رانا پرمود: ابن صفی کا لازوال منفی کردار

ابن صفی جن کو ہم جاسوسی ناول نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں انھوں ایک طویل عرصے تک جاسوسی ناول لکھے ہیں۔اپنے تخلیقی سفر کے دوران ابن صفی نے بے شمار کردار تخلیق کیے ہیں ان کرداروں میں مثبت اور منفی کردار شامل ہیں۔جہاں تک مثبت کرداروں کا تعلق ہے اس میں زیادہ ترکردار مستقل نوعیت کے ہیں۔یوں تو منفی کرداروں میں بھی مستقل کردار ابن صفی نے پیش کیے ہیں لیکن انھوں نے ایسے بے شمار منفی کردار تخلیق کیے ہیں جو ایک یا دو ناولوں میں آئے ہیں لیکن ان کے ایسے کرادار جو چند ناولوں میں  آئے ہیں ان میں بھی ابن صفی نے کردار نگاری کی ایسی مہارت دکھائی ہے کہ یہ کردار بھی ایک گہرا تاثر چھوڑتے ہیں۔ ابن صفی کا کوئی بھی کردار اکہرا نہیں ہے۔ ان کے کرداروں میں ایسی پیچیدگی ہے کہ یہ کردار قاری کے حافظے کا حصہ بن گئے ہیں۔ابن صفی نے ایسے منفی کردار بھی تخلیق کیے جو کسی جبر، ظلم، اور احتجاج کی وجہ سے مجرم بن گئے۔ہ میں  یہ نظر آتا ہے کہ ابن صفی کو ایسے منفی کرداروں سے ہمدردی ہے لیکن ہمدردی اپنی جگہ ایسے منفی کرداروں کوانھوں نے کیفر کردار تک ضرور پہنچایاہے۔

ابن صفی نے اپنے منفی کرداروں میں جنسی جنونی بھی پیش کیے ہیں۔ ابن صفی نے جنسی جنونیstyr، سادیت sadism یا ایذا رسانی، مساکیتmasochism یا اذیت کوشی، کے رجحان کو بھی پیش کیا ہے۔ سادیت میں ملوث افرادکی فطرت یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر لذت حاصل کی جائے، سادیت کی جبلت جنس کے علاوہ بھی عام زندگی میں پائی جاتی ہے مختصراً یہ کہ سادیت کے معنی یہ ہیں کہ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر لذت حاصل کی جاتی ہے۔ اب وہ لذت جنسیات کے ذریعہ ہو یا دیگر ذریعوں سے۔ مساکیت کی جبلت میں خود کو تکلیف پہنچا کر لذت حاصل کی جاتی ہے۔ ابن صفی کے ناولوں میں سادیت اور مساکیت کے مریضوں کا ذکر ہے۔سادیت اور مساکیت کے رجحان میں ملوث کئی کردار ابن صفی نے پیش کیے ہیں، ایسا ہی ایک کردار ناول’’ زہریلا آدمی‘‘ میں ہے جو خاور، بارن، اور رانا پرمود کے نام سے قاری کے ذہن میں محفوظ ہے۔ زہریلا آدمی ایسا ناول ہے جو آزادی سے قبل کے پس منظر میں لکھا ہو ا ناول ہے۔ رانا پرمود ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے وہ ’’درگوری اسٹیٹ ‘ ‘ کے شاہی خاندان کا فرد ہے۔

خاور کی حیثیت سے یہ روحانیت کا ماہر ہے اس کے گرد عورتوں کی بھیڑ رہتی ہے۔وہ انھیں کسی راہ پر لگا کر خود بارن کے روپ میں ان کاجنسی استحصال کرتا ہے۔ راناپرمود ایسا جنونی ہے جو incest کا شکار ہے، اس مرض میں مبتلا جنسی جنونی کے یہاں رشتوں کا تقدس ختم ہو جا تا ہے۔ رانا پرمود بارن بن کر اپنی بھتیجی پرنسس تارا سے جنسی تعلقات بناتاہے۔یہ شخص ایسا کیوں تھا؟ کیوں یہ جنسی جنونی بن جاتا ہے اس کا جواب ہ میں  ناول کے آخر میں ملتا ہے۔ ابن صفی کی یہ خاص بات ہے کہ انھوں نے اگر نفسیاتی کردار پیش کیے ہیں تو تحلیل نفسی کی ذریعہ ان کے اسباب بھی پیش کیے ہیں۔

