اردو فکشن میں سماجی مسائل کی عکاسی (جموں کشمیر کے حوالے سے)

   قدیم زمانے میں ادب کوصرف دل بہلانے اور وقت گزارنے کی چیز سمجھا جاتا تھالیکن آج کے زمانے میں ادب زندگی کا ترجمان ہے یعنی انسانی زندگی کے مسائل اس کا لازمی جُز بن گئے ہیں۔ یعنی ادب برائے ادب کے زمرے سے نکل کر ادب برائے زندگی کے مرحلے سے جڑ گیا۔اس کے پسِ منظر میں مختلف وجوہات کارفرما رہی ہیں۔سائنس کی ترقی سے نئے حالات پیدا ہوئے،زندگی کے مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں،نئے نئے چلینج سامنے آئے ۔معاشی حالات بدلے۔ اس طرح سے ادب صرف تفن و طبع کا سامان ہی نہیں ہوتاہے بلکہ زندگی کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔حیات و کائنات کے ساتھ ساتھ جب لوگوں کی مالی حالت میں سدھار ہوااور سماج میں تبدیلیاں ہوئیں اور انسان اکثر اوقات روزمرہ کے کاموں میں ہی مصروف رہنے لگاتو طویل داستانیں سننے اور سنانے کا وقت بھی انسان کے پاس نہیں رہاپھر داستانوں کی جگہ ناول وجود میںآگیااور ادباء نے  اپنے آس پاس کے سماج سے موضوعات اخذ کرکے ناول کو زندگی سے قریب تر کرنے کی کوشش کی۔ناول نگار ناول میں عام زندگی کی ترجمانی ہونے لگی اور اصلاحی،اخلاقی مقاصدکی غرض سے سماج میںپھیلے  بُرے رسم و رواج ،کوتاہیوں،خامیوںکے اوپر قلم اٹھاتے ہوئے ان پر روشنی ڈالتا ہے۔مثال کے طور پرمولوی نذیر احمد نے اولاد کی تربیت کے لئے ،پریم چند نے مفلوک الحال لوگوں اور جاگیردارانہ نظام اور عصمت اوربیدی نے عورتوں کے مسائل،منٹو نے جنسی مسائل وغیرہ کو اپنا موضوع بنایا۔پھر وقت نے ایک اور کروٹ بدلی او ر وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان کی معاشی حالت بھی بدلنے پر مجبور ہو گئی۔مشینوں کی ایجاد نے جہاں لوگوں کیلئے ترقی کے مواقع فراہم کئے وہیں اس سے سماجی،سیاسی،معاشرتی اور اخلاقی مسائل بھی پیدا کئے۔ایسے حالات کا اثر اردو ادب پر دیکھنے کو ملتا ہے۔چونکہ ادیب سما ج کا ایک حصّہ اور ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو حساس دل اور طبیعت کا مالک ہوتا ہے وہ ان مسائل کو ضبطِ تحریر میں لاتا ہے ۔بدلتے حالات ونظریات  کے پیش نظر اور مغربی ادب کے زیرِ اثر افسانہ وجود میں آیااور بہت جلد کامیابی سے ہمکنار بھی ہوا۔افسانے کے موضوعات اکثر سماج کے سیاسی،معاشرتی اور سماجی مسائل رہے ہیںجن سے کہ انسان دوچار رہا ہے۔افسانے نے انسانوںکے دکھ درد،زندگی کے زیر و بم سبھی کچھ اپنے اندر سمیٹ لیاہے۔گویا افسانے میں بھی سماجی،سیاسی اور معاشی حالات کی بھر پور عکاسی ہونے لگی۔ناول اور افسانہ دونوں فکشن کے زمرے میں آتے ہیں ۔اس مقالے میں ریاست جموں و کشمیر کے اردو ناول اور افسانہ میں پیش کئے گئے سماجی مسائل(دہشت گردی اور عورتوں کے مسائل کے حوالے سے) کا اجمالی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

