”منور خاں غافل، اوراقِ گم گشتہ”

ڈاکٹر زاہرہ نثار*

منور خاں غافل ولد صلابت خاں صاحبِ دیوان شاعر تھا۔ لکھنؤ میں پیدا ہوا اور یہیں نشوونما پائی۔ اُسے زمانۂ طالب علمی سے ہی شعر موزوں کرنے کی صلاحیت ودیعت ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ وہ مظہر حق عشاقکے حلقۂ شاگردی میں شامل ہو گیا اور اپنی ریختہ گوئی میں سادگی و پرکاری اور ندرت کی صفات پیدا کیں۔ مصحفی نے اپنے تذکرے ”ریاض الفصحائ” میں نہ صرف اُس کا ذکر کیا ہے بلکہ اپنے تذکرے میں اُس کے کلام کی ستائش کے ساتھ ساتھ اُس کا کثیر انتخابِ کلام بھی پیش کیا ہے۔ مصحفی کے علاوہ دیگر تذکرہ نویسوں میں صرف سعادت خاں ناصر کے ”خوش معرکۂ زیبا” میں اس شاعر کے مختصر حالات ملتے ہیں جب کہ قدرت اللہ شوق کے ”طبقات الشعرائ” میں محض اس کے دو شعر ملتے ہیں۔ شوق نے تو اس شاعر کا نام تک مکمل نہیں لکھا تاہم ان شعروں کی ”دیوانِ غافل” سے تطبیق کے بعد یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ منور خاں غافل کے ہی شعر ہیں۔ قدرت اللہ شوق، طبقات الشعراء میں ترجمۂ غافل کے ضمن میں لکھتے ہیں:

”از غافل است:

 نہ بس اپنے سے کیا اس کو میں رخصت غافل

 جب مرا بس نہ چلا تب میں خدا کو سونپا

جب وہ کرتا ہے ان لبوں کا وصف

 غافل اس وقت لعل اُگلتا ہے”(1)

اسی طرح سعادت خاں ناصر نے ”تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا” میں غافل کا مختصر تعارف اور ایک حکایت رقم کی ہے:

”شاعرِ ناعاقل، منور خاں متخلص بہ غافل، قوم افغان، پسر صلابت خان، خیل یوسف زئی۔ نحوست اور شومی اس کے تخلص کی تامرگ ساتھ رہی۔ یا خدا یہ موت کسی کافر کو بھی نصیب نہ ہو۔”  (2)

یہاں تک لکھنے کے بعد ایک حکایت کے عنوان سے ایک واقعہ تحریر کیا ہے جس کا ملخص یہ ہے کہ اس کی بیوی نے محرّم کی چاند رات کو اس سے اپنے باپ کے ہاں جا کر تعزیہ داری کی اجازت مانگی جو اس نے دے دی۔ لیکن آٹھویں شب اس نے اپنی بیوی کو شراب کے نشے میں بہ غرضِ وصال طلب کیا۔ بیوی نے اجابت کے باعث برابھلا کہا تو اس نے بیوی پر ایک چوب اٹھائی جو دامنِ تعزیہ میں پناہ لیے بیٹھی تھی، چوب تعزیے کو لگی اور اسے ایک طمانچہ چہرے پر لگا جس سے اس کی گردن لقوہ زدہ ہو گئی۔ آخر میں واوین میں درجِ ذیل عبارت رقم ہے:

”با آلِ نبی ہر کہ در افتاد بر افتاد۔”  (3)

غلام ہمدانی مصحفی کے تذکرے ”ریاض الفصحائ” میں منور خاں غافل کے ترجمے میں نہ صرف اُس کے تولد، خاندان، علمی دست رس اور نکتہ سنجی کا بیان ملتا ہے بلکہ انتخابِ کلام میں بیسیوں اشعار بھی نقل ملتے ہیں جس سے اس شاعرِ غافل شعار کے رنگِ کلام کی عکاسی بخوبی ہوتی ہے۔ مصحفی لکھتے ہیں:

”منور خاں غافل تخلص ولد صلابت خاں افغان یوسف زئی بررگانش سکنۂ فیض آباد بودند و بہ سرکارِ فیض آباد نواب شجاع الدولہ بہادر بہ فرقہ سواران عزِ امتیاز داشتند خودش در لکھنؤ تولد یافتہ نشوونمائے پیداکردہ جوانِ صلاحیت شعار و مہذب الاخلاق است از ابتدائی موزونیِ طبع در عالم مکتب نشینی چیزی بجای موزوں می کرد و آخر شاہ مظہر حق عشاق تخلص کہ ذکر ایشان در حرف العین است تحریر یافتہ بہ حلقۂ شاگردانِ جدید درآمد چندی رنگِ طرحِ مجلسِ مشاعرہ ہم ریختہ بود شعر بطور سادہ و پُرکار می گوید و معنیِ تازہ نیز اگر می خواہد می یابد و درغزل سلامتِ کلامش مثلِ سلکِ گوہر است و ہر روز برای استفادہ دریافتِ اصلاحِ شعر از حضارانِ مجلسِ فقیر می باشد وہ فقیر نسبتِ دیگر شاگردان بسیار اعتقاد داشتہ بودہ است عمرش بست و پنج سالہ خواہد بود۔ ”  (4)

