اردوکالم نویسی میں قاسمی کا اختصاص

                احمد ندیم قاسمی دنیا ئے ادب میں تعارف کے محتاج نہیں ہیں انھوں نے اردو ادب میں مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور انھوں نے ناول، افسانے،ڈرامے، صحافت، تنقید، اور کالم نگاری میں اہم کارنا مے انجام دئے ہیں۔ چونکہ میرا موضوع ان کی کالم نگاری ہے اس لئے دیگر اصناف سے قطع نظران کی کالم نویسی کی خصوصیات سے بحث کی جاتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا شمار ادب کے معتبر اور مستند کالم نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے زبان و بیان کی بہترین صلاحیت رکھتے ہوئے کالم نگاری میں اپنا ایک مقام پیدا کیا۔ قاسمی کی کالم نویسی کا آغاز روز نامہ ’’انقلاب‘‘ لاہور سے ہوا۔ قاسمی نے عبدالمجید سالک کے حکم سے اس صنف میں خامہ فرسائی کرنی شروع کی تھی۔ پھر تا دم حیات اس صنف میں طبع آزمائی کرتے رہے۔ عبدالمجید سالک قاسمی کے استاذ تھے اور اردو کے ایک موقر کالم نگار بھی۔ انھوں نے اردو صحافت کے اصول و ضوابط، طرز تحریر، اور انداز طباعت و اشاعت پر نہ صرف پوری توجہ دی بلکہ انھوں نے نوجوان صحافیوں کی قیادت بھی کی۔ انھوں نے مختلف اخبار مثلاََامروز(حرف و حکایت)ہلال پاکستان (پنج دریا) احسان لاہور (موج در موج) روز نامہ جنگ کراچی(لاہور لاہور ہے)روز نامہ حریت کراچی(موج در موج)اور لاہوریات روز نامہ جنگ (رواں دواں) سے وابستہ رہے اور مختلف عنوانات کے تحت لکھتے رہے قاسمی اپنی صحافتی زندگی کی ابتدائی صورت سے متعلق لکھتے ہیں۔

’’ میری فکاہیہ کالم نویسی کا آغاز استاذ مکرم حضرت مولانا عبدالمجید سالک مرحوم کی نگرانی میں ہوا۔ وہ روز نامہ ’’انقلاب‘‘میں ’’افکار و حوادث‘‘کے عنوان سے روزانہ فکاہی کالم لکھتے تھے۔ کبھی کبھی میں اور جھنگ کے ایک ممتاز صاحب(جن کا پورا نام یاد نہیں آرہا ہے) ان کی خدمت میں کالم لکھ کر بھیجوا تے تھے اور وہ بہ کمال شفقت انھیں ہمارے ناموں کے حوالے کے ساتھ ’’افکاروحوادث‘‘کے کالم میں درج فرمادیتے تھے۔ پھر جب ۱۹۵۲ء میں مولانا چراغ حسن حسرت (سند بادجہازی) نے روز نامہ ’’امروز‘‘کو خیرآباد کہا اور ان کا معروف و مقبول کالم ’’حرف و حکایت ‘‘اجڑ سا گیا تو پروگریسوپیپرز لیمٹیڈ کے بزرگوں نے عزیزی ظہیر بابر کے توسط سے مجھے یہ کالم لکھنے کی پیش کش کی۔‘‘ ؂۱

                قاسمی اس پیش کش کو قبول کرنے میں بہت پس و پیش میں تھے کیونکہ حسن حسرت جیسے بڑے مزاح نگار کے کالم کا معیار قائم رکھنابڑا دشوار کام تھالیکن اپنے استاذ مکرم کی اجازت کے بعد ان کے ہی زیر سرپرستی لکھنا شروع کیا اور کالم نگاری کے اصول و ضوابط بھی بنائے۔ قاسمی چونکہ اس درمیان بے روزگار تھے اس لئے اس پیش کش کو قبول کرلیا اور بغیر کسی نام کے کالم لکھنا شروع کردیا۔ مارچ ۱۹۵۳ء میں میاں افتخار الدین نے انھیں روز نامہ ’’امروز‘‘ کی ادارت قبول کرنے کی پیش کش کی اور انھوں نے اس کو فورا قبول کرلیا اور ’’حرف و حکایت‘‘ کے نام سے کالم لکھنے لگے اور مصنف کے نام کو تبدیل کرکے کالم کے مصنف کا نام ’’ پنج دریا‘‘ رکھااور چھ سال تک برابر کالم لکھتے رہے جسے قارئین نے حد درجہ پسند کیا۔ بقول قاسمی:

’’۱۹۵۸ء سے پہلے کے دنوں میں اخباروں کو ایک حد تک آزادی تحریر حاصل تھی۔ اس لئے میں مسائل پر کھل کر لکھتا رہا اور یہ میرا کالم خاصا مقبول رہا ۔‘‘ ؂۲

                ۱۹۵۸ء میں جب جنرل ایوب خاں نے پاکستان پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد پرو گریسو لمیٹیڈ پیےرز پر بھی قبضہ لیا تو قاسمی ’’امروز‘‘ کی ادارت سے استعفٰی دے کر ’’ہلال پاکستان‘‘ میں’’ موج در موج‘‘ اور ’’پنج دریا‘‘، ’’احسان ‘‘میں’’ مکائبات‘‘ کے نام سے فکاہیہ کالم لکھتے رہے۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد جب روز نامہ ’’امروز‘‘ کی ملکیت نیم سرکاری ہوگئی تو ظہیر بابر کے اصرار کرنے پر ’’امروز‘‘میں کالم لکھنے شروع کردئیے مگر اس مرتبہ ’’پنج دریا‘‘کی جگہ ’’عنقا‘‘ کاانتخاب کیا۔ عنقا کے متعلق خود لکھتے ہیں۔

’’در اصل انہی دنوں میں نے ایک متنازعہ ادبی مسئلہ پر پروفیسر احمد علی سے اختلافات کے موضوع پر انگریزی میں ایک مضمون لکھا تھا، جو میں نے اپنے نام کے تینوں حصوں کے ابتدائی حروف ’’اے، این، کیو‘‘ لکھنے پر اکتفاکیا مگر پھر سوچا کہ اگر ان حروف کے آخر میں ایک ’’ اے‘‘ کا اضافہ ہوجائے تو ’’عنقا‘‘ اچھا خاصا با معنی نام بنتاہے، چنانچہ میں کئی برس تک ’’ عنقا‘‘ ہی کے نام سے یہ کالم لکھتا رہا‘‘۔ ؂۳

                ۱۹۶۴ء میں قاسمی نے روز نامہ ’’جنگ‘‘کراچی سے’’لاہور لاہور ہے‘‘کے عنوان سے تہذبی اور سیاسی سر گرمیوں کے جائزے پر ہفتہ وار کالم کی ابتدا کی۔ بعد ازاں ’’حریت‘‘ اور روز نامہ ’’جنگ‘‘ میں بھی لکھنے لگے تھے۔ ۱۹۷۲ء میں قاسمی صاحب روز انہ کی کالم نویسی سے دست بردار ہوگئے اور روز نامہ ’’جنگ‘‘ لاہور میں ’’ رواں دواں‘‘ کے عنوان سے سیاسیات، معاشیات، سماجیات اور تہذیب و ثقافت کے موضوعات پر کالم لکھنے لگے اور روز نامہ ’’جنگ‘‘میں ان کالموں کا سلسلہ تا حیات جاری رکھا۔ قاسمی نے قیام پاکستان کے بعد فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیا مگر بعد میں سنجیدہ کالموں کی جانب رجوع کیا اور ان کی مقبولیت فکاہیہ کالموں کی بنا پر ہوئی اور وہ فکاہیہ کالم نگاروں میں شامل فہرست ہوگئے۔ قاسمی بڑے نیک اور انسان دوست تھے اور وہ اپنے کالموں میں عوام الناس اور ادیبوں کا بڑا لحاظ رکھتے تھے انھوں نے کبھی بھی طنز کی آڑ میں کسی کو ذاتی نقصان نہیں پہنچایا۔ انھوں نے ایک بہترین کالم نگار کی طرح واقعات و حادثات کو بڑے ہی دیانت داری سے جمع کر کے پوری تفتیش و تحقیق کرکے صائب رائے کا اظہار کیا ہے کیونکہ ایک ذہین کالم نگار روز مرہ کے واقعات کا بے لاگ نقاد ہوتا ہے۔ قاسمی کا فن زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے انھوں نے زندگی کے زیرو بم اور زمانے کی روش، عوام الناس کے ذہنی فکری رجحانات کو خوب سمجھااور نہایت سنجیدگی سے اپنی تحریروں میں بیان کر دیاہے۔ ان کے بعض فکاہیہ کالموں میں ایسی شگفتگی ملتی ہے جہاں بات مسکرانے سے بہت آگے نکل جاتی ہے اور پھر ایک خاص معنی میں نظر آنے لگتی ہے۔ ان کے مزاحیہ کالم میں بعض جگہوں پر طنزیہ جملے خاصےّ کی چیز بن جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے فکاہیہ کالموں میں اسلوب کی بنیاد شرافت، شائستگی، اور وضع داری پر قائم کی ہے۔ قاسمی اپنے کالموں میں نہ کسی پرجملے کستے ہیں اور نہ ہی تمسخر اڑاتے ہیں وہ حتی الامکان سو قیانہ پن سے احتراز کرتے ہیں اور اپنی متانت اوراخلاقی اقدار کی پاسداری کو قائم رکھتے ہیں اس ضمن میں مجتبیٰ حسین لکھتے ہیں۔