   بلا شبہ مغربی ادب نے عالمی ادب کو کسی نہ کسی طرح متاثر ضرور کیا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہو رہے ادبی تجربات اور مشاہدات سے جموں کشمیر کے ادباء بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔جس عہد میںجموں کشمیر میں اردو فکشن نے آنکھ کھولی اُس وقت ریاست میں ڈوگرہ حکومت کا  شخصی راج تھا۔عوام بھوک، افلاس اور شخصی راج کے ظلم وستم سے تنگ آچکے تھے غرض غلامی اور بیگار کی وجہ سے زندگی اجیرن بن چکی تھی۔ڈوگرہ حکومت کے سخت اصولوں اور لاقانونیت کی وجہ سے سماج میں طرح طرح کے مسائل اُبھر رہے تھے جن سے یہاں کے ادباء بھی بے حد متاثر ہو ئے ۔جس کے خلاف انھوں نے قلمی احتجاج شروع کیا  اور ایسا افسانوی ادب تخلیق کیا جو یہاں کے عوام کے مسائل اور اُمنگوں کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے ساتھ ہی ساتھ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف بھی آواز بلندہونے لگی۔اس سلسلے میں پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ د راور تیج بہادر بھان کے نام ابتدائی طور پر لئے جا سکتے ہیں۔ان کے عہد میں کشمیر میں شخصی راج (ڈوگرہ حکومت )کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز ہوا تھاجس کی سرپرستی شیخ محمد عبداللہ کر رہے تھے۔شروع شروع میں پردیسی ٹیگور کی پیروی کرتے ہوئے بے حد رومانی نثر لکھتے تھے ان کی کہانیوں پر ادب لطیف کا گمان ہوتا تھا ۔لیکن پریم چند کی سماجی حقیقت نگاری ،انگارے کی اشاعت ،استحصالی قوتوں کی بے انصافی اور ریا کاری،ترقی پسند تحریک کے آغاز اور پھر کشمیر کے سیاسی حالات نے پردیسی کو پہلی بار احساس دلایا کہ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ضائع کیا ہے ۔وقت کی آہٹ سن کر انھیں اپنی فرض ناشناسی کا اندازہ ہوا جس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں:

’’یہ ایک ایسی تبدیلی تھی جس نے میر ے سامنے نئی راہیں کھول دیں ،بلکہ ہمارے ملک کے سامنے نیا نظریہ رکھا۔مجھے محسوس ہوا کہ اب بھی اگر میںاس نظریہ کا ساتھ نہ دوں تو میری افسانہ نگاری بے کار ہے اور آنے والا مورخ مجھے کن ناموں سے یاد کرے گا۔۔۔۔۔۔مگر عوام کو اپنی کہانیوںسے غلامی ،افلاس اور استحصال کا احساس دلا سکتا ہوں۔‘‘       ۱؎

اسی طرح پریم ناتھ درکے افسانوں میں بھی حقیقت نگاری عیاں ہے ۔بقول  ِاحتشام حسین :

 ’’کشمیر جو بارباران کے افسانوں میں آتا ہے اپنی وہ جنت بدوش عظمتیں لئے ہوئے نہیںآتا ہے جن سے رومانوں کا افسوں جگانے کیلئے فضا تیار ہوتی ہے بلکہ ان میں وہ غم آلود اور نشتر آگیںکسک بھرتا ہے جس سے ہم کشمیر کی حقیقت کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں۔‘‘     ؎؎۲