مصحفی کے مذکورہ بیان سے پتہ چلتا ہے کہ منور خاں کا تخلص غافل اسم بامسمیٰ نہیں تھا۔ اس نے اُسے صلاحیت شعار اور مہذب اخلاق نوجوان قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو واقعۂ تعزیہ ”تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا” میں منقول ہے؛ سچ ہو۔ عین ممکن ہے کہ اُس کے شعری مرتبے کو کم ظاہر کرنے کے لیے ایسا کیا گیا ہو۔ ناصر کے منقول واقعۂ تعزیہ کے من گھڑت ہونے کی تصدیق مشفق خواجہ کے درجِ ذیل بیانات سے ہوتی ہے جو اُنھوں نے ”خوش معرکۂ زیبا” کے مقدمے میں شامل کیے ہیں:

”مصحفی کے تلامذہ کے خلاف بھی ناصر نے لکھا ہے۔”  (5)

”بعض جگہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ناصر نے مآخذ تذکروں سے جزوی طور پر حالات لے لیے ہیں اور بعض اہم امور کو چھوڑ دیا ہے۔۔۔ بعض جگہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ناصر نے ماخذ تذکروں سے فائدہ نہیں اٹھایا اور شعراء کے حالات ازخود لکھے ہیں۔”  (6)

ناصر نے جن مآخذ تذکروں سے استفادہ کیا ہے، مشفق خواجہ نے اُن کا ذکر بہ حوالہ ترقیمۂ مخطوطہ کیا ہے۔ ان تذکروں میں مصحفی کا ”ریاض الفصحائ” بھی شامل ہے۔(7) ان شواہد کی روشنی میں یہ بےّن ہے کہ ناصر نے اپنے تذکرے میں واقعات کے بیان میں احتیاط سے کام نہیں لیا۔ پھر مصحفی کے تلامذہ سے خار کھانا ایسا امر ہے جس کے باعث اس نے یہ من گھڑت واقعہ نقل کر دیا ہو۔ ورنہ غافل کی گردن لقوہ زدہ ہوتی تو مصحفی اُسے جوانِ صلاحیت شعار اور مہذب الاخلاق قرار نہ دیتا اور اگر یہ واقعہ سچ ہوتا تو مصحفی کو اس کے لکھنے میں کیا عار تھا۔ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ واقعۂ تعزیہ مخاصمت کے شاخسانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔

”دیوانِ غافل” کے مطبوعہ نسخے کے خاتمۂ طبع میں غافل کے شاگردِ مصحفی ہونے اور صاحبِ کلامِ نازک ہونے کا اندازہ ہوتا ہے:

”۔۔۔ شعرائے متقدمین میں جناب استاد الاستاد میاں غلام ہمدانی مصحفی فنِ شاعری ]میں[ بڑے مشتاق تھے۔ شہرۂ آفاق تھے نہایت کامل تھے۔ سب چھوٹے بڑے ان کی استادی کے قائل تھے۔ اُن کے زمرۂ تلامذہ میں سے مسمی منور خان ابن صلابت خان متخلص بہ غافل احاطہ فقیر محمد خان گویا واقع لکھنؤ میں رہتے تھے۔ واقعی خوب شعر کہتے تھے۔ طبیعت اُن کی نہایت عالی تھی۔ اُن کی ادنیٰ کنیز نازک خیالی تھی۔ اگرچہ وہ اس فن میں کامل تھے لیکن اکثر اشخاص ان کے کلام سے بے خبر و غافل تھے۔”  (8)

مصحفی نے غافل کے ترجمے میں اُس کے مؤلد، مسکن، آباء اور اُس کے فنِ شعر پر جو اظہارِ خیال کیا ہے اُس کا ذکر تاریخ ہائے ادب، دیگر تذکروں وغیرہ میں مفقود ہے۔ البتہ مصحفی کے تیسرے تذکرے ”عقدِ ثریا” کے مقدمے از ڈاکٹر شہاب الدین میں تلامذۂ مصحفی میں منور خاں غافل کا ذکر ملتا ہے۔(9) ”خوش معرکۂ زیبا” اور ”طبقات الشعرائ” کا احوال پہلے نقل ہو چکا ہے۔

