قرآن، سائنس اور سائنسی مزاج۔ماضی، حال اور مستقبل

انسانی مزاج تین عناصر کا مرکب ہے۔ اوّل وہ نسلی خواص جو کسی شخص میں اس کے والدین کی جانب سے منتقل ہوتے ہیں۔ دوم اس کی تربیت اور ماحول اور سوم اس کی تعلیم۔ ان تینوں عناصر میں سے نسلی خواص کا رول اس معنی میں کم تر ہوجاتا ہے کہ ان کا تعلق ایک صحت مند ذہن بنانے تک محدود ہوتا ہے۔ محققین یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ایک صحت مند انسان اوسط ذہانت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ذہن تمام بنیادی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی اور نشوونما کا انحصار اس ماحول، تربیت اور تعلیم پر ہوتا ہے جو اسے نصیب ہوتی ہے۔

مزاج کے دیگر مظاہر کی طرح اس کا ’’سائنسی پن‘‘ بھی اس کو ملنے والی تعلیم و تربیت کا عکاس ہوتا ہے۔ آج رنگ و نسل ملک و زبان اور مسلک و عقاید کے خانوں میں بٹے ہوئے مسلمانوں کے درمیان ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے سائنسی مزاج، سائنسی شعور اور فطری علوم کا فقدان اور ان کی جانب بے التفاتی۔ تمام عالم کے مسلمانوں میں عام طور سے اور برّصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں میںخاص طور سے سائنسی رجحان کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے جو ہماری توجہ، تحقیق اور کاوش کا اوّلین مستحق ہے۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ ہمارا یہ مزاج، اس کی اچھائیاں اور برائیاں، اس تعلیم و تربیت کاثمرہ ہیں جو ہمیں برسوں سے دی جارہی ہے۔ اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ہم کس تعلیم کا ذکر کر رہے ہیں؟ اگر یہ وہ اسکولی  یا  ’’سیکولر‘‘  تعلیم ہے جو آج کل تعلیمی اداروں میں دی جاتی ہے اور اگر اسے ہم ناقص تسلیم کریں تو پھر اس تعلیم سے بہرہ آور ہونے والے ہمارے دیگر ہم وطن کس طرح سائنسی میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔۔۔۔اگر اس تعلیم سے ہماری مراد وہ دینی یا اسلامی تعلیم ہے جو ہمارے مدارس میں دی جاتی ہے اور اگر اسے ہم ناقص مانیں تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اسلامی تعلیمات مسلمانوں کو سائنسی شعور اور رجحان عطا نہیں کرتیں تو پھر ساتویں صدی عیسوی سے لے کر بارہویں صدی عیسوی تک مسلمان سائنسدانوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دئے اور موجودہ سائنس کی بنیادیں استوار کیں وہ کیونکر ممکن ہوا ؟۔۔۔۔ اس مسئلے کا مکمل احاطہ کرنے، اس کے وجود میں آنے کے اسباب کو سمجھنے، اس کی وجہ سے پیدا شدہ خرابیوں کا تفصیلی جائزہ لینے اور اس کا مؤثر اور قابل عمل حل تلاش کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ہم ماضی کو کریدیں اور ان وجوہات کو سمجھیں جن کی وجہ سے موجودہ صورت حال پیدا ہوئی۔

انسانی تاریخ میں ایسے بھی ادوار گزرے ہیں جب تعلیم کا مطلب محض مذہبی تعلیم ہوتا تھا۔ اس وقت کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مذہبی تعلیم کے ذریعے ان کو وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو حیاتِ انسانی کا مقصود ہے۔ انسان میں وہ صفات پیدا ہوجاتی ہیں جو اس کی روحانی اور جسمانی، انفرادی اور اجتماعی فلاح و بہود کے لئے لازم ہیں۔ یہاں ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ علم و آگہی کے دو ہی ذرائع ہیں:

  وحی الٰہی یعنی  Revealed Knowledge  اورصحیفۂ فطرت یعنی قدرت کے شاہکاروں، اس کے نظاروں اور مظاہر کی تحقیق۔ اوّل الذکر ذریعہ پیغمبروں کو نصیب تھا جبکہ دوسرا محققین کے حصّے میں آیا ہے۔ انسانی تاریخ کی شروعات کے ادوار میں علم و واقفیت کا واحد ذریعہ وحی ٔ  الٰہی تھا۔ اللہ سبحان تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ، قوانین و ضوابط رسولوں کی معرفت عام انسان تک پہنچتے تھے۔ یہی تعلیم و تربیت کا واحد طریقہ تھا۔کلامِ پاک میں اس انداز سے علم عطا کرنے کا کئی جگہ ذکر ہے۔ مثلاً حضرت نوح کو کشتی بنانے کا علم اسی طرح عطا کیا گیا ’’۔۔۔۔اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنائو۔۔۔۔‘‘   (ہود  ۔37 )

حضرت یوسف علیہ اسلام سے متعلق ذکر ہے۔

’’۔۔۔اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اُسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا‘‘     (یوسف۔  22)

’’۔۔۔یوسف نے کہا  ’’یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اُس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادونگا۔ یہ اُن علوم میںسے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کئے ہیں‘‘۔

                                                 (یوسف ۔  37)

 اس دور کے انسان کی محدود ضروریات اور محدود وسائل کواگر ہم ذہن میں رکھیں تو صورت حال سمجھ میں آجاتی ہے۔ تاہم جیسے جیسے دنیا میں انسانوں کی آبادی بڑھی، سماجی ڈھانچہ مضبوط ہوا، ضروریات زندگی میں اضافہ ہوا، علم حاصل کرنے کے دیگر انداز اور طریقے بھی اللہ تعالیٰ نے واضح کر دئے۔مفکّروں کی کاوشوں سے نئے نئے علوم وجود میں آئے اور ان کا دائرہ وسیع تر ہوتا گیا۔ امام غزالی  ؒ  (1058-1111)  کا قول ہے کہ عقل فعال کی نشو ونما کے لئے عقیدہ کی پاکیزگی اور ایمان کی پختگی پہلی شرط ہے لہٰذا ابتدائی تعلیم مذہبی عقاید اور مذہبی احکامات کے مطابق ہونی چاہئے‘‘۔ تاہم وہ تعلیم کو محدودکرنے کے مخالف تھے۔ اسی لئے انہوں نے جو نصاب تعلیم ترتیب دیا تھا، اس میں اس وقت کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بُنائی، کھیتی باڑی اور لکڑی کے کام جیسے ہنر شامل تھے۔  (1:114)

جب مسلمان ہندوستان میں آئے اور یہاں آباد ہونے لگے، تو شروع شروع میں انہوں نے مذہبی بقا کے لئے مدرسے کھولے، جہاں بنیادی دینی کتابوں کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ چنانچہ تیرہویں صدی عیسوی تک تعلیم میں منطق، فلسفہ، ریاضی وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا  (2:144) حالانکہ اسلامی ممالک میں اس قسم کے مضامین نصاب میں شامل تھے، جیسا کہ اوپر امام غزالی  ؒ کے حوالے سے بیان کیا جاچکا ہے، مگر خالص دینی تعلیم کا انتظام بہت عرصے تک قائم نہیں رہا۔ تعلیم میں رفتہ رفتہ دین کے ساتھ ساتھ دینوی مضامین کا اضافہ ہوتا گیا۔

ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کے دور میں تعلیم پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں تھا، دراصل اسلامی ممالک میں بھی اس زمانے تک تعلیم حکومت کے اثرات سے عموماً آزاد تھی کیونکہ وہاں تعلیم کی ابتداء اور مدارس کا انتظام کلّی طور پر آزادانہ شوق کا نتیجہ تھا۔ شروع شروع میں ہر ایک بستی کی مسجد مدرسے کا بھی کام دیتی تھی۔ یا پھر مسجد سے ملحق ابتدائی تعلیم کے لئے ایک مکتب ہوتا تھا۔ چھ برس کی عمر سے لڑکوں کی تعلیم شروع ہوجاتی تھی۔ استاد کسی صاحب جائیداد شخص یا جماعت کی طرف سے مقرر ہوتا تھا جو اُن کے بچوں کو تعلیم دیتا تھا۔ ان مکتبوں میں تعلیم کی سہولت نادار بچوں کو بھی دستیاب تھی۔  (3:11-13) ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی تعلیم کچھ اِسی نہج پر شروع ہوئی تھی۔ پٹھانوں اور مغلوں کے دور حکومت میں مسلمانوں کی تعلیم کا انتظام بھی نجی کوششوں کا رہین منت تھا۔ تاہم کبھی کبھی تعلیمی اداروں کو حکمرانوں اور علم دوست حضرات سے بڑے بڑے عطیے ملتے تھے۔ تعلیم میں سرکاری دلچسپی کا سہرا اکبر کے سر ہے۔ اس کے عہد میں پہلی بار حکومت نے تعلیمی میدان میں اقدامات کئے۔ ایک محکمۂ تعلیمات قائم کیا گیا، جس کے تحت رعایا کی تعلیم کا انتظام بلا لحاظ مذہب و ملّت ہوتا تھا۔ ہندوئوں اور مسلمانوں کی تعلیم ایک ہی ادارے میں ہوتی تھی،گرچہ ان کے نصاب تعلیم جُدا جُدا تھے۔لیکن چند مضامین مثلاً ریاضی، سائنس وغیرہ مشترک تھے۔  (4:224)  پٹھانوں اور مغلوں کے عہد حکومت میں سائنس اور تکنیکی تعلیم کی طرف بھی توجہ دی گئی۔ خاص طور پر طب کی تعلیم کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور اس سے مسلمانوں اور ہندوئوں دونوں نے فائدہ اٹھایا۔ مسلمان حکمرانوں کے آخری دور میں تعلیم سے متعلق ایک نیا رجحان اور رویہ نظر آتا ہے مثال کے طور پر یہاں میں حیدر آباد (دکن) کے بعض مسلم حکمرانوں کی تعلیمی کارگزاریوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ایک مشرقی علوم کا کالج جسے دارالعلوم کہتے تھے، شہر حیدر آباد میں  1853-54ء میں قائم کیا گیا۔ اسے تعلیم عامہ کی سمت میں پہلا قدم کہا جاسکتا ہے۔ اس میں عربی، فارسی، مراٹھی، تیلگو اور انگریزی زبان کی تعلیم اور ان زبانوں کے ذریعہ کلاسیکی ادب تک رسائی کا انتظام تھا۔ یہاں نہ صرف تعلیم مفت دی جاتی تھی بلکہ طلباء کی ہمّت افزائی کے لئے انہیں وظائف اور انعامات سے بھی نوازا جاتا تھا۔ چند سال بعد   1859-60ء میں ہر ایک تعلقہ میں ایک ایک فارسی کا اور ایک ایک مقامی زبان کا اسکول کھولا گیا۔ ان اسکولوں کے نصاب تعلیم میں زبانوں کے علاوہ ریاضی، تاریخ اور جغرافیہ جیسے مضامین شامل تھے۔ ان اداروں کے دروازے بلا امتیاز نسل و مذہب سبھی کے لئے کھلے ہوئے تھے۔  1878ء میں انگلستان کی وضع کا ایک پبلک اسکول بھی قائم کیا گیا، جہاں مسلمان اور ہندو شرفاء کے بچے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرتے تھے۔  (5:1-4)

اپنی سر زمین کی بات کرنے کے بعد آئیے اب تاریخ کے کچھ اور اوراق پلٹتے ہیں اور اس عہد میں چلتے ہیں جسے اسلامی سائنس کے عروج کا دور کہا جاتا ہے۔ مشہور مؤرخِ سائنس جارج سارٹن  (George Sarton)  نے  ’’تاریخ سائنس‘‘   (14) میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر بارہویں صدی عیسوی تک کے دور کو اگر پچاس پچاس سال کے ادوار میں منقسم کرکے ان میں سے ہر ایک دور کو اس وقت کے کسی ایک عظیم عالم سے منسوب کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ سارے ادوار مسلمان سائنسدانوں کے ناموں سے منسوب ہیں۔ ایک اور جگہ جارج سارٹن لکھتا ہے  ’’انسانیت کے بنیادی کام کو مسلمانوں نے پورا کیا۔ اپنے وقت کا عظیم ترین فلاسفر مسلمان تھا، عظیم ترین ریاضی داں مسلمان تھا، عظیم ترین تاریخ داں بھی مسلمان ہی تھا۔  ’’یہی نہیں رابرٹ برائفالٹ  (Robert Brifalt) نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ  ’’اسلام سے قبل سائنس کا وجود نہ تھا۔‘‘   اس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ طب کو علم کا درجہ دینے اور وقار بخشنے کا کام بھی مسلمانوں کے ہاتھوں ہی انجام پایا۔ وہ لکھتا ہے کہ   “Medicine was more of a magic than medcine before Islam” (15)  (ترجمہ: اسلام سے قبل ، طب جادو زیادہ تھی، طب کم)

یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ان مغربی مصنفین کی نظر میں اسلام کی شروعات آنحضورﷺ کے زمانے سے ہوئی ہے، لہٰذا اس سے قبل کے دور کو یہ اسلام سے قبل کادور کہتے ہیں۔ مسلمان علماء کا ایک بہت بڑا اور تاریخ ساز کارنامہ تجربات کی ابتداء تھی۔ مسلمانوں کے اس سنہرے دور سے قبل دنیا باقاعدہ وباضابطہ تجربات اور ان کی افادیت سے ناواقف تھی۔ مسلمانوں نے ہی دنیا کو تجربات کی اہمیت سے روشناس کیا۔ بقول رابرٹ برائفالٹ  ’’یونانیوں نے تدوین کا کام کیا، عام اصول بنائے اور انہیں علمی زبان میں بیان کیا، لیکن تجربے کی کسوٹی پر نتائج اخذ کرنا یونانی فطرت کے خلاف تھا۔جسے ہم سائنس کہتے ہیںاس کی بنیاد مشاہدات اور تجربات پر ہے اور ان نئے طریقوں سے یورپ والوں کو عربوں نے متعارف کرایا۔ اسلامی تہذیب کا سب سے قیمتی عطیہ موجودہ دور کی سائنس ہے۔‘‘ جارج سارٹن بھی اس بات کی توثیق ان الفاظ میں کرتا ہے:  ’’قرون وسطیٰ کا اصلی لیکن سب سے کم معروف کارنامہ تجرباتی طریقے کی تخلیق ہے اور یہ دراصل مسلمانوں کی کاوشوں کا نتیجہ تھا جو بارہویں صدی عیسوی تک جاری رہیں۔‘‘  (14)

احیائے اسلام کے فوراً بعد ہی مسلمانوں میں علم و آگہی، تحقیق و جستجو کا جو ولولہ نظر آتا ہے وہ ایک نہایت اہم اور قابل غور نکتہ ہے۔ جاں نثار ان رسولؐ اور فدایانِ قرآن کی یہ روش اس بات کی روشن اور واضح دلیل ہے کہ علم و آگہی کی یہ پیاس مسلمانوں میں کلام پاک اور اللہ کے رسولؐ  نے پیدا کی تھی۔ قرآن کریم کی ہدایات پر عمل کرکے مسلمان بہت جلد نہ صرف علوم پر دسترس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ ان میں بیش بہا اضافے بھی کرنے لگے۔ نتیجتاً انہوں نے دنیاکے بیشتر علاقوں میں اپنی طاقت و عظمت کا سکہ اس طرح جما دیا کہ یورپ کی اقوام باوجود ہزاروں کوششوں کے، صدیوں تک مسلمانوں کو زیرنہ کر سکیں۔

عہد وسطیٰ کے یورپ اور اسلامی دنیا کا موازنہ کرتے ہوئے مولانا آزاد  ’’غبار خاطر‘‘  میں لکھتے ہیں:

’’یورپ مذہب کے مجنونانہ جوش کا علمبردار تھا۔ مسلمان علم و دانش کے علمبردار تھے۔ یورپ دعائوں کے ہتھیاروں سے لڑنا چاہتے تھے، مسلمان لوہے اور آگ کے ہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا، مسلمانوں کا خدا کی مدد پر بھی تھا لیکن خدا کے پیدا کئے ہوئے سرو سامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا،دوسرا روحانی اور مادّی دونو ںکا۔ پہلے نے معجزوں کے ظہور کا انتظار کیا، دوسرے نے نتائج کے ظہور کا۔ معجزے ظاہر نہیں ہوئے لیکن نتائج عمل نے ظاہر ہوکر فتح و شکست کا فیصلہ کردیا۔‘‘

اس تحریر میں مولانا آزاد نے بارہویں صدی عیسوی کی ان صلیبی جنگوں کا ذکر کیا ہے جب مسلمانوں نے پیٹریری  (Petrary) نام کے نئے ہتھیار بنالئے تھے جو دشمنوں پر آگ برساتے تھے۔ پانچویں صلیبی جنگ میں ان ہتھیاروں کی مدد سے جارج لوئس کی فرانسیسی فوج کے ٹھکانوں کو جلاکر خاکستر کر دیا گیا تھا۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان ہوائی حملوں سے فرانسیسی فوجی اتنے ہراساں ہوگئے تھے کہ ان کے کمانڈر لارڈ والٹر  (Lord Walter) نے مایوسی اور بے بسی کی حالت میں فوجیوں کو مشورہ دیا کہ  ’’جونہی مسلمان آگ کے بان چلائیں ہمیں چاہئے کہ گھٹنے کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ خداوند سے دعا مانگیں کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے‘‘  لیکن بقول مولانا آزاد  ’’فرانسیسیوں کا خوش اعتقادانہ یقین، وہم سے زیادہ نہ تھا۔ کیونکہ بالآخر کوئی دعا بھی سود مند نہ ہوئی اور انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا  (16)۔

سائنسی علوم اور ان کی مدد سے ہونے والی نت نئی ایجادات نے مسلم ممالک کو اتنی طاقت عطا کردی تھی کہ صدیوں تک وہ اسلام مخالف طاقتوں پر خدائی قہر بن کر ٹوٹتے رہے۔ تاہم انہی صدیوں کے دوران واقع ہونے والی کچھ بیرونی اور اندرونی خرابیوں نے، جن کا ذکر میں آگے کروں گا، ان کو علم سے اتنا بیزار کردیا کہ ان کا حال وہی ہوگیا جو ساتویں صدی عیسوی سے چودہویں صدی عیسوی تک یورپی اقوام کا تھا۔ اب مسلمان دعائوں پرزیادہ انحصار کرنے لگا اور علم و عمل کو بے معنی قرار دینے لگا۔ مسلمانوں کی اس ذہنی اور فکری تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے مولانا آزاد نے بخارا پر روسیوں کے حملے کی رودادیوں بیان کی ہے:

’’انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تو امیر بخارا نے حکم دیا کے تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔ اُدھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کر رہی تھیں اِدھر لوگ ختم خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے  ’’یامقلّب القلوب، یا محوّل الاحوال‘‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ آخر وہی ہوا جو کہ ایک ایسے مقابلے کا نتیجہ نکلنا تھا۔ جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو، دوسری طرف ختم خواجگان۔۔۔۔ دعائیں ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں، مگر انہی کو جو عزم و ہمت رکھتے ہیں۔ بے ہمتوں کے لئے وہ ترکِ عمل اور تعطل قویٰ کا حیلہ بن جاتی ہیں۔‘‘  (16)

ساتویںصدی عیسوی سے لے کر چودھویں صدی عیسوی تک کے دور کو اگر اسلامی تمدن کا قرنِ اوّل کہا جائے اور چودہویں صدی عیسوی سے تا حال دور کو قرنِ دوم کا نام دیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان دونوں ادوار میں سائنسی اعتبار سے مسلمانوں کی حالت ایک دم مختلف نظر آتی ہے۔ قرنِ اوّل میں اسلامی دنیا علم کے نور سے منوّر تھی جبکہ اس وقت یورپ جہل اور وہم و بدگمانی کی تاریکوں میں غرق تھا۔ اس کے برخلاف قرنِ دوم میں بساط اُلٹ چکی تھی۔ اس دور میں مسلمان سائنس سے رشتہ توڑ کر جہالت، بد عقیدگی اور شرک کے عمیق سمندر میں ڈوب چکے تھے جبکہ یورپ مسلمانوں کے فراہم کردہ علوم کی روشنی سے جگمگارہا تھا۔ مشہور مصنف ڈی۔ کیمبیل  (17) نے اس دور کو یوں بیان کیا ہے۔ ’’اسلامی سائنس کے دور میں یورپ میں تاریک دور تھا اور کٹّرپن، ظلم،گنڈہ تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کی برائیاں عام تھیں۔‘‘

قرن اوّل کے دور کے مسلمانوں کے علمی ذوق میں ایک بے حد اہم اور غور طلب زاویہ اُن کے علم کی ہمہ گیریت کاہے۔ اپنے اپنے ادوار کے بیشتر سائنسداں نہ صرف علوم فطرت میں ماہر تھے بلکہ علوم دین پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ مثلاً جابر بن حیّان نے سائنسی تحقیقات شروع کرنے سے قبل مدینہ منوّرہ میں رہ کر حضرت امام جعفر صادق سے دین کا علم حاصل کیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اسی دوران انہوں نے کلام پاک پر غور و فکر کرکے سائنسی تحقیق کا راستہ پایا ہو۔ زکریا رازی اور بوعلی سینا اپنے وقت کے امام طب ہونے کے ساتھ علم دین اور علم فلسفہ کے بھی ماہر تھے۔ اسی طرح الکندی عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ علم موسیقی، علم طبیعات علم بصریات اور علم ریاضی کا بھی ماہر تھا۔

مسلمانوں کے قرن اوّل کا ایک اور قابل توجہ مطالعہ چارلس جیلسپی  (Charles Gillespie) نے کیا ہے۔ اس مؤرخ نے ان سائنسدانوں کی فہرست مرتب کی ہے جنہوں نے ساتویں صدی عیسوی سے پندرہویں صدی عیسوی کے درمیان سائنس کو فروغ دیا اور موجودہ دور کے سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اس فہرست میںایک سوبتیس  (132) سائنسدانوں کے نام شامل ہیں، جن میں سے ایک سو پانچ کا تعلق اسلامی دنیا سے تھا۔ دس وہ تھے جو غیر اسلامی دنیا یعنی یورپ سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان میں سے بیشتر نے اسلامی اسپین کی یونیورسٹیوں  (قرطبہ، غرناطہ وغیرہ)  میں سائنس کی تعلیم حاصل کی تھی۔ گویا کہ اس دور کے لگ بھگ نوے فیصد  (90%) سائنسداں اسلامی دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی تناسب سائنسی ایجادات اور سائنسی تصانیف کا بھی تھا۔ اب آئیے بساط اُلٹنے کے بعد دوسرے دور کی آخری یعنی موجودہ صدی کا جائزہ لیں۔  1981ء میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق جو پچیس  (25) ممالک سب سے زیادہ سائنسی لٹریچر ہر سال شائع کرتے ہیں ان میں ایک بھی مسلمان ملک کا نام نہیں ملتا۔  1996 ء میں دنیا بھر میںجو سائنسی مضامین مختلف رسائل میں شائع ہوئے، ان میں مسلم مصنّفین کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم تھی۔ گویا قرن اوّل میں جب مسلمانوں کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا محض  15 فیصد تھی، اُس وقت سائنسی سرگرمیوں میں اُن کا  90فیصد حصہ تھا اور آج جب مسلمانوں کی آبادی تقریباً  22 فیصد ہے تو سائنس میں ان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بغداد کی صرف ایک شاہراہ پر کتابوں کی دوسو دُکانیں تھیں جہاں قرآن پاک سے لے کر فلکیات، طبیعات، ریاضی، کیمیا، طب وغیرہ کی کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔ لوگوں کے گھروں میں ذاتی لائبریریاں تھیں، علمی مجلسیں آراستہ کی جاتی تھیں، نئی دریافتوں اور نئے علوم کی روشنی میں کلام پاک پر غور و فکر کیا جاتا تھا۔ آج کسی دُکان یا کسی ذاتی لائبریری میں تو کیاکسی مسلم ادارے کی لائبریری میں بھی مشکل سے ہی رازی یا جابر بن حیان یا الکندی کی تصانیف نظر آئیں گی۔ بقول شیخ سیّد ابوالحسن علی ندوی  ’’یہ تاریخ کا عبرت انگیز واقعہ ہے کہ سائنس کی عظیم الشان خدمات انجام دینے کے بعد مسلمان اپنی تحقیق و علمی روش بھول گئے اور مقلدانہ اور روایتی ذہنیت کا شکار ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں وہ سائنسی اور صنعتی میدان میں مغرب سے پیچھے رہ گئے۔‘‘  (19) ۔  ایڈورڈایٹیا  (Edward Atiya) اس دور کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتا ہے  ’’اس دور میں مسلمان سوچنے اور ایجاد کی صلاحیت کو کھوبیٹھا اور صرف پرانی کتابوں کو رٹ لینے کو علم سمجھ بیٹھا۔‘‘  بات یہیں ختم نہیں ہوتی سچ تو یہ ہے کہ وہ قدیم کتابوں پر شرحیں لکھنے لگا پھر شرحوں کی شرحیں تحریر کی جانے لگیں۔ اس کے نزدیک یہ اس کے علمی مشاغل تھے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں کدّو کاوش کا جو مادّہ رکھا ہے، جدو جہد اور کار کردگی کا جو خمیر شامل کیا ہے، اسے تحقیق و جستجو کا راستہ نہ ملا تو وہ تقلید و تنقید اورفروعی مسائل پر اپنی توانائی صرف کرنے لگا۔

