آزادؔ ، انجمن پنجاب اور اُردو ادب

   ہندوستان میں انگریزی راج کا دبدبہ انیسویں صدی کی ابتدا ہی سے قائم ہوچکا تھا۔ بہت سی ریاستوں کے اپنے راجا تھے(حالانکہ ابھی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر دہلی کے تخت پر قابض تھا) لیکن یہ سب انگریزوں کے خریدے ہوئے تھے۔ ہندوستانی سیاست میں اب ان راجائوں کا رول محض برائے نام رہ گیاتھا۔ جو کچھ ہورہا تھا وہ سب انگریزوں کے فائدے اور ہندوستان کو پوری طرح غلامی میں پھنسانے کے لیے ہورہا تھا۔ ہندوستانیوں سے اُن کی وقعت، عزت، حکومت سب کچھ دھیرے دھیرے چھنتا چلا جارہا تھا۔ انگریزوں کے قدم یہاں پوری طرح جم گئے تھے۔ حالات کافی تیزی سے بدل رہے تھے۔ اسی دوران میں 1857ء کی بغاوت شروع ہوئی۔ یہ لڑائی محض کوئی حادثہ نہیں تھی بلکہ اس کا ایک پورا سیاسی، مذہبی اور سماجی پس منظر تھا۔ انگریز آہستہ آہستہ دیسی ریاستوں پر مختلف بہانوں سے اپنا اقتدار مسلط کررہے تھے۔ دوسری طرف اودھ کا الحاق اور مغل سلطنت کا لال قلعے میں سمٹ کر رہ جانے سے عوام میں بے چینی اور غصہ پیدا ہورہا تھا۔ چربی لگے کارتوس نے عوام کے غصے کو اور بھڑکادیا۔18؍اپریل 1857ء کو منگل پانڈے کی پھانسی نے دیسی سپاہیوں کے ضبط کو توڑ دیا اور بالآخر ان شعلوں نے آگ کی شکل اختیار کی جو10؍مئی 1857ء کو میرٹھ میں اچانک بھڑک اٹھی۔

1857ء کی بغاوت سیاسی حوالے سے ناکام ہوئی لیکن ناکام بغاوت نے آنے والے زمانے میں ہندوستانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہیں سے جدید ہندوستان کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ مغل سلطنت کا پوری طرح خاتمہ اور برطانوی سامراج کے استحکام کا اثر ہندوستان کے تہذیبی ،تمدنی اور علمی وادبی میدانوں میں دن بہ دن بڑھتا جارہا تھا۔ ہندوستان میں اب نئے دور کا آغاز ہورہا تھا۔ مشرقی اقدار پر مغربی سحر تیزی سے اثر انداز ہورہا تھا۔اسی دوران میں سرسید اور اُن کے رفقاجن میں محسن الملک، نذیر احمد، الطاف حسین حالیؔ ،محمد حسین آزادؔ قابل ذکر ہیں، آسمان ادب پر نمودار ہوئے۔ علمی وادبی میدانوں میں اجتہاد کی داغ بیل پڑرہی تھی اور ایک نیافکری دبستان تشکیل پارہا تھا۔ ادب میں ہر نئے تجربے اور تبدیلی کا کھلے دل اور جوش کے ساتھ خیرمقدم ہورہا تھا۔ فراق گورکھپوری فرماتے ہیں:

’’انگریزی راج یوں تو1857ء کے غدر کے پہلے ہی قائم ہوچکاتھا لیکن 1857ء کے بعد ملک بھر کو اس کا احساس ہوا

کہ گویا ہم سے کوئی چیز چھین لی گئی ہے اور ادب میں یہ احساس حالیؔ اور ان کے ہم عصروں(شبلیؔ،آزاد،نذیر احمد، سرشار)

کے کارناموں میں کارفرما نظر آتاہے۔ اب پہلے پہل ادب برائے ادب کا نظریہ ادب برائے زندگی کے نظریے سے بدلتا

 ہوا دکھائی دیتا ہے اور زندگی بھی محض وجدانی یاداخلی زندگی نہیں بلکہ عملی، کاروباری، سماجی اور ملی زندگی۔حالیؔ اور ان کے

