اردو داستان میں محبت کی نفسیات

ABSTRACT

(PSYCHOLOGY OF LOVE IN URDU DASTAN)

(Romantic Love is the major element of urdu prose dastan. It is so much necessary that even a single dastan is not completed with out romantic love. The description of love in a story demands some techniques only then it will be interesting and useful. In urdu dastan we find different techniques which are used by dastan go. In this article I tried my best to explore and elaborate these techniques and psychology of love in urdu dastan.)

عشق و محبت کا بیان اردو نثری داستانوں کے بنیادی عناصر میں شمار ہوتا ہے۔ اردو نثر میں محبت کے بیان کی کثرت اور شدت جس قدر داستان میں نظر آتی ہے کسی اور نثری صنف میں  نہیں ملتی۔ داستان میں پلاٹ کی بنیاد عشق و محبت کے بیان پر رکھی گئی ہے۔ کلیم الدین احمد کے مطابق ” عشق داستانوں کا اہم ترین عنصر ہے۔” (۱)کہانی میں دلچسپی اور اس کی طوالت کے لیے داستان گو محبت کے بیانیے کے لیے خاص تکنیک استعمال کرتا ہے۔اس کے لیے کہانی کار اس بات کا اہتمام کرتا ہے کہ وہ اس جذبے کی شدت کو پیش کرے اور اس کے لیے وہ بعض افعال وضع کرتا ہے۔ یہ تکنیک جس قدر موثر ہو گی کہانی میں اسی قدر تجسس برقرار رہے گا اور قاری کی دلچسپی بھی بڑھتی رہے گی۔داستان گو اسی تکنیک کے استعمال سے قاری کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔داستان میں محبت صرف اظہار تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ محبت ایکشن کی متقاضی ہے۔ دیگر اصناف کے مقابلے میں داستان میں صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ ہیرو ہیروئن سے محبت کرتا ہے۔کہانی کار کا مقصد قاری کو محض محبت کی اطلاع دینا یا اس کے بارے میں بتانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ وہ قاری کو یہ محبت محسوس (feel )کروانا چاہتا ہے۔

عشقیہ ماحول داستانوں کی مابہ الامتیاز خصوصیت ہے۔ داستان کا موضوع کچھ بھی ہو اس میں حسن و عشق کا بیان ضرور ہوتا ہے۔ اس میں مہمات، اسراریت، سحر و طلسم، ادبی شان، شاعرانہ فضا، اخلاق، عیاری ہر شے ہوتی ہے لیکن حسن و عشق کی چاشنی بھی ضرور رہتی ہے، محبت کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی شکل میں ضرور داخل ہو جاتی ہے۔اسی ضمن میں ڈاکٹر سہیل بخاری لکھتے ہیں ـ:

“اردو کی داستانیں در اصل محبت کی داستانیں ہیں۔ایشائی ادب کا مزاج ہی محبت کے خمیر سے تیار ہوا ہے۔” (۲)

