ہاے ہوَّز اور ’دو چشمی ھ‘کا دائرۂ عمل

ندیم احمد انصاری

شعبۂ اردو، اسماعیل یوسف کالج، ممبئی

                کسی زبان کی تحریری ہیئت میں املا کی اہمیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہوتی ہے، جس کے بغیر زبان کے ذخیرۂ الفاظ کا تحفّظ، اُن کے تلفّظ اور معنی کی ترسیل کا عمل دشوار گذار ہوتا ہے، اسی لیے املا سے متعلق مستقل اصول و ضوابط وضع کیے جاتے ہیں تاکہ زبان کی درست نویسی و درست خواندگی ممکن ہو سکے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو زبان کا تحریری ڈھانچہ متزلزل ہو کر رہ جائے گا۔ اسی لیے دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانوں میں کسی ایک زبان کی بھی نشان دہی نہیں کی جا سکتی، جس نے املا کے ضابطوں سے روگردانی کی ہو۔ یہ پابندی زبان کوہمیشہ صحت مند و توانا رکھتی ہے،خصوصاًایسی صورت میں‘جب کسی لفظ کا تلفظ اپنے مروّج املا سے مختلف ہونے کی صورت میں بھی مقررہ و متعینہ صورت میں کیا جاتا ہو، مثلاً اردو میں بالکل اور حتی الامکان وغیرہ وغیرہ۔

                اہلِ ذوق و نظر کے لیے یہ امر تکلیف کا باعث ہے کہ اُردو میں آج بھی بعض لوگ لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور بعض نے اس اہم امر کی جانب نظرِ التفات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا ، ہاں بعض محققین و ماہرینِ لسانیات ضرور اس پر کمر بستہ اور دوسروں کو بھی اس جانب توجہ دلاتے نظر آتے ہیں۔ دراصل املا کے اصولوں سے عدم توجہی زبان کے فروغ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور ایک ہی لفظ کو مختلف صورتوں میں لکھے جانے سے عام قاری اور طالبِ علم کو ایک گو نہ وحشت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔افسوس تو اس پر ہے کہ آج کل اردو کے بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو بھی اس کا علم نہیں کہ اردو حروفِ تہجی جب آپس میں ملتے ہیں تو ان میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جب کہ اردو کے اسکالروں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس سلسلے میں بڑی تگ و دو کے بعد واضح اصول مرتَّب کر دیے ہیں، جن پر عام لکھنے والوں سے لے کر کاتبین اور ناشرین تک‘ سب عمل پیرا ہو جائیں، تو بہت جلد املا کی اس افرا تفری پر قابو پا یا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں انشاء اﷲ خاں انشاؔکا بیان کردہ یہ اصول ضرور پیشِ نظر رہنا چاہیے:

’جو لفظ اُردو میں آیا، وہ اردو [کا] ہو گیا، خواہ وہ لفظ عربی ہو یا فارسی، ترکی [ہو] یا سُریانی، پنجابی ہو یا پوربی، اصل کی رو سے غلط ہو یا صحیح، وہ لفظ اُردو کا لفظ ہے۔ اگر اصل کے موافق مستعمل ہے تو بھی صحیح اور اگر اصل کے خلاف ہے تو بھی صحیح۔ اس کی صحت اور غلطی اس کے اردو میں رواج پکڑنے پر منحصر ہے، کیوں کہ جو چیز اردو کے خلاف ہے، وہ غلط ہے گو اصل میں صحیح ہو اور جو اردو کے موافق ہے، وہی صحیح ہے، خواہ اصل میں صحیح نہ بھی ہو۔‘[1]

                انشاؔ کے وضع کردہ اس اصول پر ہمارے تقریباً تمام علما نے مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔’انجمن ترقیِ اردو ‘ نے بھی اس کا نہایت پاس و لحاظ رکھا اور ایک خاصی ضخیم کتاب[2]میں اصول و ضوابط مرتب کر دیے ہیں، یہاں ہمارا مقصد ان کا اعادہ نہیں بلکہ محض ہاے ہوز (ہ) اور دو چشمی ہے(ھ) کی(خصوصی طور پر کمپیوٹر شدہ) کتابت میں ہونے والی کثرتِ خطا پر توجہ دلانا ہے، جس کے مرتکب بہت سے وہ افراد اور ادارے بھی ہیں جو اُردو کے خدمت گذار سمجھے جاتے ہیں۔