اب آئیے اس بنیادی اور اہم نکتے کی طرف پلٹتے ہیں کہ مسلمانوں میں علم کے تئیں اس اہم فکری تبدیلی کی وجہ یا وجوہات کیا تھیں۔ ان کو سمجھنے کے بعد ہی ہم ان کو دور کرنے کے طریقے پر غور کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انسان اگر کوئی کام کرتا ہے تو اس کے پیچھے دو ہی محرکات ہوتے ہیں ۔یا تو اس کام کے بدلے اسے مال و عزّت یا پھر حسب خواہش کسی اور شئے کے ملنے کی توقع ہوتی ہے یا پھر وہ کسی جذبے، لگن یا فرض کے تحت اپنی رضامندی سے وہ کام انجام دیتا ہے۔مسلمانوں کی علوم سے وابستگی بھی انہی دو محرکات کے گرد گھومتی ہے۔ آں حضور  ﷺ کی بعثت کے بعد پہلا محرک جس نے مسلمانوں کو تحقیق و جستجو اور مطالعۂ فطرت کی طرف راغب کیا، بلاشبہ قرآن پاک تھا۔ اس وقت کے پاک و صاف ماحول میں کہ جب مسلمانوں کا واحد فوکل پوائنٹ کلام پاک تھا، رسول پاکؐ کی صحبت و تربیت انہیں نصیب تھی، مسلمانوں نے کلام الہٰی سے بھر پور فیض اور رہنمائی حاصل کی۔ آنحضور  ﷺ کے وصال کے بعد یہ صورت حال تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں بہت دھیرے دھیرے آئیں۔ مختلف طریقوں سے آئیں تاہم یا تو ان کو محسوس نہیں کیا گیا یا دیگر مفادات کو مقّدم رکھتے ہوئے تجاہل عارفانہ سے کام لیا گیا۔ حصرت عثمانؓ کی رحلت کے بعد مسلمانوں کے اتحاد کی طاقت کمزور پڑ گئی۔ رفتہ رفتہ خلافت بادشاہت میں تبدیل ہوگئی۔ اقتدار کی خواہش اور افضلیت کے جھگڑے بڑھنے لگے۔ اسی دوران احادیث رسول کو جمع کرنے کا کام شروع ہوچکا تھا۔ احادیث کی صحت و سند سے متعلق مختلف رجحانات پیدا ہونے لگے تھے فقہی مسائل پر مباحثوں نے نیز مسلکی اختلافات نے رنجشیں پیدا کردی تھیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کی حکومت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا تھا۔ نئے ممالک اور علاقے ان کے زیر نگیں آرہے تھے۔ کچھ لوگ سچ مچ ہدایت پاکر اسلام قبول کر رہے تھے تو کچھ مصالحت اور حکومت وقت کے منظور نظر ہونے کے لئے اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کے عروج سے جن اقوام کو زیر ہونا پڑا تھا ان کے اہل فکر و دانش مسلمانوں کے عروج کے اسباب اور ان کا توڑ تلاش کرنے میں سرگرداں ہوچکے تھے۔ ان کو اس نتیجہ پر پہنچنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ قرآن اور صرف قرآن ہے جس نے اس پر ایمان لانے والوں کو سیماب صفت بنادیا تھا۔ جس کی ہدایت کی روشنی میں وہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق علوم کے ماہر ہوکر ایک مضبوط سماجی، تہذیبی اور فوجی طاقت بن چکے تھے۔ اب دشمنان اسلام کی سمجھ میں یہ بات بھی آچکی تھی کہ قرآن میں تحریف کرنا ممکن نہیں ہے لہذا انہوں نے دوسرا راستہ چنا اور ایک منظّم کوشش مختلف طریقوں اور حربوں سے یہ شروع کی کہ مسلمانوں کی توجہ قرآن سے ہٹا کر دوسری طرف لگادی جائے۔ ان کی فکر وتدبر کی صلاحیتیں دیگر مسائل کی نذر کردی جائیں۔ ان تمام سازشوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی اکثریت کی توجہ کلام حق سے ہٹ گئی لہٰذا تحقیق و جستجو کا رخ بدل گیا۔ گوکہ سفر جاری رہا لیکن اس کا رخ معراج و ترقی کی اس منزل کی جانب نہ رہا جس کا وعدہ قرآن پاک میں ان لوگوں کے لئے کیا گیا ہے کہ جو علم کی راہ میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اسلام ڈائیلیوٹ  (Dilute) ہونا شروع ہوگیا۔ جو نئے علاقے اور اقوام اسلام میں داخل ہوئیں ان تک اب کلام پاک کے علاوہ دیگر لٹریچر بھی پہنچنے لگا جس میں مختلف قسم کی گنجائشیںاور متبادل موجود تھے۔ ان نو مسلمین نے اپنے رسم و رواج اور طریقوں کو بھی اسلام میںشامل کرنے کے لئے بہانے اور طریقے ڈھونڈلئے۔ اسلام اس معنی میں   ’’آسان‘‘  ہوگیا کہ آباء واجداد کے رسم و رواج اور طریقوں کو چھوڑے بغیر جنت کی ضمانت مل گئی تاہم وہ نیا سماج وہ نئی تہذیب اور کردار جو قرآن کے اسلام نے پیدا کیا تھا ان دھند لکوں میں گم ہوگیا۔ منافقین اور فاسقین کے تیار کردہ اس اسلام کے زیر اثر مسلمان فکر و عمل کے اعتبار سے کمزور ہونے لگا۔ وہ کلام پاک میں تحریر آیات کو پڑھنے اور یاد کرنے میں تو مصروف رہا لیکن صحیفۂ فطرت یعنی کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی آیات سے غافل اور لاپرواہ ہوگیا۔ علم کے سوتے سوکھ گئے جمود وتعطل کا دور آگیا۔ عقل کا راستہ بند کر دیا گیا نقل و تقلید کی راہ کشادہ ہوگئی۔ امام غزالی  ؒ  (1058-1111) دشمنان اسلام کی اس سازش کو سمجھ رہے تھے تاہم مسلمانوں کی اکثریت ان کے اقوال اور تحریروں پر توجہ نہیں دے رہی تھی۔ ان کا یہ قول کہ ’’جو شخص عقل کو بالکل معزول کرکے محض تقلید کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے وہ جاہل ہے۔‘‘  نظر انداز کردیا گیا۔ سائنسی حقائق یعنی صحیفۂ فطرت کے معترضین پر تنقید کرتے ہوئے وہ ’’تہافت الفلاسفہ‘‘  میں لکھتے ہیں:  ’’مذہب کے خلاف سب سے بڑے جرم کا ارتکاب وہ لوگ کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اسلام کا دفاع علوم ریاضی کے انکار سے بھی ہوسکتا ہے۔ جبکہ ان علوم میں کوئی بات مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ ان لوگوں کی اسلام کے بارے میں یہ بڑی جسارت ہے جن کا گمان ہے کہ اسلام ان علوم کے انکار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ حالانکہ ان علوم و تحقیقات میں دینی اصول کو کوئی تعرض نہیں۔‘‘  اسی کتاب میں وہ دوسری جگہ رقم طراز ہیں:  ’’جو یہ گمان کرے کہ سورج اور چاند گہن کو غلط ثابت کرنے کے لئے حجت کرنا دین کی خدمت ہے اس نے دین پر بہتان باندھا اور اس کو کمزور کیا۔ کیونکہ یہ وہ امور ہیں جن کی بنیاد ریاضی کے حقائق پر قائم ہوتی ہے۔‘‘

احیاء العلوم میں امام غزالی  ؒ نے نہ صرف علم کی نہایت جامع تعریف بیان کی ہے بلکہ اپنے دور کے مسلمانوں کی فکر اور ان کی روش پر بھی شدید نکتہ چینی کی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

’’فرض کفایہ وہ علم ہے جس کے بغیر دنیاوی ضرورتیں انجام نہ پاسکتی ہوں۔ مثلاً علم طب، کیونکہ بقائے زندگی کے لئے یہ ضروری چیز ہے۔ یا علم حساب کیونکہ معاملات میں اور تقسیم ترکہ میں اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے اس قول پر کہ طب وحساب فرض کفایہ ہیں، تعجب نہ کرنا چاہئے۔ بلکہ صنعتی علوم بھی فرض کفایہ ہیں۔ بہت سے شہر ایسے ہیں جہاں صرف یہودی یا عیسائی طبیب ہیں اور ان کی شہادتیں فقہ کے طبی مسائل میں معتبر نہیں۔ باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ طب کو کوئی نہیں سیکھتا اور فقہ پر گرے پڑتے ہیں۔ کیا اس کا سبب بجز اس کے کچھ اور ہوسکتا ہے کہ طب کے ذریعے سے یہ بات نہیں حاصل ہوسکتی کہ اوقاف پر، وصیت پر، یتیموں کے مال پر قبضہ حاصل ہو، قضا کا عہدہ ملے، حکومت ہاتھ آئے، ہم عصروں پر تفوق حاصل ہو، مخالفین کو زیر کیا جائے۔‘‘

اللہ کی پناہ، گیارہویں صدی میں مسلمانوں کی حکومت کی خواہش، گروپ بندی اور بے ایمانی کی یہ تصویر واضح طور پر بتاتی ہے کہ مسلمان کلام پاک اور اس کی رہنمائی سے کتنا دور جاچکا تھا۔

مسلمان حکمرانوں کے خاصے بڑے طبقے نے اپنے اپنے زمانے میں علم و حکمت کی سرپرستی کی یہ وہ دوسرا محرک تھا جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان سائنسی تحقیقات کی طرف راغب ہوئے۔ تاہم جب مسلمان حکمرانوں اور حکومتوں میں آپسی اختلافات اور ان کا زوال شروع ہوا تو علم کی سرپرستی بھی کم ہونے لگی۔ علاوہ ازیں کچھ بادشاہوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے اوپر یا اپنے مذہبی عقاید پر تنقید گوارہ نہیں کرتے تھے۔ ایسے ماحول میں آزادیٔ فکر کا ختم ہونا لازمی تھا۔ دوسری طرف جنگ و جدال نے علم کے لئے ماحول ناسازگار کردیا۔ انسان کا جبر وقہر بڑھ گیاتھا۔ بادشاہت کے انداز اس حد تک بدل چکے تھے،احکام الٰہی کے اس قدر خلاف ہوچکے تھے کہ علماء حق یا تو بادشاہ وقت کی مخالفت پر مجبور تھے یا پھر گوشہ نشین ہوگئے تھے۔ دور مامون سے ہی مسلمانوں میں یونانی فلسفے کے چرچے شروع ہوگئے تھے۔ تاتاریوں کے حملے نے جو خوف وہراس کا ماحول پیدا کیا ایسے میں لوگوں نے  ’’اسٹوائس ازم‘‘  (Stoicism)  کو اپنانا شروع کردیا جس میں یاسیت، محرومی، بے نیازی، قنوطیت کے احساسات خاص عناصر تھے۔ اس صورت حال کو تاتاری حکمرانوں نے خوب بڑھاوا دیا کیونکہ مایوس مسلمانوں پر حکومت زیادہ آسان تھی۔ مایوسی کے عالم میں مسلمانوں کو درگاہوں میں قلبی سکون محسوس ہونے لگا۔ یہ تمام سازشیں اس  حد تک کامیاب ہوئیں کہ بقول شیخ ابوالحسن علی ندوی دور انحطاط اسلامی میں جینئس (Genius)  بہت کم نظر آنے لگے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’زیادہ تر علماء اور مفکرین نے علوم مابعد الطبیعیات  (Metaphysics)  کی طرف توجہ زیادہ کی اور علوم طبعیہ اور عملی اور نتیجہ خیز فنون کی طرف توجہ کم کی۔ ان مباحث میں جن کا دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہ تھا، صدیوں تک درد سری و دیدہ ریزی کرتے رہے اور ان علوم اور تجربوں کی طرف توجہ نہ کی جو ان کے لئے کائنات کی طبیعی قوتیں مسخر کر دیتے اور اسلام کے مادّی اور روحانی تسلط کو تمام عالم پر قائم کردیتے۔‘‘     (19)

اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا حال ویسا ہی ہوگیا جیسا کہ رومن سلطنت کے زوال کے وقت یورپی اقوام کا تھا۔ جنہوں نے عیسائیت کو قبول تو کرلیا تھا لیکن صرف روحانیت کے واسطے۔ دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ لہٰذا عیسائیوں کو علم دنیا  (یا جدید علوم) سے اتنی نفرت ہوئی کہ انہوں نے اقلیدس، افلاطون جالینوس وغیرہ کی تصنیفات کو کفر کے ذخائر بتایا اور ان لائبریریوں کو آگ لگادی جہاں یہ کتابیں محفوظ تھیں۔اسی غیر عقلی رویے کی وجہ سے رومیوں نے پانچویں صدی عیسوی میں اسکندریہ کی مشہور لائبریری کو آگ لگادی تھی۔۔۔۔۔مسلمان بھی جب منافقین اور فاسقین کی سازشوں کے جال میں پھنس کر قرآن سے دور ہوگیا، دین ، دنیا، دینی اور دنیوی علوم کو الگ کر بیٹھا تو اس کابھی حال ایسا ہی ہوگیا۔ مسلمانوں کے تنزل کی اس کیفیت کو مولانا آزاد نے غبار خاطر میں یوں بیان کیا ہے:  ’’علم کو روحانی اور دینی مراکز میں محدود کردیا گیا جو خود جمود کا شکار تھے۔ جدید اور سائنسی علوم کو خلاف دین قرار دیا گیا۔  1857ء کو دہلی کالج کی لائبریری کو لوٹا گیا۔ انگریزی اور سائنس کی کتابوں کو پھاڑڈالا گیا۔ سائنس کے آلات کو آلات شیطانی کہہ کر توڑا۔ بلوائی عربی اور فارسی کتابوں کو ساتھ لے گئے اور کباڑ میں بیچ ڈالا‘‘۔۔۔۔ علوم سے بیزاری کا بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ صدی کے اوائل میں ہی مسلمان معاشی اور فوجی طاقت کے اعتبار سے بھی کمزور ترین قوم بن گئے۔  1918ء میں یورپی افواج نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ ان فوجوں کی قیادت کرنے والے فیلڈ مارشل الن بی  (Allenby) نے اعلان کیا کہ  ’’یہ جنگ آٹھویں صیلبی جنگ تھی جس میں ہمیں مکمل فتح حاصل ہوئی ہے۔‘‘  گویا مسلمان ہمیشہ کے لئے پسپا کر دیا گیا۔

دشمنان اسلام کی سازشوں کے نتیجے میں ہم آج علم کی تقسیم شدہ میراث لئے بیٹھے ہیں۔ جو دین محض چند ارکان کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات تھا، اس کے پیرو کاروں نے دین دنیا کو الگ کردیا۔ دینی علوم کے نام پر تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، اسرار شریعت اور فلسفہ وغیرہ کی تعلیم دی جانے لگی۔ تمام جدید علوم کو دنیوی علوم کا نام دے کر دنیا داروں کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ جس کو دنیا کی تمنا ہو، جو محض دنیوی زندگی پر یقین رکھتا ہو۔ اُسے سنوارنا چاہتا ہو وہی ان علوم کا مطالعہ کرے۔ ساتھ ہی ساتھ دونوں تقسیم شدہ خانوں کو ایک دوسرے کی ضد اور ناقابل امتزاج سمجھ لیا گیا۔ صف بندی مکمل ہوگئی۔ اب جسے چندروزہ دنیوی زندگی کو سنوارنا ہو وہ دنیوی علوم پڑھے اور اگرعاقبت سنوارنی ہے تو دینی علوم پر توجہ دے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ آئیے اس کا حل تلاش کریں۔اس نکتے پر گفتگو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ’’سائنس‘‘ اور ’’علم‘‘ کی تعریف و تشریح کرلیں۔ سائنس کے سلسلے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اس کو ایک مضمون سمجھا جاتا ہے، اُسی طرح جیسے کہ جغرافیہ، معاشیات یا لسانیات۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس کسی مضمون کا نہیں بلکہ ایک طریقۂ کار کا نام ہے۔ انگریزی زبان میں مستعمل اس لفظ کے لغوی معنی حقائق ، عوامل، قوانین نیز اُن کی وجوہات سے واقفیت کے ہیں، نامعلوم کو معلوم کرنے کے ہیں۔ اس واقفیت کے حصول اور تصدیق کے لئے مشاہدے، استدلال، تجربات اور تفکروتدبّر سے کام لیا جاتا ہے۔ انگریزی کی مشہور لغت ویبسٹر (Webster) سائنس کی یہی تعریف بیان کرتی ہے۔ اب آئیے علم کی تعریف پر نظر ڈالیں۔ لغات کے مطابق علم (عَلِمَ، یَعْلَمُ) کا مفہوم ہے کسی چیز کو کماحقّٗہ جاننا، پہچاننا، حقیقت کا ادراک کرنا، یقین حاصل کرنا، محسوس کرنا، محکم طور پر معلوم کرنا۔ (تاج العروس و محیط المحیط)۔  اس طرح ادراکِ حقیقت کرنے والے کو عَالمِ کہتے ہیں۔اس مادّہ کے بنیادی معنی کسی چیز پر ایسے نشاں کے ہیں جس سے وہ شئے دیگر اشیاء سے مُتمیّزہوسکے۔ (مقاییس اللغتہ۔ابنِ فارس)۔گویا علم کا بھی وہ مفہوم ہے جو سائنس کا ہے۔انگریزی۔عربی لغت، المورد بھی سائنس کے لئے عربی متبادل  ’’علم‘‘ ہی بتاتی ہے۔ اگر آپ کسی عربی ملک میں جائیں اور وہاں کسی یونیورسٹی کی سائنس فیکلٹی میں تشریف لے جائیں تو وہاں فیکلٹی آف سائنس کا عربی ترجمہ  ’’کلیّات العلوم‘‘ ہی لکھا ملے گا۔آئیے اب دیکھیں کہ قرآن کریم علم کسے کہتا ہے؟۔۔۔۔قرآن حکیم کے نزدیک علم وہ شیٔ ہے جس کو آنکھ نے دیکھا ہو، کان نے اس کے صحیح ہونے کی گواہی دی ہو اور فواد (قلب بہ معنی ذہن) نے اس کے دھوکہ نہ ہونے کی تصدیق کی ہو۔ سورہ بنی اسرائیل کے چوتھے رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  (ترجمہ: اس کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں (کیونکہ) بے شک ترے کان اور آنکھ اور ذہن (فواد) سب سے اس شیٔ کے متعلق پوچھا جائے گا۔‘‘)  (17:36)

