موجودہ طرز معاشرت اور ترجمہ

ڈاکٹر ابو شہیم خان

شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی

ساگر 470003 مدھیہ پردیش

shaheemjnu@gmail.com Mob;07354966719

                   شخصی اور عمومی اظہار اور ان کے وسیلوں کے انتخاب میں موجودہ طرز معاشرت کلیدی رول ادا کرتی ہے ۔یہ سرعت گذیدہ زندگی ایسے عناصر کا مرکب ہے جو اپنے احوال و آثار میں زود اور غیر مداومت پسند ہے اور فوری انجام کا ر پرمصر بھی ۔ان عناصر سے مرتب زندگی کے رویوں نے مشینی اور خود کا رترجمہ پر بھی از سر نو غور وفکر کرنے اور راکٹ رفتار زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کو بھی مہمیز کیا ۔ساتھ ہی سائنسی اور تکنیکی مواد کے ترجموں اور انٹر نیٹ ،فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ کی فوری ترجمہ کی مانگ اور مترجمین کی کمی نے بھی خود کار ترجموں کو عام کرنے کی کوششوں میں اہم رول اداکیا ۔ان ترجموں کے تقاضے اور دائرہ کار تو بے پایاں ہیں لیکن اثر پذیری کافی محدود ہے۔ ادب ،قانونی متو ن اور سماجیات کے بعض حصے جن میں ثقافتی پہلو حاوی ہوتا ہے ان کا ترجمہ زیادہ مشکل اور مشینی ترجمہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے اس لئے مشینی اور خود کار ترجمے کی پوری بحث سائنسی اور تکنیکی مواد اور الکٹرانک میل وغیرہ کی فوری ضرورتوں کی تکمیل تک محدود ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کو ششیں عام مترجمین کے لئے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں اور ادب و سماجیات وغیرہ کے مترجمین کو اس سے کو ئی فائدہ نہیں ہوا ۔مشینی اور خود کار ترجموں کے لئے معاون الکٹرانک لغات ،فرہنگ ،اصطلاحاتی نظام ،ترجمے کا ڈاٹا بیس اور ورک اسٹیشن عام انسانی مترجمین کی بھی دسترس میں ہے جس سے ان کا کام کافی آسان اور سریع الحصول ہوگیا ہے ۔

گر چہ ستر ہویں صدی میں میکانکی لغات اور آفاقی زبانوں کے تصور کے ساتھ ہی مشینی ترجمہ بھی زیر بحث آیا تھا لیکن1933ء میں فرانس کے جارجز آرٹسر ونی (Georges Artsrouni)اور روس کے پیٹر ٹرو جانس کج (Petr Trojans Kij)کے دو پیٹنٹ سے اس کے علمی خدوخال کی طرف پیش رفت ہوئی ۔آرٹسرونی کی میکانیکی کثیر لسانی لغت اور پیٹر کی میکانکی لغت مستقبل کا بیش قیمتی سرمایہ ثابت ہوئیں ۔

ان دونوں کی کوششوں سے ماہر قلمیات انڈروبوتھ (Andrew Booth )اوروارن ویور (Warren Weaver)نے 1946-47 میں کمپوٹر کی آمد کو ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور میکانکی لغت کا شکلیاتی تجزیہ پیش کرنے کی مزید کوششوں کے بعد ترجمہ میں کثیر المعانی الفاظ سے پیدا ہونے والی مشکلات کے ازاے کی بھی تجویز پیش کی جو امریکہ میں مشینی ترجمہ کی جاری کوششوں میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی ۔