“تحلیل نفسی ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعہ انسان کا دماغی تجزیہ کیا جاتا ہے اور تحلیل نفسی انسان کی انفرادی زندگی کے مدفون حالات اور کامپلیکس کی تلاش کا نام ہے”]۱[۔

ابن صفی رانا پرمود کی تحلیل نفسی کرتے ہیں تو قاری کو خود بخود اس کردار کی ذہنی پیچیدگی کاعلم ہو جاتا ہے۔ ابن صفی بارن کی ذہنی پیچیدگیوں پر سے اس طرح پردہ اٹھاتے ہیں:

“سنو  میں بالکل بے قصور ہوں۔بچپن ہی سے کریک تھا میرا باپ بھی جنسی جنونی تھااور ماں بھی ایسی ہی تھی۔ وہ اتنے بے ہو دہ تھے کہ۔۔۔ خیر ہٹائو۔۔۔  میں اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا۔ میری ایک بڑی سوتیلی بہن تھی۔ ان دنوں فرانس سے آئی ہوئی تھی اور لندن  میں ہمارے ساتھ مقیم تھی ایک رات جب  میں خادمہ کے لیے مضطرب تھااسی کے دھوکے  میں  میں نے سوتیلی بہن کا ہاتھ پکڑ لیاتھا۔ وہ چیخی تھی باپ جاگ پڑا تھا۔ وہ بہت غصہ ور تھا فریدی بس پاگل ہو جاتا تھا۔ اس نے مجھے زمین پر گراکر میرے دونوں کان کاٹ دیے تھے  میں رات بھر بے ہوش پڑا رہا تھا۔۔۔۔ اس وقت مجھ  میں Incestکا رجحان موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد پھر نہ جانے کیوں  میں خطرناک قسم کا جنسی جنونی بنتا گیا۔ شاید ہی کوئی مقصدی یا Objective قسم کا Deviation مجھ سے بچا ہو۔  میں نے زہریلا دانت اسی لیے بنوایا تھاکہ خود کو ایک خونخوار اژدہا محسوس کر کے مجھے جنسی تلذذ حاصل ہوتا تھا۔]۲[

یہ وجوہات تھیں جن کی بناپر راناپرمود کی شخصیت کے اندر Incest کا رجحان پیدا ہوا۔ ماہر نفسیات ایڈلر کے خیال کے مطابق:

 ’’ تمام نفسی امراض ذلت یا شکست کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان ان کی پردہ پوشی کرنے یا دور کرنے کے لیے عظمت اور سطوت حاصل کرنا چاہتا ہے‘‘]۱۱[۔

 ایڈلر کے بیان کے مطابق اگر رانا پرمود کا ذہنی تجزیہ کیا جائے تو چند وجوہات سا منے آتی ہیں:

(۱) جس رات بارن نے سوتیلی بہن کا ہاتھ نوکرانی کے دھوکے میں پکڑا تھااگر اس رات اس کو کان کاٹنے کی سزانہ دی جاتی بلکہ معمولی سزا دے کر یا پھر سمجھا کر چھوڑ دیا جاتا تو رانا پرمود کے اندر Incest کا رجحان نہ پیدا ہوتا۔ دراصل اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ بہن کا ہاتھ پکڑنے پر اس کے ساتھ ایسا ہوا ہے جبکہ اس کا ارادہ بہن کے ساتھ ایسا کچھ کرنے کا نہیں تھاجس سے بہن بھائی کے رشتے کا تقدس پامال ہوتا۔ لہذا اس نے اپنی ذلت کے نتیجے میں رشتوں کو پامال کرنا شروع کردیا اوراپنی بھتیجی بھانجیوں سے بھیس بدل کر جنسی رشتے قائم کرتارہا۔