 رفقانے ادب میں افادی پہلو پیدا کیے اور ان افادی پہلوئوں کو اجاگر کرنا شروع کیا۔

   اردو ادب میں جدید رجحانات اور تجربوں کو فروغ دینے کے لیے لاہور میں مولانا محمد حسین آزاد ؔنے انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالی۔ اس سلسلے میں میجر فلر اور کرنل ہالرائڈ کی سرپرستی انہیں حاصل تھی۔ ان دونوں نے آزادؔ کی بڑی حوصلہ افزائی کی۔ 1867ء میں آزادؔ انجمن کے سیکریٹری مقرر ہوگئے۔ 8مئی 1874ء کو انجمن کا پہلا اجلاس منعقد ہوا اور 30مئی 1874ء کو باضابطہ ایک موضوعی مشاعرے کے ا نعقاد کی بات ہوئی۔مشاعرے کا موضوع ’’برسات‘‘ قرار پایا اور شعرا سے اسی عنوان کے تحت نظمیں کہنے کی گذارش کی گئی۔چونکہ ان دنوں مشاعروں کا بڑا رواج تھا اور ان مشاعروں میں مصرع طرح دیا جاتاتھا اور شعرا اسی مصرعے کی زمین میں طبع آزمائی کیاکرتے تھے۔ مولانا آزاد نے ایک جدید طرز کے مشاعرے کا آغاز کیا۔ ہر مشاعرے کے لیے ایک موضوع دیاجاتا تھا جس پر شاعروں سے نظمیں لکھ کر لانے کو کہا جاتا تھا اور اس طرح یہیں سے اردو میں جدید نظم نگاری کی باقاعدہ ابتداہوتی ہے۔ انجمن پنجاب کے جلسوں میں علمی وادبی مضامین بھی پڑھے جاتے تھے۔ 67 18 ء میں انجمن کے ایک جلسے میں آزاد نے ایک مضمون’’  نظم اور کلام موزوںکے باب میں خیالات‘‘ پیش کیا جس میں انہوں نے شعر کے متعلق ایک جدید نظریہ پیش کیا۔ انہوںنے شاعری کے سلسلے میں بہت سے مفید مشورے دیے۔آزاد ؔکا ایک مشورہ یہ ہے کہ ہمارے شاعروں کو انگریزی شاعری سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی شاعری میں نئے انداز اور نئی تکنیکوں کا استعمال کرنا چاہیے اور نئے نئے موضوعات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ ان کا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ ہمارے شاعروں کوبھاشا کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے اور بھاشا کے شاعروں کی طرح بے جامبالغہ آرائی سے پرہیز کرکے اپنی شاعری میں جذبات کی سچی تصویر کھینچنی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ ہمیں اپنی شاعری میں مقامی الفاظ،تشبیہوں اور استعاروں جیسے شعری وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے تاکہ ہمارا پیغام شاعری کے ذریعے عوام تک آسانی سے پہنچ سکے۔انجمن کا پہلا اجلاس اور موضوعی مشاعرہ 8مئی 1874ء کو منعقدہوا ۔اس پہلے اجلاس میںآزاد نے شعرو ادب پر کچھ اس طرح کا اظہار ِ خیال کیا:

     ’’میں نثرکے میدان میں بھی سوار نہیں،پیادہ ہوں اور نظم میںخاک افتادہ،مگر سادہ لوحی دیکھو

     کہ ہر میدان میںدوڑنے کو آمادہ ہوں۔یہ فقط اس خیال سے ہے کہ میرے وطن کے لیے

          شائد کوئی کام کی بات نکل آئے۔میں نے آج کل جو چند نظمیںمثنوی کے طور پر مختلف مضامین

                           میں لکھیں ہیں جنہیںنظم کہتے ہوئے شرمندہ ہوتا ہوں۔ ۔۔۔۔۔

                           اے میرے اہل وطن! مجھے بڑا افسوس اس بات کا ہے کہ عبارت کا زور ،مضمون کا جوش و خروش

                           اور لطائف و صنائع کے سامان،تمہارے بزرگ اس قدر دے گئے ہیں کہ تمہاری زبان کسی سے

                           کم نہیں۔کمی فقط اتنی ہے کہ وہ چند بے موقع احاطوںمیں گھِر کر محبوس ہوگئی ہے۔وہ کیا؟مضامین