مشینی ترجموں کے فروغ میں بیسویں صدی کی پا نچویں اور چھٹی دہائیاں بہت اہم ہیں۔1951-52میں میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT)میں مشینی ترجمہ پر پہلی اور تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں اس میدان سے تعلق رکھنے والے دنیا کے تمام اہم لوگوں نے شرکت کی اور مشینی ترجمہ کی ضرورت ،اہمیت اور حدود پر گراں قدر اور مسقبل کے لئے مشعل راہ ثابت ہونے والا جامع خاکہ پیش کیا ۔اس کانفرنس کی کامیابی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے فوراًامریکہ ، برطا نیہ ،روس ،چین اور جاپان وغیرہ کی یونیورسٹیوں میں اب تک غیر اہم سمجھے جانے والے پر وجیکٹ پر تحقیق شروع ہوگئی اور ماہرین فن اس کی اہمیت کو اور زیادہ شدت سے محسوس کرنے لگے۔ اور IBM جیسے صنعتی گھرا نوں نے ایسے پروجیکٹ کو مکمل تعاون دینا شروع کر دیا ۔یہ اس تاریخ ساز کانفرنس کا ہی فیضان تھا کہ 1953 میں ولیم لاک (William Locke) اور وکٹر نگوےVictor Yngve کی ادارت میں میکانکل ٹرانسلیشن (Mechanical Translation)جیسا عالمی رسالہ آیا اور مشینی ترجمہ کے نظریہ کے فروغ کا سر چشمہ ثابت ہوا ۔1965تک 17اداروں میں 20ملین ڈالر سے زائد لاگت کے ساتھ خود کا ر ترجمہ کے پروجیکٹ پر کام شروع ہوگیا تھا لیکن جلد بازی اور نتائج کی زور یابی کے باعث یہ تمام کوششیں بہت زیادہ با آور ثابت نہیں ہو سکیں نتیجتاً امریکہ کی نیشنل سائنس فا ونڈیشن National Science Foundation نے ایک مشاورتی کمیٹی Automatic Language Processing Advisory Committee(ALPAC)تشکیل کی ۔اس کمیٹی کا مقصد مشینی ترجموں پر جاری تمام پروجیکٹس پر ایک جامع رپورٹ تیار کرنا تھا۔ ایک سال کے بعد اس کمیٹی نے سفارش کی کہ مشینی ترجمہ انسانی مترجمین کے بہ نسبت زیادہ سست رفتار ،مبہم اور دوگنا خرچیلاہے اور مستقبل قریب میں اس کی افادیت کے امکانات بھی غیر واضح ہیں ۔اس لیے موجودہ مترجمین کو خود کار لغات جیسے نئے وسائل سے مدد تو لینی چاہیے لیکن اس پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے ۔اس نے یہ بھی سفارش کی کہ شماریاتی لسانیات کے میدان میں ہمیں اپنی کوششیں اور تعاون جاری رکھنا چاہیے ۔مشینی ترجمہ کے میدان میں تحقیق کرنے والوں نے ان سفارشات کی مخالفت کی اور اسے جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا ۔بہر کیف اس رپورٹ کا نقصان یہ ہوا کہ اس میدان میں تحقیق کرنے والوں اور اس میں سرمایہ لگانے والوں کے جذبات ہر سطح پر سرد پڑگئے اور چند ہی ادارے اس پروجیکٹ کو جاری رکھ سکے اور دائرہ کار کو بھی کافی محدود کرلیا۔لیکن بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں ففتھ (5th) جنریشن کمپوٹر کی آمد نے مشینی ترجمہ کو ایک بار پھر عام تحقیق کا موضوع بنایا جس سے مشینی ترجمہ کے مختلف طریقہ ہائے کار وجود میں آئے اور خود کار ترجمہ کے لئے مختلف پروگرام شروع کئے گئے جیسے مارک II(Mark -II) جارج ٹاؤن ایم ٹی نظام (Georgetown MT System) سسٹران(SYSTRAN)اور لوگوز(LOGOS)ان سبھی پروگراموں کا دائرہ محدود تھا اور انھیں بہت محدود تکنیکی مواد کے تراجم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ان پروگراموں کو عملی جامہ پہناتے وقت جو طریقہ کار اپنائے گئے یا اپنانے کی خواہش ظاہر کی گئی انھیں ہم دوحصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں

1 Direct Mechine Translation Approach

2 Rule Based Approach

1980کے بعد مشینی ترجمہ کا ایک اور طریقہ کارموضوع بحث بنا جسے ہم Corpus Based Approach کہتے ہیں