محبت کی تحریک ہمیشہ کوئی خواب، تصویر یا حسن کا شہرہ ہوتا ہے۔ داستان میں محبت کی ابتداء طویل ملاقاتوں کے بعد نہیں ہوتی بلکہ پہلی نظر میں ہی محبت ہو جانے کے تمام مراحل طے ہو جاتے ہیں۔یہ محبت ہیرو اور ہیروئن کا ایک دوسرے کو مجسم صورت میں دیکھ کر نہیں ہوتی بلکہ خواب، تصویر یا حسن کا چرچا ہوتا ہے جو انھیں ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ محبت جذباتی اعتبار سے شدید ترین ہوتی ہے۔ ہیرو اور ہیروئن ایک دوسرے کے ہجر میں مرغِ بسمل کی طرح تڑپتے ہیں۔کھانا پینا چھوٹ جاتا ہے۔ فراقِ یار میں آہیں بھرنا، حتیٰ کہ جنون کی حالت اختیار کر لینا ہیرو اور ہیروئن کے لیے عام ہو جاتا ہے۔ ہیرو کی اس حالت کا علاج نجومی، جوتشی، رمال، حکیم، طبیب سب ہیروئن کا وصال قرار دیتے ہیں۔یعنی قاری کو بتا دیا جاتا ہے کہ اب داستان کا اختتام تب ہی ممکن ہے جب ہیرو اور ہیروئن کا وصال ہو گا۔یوں داستان میں ہیرو کی محبت اس کے طویل سفر کی بنیاد بنتی ہے۔ اپنے محبوب کے حصول کے لیے ہیرو اپنی جان جوکھم میں ڈالتا ہے۔یہ سفر ہیرو کو ایک ایسے مہماتی زمان و مکان (Adventure Time and Space)میں  لے جاتا ہے جس کا اختتام جلد ممکن نظر نہیں آتا۔ گلزارِ دانش میں بے نظیر (مصور)کی لائی ہوئی تصویر دیکھ کر شہزادے کی حالت جو اس کے شہرِ مینو سواد کی طرف سفر کی وجہ بنتی ہے:

“شہزادہ اس شکل معنی سے بھری ہوئی اور اس صورت جاں کی نورانی باری کو دیکھتے ہی مجنوں کی طرح صحرائی بنا غر ض یہ مہر ور بانو کے ملنے کی تمنا  میں عشق کی شراب کے سرور  میں مستوں کی طرح بد حواس و مدہوش ہو کر تخت اوپر سے نیچے گر پڑا بلکہ گھڑی آدھ گھڑی نقش قالین کی طرح بچھونے پر بے حس و حرکت پڑا۔۔۔ عشق کا تیر جگر چھید نے ہارا اس کے دل  میں گھر کر چکا تھا۔ اسی باعث اپنی معشوقہ کے غم کے ہاتھ سے جانبر ہوا بلکہ بے اختیار دل کے گریبان کو پھاڑ کر دیوانگی کا حلقہ کانوں  میں ڈال لیا۔ یہاں تک کہ سب سے منہ پھرا کر اپنا دل دلدار سے لگایا۔ نیک نامی کے کوچے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ فہم و ذکا کو جواب ملا۔” (۳)

داستان میں اکثر محبت کا آغاز خیالی ہوتا ہے پھر مرکزی کردار کا نسوانی مرکزی کردار کو مجسم صورت میں دیکھنے اور پا لینے کی خواہش میں مہمات کا آغاز ہوتا ہے۔ ہیرو کا سفرِ محبت اس قدر دشوار اور تکلیف دہ ہوتا ہے کہ قاری کو ہر دم یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کیا ہیرو ہیروئن کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا ؟ راستے کی مشکلات جو کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہیں کیا ہیرو ان سے بچ نکلے گا؟ ہیروئن جو داستان کی اسٹیج میں مجسم صورت میں سامنے نہیں آئی کیا ہیرو کے ملنے پر بھی اتنی ہی خوبصورت ہو گی جیسا کہ اس کے حسن کا غائبانہ بیان کیا گیا ہے؟ یہ سوال قاری کو تمام داستان میں متجسس رکھتے ہیں۔داستان گو محبت کے بیانیے کو اس قدر دلچسپ بنا دیتا ہے کہ قاری کی نفسیات کو بھی ہیرو کے ساتھ تطبیق کر دیتا ہے۔ یوں ہیرو کے ساتھ ساتھ قاری میں بھی ہیروئن کو مجسم صورت میں دیکھنے کا اشتیاق قائم کر لیتا ہے۔ داستان کی دلچسپی کا دارو مدار محبت کے بیانیے پر قائم رہتا ہے۔

اردو داستان میں رومانوی محبت(Romantic Love)پائی جاتی ہے۔ یہ محبت ہجر و فراق کے ساتھ ساتھ ایکشن کی بھی متقاضی ہوتی ہے۔ اس محبت میں داستان گو کے لیے صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ ہیرو اور ہیروئن ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور اسی محبت کے نتیجے میں اختتام قصہ میں دونوں ایک دوسرے سے مل گئے۔