’’ندیم صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اعلی پائے کے فکاہیہ کالم نگار تھے۔ ان کی طنز میں جو گہرائی اور مزاح میں جو شائستگی ہوتی ہے وہ لاجواب تھی۔ ندیم نے قلم کو ذریعہ معاش بنایا اور قلم کی حرمت کو برقرار رکھتے ہوئے نہایت خودداراور باعزت زندگی گزاری‘‘۔ ؂۴

                قاسمی صاحب نے ہمیشہ مزاح برائے مزاح کی بجائے مزاح برائے اصلاح پر زور دیااور ان کی ظرافت ہمیشہ مصلحانہ اور مقصدی ہو ا کرتی تھی جس میں علم و فراست، دانش و آگہی کے دریا بہہ رہے ہوتے تھے۔ انھوں نے اپنے کالموں میں مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کی اور کامیاب بھی رہے ان کے زندگی کا ایک طویل حصہ کالم لکھنے میں گذرا اور انھوں نے ایک مرتبہ اس کو کتابی صورت میں مرتب بھی کرنا چاہا مگر ہزاروں کالم میں انتخاب کرنا ان کے لئے بہت مشکل تھااس لئے انھوں ارادہ ترکر دیا۔

’’مشکل یہ تھی کہ ۱۹۵۲ء سے لے کر آخر تک میں نے لگ بھگ تیرہ چودہ ہزار کالم لکھے ہوں گے۔ اس انبار میں سے دو چار سو، یازیادہ سے زیادہ سات آٹھ سو کالموں کا انتخاب بہت دشوار تھا۔‘‘ ؂۵

                قاسمی نے کالموں کو کتابی شکل دینے سے بہت احتراز کیا مگر ان کے احباب کے باربار اصرار کرنے پر احباب کی دل جوئی کے لئے فکاہی کالموں کا مجموعہ کتابی صورت میں شائع کروایا مگر وہ ان تمام کالموں کو بھی شائع کروانا چاہتے تھے جوانھوں نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دنوں میں لکھے تھے جس کی وجہ سے ان کو بلیک لسٹیڈ جرنلسٹ کا اعزاز بھی ملا تھا۔ قاسمی اپنی اس خواہش کو پورا نہ کر سکے اور اس دنیا سے کوچ کر گئے ان کے کالموں کا صرف ایک مجموعہ ’’کیسر کیاری‘‘ منظر عام پر آسکا۔ قاسمی اپنے مجموعے ’’کیسر کیاری‘‘ کے متعلق اس طرح رقم طراز ہیں۔