 Direct Mechine Translation Approach 1

۱ را ست مشینی ترجمہ :اس طریقہ کار میں براہ راست کئی مرحلے شامل ہوتے ہیں پہلے زولسانی لغت اور شکلیاتی تجزیہ وغیرہ جیسے آلہ کارکی مدد سے ماخذ زبان کاتجزیہ کیا جاتا ہے اورا سے ہدف زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اس عمل میں کوئی نظریاتی پہلو کار فرما نہیں ہوتا ہے بلکہ مشینی انداز میں ترجمہ کرنے کے لئے زبان کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔اس تجزیہ میں ماخذ متو ن کے الفاظ اور ان کی صوری و معنوی کیفیت کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔افعال ،متجا نس الفاظ ، اسم ،مرکب اسم ،محاورو ں ،حروف ربط ، مبتدا خبر اور ترکیب نحوی وغیرہ کو نشان زد کرکے ہدف زبان میں ان کا متبادل لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔یہ سارے عمل مرحلہ وار ہوتے ہیں لیکن راست مشینی ترجمہ کے دوران ان مراحل کی ترتیب ہمیشہ یکساں ہونا ضروری نہیں ہے ۔یہ طریقہ کار کئی اعتبا ر سے مفید مطلب ثابت ہو سکتا ہے ۔جیسے اس کے لئے قطعی ضروری نہیں ہے کہ

(۱) پہلے سے ترجمہ کئے ہوئے مواد بطور نظیر موجود ہوں جن کی بنیاد پر مشینی ترجمہ کے عمل کو آگے بڑھایا جائے ۔

(۲) اس طریقہ کار سے زبان صو ر یاتی اعتبار سے زیادہ ثروت مند ہوجاتی ہے ۔

(۳)مشینی ترجمہ کے لئے گرامر کے ماڈل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔یعنی کوئی بدھا ٹکا پہلے سے تیار شدہ نمونہ موجود نہیں ہوتا ہے جس کی بنیاد پر نئے مطلوبہ متن کو ہدف زبان میں منتقل کیا جائے۔ جہاں اس طریقہ کار کے بہت کچھ مثبت پہلو ہیں وہی کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن کی طرف محقیقین نے اشارہ کیا ہے جیسے

(۱) ضروری لسانی اطلاعات جیسے ماخذ و ہدف زبانوں کے سبھی الفاظ وغیرہ اور لسانی تفہیم کے دوسرے آلہ کار کو مشین میں محفوظ رکھنے کے لئے کافی Space کی ضرورت ہوتی ہے ۔

(۲) اس کا سارا انحصار محفو ظ کی گئی اطلاعات پر ہوتا ہے

(۳)محفوظ اطلاعات کو عمومی نہیں کر پاتا ہے ۔یعنی کسی بھی صورت میں تحریف و تصرف کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔

 لہذا اس طریقہ کار کی کامیابی درجہ ذیل عوامل پر منحصر ہوتی ہے ۔

(۱) ترقی یافتہ لغات اور صوری تجزیہ کار

(۲) خام مشینی ترجمہ کے بعد مترجمین کے ذریعہ ایڈٹینگ

(۳)خام مشینی ترجمہ کے بعد مترجمین کی ایڈٹینگ کے دوران لفظوں اور متنوں کی جانچ کے لئے ترقی یافتہ آلہ ا کار

یہ ایسی شرائط ہیں جن کی تکمیل اتنا آسان نہیں ہے اس لئے اس طریقہ کار سے اعلیٰ قسم کے ترجموں کی امید قبل از وقت ہوگی اور ترجمہ کے بعد متن کے قابل مطالعہ ہونے کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کی ایڈٹینگ کی جائے۔ یہ طریقہ کار ایک ہی خاندان کی مختلف زبانوں کے مابین ترجمہ میں کافی معاون ہوسکتا ہے ۔اس طریقہ کار کو جارج ٹاؤن مشینی ترجمہGeorgetown MT System اور سسٹران مشینی ترجمہ SYSTRAN MT System کو فروغ دینے میں استعمال کیا گیا ۔