داستان ایک ایسی کہانی نہیں ہوتی جس میں کردار پہلے سے ہی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں۔جس میں مرکزی کردار اپنی عمر کا ایک خاص حصہ گزار چکے ہوتے ہیں۔کہانی کار ان مرکزی کرداروں کی محبت میں مبتلا ہونے کے بعد کی کہانی سے سروکار رکھتا ہے۔ایسی کہانی میں عموماً کسی غلط فہمی کی بنا پر دونوں کرداروں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا جاتا ہے اور اختتام قصہ میں اس غلط فہمی کو دور کر کے دونوں کرداروں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر کہانی کا طربیہ اختتام کر دیا جاتا ہے لیکن داستان میں محبت کی کہانی اس سے مختلف ہوتی ہے۔ اس میں کہانی کا آغاز مرکزی کرداروں کے گرفتارِ محبت ہونے کے بعد سے نہیں ہوتا بلکہ داستان مرکزی کرداروں کی پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور پھر محبت کا آغاز کب اور کیسے ہوتا ہے اس سے متعلق داستان گو مکمل تفصیل فراہم کرتا ہے۔ عجائب القصص میں ہیرو شجاع الشمس داستان کی ہیروئن ملکہ زرنگار کو خواب میں دیکھ کر اس پر عاشق ہو تا ہے جس کی تفصیل داستان گو یوں فراہم کرتا ہے۔ملاحظہ ہو:

“یک بار خواب  میں دیکھتا کیا ہے کہ ایک قصر بلوریں ہے۔ اس  میں ایک رشک حور و پری، غارت گر ضبط و شکیب، قمر طلعت بادشاہ زادی مع پوشاک نفیس اور جواہر اقسام اقسام کا جسم پر آراستہ کیے ہوئے اور یک چھڑی موتیوں کی گندھی ہوئی ہاتھ  میں لیے ہوئے کمال ادا اور ناز اور نزاکت سے جلوہ گر ہے۔ یک مرتبہ نگاہ بادشاہ زادے کی اس بادشاہ زادی سے دوچار ہوئی۔بے اختیار تیر عشق کمان تقدیر سے چھوٹا، دل اور جگر  میں بادشاہ زادے کے تا سو فار غرق ہوا۔ وہیں تمانچا بے ہوشی عشق نے مارا، غش کھا کر زمین پر گرا۔”(۴)

ایک عام معاشرتی کہانی کے برعکس رومانوی کہانی اور بالخصوص داستان اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ اس میں محبت کے بیانیے میں جزیئات تک بیان کی جائیں۔محض سرسری محبت کا ذکر کر کے آگے بڑھ جانا داستان گو کوقطعاً مقصود نہیں ہوتا نہ ہی قاری اس بات کا خواہاں ہوتا ہے۔ہیرو کے سفرِ محبت میں درپیش عجیب غریب واقعات کا تھکا دینے والا بیان جب داستان کو بوجھل کرنے لگتا ہے تو محبت کی واردات اور دونوں مرکزی کرداروں کی دلی کیفیات کا بیان قاری کو ہم آہنگ کیے رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داستان میں ہیرو کی مہم جوئی کے ساتھ ساتھ محبت کا بیانیہ بھی چلتا رہتا ہے۔