غافل کے کلام پر قدرے تنقیدی مواد ”دیوانِ غافل” کے خاتمے میں سامنے آتا ہے۔ اس خاتمۂ عبارت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ منشی نول کشور پریس کان پور کے ملازم میاں جھمو خان جو اپنی صناعی میں یکتائے روزگار تھے۔ اُنھوں نے ایک روز اپنے حسب و نسب اور عالی خاندانی کا احوال مالکِ پریس کے گوش گزار کرتے ہوئے اپنے والد ماجد کی زبان دانی کا پتہ دیا۔ مالکِ مطبع نے یہ سن کر اس گم نام دیوان کی بازیابی کے لیے جھمو خان کے گھر تلاشی کا حکم دیا اور بالآخر یہ دیوان دریافت ہو گیا۔ مزید دیکھئے خاتمۂ عبارت:

”۔۔۔کار پردانِ مطبع نے بہ دقتِ تمام جابجا جستجو کر کے کلام واقع آلام مجتمع کیا۔ المختصر یہ دیوان سحربیان فصاحت بیان بلاغت توامان اس سے پہلے چند بار مطبع منشی نول کشور موسم بہ اودھ اخبار واقع لکھنؤ میں بہ صد حسن و خوبی طبع ہوا اور اب مطبع منشی نول کشور واقع شہر کانپور میں بہ سرپرستی عالی جناب معلّی القاب منشی پراگ نراین صاحب بھارگو مالکِ مطبع دام اقبالہ بہ تصحیحِ تمام و تنقیحِ مالا کلام بہ ہزاران خوش اسلوبی بہ ماہ دسمبر ١٨٩٧ء بار اوّل حلیۂ طبع سے محلیٰ اور زیورِ طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوا۔”  (10)

دیوانِ غافل پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں محفوظ ہے۔ اس کی کل ضخامت ١٢٨ صفحات ہے جس میں خاتمۂ دیوان از پریس مع قطعاتِ تاریخِ طباعت قدیم و جدید از شاعرانِ دیگر بھی شامل ہیں۔ مطبع نول کشور لکھنؤ سے یہ دیوان ١٢٨٩ھ١٨٧٢ء میں جب کہ مطبع نول کشور، کان پور سے ١٣١٥ھ١٨٩٧ء میں شائع ہوا۔ ہر دو اقسام کے قطعاتِ تاریخ بہ زبانِ اردو و فارسی درجِ ذیل ہیں:

”قطعۂ تاریخ طبعِ سابق تصنیف حکیم مولوی نواب نیاز احمد خان صاحب متخلص بہ ہوش بریلوی شاگردِ رشید اسیر لکھنوی

ہوش اس مطبعِ گرامی میں

اُن کا دیوان جب کہ طبع ہوا

دیکھ کر اُس کو بول اُٹھا ہاتف

چھپ گیا ہے کلام غافل کا

١٢٨٩ھ

 قطعۂ تاریخ طبعِ سابق طبع زاد شاعر کامل رشک سبحان وائل منشی بھگوان دیال صاحب عاقل ایجنٹ مطبع ہذا۔

ز غافل چہ شد طبع دیوان دلکش

جہان بر خریداریش گشت مائل

پئے سالِ تاریخ عاقل ز کلکم

رقم شد چہ دلچسپ دیوانِ غافل

١٢٨٩ھ

قطعاتِ تاریخات طبعِ جدید دیوانِ ہذا از منشی بھگوان دیال صاحب عاقل

ہست ایں دیوان غافل در نظیر خود نظیر

آنکہ در ہر مصرعہ اش دلکش مضامین آمدہ

بہرِ تاریخِ مسیحی عاقل از فرطِ طرب

گو عجب دیوان غافل رقت آگین آمدہ

١٨٩٧ئ

ایضاً

زعون خالق کونین حالا

 مکرر طبع شد دیوانِ غافل

بگو عاقل بتاریخِ مسیحی

 بسی دیوانِ غافل راحت افزا

 ١٨٩٧ئ

ولہ

سخن سنجی کا یہ دیوان غافل ایک دریا ہے

 نظر آتا نہیں کوسوں ٹھکانہ جس کے ساحل کا

عبث غواصِ بحرِ فکرِ تاریخِ اشاعت ہو

 لکھو عاقل کہ بس زیبا ہے یہ دیوان غافل کا

 ١٣١٥ھ

قطعۂ تاریخ از مولانا محمد حامد علی خان حامد شاہ آبادی مصحح مطبع ہذا۔

یہ دیوان غافل کا بے مثل ہے

 ہیں سب شعر سانچے میں گویا ڈھلے

جو حامد تمھیں فکرِ تاریخ ہے

 تو لکھ دو مضامیں دل کش چھپے

 ١٢٨٩ھ”  (11)