 (A) جارج ٹاؤن مشینی ترجمہ: یہ پہلا کامیاب مشینی ترجمہ تھاجسے 1964میں محققین کی ایک جماعت نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں انجام دیا تھا ۔یہ امریکہ کی اوک رج نیشنل تجربہ گاہ Oak Ridge National Laboratory میں روسی سے انگریزی میں ترجمہ کے لئے استعمال کیا جاتاتھا ۔

 (B) سسٹران (Systran) : اس طریقہ کار پر مبنی مشینی ترجمہ ایک دوسرا نظام سسٹران ہے ۔یہ روسی سے انگریزی زبان میں ترجمہ کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ یہ نظام رائٹ پیٹرسن Wright -Patterson ایر فورس بیس میں 1970سے زیر استعمال ہے اور1976سے یوروپین اکونو مکس کمیونٹی ہیڈ کوارٹر لکزم برگ میں زیر استعمال ہے ۔یہ نظام انگریزی سے فرانسیسی ،اطا لوی اور جرمنی میں ترجمہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اور فرانسی و جرمنی زبانوں سے انگریزی میں ترجمہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ان دونوں پر وگراموں کی افادیت کا دائرہ اور حجم مختلف ہے ۔سب سے پرانے نظام جارج ٹاؤن سے ہزاروں صفحات کا ترجمہ کیا گیا ۔ان دونوں نظاموں کے پروگراموں سے متاثر ہوکر بھی کئی نظام وجود میں آئے جو ہزاروں صفحات کے ترجمے کا سبب بنے ۔

(2)اصول پر مبنی طریقہ (Rule based approach) :اس طریقہ کار کے تحت قواعد کے ماڈل کی مدد سے ماخذ اور ہدف زبانوں کی سا ختیاتی پیش کش ہوتی ہے۔یہ پیش کش عموماً دو طریقوں سے ہوتی ہے ۔

(A) تبدیلی متن سے (Transfer Approach)

(B) مصنوعی زبان سے (Interlingua Approach)

 تبدیلی متن (Transfer Approach) میں ماخذ زبان کی لسانی معلومات کو ہدف زبان میں بدل دیا جاتاہے ۔یہ تبدیلی لفظ سے جملوں کی سطح پر ہوتی ہے ۔یہ ماخذ اور ہدف زبان کے علاوہ لغات اور ذولسانی یا مشتر کہ لغات کے مدد سے ہوتی ہے ۔اس طریقہ کار کو مشینی ترجمہ کے چند نامور اداروں اور ان کے پروجیکٹوں نے فروغ دیا ۔اس میدان میں انھو ں نے تحقیق کی اور اسے عام کرنے کی کوشش کی ۔ان میں گیٹا (GETA)سوسے (SUSY)ٹوم میٹو (TAUM -METEO)اور میٹل (METAL)جیسے نامی گرامی گروپ اور ان کی پروجیکٹ شامل ہیں ۔اور اگر بات کریں پیش کش کے دوسرے طریقے کا یعنی مصنوعی زبان Interlingua Approachکا تو اس کا اطلاق نسبتاً زیادہ وسیع ہوتا ہے اس میں ماخذ زبان کے مفہوم کو آزادانہ طور پر پیش کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔اس میں ترجمہ دو مرحلوں میں کیاجاتا ہے ۔ماخذ زبان کا ترجمہ مصنوعی زبان میں اور پھر مصنوعی زبان کا ترجمہ ہدف زبان میں کیا جاتا ہے ۔یہ طریقہ کار قدیم نحوی ترکیب اور جدید مصنوعی زبان کے نظریہ سے کافی متاثریا ان دونوں نظریات کا امتزاج معلوم ہوتا ہے ۔

بہر کیف اصول پر مبنی طریقہ Rule based approachکی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں خوبیوں کا ذکر تبدیلی ٔ متن اور مصنوی زبان کے حوالے سے ہو چکا ہے اور جہاں تک خامیوں کا سوال ہے تو یہ دو طرح کی ہو سکتی ہیں۔