اس آیت سے صاف واضح ہے کہ جس شیٔ کی تصدیق انسان کے یہ تین اعضاء کردیں وہ علم ہے اور قرآن منع کرتا ہے کہ اس کے سوا کسی اور شیٔ کی پیروی کی جائے۔ گویا لوگ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں وہم و گمان کے بجائے علم کی پیروی کریں۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ مافوق الفطرت سب باتیں جھوٹ ہیں اور قرآن حکیم ان کے پیچھے پڑنے کی اجازت نہیں دیتااللہ تعالیٰ کی کائنات میں اس کی قدرت کے جو مظاہر بکھرے پڑے ہیں ان کا مطالعہ کرنے کے لئے بنیادی طور پر آنکھ اور کان کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً ہم اپنی آنکھوں سے پہاڑوں کے سلسلے اور ان میں رنگ برنگے پتھر دیکھتے ہیں۔ ہوا کے دوش پر اُڑتے بادلوں کودیکھتے ہیں۔ جو چیز آنکھ کی قوت سے باہر ہوتی ہے اس کو دور بین یا خوردبین کی مدد سے دیکھتے ہیں۔ مثلاً بادلوں کے پار خلاء کا مطالعہ دوربین سے کرتے ہیں اور جب بصری دور بین بھی ناکارہ ہوجاتی ہے تو ریڈیائی دور بین سے خلاء کا معائنہ کرتے ہیں۔ پہاڑوں کے رنگ برنگے پتھروں کے ذرّات کی بناوٹ کو سمجھنے کے لئے مختلف قسم کی خوردبینیں استعمال کرتے ہیں جن میں حسب ضرورت روشنی کی کرن سے لے کر الیکٹران بیم  (Beam)تک کا استعمال کرتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ آنکھ اور کان دونوں ہی اعضاء کے استعمال میں ذہن استعمال ہوتا ہے۔ ان اعضاء کے پیغامات کو ذہن ہی وصول کرتا ہے اور پھر اسی کی مدد سے ہم غور وفکر کرکے اللہ تعالیٰ کے شاہکاروں اور اس کی تخلیق کی خوبصورتی، پیچیدگی اورکارکردگی کو سمجھ پاتے ہیں ۔گویا جس اندازِفکر کو آج سائنسی اندازِ فکر کہا جاتا ہے، جس میں مشاہدے، استدلال، تفکروتدبّر پر زور دیا جاتا ہے وہ دراصل  ’’اسلامی اندازِ فکر‘‘ ہے جس کو اپنانے کا اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم نے سمع، بصر اور قلب (بمعنی ذہن) کو حصولِ علم کے ذرائع قرار دیا ہے۔(الاسراء : 36)۔ اس اعتبار سے وہ تمام علوم جو صحیفۂ فطرت کا مطالعہ کرنے والے عالموں نے وضع کئے ہیں  اور جن کی مدد سے وہ خالق کی تخلیقات کا مطالعہ کرتے ہیں، علم کے دائرے میں آتے ہیں مثلاً علم طبیعیات، علم حیاتیات، علم کیمیائ، علم طبقات الارض، علم ریاضی، علم طب، علم خلاء وغیرہ علم کی قرآنی تعریف کے دائرے میں آتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ چونکہ قرآن عرب قوم پر اُتارا گیا تھا لہٰذا قرآن کی زبان عربی ہے تاکہ وہ اس کے معنی و مفہوم کو احسن طریقہ پر سمجھ سکیں۔ کلام پاک میں اس بات کی وضاحت سورہ ابراہیم میںاس طرح کی گئی ہے:  ’’ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔‘‘  (14:4)

علامہ محمد لطفی جمعہ نے اپنی کتاب  ’’فلسفۂ اسلام‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ’’ قرآن تقریباً تین سو علوم کا منبع ہے اور ان میں سے اکثر علوم کا راست ماخذ خود قرآن ہے اور دوسرے علوم قرآن کی خدمت کے لئے مدوّن کئے گئے ہیں۔‘‘  الجواہر فی تفسیر القرآن کے مصنف شیخ طنطاوی نے اپنی تفسیر کے دیباچہ میں لکھا ہے  ’’قرآن میں آیات العلوم کی تعداد سات سو پچاس ہے جس میں فلکیات، ریاضی، ہندسہ، طب، معدنیات، زراعت اور دوسرے علوم طبعی شامل ہیں۔ قرآن جامع العلوم ہے۔ علمی تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ تمام دنیوی علوم کا منبع صرف قرآن ہے۔‘‘

اب آئیے اس بات پرغور کریں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے علم حاصل کرنے کی تاکید کیوں کی ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کو جو کام بھی کرنے کا حکم دیا ہے اس میں انسان کے لئے مکمل فائدے ہیں جور اس کی دنیا اور عاقبت دونوں پر محیط ہیں مثلاً نہ صرف نماز بلکہ وضو میں بھی صحت و صفائی سے لیکر جسمانی ورزش تک کے وہ وہ فوائد ہیں جو فی الفور انسانی جسم کو درست کرتے ہیں اور درست رکھتے ہیں۔ اگر انسان نمازکو سمجھ کر ادا کررہا ہے تو اس کاذہن اللہ کی حمد و ثناء کے علاوہ اس کی ہدایات کابھی اعادہ کرتا ہے۔ چونکہ یہ ہدایات ذہن نشین رہتی ہیں لہٰذا اس میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے جو اس کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو ٹھیک ٹھاک رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ جیسے جیسے متقی ہوتا جاتا ہے اللہ کا قرب اسے حاصل ہوتا جاتا ہے۔ گویا نماز فوری دنیوی فائدوں سے لے کر قرب الٰہی حاصل کرنے تک انسان کی مدد کرتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سبھی احکامات ہمیں دنیوی زندگی سے آخرت تک فائدہ پہنچاتے ہیں۔

جب تک زمین پر پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا انسان ان سے ہدایت کی روشنی پاتا رہا۔ اپنا ایمان مضبوط کرتا رہا۔ آنحضور  ﷺ نبی آخر الزماں تھے۔ آپ پر ہی اللہ کا یہ دین مکمل کیا گیا۔ ایک مکمل کتاب انسان کے سپرد کردی گئی۔ اب ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ شیطان نے تو نسل انسانی کو قیامت تک گمراہ کرنے کا ارادہ کیا تھا اور اللہ سے مہلت مانگی تھی جو اسے دے بھی دی گئی تھی۔ گویا شیطانی قوتیں تو قیامت تک نسل انسانی کو گمراہ کریں گی تو پھر ان کو ہدایت دینے کا کام کس طرح ہوگا اور کون اسے انجام دے گا۔ اگر اللہ نے انسانیت کی ہدایت کے لئے نیز شیطانی قوتوںاور ان کی سازشوں سے لوگوں کوآگاہ کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں رکھا تو کیا نعوذ باللہ میرے منھ میں خاک، اللہ تعالیٰ نا انصاف ہے؟ ہر گز نہیں ۔۔۔۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قیامت تک ہدایت کا فیض جاری کرنے کے لئے کلام پاک اور امت محمدی کو بھیجا ہے اور اس عمل کی کنجی علم یعنی سائنس ہے۔ بہ ظاہر عجیب اور کچھ لوگوں کو متضاد لگنے والی یہ بات درحقیقت خالق، مخلوق اور تخلیقات کے مابین ایک سیدھا سادا رشتہ ہے۔ سائنس کی مدد سے ہم چیزوں کو پہچانتے ہیں،ان کی بناوٹ، صفات اور کارکردگی کو سمجھتے ہیں۔ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات کا جب ہم اس طرح بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ان میں خالق کی کاریگری، عظمت اور صناعی کے نمونے نظر آتے ہیں۔ عقل حیران رہ جاتی ہے کہ واہ کیا چیز بنائی ہے۔ کیا زبردست توازن ہے، کتنی پیچیدگی ہے پھر بھی کتنا زبردست نظم وانتظام ہے کہ جو اس مشین کو چلارہا ہے۔ اگر ہم سائنسی دریافتوں اور علوم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جیسے جیسے انسان کی عقل و شعور اور واقفیت میں اـضافہ ہوا ہے ویسے ویسے ہی اس پر مزید پیچیدہ اور حیران کن اسرار قدرت کے انکشافات ہوئے ہیں۔ جب انسان کا علم کم تھا تب وہ ایک معمولی سے مائیکرواسکوپ کے ذریعہ سیل  (Cell) کی بناوٹ دیکھ کر ہی حیران رہ گیا تھا۔ اس کی جستجو نے جب زیادہ طاقتور  ’’آنکھ‘‘  یعنی خوردبین بنالی تو سیل کی اندرونی بناوٹ دیکھ کر عش عش کر اٹھا۔ پھر مزید طاقتور خوردبین نے اس کو ننھے ننھے عضلات کی دنیا سے روشناس کرایا۔ الغرض یہ سلسلہ چلتا رہا اور اس پر قدرت کے راز آشکارا ہوتے گئے۔ اب اگر اس سائنسداں کا دل ایمان سے منور ہوگا تو اسے ان تمام تخلیقات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی تجلیاں نظر آئیں گی۔ ہر نئی دریافت ، ہر نئی پیچیدگی اس کے ایمان کو تقویت پہنچائے گی۔ وہ دل سے اللہ کی عظمت کا قائل ہوگا۔ لیجئے ہدایت کا کام علم کے ذریعے انجام پاگیا۔ ایک مومن کائنات اور مخلوقات کے ان مظاہر  (آیات) میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے دیکھتا ہے۔ ان سے نصیحت حاصل کرکے انہی کی مانند اللہ کی بندگی کرتا ہے جبکہ ایک ایسا شخص کہ جس کے پاس کلام پاک کا نور نہیں ہے محض مادّی فوائد کی تلاش و جستجو میں رہتا ہے۔جبھی تو اللہ تعالیٰ اپنے قوانین، مظاہر فطرت اور تخلیقات کے مطالعہ کا حکم دیتا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی  ﷺ نے فرمایا  ’’علم رکھنے والے نبیوں کے وارث ہیں اور انبیاء کا ورثہ دینارودرہم نہیں ہیں بلکہ ان کا ورثہ علم ہے۔‘‘  (ترمذی، ابودائود) اب آئیے ذرا دیکھیں کہ یہ جو بات میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اسے کلام پاک سے کیونکر تقویت حاصل ہورہی ہے۔ سورہ المومنون میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیئے۔ مگرتم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔‘‘  (23-78)