         پریم ناتھ پردیسی ،پریم ناتھ در اور تیج بہادر بھان ایسے افسانہ نگار تھے جنہوں نے کشمیر کی خوبصورتی کو بالائے طاق رکھ کر کشمیر کے درد  اور یہاں کے اندرونی حالات کے اوپر قلم اٹھایا ۔انھوں نے کشمیر کی افلاس،محرومی، یاس ،استحصال ،ظلم ،عدم تحفظ ،جاگیردارانہ نظام اور شخصی راج کے خلاف لکھنا شروع کیا۔ جب ہم جموںو کشمیر کے حوالے سے اردو فکشن کا مطالعہ کرتے ہیںتو ہمیں اس بات کا علم ہوجاتا ہے کہ جموں کشمیر میں عورت کو ہر عہد میں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کبھی عورت کو قدامت پسندی یا تنگ نظری کی وجہ سے سماج میں دشوار گزار راہوںسے گزرنا پڑا ہے تو کبھی تحریکِ حریت میں بھارتی فو ج اور عسکریت پسندوں کی وجہ سے بھی تکلیفیں جھیلنا پڑی ہیں،کبھی اس کو تنگ نظرئیے کی وجہ سے گھر سے باہر جانے سے،اعلیٰ تعلیم اور ملازمت سے روکا گیا۔جس کی وجہ سے یہ عورت اپنے آپ کو دوسروں پر بوجھ سمجھتی تھی اور اپنے آپ کو بے بس و لاچار اور کمزور سمجھتی تھی اور غلاموں جیسی زندگی بسر کرتی تھی۔پھر تحریکِ حریت  کے دوران بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں نے ماں سے بیٹا،بہن سے بھائی اور بیوی سے شوہر چھین لیا۔کسی کی لاش ملی،کسی کی آدھی لاش ملی،کوئی جیل میں سڑھ رہا ہے تو کوئی سِرے سے ہی لا پتہ ہوگیا۔جس کی وجہ سے عورت نفسیاتی طور پر مریض بن گئی۔اس سلسلے میں یہاں کئی افسانے اور ناول دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں عورتوں کے مسائل کی عکاسی بھی کی ہے۔ اس طرح سے یہاں کے ادباء نے اپنی تخلیقات میں عورت کے ساتھ اپنے خیالات اور جذبات کے ذریعے ہمدردی کاا ظہار بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر نعیمہ احمد مہجور نے اپنے ناول ’’دہشت زادی‘‘میں مردوں کی بالا دستی،بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کو نشانہ بناتے ہوئے عورت کی حا لتِ زار کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ ظلم و تشّدد کے اس دور میں ہمیںعورت کے شکست خوردہ مقام سے واقف کرایا ہے ۔اس سلسلے میں ناول کے حرفِ اوّل میں مشہور و معروف نقاد گوپی چند نارنگ یوں رقمطراز ہیں۔

۔۔۔اس میں رسم و رواج میں جکڑی پا بہ زنجیر عورت کا درد بھی ہے اور وادی میں موجودہ سیاسی کشمکش و قومی تاریخ کے قدموں کی چاپ بھی ۔۔۔مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کو فقط ایک نیم سوانحی ناول کے طور پر ہی نہیںبلکہ عورت کی پسماندگی کے خلاف ایک پُر سوز احتجاجی دستاویز اور وادی کی انسانیت پسند روحانی میراث’’ریشیت‘‘ کی درد میں ڈوبی فریاد کے طور پر بھی پڑھا جائے گا۔      ؎۳

   ترّنم ریاض تانیثی ادب کی ایک معتبر آواز ہیں۔انھوں نے اپنی تخلیقات میںخواتین کے حقوق کی بحالی ،تانیثی رجحان اور رویوں ،سماج میں ان کا منصب اور انفرادیت کا تعین جیسے موضوعات پر اپنے جذبات و خیالات کا بخوبی اظہار کیا ہے۔ترنم ریاض کے تقریباََ تمام ناولوں اور افسانوں میں عورتوں کے جذبات و احساسات،اس کی محرومیاں ،آہیں ،سسکیاں ،آنسو ،درد و کرب اور گھٹن کے ساتھ ساتھ مردانہ بالادستی کے خلاف بغاوت اور احتجاجی رویہ بھی موجود رہتا ہے۔جس کی واضح مثالیں ہمیں ان کے ناولوں اور افسانوں میں بڑی بے باکی سے ملتی ہیں۔اس سلسلے میںصغیر افراہیم یوں رقمطراز ہیں۔

   انھوں نے پدری سماج میں مردوں کو ہدفِ ملامت بنائے بغیر براہِ راست اُن سماجی قدروں کو تختۂ مشق بنایا ہے جو خواتین کو جکڑبندیوں میں رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔           ؎۴

   اسی طرح جان محمد آزاد نے بھی اپنے ناول ’’کشمیر جاگ اُٹھا‘‘ میںمرکزی کردار’مہتاب‘(نسوانی)کے ذریعے عورتوں کی مظلومیت اور محرومیت کی ترجمانی کی ہے۔یہ ناول ڈوگرہ شاہی راج میں عورتوں پر روا رکھے جانے والے مظالم اور جنسی تشّد دکی بھی روئیداد ہے ۔

   ایک اور اہم مسئلہ جواس وقت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی وباء کی طرح پھیل رہا ہے اور اس میں روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہ ہے عصمت دری اور جنسی استحصال۔اس جانب بھی یہاں کے فکشن نگاروں نے اپنی تخلیقات میں واضح اشارے کئے ہیں۔خالد حسین نے اپنے افسانے ’کنوار گندل‘میںبڑی فنکاری سے اس کی عکاسی کی ہے۔افسانے کا ایک کردار حاجی نفس کی آگ میں اندھا ہو کر اپنے چھوٹے بھائی کی بیوہ عورت کو اپنے ہی گھر میں دبوچ لیتا ہے۔جس کا نام گلاں ہوتا ہے وہ بے حرمتی کی آگ میں جلتی رہتی ہے۔اُس کا جسم حاجی کی روز کی خوراک بن جاتا ہے اور گلاں بے بس و لاچارہو کے رہ جاتی ہے۔ اس افسانے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

   کل سیاہ کالی رات کو تیز آندھی میںجو بجلی گری ،وہ انسانی بجلی ۔۔۔۔حاجی کے روپ میںسیدھی گلاں پر ہی گری تھی جس سے گلاں کا سارا جسم جھلس گیا۔۔۔گلاں جو میاں مِٹھو کی طرح اپنے آپ کو اس گھر کے پنجرے میں محفوظ سمجھتی تھی ،اسے پنجرے میں ہی بِلّی نے دبوچ لیا۔       ؎۵

   اسی طرح عصرِحاضر میںعورتوں اور نوجوان لڑکیوں کی خود کشی میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سماج میں مردوں کی بالادستی،عورتوں پر زیادتی،ظلم و استحصال،جنسی بے راہ روی،پیار محبت کے نام پر دھوکہ ، فریب کاری وغیرہ ہے۔اس جانب شیخ بشیر احمد نے اپنی کہانی’صدمہ‘ میںواضح اشارے کئے ہیں کہ ایک مرد اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کے بعد کنارہ کش ہو جاتا ہے لیکن حاملہ دوشیزہ خود کشی کرکے موت کو اپنے گلے لگا لیتی ہے۔اسی طرح کِر ن کاشمیری نے اپنے ناول ’رات اور زلف‘میں منوراما کے نسوانی کردار کے ذریعے محبت کے دلدل میں پھنسی ایک عورت کی بپتا پیش کی ہے وہ محبت کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ جاتی ہے لیکن اُس کا عاشق اُسے دھوکہ دیتا ہے ،جس کی وجہ سے اُس کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے کیونکہ وہ سماج میں اپنا مقام ،عزّت آبرٗو سب کچھ کھو دیتی ہے اُسے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔یہاں کے اردو فکشن میںایسی اور بھی بہت ساری مثالیںدیکھنے کو ملتی ہیںجیسے پشکر ناتھ،نور شاہ ،آنند لہروغیرہ نے اپنی اپنی تخلیقات میں پیش کی ہیں۔