                جب سے ’ان پیج‘ نامی سوفٹ ویر لانچ ہوا ہے، عالَمِ اردو میں اشاعت کے مراحل سہل ترین ہو گئے اوراُردو دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو گیاہے۔یہ سافٹ ویر اُردو و ہم رشتہ زبانوں کی اشاعت کے لیے دوستانہ پیج میکنگ سافٹ ویر ہے۔ یہ پہلی مرتبہ۱۹۹۵ء میں بازار میں آیا اور پھر اسے جلد ہی اردو کے اشاعتی میدان میں مقبولیت حاصل ہو گئی۔ اس کے ذریعے عالمی سطح پر اخبارات و رسائل اور کتابوں وغیرہ کی کتابت و تزئین کاری اور اشاعت کی ضرورتوں کو پورا کیا جاتا ہے۔[3]

                یہ تو سو فی صد درست ہے کہ ان پیج کی آمد سے اردو و ہم رشتہ زبانوں کی کتابت و طباعت کے کام میں برق رفتار تیزی دیکھنے میں آئی، لیکن جہاں یہ خوشی کا مقام ہے کہ اس سوفٹ ویر کو سیکھنا اور برتنا نہایت آسان ہے، جس سے گونا گوں فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، وہیں یہ امر قابلِ افسوس ہے کہ اس آسانی کا فایدہ اٹھاتے ہوئے بعض ایسے لوگوں کو بھی بہ طور روزگار یہ اہم ذمے داری تفویض کر دی گئی ہے، جو اس سے قرارِ واقعی عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کتابت اور مطبوعات دونوں کا معیار پست ہوتا جارہا ہے۔ شاید اس کی وجہ قارئین کے ذوق میں واقع کمی بھی ہو، جیسا کہ اس پر ان کی سرد مہری اور ان کے عدم ردِّعمل سے ظاہر ہے، لیکن ہمارے خیال میں اس جانب اہلِ علم و قلم کو ضرور متوجہ رہنا چاہیے۔

                حرف ’ہ‘ جسے’ہائے ہوّز‘ یا ’چھوٹی ہِے‘ کہا جاتا ہے، اگر یہ کسی دوسرے حرف سے ملی ہوئی نہ ہو تو اس کی فقط ایک ہی شکل ہے، جو عام طور سے لفظ کے آخر میں الف یا واوکے بعد آتی ہے۔ مثلاً: آہ، اوہ وغیرہ۔ اگر یہ کسی دوسرے حرف کے ساتھ مل کر وارد ہو تو اس کی مندرجۂ ذیل مختلف شکلیں ہوتی ہیں؛

                ٭ ابتدا میں- ہجر، ہاتھ وغیرہ

                 ٭درمیان میں-بہت، جہنم وغیرہ

                 ٭ لفظ کے آخر میں-جگہ، صفحہ وغیرہ

                کہیں ساکن ’ہ‘ مثلاً جگہ تو کہیں محض ما قبل حرف کے فتحہ کو ظاہر کرتی ہے۔ آخری مثال میں آنے والی (ہ) چوں کہ لکھی تو جاتی ہے لیکن اس کی آواز نہیں ہوتی، اس لیے اسے ’ہائے مختفی ‘بھی کہتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک دو چشمی ہِے(ھ)۔ ان دونوں کی آوازیں یکساں ہیں لیکن ان کا دایرۂ عمل جُدا جُدا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب میں اُردو کی نوک پلک درست کرنے والوں نے اس طرف خصوصی توجہ مرکوز رکھی اور ہر دو کا دائرہ متعین کرکے بتا دیا۔ اب ایک کی جگہ دوسری ’ہِے‘لکھنے پر الفاظ وجملے کے معنی میں جو فرق واقع ہوتا ہے، وہ ذوقِ سلیم پر نہایت گراں گزرتا ہے۔اس لیے کہ صوری تبدیلی سے تحریرکا حسن باقی نہیں رہتا جب کہ مطالعے کے وقت قاری پر اولین اثر تحریر ہی کا ہوتا ہے، معانی و مفاہیم کے سمجھنے کا مرحلہ تو بعد میں آتا ہے۔

                 ہم یہاں اس کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں، جن میں ہاے ہوز (ہ) کی جگہ دو چشمی ہِے(ھ) لکھنے یا دو چشمی ہِے کی جگہ ہاے ہوز لکھنے سے لفظ و جملے کے معنی یک سر بدل جاتے ہیں اور یہ صوری تبدیلی معنوی تبدیلیوں کا باعث بن جاتی ہے۔ مشتے نمونے از خر وارے:

                (۱)کہا-کھا (۲) بَہی -بِھی (۳) دَہِندہ-دَھندہ (۴) پَہرا -پِھرا (۵) پَہلا -پَھلا (۶) بَہن -بُھن (۷) دِہلی -دُھلی(۸) گَہنا-گَھنا (۹) تَہی -تِھی (۱۰) چِہرا -چُھرا (۱۱) دَہن – دُ ھن(دَھن)(۱۲)گُہَر -گَھر (۱۳)بَہرا-بھَرا (۱۴) بَِہار -بَھار (۱۵) پَہر -پِھر (۱۶) کَہْو -کُھو (۱۷) پَہَل-پَھل (۱۸) کَہلانا -کِھلانا (۱۹) بَہانا -بَہانا (۲۰) پَہن-پَھن، وغیرہ وغیرہ۔یہاں ہم نے معدودے چند الفاظ ذکر کرنے پر اکتفا کیاہے۔

                 اب درجِ ذیل دو جملے بھی پڑھیے اور لطف لیجیے:

                (۱) زید چِہرا چھپائے جا رہا تھا -اس میں ہاے ہوز کی جگہ دو چشمی ہے لکھنے سے یہ – زید چُھرا چھپائے جا رہا تھا-بن جائے گا۔

                 (۲)زید نے عمرو کو کَہلا بھیجا- اس میں ہاے ہوز کی جگہ دو چشمی ہے لکھنے سے یہ – زید نے عمرو کو کِھلا بھیجا-بن جائے گا۔

                ان کے علاوہ اس نوع کی درجنوں مثالیں پیش کی جا سکتیں ہیں، لیکن ہمارا خیال ہے کہ اہلِ فہم کے لیے اس قدر ہی کافی ہے۔ اس طرح کے تمام الفاظ عام طو ر سے اخبارات و رسائل میں عنوانات کی صورت میں بھی اسی طرح غلط طریقے پر ٹائپ اور شایع کیے جاتے رہتے ہیں، لیکن اس پر توجہ نہیں دی جاتی۔ دراصل اردو ٹائپنگ میں جو مختلف فونٹس کی سہولیات میسّرہے، من جملہ ان کے ’عنوان‘ کے نام سے بھی ایک فونٹ موجود ہے، جس میں از خود ہاے ہوز کی جگہ دو چشمی ہِے بن جاتا ہے، اس لیے اس کے استعمال سے حتی الامکان گریز کرنا اور دیگر فونٹس میں اس کا متبادل تلاش کرنا چاہیے۔

                اس مختصر مضمون کو صفحۂ قرطاس کرنے کا مقصد اسی امر پر متوجہ کرنا ہے کہ اردو تحریر میں اس بابت غفلت و تسامح کا شکار ہونے سے بچنے کی تلقین کی جائے اور ہاے ہوذ اور دوچشمی ہِے کا جو مخصوص دایرۂ عمل ہے‘ اس کا پاس و لحاظ رکھا جائے۔تمام اردو اخبارات و رسائل وغیرہ ایسے الفاظ کے لیے‘ جن میں ہاے ہوذ آتی ہو،فونٹ’عنوان‘کے استعمال سے گریز کریں، خصوصاً وہ لوگ جو زبان و ادب کے خدمت گذار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں انھیں اس بابت چشم پوشی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ویسے بھی ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں کہ اسی سافٹ ویر میں دیگر بہت سے ایسے فونٹ موجود ہیں، جن کے استعمال سے یہ خطا سر زد نہیں ہوتی، نیز عنوانات و ذیلی عنوانات کے فونٹ سائز کو اصل متن سے قدرے بڑھا دینے سے بھی یہ کام لیاجا سکتا ہے۔

٭٭٭

                حواشی و حوالہ جات:

                [۱] دریاے لطافت، انجمن ترقی اردو، کراچی، پاکستان، ص:۳۵۳

                [۲] بنام ’املا نامہ‘ ،مرتب: گوپی چند نارنگ، سفارشات املا کمیٹی، ترقّی اردو بورڈ

                [3]فیروز ہاشمی، اْردو ڈی ٹی پی، مکتبہ نئی شناخت، نئی دہلی، ص:۵۶بتغیر

nadeem@afif.in

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.