کیول دھیر اور ان کا افسانہ’’دہشت‘‘تجزیے کی نظر سے

کیول دھیر کا شمار بر صغیر کے ان ممتاز قلم کاروں  میں  ہوتا ہے جو اپنے فن کا استعمال دلوں  کو جوڑنے ‘انسانی احساسات و جذبات کو سمجھنے میں  کرتے ہیں ۔میرے نزدیک ان کی شخصیت ہمیشہ سے بہت سحر انگیز رہی ہے۔وہ اس لئے بھی کہ شاید ہی کوئی دوسرا قلم کار پورے بر صغیر میں  ہو جو اپنی شخصیت اور جذبات و احساسات نیز اپنے تجربات کو نثر میں  بیان کرتا ہو یعنی وہ کہانی کار بھی ہومگر شاعری کی خدمت اس جاں  سوزی سے کرتا ہوکہ ساحر لدھیانوی کے چاہنے والے بھی اسے رشک و حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ۔میں  خود عرصہء دراز تک انھیں  شاعر ہی سمجھتا رہا ۔مگر ادھر ان کی کہانیاں  پڑھیں  تو اندازہ ہوا کہ جینئس ہر میدان میں  جینئس ہوتا ہے ۔مجھے یہ جان کر بے انتہا مسرّت ہوئی کہ ان کی کہانیوں  کے تجزیاتی مطالعے پر مشتمل ایک کتاب کی اشاعت کا اعلان ہوا ہے لہٰذا میں  نے بھی ان کی ایک کہانی ’’دہشت‘‘ کے تجزیہ کا بیڑہ اُٹھایا ہے کہ میں  بھی ان کے حلقہ ء عاشقاں  میں  شامل ہو جاؤں ۔

 کیول دھیر کا افسانہ ’’دہشت ‘‘پنجاب کے ان حالات کی یادوں  پر مشتمل ہے جب وہاں  انسانوں  کا خون پانی سے بھی ارزاں  ہو گیا تھا۔حالانکہ پنجاب کے سینے پر تقسیم کا زخم تو اب تک بھی ہرا ہے۔مگر آزاد ہندوستان میں  کسی نے شاید خواب میں  بھی نہ سوچا ہو کہ ہندو اور سکھوں  کے درمیان منافرت کی یہ تصویر بھی کبھی دیکھنے کو ملے گی۔مگر سیاست دانوں  کی ناعاقبت اندیشی‘ عوام کی مایوسی‘ نظام سے نا اُمیدی ‘ بے روزگاروں  کی فوج کی قطار لمبی ہو جائے تو بھٹکنے میں  کتنی دیر لگتی ہے۔آگ کا تمام تر سامان تو سیاست داں  خود مہیا کر دیتے ہیں ۔چنگاری لگانے والے موقع شناس ہوتے ہیں ‘ ان کی دوربین نگاہیں  چہکتے مہکتے گھروں  کو جہنم بنانے میں  کتنی دیر لگاتی ہیں  ۔کہانی دہشت انھیں  واقعات پر مشتمل ہے۔ کہانی کا آغاز ایک استہفامیہ جملے سے ہوتا ہے:۔

 ’’کیا یہ بس لدھیانہ جائے گی ‘‘

 اور جواب تلخ تر لہجے میں  دیا جاتا ہے :۔ ’تو اور کہاں  بمبئی جائے گی ‘‘۔ واحد متکلم جو خود کہانی کار بھی ہو سکتا ہے۔اور اس کہانی کا راوی بھی لدھیانہ جانے کے لئے بس میں  سوار ہوتا ہے کنڈکٹر کا لب و لہجہ اُسے غیر مہذب لگتا ہے۔مگر وہ کڑوا گھونٹ اس لئے پی جاتا ہے کہ حالات اس قدر خراب ہیں  کہ ہر کوئی بارود کے ڈھیر پر چنگاریاں  لئے بیٹھا ہے۔بس آدھی سے زیادہ خالی ہے کیونکہ دہشت کی وجہ سے لوگ اپنے اپنے گھروں  میں  قید ہو کر رہ گئے ہیں  ۔اُسی وقت بس میں  مزید دو سواریاں  داخل ہوتی ہیں ۔جنھوں  نے اپنے جسم کو کمبل سے ڈھانپ رکھا ہے اور صرف ان کی گھورتی ہوئی آنکھیں  راوی کو دہشت اور الجھن میں  ڈال رہی ہیں ۔کیونکہ راوی سمیت کُل چار سواریاں  ان میں  ایک فرقے کی ہیں  اور باقی حلیے اور بشرے سے دوسرے فرقے کے لوگ معلوم ہوتے ہیں  یعنی اکثریت میں  ہیں ۔اسی احساس نے اقلیتی فرقے کی سواریوں  کو مزید دہشت میں  مبتلا کر دیا ہے۔اور راوی اس بات کو سوچ کر مزید فکر مند ہو جاتا ہے کہ ابھی پچھلے دنوں  ایسے ہی ایک بس میں  سوار اقلیتی فرقے کے لوگوں  کو بس سے اتار کر دہشت گردوں  نے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔یہیں  یہ علم بھی ہوتا ہے کہ راوی ایک قلم کار بھی ہے۔اسے اپنا انجام سوچ کر اپنے قلم کار دوست ’’ سمیت‘‘ کی یاد آتی ہے۔جسے دوسرے فرقہ کا ہونے کے باعث قتل کر دیا گیا تھا ۔ان حالات میں  لوگوں  کا ایمان اگر اپنے عقیدوں  سے بھی ڈگمگا جائے تو کیا بعید ہے اور سُمیت کی بیوہ انھیں  جذبات سے مغلوب ہے۔مگر نفرت بھرے اس ماحول میں  کہانی کار کو بابا اجیت سنگھ کی یاد بھی آتی ہے۔جو اس اندھیرے میں  روشنی کی ایک کرن ہیں  اور بقول کہانی کار شنکر بن کر نفرت کے اس زہر کو پینے کی کوشش میں  لگے ہیں ۔اور روشنی کی یہ لکیرہی راوی کو اپنے وجودکا احساس دلاتی ہے۔اور کہانی کار دہشت اور خوف کے ماحول میں  ہمّت کرکے ان گھورتی ہوئی آنکھوں  کے درمیان کی گفتگو سے الفاظ اُٹھا کر پوچھ ہی لیتا ہے ’’وہی کون‘‘ اور پھر اس پر یہ راز کھلتا ہے کہ وہ اُسی کے بارے میں  گفتگو کر رہے تھے کیونکہ انھوں  نے کہانی کار کو ٹیلی ویزن کے ایک پروگرام میں  دیکھا تھا اور وہ لوگ ٹی۔وی پر اس کی گفتگو سے متاثر ہوئے نیز راوی کی گفتگو نے ان کی ذہن سازی کا فریضہ انجا م دیا تھا اور یہیں  کہانی ایک مثبت انجام کے ساتھ اختتام کو پہونچتی ہے۔

