کلام نظیر کے انگر یزی تراجم

 ڈاکٹر ابو شہیم خان

شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی

ساگر 470003 مدھیہ پردیش

                shaheemjnu@gmail.com Mob;07354966719#

 انیسو یں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جب اردو میں مغربی اصولوں کے تحت تاریخ نویسی اور تنقید نگاری کا آغاز ہو رہا تھا ۔ اور ہم احساس شکست کے ساتھ احساس کمتری کا بھی شکار تھے اور ہما ری اثر پذیری کا دائر ہ محدود تھا اس لیے ہم نے ایران اور مغرب کے نام نہا د تہذ یبی بر تری کے رویوں کو خود پر منطبق کر نے کی کو شش کی اوراس طرح کے رویوں کا انجام یہ ہوا کہ خود ہندوستا نیوں کی نظر میں بیدل ،غالب اور اقبال جیسے بڑے شاعروں کے فارسی کلام پایہء ثبوت سے ساقط قرار پائے ۔ شبلی نعمانی کی شعر العجم اس کی واضح مثال ہے جہاں تک نظیر اکبرآبادی جیسے پر گو اور قومی حسیت کے حامل شا عر کا تعلق ہے تو اسے ناقابل استنا د تو کجا زیادہ ترنا قابل اعتنا ہی سمجھا گیا ۔ لیکن پہلے فیلن وغیرہ کا اعتراف اور پھر ترقی پسندوں کی ارضیت پسندی نظیر کو معتبر اور معتمد بنانے میں کافی معاون ہوئی۔ بہر کیف جب ہم بات کرتے ہیں کلام نظیر کے انگر یزی تراجم کا تو یہاں بھی ان پر متر جمین کی و یسی توجہ نظر نہیں آتی ہے جس طرح وہ نظیر سے کہتر اور دوسرے درجہ کے شعراء کے کلام کو سمجھنے اور سمجھانے میں غلطاں و پیچاں ہیں ۔ لیکن عالمی تقاضے اور خود کی بازیافت کی خواہش نظیر اکبرآبادی پر بھی از سر نو غور کرنے کا سبب ہو ئی اور وقت کے ساتھ اس میں سرعت آتی گئی ۔خاص کر پچھلے پچیس تیس برسو ں میں برقیاتی انقلاب و مہاجرت نے مختلف تہذیبوں کے اختلاط کے عمل تیز تر کیااورً مختلف تہذیبوں کی بیچ کی دوریوں میں کمی اور تہذیبی تصادم کے نظریہ کو ضرب پہنچی ۔ عالمی گاؤں یا گلوبل ولیج (Global Village) کا تصور ایک حقیقت بنا۔ ایک دوسرے کو اور بہتر طریقے سے جاننے اور سمجھنے کا عمل تیز تر ہوا اور اس میں اپنی پہچان و شناخت قائم کرنے کی خواہش و ضرورت بھی۔ دنیائے ادب میں جس عالمی ادب کا تصور بہت زمانے تک مبہم تھا اب اس کے امکانا ت کے نقوش زیادہ روشن ہو ئے۔ ادب اور اس کا تر جمہ دنیا کے عرفان و آگہی کا ذ ریعہ اور عالمی ادب کے تصور کو ایک ٹھوس حقیقت میں تبدیل کرنے کا ایک ناگزیر وسیلہ بنا۔پروفیسر محمد حسن عالمی منظر نامے میں ترجمہ کی افادیت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ آج جب دنیا کی طنابیں کھنچ رہی ہیں اور عالم گیر سطح پر ایک اکائی بنتا جا رہا ہے کوئی بھی زبان ترجمہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ جب تک نئے خیالات کا خون اور نئی آگہی کا نور رگ و پے میں سرایت نہ کرے زندگی دشوار ہے۔ یہی نہیں بلکہ آج کی دنیا میں زبانوں کی مقبولیت پھیلاؤ اور اہمیت کا دارو مدار بڑی حد تک ان کے مفید ہونے پر ہے۔ اور افادیت کا پیمانہ یہ ہے کہ کوئی زبان اپنے زمانے کے علمی سرمایے اور ادبی ذخیرے کو کس حد تک اپنے پڑھنے والوں تک پہنچانے کی اہل ہے۔ اردو زبان کی خوش بختی ہے کہ اس نے ترجمے کی روایت کو ابتدا ہی سے اپنایا اور اپنے دریچے باہر سے آنے والی ہواؤں کے لیے کھولے اور بین الاقوامی کلچر کے نقوش سے اپنی محفل کو آباد کیا۔ اس دور تک آتے آتے وہ پرانی روایت بھی ناکافی ہوئی اور نئی دنیاکے تہذیبی سیاق و سباق نے برق رفتاری کے ساتھ ترجمے کے کام کو پھیلانے کو ناگزیر بنا دیا۔‘‘

