پروفیسر محمد حسن: بحیثیت نقاد        

 شمیم اختر٭

آزادی کے بعد کے مشاہیر ادب میں پروفیسر محمد حسن کا نام کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں جن دانشوروں نے اردو ادب کے گیسو سنوارے ہیں ان میں پروفیسر محمد حسن اپنی مجاہدانہ سرگرمیوں اور مُثبت فکر ونظر کی وجہ سے منفرد وممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ نے محقق، نقاد، تخلیق کار، صحافی، منتظم اور مبصر ہر حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں اور اپنے خون جگر سے اردو ادب کی آبیاری کی ہے۔ پروفیسر محمد حسن اردو کے معتبر نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب ڈرامہ نگار بھی ہیں، صحافی بھی ہیں اور شاعر بھی، افسانہ نگار بھی ہیں اور ناول نگار بھی، مبصر بھی ہیں اور شخصیت نگار بھی، لیکن ادب میں جس شعبے سے ان کی شناخت قائم ہوتی ہے اور جس نے ان کی شخصیت کو بھی ایک اہم معنی سے سرفراز کیا ہے وہ تنقید ہے۔

پروفیسر محمد حسن ایک ایسے نقاد ہیں جو اپنی وسیع فکر کے ذریعہ نئی نسل کے ذہنوں کو متاثر کرتے رہے ہیں اور اپنی بے لاگ تنقید  کے ذریعہ اردو ادب کی مختلف جِہتوں کو متعارف کراتے رہے ہیں، انھوں نے اپنی تنقیدی بصیرت سے نہ صرف اردو ادب کے ذخیرہ میں اضافہ کیاہے بلکہ نئی نسل کی ذہن سازی بھی کی ہے ۔

1917ء کے انقلاب روس نے ایک نئے نظام فکر کے تحت ایک نئے معاشرے کی داغ بیل ڈالی جسے اشتراکی سماج کہا جاتا ہے۔ شعر وادب اور فکر وفن کا میدان بھی اِس سے متاثر ہوا۔ ادیبوں اور فنکاروں نے اس نئے نظام فکر کے تحت لکھنا شروع کیا تو فن پاروں کی قدر وقیمت کے تعین لئے تنقید کا ایک نیا دبستان وجود میں آیا جسے مارکسی یا ترقی پسند تنقید کہا جاتا ہے۔ پروفیسر محمد حسن کا تعلق تنقید کے اسی دبستان سے ہے۔

پروفیسر محمد حسن عام ترقی پسند خیالات کے مطابق ادب کے فاعلی کردار کے قائل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ادب ہماری سماجی زندگی میں تبدیلی لاتا ہے اور اُس کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوششوں میں معاون ہوتا ہے، گویا ادب سماجی وتہذیبی زندگی کی ارتقائی سفر میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایک مہذب ومتمدن معاشرہ کی تشکیل میں معاون ہوتا ہے، اس سلسلہ میں پروفیسر محمد حسن اپنی کتاب ”ادبی تنقید” کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:

” مجھے اس کا قطعی انکار نہیں کہ ادب انسانی زندگی اور اُس کے تہذیبی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے اور اُس کی تعمیر وتشکیل میں مختلف طریقوں سے حصہ لیتا ہے”۔ (ادبی تنقید: ٧)۔

لیکن اسی کے ساتھ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ادب کی یہ اثر پذیری، تہذیب وثقافت کی تشکیل میں ادب کا تعاون، براہ راست نہیں ہوتا، یعنی ادب کا کام حکم نامے جاری کرنا یا مسئلے کا فوری حل دینا نہیں ہے اور نہ ہی قوموں کے ہاتھ میں ہتھیار دینے کا ہے، بلکہ ادب خوابیدہ احساسات میں تبدیلی لانے اور آرزؤں وتمناؤں کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ لکھتے ہیں:

” میرا یہ عقیدہ ہے کہ ادب کا اعلیٰ ترین حصہ زندگی کو براہ راست نہیں بدلتا، وہ نعروں میں باتیں کرنے، مسائل کا فوری حل دینے سے زیادہ نسبتا دیرپا عناصر سے بحث کرتا ہے”۔  (ادبی تنقید: ٧)۔