داستان میں محبت ایکشن کی متقاضی ہوتی ہے اور تمام داستانوں میں محبت کے عملی مظاہرے نظر آتے ہیں۔محبت کے بیان کی ثانوی اورذیلی کرداروں کے ضمن میں اتنی طوالت مناسب نہیں ہوتی لیکن داستان کی یہ خاصیت ہے کہ اس کا پلاٹ ہمہ وقت کسی نہ کسی ایک مرکزی کردار کے گرد ہی گھومتا رہتا ہے اور کوئی ایک مرکزی کردار ان ایکشن نظر آتا ہے۔پس داستان میں محبت کا مکمل اظہار کیا جاتا ہے اور اس ایکشن کے بدلے میں جواب(Response)بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ صرف محبت کا بیان قاری کے لیے اتنا دلچسپ نہیں ہو گا لیکن عملی محبت کا بیان اتنی آسانی سے بھلایا نہیں جا سکتا۔مذہبِ عشق میں بکائولی اور تاج الملوک کی ملاقات کا حال ملاحظہ ہو:

” قصہ مختصر اسی صورت سے شہزادے کے پاس پہنچی، اس کی نگاہ جوں ہی اس سراپا ناز پر پڑی صبر و قرار ہوش و خرد جاتا رہا، غش کھا کر گر پڑا۔ تب تو یہ ہڑ بڑا کر دوڑی، اس کا سر اٹھا کر اپنے زانوئوں پر رکھ لیا۔ اس غنچہ دہن کی بو کہ گلاب سے بہتر تھی سونگھتے ہی شہزادے کے دماغ  میں قوت آ گئی۔ ہوش  میں آیا، آنکھیں کھول دیں اور اپنے سر کو اس زہرہ جبین کے زانو پر دیکھا، کو کبِ بخت کو اوج پر پایا، خوش و خرم اٹھ بیٹھا۔ پھر تو پیار کی آنکھیں طرفین سے پڑنے لگیں، یہاں تک کہ ٹکٹکی بندھ گئی۔ آخر شرابِ شوق کا پیالہ چلنے لگا، نشہ اشتیاق دونوں کو چڑھا، پردہ حجاب بیچ سے اٹھ گیا، چالاکی اور بے باکی کا بازار گرم ہوا۔” (۵)

محبت چونکہ داستان کا لازمہ ہوتی ہے اس لیے اس کے محرکات اور جزیات کا کہانی میں بار بار دکھایا جانا ضروری ہو جاتا ہے۔ داستان میں گھر، خاندان، دوست، معاشرہ کے علاوہ حیوانات اور پرندوں سے بھی محبت ملتی ہے لیکن رومانوی محبت ان سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔رومانوی محبت داستان کے پلاٹ میں صرف اس کے بیک گرائونڈ میں نہیں رہتی بلکہ واضح اور نمایاں طور پر سامنے نظر آتی ہے۔ محبت کی اسی اہمیت کی بدولت داستان گو کے لیے محبت کا بار بار بیان لازمی ہو جاتا ہے۔

محبت کے اظہار میں تحفہ دینا، ایک ساتھ وقت بتانا، ایک دوسرے کا بغیر بتائے خیال رکھنا بھی شامل ہوتے ہیں۔اس کے لیے زبان سے اظہار کرنا یا پھر دوسرے فرد کو جتایا نہیں جاتا اور نہ ہی یہ سب کچھ کسی صلے کے لیے ہوتا ہے۔لیکن محبت کے اظہار میں زبردست طریقہ چھو لینا (Physical Contact) قرار دیا جاتا ہے۔ “گلزارِ چین” میں رضوان شاہ کا روح افزا کی محبت اور دونوں کے وصال کا حال ملاحظہ ہو:

“یہ کہا اور اس غنچہ دہن آرام جان کے گلے  میں جوں شاخ گل ہاتھ ڈال کر لب لعل فام سے اس کے بوسہ لیا۔ ازبسکہ وہ بھی اس کی عاشق تھی۔ گلے سے لگ گئی۔ گلستان عیش کا دروازہ کھل گیا۔ نشے  میں شراب وصل کے لگا آپس  میں بوس و کنار ہوئے۔ رضوان شاہ کبھی اس کے لب سے لب لگاتا تھا اور کبھی چھاتی سے چھاتی۔ غرض اس لیلیٰ صفت کے روبرو شکل مجنوں دیوانہ وار حرکتیں کر رہا تھا۔ “(۶)