   دہشت گردی (Terrorism)ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جو کہ عالمی مسئلہ(Universal Issue) کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔اب عالمی سطح پر دہشت گردی جیسے مہلک ترین جرائم سے نمٹنے کے لئے تجاویزاور اقدامات کئے جا رہے ہیں اور دنیائے ادب میں بھی دہشت گردی سے متعلق مضامین اور افسانوی ادب تخلیق کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ دہشت گردی سے اُبھرنے والے مسائل اور نقصانات سے آگاہ ہو جائیںاور اس نحوست سے چھٹکاراپانے میں کامیاب ہو جائیں۔عالمی ادب کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے اردو ادب /فکشن میں بھی دہشت گردی کے مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔خصوصاََ کشمیری عوام اور کشمیری پنڈتوںکو بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں سے جس پُر آشوب دور کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس سے پنپنے والے مسائل اوربحران کو یہاں کے کئی فکشن نگاروں نے اپنے فکشن کا موضوع بنا کر پیش کیا ہے۔اس سلسلے میں نعیمہ احمد مہجور کا ناول’دہشت زادی ‘ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے اس ناول میں تحریکِ آزادی اور اس سے پیدا ہونے والے بہت سے تاریک گوشوں پرروشنی ڈالی ہے جیسے کہ عسکریت پسند لوگوں کے گھروں میں پناہ لینے کے لئے جاتے ہیںاگر لوگ انھیں پناہ دینے سے انکار کرتے ہیں تو وہ اُن کے عتاب کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر پناہ دیتے بھی ہیں تو پھر ان کو بھارتی فوج کا ظلم و ستم سہنا پڑتا ہے۔اسی طرح عسکریت پسندوں اور ریاستی /بھارتی فوج کے مابین جب تصادم آرائی ہوتی ہے تو مظلوم عوام اور معصوموں کا بھی قتل ِناحق ہوتا ہے اور عوام کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کریک ڈائون اور تلاشی کاروائیاں ہوتی ہیںجس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔نعیمہ مہجور نے اس ناول میں تصادم آرائی کے خونیں مناظر کی بھی تصویر کشی کی ہے جیسے ایک بار عسکریت پسندوں نے اسپتال میں پناہ لی اور باہر فوج ان کو تلاش کر رہی تھی اسی دوران گولیاں چلنے کی آواز آئی اور اسپتال میں ہی کراس فائیرنگ شروع ہوئی ۔اسی دوران لیبر روم میں ایک بچے نے بھی جنم لیاجس کا نام طنزیہ کراس فائیر بے بی(Cross Fire Baby) رکھا جاتاہے۔پیش ہے یہ اقتباس:

   ۔۔۔گیٹ کے سامنے والے بنکر سے فوجیوں نے مشین گن سے اندھادھند گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جو او پی ڈی(O.P.D) کے سامنے مریضوں اور تیمار داروں کو لگ رہی ہیں اور وہ ایک ایک کرکے زمین پر گرتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔کراس فائرنگ کی زد میںمریض ہیںیا اُن کے تیماردار جو گِر گِر کر تڑپ رہے ہیں ۔۔۔درجنوں خون میں لت پت ہیں۔۔۔فوجی بے قابو ہو کر رجسٹرار کے دفتر کو تہس نہس کرنے لگے اور اب اسے بارود سے اڑانے کی تیاری میں ہیں کہ ہسپتال کا عملہ ان کو روکنے کے جتن کر رہا ہے۔۔۔۔دفتر خالی ہے اور عسکریت پسند کب کے یہاں سے جا چکے ہیں۔قتل و غارت گری کا ایک اور صفحہ رقم ہو گیا ہے،کشمیر میں اب اتنے واقعات ہو رہے ہیںکہ پچھلا یاد ہی نہیں رہتا ،ہر واقعے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہلے سے بھی بدتر تھا۔            ؎۶

   اسی طرح نور شاہ نے بھی اپنے کئی افسانوں میں دہشت گردی اور اس سے متعلقات کو موضوع بنا کر اس سے جنم لینے والے مسائل

کو ابھارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ملی ٹینسی(Miltancy)کے دور میں کشمیر اور کشمیریوں کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے اور کشمیر اور یہاں کی عوام معاشی،معاشرتی ،سیاسی اور سماجی سطح پر پسماندگی کا شکار ہو گئے۔احتجاجی ریلیاں نکالی جاتی ہیں،تعلیمی نظام درہم برہم ہو گیا ،نوجوان جن میں بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی شامل ہیں،بے راہ روی کا شکار ہو کر غلط راستہ اختیار کرتے ہیں۔دہشت گردانہ ماحول کی نظر نہ جانے کتنے معصوم لوگ ہو چکے ہیں ۔اُن کے عزیز و اقرباء اُن کے غم میں تڑپتے ہیں۔نورشاہ اس سلسلے میں تحریر کرتے ہیں۔