قطعاتِ تاریخ سے نہ صرف دیوانِ غافل کی طبعِ دوم کی تاریخیں برآمد ہوتی ہیں بلکہ اس دیوان کے مضامینِ دل کش، دل چسپ و رنگین کا بھی پتہ چلتا ہے۔ مطالعۂ دیوان اس قسم کے اشاروں کا شاہد ہے کہ یہ دیوان واقعی کسی شاعر پُرگو، پرمغز اور صاف گو کی مِلک ہے۔ یہ دیوان فارسی و عربی تراکیب سے بوجھل نہیں ہے بلکہ اردو شاعری کے رواں اور خوش بیاں اسلوب کا حامل ہے۔ غافل کے اشعار میں میر کے شعروں کی سی روانی اور سادگی کا گماں گزرتا ہے۔ درجِ ذیل امثلا دیکھئے:

                قابلِ بارِ امانت  تھا  تو  یہ  آدم  ہی  تھا

                کب  اُٹھا  ارض و سما  سے  بوجھ  اس  مزدور  کا

ع             جب تک درست وضع نہ تھی ایک سنگ تھا

                ہم نے تراشا، تب کہیں وہ بُت صنم ہوا

                غافل وہ بھول جائے مجھے یوں ہزار حیف

                غافل نہ جس کی یاد سے مَیں ایک دم ہوا

ع             وہ  ہوا خوانِ چمن  ہوں  کہ  چمن  میں  ہر  صبح

                پہلے  مَیں  آتا  ہوں  اور  بادِ صبا  میرے  بعد

                سن کے مرنے کی خبر یار مرے گھر آیا

                یعنی مقبول ہوئی میری دُعا میرے بعد

ع             یاد آیا کوئی مے خوار اسے کیا ساقی

                آب دیدہ  جو  ترے  ہاتھ  میں  پیمانہ  ہوا

                کھیل ہے یار کو ٹھوکر سے جِلانا مُردے

                فخر کیا اس کا جو عیسیٰ سے یہ اعجاز ہوا

                جو نگہ نکلی تری چشم سے اک سحر ہوئی

                جو سخن نکلا ترے لب سے وہ اعجاز ہوا

ع             اس عمرِ رفتہ کا تم پوچھو ہو ماجرا کیا

                دو دن کی زندگی میں دیکھے عذاب کیا کیا

                گل آج پیرہن میں پھولا نہیں سماتا

                پہنی ہے اُس نے تیری اُتری ہوئی قبا کیا

                ہم دیکھنے پر اُس کے دیتے ہیں جان ناحق

                سو بار جس کو دیکھا پھر اُس کا دیکھنا کیا

                گر ضبط نہ کرتا مَیں فرقت میں تو کیا کرتا

                روتا تو لہو بہتا جلتا تو دھواں ہوتا

ع

 بسکہ مداح ہم تمھارے ہیں

 تذکرے دم بہ دم تمھارے ہیں

 غیرت کون سی ہے اے خوباں

 تم ہمارے ہو ہم تمھارے ہیں

 عہد و پیمان کا اعتبار ہو کیا

 جھوٹے قول و قسم تمھارے ہیں

 آپ اور آئیں میرے گھر معلوم

 جائو جی یہ بھی دم تمھارے ہیں

ع

 مزا تو زخم سلانے کا ہم کو تب ملتا

 جب اپنے ہاتھ سے وہ چاکِ دل رفو کرتے

 زباں اگرچہ دمِ نزع بند تھی اپنی

 جو آتے وہ تو اشاروں میں گفتگو کرتے

 مرہم وہ رکھے کب دلِ افگار کے اوپر

 تلوار لگاتا ہو جو تلوار کے اوپر

ع             آہ  آوارہ  پھرے  دشتِ طلب  میں  غافل

                اور خضر بھی اُسے رستہ نہ بتائے افسوس

                کیا غضب ہے نہ کھڑے رہنے کا ہو حکم ہمیں

                اور غیروں کو تو پاس اپنے بٹھائے افسوس

                آپ کو اب کھینچتا ہے وہ بتِ مغرور دور

                پاس جب جاتا ہوں کہتا ہے مجھ کو دور دور

                اپنے مجنوں کی ذرا دیکھ تو بے پروائی

                پیرہن چاک ہے اور فکر سلانے کی نہیں