’’ کیسرکیاری‘‘ کے نام سے میرے مزاحیہ مضامین و تراجم کا ایک مجموعہ قیام پاکستان سے بھی چند برس پہلے شائع ہواتھا۔ کتاب کا نام استاذ محترم سالک صاحب نے تجویز فرمایاتھا۔ جو ان کے ارشاد کے مطابق ’’ زعفران زار‘‘ کا سلیس اور سچاترجمہ تھا۔ یہ مجموعہ کب کا ناپید ہے۔ میں نے اپنی تصانیف میں کم ہی اس کاذکر کیا کیونکہ اس کے مشمولات میں بیشتر تحریریں عنفوان شباب کی جلد بازیوں کا شکار ہوگئی تھیں۔ اب میں اپنے فکاہی کالموں کا انتخاب اسی نام سے پیش کر رہاہوں تاکہ میرے استاذ مکرم کا تجویز کردہ یہ نام ضائع نہ ہو‘‘۔ ؂۶

                قاسمی اپنے کالموں کو عوام میں مقبول کرنے کے لئے دل چسپ موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔ قاسمی ادبی، سیاسی، اور فکاہیہ کالم تحریر کرکے عوام کی رائے عامہ کی تشکیل میں اپنا کردار اداکر تے ہیں۔ یہ اپنے کالموں کا مواد اخباری خبروں سے لیتے ہیں اور کبھی گردو پیش کے حالات و واقعات کو کالم کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے موضوعات کسی ایک دائرے میں قید نہیں ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں دور حاضر کے کسی واقعہ یا مسئلہ کو بنیاد بناکر کالم کی ابتدا کرتے ہیں تو کبھی پرانے معاملات و مسائل کو زیر بحث لا تے ہیں مثلاََ کبھی وہ کار پوریشن کی بے حسی اور بدحواسیوں کو منظر عام پر لاتے ہیں، کبھی ارباب ریڈیو کی کمیوں کو گنواتے ہیں، کبھی محکمہ خوراک کی کرپشن کو سامنے لاتے ہیں، کبھی سیاسی لیڈروں کی بے ایمانیوں کا راز فاش کرتے ہیں۔ قاسمی صاحب کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے کہ کس طرح معیار زندگی کو بلند کیا جا سکتا ہے اور عوام کے لئے کس طرح زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ ان کے موضوعات براہ راست عوام کی زندگی سے متعلق ہوتے ہیں۔ وہ جیتی جاگتی زندگی کے مسائل اور حقائق کو پیش کرتے ہیں۔ بالخصوص کراچی لاہور اور سرگودھا کے نچلے اور متوسط طبقے کی زبان اور طرز زندگی کو ایک خاص رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ وہ بڑے ہی سلیقے سے سماج کے تمام مسائل جو کہ مفلس عوام سے متعلق ہوتے ہیں ان کو بیان کرتے ہیں۔ قاسمی ایسے صائب الرائے شخص تھے جو اپنے علم، تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں مخصوص معیاروں کی کسوٹی پررائے قائم کرتے ہیں۔ پھر مضبوط دلائل سے نہایت ذکاوت وفراست سے اپنے خیالات و مصائب کا اظہار کرتے ہیں مثلاََ لاہور میں مچھروں کی آمد سے شہری نہایت پریشان ہیں۔ طنزیہ و مزاحیہ انداز میں لکھتے ہوئے ان کا طنززہریلانہیں رہتا بلکہ وہ ایساشگفتہ انداز اپناتے ہیں کہ زندگی کی بد حال صورت کو بھی مزاح کی چاشنی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

’’لاہور میں یہ افواہ گشت کررہی ہے کہ اہل لاہور ملیریا میں مبتلا ہیں، مریضوں کو خاطر جمع رکھنی چاہیے کہ وہ ملیریا میں نہیں بلکہ کسی اور مرض میں مبتلا ہیں۔ اسے بے شک ماسکٹیوریا، یامچھریا کہہ لیئجے لیکن براہ کرم ملیریا نہ کہیں ورنہ محکمہ انسداد ملیریا والے خفا ہوجائیں گے وہ تو صاف صاف اعلان کر چکے ہیں کہ ملیریا والے مچھر کا بیڑہ غرق کیا جا چکا ہے جو دوسرے مچھر لوگوں کو کاٹتے رہتے ہیں تو ملیریا کے مچھر نہیں کسی اور ’’ایریا‘‘کے مچھر ہیں۔‘‘ ؂۷