 نظیر اکبر آبادی کی زندگی اور کلام سے متعلق اردو کے ساتھ دوسری زبانوں میں بھی بہت سی کتابیں اور مضامین شائع ہوئے۔انگریزی میں جو کتابیں اور مضامین شائع ہوئے ان میں پروفیسر محمد حسن کی دو کتابیں Nazir Akbarabadi جو ساہتیہ اکادمی دہلی سے درحقیقت مونوگراف کی شکل میں شائع ہوئی اور People’s Poet of India: Nazir Akbarabadi قابل ذکر ہیں ۔ اس کے علاوہ سید محمد عباس کی کتاب The Life and Time of Nazir Akbarabadi اس حوالے سے کافی اہم ہے ۔ جن مترجمین نے نظیر اکبر آبادی کو بھی اپنے مجموعوں میں شامل کیا ہے ان میں ایک نام K.C. Kanda کا ہے جنہوں نے اپنی کتاب Materpieces of Urdu Nazm میں پہلے نظیر اکبر آبادی اور ان کی شعری خدمات کا تعارف

..2..

اس کے بعد بنجارہ نامہ، آدمی نامہ، بڑھاپا اور روٹیاں جیسی مشہور نظموں کا ترجمہ انگریزی قا رئین کے لیے پیش کیا ۔ احمد علی نے اپنا ترجمہ The Gypsy کے عنوان سے کیا شمس الرحمن فاروقی اور Frances W. Pritrchettنے نظیر اکبر آبادی کے شہر آشوب ’’ دنیا ئے دوں کے تماشے‘‘ کا ترجمہ The Vile World Carnival: A Sahr-asoab کے نام سے Annual Studies of Urdu کے لیے کیا۔ Frances W. Pritrchett نے تر جمے کے ساتھ صنف شہر آشوب پر ایک تنقیدی مضمون بھی لکھا ۔ اسی میگز ین کے لیے مشرف علی فاروقی اور میشیل فاروقی نے نظیر اکبر آبادی کی نظم ’’ آچار چوہوں کا‘‘تر جمہ Mause Pickle کے نام سے کیا ۔

آئیے پہلے بات کرتے ہیں شمس الرحمن فاروقی اور Frances W. Pritrchett کی اور ان کے تراجم کی ۔شمس الرحمن فاروقی کی حیثیت جدیداردو تنقید کے دبستان کے رہبر کی ہے۔وہ ایک منفرد شاعر،افسانہ نگار ناول نگاراور ایڈیٹر ہیں ۔جہاں تک ان کے انگریزی تراجم کا سوال ہے تو یہاں بھی ان کی نابغائی حیثیت مسلم ہے ۔علامہ اقبال کی نظم ذوق و شوق،فیض کی نظم ملاقات یعنی Brief Meeting ،ساقی فاروقی کی پیتس نظموں کا ترجمہListening Game:poems by Saqi Farooqفا رسی اشعار کا ترجمہ The Shadow of a Bird in Flight A Collection of Persian Verses اسی طرح تنقیدی محاکموں کے ساتھ غالب اور ظفر اقبال کی غزلوں کے تراجم The Secret Mirror اور ن م راشد کی نظم Travel Dairy اورجراء ت کے شہر آشوب کا ترجمہ In the Presence of Nightingle:A Shahr Ashob by Jurat اور نظیر اکبر آبادی کے شہر آشوب کا ترجمہ The Vile World Carnival: A Sahr-asoab قابل ذکر شعری تراجم ہیں ۔اس کے علاوہ نثری اصناف کے تراجم بشمول اپنے ناول کئی چا ند تھے سر آسماں کا ترجمہ شعری و لسانی تو سیع کی سنگ میل ہیں۔

شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ کولمبیا یو نیور سٹی میں زبان و ادب کی پرو فیسر ایمر یٹس Frances W. Pritrchett کا نام غیر اردو داں طبقہ سے اردو زبان و ادب کو متعارف کرانے والوں میں بہت اہم ہے ۔انا میری شمل ،ڈیوڈ میتھوز، رالف رسل اور دوسرے مشتشر یقین میں بھی ان کو ایک خاص پہچان اور مقام حاصل ہے Annual of Urdu Studiese ,Indian Literature, Journal of South Asian Literature میں ان کے تراجم مستقل شائع ہو تے رہتے ہیں ۔A Desertful of Roses غا لب کی غزلوں کے تراجم اور A Garden of Kashmir میر کی غزلوں کے تراجم ان کی آن لا ئن ویب سائٹ کا مستقل حصہ ہیں ۔اس کے علاوہ ن ۔ م راشد وغیرہ کی نظموں پریم چند کے افسانوں اور محمد حسین آزاد کی آب حیات، نذیر احمد کی مراء ۃ العروس، سرشار کی فسانہء آزاد، ،داستان امیر حمزہ اور طلسم ہو ش ربا کے بعض حصوں کے انگریزی تراجم کیے اور غیر اردو داں طبقے میں اردو زبان وادب سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

شمس الرحمن فاروقی اور Frances W. Pritrchett نے نظیر اکبر آبادی کے شہر آشوب ’’ دنیا ئے دوں کے تماشے‘‘ کا تر جمہ The Vile World Carnival:A Sahr-Asobکے نام سے کیا ۔ اس شہر آشوب سے پہلے یہ مشترکہ طور پر جراء ت کی مخمس شہر آشوب ’’ حضور ببلبل بستاں کرے نوا سنجی ‘‘کا ترجمہ In The Presence of the Nightingale کے عنوان سے کیا ۔ اس سے پہلے کسی شہر آشوب کا ترجمہ نہیں ہوا تھا ۔اولاً یہ ان دونوں شہر آشوب کو مروجہ شعری اصطلاح کی رو سے شہر آشوب سمجھتے ہی نہیں ہیں کیو ں کہ جراء ت کی نظم میں کو ئی سماجیاتی تو ضیح یا سیاسی تنقید نہیں ہے ۔اور شاعر نہ ہی اپنے شہر کے سماجی و معاشی زوال کا نو حہ کر رہا ہے بلکہ جراء ت نے سماج کے جن ارزل طبقات کا بیان کیا ہے ان سے اس قت کے لکھنؤ کی نما ئندگی نہیں ہو رہی ہے ۔اسی لیے شمس الرحمن فاروقی جراء ت کی اس نظم کو ہجو نو شاعراں با لخصوص ظہو ر اﷲ نوا کا ہجوسمجھتے ہیں۔ آخری بند سے اپنے دعوے کی دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔

 عبث عدو کو ہے جر ات سے ہم سری کا خیال کہ بھو لے اپنی بھی کوا چلے جو ہنس کی چال

 کہو یہ بات اڑادے حسد کو جی سے نکال ہنسے گل اس پہ جو پھد کی پھلا پھلا برو پال

 حضور بلبل بستاں کرے نوا سنجی

مندر جہ بالا بند سے نظم کی عمومی فضا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔در اصل اس نظم میں لکھنؤ کی عام قشرہ پرستی ،ظاہر داری ، شیخی اور پھو ہڑ پن کا ہجو ہے اسی لیے متر جمین نے اس نظم کا عنوان In the Presence of Nightingle:A Shahr Ashob by Jurat مقرر کیا ہے ۔

اسی طرح وہ نظیر کی نظم کو بھی شہر آشوب نہیں سمجھتے ہیں ۔ کیو ں کہ اس میں بھی مخصوص شہر اور اہل شہر کے قابل افسوس تا ریخی احوال کے بجائے چرند پرند کا ذکر زیادہ ہے اور اصل حالت کے بجائے ایک اضطراری کیفیت کا بیان ہے ۔اور نظیر جب بار بار یہ کہتے ہیں کہ’’ غرض میں کیا کہوں ،دنیا بھی کیا تماشا ہے‘‘ تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے تخیئل کو فیل بے زنجیرکر رہے ہوں اور کسی منطقی اتصال کے خواہاں نہ ہوں نتیجتاً نظم کے موڈ کی کلبیت اور ترشی میں کمی آتی ہے اور نظم تاریخی و سماجیاتی بیا نیہ ہو نے کے بجائے اضطراریت کا شکار ہو جاتی ہے ۔ نظیر اکبر آبادی پر تحقیق کرنے والے Jeffery Donaghue کا ماننا ہے کہ نظیر اس نظم میں کبیر کی الٹی بانی سے متاثر نظر آتے ہیں جہاں کمبل برستا ہے اور پانی بھیگتا ہے ۔بہر کیف اس نظم کے عنوان ’’ دنیا ئے دوں کے تماشے‘‘ کا ترجمہ بڑا دلچسپ ہے The Vile World Carnival:A Sahr-Asob یعنی دنیا ئے دوں کے لیے The Vile World کی تر کیب استعمال کی گئی ہے جو کی بالکل درست ہے اور لفظ تماشہ کے لیے Carnival کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ Carnival رومن کیتھلک ممالک میں اربعین یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی یاد میں چالس روزے رکھنے یعنی Lent سے قبل مناے جانے والے تہوار کو کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل کا تماشہ ترجمے میں تہوار ہو گیا ۔لیکن یہاں منشائے مترجمین خاص کر Frances W. Pritrchett کو مخصوص ثقافتی تشریط یا Cultural Conditioning کا پا بند نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ کیو ں کہ نظم کی پوری فضا معکوس اور منقلب حالات کے بیان سے پر ہے اور Carnival کے مو قعے پر معکوس اور منقلب حالات کا بیان جدید یورپ کے اوائلی دور کا پسندیدہ مو ضوع رہا ہے ۔ جیسا کہ Peter Burkeنے اپنی کتاب Popular Culture in Early Modern Europe میں بیان کیا ہے کہ