تذکروں میں منقول غافل کے انتخابِ کلام کا موازنہ دیوانِ غافل سے کریں تو کئی ایسے اشعار سامنے آتے ہیں جو متنِ دیوان سے کلّی مطابقت نہیں رکھتے۔ ”تذکرہ طبقات الشعرائ” میں چوں کہ محض دو شعر نقل ہوئے ہیں اس لیے یہ دونوں شعر بعینہ دیوان میں موجود ہیں جب کہ ناصر اور مصحفی کے تذکرے غافل کے کثیر انتخابِ شعر کے حامل ہیں۔ ان اشعار کا تقابل متنِ دیوان سے کریں تو تین طرح کی صورتِ حال سامنے آتی ہیں۔ ایک قسم ایسے اشعار کی ہے جو متنِ دیوان سے کلّی مطابقت رکھتے ہیں۔ دوسری قسم ایسے اشعار کی ہے جو متن سے جزوی عدم مطابقت رکھتے ہیں جب کہ تیسری قسم میں کچھ ایسے اشعار بھی سامنے آتے ہیں جو ”دیوانِ غافل” میں موجود نہیں ہیں لیکن ان تذکروں میں منقول ہیں۔ طوالتِ بیاں سے بچنے کے لیے متنِ دیوان سے مطابقت رکھنے والے اشعار ذیل میں درج نہیں کیے جا رہے ہیں۔ مذکورہ بالا صورت کے پیشِ نظر پہلے ”تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا” کے اشعار کا متنِ دیوان سے تقابل درجِ ذیل ہے:

ترے  جانے  سے  یہ  صدمہ  ہوا  گل ہائے گلشن  پر

(دیوانِ غافل،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔)

گلے  رکھ  رکھ  دیے  غنچوں  نے  تیغ  برگِ سوسن  پر

یہ کس کے سبزۂ خط نے جلا کر مجھ کو مارا ہے

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا)

جو  سبزہ  جل  رہا  ہے  مثلِ شمع  سبز  مدفن  ہے

بہانے  میں  گزر  جاتے  ہیں  جیسے  بسملِ الفت

(یہ شعر ”دیوانِ غافل” میں موجود نہیں ہے)

کہ صدمہ ہاتھ کا بھی تیغ ہے لوٹن کبوتر پر

ردیف میں ردوبدل، متنِ دیوان سے اشعار کی مشابہت میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔ مثلاً دیوان میں شامل ایک غزل کا مطلع ہے:

بسملِ   تیغِ خوں چکاں   ہوں   میں

یعنی ایک دم کا مہماں ہوں میں

ناصر نے اس غزل کے منتخب اشعار میں ردیف کو ”ہوں میں” کی جگہ ”میں ہوں” کر دیا ہے:

مجھ میں اور یار میں ہے اتنا فرق

بے دہن وہ ہے بے زباں میں ہوں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں میں)

مثل تصویر لیلیٰ و مجنوں

یار بھی ساتھ ہے جہاں میں ہوں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں میں)

جو بلا ہے مجھی پر آتی ہے

(         ،   ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئی۔۔۔۔)

تیر بیداد کا نشاں میں ہوں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں میں)

یہ کون سا پروانہ موا جا کے لگن میں

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا جل ۔۔۔۔۔۔۔۔)

کیا نہ تھی یہ تیغ فولادی جو بل یوں کھا گئی

(         ، ب : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں بل ۔۔۔۔)

انتظارِ یار میں تن سے نہ نکلی جان اور

(         ،  ا  :  جان آنکھوں سے نہ نکلی انتظارِ یار میں)

موت بیٹھے بیٹھے بالیں پر مرے اکتا گئی

اے فرشتو دفتر عصیاں ابھی رکھو پرے

کھولنے دو پہلے اپنے خون کا محضر مجھے

(دیوانِ غافل، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دفتر ۔۔۔۔)

کیوں نہ بہکے زلف میں یہ دل فروغِ حسن دیکھ

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل وہ ۔۔۔۔۔۔۔)

دیتی ہے دھوکا مسافر کو سحر کی چاندنی

خط کا مضموں مرے وہ طفل سمجھتا کب ہے

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ x ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

معنیِ لفظ   میں   پوشیدہ   مرا   مطلب   ہے

تری تلوار کا منہ ہم سے پھر جائے تو پھر جائے

ہماری آنکھ قاتل کب تہہِ شمشیر پھرتی ہے

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔ کب قاتل ۔۔۔۔۔۔۔۔)

مرقع میری آنکھوں میں ہے کیا یارانِ رفتہ کا

(         ،  ا  : ۔۔۔۔ ہے مری آنکھوں میں۔۔۔۔۔۔)

جو نظروں کے تلے ہر ایک کی تصویر پھرتی ہے

ترے ناقے کا پتا کچھ نہ لگا اے لیلیٰ

(یہ شعر دیوان میں موجود نہیں ہے)

چھان ڈالے ترے مجنوں نے بیاباں کتنے

مرتے دم اے بے وفا دیکھا تجھے

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔او ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