غور فرمائیں آنکھ کان اور دل (بہ معنی دماغ) ہی تو وہ اعضاء انسانی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ ان اعضاء کا اس سے بہتر شکر کیا ہوگا کے ان کا صحیح اور وہی استعمال کیا جائے کہ جن کے واسطے یہ ہم کو عطا کئے گئے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ ان سے متعلق باز پرس بھی کرے گا۔ سورہ یونس میں ارشاد ہے:  ’’ان سے کہو زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے دیکھو۔‘‘  (10-101)  نظر کے لغوی معنی دیکھنے، غور کرنے، معائنہ کرنے اور سوچنے کے ہیں۔ گویا ہمیں جس طرح بھی ممکن ہو کائنات کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔ یہ مطالعہ ہم کس طرح کریں اس بات کو سمجھنے کے لئے ایک نسبتاً واضح مثال کا سہارا لیتے ہیں۔ کلام پاک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ نماز پڑھیں۔ اب یہ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ نماز ادا کرنے کے لئے جو ضروری کام ہیں ان کو وہ انجام دے۔ یعنی پاک صاف ہو، کپڑے پاک ہوں، وضو کرے اور پھر مسجد میں جاکر صحیح طریقے سے نماز۔ ادا کرے۔ اسی طرح اگر کائنات کے بغور مطالعہ کی ذمہ داری ہمیں دی گئی ہے، اللہ کا ایک واضح حکم ہے تو ہمیں چاہئے کہ اس حکم کی تعمیل میں کائنات میں گھومنے کی کوشش کریں۔ گھومنے اور سفر کرنے کے لئے تیز سواریاں ایجاد کریں۔ کائنات میں پھیلے ہوئے مظاہر کے بغور مطالعے کے لئے اگر آنکھ ناکافی ہے تو ایسے آلات ایجاد کریں کہ ہم کائنات کی اشیاء کا گہرائی و گیرائی سے مطالعہ کرسکیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی عظمت کے قائل ہوتے چلے جائیں گے۔ تاہم حقیقت کیا ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں اشارہ کیا ہے:  ’’زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے۔ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘   (12:105-6) ۔ اس آیت میں بیک وقت کئی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ واضح طور پر تو ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کی کائنات اور اس کی تخلیقات کی طرف توجہ نہیں دیتے یعنی لاعلم، غافل اور جاہل رہتے ہیں۔ دوسری طرف زمین اور آسمانوں کی نشانیوں پر سے لوگوں کے گزرنے کا ذکر ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ بات بیان فرماتا ہے کہ زمین اور آسمان میں انسان اتنا سفر کرے گا کہ ان نشانیوں پر سے گزرے گا۔ ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی تخلیقات پر غور نہیں کرے گا تو لازماً وہ اس کی عظمت کا پوری طرح قائل نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں لازم ہے کہ وہ شرک میں مبتلا ہوجائے گا۔ جیسا کہ فرمایا ہے کہ ان میں سے اکثر مشرک ہوں گے۔ اللہ اللہ! کتنی واضح بات ہے کہ انہی نشانیوں پر جو غور کرکے آگے بڑھے وہ متقی ہوگیا۔ مسلم ہوگیا اور جو صرف نظر کر گیا، لاپرواہ رہا وہ مشرک ہوگیا۔ اس شرک کا انجام ہلاکت کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ سورہ الأعراف میں اسی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے  ’’کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی خدا نے پیدا کی ہے، آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا۔ شاید ان کی موت کا وقت قریب آگیا ہے۔‘‘  (7:185)

آیت کا لفظ کلام پاک میں دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک تو ان آیات کے لئے جو اللہ تعالیٰ کا پیغام ہیں اور کلام پاک میں درج ہیں۔ دوسرے ان تمام نشانیوں کے لئے جو کائنات میں پھیلی پڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں پھیلی اپنی نشانیوں کے مطالعہ کی کس قدر تاکید کی ہے اس کا اندازہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، طلاق وغیرہ جیسے ارکان اور سماجی امور سے متعلق آیات کی تعداد  ڈیڑھ سو ہے جبکہ مطالعہ کائنات سے متعلق  756  آیتیں کلام پاک میں ہیں۔ اس سے نعوذ باللہ یہ مقصود نہیں کہ جن امور و احکام سے متعلق کم آیات ہیں وہ کم اہم ہیں اور مطالعۂ فطرت زیادہ اہم ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ یہاں بھی اللہ کی مشیت کا ایک نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور وہ اس کی فطرت سے واقف ہے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ ایسے ارکان ہیں کہ جو دین کا لازم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم یہ مکمل دین بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مطالعۂ فطرت کا جو باربار ذکر کیا ہے وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس قوم پر ایک دور وہ آئے گا جب یہ احکام الٰہی کے ایک حصے کو پکڑ کر بیٹھ جائے گی۔ مزید یہ کہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے مطالعۂ فطرت کے نتیجے میں ہی انسان پر رفتہ رفتہ راز کھلیں گے جو ہر دور میں اللہ کی عظمت کو ثابت کریں گے، حق کو واضح کریں گے اور لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنیں گے۔

اہل علم سے متعلق دو اہم بیانات کلام پاک میں دعوت فکر دیتے ہیں۔ سورہ فاطر میں ارشاد ہے:  ’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ پہاڑوں میں بھی سفید سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘    (35:27-28)

ان آیات میں سردست تین اشارے نظر آتے ہیں۔ اوّل یہ کہ کائنات میں رنگوں کے اختلاف میں بھی راز ہیں۔ یہ اشارہ علم جینیات  (Genetics) اور علم طبقات الارض  (Geology) سے متعلق ہے۔ دوسرے یہ کہ ان چیزوں کا علم رکھنے والے ہی اللہ کی عظمت اور کارکردگی کو اس طرح سمجھتے ہیںاور مرعوب رہتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ان آیات میں بندگی کے درجات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ علم نہ رکھنے والے بھی اللہ کے بندے ہیں اور ہوسکتے ہیں تاہم ان میں سے صرف علم رکھنے والے ہی اس سے ڈرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان آیات سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اصلی علمِ صحیفۂ فطرت کے مطالعہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

کفریا انکار دو طرح سے ہوتا ہے۔ اوّلاً زبان سے کہ آپ کسی چیز کی موجودگی سے انکار کردیں۔ دوسرا عملاً کہ آپ زبان سے تو انکار نہ کریں لیکن آپ کا عمل اس کی موجودگی کا منکر ہو۔ مثلاً ایک سرکش بچہ منہ سے بھی کہہ سکتا ہے کہ میں ابّا کا کہنا نہیں مانتا۔ دوسری صورت میں وہ منہ سے تو کچھ نہیں کہتا بلکہ ابّا جان، ابّا جان کی رٹ بھی لگاتا ہے تعریفیں بھی کرتا ہے لیکن ابّا حضور کے زیادہ تر احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ کلام پاک کے کچھ احکامات کو، کہ جن پر عمل کرنا آسان ہے ہم نے اپنا لیا ہے جبکہ دیگر احکامات سے اس طرح آنکھیں موڑلی ہیں کہ ہم عملاً ان کے منکر ہوچکے ہیں۔ سورہ البقرہ میں ارشاد ہے:  تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو۔ پھر تم  میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اسکے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دئے جائیں۔‘‘  (2:85)

آگے ارشاد ہے  ’’اے ایمان والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو۔‘‘  (2:208)

ذرا غور کیجئے۔ آج ہماری ذلّت و خواری کی وجہ یہی تو نہیں ہے کہ ہم نے کلام پاک کے ایک حصے کو تو اپنا لیا ہے لیکن بقیہ احکامات کی طرف سے غافل ہوچکے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے جن احکامات کی طرف سے رخ پھیرلیا ہے انہی میں نہ صرف ہماری اجتماعی فلاح پوشیدہ ہے بلکہ دنیا و آخرت میں سر خروئی و کامیابی ہے اور انہی پر عمل کرکے ہم خیر امت کے فریضہ کو نبھا سکتے ہیں۔ صحیفۂ فطرت یعنی اللہ تعالیٰ کی کائنات کے مطالعہ کو آج ہم نے اپنے اوپر لگ بھگ حرام کرلیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کی اکثریت ان کو دنیوی علوم کے خانے میں رکھ کر ان سے کنارہ کش ہوچکی ہے۔ اب آئیے ذرا غور کریں کہ سورہ النمل میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے:   ’’اور ذرا تصور کرو اس دن کا جب ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے۔ پھر ان کو مرتب کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو ان کا رب ان سے پوچھے گا کہ تم نے میری آیات کو جھٹلادیا جالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے۔‘‘  (27:83-84)   یعنی اگر تم اللہ کی آیات کا علمی احاطہ نہیں کر رہے تھے تو پھر کیا کررہے تھے۔۔۔۔۔۔ کیا اس سے بھی زیادہ واضح انداز میں صحیفۂ فطرت کے مطالعے کا حکم ہوسکتا ہے کہ جس میں عبرت بھی ہے اور انکار کا انجام بھی پیش کردیا گیا ہے۔ اگر ایسے واضح احکامات کے بعد بھی ہم علم کو تقسیم کئے ہوئے ہیں تو پھر اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ ا س دین کے خلاف کافروں کی ایک ایسی سازش ہے کہ جس کی طرف سورہ بقرہ میں اشارہ ہے  ’’وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیرلے جائیں۔ تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا اس کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے۔‘‘  (2:217) ذرا سوچئے کیا دین کے واضح احکامات سے پھرنا دین سے پھرنا نہیں ہے؟