                           عاشقانہ ہیں جس میں کچھ وصل کا لطف بہت سے حسرت وارمان،اس سے زیادہ ہجرکا رونا،شراب،

                           ساقی،بہار،خزاں،فلک کی شکایت اور اقبال مندوں کی خوش آمد ہے۔یہ مطالب بھی بالکل خیالی

                           ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ایسے دوردور کے استعاروں میں ادا ہوتے ہیں کہ عقل کام نہیںکرتی۔وہ

                           اسے خیال بندی اور نازک خیالی کہتے ہیں اور فخر کی موچھوںپر تائو دیتے  ہیں۔۔۔۔۔۔۔

                           اے میرے اہل وطن !ہمدردی کی آنکھیںآنسوں بہاتی ہیں،جب مجھے نظر آتا ہے کہ چند روز میں

                           اس رائج الوقت نظم کا کہنے والا بھی کوئی نہ رہے گا۔وجہ اس کی یہ ہے کہ بہ سبب بے قدری کے اور کہنے

                           والے پیدا نہ ہوں۔‘‘

آزاد ؔنے اپنے لیکچر کے بعد اپنی نظم ’’  شب قدر ‘‘ سنائی۔نظم کا عنوان رمضان ا لمباک کی شب ِ قدر پر نہیں ہے بلکہ اس میں رات کی اہمیت اور غرض و غایت بتائی گئی ہے۔یہ نظم 115اشعار پر مشتمل تھی۔اس نظم کو پنڈت دتاتریہ کیفی نے نئی شاعری کی سب سے پہلی نظم قرار دیا۔نظم ’’ شب قدر‘‘ سے چند اشعارملاحظہ ہو:

   عالم  پہ  تو  جو  آتی  ہے  رنگ  اپنا  پھیر تی             ہاتھوں  سے  مشک  اُڑاتی  ہے  عنبر  بکھیرتی

   دنیا   پہ  سلطنت  کا  تری  دیکھ  کر  چشم               کھاتا  ہے  دن  بھی  تاروں  بھری  ر ات کی قسم

   روئے زمیںپہ جل رہے  تیرے  چراغ  ہیں                  اور آسماں   پہ  کھلتے   ستاروں  کے  باغ  ہیں

   بجلی   ہنسے   تو   رخ   ترا  دیتا   بہار  ہے                   شبنم  کو موتیوں   کا  دیا   تو   نے   ہا ر   ہے

   سب تجھ کو لیتے آنکھوںپہ ہیںبلکہ   جان   پر                  پورا  ہے  ترا   حکم   پر   آدھے   جہان   پر

مولانا آزادؔ نے اردو شاعری کی اصلاح میں اہم رول ادا کیااورجدید اردو نظم کے فروغ میں اُن کا کارنامہ ناقابل فراموش ہے۔بقول کوثر مظہری اردو میں جدید نظم کی اصطلاح کو باضابطہ طور ہر آزاد اور حالی نے رائج کیا۔ اس سلسلے میں آزاد نے عملی ثبوت بھی دیے۔ ان کی نظم ’حب وطن‘ سے چند شعر ملاحظہ ہو:

الفت سے گرم سب کے دل سرد ہوںبہم

اور جوکہ ہم وطن ہوں وہ ہمدرد ہوں بہم

لبریز جوشِ حبِ وطن سب کے جام ہوں

سرشارِ ذوق وشوق، دلِ خاص وعام ہو

   انجمن پنجاب کے مشاعروں میںآزادؔ نے جو نظمیں پڑھیں ان میںشب قدر،صبح امید،ابر کرم، برسات، امید ،حب وطن ،انصاف،زمستان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔انجمن کی نظموں میں نئے اور اچھوتے موضوعات کو برتا گیا جو اس سے پہلے اردو شاعری میں مفقود تھے۔آزاد نے اردو شاعری کو سوقیانہ مزاج اور ردیف و قوافی اور لفاظی سے پاک کیا۔اور یہ اردو شاعری میں یقیناایک نیا تجربہ تھا جس نے آگے چل کر اردو نظم کو ایک نئی راہ دکھائی اور آج اردو نظم جس منزل پر کھڑی ہے اس کو یہاں تک لانے میں انجمن کے رول سے ادب کا کوئی بھی مورخ انکار نہیں کرسکتا۔انجمن کے مشاعروں کے ذریعے اردو نظم کا ایک ذخیرہ جمع ہوگیا اور اس نے اردو میں جدید نظم کی تحریک اور جدید شاعری کے رجحان کو پروان چڑھانے میں اہم رول ادا کیا۔ڈاکٹر سیدہ جعفرآزاد کی نظم نگاری کی بارے میں فرماتی ہیں:

’’ یہ نظمیں لفاظی،مبالغہ آرائی،صنائع بدائع اور پرکاری سے دور سادہ،عام فہم،پر اثر اور فطری تھیں۔آزاد نے اپنی ان

نظموں میں فطرت کے عمل کوتخیل سے ابھارنے اور ان کی صورت گری کرنے کی کوشش کی۔معاشرتی اصلاح ،اخلاق

 کی درستگی اور قومی بہبود ہمیشہ ان کے پیش نظر رہی۔آزاد کی بحروں میں تنوع موجود ہے اور انہوں نے بندوں کی نئی

     تشکیل کی طرف بھی توجہ کی۔آزاد کی نظم نگاری نے بندوں کی ترتیب و تنظیم اور صورت گری کے نئے انداز کو روشناس کروایا

                    اور نظم کو نئی ترسیلی قوت کا حامل بنادیا۔‘‘

  آ     آئے   شب   سیاہ   کہ   لیلیٰ    شب    ہے       تو

عالم       میں     شاہزاری     مشکیں     نسب    ہے    تو

آمد     کی     تیری     شاں    تو     زیب   رقم    کروں

پر    اتنی       روشنائی    کہاں    سے    بہم       کروں

ہونا    وہ     بعد     شام     شفق     میں      عیاں    تیرا

اڑتا     وہ    آبنوس    کا         تخت     روان         ترا

پھیلے     گا   لشکر       اب       جو     تیرا     آسماں    پر

فرماں      نشان    میں      بھی      ا ڑے    گا جہاں   پر

   انجمن پنجاب کے پہلے جلسے میں سرکاری ملازموں ،بااثر طبقے کے لوگوں اور جاگیرداروں نے شرکت کی۔لیکن جلد ہی انجمن میں عام لوگ بھی شامل ہوگئے۔انجمن کے دائمی سرپرست پرنس آف ویلز(Prince of Wales) تھے جبکہ سرپرست پنجاب  کے گورنرتھے۔انجمن کے اراکین کی تعداد 250 تھی۔

   انجمن کے بنیادی مقاصد میں قدیم علوم کا احیا ،مقامی زبانوں میں علوم مفیدہ کی اشاعت،علمی ،سیاسی ،معاشرتی موضوعات پر بحث و مباحثے اور حکومت کے ساتھ رابطہ اور ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں اورا نگریزوں  کے درمیان پھیلی بد گمانیوں کو دور کرنا شامل تھا۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف مقامات پر مدارس ،کتب خانے قائم کیے گئے اور متعدد رسائل جاری کیے گئے اور مختلف سماجی و سیاسی مسائل پر بحث و مباحثے کے لیے جلسوں کا اہتمام کیا گیا۔

   انجمن کے قیام کے ابتدائی سال ہی ایک پبلک لائبریری ،مطالعے کا کمرہ،مقامی اور کلاسیکی زبانوں کے تراجم کے ساتھ لاہور میں ایک اورینٹل ا سکول بھی قائم کر لیا گیا۔اسی طرح دوسرے شہروں جیسے امرتسر،گورداسپور ،راولپنڈی میں سوسائیٹیز قائم کی گئیں۔ڈاکٹر لائٹنرنے انجمن کے سرکردہ رُکن ہونے کے ناطے اور اس کے استحکام کے لیے پنجاب میں پنچایتوں کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں لوگوں کی آرا بھی مانگیں۔انجمن کی شہرت و مقبولیت  میںدن بہ دن اضافہ ہو اور اس طرح لوگوں کی دلچسپی بھی اس میں بڑھنے لگی اور لوگ اس میں شامل ہونے لگے۔