رومانس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں قاری کو محبت صرف دکھائی ہی نہیں جاتی بلکہ محسوس بھی کروائی جاتی ہے۔ قاری اس محبت کو صرف ایک خیالی واقعہ ہی تصور نہیں کرتا۔ محبت میں مرکزی کرداروں کا جذباتی انداز، پہلی ملاقات کی تڑپ، وصال کے بعد طویل ہجر میں مرکزی کرداروں کادوبارہ ملاقات کے لیے مرغِ بسمل کی طرح تڑپنا، نازو ادا، گلے شکوے، یہ سب کچھ محبت کے بیان کا خاصہ ہوتا ہے اور یہی بات قاری کے شوق کو بھی ممیز کرتی ہے۔

داستان میں محبت کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں کردار عجیب الخلقت اور محل وقوع بھی قاری کے لیے اجنبی ہوتا ہے لیکن اس محیر العقول پلاٹ میں بھی محبت کا بیانیہ حقیقی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کرداروں کی محبت سے ہی قاری خوشی محسوس کرتا ہے اور کرداروں کے جذبات کی انتہائی بلندی اس کی حقیقی مسرت کا باعث بنتی ہے۔

داستان میں محبت چونکہ ایک بڑے عنصر(Major Element)کے طور پر رہتی ہے اس لیے صرف یہ بتا دینا کہ ہیرو او رہیروئن ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ناکافی ہوتا ہے۔ داستان کا پلاٹ اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ محبت کا بیانیہ مسلسل ارتقاء پذیر رہے۔ ہیرو اور ہیروئن کے ملنے پر محبت کا عملی اظہار بھی مسلسل بڑھتا چلا جائے۔ گلزارِ دانش میں ہیرو اور ہیروئن کی ملاقات کا حال جس میں حقیقت کا رنگ واضح نظر آتا ہے:

“یہاں تک کہ ان دونوں بے دلوں نے مارے شوق و اشتیاق کے اضطراب کیا کہ گلے  میں باہیں ڈال کر ہم کنار ہوئے۔ سینے سے سینے جا لگے۔ ایک نے دوسرے کو اپنی طرف خوب سا کھینچا۔ دوسرے نے اس کو اپنی گود  میں بٹھلا کر گلے لگایا۔ بوسہ و کنار کرنے لگے۔ مساس اور ملنے کی لذت سے وہ دونوں نہایت مسرور ہو کر کامرانی و خاطر شگفتگی کی طرف متوجہ ہوئے۔ غنچہ گل مراد کی نسیم خوشگوار سے کھلنے لگا۔ ” (۷)

محبت کے بیانیے میں وجہ کو پیش کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہیرو محبت میں کیوں مبتلا ہوا؟ وہ کسی اور مقصد کے لیے بھی تو عازمِ سفر ہو سکتا تھا۔پھر ہیروئن بھی ہیرو کے ساتھ ہی کیوں محبت کرنے لگتی ہے۔اسے ہیرو کے علاوہ کسی اور مرد سے محبت کیوں نہیں ہوتی؟ اسی طرح ہیرو بھی صرف ہیروئن سے ہی کیوں محبت کرتا ہے جبکہ اسے اس سفرِ محبت میں اور بھی بہت سی خوبصورت عورتیں اور پریاں ملتی ہیں جن میں سے اکثر کا ساتھ اسے حاصل ہو جاتا ہے۔جو خوبصورتی میں کسی صورت بھی ہیروئنو ں سے کم نہیں ہوتیں لیکن ہیرو کی کسک صرف ہیروئنو ں کے لیے ہی کیوں ہوتی ہے؟