 پہلی خامی یہ ہے کہ لسانی اصول وضع کرنے میں کافی وقت اور پیسہ در کار ہوتا ہے نیز غیر واضح اور مبہم نکات کو حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کی ایک دقت طلب امر ہے۔ دوسری پریشانی یہ ہے کہ ان کے مختلف عمل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ گر چہ کچھ اداروں نے اس طریقہ کار کی پابندی کرتے ہوئے اس سے وابستہ مسائل کو حل کرنے اور چلینجز قبول کرنے میں پہل کی اوراس طریقہ کار کو کامیاب بنانے میں کوشاں رہے ۔لو گوز (LOGOS) اور یوروٹرا (EUROTRA)جیسے تجارتی نظام اسی طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں اور اسی کی و کالت بھی کرتے ہیں ۔

 3 ذخائر پر مبنی طریقہ ) : (Corpus based approach ذخائر پر مبنی مشینی ترجمہ کا طریقہ انسانی ترجمہ کے ان نمونہ جاتی مثالوں پر مبنی ہوتا ہے جنھیں دوران ترجمہ از خود سیکھا گیا ہو ۔ اس طریقہ پر مبنی دوسرے کئی خیالات بھی منظر عام پر آئے جنہیں مختلف ناموں سے جانا گیا جیسے

 (1) مثال پر مبنی ترجمہ Example Based MT

 (2) تمثیل پر مبنی ترجمہ Anology Based MT

 (3) یاداشت پر مبنی ترجمہ Memory Based MT

 (4) مخصوص متن پر مبنی ترجمہ Case Based MT

گر چہ یہ مختلف ناموں سے جانے جاتے ہیں لیکن سب ترجمہ کے ذخائر اور ڈاٹا بیس پر مبنی ہوتے ہیں اور نئے مواد کا ذخائر کی شکل میں موجود ترجمہ سے موزوں ترین مماثلت تلاش کرکے ہدف زبان میں مماثل معنی متعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔

ذخائر پر مبنی مشینی ترجمہ کی ایک دوسری قسم بھی ہے جسے شماریاتی طریقہ Statistical MT Approach کہتے ہیں۔یہ ذخائر پر مبنی دوسرے طریقوں سے تھوڑا مختلف ہے۔ اس میں ترجمہ کا عمل ماخذ زبان کے لفظوں کی ترتیب اور ہدف زبان میں ان کے متبادل کی شمار یاتی تمثیل پر منحصر ہوتا ہے اور زبان کے ماڈل کے شماریاتی پیمانوں کو مقرر کرنے کے لئے ریا ضیاتی پہلوں پر توجہ دی جاتی ہے ۔

اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ذخائر پر مبنی ترجمہ دو قسم کا ہو سکتا ہے

 (A) مثال پر مبنی ترجمہ

 (B)شماریات پر مبنی ترجمہ

 ان دو قسموں کو مستعمل تکنیک کی بنیاد پر مزید ذیلی زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔

 (A) مثال پر مبنی مشینی ترجمہ 1990 کے آس پاس شروع ہوا ۔اس مشینی ترجمہ میں پہلے سے موجود ترجموں کو بنیاد مان کر نئے مواد کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ ترجمہ کا یہ عمل بنیادی طور پر تین مرحلوں میں انجام دیا جاتا ہے :

1 فقروں کا میل تلاش کرنا Phrase maching

 2 فقروں میں مطابقت لانا Phrase alignment

 3 فقروں کی تشکیل نو Phrase recombination

 شماریات پر مبنی مشینی ترجمہ : اسے لسانیات مخالف طریقہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ماخذ زبان کے مشینی ترجمہ میں لسانیاتی اصولوں کو بالکل مد نظرنہیں رکھا جاتا ہے۔ اس طریقے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ فقروں اور لفظو ں کے مجمو عو ں یالفظوں میں متوازی متن سے مطابقت پیدا کی جائے اور پھر جملوں میں مستعمل لفظ کے ممکنہ معانی کا ایک ایسا متبادل لایا جائے جو ہدف زبان سے مطابقت رکھتا ہو ۔