   انجمن کے اہم کاموں میں جلسوں کا انعقاد تھا اور یہ جلسے بہت جلد مشہور ہوئے اور ان جلسوں کی بازگشت سرکاری ایوانوں میں بھی سُنی جانے لگی۔انجمن کے جلسوں میں شرکت پر کسی پر کوئی پابندی نہیں تھی،ہر ایک کو بحث و مباحثے میں حصہ لینے کی اجازت تھی۔انجمن کا جلسۂ خاص انتظامی نوعیت کا ہوتاتھا اور اس میں صرف عہدہ داروں کو شرکت کرنے کی اجازت تھی لیکن جلسۂ عام میں عوام کی شرکت اور دانشوروں کے مقالوں کے سُننے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔انجمن کے ابتدائی جلسوں میں مولانا محمد حسین آزاد ،پنڈت من پھول ،ڈاکٹر لائٹنر،بابو نوبین رائے،بابو شاما چرن،مولوی کریم الدین اور علمدار حسین وغیرہ نے مضامین پڑھے جن میں بیشتر مضامین انجمن کے رسالے’’ رسالۂ انجمن پنجاب‘‘ میں طبع ہوئے۔

   انجمن پنجاب کے جلسوں میں بہت سے دانشورمضامین پڑھتے تھے لیکن ان میں محمد حسین آزاد ؔکے مضامین زیادہ پسند کیے جاتے تھے اور ان کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔آزاد ؔکے لیکچر وں کی مقبولیت کو دیکھ کر ڈاکٹر لائٹنر نے باضابطہ طور پر لیکچروں کے انعقاد کے لیے کہا اور اس سلسلے میں انہیں انجمن سے خرچ واگذار کرنے کی تجویز منظور کرائی۔اپنی تقرری کے بعد سے آزاد ؔنے موثر طور پر اپنے فرائض انجام دیے اور انجمن کو ایک تحریک کی شکل دی۔بحیثیت انجمن پنجاب میں لیکچرر کے محمد حسین آزاد ؔکے ذمے فرائض میں تھا کہ جو مضامین انجمن پنجاب کے جلسوں میں پڑھے جائیں ان کو زیادہ سے زیادہ قاری تک پہنچایا جائے ۔ہفتے میں دو تین لیکچر وں کا اہتمام ،تحریری لیکچر کو آسان ،سلیس اردو میں پیش کرنا تھا۔اس کے علاوہ آزاد ؔکے کاموں میں انجمن کے رسالے کی طباعت اورمضامین کی ترتیب وغیرہ شامل تھے۔

   آزاد ؔکو بہت جلد انجمن میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی ۔لیکچروں کی ترتیب وتہذیب ،مجالس کا اہتمام ،مضامین کی ترتیب اور پھر انجمن کے رسالے میں ان کی باضابطہ اور منضبط اشاعت جیسے بنیادی کام آزاد کے ذمے تھے۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ انجمن پنجاب کے تمام بنیادی اور اہم امور کی انجام دہی آزاد ؔکی ذمہ داری تھی۔آزادؔ نے اپنے فرائض کو بخوبی نبھایا اور آزادؔ کی مقبولیت میں دن بہ دن تیزی آئی اور وہ جلد ہی پورے ادبی منظرنامے پر چھا گئے۔

   انجمن پنجاب کے اردو ادب پر اثرات:

   انجمن پنجاب نے اردو ادب پر بڑے دور رس اثرات مرتب کیے۔جیسا کہ ابتدا میں ذکر ہواہے کہ انجمن کے قیام کے بنیادی مقاصد میں قدیم مشرقی علوم کا احیا اور ہندوستانی عوام میں مقامی اور عام فہم زبان میں علوم مفیدہ کی اشاعت ،صنعت و تجارت کا فروغ،سماجی ،سیاسی اور معاشرتی موضاعات پر بحث،صوبے کے بااثر اور پڑھے لکھے افراد کا حکومت کے ساتھ رابطے قائم کرنا شامل تھے۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے انجمن کے جلسوں میں مضامین پڑھے جاتے تھے۔ان مضامین میں شعرو ادب پر دانشوروں اور ناقدین کے خیالات ہوتے تھے۔ان مضامین نے اردو ادب کے فروغ میں اہم رول ادا کیا اور اردو ادب کو ایک نئی ڈگر پر لاکھڑا کیااوراس میں نئی اصناف کو متعارف کرایا۔