ایک دم دیکھا تو کیا دیکھا تجھے

(         ، ب  : اک نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

اے پری رو کیوں نہ ہوں دیوانہ میں

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں دیوانہ ہوں)

بال کھولے بارہا دیکھا تجھے

”ریاض الفصحائ” میں مصحفی کے ترجمۂ غافل کا دیوان سے تقابل درجِ ذیل ہے:

جب آیا رحم عریانی پر مرے دیدۂ تر کو

(         ،  ا  : ترحم میری عریانی پر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

پہنایا  پیرہن   آبِ رواں   کا   جسمِ لاغر  کو

طوفِ کعبہ  کو  جو  دل  کھینچے  ہے  گاہے گاہے

(         ،  ا  : ۔۔۔۔x ۔۔۔۔ کھینچتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

کوئی تسبیح کا رشتہ مری زنار میں ہے

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔مرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

شکوہِ سلطنت  کے  آگے  کیا  ہے  حسن  کا  مرتبہ

(         ،  ا  : غرورِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔)

لیے  پھرتی  ہیں  پریاں  دوش  پر  تختِ سلیماں  کو

(         ، ب  : ۔۔۔۔تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

سبک ساروں  کو  خطرہ  کچھ  نہیں  قہرِ الٰہی  سے

(         ،  ا  : ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا)

خس و خاشاکِ کشتی   جانتے   ہیں   موجِ طوفاں   کو

نہیں ڈرتا ضعیفوں کی توانائی سے اے ظالم

(دیوانِ غافل ،  ا  : x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ڈرتا)

کہ  کھا  جاتا  ہے  اکثر  مورچہ  شمشیرِ براں  کو

صدمۂ ہجر مری جان اُٹھانے کی نہیں

تو نہ آوے گا تو کیا موت بھی آنے کی نہیں

(         ، ب  : ۔۔۔۔آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

تیری پازیب کی جھنکار یہی کہتی ہے

بختِ خوابیدۂ عاشق میں جگانے کی نہیں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔)

جو بلا ہے مجھی پہ آتی ہے

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر آئی۔۔۔۔)

تیرِ بیداد کا نشاں ہوں میں

کون   یہاں   ہم صفیر   ہے   میرا

(         ،  ا  : ۔۔۔۔یاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

طائرِ عرشِ آشیاں    ہوں    میں

ابھی   کاہیدہ   اور   کر   غمِ ہجر

خاطرِ یار   پر   گراں   ہوں   میں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

پھر صدمہ ہوا کوئی دلِ زار کے اوپر

آنسو جو ڈھلے آتے ہیں رخسار کے اوپر

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

اللہ  ری   یوسف   کی   مرے   گرمیِ بازار

(         ،  ا  : ۔۔۔۔ رے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔)

گرتا ہے خریدار خریدار کے اوپر

یک زخم کی بھی جا نہیں یہاں تن پہ ہمارے

(         ،  ا  : اک۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاں۔۔ ۔۔۔۔۔۔)

واں سان دھری جاتی ہے تلوار کے اوپر

یہ کون سا پروانہ موا جل کے لگن میں

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا ۔۔۔۔۔۔)

حیرت سی جو ہے شمع کی انگشت دہن میں

مضمون نہیں لکھتے ہم اُسے داغِ جگر کا

رکھ دیتے ہیں لالے کی کلی خطِ شکن میں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خط کی شکن۔۔۔۔)

عالمِ وحشت میں بھی اتنا تصور تھا ہمیں

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے اتنی دانائی۔۔۔۔)

وہ نہ رسوا ہو بلا سے اپنی رسوائی ہوئی

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

پائے مجنوں میں پڑے ہوویں گے چھالے ایک دو

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔)

پشتِ پا   تک   یہاں   تو   صرفِ آبلہ پائی   ہوئی

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔یاں۔۔۔۔صرف آبلہ۔۔۔۔)

دامن کا بھلا بوجھ کہاں یار سے سنبھلا

اٹھتی نہیں اس سے تو نزاکت بھی کمر کی

(دیوانِ غافل، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی۔۔۔۔۔۔)

کس طرح نالے کرے بلبل چمن کی یاد میں

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔نالہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔)

گھِس گئی اُس کی زباں تو شکوۂ صیاد میں

شعر کہنا آپ سے غافل کبھی آتا نہیں

عمر اک جب تک نہ کھو دے خدمتِ استاد میں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔لے۔۔۔۔۔۔۔۔)

قتلِ عاشق سے کجی ابرو میں تیرے آ گئی

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے۔۔۔۔۔۔)