                قاسمی اپنے کالموں میں معاشرتی ناہمواریوں اور عوام کے دکھ درد کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری رو پڑتا ہے۔ صحافت کا مقصد صرف لوگوں تک معلومات بہم پہچانا ہی نہیں ہوتا بلکہ حقائق کی روشنی میں لوگوں کے لئے راہ عمل بھی بتاناہوتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے ایک صحافی کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کیو نکہ وہ واقعات و امکانات کی پوری چھان بین اور دیانت داری کے ساتھ تجزیہ بھی کرتا ہے اور پھر اپنی رائے کاآزادانہ طور پر اظہار کرتاہے۔ قاسمی ہمیشہ اپنی آنکھیں کھلی ہوئی رکھتے ہیں اور ان کی بصیرت ہر وقت نت نئے نکات پر غور و فکر کرتی ہے اور وہ ہر چھوٹے بڑے مسائل پر یکساں توجہ فرماتے ہیں۔ انھوں نے اخلاقی و معاشرتی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے عوام کے ذہنی رجحانات، قومی اور ملکی فلاح و بہبودکے لئے کام کیا۔ صداقت ان کے شعار میں داخل ہے وہ اپنے کالموں میں غریب عوام کی بے چارگی اور بے بسی کو ابھار کر منظر عام پر لاتے ہیں۔ وہ استحصالی معاشرے میں موجود بے کس عوام کے روایتی انداز کو بڑے کرب سے اپنے کالموں میں پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے کالموں میں کھیل ، معاشرہ، معیشت، کارو بار، سیاست، سائنس، طب اور فیشن غرض ہر موضوع پر خامہ فرسائی کی۔

’’ میں نے ہر موضوع پر فکاہی کالم لکھے۔ اپنے آپ کو کسی موضوع کا پابند نہیں کیا۔ چنانچہ سیاست، معیشت، معاشرت، ‘ادب، فن کوئی بھی موضوع ایسا نہیں جو میری ۳۳ برس کی روزانہ فکاہیہ کالموں میں بار نہ پا سکا ہو‘‘۔ ؂۸

                قاسمی نہایت محنت سے موضوع تلاش کرکے نئے اور اچھوتے انداز سے اظہار خیال کرکے اسے زندہ کر دیتے تھے۔ ان کے ہر جملے میں جذبہ اور لطف بھرا ہوتا ہے۔ تحریر میں آمد اور روانی کا احساس ملتا ہے۔ اور قاری ان کی تحریر کے سحر میں تا دیر گرفتار رہتا ہے اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے کبھی وہ طنز کے تیر و نشتر چلاتے ہیں اور کبھی شگفتہ انداز سے گفتگو کرتے ہیں۔ قاسمی کے کالموں میں ژولیدگی فکر اور اظہار و بیان کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ ان کے سیاسی، ادبی، تہذبی، اور شخصی اقسام پر مشتمل کالم بڑے واضح اور متوازن ہیں۔ وہ نہایت بے تکلفی سے بے تکان لکھتے ہیں وہ شخصیات کو طنز کا نشانہ تو بناتے ہیں لیکن ایسا کرتے وقت وہ شائستگی و ہمدردی کے عناصر کو فراموش نہیں کرتے ہیں۔ قاسمی جب کسی موضوع پر کالم تحر یر کرتے ہیں تو ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی ایک واقعہ یا کسی شخص کے منفی رجحا نات پر تنقیدو تبصرہ کرکے اس کی اصلاح کی جائے۔ وہ اہل اقتدار اور دیگر حاکموں پر بہت ہی رازدارانہ انداز اسے نشان دہی کرتے ہیں۔اور جب کسی مسئلے پر اظہار خیال کرنا ہوتا ہے تو اس کے لئے تمہید باندھتے ہیں اور قاری کو ذہنی طور پر بات سننے کے لئے تیار کرلیتے ہیں۔ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی تمام برائیوں پر بے لاگ لکھتے ہیں اور چونکہ وہ خود ایک مہذب انسان ہیں اس لئے وہ بد تہذبی اور بد عنوانی کے ناسور وں پر نشتر زنی کرتے ہیں مگر ان کے نشتر سم آلود نہیں ہوتے ہیں اور شاید اسی میں ان کی کامرانی ہے۔ ان کے ہر مضمون میں اصلاح معاشرہ کی کوشش ہوتی ہے اور ان معاشرتی برائیوں کی نشان دہی بہت شگفتہ انداز میں کرتے ہیں۔ انھوں نے رشوت ، لوٹ مار، چوری، ملاوٹ، بد عنوانی اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے واقعات کو قاری کے لئے بہت ہی مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ قاسمی ترقی پسند تحریک کے سر گرم رکن تھے۔ ۱۹۴۹ء میں کچھ عرصے کے لئے جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر بھی فائز رہے اور ترقی پسند تحریک کی پاداش میں پابند سلاسل بھی رہے۔ ظفر محی الدین اس حوالے سے لکھتے ہیں۔