ہندوستان میں مشینی ترجمہ

بیسویں صدی کی آٹھویں اور نویں دہائیوں میں ہندوستان میں مشینی ترجمہ پر تحقیقی کام شروع ہوا ۔ابتدا میں صرف حکومتی ادارو ں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی لیکن بعد میں نجی شعبوں نے بھی اس میں سرمایہ کاری کو منفعت بخش سمجھا ،فی الحال بہت سے تجرباتی اور عملی پروجیکٹ چل رہے ہیں جن میں انگریزی سے ہندوستانی زبانوں اور ہندوستانی زبانوں سے انگریزی میں مشینی ترجمہ کی کوشش ہو رہی ہیں ۔کچھ ایسے ہی پرو جیکٹ ہیں جن میں ہندوستانی زبانوں کے آپس میں تراجم کی کوششیں کی جارہی ہیں اورمشینی ترجمہ کو کار گر بنانے کے لئے بہت سے آلہ کار کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔ جیسے مو رفو لو جیکل انا لائزرز (Morphological analyzers)پارٹ آف اسپیچ ٹیگرس (Part of speech Taggers) اور لینگویج پارسر(Language parsers)وغیرہ

ہندوستان میں مشینی ترجمہ کے میدان میں کافی تحقیق ہو چکی ہے بہت سے ایسے تحقیقی پروجیکٹ ہیں جن کا شمار مشینی ترجمہ کے بنیادی تحقیقی کاموں میں ہوتا ہے ۔ ان بنیادی تحقیقی کاموں میں سے چند کا ذکر آئندہ سطور میں کیا جا رہا ہے

(1) انگلا بھارتی اور انو بھارتی ایم ،ٹی پروجیکٹ (Anglabharti and Anubharti M.T. Project) انگلا بھارتی ایم ،ٹی پروجیکٹ1991میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنا لو جی (IIT)کا نپور میں شروع کیا گیا تھا ۔اس کا مقصد انگریزی سے ہندوستانی زبانوں میں مشینی ترجمہ کے بارے میں تحقیق تھا ۔اس تحقیق میں مشینی ترجمہ کے ایک ایسے نظام کو فروغ د یناتھا جو وضع کردہ اصول پر کام کرسکے اور انگریزی (ماخذ زبان )کے قواعد کو سیاق سے آزاد انہ طور پر دیکھ سکے ۔یعنی مشینی ترجمہ میں ما خذ متن کی تفہیم کو آسان تر بنا جا سکے ۔ آ گے چل کر اس طریقہ کار میں کافی تبدیلیاں آئیں ۔

 انو بھارتی پروجیکٹ کو 1995میں ہندی سے انگریزی ترجمہ کے لئے شروع کیا گیا تھا۔اس میں نمو نہ پر مبنی ترجمہ کی حکمت عملی اپنائی گئی تھی ۔اس کا دوسرا ورژن انو بھارتی IIبھی شروع کیا گیا جس میں مختلف پیراڈیم کی ترقی یافتہ شکل کو ملحوظ رکھا گیا تھا ۔

(2) منترا ایم ،ٹی پروجیکٹ (Mantra M.T. Project) : اس پروجیکٹ کو سی ۔ ڈی اے سی (C.DAC)یونہ میں انگریزی متن کا ہندی میں ترجمہ کرنے کے لئے شروع کی گیا تھا۔ اس میں Tree Adjoining Grammerکو بروے کار لایا جاتا ہے تا کہ قواعدی تعریف و تشریح کے ذریعہ ماخذ زبان کو ہدف زبان میں بدلاجا سکے۔ اسے انتظامیہ ،مالیات ،ذراعت ،صحت اطلاعاتی ٹکنالوجی ،تعلیم اور مفاد عامہ کی دوسری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری دستاویزات کے ترجمہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعد میں اس پروجیکٹ میں تو سیع کی گئی اور انگریزی سے بنگلہ ،تیلگو ،گجراتی اور بہت سی ہندوستانی زبانوں کے آپس میں ترجمے شامل کئے گئے جیسے ہندی ،بنگلہ ،ہندی ،مراٹھی وغیرہ