کیا  نہ  تھی  یہ  تیغ فولادی  جو  یوں  بل  کھا  گئی

انتظارِ یار  میں  تن  سے  نہ  نکلی  جان  اور

(         ،  ا  : جان آنکھوں سے نہ نکلی انتظارِ یار میں)

موت بیٹھے بیٹھے بالیں پر مرے اکتا گئی

ابتدا ہی میں دکھائی عشق نے کیا انتہا

مُردنی منہ پر ہمارے جو ابھی سے چھا گئی

(         ، ب : دل کے لگتے ہی جو منہ پر مردنی سی۔۔۔)

اے   فرشتو   دفترِ عصیاں   ابھی   رکھیو   پرے

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکھو۔۔۔۔)

کھولنے دو پہلے اپنے خون کا محضر مجھے

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دفتر۔۔۔۔)

میرے تن میں اور ہے دو چار داغوں کی جگہ

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔پر۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔)

اپنے بھی تو داغ دے اے لالۂ احمر مجھے

چاہیے اب ہجر کے صدموں سے خوگر ہو رہوں

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا۔۔ ۔۔۔۔۔۔)

دیکھنا ہے ایک دن ہنگامۂ محشر مجھے

(         ، ب  : دیکھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

دور سے جھمکے سے مثلِ ماہ نو دکھلا گئے

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔جھلکی سی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

کُشتۂ دیدار  کو  تم  اور  بھی  تڑپا  گئے

(         ، ب  : بسملِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

کاٹھ میں پائوں کبھی تھا کبھی زنجیر میں تھا

کس  قدر  رنجِ اسیری  مری  تقدیر  میں  تھا

خوبیِ عضوِ بدن  کون  سی  ہے  جو  کہ  نہ  تھی

تینوں اشعار ”دیوانِ غافل” میں موجود نہیں ہیں۔

بول اُٹھنا ہی تو باقی تری تصویر میں تھا

تواماں خط کا مرے، وصل کی ہو ایک نہ حرف

بسکہ  مضمونِ جدائی  مری  تحریر  میں  تھا

پس از فنا بھی نہ اک جا ہمیں تو چین آیا

(دیوانِ غافل ،  ا  : ۔۔۔۔فنا بھی نہ یک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

فرشتے خاک میں پھرتے ہیں جستجو کرتے

رہائی میں بھی اسیر ہوں میں عجب طرح کا یہ ماجرا ہے

گلے سے مٹتا نہیں ہے میرے نشان اُس زلف کی رسن کا

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔ملتا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

شب  ہوئی  یہ  محوِ دید  اس  سیم بر  کی  چاندنی

(         ،  ا  : ۔۔۔۔کو تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

ہو گیا دن اور آگے سے نہ سرکی چاندنی

شمع کو روتے جو دیکھا اپنے بھی بھر آئے اشک

رات مجلس میں یہ ہم روئے کہ تَر کی چاندنی

(         ، ب  : ۔۔۔۔محفل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

ڈوبنا بحرِ محبت میں گوارا کرتے

ورنہ تھے ہم کہ جو مرنے سے کنارا کرتے

(         ، ب  : وہ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

نقشِ تصویر  کوئی  ہاتھ  نہ  آیا  ایسا

(         ،  ا  : ۔۔۔۔تسخیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

دل کے شیشے میں پری جس سے اتارا کرتے

نہ تو نام اس نے بتایا تھا نہ کچھ گھر اپنا

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا پتا)

ہم کہاں ڈھونڈتے کیا کہہ کے پکارا کرتے

مذہبِ اہلِ تصوف   بھی   عجب   ہے   جس   میں

دشمن و دوست   کا   یکساں   ہیں   مدارا   کرتے

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

کس  کے  جی  کا  تیغِ ابرو  سے  زیاں  ہوتا  نہیں

کان دھر کر سن تو توشیوں کہاں ہوتا نہیں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔۔۔تُو شہون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

حسن وہ شے ہے اگر کوئی زرِ گل کی طرح

 لاکھ پردے میں چھپاوے پر نہاں ہوتا نہیں

(         ، ب  : ۔۔۔۔۔چھپانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

 کیوں کہ قالین بنے سطحۂ صحرائے جنوں

(         ،  ا  : ۔۔۔۔۔قالین تہہ بنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