 کیول دھیر کی یہ کہانی پنجاب کے ان حالات کی عکاس ہے جب وہاں  دہشت گردی کا بول بالا تھا ۔ہندؤں  اور سکھوں  کے درمیان منافر ت اپنی ساری حدیں  پار کر چکی تھی ۔ خالصتان کی مانگ نے بقول کہانی کار ناخن کو گوشت سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگروقت نے ثابت کردیا کہ یہ ایک تھوپی ہوئی بے راہ روی کے شکار لوگوں  کی سازش کی بدولت کیا جا رہا تھا ۔جیسے ہی آقاؤں  نے اپنے ہاتھ کھینچے مصلحت پسندوں  کے چہرے بے نقاب ہو گئے اور پوری نام نہاد تحریک صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ۔کہانی کار نے بڑی چابکدستی اور فنکارانہ مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے بظاہر ایک احساس جسے بے یقینی یا عدم اعتماد سے تعبیر کیا جانا چاہیے کے سہارے پوری کہانی کا تانا بانابُنا ہے۔مگر اس کی بُنت میں  جس فنکارانہ کاریگری کا ثبوت دیا گیا ہے اس نے اس کہانی کو غیرمعمولی طورپردلچسپ بنا دیا ہے ۔دراصل اس کہانی میں  بے یقینی اورعدم اعتماد کے اسی احساس کو کہانی کامرکزی خیال بنایا گیا ہے جو لوگوں  کو ایک دوسرے سے اجنبی بنا دیتا ہے ۔کہانی کار کا بیانیہ اس قدر پُر اثر ہے کہ قاری کو کہیں  بھی بوریت یا اجنبیت کا احساس نہیں  ہوتا ۔اس کیفیت نے اس کہانی میں  فلم سینریو کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے ۔جیسے سفر کرتے ہوئے ہم منظردر منظر گزرتے ہیں  اورہرنیا منظر ذہن ودل میں  ایک تجسّس کی کیفیت چھوڑ جاتا ہے ‘ویسا ہی اس کہانی کو پڑھتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا ہے۔کہانی کا مثبت انجام کہانی کار کی شخصیت کے اس وصف کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے مثبت اندازِفکر کہنا چاہیے جوکٹھن سے کٹھن گھڑی اور مشکل سے مشکل حالات میں  بھی اُمید کادامن ہاتھ سے نہیں  چھوڑتا ۔اُسے اندازہ ہے کہ جیت ہمیشہ محبت کی ہوتی ہے ۔کاش نفرت کرنے والے اورنفرت پھیلانے والے اس حقیقت کو جلد از جلد سمجھ جائیں  تاکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کا راستہ صاف ہو جائے۔کہانی کار کا بیانیہ اور اس کی پکڑ اتنی مضبوط ہے کہ ایک معمولی سے واقعے کو غیر معمولی میں  تبدیل کر دیا ہے۔

 مجھے یہ کہانی اس لئے بھی پسند آئی کہ ہماری کہانی ایک بار پھر زمین پر اُتر آئی ہے اوراس نے دھرتی کے باسیوں  کے دُکھ درد کو اپنے بیان میں  سمیٹ لیا ہے ۔اور اس کے لئے کیول دھیر مبارک باد کے مستحک ہیں ۔

@@@@@@

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.