’’ احمد ندیم قاسمی کی کالم نگاری میں جو وسعت نظر سماجی شعور، اور انسانیت کے لئے جو گہرا کرب ملتا ہے، وہ کسی حد تک ترقی پسند تحریک کا نظریاتی اثر ہے جس نے اس دور کے بیشتر قلم کاروں کو عصری آگہی اور ایک وژن عطا کیا۔‘‘ ؂۹

                قاسمی نے ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود انتہا پسندی کے بجائے اعتدال پسندی کی راہ اختیار کی۔ وہ مارکس ازم سے کافی متاثر تھے اور ملک کے غریبوں کو جاگیر داروں، سرمایہ داروں کے شکنجے سے نجات دلاکر مساوات اور انصاف پسندی پر مبنی نظام لانے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے معاشرے کے ہر پہلو کو کھلی آنکھ سے دیکھا اور محسوس کیا کہ سیاسی خلفشار اور معاشی عدم توازن میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث معاشرتی تقسیم دو طبقوں تک محدود ہے۔ وہ معاشرے میں سماجی عدم مساوات اور معاشی بحران سے بہت بے چین ہوتے ہوئے اپنی تحریروں میں نظر آتے ہیں اور ان کے متعلق اپنے کالموں میں اظہار کرتے ہیں۔ ان کے کالموں میں بے کس مظلوم عوام کی چیخ و پکار بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ بھوک، جبر، ظلم و ستم، نا انصافی کے خلاف پرزور احتجاج کرتے ہیں۔ قاسمی اپنے کالمو ں میں افراد کی بے حسی اور اقدار کی شکست و ریخت کا نوحہ طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہیں کیونکہ ہمارے سماج اور معاشرے میں بددیانتی انتہا درجے کو پہونچ چکی ہے لوگ منافع کمانے کے چکرمیں گھٹیا سے گھٹیا کام کررہے ہیں۔ انھوں نے سیاست کے موضوع پر بھی خوب کالم لکھے جس سے اندازہ ہوتا ہے قاسمی کے پاس مشاہدے کی کمی نہیں ۔ قاسمی سیاسی موضوعات اور خبروں پر اتنے ہلکے پھلکے اور شگفتہ انداز سے بحث کرتے ہیں کہ طبعیت میں گرانی پیدا نہیں ہوتی ۔ ان کالموں میں قاسمی اشارتاََ، کنایتاََ اور مزاحیہ انداز میں سیاسی تجزیہ پیش کرکے اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں۔

