وغیرہ خدا کی تخلیقیت کے جلوہ گر ہے۔ کائنات میں خدا کی سب سے بہترین اور عمدہ تخلیق ـ’انسان‘ ہے۔ قرآن شریف میں بڑی وضاحت کے ساتھ کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ دنیا کی دوسری تمام جاندار تخلیقات کے برعکس انسان کے اندرخدا نے اپنے تمام صفات رکھے ہیں۔دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے جتنے بھی اوصاف ہیں جیسے وہ قادرہے، عادل ہے، رزاق ہے، قہار ہے، وغیرہ۔ یہ تمام صفات ایک انسان میں بھی کسی حد تک نظر آتے ہیں۔ اس بات کو ہم کچھ اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ خدا رزاق ہے یعنی خداپوری کائنات کو کھلاتا اور پلاتا ہے۔ ایک انسان بھی کسی پیاسے کو پانی اور بھوکے کے لیے کھانے کا سامان کرسکتا ہے اور کسی حد تک اپنے رزاق ہونے کاثبوت پیش کرتا ہے۔ خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ عادل ہے یعنی وہ عدل سے کام لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح دنیا کی بڑی بڑی عدالتوں میں بہت سے انسان منصف کے منصب پر فائز ہیں اور عدل سے کام لے کر اس صفت کا برملا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا بہترین تخلیق کار ہے اور انسان اس کی بہترین تخلیق ہے۔ لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے ’Robot اور Computerجیسی چیزین بنائی جو دنیا کے بڑے بڑے اور حیرت انگیریز کام انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح زمین خدا کی ایک عمدہ تخلیق ہے لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے اس ویران زمین کو جنت نما بنا دیاجس کی مثالیں ہم دنیا میں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔خد ا نے سورج بنایا جو دن کو روشن کرتا ہے لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے بجلی بنائی جو راتوں کو روشن کرتی ہے۔خدا نے زمین میں خوبصورت وادیاں بنائی لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیتیوں سے ان کی خوبصورتی دوبالا کردی۔ان میں مختلف قسم کے پھول اگائے۔ ان میں مختلف قسم کے خوبصورت پیڑ اور پودے لگائے۔ غرض کہ اسی طرح کی بے شمار انسانی تخلیقات ہمارے سامنے موجود ہے جن کا مشاہدہ ہم ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔یہ تخلیقی صلاحیت دنیا کے سبھی انسانوں میں ہوتی ہے۔لیکن کسی میں کم تو کسی میں زیادہ۔ یہ تخلیقی صلاحیت وہ جذبہ ہے جو ہمیں اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا احساس دلاتا ہے۔

ادب بھی ایک تخلیقی کاوش ہے۔ ادب کیا ہے؟ ادب کیوں لکھا جاتا ہے؟ ادب کی معنویت کیا ہے؟ ادب کی اقسام کیا ہے؟ وغیرہ جیسے سوالات تشریح طلب ہے جن پر آئندہ کبھی بات کریں گے لیکن اس وقت ہم صرف ادب کی تخلیق کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی بتا دیا کہ انسان کے اندر خدا نے بے شمار تخلیقی صلاحتیں رکھی ہے اور ان ہی تخلیقی صلاحیتوں میں ادب کی تخلیق بھی کافی اہم ہے۔

تخلیقیت بہت سے شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایک سائنسی تخلیقی سرگرمی ایجادات کا سبب بنتی ہے۔ ایک آرٹسٹک تخلیقی سرگرمی شہکار پینٹنگ کا سبب بنتی ہے۔ ایک میوزیکل تخلیقی سرگرمی خوبصورت میوزک کو وجود میں لانے کا سبب بنتی ہے۔یہ تخلیقی سرگرمی تحریروں کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے جو کہانیوں، ناولوں، نظموں اور شاعری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایک تخلیقی مالی اپنے باغ کواپنی تخلیقی صلاحیتوں سے بہتر سے بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک تخلیقی سائنس داں اپنی تخلیقی صلاحیت سے نئی نئی ایجادات کا باعث بن سکتا ہے ۔ ایک تخلیقی کاری گر اپنی صلاحیت سے عمدہ تعمیراتی کام انجام دے سکتا ہے اسی طرح ایک تخلیقی قلم کا ر اپنے قلم سے ادبی فن پاروں کو وجود میں لا سکتا ہے۔