پروفیسر محمد حسن نے نظریاتی وعملی تنقید کے ہر دو پہلو سے سروکار رکھا ہے۔ وہ نظریاتی اعتبار سے ایک روشن خیال اور کشادہ ذہن شخصیت کے مالک ہیں اسی وجہ سے ان کی تنقید نگاری ترقی پسند ہوتے ہوئے بھی مختلف ہے۔ ان کی تنقید نگاری کی فکری اساس کافی وسیع ہے۔ ایک طرف وہ ادب کے زندگی اور سماج سے گہرے تعلقات کے قائل ہیں اور ادب کو سماج کا معمار، اَخلاق کا معلم اور سیاست کا راہبر مانتے ہیں تو دوسری طرف عام ترقی پسند ناقدین کے مقابلہ جداگانہ لَے میں گفتگو کرتے ہیں، اور ان قدروں کا بھی لحاظ رکھتے ہیں جو ادب کو ابدیت اور آفاقیت بخشتے ہیں، وہ مقصدی ادب کے قائل ہونے کے باوجود فنی جمالیات کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

”ہمارے تنقید نگاروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ادب پہلے آرٹ ہے اور بعد کو کچھ اور اُس پر فن کے اصولوں کا اطلاق ہوگا”  (ادبی تنقید: ٧٢ـ٨٢)

ایک جگہ اور شاعری سے متعلق فرماتے ہیں:

”شاعری کا کوئی موضوع اور مقصد کیوں نہ ہو اسے سب سے پہلے اعلیٰ ادب پارہ ہونا چاہئے۔ اگر کوئی شاعری اِس معیار پر پوری نہیں اترتی تو وہ کتنی ہی کامیاب اور کارآمد کیوں نہ ہو ادب میں جگہ نہیں پاسکتی۔ ” ۔ (ادبی تنقید: ١٣ـ٢٣)

اس اعتراف کے ساتھ کہ انداز بیان کسی تحریر کو فن اور آرٹ کا درجہ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پروفیسر محمدحسن کے نزدیک ادب عالیہ کے لیے سبھی کچھ انداز بیان ہی نہیں ہے، کیونکہ بسا اوقات بوسیدہ موضوع الفاظ کے تراش خراش کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے جس میں نہ کوئی فلسفہ ہوتا ہے اور نہ کوئی فکر، یہ ادبی جمود کی عَلامت ہے، اور اِس مقام پر انداز بیان صحت مند ادب کا نشان ہونے کے بجائے پھکڑ پن کی عَلامت بن جاتا ہے، اسی وجہ سے پروفیسر محمد حسن کے نزدیک وہ ادب جو صرف جمالیاتی آسودگی کا ذریعہ ہو، جس سے صرف حظ وسرور حاصل ہو، بہتر ادب نہیں قرار دیا جاسکتا۔ بلکہ اعلیٰ ادب وہ ہے جس میں کوئی واضح فکری عنصر ہو، فنی جمالیات کے ساتھ ساتھ زندگی اور سماج سے بھی اُس کا رشتہ مضبوط ہو، جس کے ذریعہ سماجی اصلاح کا کام لیا جاسکے اور ساتھ ہی زندگی کو نئے زاویہ سے دیکھنے کا وژن پیدا ہو۔

فن اور آرٹ کی تخلیق میں انداز بیان اور طرز ادا سے متعلق آپ نے اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی ہے کہ انداز بیان کا دائرہ محض اسلوب یا ہیئت تک محدود نہیں کیا جاسکتا، بلکہ بہتر موضوع کا انتخاب اور اُس کے پیچھے خلوص واحساس کی شدت بھی بہتر انداز بیان کا ضامن ہوسکتا ہے،موصوف کا خیال ہے کہ انداز بیان کا دائرہ کافی وسیع ہے جس میں موضوع سے لیکر احساس کی شدت، طرز فکر اور اظہار تک سبھی چیزیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتی ہیں، اور ایک موثر اور تابناک انداز بیان کے وجود میں معاونت کرتی ہیں۔ لہٰذا اِن میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:

” انداز بیان کے بارے میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اِسے موضوع اور نفس مضمون سے جدا نہیں کیا جاسکتا، اگر موضوع کے پیچھے احساس کی شدت اور خلوص ہے تو اس کے نشان، انداز بیان کی تابناکی اور شادابی میں بھی ملیں گے، اگر جذبہ بے روح اور خیال باسی ہے تو وہی تھکن انداز بیان میں بھی پائی جائے گی” (ادبی تنقید، صفحہ ٩١)۔