(۲) اس کے اندر جنسی جنونی بننے کی ہوس موروثی تھی کیوں کہ اس کے بیان کے مطابق اس کا باپ اور ماں بھی جنسی جنونی تھے وہ اتنے بے ہودہ تھے کہ۔ ۔۔ بے ہودہ کہنے کے بعد جب راناپرمود فریدی سے کہتا ہے کہ۔ ۔۔ خیر ہٹائو۔۔ خیر ہٹائو میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ وہ اس بات کاخیال بھی نہ رکھتے ہوں گے ان کے بچے موجود ہیں لہٰذا دیکھا دیکھی اس کا ذہن بھی جنسی جنونی بنتا گیا۔

(۳) کان کٹنے کی وجہ سے اس کو جو ایذا پہنچی اس کے سبب وہ ایذا رساں بن گیا وہ بھی اس درجے کا اپنے اندر زہریلا دانت لگوا لیا اور اس سے جنسی تلذذ حاصل کرتا رہا گو کہ اس نے اپنی ذلت کا بدلہ سماج سے لینا چاہا۔ رانا پرمود ایذا طلب بھی بن گیا تھاخود سنکھیا استعمال کرتا تھااس لیے زہریلا دانت اس پر اثر انداز نہیں ہوتاتھا۔ وہ کسی کا خون کرنے کے لیے آسان طریقہ بھی استعمال کرسکتا تھا لیکن وہ اپنے شکار کو دانت سے کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو وہ شہر میں ہراس پھیلا کر لذت حاصل کرنا چاہتا تھا دوسرے اس کو دانت سے کسی کو کاٹ کر ایک طرح سے شکار کو تڑپانے میں لذت حاصل ہوتی تھی۔ وہ اتنا ایذاطلب ہوگیا تھا کہ جب اس کوپھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے تو وہ پھانسی کے تصور سے ہی تلذذ حاصل کرتا ہے۔دراصل وہ لذت کا متلاشی تھا خواہ اس کو لذت کسی بھی صورت میں ملے وہ پھانسی کے سزا کے متعلق فریدی سے کہتا ہے:

“اگر  میں نے رانا پرمود کی حیثیت سے پھانسی۔۔۔ پھانسی۔۔۔ ہائے پھانسی۔

اس نے خاموش ہوکر سسکاری لی اور اس کی آنکھیں نشیلی ہوگئیں جسم کانپ گیا۔

لیکن یہ خوف کی حالت تو نہیں تھی۔لذت۔ ۔سو فی صدی۔۔ کسی قسم کی لذت کا احساس تھا جس کے تحت جسم کانپا تھا۔آنکھیں چڑھتی چلیں گئی تھیں۔ ۔۔

چلے جائو وہ حلق پھاڑکے دہاڑا۔ چلے جائو۔ میرا موڈ نہ خراب کرو۔میں اس وقت پھانسی کے تصور سے شہد نچوڑ رہاہوں۔اس کی آنکھیں پھر نشیلی ہوگئیں اور جسم پھر کانپنے لگا”۔]۳[

رانا پرمود ان مجرموں میں سے تھا جسے اپنے انجام کی خبر پہلے سے تھی۔ اس کو تو بس لذت سے سروکار تھا وہ چاہے کسی بھی صورت میں اس کو ملے۔ یہ جنسی جنونی اپنی پھانسی کی سزا میں لذت تلاش کر لیتا  ہے کہا جاسکتا ہے کہ یہ لذت کی انتہا تھی۔ بہر حال یہ کہا جا سکتا ہے کہ راناپرمود کی شخصیت میں ایک پہلو ایسا تھا کہ وہ بحیثیت رانا پرمود اپنے جرموں کو چھپانا چاہتا تھا اور بارن کی حیثیت سے موت کو گلے لگانا چاہتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے خاندان کی مزید بدنامی نہیں چاہتا تھا۔ اس مجرم میں یہ بات تو تھی کہ وہ اپنے خاندانی وقار کو مجروح نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اس لیے وہ اپنی رانا پرمود والی حیثیت مخفی رکھنا چاہتا تھا۔