داستان میں محبت اس لیے دلچسپ ہو جاتی ہے کہ اس میں داستان گو ہیرو اور ہیروئن کی محبت کی وجوہات بیان کرتا ہے اور یہ وجوہات منطقی ہوتی ہیں۔کسی ایک مرکزی کردار سے متعلق جاندار بیان جو دوسرے مرکزی کردار کو اسے مجسم صورت میں دیکھنے پر مجبور کر دے یا پھر پہلی ملاقات میں محض ایک جھلک دکھلا کر اس کردار کو غائب کر دینا۔ مرکزی کرداروں کا یہ پہلا تعلق چاہے غائبانہ ہو یا پھر آمنے سامنے کا خارجی بیان کے ساتھ ہی داخلی واردات کے بیان کو شامل کر دیا جاتا ہے۔

کہانی میں جب ایک کردار کسی دوسرے کردار سے محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کردار میں کیا خاصیت تھی جس کی بدولت دوسرا کردار اس کی محبت میں گرفتار ہوا؟کیا اس کردار کی دلکشی تھی جس نے دوسرے کردار کو اس کی محبت میں مبتلا کر دیا؟ پہلی نظر میں محبت(Love at first sight)کردار کی دلکشی سے ہی جڑی ہوتی ہے لیکن پہلی نظر میں محبت بھی بعد کے معاملات سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس محبت کے ارتقاء کے لیے ان کرداروں کے مابین ذہنی اور جسمانی تعلق کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ مادھو نل اور کام کندلا کی محبت اور ملاقات کا احوال ملاحظہ ہو:

“وہ اس روپ سے اسے دیکھ کر اور بھی ریجھ گیا او روہیں کام دیو نے آ گھیرا۔ آہستہ آہستہ اس کے پاس جا کر پلنگ پر لے آیا۔ پھر دونوں چترائی کی باتیں کرنے لگے۔ شہوت و جوانی  میں بھرے ہوئے، خوبی سگھڑائی  میں گھڑے عیش کی حالتوں  میں بس کر محو ہوئے۔ شہوت کی آگ کی تاب نہ لائے۔ جس طرح سے کہ کوک کی ریت تھی اسی طرح سے ہم بستر ہوئے، اور وہ رات خوشی خرمی سے کاٹی۔ “(۸)

داستان میں محبت کے بیانیے میں دونوں کرداروں کا ایک جیسا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ صرف یہی صورت قاری کے لیے متاثر کن(Appealing)ہوتی ہے اور اسی صورت میں ہی قاری بھی دونوں کرداروں کے ملنے کی خواہش دل میں پیدا کر لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ داستان میں محبت میں مبتلا دونوں کردار چاہے مرکزی ہوں یا پھر ضمنی ہم پلہ و مرتبہ ہوتے ہیں۔شہزادے کے مقابلے میں شہزادی یا پھر ملکہ کا کردار لایا جاتا ہے اسی طرح وزیر زادے کے لیے وزیر زادی کا کردار تخلیق کیا جاتا ہے۔ رومانوی محبت کا تعلق خوبصورتی سے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ جن دو کرداروں کو محبت میں گرفتار دکھایا جا رہا ہے وہ دونوں کردار بھی خوبصورتی میں برابر ہوں۔محبت کا بیانیہ اسی صورت میں ہی دلچسپ اور اثر پذیر ہو سکتا ہے جب محبت کی آگ دونوں طرف لگی ہوئی ہو۔ یک طرفہ محبت(One sided love)کا بیان اس قدر دلچسپ نہیں ہو سکتا جب تک دوسرے کردار کی طرف سے رسپانس نہ دیا جائے۔ پس محبت کے معاملات کی وضاحت اور انھیں پر اثر بنانے کے لیے ایکشن(Action)، مکالمہ(Dialogue)، تاثرات(Expressions)، اور خیالات(Thoughts)کا بیان ضروری ہوتا ہے۔ اردو داستان میں پیش کی جانے والی محبت میں یہ تمام عناصر نمایاں نظر آتے ہیں۔