تخلیقیت کے لیے ’تخیل‘ کا کارفرمائی لازمی ہے۔ونسٹن چرچل کے الفاط میں ’’تم خود اپنی دنیا تخلیق کرسکتے ہو ۔ تمہاری قوتِ متخلیلہ جس قدر مضبوط ہوگی تمہاری دنیا اسی قدرخوش ہوگی اور جب تم خواب دیکھنا چھوڑ دو گے تو تمہاری دنیا اپنا وجود کھو دے گی۔‘‘شبلی نے بھی ’شعر العجم‘ میں شعرائے سامانیہ، رابعہ۔ رودکی، عرفی، دقیقی، بلخی، خبازی، مروزی، عنصری، فرخی، فردوسی، طوسی، منوچہری، سنائی، عمر خیام، انوری، نظامی، عطار، اصفہانی، سعدی، امیر خسرو ، سلیمان ساوجی، حافظ شیرازی، ابن یمین، صنعانی، فیضی، عرفی، نظیری، طالب آملی، صائب اصفہانی، ابو طالب حکیم وغیرہ کے تخلیل کی تہذیب، بدیع الاسلوبی، جدت ادا، لفافت خیال، جوشِ بیان اور ا ن سخنوروں کی قوتِ تخلیل و محاکات سے روبرو کرانے کی کوشش کی ہے۔

بات یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کے جذبات اور خیالات اس کے مادی وسائل سے بھی کہیں زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر دماغ خیالات کی جگالی نہ کرے تو وہ اپنی موت آپ مر سکتا ہے۔غور و فکر اور سوجھ بوجھ کے عمل سے انسان پرانے علم اور اکتساب کو شعور کے دائروں میں سوچتا سمجھتا اور زایوں اور نتائج کو اخذ کرتا ہے۔ اگر نئی کاوشیں، نئے اصول اور نئی وریافتوں کی راہیں نہ ڈھونڈی جائیں تو انسان کی فکر اور سوجھ بوجھ، خوف، غم، بے اطمینانی اور قنوطیت کی پرخار راہوں میں ہی الجھ کر رہ جائے۔

انسان کے اندر ازل سے ہی اپنے من کے بھاؤ بھید کریدنے اور خود پر اپنا آپ عیاں کرنے کی آرزو موجود رہی ہے۔ اسے ہی ’’تخلیقیت‘‘ کہا جاتا ہے جو ہر انسان کے دماغ کی کئی چھوٹی بڑی رگوں میں موجود ایک مخفی راز یا ہنر ہے۔ سائنس دان اور ماہرین اپنی استطاعت اور علم کے بل بوتے پر اس حصے کی تشریخ کرتے رہتے ہیں۔اس تخلیقی صلاحیت کا تعلق انسان کی تمام تر دماغی صلاحیت سے ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جس کا تعلق انسان کی بصری و سمعی صلاحیتوں سمیت کئی اور طرح کے حواس سے بھی ہے۔ انسان کی سوچ کے تمام تر دھارے مل کر اسے جنم دیتے ہیں۔ یہی اس کی فکر کے رخ کو بھی متعین کرتے ہیں۔

انسان کا علم اور معلومات اس صلاحیت کو صیقل کرنے میں مدد گار ہوتا ہے، جو بعد ازاں کسی ایک ہنر کا نام اور مقام پا لیتی ہے۔ دماغ تخلیق کے تمام تر مراحل اور مدارج پر مبنی سرگرمی کو یکتا اور منظم کرتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دماغ کا مکمل استعمال اور اظہار ہی تخلیقیت پیدا کرتا ہے۔