(3) انو سارک ایم ۔ٹی پروجیکٹ (Anusark M.T.Project) دراصل یہ مشینی ترجمہ کا کوئی نظام یا پروجیکٹ نہیں ہے بلکہ دوسری زبانوں تک رسائی کا ایک ذریعہ ہے ۔یہ پروجیکٹ ،تیلگو ۔کنٹرا ،مراٹھی ،پنجابی اور بنگلہ زبانوں کا ہندی میں ترجمہ کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا ۔یہ پروجیکٹ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنا لو جی(IIT) کانپور میں شروع کیا گیا تھا جسے بعد میں سنٹر فار اپلائڈ لنگوسٹک اینڈ ٹرانسلیشن اسٹڈیز (CALTAS)ڈیپارٹمنٹ آف ہیومانیٹز اینڈ شوشل سائنس یو نیورسٹی آف حیدر آباد ،حیدر آباد منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ پروجیکٹ فی الحال لنگویج ٹکنالوجیزرسیرچ سنٹر ۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی ،حیدرآباد میں چل رہا ہے ۔

(4)یو ۔این ایل پر مبنی مشینی ترجمہ(UNL based M.T.)

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی(IIT) ممبئی نے انگریزی سے ہندی مشینی ترجمہ کا ایک نظام فروغ دیا ہے جس میں یو نیورسل نیٹ ورکنگ لینگوئج (U N L) کو بطور مصنوعی زبان استعمال کیا گیا ہے ۔اس طرح انگریزی سے مراٹھی اور بنگلہ زبانوں میں مشینی ترجمہ کے ایک اور نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے جس میں بھی یو این ایل کو بنیاد بنایا گیا ہے ۔

(5) مترا مشینی ترجمہ MATRA MT System

یہ انسانوں کے تعاون سے تبدیلی پر مبنی انگریزی سے ہندی مشینی ترجمہ کا ایک نظام ہے جسے سی ڈی اے سی (C.DAC)ممبئی میں فروغ دیا گیا ہے اس پروجیکٹ کو وزارت اطلاعاتی ٹکنالوجی حکومت ہند کا مکمل تعاون حاصل ہے ۔

ان بنیاد گذار پروجیکٹوں کے علاوہ ہندوستان کے کئی اعلیٰ تعلیمی وتحقیقی مراکز و اداروں میں مشینی ترجمہ پر تحقیقی کام جا رہی ہے۔ یہ اعلیٰ تحقیقی ادارے و مراکز اس نظام کو زیادہ سے زیادہ عوامی اور کارگر بنانے اور سابق خامیوں کو دور کرنے میں مصر وف ہیں ۔حیدرا ٓباد یونیورسٹی کے کمپیوٹر اور انفارمیشن سائنس ڈپارٹمنٹ میں انگریزی سے کنٹر مشینی ترجمہ پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس پروجیکٹ کی بنیاد Universal Clause Structure Grammer کی پابندی پر ہے۔ چنئی میں انّا یونیورسٹی کے کے۔ بی ۔چندر شیکھر ریسرچ سنٹر (AU KBC)نے تمل سے ہندی مشینی ترجمہ کے نظام کو فروغ دیا ہے ۔جادھوپور یونیورسٹی کے کمپوٹر سائنس اینڈ انجینرنگ ڈپارٹمنٹ نے انگریزی خبروں کو بنگلہ میں ترجمہ کرنے کا ایم ،ٹی نظام (ANU BAAD)فروغ دیا ہے ۔اس پروجیکٹ میں مشینی ترجمے کا جو طریقہ اپنایا گیا ہے وہ جملوں کے بطورنمو نہ موجود تراجم ہیں ۔اتکل یونیورسٹی بھو نیشور میں انگریزی اڑ یہ مشینی ترجمہ پر تحقیق جارہی ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی(IIT)دہلی کے شعبہ ریاضی نے نمونہ پر مبنی انگریزی سے ہندی مشینی ترجمہ کے نظام پر تحقیق کی ہے ۔آئی بی ایم انڈیا ریسرچ لیب IBM India Research Lab نے انگریزی کا ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لئے شماریاتی مشینی ترجمہ پر تحقیق شروع کی ہے ۔اس کے علاوہ کئی ادارے ، مراکز اور افراد ہیں جو اس موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں۔ سب کے مقاصد اور طریقہ کار مختلف اور متنوع ہو سکتے ہیں لیکن مقصد کم وبیش سب کا ایک ہے کہ عمل ترجمہ کو آسان ،زودیاب قابل مطالعہ اور ضرورت کی تکمیل کرنے والا بنا یاجاسکے ۔