اگر ہم اردو داستان میں محبت کی نفسیات کا جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ داستان میں محبت کی نفسیات کا ایک نظریہ ہے کہ محبت جسم کے حصول کا ایک مہذب ذریعہ ہے۔ داستان گوئوں نے اسی نظریے کے تحت داستان میں محبت کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہیرو کی ہیروئن سے وصال کے لیے تکلیفیں، صعوبتیں اٹھانا سب محبوب کے جسم کے حصول تک ہوتا ہے۔ جب تک اس سے ہیرو محروم رہتا ہے برہ کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ داستان گو جانتا ہے کہ ہیرو اور ہیروئن کا ملاپ ہی در اصل داستان کو طول دینے کا باعث ہے یہی وجہ ہے کہ ہیرو اور ہیروئن کے ملاپ میں وہ مشکلیں کھڑی کرتا جاتا ہے۔ فسانہ عجائب میں ہیرو اور ہیروئن یعنی جان عالم اور انجمن آراء کے طویل ہجر کے بعد وصل کی تفصیل:

” سینے سے سینہ، لب سے لب، ہاتھ پائوں ؛ بلکہ جتنے اعضائے جسم ہیں، سب وصل تھے۔ مثل ہے: ایک جان د و قالب، وہ ایک جان ایک ہی قالب، غالب ہے کہ ہو گئے۔” (۹)

محبت سے مراد وہ جذبہ ہے جسے ہم اخلاقی نقطہ نظر سے مستحسن سمجھتے ہیں۔ داستان گو ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے جس میں ایک فرد اپنے جنسی اور حیوانی جذبات کو برا سمجھ کر ان سے کسی قدر نا آشنا ہو جاتا ہے۔ اس کی تربیت ایسی فضا میں ہوتی ہے جس میں جنسی محرکات کو مذموم سمجھا جاتا ہے اور وہ کھلم کھلا کسی حقیقی فرد پرجس کا اسی معاشرے سے کسی طرح کا تعلق ہے اپنے یہ دبے ہوئے جذبات پروجیکٹ نہیں کر سکتا۔ اس کشش کو جو جنسِ مخالف میں دونوں طرف ہوتی ہے یہ داستان گو اگرکھل کھیلنے والی عورت (طوائف)کی اس کشش کو اصلی محبت سمجھ کر ایسی عورت سے تعلقات قائم کرتے تو وہ تعلقات بالعموم رنج و غم کا شکار ہو جاتے۔کیونکہ داستان گو اخلاقی و مذہبی پابندیوں میں گرفتار ہے اور سماج کے وضع کیے ہوئے اصولوں کو قطعی طور پر درست اور صحیح سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ داستان میں ایسے کردار تخلیق کرتا ہے جن سے جنسی حظ اٹھا سکے لیکن وہ کردار پست طبقے سے بھی نہ ہوں اور اس معاشرے سے تعلق بھی نہ رکھتے ہوں۔وہ اگرچہ حقیقی معلوم نہ ہوں لیکن ان کرداروں کی محبت کی واردات کو وہ حقیقی معنوں میں ہی بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محیر العقول کردارجن کا عام انسانی معاشرے میں تصور نا ممکن ہے ہونے کے باوجود محبت کا بیان قاری کو عجیب معلوم نہیں ہوتا۔ آرزو چودھری لکھتے ہیں:

ـ”حسن و جمال اور عشق و جنون کی دلنواز مخاصمتیں اور ہیجان خیز نوک جھونک، قصے کی جان اور روپ سروپ اور چاہت و الفت کی رنگین آنکھ مچولیاں لازمہ داستان ہیں۔حسن کی بہاریں، دلوں اور جان کی حدت سے نکھر سنور کر داستانوں  میں رنگ و نگہت کی روشنیاں بھر دیتی اور انھیں نظر نواز اور جاذب بنا دیتی ہیں اور پھر ہر داستان اور قصے  میں حسن و جنوں کے چاند طلوع ہو کرامرت برساتے ہیں۔خود بھیگتے اور دلوں کو بھگوتے ہیں۔”(۱۰)