” There was physical reversal ; people standing on their heads ,cities in the sky ,the sun and moon on earth ,fishes flying ,or that favorite item of carnival procession ,a horse going backwards with its rider facing the tail .there was a reversal of the relation between man and beast ……Also represented was the reversal of the relation between man and man ,whether age reversal sex reversal ,or other inversion of status The son is shown beating his father ,the pupil beating his teacher ,servants giving orders to their masters the poor giving alms to the rich the laity saying mass or preachig to the clergy ,the king going on the foot while the peasant rides ,the husband holding the baby and spinning while his wife smokes and hold a gun”

 .

 بہر کیف اس اعتبار سے تماشے کا ترجمہ Carnival میں اصل کی باز گشت سنی جا سکتی ہے ۔ آئیے تھوڑا آگے بڑھتے ہیں اس شہر آشوب کا ایک بند ہے

 چکو ریں گھستی ہیں اور گدھ و گھگھو بڑ ھتے ہیں پتنگے بوند ہیں ،مچھر فلک پہ چڑ ھتے ہیں

 کتا بیں کھول چغدبیٹھے ،آیہ گڑھتے ہیں نماز بلبلیں ،طوطے قرآن پڑھتے ہیں

 غرض میں کیا کہوں ،دنیا بھی کیا تماشا ہے

اس بند کا ترجمہ یوں کر تے ہیں۔

Chakoras pine away ,owls and vultures are on the rise

Midges and mosquitoes mount to the skiese

Screech-owls compose holy verses to say

parrots read the Qur’an and nightingales pray

There isn’t much,in short,to say-

The world is such a fine display

پہلے مصر عے میں چکور کے لیے Chakora کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ مشرق وسطی سمیت جنوبی ایشیاء میں پائے جانے والے Alectoris Chukar کا عام متبادل ہے ۔ظاہر ہے یہ پرندہ انگریزی بولے جانے والے ممالک میں نہیں پایا جاتا ہے اس لیے اس کا لفظی متبادل بھی ممکن نہیں ہے چہ جا ئے چکور سے وابستہ استعاراتی معنوں کا ترجمہ کیا جائے اس کے باوجود مصرعے کا ترجمہ مکمل ہے لیکن دوسرے مصر عے ’’پتنگے بوند ہیں ،مچھر فلک پہ چڑ ھتے ہیں ‘‘ میں متضاد حالت یعنی گرنے اور چڑھنے دونوں کے لیے ایک ہی فعل mount استعمال کرنے سے متر جمہ مصرعہ نا قص رہ گیا ہے ۔اسی طرح چغد کے لیے screech owl کا استعمال نظم کی ترشی اور شدت کو کم کرتا ہے اور آیت گڑ ھنے کے لیے compose کا استعمال فعل منفی کو فعل مثبت میں بدل دیتا ہے ۔ ا ن ظاہری خا میوں اور دشواریوں کے باوجود یہ ایک کامیاب کوشش ہے کیو ں کہ تر جمہ در اصل تجربے کی تشکیل نو اور ترسیل ہو تا ہے ۔ جیسا کہ پرو فیسراسلوب احمد انصاری ترجمہ کی اصل غایت بیان کرتے ہو ئے لکھتے ہیں کہ:

’’ترجمے کا مقصد پا یان کار دو زبانوں کے ما بین تہذ یبی فصل یعنی Barrier کو لمحاتی طور پر ختم کرنا اور مخصوص کلچروں کی مختلف المر کزیت یعنی Eccentricity کو فی الوقت محو کرنا اور باہمی لسانیاتی زرخیزی کو وجود میں لانا ہے ۔ایسا کرنے میں اگر قطعیت کا حصول ممکن نہ بھی ہو تب بھی صحت کے قریب قریب پہنچنے کی کوشش یعنی Approximation بہر حال ضروری ہے ۔ کسی بھی زبان کے محاوروں کو مردہ استعاروں کا نام دیا گیا ہے اور استعارے چاہے وہ توانا اور متحرک ہوں یا منجمد مضمحل اور یخ بستہ ،وہ پیدا وار ہوتے ہیں ،مخصوص تہذیبی ماحول اور آ ب و ہوا کے اور مترجم کا کام دراصل اس تجربے کی تشکیل نو اور ترسیل ہے جس نے کسی زبان کے مزاج اور رنگ روغن کو جنم دیا ہے ‘‘

 اسی نظم کا ایک دوسرا بند اور اس کا انگریزی ترجمہ ملاحظہ فر مائیں ،،،،،

 زباں ہے جس کی،اشارت سے وہ پکارے ہے جو گونگا ہے ،وہ کھڑا فارسی بگھارے ہے

 کلاہ ہنس کی ،کوا کھڑا اتارے ہے اچھل کے مینڈ کی ،ہاتھی کے لات مارے ہے

 غرض میں کیا کہوں ،دنیا بھی کیا تماشا ہے

Those who have tongues use only signs for speech

The dumb find a dash of persian within their reach

The swan is humiliated by the crow

The she-frog leaps up and give the elephant a blow

There isn’t much,in short,to say

The world is such a fine display .

 فارسی بگھارنا ، کلاہ اتارنا بمعنی پگڑی اتارنا اور گھی کے دیے جلاناوغیرہ بہت سے محاورے اس نظم میں آئے ہیں لیکن زیادہ تر کا لفظی ترجمہ کیا گیا ہے ۔ظاہر ہے ہر محاورے کا ترجمہ محاورے سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پوری کو شش کی گئی ہے کہ اصل سے وفاداری برتی جائے اور نظم کی نامیاتی اکائی بھی منتشر نا ہو ۔ شاعر دراصل لفظوں کا زر گر اور لفظی تمثالوں کا جوہری ہو تا ہے اور اس صناعی کو کو دوسری زبان میں ترجمہ کے وقت بھی سجوے رکھنا اکثر ممکن نہیں ہوتا ہے لیکن مجموعی طور سے یہ ایک نہایت کامیاب اور مستحسن کو شش ہے ۔ایک شمس الرحمن فاروقی جیسے مشرقی و مغربی ادبیات کے وسیع المطالعہ شخصیت کی ترجمہ کے عمل میں شمولیت اور Frances W. Pritrchett جیسی ماہر اہل زبان کی موجودگی اس کامیاب ترجمے کا سبب بنیں ۔

 نظیر اکبر آبادی کی ایک دوسری نظم ’’ آچار چوہوں کا‘ ہے اس نظم کا ترجمہ مشرف علی فاروقی اور میشیل فاروقی نے Mause Pickle کے نام سے Annual Studies of Urdu کے لیے کیا۔ مشرف علی فاروقی پیشے سے انجینیر ہیں لیکن ادب کے تخلیقی سروکارسے خاص دلچسپی رکھتے ہیں Between Clay and Dust, اورStory of Widows ان کے قابل ذکر ناول ہیں ۔ اس کے علاوہ داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کے بعض حصوں اور سید محمد اشرف کے ناولٹ نمبر دار کا نیلا کا ترجمہ The Beast کے نام سے کر چکے ہیں۔فی الحال آن لائن اردو زبان و ادب کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ میشیل فاروقی بھی پیشے سے انجینیر ہیں اور فنون لطیفہ سے خاص دلچسپی رکھتی ہیں ۔ ان دونوں نے نظیر اکبر آبادی کی نظم ’’ آچار چوہوں کا‘‘تر جمہ کیا۔پہلے مشرف علی فاروقی نے اس نظم کا لفظی ترجمہ کیا اور پھر میشیل فاروقی نے انگریزی شعری قالب میں ڈھالا ۔نظم کے ابتدائی دو بند مع انگر یزی ترجمہ ملاحظہ فر مائیں ۔۔۔۔