                قاسمی اپنے کالموں میں قارئین کو نئے نئے مفہوم، نت نئے افکارو خیالات سے روشناس کراتے ہیں۔ اپنے منفرد انداز فکراور طرز نگارش سے قارئین کا دل جیت لیتے ہیں اور مخاطب ان کی حاضر دماغی، خوش کلامی اور بذلہ سنجی کا معترف ہوجا تا ہے۔ ان کے کالموں میں تہہ در تہہ مفہوم پوشیدہ ہوتا ہے۔ کالم کا ظاہر و باطن ایک نہیں ہوتا۔ قاسمی بعض اوقات ایک بات کرتے ہیں لیکن باطن میں اس سے کئی نئے مفہوم مترشح ہوتے ہیں۔ قاسمی کے کالموں میں زبان و بیان کی شیر ینی اورشگفتگی بھی ملتی ہے جو قارئین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ تفریح کا سامان بھی بہم پہنچاتی ہے۔ مزاٖح اس شگفتہ کیفیت کا نام ہے جو ماحول کی نا ہمواریوں اور بے ربطیوں سے پیدا ہوتا ہے اس بے ہنگم اور بے ڈھنگی چیزوں کو دیکھ کر قاری میں بھی مسکرانے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ قاسمی ماہر فن کار کی طرح اپنے گرد و پیش کے ماحول کی نا ہمواریوں کو دریافت کرتے ہیں اور انھیں ہمدردانہ شعور کے ساتھ نہایت ہنر مندی سے پیش کرتے ہیں کہ قاری خندہ زیرلب کی کیفیت سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔ قاسمی کے کالم جذباتی اور لفظی گھن گرج سے یکسر پاک ہوتے ہیں۔ وہ اپنا مدعا نہایت سادگی اور و شستگی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں سنجیدگی، متانت اور ظرافت کا حسین امتزاج رکھتے ہیں۔ ان کے کالموں کا ایک خاص وصف ان کا اسلوب ہے جو قوت توانائی اور شدت جذبات سے مملو ہے۔ ان کی اپنے موضوع اور مواد سے دلچسپی ہر جملے اور فقرے میں رچی بسی ہے۔ قاسمی کے اسلوب کا اہم وصف موازانہ ہے موازانہ دو اشیا دو اشخاص کے مابین تقابلی صورت ہے جو مشابہت اور تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ ان کے کالموں کا ایک اہم وصف اختصار اور جامعیت ہے جس کو وہ بڑی ہی ہنرمندی سے برتتےّ ہیں۔ قاسمی ایک زندہ اور کامیاب نثار ہیں وہ ترقی پسند تحریک سے شعوری غیر شعوری طور پر متاثر ہوئے اور اس کے سرگرم رکن بھی رہے جہاں اس تحریک کے اثرات ان کی نگارشات میں در آئے ہیں وہیں وہ اپنی انفرادیت کا علم بھی سربلند رکھتے ہیں اور یہی انفرادیت ان کے مقام و مرتبہ کا تعین بھی کرتی ہے۔ ان کے کالموں میں جذبہ بھی ہے اور تہذیب یافتہ عمل کی ترغیب بھی، فقر و استغنا بھی اور ہنگامہ خیزی بھی۔ قاسمی کبھی بھی اپنے کالموں میں ایک واعظ و خطیب کے مانند قاری کو مرعوب کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ان کے کالموں میں ایسا دھیماپن ہے جو ذہن کو مشتعل کرنے کے بجائے فکرو دانش کی مشعل جلاتی ہے یہی ان کی انفرادیت ہے۔

مراجع و مصادر

۱-             احمد ندیم قاسمی(دیباچہ)کیسرکیاری، لاہور شفیق پبلیکشنز۱۹۹۹ء ص ۱۷

۲-            ایضاََ

۳-            ایضاََ

۴-            مجتبی حسین، احمد ندیم قاسمی۔ مشمولہ مونتاج لاہور شمارہ۲۱؍جنوری تا اگست۲۰۰۷ء ص۳۶۴

۵-            احمد ندیم قاسمی (دیباچہ) کیسر کیاری محولہ بالا، ص ۱۴

۶-            ایضاََ۔ ص، ۱۵

۷-            احمد ندیم قاسمی، حرف و حکایت مشمولہ روز نامہ ’’امروز‘‘لاہور یکم نومبر؍۱۹۷۳ء، ص ۳

۸-            ایضا۔ ص ۳

۹-            ظفر محی الدین، اردو کالم نگاری کے مرد بزرگ مشمولہ’’ندیم نامہ‘‘مرتبہ اسلم فرخی وفاقی اردو یونیوسٹی ۲۰۰۶ص۲۱۷۔ ۲۱۸

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Hamid Raza Siddiqui

Room No. 89, Shibli Hostel

M.M. Hall, A.M.U. Aligarh

202002

Mob. 07895674316

E-mail:hamidrazaamu@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.