    اردو میں مجلسی تنقید کا آغاز اور بعد میں اس کے فروغ کا سہرا انجمن پنجاب ہی کے سر جاتا ہے۔انجمن میں جو بھی اور جس طرح کے مضامین پڑھے جاتے تھے ان پر بحث و مباحث اور تنقید کی کھلی اجازت تھی۔ہر ایک کو اپنی بات سامنے رکھنے کا پورا موقع دیا جاتا تھا۔اس نے علمی ماحول کو فروغ دیا اور اس طرح شرکا کو بحث میں حصہ لینے ،علمی نقطئہ نظر پیدا کرنے اور صحت مند تنقید کو برداشت کرنے کی تربیت ملی۔انجمن کے جلسوں کا یہ فائدہ ہوا کہ ان سے علمی امور پر اعلیٰ ظرفی،کشادہ نظری اوروسعت نظرکے جذبات کی ترویج میں آسانی ہوئی۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیںکہ انجمن نے جس قسم کی تنقید کی بنیاد ڈالی اور پھر اسے فروغ دیا ،اسی کے زیر اثر حالیؔ کی’’ مقدمہ شعر و شاعری‘‘  وجود میں آگئی جو اردو تنقید کی پہلی باضابطہ تصنیف ہے۔دوسرے یہ کہ حالیؔ کے ادبی مزاج کو بدلنے میں اوراسے ایک نئی سمت عطا کرنے میں انجمن پنجاب کے مشاعروں اور جلسوں نے اہم رول ادا کیا۔بہت جلد حالیؔ نے مشہور نظم ’’ مدوجزر اسلام‘‘ لکھ ڈالی جس کے اردو نظم پر بڑے دور رس اثرات پڑے۔

   انجمن کے مشاعروں میں نیچرل شاعری پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔نیچرل شاعری سے مراد ایسی شاعری تھی جس میں کوئی مبالغہ نہ ہو اور بات کو آسان ،سیدھی سادی زبان میں بیان کیا جائے تاکہ لوگ سُن کر لطف اندوز ہوں۔نیچرل شاعری کو فروغ دینے میں محمد حسین آزاد اؔور الطاف حسین حالیؔ نے اہم رول ادا کیا اور اس کی ابتدا کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔حالی ؔ کی نظم ’’برکھارت‘‘ سے چند اشعار ملاحظہ ہو:

گرمی     سے   تڑپ  ر ہے    تھے   جاندار

اور   دھوپ   میں   تپ    رہے تھے  کہسار

تھی    لو ٹ   سی    پڑی    چمن       میں

اور    آگ    سی    لگ    رہی   بن  میں

بچو ں  کا    ہوا    تھا    حال    بے     حال

کملائے     ہوئے    تھے    پھول   سے گال

   اردو زبان و ادب میں انقلابی تصورات کو فروغ دینے میں انجمن پنجاب کی کاوشیں اہم ہیں۔حب الوطنی ،انسان دوستی،اخلاق اور معاشرت انجمن کے مشاعروں کے موضوعات بنے ۔اب رسمی و خیالی اور فرضی عشقیہ شاعری سے ہٹ کر حقیقی موضوعات پر نظمیں کہی جانے لگیں۔مبالغہ آرائی سے پرہیز کیا جانے لگااور حقیقی جذبات واحساسات کو سادگی کے ساتھ پیش کرنے پر زوردیا جانے لگا۔شاعری میں ان تصورات کو فروغ دینے میں محمد حسین آزاد پیش پیش تھے۔

   اگرچہ انجمن پنجاب سے پہلے بھی ہمیں اردو میں مناظراتی شاعری ملتی ہے اور اس کے متعدد نمونے نظیر اکبر آبادی کے یہاں موجود ہیں

 لیکن اس حقیقت سے انکار کی گنجائش بہت کم ہے کہ اردو نظموںمیں مناظر قدرت کا بیان اور اس رجحان کو ایک مستقل صورت دینے میں انجمن کا کلیدی رول ہے اور انجمن میں اس طرح کی شاعری کی ابتدا سب سے پہلے الطاف حسین حالیؔ نے کی۔اس سلسلے میں حالیؔ کی نظم ’’برکھارت‘‘ کافی مشہور ہوئی ۔اس نظم میں حالی ؔ نے برسات کے مختلف پہلوئوں کی تصویر کھینچ کر فطرت کی ترجمانی سادہ و سہل زبان میں کی ہے۔آزادؔ نے ’’ابر کرم‘‘ میں مناظر قدرت کی عکاسی کی۔حالیؔ اور آزاد ؔ کے بعد اسماعیل میرٹھی،شوق قدوائی وغیرہ نے مناظر قدرت پر اچھی نظمیں لکھیں۔