رانا پرمود کی شخصیت بچپن میں ہی جنسی کج روی کا شکار ہوگئی تھی اس کی وجہ موروثی ہوس، اس کی ذلت، اس پر ہوئے مظالم تھے۔ابن صفی نے خود رانا پرمود کے بارے میں ناول ’’زہریلا آدمی‘‘ کے پیش رس میں لکھا ہے:

“لیجیے بہت دنوں کے بعد ایک ایسی کہانی دے رہا ہوں جسے آپ عرصے تک یاد رکھ سکیں۔

اس کہانی کا مجرم جنسی کج روی (یا شاید گمراہی) کا شکار ہے۔ لیکن بھئی نہ تو یہ امریکن فل میں  دیکھ کر مجرم بنا ہے اور نہ جاسوسی ناول پڑھ کر، جنسیت کے معاملے  میں  اسے مجرمانہ ذہنیت ورثے  میں ملی تھی۔ وہ خود بھی اس کا اعتراف کرتا ہے۔ لیکن اس کے جرائم کی ابتدا جنسی گمراہی سے نہیں ہوتی۔ جو کچھ بھی ہوا تھا غلط فہمی کی بنا پر ہواتھا۔ اسے اس کی پاداش  میں جو سزا ملی وہ بڑی گھنائونی اور انسانیت سوز تھی”۔]۴[

ابن صفی نے ناول کے پیش کش میں رانا پرمود کے متعلق جو باتیں کہیں تھیں ان کی بنا پر ہی اس کے پورے کردار کو پیش کیا گیا ہے۔ دراصل رانا پرمود کے متعلق ابن صفی نے بالکل درست کہا تھا:

“کاش اس کی غلط فہمی اتنی بڑی سزا کا باعث نہ بنتی۔ کاش پہلی غلطی پر وہ کسی ’’اصلاح خانے‘‘ کے سپرد کر دیا گیا ہوتا”۔]۵[

یہی وہ تدبیر تھی جس کی وجہ سے رانا پرمود جنسی جنونی بننے سے بچ سکتا تھااور اسی تدبیر میں اس کردار کی نجات تھی۔ ابن صفی نے ا سناول کے پیش  کش میں ایسی بات کہی ہے جو بچوں کی نفسات سے تعلق رکھتی ہے جس پر سبھی کوعمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے:

“بچوں کو سزا دینے کے سلسلے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ہمیشہ یاد رکھیے”۔]۶[

اگر رانا پرمود کا باپ اپنے بیٹے کوسزا دینے کے معاملے میں احتیاط سے کام لیتا تو شاید رانا پرمود کی یہ حالت نہ ہوتی۔ابن صفی کے اس پیغام میں کہیں نہ کہیں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ ہر جرم کسی نہ کسی احتجاج کی بنا پر وجود میں آتا ہے۔ بہر حال رانا پرمود ایک ایسا منفی کردار ہے جب بھی ابن صفی کی کردار نگاری پر گفتگو کی جائے گی تو رانا پرمود کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

حواشی:

]۱[جدید اردو تنقید اصول و نظریات، ڈاکٹر شارب ردولوی، اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ، پانچواں ایڈیشن ۲۰۰۲، ص۲۰۱

]۲[زہریلا آدمی، ابن صفی، جلد ۲۸، اسرار پبلیکشنز لاہور، فروری ۱۹۶۰، صص، ۳۸۲تا ۳۸۳

]۳[زہریلا آدمی، ص ۳۸۴

]۴[پیش رس ناول زہریلا آدمی، ص۲۱۵

]۵[ایضاً

]۶[ایضاً

Leave a Reply

1 Comment on "رانا پرمود: ابن صفی کا لازوال منفی کردار"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
Muhammad Ashfaq Ayaz
Guest

ابن صفی پر یہ جدید تحقیق ہے۔ مصنف نے اپنمے مضمون کے ساتھ انصاف کیا ہے۔

wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.