   ’’۔۔۔۔اس دوران یہ جنت دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ رُک رُک کر ایک نیا روپ اختیار کر گئی۔۔جہنم کا روپ۔۔۔آگ شعلے قتل و غارت ،آبرو ریزی، نا انصافی۔۔۔اور پھر ایک عجیب سی بات ہوئی۔لگاتار بہت سے نو جوان لا پتہ ہو گئے۔بسیار تلاش کے بعد ان کے بارے میں کوئی جانکاری نہ ملی۔پھر ایک ہنگامہ ہوا،لوگ متحرک ہو گئے اور حراستی ہلاکتوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے،تلاش شروع ہوئی۔کئی بے نام قبروں کی نشاندہی کی گئی اور کئی مسخ شدہ بے نام لاشیںان قبروں سے بر آمد کی گئیں     ؎۷

   دہشت گردی سے ہی ایک اور اہم مسئلہ جڑا ہوا ہے،وہ ہے بھارت اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کی خوف زدہ زندگی کا مسئلہ جس کی عکاسی خاص طور پرآنند لہر اور خالد حسین نے اپنے افسانوی ادب میں کی ہے۔سرحد کامسئلہ ہمارے ملک کاایک اہم اور بہت ہی حساس مسئلہ ہے جس سے نہ صرف سرحد پر رہنے والے ہی دوچار ہیں بلکہ سرکار،سیاسی رہنما، سرحد کاحفاظتی عملہ اور پورے ملک کی عوام سرحد پر رونما ہونے والے واقعات و حادثات سے بالواسطہ یا بِلا واسطہ متاثر ہوتے ہیں۔ سرحد کے آس پاس والے علاقوں میںجو لوگ رہتے ہیں اُن کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ وہاں ہر روز گولہ باری،کراس فائرنگ،جوابی کاروائیاںہوتی رہتی ہیں۔پھر چاہے وہ ہندوستان کے بارڈر سیکورٹی فورس(BSF) کی طرف سے ہو یا پاکستانی رینجرس (Rangers)کی طرف سے دونوں صورتوں میں سپاہیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر عام لوگ ہی مارے جاتے ہیں،اُن کے گھر بار،مال مویشی زندگی کے ساتھ ساتھ اسبابِ زندگی بھی کراس فائرنگ کی نظر خاک کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔آنند لہر نے اپنے افسانوی مجموعہ’سرحد کے اُس پار‘ اور ناول ’سرحدوں کے بیچ‘ میں ہند و پاک کے درمیان سرحدی علاقوں کے باسیوں کے مشکلات اور دُکھ درد کو بڑے خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے۔آنند لہر کے مطابق سرحدیں انسانی اقدار کو پامال کرتی ہیں۔موصوف نے ایک ناول’ مجھ سے کہا ہوتا‘ عراق کے جنگ کے پسِ منظر میں بھی لکھا ہے۔اس میں انھوں نے جنگ کی تباہ کاریوں اور اس کے بُرے اثرات کے بارے میں انسان کو باور کیا ہے۔اس طرح سے ان کی اکثر تخلیقات میں کشمیری عوام کی کشمکش ،دہشت گردی سے پیدا شدہ مسائل ،سماجی بدحالی کی عکاسی ملتی ہے آنند لہر اپنے افسانے’ سرحد کے اُس پار‘میں سرحد کے سخت حفاظتی عمل کی عکاسی یوں کرتے ہیں۔

   ’’اچھی طرح پہرہ دیتے رہو۔چڑیا بھی ادھر سے اُدھر نہ جانے پائے!کمانڈر نے زور دے کر کہا ’’چڑیا تو کیا چیز ہے ،چیونٹی بھی ادھر سے اُدھر نہ جانے دیں گے حضور۔‘‘          ؎۸

خالد حسین کے افسانوی مجموعے ’ستی سر کا سورج‘ کے پیشِ لفظ میںڈاکٹر قدوس جاوید یوں رقمطراز ہیں:

   ۔۔۔۔ ان افسانوں میںخالد حسین نے خصوصیت کے ساتھ اپنی زمین ستی سر(جموں و کشمیر)پر چھائی ہوئی نفرت،دہشت،کٹر پن،تنگ نظری اور مکر و  فریب کی تاریکیوں کی مختلف زاویوں سے تصویر کشی ہی نہیں کی ہے بلکہ ایک نئے سورج کے طلوع ہونے کا خواب بھی دیکھا ہے ۔تاکہ ستی سر میںپھیلی ہوئی تاریکی کا خاتمہ ہو سکے اور اس زمین کے باسیوں کو  عذاب کے دنوں اور وحشت کی راتوں سے نجات مل سکے۔‘‘   ؎۹

   اسی طرح سے کشمیری لال ذاکر نے بھی اپنے ناول’لال چوک ‘میںدہشت گردانہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دہشت گرد واقعات یا حملوں میں بیرونِ ریاست کام کرنے والے یا غیر ملکی سیاح اور کشمیری عوام بھی بلی چڑھتے ہیں۔

   ایک اوراہم مسئلہ بھی اسی دہشت گردی سے منصوب کیا جاتا ہے اور وہ ہے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی ۔جب کشمیر میں تحریکِ حریت کا آغاز ہوا توکشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی کثیر تعداد نے وہاں سے نقل مکانی کی۔ پھر چاہے وہ نے اپنی مرضی سے یا عسکریت پسندوں کے ڈر سے یا بھارتی فوج کے ظلم و جبرسے اپنے آبائی وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے لیکن اس کا براہِ راست تعلق کشمیر کے دہشت گردانہ ماحول سے ہے۔کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کے بعد ان کی حالت نا گفتہ بہہ تھی ،ان کی اس کسمپرسی کی حالت کو بھی یہاں کے فکشن نگاروں  نے موضوع بنایا۔اس سلسلے میں دیپک کنول،دیپک بُدکی اورویریندر پٹواری پیش پیش ہیں۔ منظورہ اختر نے بھی اس قبیل کے کچھ افسانے تحریر کئے ہیں۔۱۹۸۹؁ء کے بعدکشمیر کے حالات بدل گئے۔جنت کی اس وادی میں ہر جگہ گولیوں اور دھماکوں کی گن گرج سنائی دینے لگی ۔ہر طرف چیخ و پکار،افراتفری،تباہی اور بربادی کا سلسلہ جاری رہا۔انسانی خون پانی کی طرح بہنے لگا ،ذہن نے سوچنا چھوڑ دیا،لوگ بے گھر اور بے وطن ہوگئے۔اس دور کی عکاسی یہاں کے فکشن نگاروں کی تخلیقات میں جابجا نظر آتی ہے۔اس سلسلے میں دیپک بدکی اپنے مضمون ’’جموں کشمیر میں اردو افسانہ‘‘ میں لکھتے ہیں۔

   ’’کشمیر میں ۱۹۸۹؁ء کے بعد جو واقعات رونما ہوئے اس نے کشمیریوں کی نفسیات پر گہرے گھائو چھوڑ دئے ادھر کشمیر میں رہنے والوں کی نفسیاتی کشمکش اور محرومی پر نور شاہ،عمر مجید،زاہد مختار اور نگہت نظر نے فکر انگیز افسانے لکھے اورادھر مہاجروں کی دربدری اور بے گھری پر وریندر پٹواری ،دیپک کنول اور راقم التحریر(بدکی)نے کئی افسانے رقم کئے جو ان کے افسانوی مجموعوں افق،  برف کی آگ او ر  چنارکے پنجے میں بالترتیب شامل ہیں‘‘      ؎۱۰