    اردو کی قدیم شاعری میں حب الوطنی کے جذبات محدود سطح پر ہی ملتے ہیں اور اس کی کوئی واضح اور ٹھوس سمت نہیں۔لیکن انجمن نے انگریزی شاعری کے زیر اثر اپنے مشاعروں کے ذریعے وطنی و قومی شاعری کے فروغ میں اہم رول ادا کیا۔مولانا آزاد اور مولانا حالیؔ نے وطنی   موضوعات پر نظمیں لکھیںاور کچھ عرصے میں چکبست ؔ، اقبالؔ،سرور جہاں آبادی  وغیرہ نے وطنی شاعری کو بام عروج تک پہنچادیا۔آزاد کی ایک نظم ’’حب وطن‘‘ سے چند اشعار ملاحظہ ہو:

   سب اپنے حاکموں کے لیے جاں نثا ر ہوں                   اور گردن حریف پر خنجر کی  دھار  ہوں

   علم و ہنر  سے  خلق  کو رونق  دیا  کریں             اور  انجمن میں بیٹھ کے جلسے کیا کریں

   لبریز جوش حب وطن سب کے جام  ہوں                   سرشار ذوق و شوق دل خاص و عام ہوں

   آزاد ؔ اور حالیؔ کے زمانے میں ہندوستان کے سیاسی وسماجی حالات مختلف تھے۔ان دونوں کے نزدیک شاعری کا اثر قومی مذاق اور اخلاق پر یقینی تھا اس لیے انہوں نے شاعری کے اخلاقی پہلوئوں کی طرف بھی توجہ دی ۔انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قوم کو اخلاق ،صبر و استقلال اور محنت کرنے کی تلقین کی۔

   انجمنِ پنجاب کا قیام محمد حسین آزاد ؔکا ایک بڑا کارنامہ ہے جس نے اردو ادب کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ۔آزادؔ کو مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔آزادؔ نے انجمنِ کی بدولت قوم میں صاف اور ستھرے مذاق کو پروان چڑھایا اور قوم کو خواب غفلت سے جگانے کی ایک کامیاب کوشش کی۔ جدید اردو نظم کے فروغ میں انجمن ِپنجاب کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں ۔آزاد ؔ نے پابند نظم اور نظم معریٰ کی شرعات کی۔آزاد  نے اپنی نظموں میں زندگی ، فرد ، معاشرت، تہذیب وتمدن، جذبۂ حب الوطنی  اور عام انسانی جذبات کی عکاسی کی اور نظم نگاری کی ایک باضابطہ تحریک شروع کی جس نے اردو نظم کونئی بلندیوں سے ہمکنار کیا۔

   کتابیات:

1۔اندازے،فراق گورکھپوری(الہ آباد: ہندوستانی پبلشنگ ہائوس،1944ئ)

2۔جدید اردو نظم اور یورپی اثرات،حامدیؔ کشمیری( نئی دہلی: موڈرن پبلشنگ ہائوس،2010ئ)

3۔ایشیائی بیداری اور اردو شعرا،اسلام بیگ چغتائی(الہ آباد:ادارۂ انیس اردو،1961ئ)

 4۔اردو نظم: حالیؔ سے میراجی ؔتک،کوثر مظہری)نئی دہلی: مظہر پبلی کیشن،2005ئ)

5۔تاریخ ادب اردو(جلد دوم)،سیدہ جعفر(حیدر آباد:وی ۔جی پرنٹرز،2002ئ)

6۔مختصر تاریخ ادب اردو،پروفیسر سید اعجاز حسین (ا لہ آباد: جاوید پبلشرز،1984ئ)

7۔اردو ادب کی تنقیدی تاریخ،سیداحتشام حسین(نئی دہلی: قومی کونسل برائے فراغ اردو زبان،2009ئ)

 8۔ادب کی سماجیات،پروفیسرمحمد حسن (نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،1998ئ)

اشرف لون

ُپتہ: ؛لیکچرر، گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول،زچلڈارہ، ہندوارہ

موبائل فون:797061700 9

 ای میل:ashjnu.09@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.