قصہ مختصر یہ کہ جب ہم دین سے پھرے تو علم سے بھی پھر ے اور جب ہم علم سے پھرے تو علمی مزاج سے بھی پھرے۔ اب ہم آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے ہیں کیونکہ ہم اللہ کی آیات کی قرأت تو کرتے ہیں لیکن ان کو سمجھ کر اللہ کی قدرت کا مشاہدہ و مطالعہ نہیں کرتے۔ ان پر غور وفکر نہیں کرتے صحیفۂ فطرت میں جستجو نہیں کرتے۔ مسند نشین ہوکر آیات کی گردان کرتے ہیں۔ اس مسئلہ کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد آئیے اب اس بات پر غور کریں کہ اس صورت حال کو کیونکر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ علم کی تقسیم نے ہمارے علمی اداروںکو بھی تقسیم کردیا ہے۔ ’’دنیوی علم‘‘ کے اداروں میں بچوں کو اسلامی تعلیمات میسر نہیں آتی اور  ’’دینی علوم‘‘   کے اداروں میں علم کا مکمل احاطہ نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اگر بچے کو اسلام کی مکمل تعلیم نہیں دی جائے گی تو جدید علوم سے آراستہ ہوکر بھی وہ ایک نافع انسان نہیں بن پائے گا۔ علم اور ایمان زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں اگر ایک میں بھی جھول ہوا تو گاڑی ٹھیک نہیں چل سکتی۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں جو ذہن پرورش پاتا ہے اس میں انسانیت کی چاشنی ہوتی ہے۔ اس جسم میں اسلامی روح ہوتی ہے جو اسے لوگوں کی بھلائی کے کاموں پر آمادہ کرتی ہے۔ تاہم یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ راقم جس اسلام کی تعلیمات کی بات کر رہا ہے وہ محض چند ارکان یا فرائض پر مشتمل نہیں ہیں بلکہ اس کا اشارہ اس مکمل ضابطۂ حیات کی طرف ہے کہ جس کی تعلیم قرآن میں دی گئی ہے۔ان تمام حقائق کی روشنی میں ہم صرف یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ہمیں ہر حال میں اور ہر سطح پر قرآن کی طرف لوٹنا ہے۔ اس کو سمجھنا ہے اور اس کی روشنی میں اپنے تعلیمی نصاب ترتیب دینے ہیں۔ ہمیں ایسی مکمل درسگاہیں تیار کرنی ہیں کہ جن میں مسلم علماء تیار کئے جائیں۔ ہمیں اپنی یہ سوچ بدلنی ہے کہ مدرسے اور مسجد کی تعمیر میں چندہ دینا ثواب جاریہ ہے اور دنیوی تعلیم کے مدارس کو بنانا فضول یا زیادہ سے زیادہ دنیوی فائدہ اور شہرت کا کام ہے۔ یاد رکھئے ہر نافع علم کا فروغ ایک خالص دینی کام ہے۔ ہمیں اس انداز کے معلم تیار کرنے ہوں گے جو مکمل مسلم ذہن رکھتے ہوں اور جدید علوم میں بھی ماہر ہوں۔ اس کے لئے قابل عمل ترکیب یہ ہے کہ ہم میں سے جو لوگ علوم پر مہارت رکھتے ہیں وہ رضا کارانہ طور پر کلام پاک کا بغور مطالعہ کرکے، نیز علمائے قرآن کی مدد لے کر اپنے آپ کو تیار کریں یا دیگر حضرات کو اس نہج پر تیار کریں۔ معلمین کی تیاری کے بعد ہمیں اس انداز کے  ’’ماڈل مدارس‘‘  بنانا ہوں گے جہاں ’’مکمل تعلیم‘‘  کا انتظام ہو۔ ان مدارس میں قرآن ناظرہ، ترجمہ اور تفسیر کے علاوہ جدید علوم اور زبانوں کا نصاب ہو۔   10+2 کے انداز میں بچہ یہاں سے فارغ ہوکر پھر چاہے تو جدید علوم میں مہارت حاصل کرے یا پھر اگر حدیث فقہ اور دیگر علوم شرعیہ کی تعلیم کا طلب گار ہو تو ان مدارس سے رجوع کرے جو ان علوم کی تعلیم دیتے ہوں۔ ایسا ہر طالب علم کم از کم قرآنی تعلیمات سے بخوبی واقف ہوگا لہٰذا توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کاکردار اور معاملات مسلم ہوں گے نیز مصالحتوں اور گنجائشوں سے پاک ہوں گے۔ قرآنی تعلیمات اس کے مشاہدے، تجربے، تجزیے اور فکروتحقیق کی فطری صلاحیتوں کو ابھار دیں گی۔ انہی صلاحیتوں کو تو آج ہم سائنسی فکر اور شعور کے نام سے جانتے ہیں۔ اس انداز پر تربیت شدہ عالم دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح اور مکمل ترجمانی کرسکے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا احساس کریں۔ تاہم ان پر نادم ہونے، اشک بار ہونے، ان کا ماتم کرنے یا ان کے لئے ذمہ دار کون ہے اس بحث میں جانے یا ذمہ داروں کا مرثیہ پڑھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہاد و عمل کا حکم دیتا ہے۔ اس بُرائی سے لڑنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی سطح پر کمر بستہ ہونا ہوگا۔ ہمیں ایک صالح، نافع اور مجسم ہمدرد و مفید معاشرے کے طور پر ابھرنا ہوگا جبھی ہم اس دنیا میں عزت کے ساتھ زندہ رہ پائیں گے۔

حوالہ جات :

1۔           خالد یارخاں۔ تاریخ تعلیم، اردو مرکز لاہور ۔  1960

2۔           سیّد مناظر حسین گیلانی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت  (حصہ اوّل) ندوۃ المصنّفین۔ دہلی۔  1944

3۔           فضل کریم خاں درّانی۔ اسلامی نظام تعلیم ، قوی کتب خانہ لاہور۔  1932

4۔           سیّد نوشہ علی  (ایڈیٹر) مسلمانان ہندو پاک کی تاریخ تعلیم۔ سلمان اکیڈمی، کراچی۔  1963

5-    Education Under Asaf Jah VII:A Retrospect. Hyderbad (Dn). The Govt. Central Press, 1945

6-    Di Bona, Joseph (Ed). One Teacher One Scool. Biblia Impex (P) Ltd., New Delhi. 1983

7۔             سیّد نوراللہ، جے۔ پی نائک۔ تاریخ تعلیم ہندو، نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا نئی دہلی۔1973

8-    Mahmood Syed. A History of English Education in India (1781-1893). M.A.O. College, Aligarh. 1895

9-   Dutt, R.P India Today. People’s Publishing House, Bombay, 1949

10- Faruqi, Z.H. The Deoband School And The Demand For Pakistan. Asia Publishing House, Bombay, 1959

11- Indian National Congress: Language Policy. Muslim India. Jan. 1985

12۔         شیخ محمد اکرام، موج کوثر۔مرکنٹائل پریس،لاہور۔  1940

13۔        ضیاء الحسن فاروقی وغیرہ (مرتبین) مجیب صاحب۔ احوال وافکار، مکتبہ جامعہ، دہلی۔  1984

14-    George Sarton. An Introduction to the History of Science London. 1936.

15-        Robert Brifalt. The Making of Humanity London.1983.

16۔        مولانا ابوالکلام آزاد۔ غبار خاطر۔ ساہتیہ اکادمی۔ نئی دہلی۔

17-        Donald Compbell. Arabian Medicine and its Influence on the Middle Ages. (Vol. I). London. 1926

18۔        طلحہ حسین مترجم مولانا عبد السلام ندوی۔ ابن خلدون۔ معارف پریس اعظم گڑھ۔  1940

19۔        مولانا ابولحسن علی ندوی۔ مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش۔ ندوۃ العلمائ۔  1963

ڈاکٹر محمد اسلم پرویز

ڈائرکٹر، اسلامک فائونڈیشن

برائے سائنس وماحولیات،نئی دہلی

Leave a Reply

1 Comment on "قرآن، سائنس اور سائنسی مزاج۔ماضی، حال اور مستقبل"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
Dr. Arshad Mahmood Uppal
Guest
Dr. Arshad Mahmood Uppal
ماشااللہ بہت ہی سیر حاصل بحث ہے، میں نے اِس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہم مسلمانوں اِس وقت اشد ضرورت یہ ہے کہ ہم قرآن کی طرف لوٹیں اور مسلمان ہونے کا حق ادا کریں۔ ہمیں قرآن کو سمجھنا اور سمجھانا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کی ہے کہ ہم آپنی جامعات میں کسی بھی شعبے میں ہونے والی تحقیق کو قرآن کے ساتھ منسلک کریں تاکہ ہمیں تحقیق میں الہامی (اللہ) کی مدد حاصل ہو۔ اِس کی مثال میں اِس طرح دوں گا “میں ایک غذائیت کا ماہر ہوں اور ایک دو یونیورسٹیوں میں پڑھاتا ہوں، غذائیت… Read more »
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.