پروفیسر محمد حسن ادب کی تخلیق میں ادیب کی انفرادیت کے بھی قائل ہیں۔ ان کے نزدیک ادب محض چند بندھے ٹِکے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر متعینہ حقائق کی عقدہ کشائی نہیں بلکہ فرد کی انفرادیت، اس کی داخلی آنچ، اس کی سوچ کا بھی بہت کچھ دخل ہوتا ہے، فنکار خارجی واقعات وحادثات کو اپنے داخلی آنچ کی بھٹی میں تپا کر شعر ونغمہ کا تجربہ کرتا ہے، جس میں ایک حصہ فرد کی انفرادی خصوصیات کا ہوتا ہے، لکھتے ہیں:

”اگر حقیقت یا عصری حسیت اجتماعی اور متعین ہے اور اس کو ادا کرنے والے شعری یا فنی سانچے مقرر ہیں تو پھر فن کار کی فنکاری اور شاعر کی ساحری اور تخلیقی اپج کی شناخت کیا ہے؟ کیا فنکار محض ضابطے کا غلام عکاس ہے جس کی حیثیت آج کے دور کے کیمرے سے زیادہ نہیں”۔ (مشرق ومغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ: ٠٤١)

پروفیسر محمد حسن شعر وادب میں فرد کی اہمیت کے قائل تو ہیں لیکن ادب کی تخلیق میں فرد کی حیثیت ضمنی تصورکرتے ہیں مرکزی یا کلی نہیں۔ کیونکہ سماج مرکب ہے مختلف انفرادی زندگیوں سے، لیکن سماج صرف انفرادی زندگیوں کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ انفرادی زندگی صرف ایک مظہر ہے اور سماج کے اور بھی مظاہر ہیں، آپ کے خیال میں فرد ادب اور سماج کے درمیان صرف ایک وسیلہ یا رابطہ ہوتا ہے جو ادب کے سماج تک رسائی کا ذریعہ ہوتا ہے اور ادب وسماج میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ لکھتے ہیں:

”تخلیقی فنکار بحیثیت فرد کے اجتماعی شعور واحساس بلکہ وسیع تر دانش عصر کا وسیلۂ اظہار ہے اور اِس دانش عصر میں محض نجی تجربہ ہی نہیں، قدیم دور کی کار آمد بصیرت بھی شامل ہے۔ فرد محض وسیلہ ہونے کی حیثیت سے مرکزی نہیں ضمنی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تخلیقات میں اس کی ذات اور نجی شخصیت کو نہیں اجتماعی افکار واحساسات کی دولت کو تلاش کرنا چاہئے جو انسانی تہذیب کا لب لباب ہے”  (مشرق ومغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ: ٨٨)

پروفیسر محمد حسن مارکسی مکتب فکر سے وابستہ ہونے کے باوجود اپنے متوازن نظریات کے سبب جدیدطرز اظہار کا بھی کھلے دل سے خیر مقدم کرتے ہیں، اور سچی جدیدیت کو نئی ترقی پسندی قرار دیتے ہیں کیونکہ ترقی پسندی ان کے نزدیک کوئی فارمولا یا مذہب نہیں بلکہ ایک سائنٹی فک انداز نظر ہے۔ وہ ترقی پسندی کی توضیح اس طرح کرتے ہیں:

”یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ ترقی پسندی کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ ہر نظم یا افسانہ حل ضرور پیش کرے یا خواہ مخواہ رجائیت کا روپ دھارے۔ ترقی پسندی کے معنی توصرف یہ ہے کہ وہ پڑھنے والوں میں سماجی تبدیلی کی صحت مند خواہش بیدار کرے اور اشارے کنایے ہی سے سہی ان میں صحت مند تجسس اور منزل کی خواہش جگائے”۔ (جدید اردو ادب: ١١٢ـ٢١٢)

پروفیسر محمد حسن کا خیال ہے کہ اگر جدید ادب مریضانہ داخلیت سے پاک ہو اور لایعنی قسم کا الجھاؤ نہ ہو تو اسے ترقی پسندی ہی کی نئی صورت سمجھنی چاہئے، کیونکہ ترقی پسندی عروس حیات کو سنوارنے کی کوششوں سے عبارت ہے، اور اِس کا کوئی ایک پیمانہ مقرر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ زندگی رنگا رنگ ہے اور اس کی حقیقتیں انیک، لہٰذا اِس کے پیشکش کے طریقے بھی مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن پیرایۂ اظہار کے اختلاف سے نقطہ نظر کا مختلف ہوجانا ضروری نہیں ہوتا۔

پروفیسر محمد حسن یوں تو شعر وادب کی پرکھ میں ترقی پسند اصولوں کے علاوہ فن کے دوسرے مسلمات کو بھی تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کی وفاداری بہرصورت ترقی پسند نظریات سے ہی وابستہ ہے، چنانچہ وہ ادب کا سب سے اہم مقصد سماجی عکاسی اور اس کو تبدیل کرکے بہتر بنانے کی جدوجہد ہی کو قرار دیتے ہیں، اسی وجہ سے وہ سماجی عکاسی کو ادیب کا سب سے بڑا آدرش قرار دیتے ہیں، لکھتے ہیں:

”ہر آرٹسٹ کا سب سے بڑا آدرش یہی رہا ہے کہ وہ زندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے اور اپنی اِس نجی دریافت کو سماجی تجربے کی حیثیت بخش سکے …… غور کیجئے تو تجربات کی یہ انفرادیت، خلوص، سچائی اور اسے سماجی تجربے میں ڈھالنا ہی سارے آرٹ کا ماحصل ہے” (شعر نو: ٤١ـ٥١)۔

پروفیسر محمد حسن بنیادی طور پر ترقی پسند نقاد ہیں لیکن اپنی ذہنی کشادگی وفکری تنوع کے سبب عام ترقی پسند نقادوں سے ممتاز ہیں۔ ان کی تنقید نگاری میں بے جا شدت نہیں، بلکہ انہوں نے ترقی پسند نظریات ودوسرے تنقیدی اصول ونظریات میں ہم آہنگی پیدا کرکے کلی تنقید کی بنیاد ڈالی ہے، جس میں تناسب، ہم آہنگی، ادب کی عصریت، انفرادیت اور آفاقیت جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب ”ادبی تنقید” کے دیباچے میں اپنے تنقیدی موقف سے متعلق مختلف گوشوں کو واضح کیا ہے۔ مثلاً:

”ادبی حسن اور ادبی انداز نظر کے بغیر کوئی فن پارہ ادب کے دائرے میں شامل نہیں ہوسکتا ……… عظیم آدرش کی لگن اور عروس حیات کو سنوارنے کے جذبے کے بغیر ادب میں عظمت پیدا نہیں ہوسکتی ……… جب تک ہم ابدی قدروں کے وجود، فنی حسن کی ضرورت اور ادب کے مخصوص سماجی طریقۂ کار کو نہیں سمجھیں گے ادبی بحران کا یہ دور ختم نہ ہوگا” (ادبی تنقید: ٩ـ٠١)

پروفیسر محمد حسن کے نزدیک ادب چاہے جس قسم کا بھی ہو، واضح طور پر اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، اچھا ادب اور برا ادب، اچھا ادب وہ ہوگا جو جمالیاتی آسودگی کے ساتھ انسان کی بنیادی قدروں سے بھی رشتہ استوار رکھے اور جو ادب ان دونوں میں سے کسی ایک صفت سے متصف ہوگا اسے اچھا ادب نہیں قرار دیا جائے گا۔

پروفیسر محمد حسن کے تنقیدی تصورات کی موزونیت صرف نظریاتی مباحث تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انہوں نے عملی تنقید میں بھی انہیں تصورات کو پیش نظر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے شاعری، افسانہ، ڈرامہ اور دوسرے اصناف کے علاوہ سماجی وادبی تحریکوں کا بھی جائزہ لیا ہے، اور تنقید کے آفاقی قدروں کو ملحوظ رکھنے کی سعی کی ہے ۔

پروفیسر محمد حسن کے تنقیدی نظریات اور عملی تجزیئے ان کے متعدد تنقیدی مجموعوںمیں بکھرے پڑے ہیں۔ انھوں نے تنقید وتحقیق کو ہم آہنگ کرکے یک موضوعی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی کتابیں تحقیق وتنقید کے نئے معیار سے آشنا کراتی ہیں، نیز ادب کی تاریخ اور اس کے متعدد گوشوں پر ان کی گہری نگاہ کو بھی ثابت کرتی ہیں، پروفیسر محمد حسن کی تنقیدی وتحقیقی کارگزاریوں کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کئی ایک اہم کتابیں یادگار چھوڑی ہیں جو اردو تنقیدنگاری میں بیش بہا اضافہ ہے، مثلاً: ادبی تنقید، شعر نو، اردو ادب میں رومانوی تحریک، دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی وفکری پس منظر، جدید اردو ادب، ادبی سماجیات، مشرق ومغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ، مشرقی تنقید، عرض ہنر، معاصر ادب کے پیش رو، ادبیات شناسی، اردو ادب کی سماجیاتی تاریخ وغیرہ۔ تنقید وتحقیق کے سلسلہ کی یہ کتابیں پروفیسر محمد حسن کی تنقیدی خدمات کو اجاگر کرتی ہیں ۔

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.