    الغرض موضوع کے لحاظ سے جموں و کشمیر میں اردو فکشن تین واضح اور الگ الگ نقطٔہ نظر کا حامل نظر آتا ہے کچھ فکشن نگار کشمیر کی سیاسی ناپائداری،نا انصافی،رشوت خوری ،بے روز گاری ،دہشت گردی ،کرفیو،ہڑتالوں ،پولیس اور فوجیوں کے ہاتھوں ڈھائے گئے مظالم،عصمت ریزی، لوٹ مارجیسے موضوعات پر لکھ رہے ہیں۔ان میں عمر مجید،نور شاہ،شبنم قیوم،ترنم ریاض،منظورہ اختر،زاہد مختار،نکہت نظر،وحشی سعید ساحل،راجہ نذر بونیاری وغیرہ شامل ہیں۔آنند لہر اور خالد حسین نے سرحد کے قریب رہنے والے باشندوں کی خوفزدہ زندگی اور آئے روز کراس فائیرنگ کا شکار ہونے والوں کی نفسیاتی کشمکش اور ان کے مسائل کو موضوع بنایا ۔جب کہ ویریندر پٹواری ،دیپک کنول ،دیپک بدکی وغیرہ نے کشمیری پنڈتوں کی دربدری اور بے گھری پر افسانے تحریر کئے ہیںاور سوال اٹھایا کہ ان کے لئے آبائی وطن میں رہنا مشکل کیوں ہوا تھا۔ اس طرح سے جموں کشمیر کے فکشن نگاروں نے اردوکے افسانوی ادب میں عورتوں کے مسائل،دہشت گردی،کشمیر کے پیچیدہ حالات،بھوک ،افلاس وغیرہ کو موضوع بناکر بہت سے سماجی مسائل کی عکاسی کی ہے۔اُن کی تخلیقات میں عام انسانوں کا درد و کرب جھلکتا ہے اور وہ ریاستی عوام سے متعلقہ ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو اُجاگر کرتے رہتے ہیں۔ جس سے عوام میں ایک قسم کی بیداری بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ ہمارے سماج کے کس حصّے ،کس شعبے میںکون سی خامی پائی جاتی ہے اور ہمیں کون سے تدارک کرنے چاہئے جن سے ان مسائل کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔

حوالہ جات

   ۱۔پروفیسر حامدی کاشمیری  ،  ریاست جموں کشمیر میں اردو ادب  ،  رچنا پبلی کیشنز،جموں  ،   ۲۰۱۰؁ء  ۔ص۸۰

   ۲۔ڈاکٹر برج پریمی  ،  جموں کشمیر میں اردو ادب کی نشو نما  ،  رچنا پبلی کیشنز،جموں  ،  ۲۰۰۴؁ء  ،ص۳۰۔۲۹

   ۳۔نعیمہ احمد مہجور،دہشت زادی،میزان پبلشرز ،سرینگر کشمیر،  ۲۰۱۲؁ء  ،ص۳

   ۴۔ڈاکٹر صغیرافراہیم،افسانوی ادب کی نئی قرأت،مسلم ایجوکیشنل پریس،علی گڑھ،   ۲۰۱۱ئ؁  ، ص ۲۱۸

   ۵۔خالد حسین ،اشتہاروں والی حویلی،رچنا پبلیکیشنز جموں،  ۱۹۹۵؁ء  ،  ص ۴۸

   ۶۔نعیمہ احمد مہجور،دہشت زادی،میزان پبلشرز ،سرینگر کشمیر،  ۲۰۱۲؁ء  ،ص۱۵۱۔۱۵۰

   ۷۔نور شاہ،کیسا ہے یہ جنون،میزان پبلشرز،سرینگر کشمیر،  ۲۰۱۴؁ء  ،   ص۶

۸۔آنند لہر ،سرحد کے اُس پار ، رچنا پبلکیشنز جموں ،  ۱۹۹۸؁ء ،ص ۱۱

۹۔خالد حسین  ،  ستی سر کا سورج  ،  مکّہ پرنٹرز اینڈ پبلشرز ،مالیرکوٹلہ پنجاب،    ۲۰۱۱؁ء  ،ص۱۲

   ۱۰۔نذیر احمد ملک  ،  رسالہ’بازیات‘(جشنِ زریں نمبر)  ،  شعبہ اردو،کشمیر یونیور سٹی  ،  دسمبر۲۰۰۷؁ء  ،ص ۱۴۷

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(محمد سلیمان حجام) MOHAMMED SULIMAN HAJAM

RESEARCH SCHOLAR (urdu)

  DEPTT. OF PERSIAN URDU & ARABIC,

  PUNJABI UNIVERSITY ,PATIALA(47002)PUNJAB ,INDIA

     MOB.NO. 07696376711

 email id.    msuliman933@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.