گل کھلاتے ہیں مرے آبلۂ پا کیا کیا

تذکروں میں موجود ترجمۂ غافل کے ضمن میں کلامِ غافل کے تقابل سے یہ واضح ہے کہ متنِ دیوان اور انتخابِ اشعارِ تذکرات میں تفاوت ہے۔ یہ تفاوت مصاریع کی سطح پر جزوی اور کلی دونوں اعتبار سے سامنے آتا ہے۔ اس اختلافِ نسخ سے یہ واضح ہے کہ بہ اعتبارِ اخذِ معانیِ اشعار ایسی صورتِ حال پیش آئی ہے۔ اشعار کو حسبِ پسند معانی کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش میں بھی ایسے تسامحات ہوئے ہیں اور اس تناظر میں صوتی ہم آہنگی بھی اختلافِ شعر کا باعث بنی ہے۔ جہاں تک مصاریع کی تبدیلی کا تعلق ہے وہاں بھی نقلِ اشعار کے باعث تسامح کا ہونا ممکن ہے۔ مزید یہ کہ غافل جیسا شاعر جس کے حالات کا پتہ محض مصحفی کے تذکرے سے چلتا ہے اور اردو ادب کے بیش تر تذکروں میں اُس کا نام تک شامل نہیں ہے۔ تواریخ ہائے ادب اور بیش تر تذکرے اُس کے ذکر سے عاری ہیں۔ اس طرح کے شاعر کے حالات اور اُس کے کلام کے بارے میں کھوج لگانا اتنا آسان نہیں ہوتا تاہم ہمیں اس شاعر کی فکرِ نازک اور طرزِ بلیغ کے منظرِعام پر آنے کے لیے نول کشور پریس کان پور اور اُردو ادب کے مذکورہ بالا تینوں تذکروں کا ممنون ہونا چاہیے جن کی وساطت سے اردو ادب کے اس گوہرِ بے بہا کا کلام ہمارے سامنے آیا ہے۔

حوالے

-1            شوق، قدرت اللہ، تذکرہ طبقات الشعرائ، مرتبہ نثار احمد فاروقی، ص٢٤١۔٢٤٢، لاہور: مجلسِ ترقیِ ادب، جنوری ١٩٦٨ئ۔

-2            ناصر، سعادت خان، تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا، مرتبہ مشفق خواجہ، ص٤٦١۔٤٦٢، لاہور: مجلسِ ترقیِ ادب، ١٩٧٠ئ۔

-3            بہ حوالہ ایضاً، ص٤٦٢۔

-4            مصحفی، غلام ہمدانی، ریاض الفصحائ، ص٢٣٣۔٢٣٤، اورنگ آباد(دکن): انجمنِ ترقیِ اردو، ١٩٣٣ئ۔

-5            ناصر، سعادت خان، تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا، مرتبہ مشفق خواجہ، ص٤٢۔

-6            بہ حوالہ ایضاً، ص٥٦۔

-7            ایضاً، ص٥٠۔

-8            دیوانِ غافل، کان پور، ص١٢٦۔١٢٧، منشی نول کشور پریس، دسمبر ١٨٩٧ئ، مخزونہ پنجاب پبلک لائبریری لاہور، ایکسیشن نمبر: ٨٥١٣٩ غا۔

-9            مصحفی، غلام ہمدانی، عقدِ ثریا، مرتبہ ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب، ص٢٨، علی گڑھ: مسلم ایجوکیشنل پریس، فروری ٢٠١٢ئ۔

-10          دیوانِ غافل، ص١٢٧۔

-11          ایضاً، ص١٢٨۔

________________

سینیئر مدیر / اسسٹنٹ پروفیسر

شعبۂ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ

علامہ اقبال کیمپس، جامعہ پنجاب لاہور، پاکستان

موبائل نمبر: 0334-4094711

e-mail : zahiranisar6@gmail.com

Title  :  “Munawwar Khan Ghafil , Lost Papers”

by  :  DR.  ZAHIRA  NISAR

Senior  Editor  cum  Assistant  Professor

Department  of  Urdu  Encyclopedia  of  Islam

Allama  Iqbal  Campus,  Punjab  University  Lahore, Pakistan

Mobile No:  0334-4094711

e-mail:  zahiranisar6@gmail.com

Abstract:

                Munawwar  Khan  Ghafil  was  an  un famous  poet.  He  was  in  the  good  book  of  Mushafi  and  his  pupil  also.  We  have  no  informations  about  him  in  literary  histories  and  tazkirat  except  Mushafi,  Nasir  and  Shoaq’s  tazkirat.  He  had  his  own  poetic  collection  arranged  alphabetically  called  “Diwan”.  His  poetry  presents  the  picture  of  simplicity,  meaningfulness,  creativity.  He  had  extra  ordiniary  skill  of  poetry,  thats  why  he  got  a  lot  of  appriciation  from  Mushafi.  Study  of  his  “Diwan”  not  only  shows  his  poetic  skills  but  also  stands  him  among  unique  poets  of  Urdu  Literature.

Leave a Reply

1 Comment on "”منور خاں غافل، اوراقِ گم گشتہ”
"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
trackback

[…] ”منور خاں غافل، اوراقِ گم گشتہ” […]

wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.