 پھر گرم ہوا آن کی بازار چو ہوں کا ہم نے بھی کیا خوانچا تیار چو ہوں کا

 سر پاؤں کچل کوٹ کے دو چار چو ہوں کا جلدی سے کچو مر سا کیا مار چو ہوں کا

 کیا زور مزیدار ہے آچار چو ہوں کا

 آ گے تھے کئی اب تو ہمیں ایک ہیں چوہے مار مدت سے ہمارا ہے اس آچار کا بیوپار

 گلیوں میں ہمیں ڈھونڈ ھتے پھرتے ہیں خریدار بر سے ہے بڑی کوڑی روپے پیسوں کی بو چھار

 کیا زور مزیدار ہے آچار چو ہوں کا

Once more does the marketplace beckon

In a lust of mouce pickle ,I reckon

I set out my salver with mice in a row

Then pounding wee heads and paws as I go

I stir up a dish of minced rodent so nice

How simply delicious – my pickle of mice

Mouse killers of old have all come and gone

The last of the trade ,I alone linger on

Hawking pickle of mice as the populace knows

They pursue me down alleys ,surround me in droves

I am showered with coins and gold pieces so fine

All for this luscious mouse pickle of mine

 نظیر اکبر آبادی کی شخصیت کو مزید آشکارا کرنے والی یہ دل چسپ نظم سولہ بند پر مشتمل ہے۔مشرف علی فاروقی اور میشیل فاروقی نے پوری نظم کو انگریزی قالب میں ڈھالا ہے اور ترجمہ میں اصل فضا اور موڈ کو بر قرار رکھنے کی کامیاب کو شش کی ہے لیکن جہاں روز مرہ ،محاورہ، بولی ٹھولی یا مقامیت ہے اور یہی کلام نظیر کا امتیازی حسن بھی ہے وہاں تو ضیحی رویہ اپنانے کے باعث اصل کا مزہ جاتا رہا ہے ۔ ویسے کسی بھی مترجم کے لیے ترجمہ کے اس عنصر سے نبٹنا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے اور یہ اس وقت دو چند ہو جاتا ہے جب تر جمہ کو بے جاطور پر غیر معمولی بنانے کی کوشش کی جائے جیسا کہ ٹیپ کے مصرعہ کے ترجمہ میں کیا گیا ہے ۔ مص۔۔ کیا زور مزیدار ہے آچار چو ہوں کا ً میں صرف ًکیا زور مزیدار ہےً کا تر جمہ سولہ طریقے سے کیا گیاہے یعنی ہر بار اس مصرعے کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے نظم کی مجموعی فضا متاثر ہو تی ہے اور پورے عمل پرایک طرح کے کرتب کا گمان ہو تا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ متر جمین اپنے ترجمہ سے خود غیر مطمئن ہیں ۔بہر کیف یہ سارے تراجم مشتشریقین اور غیر اردو داں کی نظیرفہمی اور مطالعات ہند کا اہم منبع اور ماخذ ہیں۔۔۔۔۔۔

حوالے:

 (01)Frances W .Pritchett ,The World Turned Down,,Sahr-Asob as a

 Genre, in Annual of Urdu Studies Department of Languages & Cultures

of Asia University of Wisconsin -Madison U S A Vol-04 1984 pp37-41

 (2) Shamsur Rehman Faruqi &Frances W .Pritchett ,The VileWorld Carnival A Sahr-Asob

 in Annual of Urdu Studies Department of Languages & Cultures

of Asia University of Wisconsin -Madison U S A Vol-04 1984 pp25-35

(3) Musharraf Ali Farooqi & Michelle Farooqi ,,Mouce Pickle,, in

 Annual of Urdu Studies Department of Languages & Cultures

of Asia University of Wisconsin -Madison U S A Vol-27 2012 pp248-253

(4) (Peter Bruke. Popular Culture in Early Modern Europe ,New York Harper Torchbooks ,1978,pp 188-189,

(5)ڈاکٹر نعیم احمد ،،شہر آشوب ،، مکتبہ جامعہ نئی دہلی 1968 ص 169-173

(6)کلیات نظیر ہندو پریس 1871ص 170-171

) (7 پروفیسر محمد حسن : نوعیت اور مقصد، مشمولہ قمر رئیس (مرتبہ) ترجمہ کا فن اور روایت،

                تاج پبلشنگ ہاؤس، 1974، ص 75

(8)پرو فیسر اسلوب احمد انصاری ؛ تر جمہ کا عمل مشمولہ فکرو نظر علی گڈھ 1987

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.