 بہر کیف اس تفصیل کی اجمال یہ ہے کہ سائنس و ٹکنالوجی کے دور میں ترجمہ کے عمل کو زود یاب ، موثر اور منظم بنانے کی کوششیں کا فی برسوں سے جاری ہیں لیکن بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں ایف اے ایچ کیو ٹی (Fully Automated High Quality Translation) منصوبے کے تحت تراجم کو بہتر بنانے کی کوششوں میں سرعت آئی۔ اس منصوبے کی ناکامیابی کے بعد ایم اے ٹی پی یو ٹی (Maximum Assistance in Text Processing, Understanding and Translation) منصوبہ عمل میں تو آیا لیکن کمپیوٹر کا استعمال عام ہونے و کمپیوٹر کاری کے زور پکڑنے سے ترجمہ کے عمل کو بھی کمپیوٹر سے جوڑا گیا۔ سی اے ٹی (Computer Aided Translation) کے توسط سے اے ایل پی نیٹ (Automated Language Processing Network) منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس منصوبہ کی کامیابی و ناکامی دراصل اصطلاحات کے مناسب نظام، مشین یا کمپیوٹر کے مطابق و قابل مطالعہ متون کی فراہمی اور معاون نظام پر منحصر تھی۔ لیکن مناسب عملہ کی کمی، زیادہ لاگت اور مزید درکار تعاون کے باعث خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہوسکے۔ اس کے باوجود ماہرین شماریاتی لسانیات (Computational Linguisticians) اس میدان میں سرگرم تحقیق و تطبیق ہیں نیز جدید ترین مخصوص سافٹ ویئر پر تحقیق جاری ہے۔ فی الحال عالمی بازار میں اس سافٹ ویئر کی مانگ تو بہت ہے لیکن کمپیوٹر کے موافق متن و اصطلاحات کی فراہمی، کثیر لاگت، ماہرین شماریاتی لسانیات کی قحط وغیرہ موجودہ مشینی ترجمے کے اصل مسائل و چیلنجز ہیں۔

 حوالہ جات

             1.Bandhyopadhyay Sivaji ,2001. An Example Based MT System in News Item Domain from English to Indian Languages. Machine Translation Review 12.pp.7-10.

  1. Bandyopadhyay,Sivaji. 2000. State and Role of Machine Translation in India.Machine Translation Review 11:25-27 .
  2. BharatiAkshar et al .1997. Anusaarak: Machine Translation in stages. A quarterly in Artificial Intelligence 10(3):22-25.July.
  3. Bharati A,Chaitanya V and Sangal R.1995.Natural Language Processing: A Paninian Perspective. Prentice Hall of India.
  4. Brown,P. et al.1990. A statistical approach to language translation Computational Linguistics, 16, 79-85.
  5. Brown,Ralf D.1990,Example-based Machine Translation in the Pangloss System. In the proceedings of the COLING-96.

             7.Durgesh Rao.2001.Machine Translation in India: A Brief Survey. In Proceedings of SCALLA Conference 2001, Banglore, India.

.                      8 Huet,Gerard.2003.Towards Computational Processing of Sanskrit. In Proceedings of International Conference on Natural Language Processing (ICON-2003):40-48.CIIL, Mysore.

            9.Sato S. and Nagao M. 1990. Towards a Memory Based Translation. In COLING.Vol.3, pp.247-252.

             11 Slocum, Jonathan.1984. Machine Translation: its history, current status and future prospects. COLING-84.

  1. Somers,H.L.1990. Current Research in Machine Translation.
  2. Tucker,Allen B.1987. Current Strategies in machine translation research and development. In Nirenberg’s.(ed.).Machine Translation: Theoretical and methodological issues. Cambridge University Press.
  3. Mitkov,Ruslin. 2002. The Oxford Handbook of Computational Linguistics. Oxford University Press.

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.