“id”جبلی آرزئوں کا سرچشمہ ہے، “ego”ان آرزئوں کی فوری تسکین کی ہوس کو تلخ حقائق کے شعور سے صبر یا ترک پر مجبور کر تا ہے۔ ان کی بندی میں ابتذال اوران کی گرمی میں نرمی پیدا کرتا ہے۔ Super Egoکردہ یا ناکردہ گناہوں کی سزا میں عقوبت پہنچاتا ہے اور ہمارے جانے اور انجانے اخلاقی معیار بھی اسی کا حصہ ہیں۔ محبت کا جذبہ جہاں ایک کردار کو دوسرے کردار سے ہم آہنگ کرتا ہے اسی طرح اس کے اخلاقی معیار کے حوالے سے اس کی ذہنی تسکین کا باعث بھی بنتا ہے۔ محبت کا جذبہ اگرچہ کسی دوسرے جنسِ مخالف کردار کے حصول کا ایک ذریعہ ہوتا ہے لیکن یہ جذبہ ان کرداروں کو بے راہ رو نہیں ہونے دیتا۔ محبت ان کرداروں کو حصول کے اس طریقے اور قائدے پر لے جاتی ہے جو معاشرے نے مقرر کیا ہوتاہے۔کیونکہ اخلاق جذبات کے خلاف نہیں بلکہ جذبات کی بے راہ روی کے خلاف ہوتا ہے۔ اس طرح کے اصول اور قاعدے پر عمل کرنے سے جہاں Idکی تسکین ہوتی ہے وہاں ego super بھی اس کے لیے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کرتی۔ پس داستان میں محبت کا بیان انسانی جذبات کی تسکین تو کرتا ہے لیکن کسی معاشرتی بگاڑ کا باعث نہیں بنتا۔ یہی داستان  میں محبت کی نفسیات کا خاصہ ہے۔

حوالہ جات

۱۔کلیم الدین احمد، پروفیسر، اردو زبان اور فنِ داستان گوئی، نیشنل بک فائونڈیشن، اسلام آباد، اشاعتِ اول، ۱۹۹۰ئ، ص ۱۷

۲۔سہیل بخاری، ڈاکٹر، اردو داستان تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ۱۹۸۷ئ، ص ۴۱۵

۳۔حیدر بخش حیدری، گلزارِ دانش، مرتبہ، عبادت بریلوی، ڈاکٹر، یونیورسٹی اوریئنٹل کالج، لاہور، سن ندارد، ص ۸۱

۴۔شاہ عالم ثانی، عجائب القصص، مرتبہ راحت افزا بخاری، مجلس ترقی ادب لاہور، ۱۹۶۵ئ، ص ۶۲

۵۔نہال چند لاہوری، مذہبِ عشق، مرتبہ خلیل الرحمن دائودی، مجلس ترقی ادب، لاہور، ۲۰۰۸ئ، ص ۹۹

۶۔خلیل علی خان اشک، گلزارِ چین، مخزونہ اورئینٹل کالج لائبریری، سن نداد، ص۶۳

۷۔حیدر بخش حیدری، گلزارِ دانش، مرتبہ، عبادت بریلوی، ڈاکٹر، یونیورسٹی اوریئنٹل کالج، لاہور، سن ندارد، ص ۲۳۸

۸۔مظہر علی خان ولا، مادھو نل اور کام کندلا، مرتبہ عبادت بریلوی، ڈاکٹر، اردو دنیا، کراچی، ۱۹۶۵ئ، ص ۳۹

۹۔رجب علی بیگ سرور، فسانہ عجائب، مقدمہ رشید حسن خان، مجلس ترقی ادب، لاہور، ۲۰۰۸ئ، ص ۱۴۷

۱۰۔آرزو چودھری، داستان کی داستان، عظیم اکیڈمی، اردو بازار لاہور، ۱۹۸۸ئ، ص۵۲۸

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.