عظیم تخلیق کار پابلو پکاسو کا ماننا تھا کہ ’’سبھی بچے پیدائشی تخلیق کار اور فنکار ہوتے ہیں۔‘‘ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایک غیر تخلیقی معاشرہ اس کی راہ میں ایسی دشواریاں حائل کر دیتا ہے کہ سن بلوغیت تک پہنچتے پہنچتے اس کی تخلیقیت اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ ہمارے معاشروں کی حد سے زیادہ زر پرستی اور مادیت پرستی ایسے آسیب بن چکے ہیں جو ہوس پرستی کی شکل میں ڈھل کر انسان کی تخلیقی روح کو بے رحمی سے اپنے قدموں تلے روند دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی تخلیقیت اس لیے روند دیتے ہیں کہ ہم انہیں فنکار نہیں بلکہ صنعت کار یا افسران بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے سروں پر اعلی مقامی کا تاج یا کلاہ دیکھنا چاہتے ہیں وہ باس بنیں یا آقا ۔ہمارا مطمع نظر ان کا ایساہی مستقبل ہے۔ اسی لیے ہم نے ایک منڈی سجا رکھی ہے۔ ڈگریوں کا بازار لگا رکھا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ڈگریوں کی اس مارکیٹ میں ہمارے بچوں کی اچھی بولی لگ سکے۔ ہمارے بچے ایک منافع بخش پراڈکٹ بن سکیں۔ وہ اپنے والدین کے لئے منافع بخش پراڈکٹ تو بن جاتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے حسن اور سکون سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتے ہیں۔

ہمارا تعلیمی نظام، تعلیمی ادارے اور اساتذہ بھی والدین کی ایسی ہی خواشات کے حصول میں ان کے بھر پور مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔ جو بچوں کو رٹا لگا کر رٹے ہوئے اسباق نگلنے اور اگلنے کے علاوہ کچھ سکھا نہیں پاتے۔ جس سے نوجوانوں کی ذہنی صلاحیت بھی کم ہو رہی ہے۔ ان کے لیے زندگی کا تمام تر مقصد گریڈ لینے تک محیط ہو چکا ہے اور ایسا نہ ہو پانے کے نتیجے میں ان میں بددلی اور مایوسی کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں خود کشی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

ہم ایک غیر تخلیقی معاشرے میں ڈھل رہے ہیں اور ایک غیر تخلیقی معاشرہ ایک بانجھ معاشرہ ہوتا ہے۔ سرد رویوں کا معاشرہ، جہاں جمالیاتی حسن ناپید ہوتا ہے۔ جب ہم چاہتے نہ چاپتے ہوئے، جانے انجانے میں اپنے اندر سے تخلیقیت کا حسن کھو دیتے ہیں تو ہماری روح گونگی، بہری ہو جاتی ہے۔ ہم جذبوں کی زباں سے بے بہرہ ہو جاتے ہیں۔

کانٹ تخلیقی فن کو مقصدیت کا عمل قرار دیتے ہیں۔ وہ مقصدیت جو زندگی اور اس کائنات کو جواز اور خوبصورتی عطا کرتی ہے۔ یہ اظہار ذات اور انکشاف ذات کا عمل ہے جو انسان کو عرفان ذات تک کے سفر پر لے جاتا ہے۔ ایک معاشرے کا تخلیقی معاشرے میں ڈھلنا از حد ضروری ہے تاکہ وہ خود کو درپیش ناقابلِ فہم نفسیاتی و جذباتی مسائل سے باہر نکال سکے اورزندگی کی تابانی کو محسوس کر سکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تخلیقی شعور اور صلاحیت کو زندہ رکھیں اور اپنے آنے والی نسلوں کو بھی یہ شعور زندہ رکھنے کی عملی تلقین کریں۔

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.